Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 26)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 26)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
چھوڑو مجھے جنگلی انسان ! تم تھے ہی نہیں اس قابل کے تم پر یقین کیا جائے ۔
تو کس نے کہا تھا یقین کرو مجھ پہ مناہل کو گاڑی میں بٹھائے سیٹ بیلٹ میں قید کیے وہ اسے سیٹ سے باندھ گیا ۔
نکالو باہر مجھے گاڑی کے دروازے کو باہر کی جانب دھکا دیے وہ زور زور سے دروازے پہ ہاتھ مارنے لگی تھی ۔
تمہاری ان بچگانہ حرکتوں سے کچھ نہیں ہونے والا بیوی ! مناہل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اسے خاموش کرواگیا ۔
تم تو رباشہ سے پیار کرتے ہو نہ پھر میری جان کے دشمن کیوں بنے ہو ؟ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو تم نظریں نیچے کیے ایک ایک لفظ چبائے وہ زاویار سے سوال کرنے لگی ۔
کیا میں نے کبھی تمہیں یہ کہا کہ مجھے رباشہ سے محبت ہے ؟ مجھے تو صرف حویلی میں داخل ہونا تھا جو میں تمہارے زریعہ ہوگیا ۔۔اب کیا کروں بندہ بشر ہوں اتنا حسن سامنے ہوگا تو بہکوں گا نہ ۔