Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 27)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

سی سی ٹی وی فوٹیج دکھاؤ ! وہ دہاڑا تھا

سر ہم ایسے کسی کو بھی فوٹیج نہیں دکھاتے

میری بیوی کہیں نہیں مل رہی اور تم مجھے فوٹیج دکھانے سے انکار کر رہے ہو کوٹ کو ہٹائے اس نے پینٹ کی جیب سے گن نکال کر مینیجر کے سر پر تانی تھی ۔

سر آپ ایسے گن دکھا کر مجھے مجبور نہیں کر سکتے ۔

میں تمہیں مجبور نہیں کر رہا صرف بتا رہا ہوں کہ اگر مجھے فوٹیج نہیں دکھائی تو اسی کمرے میں تمہیں موت دے کر یہیں گاڑ جاؤں گا شدید غصے میں دھاڑے اس نے مینیجر کو گردن سے کھینچ کر ایل سی ڈی کے سامنے پڑی کرسی پہ پھینکا تھا ۔

فوٹیج چلاؤ!! تیز آواز میں دھاڑتے وہ کرسی کھینچتا اسی کے ساتھ بیٹھا تھا ۔

سر کتنی دیر پہلے کی ؟

قریبا آدھا گھنٹا پہلے ۔

مینیجر کی انگلیاں کی بورڈ کے چند بٹنوں پر چلنے لگی اور اگلے ہی پل وہ گھنٹا پہلے کی ویڈیو چلا گیا ۔

یہ انسان!! سامنے سکرین پر چلتے شخص کو دیکھ کر اس کے دماغ کی نسیں تن گئی چہرہ سرخ ہوے خون برسانے لگا ۔

شدید غصے کی حالت میں گن کو واپس جیب میں رکھ کر چلتی سکرین پہ مکا مارے وہ دروازہ کھینچ کر بند کرتا کمرے سے باہر نکلا تھا ۔

اس کی ہمت کیسے ہوی میری بیوی کو ہاتھ لگانے کی !یہ ہوتا کون ہے میری بیوی کو مجھ سے دور کرنے والا سٹیرنگ پہ پکڑ مضبوط کیے وہ ریش ڈرائیونگ کرنے لگا ۔

ٹھیک ہے تم چلی جاؤ ! صبح اٹھتے ہی اس نے رباشہ کو اس کے گھر جانے کی اجازت دی تھی ۔

میں چھوڑ آؤں گا تمہیں! آنکھوں میں سرد پن لیے وہ رباشہ کی جانب سے اپنا چہرہ موڑھ گیا ۔

وہ ہی جانتا تھا اس نے کس کرب سے گزرتے رباشہ کو خود سے دور جانے کی اجازت دی تھی ۔

نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاؤں گی ۔

ابھی تمہارا شوہر زندہ ہے جس دن مرجائے اس دن ڈرائیور کے ساتھ چلی جانا ۔

کہاں جارہی ہو رباشہ اتنی صبح صبح؟ رباشہ کو چادر اوڑھے گھر سے باہر نکلتا دیکھ فاطمہ خالہ نے رباشہ سے پوچھا تھا ۔

اپنے گھر !

اور ضماہیر! وہ حیران سی ہوتی رباشہ کو دیکھنے لگی کیونکہ ان کے علم کے مطابق ضماہیر رباشہ کو گھر بھیجنے کے لیے تیار نہیں تھا ۔

اجازت دی ہیں انہوں نے خود چھوڑنے جارہے ہیں ! فاطمہ خالہ کا جواب دیے وہ حویلی سے باہر نکلی تھی ۔

وہ دونوں بلکل خاموشی سے سفر کر رہے تھے رباشہ کا دیہان ایک دفعہ بھی ضماہیر پر نہیں گیا تھا جبکہ ضماہیر بار بار پلٹ کر اس کے چہرے کا طواف کر رہا تھا ۔

شاید وہ اپنی مطلوبہ چیز _رباشہ کے چہرے پہ آنے والے رنگ جو ضماہیر کے زرا سا نزدیک آنے پر اس کے چہرے کو کسی لال ٹماٹر کی طرح لال کر دیتے تھے وہ ڈھونڈ رہا تھا _ مگر آج اس کا چہرہ ہر احساس سے عاری تھا ۔

اس کے چہرے پہ کسی قسم کی مسکراہٹ نہ تھی _ نہ ہی چہرہ کسی پھول کی طرح گلنار تھا ۔

اب جاتے ہوے بھی خود سے محروم رکھنا چاہتی ہو مجھے رباشہ کی نظروں کا تعاقب کیے وہ دانت پیستا اس سے متوجہ ہوا تھا ۔

میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے سے محروم ہو جائیں

تاکہ آپ کو احساس ہو کہ اگر عورت پر اس کا شوہر ہی یقین نہ کرے تو اسے کیسا درد پہنچتا ہے _ اسے کہاں کہاں تکلیف نہیں ہوتی ۔

وہ زندہ ہو کر مرجاتی ہے !! ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیے وہ اپنی آنکھوں کو زور زور سے رگڑے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔

کبھی کبھار انسان اس کو سچ سمجھتا ہے جو اس کو بتایا جائے _ مانو وہ اپنی صفائی دینے لگا تھا ۔

ایک انسان مہینوں آپ کے ساتھ رہ رہا ہے اور آپ اس کے بارے میں جان ہی نہ سکیں یہ میاں بیوی کا رشتہ تو نہیں مسٹر ضماہیر گوندل !! آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے وہ ضماہیر کو دیکھنے لگی تھی ۔

میں مانتا ہو مجھ سے غلطی ہوی مگر میری غلطی اتنی بڑی نہیں کہ اسے گناہ کا درجہ دیا جائے ۔

میرے نزدیک بیوی پر یقین نہ کرنا اس کے کردار کو داغ داغ کرنا گناہ ہے _ میں مانتی ہوں میں شادی سے پہلے ایک ناجائز رشتے میں تھی مگر میں نے سب کچھ آپ کو بتایا جانتے ہیں کیوں ؟

وہ سوال کرتی ضماہیر کو اسی کی نظروں میں گراگئی ۔

کیونکہ میں نے پورے دل سے آپ کو اپنا شوہر تسلیم کیا تھا ۔

میں اپنے شوہر کے ساتھ بے وفائی کرنا نہیں چاہتی تھی ۔

اپنا ماضی بھلا کر اپنے شوہر کا حال بننا چاہتی تھی ۔

کسی کی محبوبہ سے کسی کی بیوی بننے کا رتبہ چاہتی تھی ۔

مگر مجھے کیا ملا ؟

اپنا سب کچھ قربان کرکے بھی مجھے واپس اس محبوبہ کا رتبہ دیا گیا ۔

میں نے اسلام کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ چنا مگر میرا شوہر ؟

اگر میرے کردا کو کوئی غیر تار تار کرتا تو مجھے شاید اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی اس دن آپ کے لبوں سے اپنے لیے سنتے ہوی تھی ۔

کیا ایک پل بھی آپ کو زرا تکلیف نہیں ہوی تھی _ کیا آپ کے ضمیر نے آپ کو ملامت نہیں کی تھی _ کیا آپ کے قدم رکے نہیں تھے اس دن ؟

ناجانے وہ کتنے سوال رکھتی تھی جن کے جواب ان دونوں کے پاس ہی نہیں تھے ۔

کیا ان کا رشتہ اتنا بے مول ہوگیا تھا کہ ایک دوسرے کو یقین دلانے کے لیے انہیں اپنا ماضی ایک دوسرے کے سامنے کھولنا پڑے گا ۔

جلدی واپس آجانا ! رباشہ کے چہرے سے نظریں ہٹائے گاڑی کو اس کے گھر کے سامنے روکے وہ فقط اتنا کہتا گاڑی سے اترے اس کی جانب کا دروازہ کھول گیا ۔

اسے دیکھے بغیر رباشہ گاڑی سے اتری گھر کا دروازہ کھولتی اندر داخل ہوی ۔

رباشہ کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ وہ اذیت سے آنکھیں جھپکائے گاڑی کو زن سے بھگا لے گیا ۔

وہ سیدھا اپنے فارم ہاؤس پر آیا تھا ۔

جیب سے سگریٹ نکالے لائٹر کی مدد سے اسے جلائے وہ جلتی سگریٹ اپنے لبوں میں دباگیا ۔

وہ ہی جانتا تھا آج وہ کس تکلیف سے گزر رہا ہے مگر یہ تکلیف اس نے خود اپنے لیے چنی تھی _ اس نے اپنی بیوی کا اعتبار نہیں کیا تھا _ اس کے کردار پہ انگلی اٹھائی تھی ۔

سگریٹ کے دھوئیں کو ہوا میں اچھالے آنکھیں موندھے وہ کرسی کی پشت کو ٹیک لگا گیا ۔

میری بیوی کہاں ہے ضماہیر ؟ وہ جو ابھی کچھ پل پہلے نیند میں ڈوبنے لگا تھا دانیال کی برکتیں آواز پر ہوش کی دنیا میں واپس آیا تھا ۔

مجھے کیا پتہ ؟ اور تم !! کیا کر رہے ہو یہاں اپنے سامنے دانیال کو پاکر اس کے تن بدن میں آگ لگی تھی ؟

میری بیوی کا بتا دو ضماہیر بہت آرام سے پوچھ رہا ہوں دانیال کے قدم تیزی سے ضماہیر کی جانب بڑھنے لگے تھے ؟

یہ سوال تو میں بھی کر سکتا ہوں کہ میری بہن کہاں ہے ؟ اب کی دفعہ ضماہیر بھی غصے میں آیا تھا ۔

تمہیں کیا لگتا ہے تم زین کو بھیج کر میری بیوی کو اٹھوا لو گے اور مجھے معلوم تک نہیں ہوگا ؟ دانیال نظریں گاڑھے ضماہیر کو گھورنے لگا ۔

اور تمہیں کیا لگتا ہے میری بہن کو گھر سے اٹھوا کر اسے کراچی میں ایک ووڈ کوٹیج میں رکھ کر تم اسے ہم سے چھپا لو گے ؟

وہ ضماہیر کی بہن ہے _ ضماہیر گوندل کی _ میں نے اور میری بہن نے بچپن سے ہی تمہاری وجہ سے تکلیفیں برداشت کرنا سیکھی ہیں _ بلکہ ہماری ہر تکلیف کی جڑ تم ہو ضماہیر دھاڑتے دانیال کو کالر سے کھینچ گیا _

دھیان سے سالے صاحب! آپ کیوں اپنی بھانجی کو دنیا میں آنے سے پہلے یتیم کرنا چاہتے ہیں _ ضماہیر کو خود سے دور کیے دانیال نے اپنا کالر جھاڑا تھا ۔

کیا مطلب ؟ ضماہیر تو بھانجی پر ہی اٹک گیا تھا ۔

میں باپ بن گیا ہوں بس وہ الگ بات ہے میری اولاد اپنی ماں کی دنیا میں مگن ہے ! ابھی میری اولاد اس دنیا کی غموں سے آشنا نہیں _ ابھی وہ ایک خوبصورت دنیا کا حصہ ہے_ بڑی ہی مہارت سے وہ ضماہیر کو یہ بتا گیا کہ وشمہ پریگننٹ ہے –

وشمہ کہاں ہے ؟ دانیال کے اعضاء تن گئے تھے جبکہ چہرہ کا رنگ غصے کی وجہ سے سرخ تھا ۔

مجھے معلوم نہیں ؟ ضماہیر وہی جواب دیے ایک دفعہ پھر کرسی پہ بیٹھے اس کی پشت سے ٹیک لگا گیا ۔

ضماہیر میرا صبر نہ آزماؤ! انگلی اٹھائے دانیال نے ضماہیر کو وارن کیا تھا ۔

تمہاری بیوی میرے پاس ہے ہمت ہے تو ڈھونڈ لو ؟ مانو ضماہیر نے صاف صاف اسے اعلان کیا تھا کہ وہ وشمہ کو اس سے چھین لے گا ۔

اپنی بیوی کو تو میں ہر حال میں ڈھونڈ لوں گا ! بس زرا کچھ خیر خبر اپنی بیوی کی بھی لے لینا سالے صاحب ؟

کیا مطلب ہے تمہارا ؟ رباشہ کا نام سنتے ہی اس کے رونگھٹے کھڑے ہوے تھے ۔

میری بیوی کو اگر تم اٹھوا سکتے ہو تو تمہاری بیوی کیسے محفوظ رہ سکتی ہے سالے صاحب!

اور ہاں یاد رکھنا تمہاری بیوی کا پورانا عاشق ہوں اگر اس کے لیے میرے سوئے جذبات دوبارہ جاگ گئے تو سوچو !! کہیں وہ اس قابل ہی نہ ___

اپنی زبان کو لگام دو دانیال کہاں ہے میری حسینہ جانم ! دانیال کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی ضماہیر نے اس کا جبڑا دبوچا تھا ۔

ویڈیو بھیجی ہے دیکھ لینا !! اب تم پر ہے میری بیوی چاہیے یا اپنی بیوی !!!

ویڈیو سینڈ کرتا دانیال لمبے لمبے ڈنگ بھرتے فارم ہاؤس سے باہر نکلا تھا ۔

کہاں جارہے ہو تم ! واشروم سے باہر نکلے ایک کھلی سی شرٹ ٹراؤزر میں خود کو قید کیے زاویار نے بیڈ سے تکیہ اٹھایا تھا ۔

او ہیلو مس مناہل ! میں کہیں نہیں جارہا تم جارہی ہو !!! اس صوفے پر اس نے صوفے پر تکیہ پھینکا تھا ۔

صوفے پر حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے مناہل نے زاویار کو گھورا تھا ۔

جی بلکل !! کیوں تمہیں کیا لگا تمہارے لیے کوئی شاہی بستر لگا یا جائے گا ۔

شہزادیوں کے لیے شاہی بستر ہی لگائے جاتے ہیں اپنے بالوں کی ایک لٹھ کو پکڑے اسے انگلی کے گرد گھمائے چھلے کی شکل میں قید کیے وہ سیدھا زاویار کے جزبات سے کھیلنے لگی ۔

اگر چہ ان میں محبت نہ تھی مگر ایک جائز رشتے کی کشش زاویار کو اس کی قربت کے لیے اکسا رہی تھی ۔

اس کے لیے شکل بھی شہزادیوں والی ہونی چاہیے _ اپنے دل کو کنٹرول کیے اس نے مناہل کا مزاق بنایا تھا جو اپنا اس قدر مزاق بننے پر ہکا بکا سی کھاجانے والی نگاہوں سے اسے گھورنے لگی تھی ۔

مجھے صوفے پر نہیں سونا ! وہ غصے میں تکیہ اٹھائے واپس بیڈ پر آئی تھی ۔

پھر سوچ لو بے بی ڈول !! کچھ ہوجائے تو مجھے الزام نہ دینا _ مناہل کے ہاتھ سے تکیہ لیے زاویار نے اسے سائیڈ پہ رکھا تھا جبکہ خود مناہل کی کمر کے گرد بازو حائل کیے وہ اس کی دھڑکنوں کی رفتار تیز کیے انہیں سننے لگا ۔

کک _ کک _ کیا مطلب ہے تمہارا ؟

مطلب صاف ہے _ ایک جوان لڑکی _ ایک جوان لڑکا _ نکاح کا رشتہ _ اندھیرا کمرا _ ایک بیڈ _ ایک ہی لحاف _ لفظوں کو توڑ توڑ کر ادا کیے وہ اسے ڈرانے میں کامیاب ہونے لگا تھا ۔

تم میرے نزدیک نہ آنا خود کو زاویار سے دور کیے اس نے صوفے سے کشن اٹھائے بیڈ کے درمیان میں ایک کمزور سی دیوار بنائی تھی۔

جبکہ زاویار تو اس مضبوط دیوار کے صدقے اتار رہا تھا اور تمہیں لگتا ہے تم اتنی مضبوط دیوار بنا کر مجھے خود سے بچا لو گی ۔

ایک ایک کشن کو فرش پر پھینکے مناہل کو اپنی جانب کھینچے اس نے زور سے اسے اپنے سینے میں بھینچا تھا ۔

دد۔۔۔دور۔۔۔دور ہوجاؤ ! زاویار کی اس حرکت پہ اس کے گال کہو چھلکانے لگے تھے جبکہ کانوں سے دھواں باہر آرہا تھا ۔

چپ ! ایک دم چپ ہو کر یہاں سوجاؤ اور ڈرو مجھ سے اگر میرے اندر کا شیطان جاگ گیا نہ تو تمہاری جو یہ شیاطانیت ہمیشہ دوسروں کے لیے تیار رہتی ہے اس پر حاوی ہو جائے گا وہ پھر تم کچھ نہیں کر سکو گی ۔

مناہل کو مکمل طور پر خاموش کروائے اسے اپنے حصار میں لیے وہ کمرے کی لائٹ بند کرتا کمبل میں دونوں کو ڈھانپ گیا ۔

دانیال تم کمرے کے باہر کیوں کھڑے ہو ؟ رباشہ اس وقت دانیال کے ملتان والے فارم ہاؤس میں تھی

جبکہ دانیال کمرے سے باہر کھڑا تھا ۔

میں نہیں چاہتا میں اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں تنہائی میں کسی عورت کے ساتھ ایک کمرے میں چند پل کے لیے بھی ٹہرو

اور اس وقت میں تنہا ہوں میرے ساتھ میری بیوی نہیں!

کتنا بدل گیا تھا وہ _ آج اس کے لب وہ الفاظ ادا کر رہے تھے جو ہر لڑکی اپنے شوہر کے منہ سے سننا چاہتی ہے _ جیسا ہم سفر کر لڑکی چاہتی ہے _

کتنی خوش نصیب ہے وشمہ جو اسے تم ملے !! رباشہ نے دل میں سوچا تھا مگر وہ یہ بات زبان سے ادا کر چکی تھی ۔

میں خوش نصیب ہوں کہ میری بیوی _ میری ہم سفر _ وشمہ ہے ۔

یہ دانیال نہیں تھا یہ وشمہ کی محبت تھی _ اس کا عشق تھا جو آج دانیال میں رچ بس گیا تھا ۔

ضماہیر نے بتایا وشمہ کا ؟ رباشہ نے کمرے کے اندر سے ہی دانیال سے پوچھا تھا _

نہیں!! اس کے پاس نہیں کے علاؤہ اور تھا ہی کیا جواب _

تم ہمت نہ ہارو وہ بہت جلد تمہیں بتا دیں گے

انشاللہ!! اب اس کی امید صرف خدا سے ہی تھی انسان ہے ہی ایسا جب اس کے سارے دروازے بند ہو جائیں وہ تب ہی خدا کی جانب رجوع کرتا ہے ۔

جب اس پر یہ دنیا تنگ ہوجائے تب اسے یاد آتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں ۔

( ماضی )

رباشہ ابھی اپنے گھر داخل ہی ہوی تھی کی گھر کا دروازہ بجا تھا ۔

کون ؟ وہ دروازے پہ کھڑی ہی واپس پلٹی تھی مگر وہاں دانیال کو موجود پاکر وہ حیران ہوی تھی ۔

تم !!!

مجھے مدد چاہیے تمہاری باتوں کو گھمائے بغیر وہ سیدھا مدعے پر آیا تھا ۔

کیسی مدد؟؟

وشمہ ضماہیر کے پاس ہے کیا ؟ اس نے سوال کیا تھا ۔

زین وشمہ کو کراچی سے لایا ہے _

لایا تو زین ہے تو تمہیں اتنا یقین کیسے ہے کہ وہ ضماہیر کے پاس ہے ؟ رباشہ جانتی تھی ضماہیر اس کا شوہر ہے وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا مگر دوسری طرف اس کی بہن تھی خود سے کوئی اندازہ لگانا بے فائیدہ تھا ۔

زین اور ضماہیر ایک دوسرے کو جانتے ہیں پلیز رباشہ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے _ کیا تم چاہتی ہو کہ میری بیوی اس وقت میں تنہا رہے جب ہر لڑکی کو اپنے شوہر کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسے ہر قدم پر اپنے شوہر کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے ۔

کیا مطلب ؟ رباشہ بچی تو نہ تھی جو اس کی باتوں کا مطلب نہ سمجھتی مگر وہ دانیال کے منھ سے سننا چاہتی تھی ۔

تم پھوپھو بننے والی ہو _ اس نے رباشہ کے ساتھ پھوپھو ک رشتہ جوڑ کر ایک دفعہ پھر واضح کیا تھا کہ اس کی زندگی میں صرف وشمہ ہے _ وہ صرف اپنی بیوی کا دانیال ہے ۔

میں تمہاری مدد کروں گی _ دانیال کی آنکھوں میں چھپا وشمہ کے لیے پیار دیکھ کر اس نے فوراً حامی بھری تھی ۔

اپنی بھتیجی سے کہو میرے بچے سے دور رہے حویلی ماں کے کمرے میں داخل ہوتے ہی دادا سائیں حویلی ماں کے سر پہ پہنچے تھے ۔

میری بھتیجی چلی تو گئی ہے اب سب سے دور اور کیا چاہتے ہیں آپ ؟ حویلی ماں کو تو اس کی شادی کا دکھ ہی کھایا جارہا تھا ۔۔۔۔

تم جانتی ہو اس نے جس سے شادی کی ہے وہ کون ہے ؟

زاویار!! مناہل کو اچھا لگتا تھا وہ حویلی ماں نے باتیں گھمانا شروع کی تھی ۔

اس حویلی کی چھوٹی بہو دانیال کی ماں کا بیٹا ہے وہ ؟ اس بھگوڑی کا بیٹا کے وہ جس نے اس حویلی کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔

اس کا مطلب وہ دانیال کا بھائی ہے !!!_ ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ عورت تو بلکل اچھی نہیں _ میری بچی _ میری بچی مصیبت میں پھنس گئی ۔

تمہاری بچی کے ساتھ ہونا ایسا ہی چاہیے تھا _

میں واپس لاؤ گی اپنی مناہل کو _ میں اسے ان لوگوں کے درمیان نہیں چھوڑ سکتی حویلی ماں سکتہ کے صورت میں بیٹھےاپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام گئی ۔

کوئی ضرورت نہیں ہے اسے اس گھر میں لانے کی کچھ پل تو میرے بچوں کو سکون سے رہنے دو _

آپ _ آپ کو کیسے پتا کہ زاویار دانیال کا بھائی ہے .

ہسپتال میں میں نے ضماہیر اور رباشہ کے باپ کی ساری باتیں سن لی تھی ۔

رباشہ کا باپ ! وہ کیسے سب جانتا ہے_ رباشہ ان کی بیٹی نہیں ہے وہ حویلی کی بیٹی ہے ۔

کیا کہ رہے ہیں آپ مجھے سچ سچ سب بتائیں_ پوری اور واضح بات بتائیں ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ کیا کہ رہے ہیں آپ ۔

رباشہ کے ایکسیڈنٹ کے وقت جب خون کی ضرورت تھی تب اس کے باپ یعنی افتخار نے اسے خون نہیں دیا تھا کیونکہ ان کا خون میچ نہیں کرتا تھا اس کے بعد افتخار نے ضماہیر کو ساری سچائی بتائی تھی کہ وہ ان کی اولاد نہیں وہ ہمارے جاوید کی بیٹی ہے _

جاوید کی بیٹی _ حویلی ماں تو اسی بات پر سن ہوگئی تھی میری پوتی _ میری پوتی ہے رباشہ _ چہرے سے خوشی کے آنسو ٹپکنے لگے تھے ۔

میرے جاوید کی آخری نشانی _ میری پوتی

ہاں ہاں ہماری پوتی ہے رباشہ اس حویلی کے چھوٹے بیٹے کی آخری نشانی _ ہماری پوتی رباشہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *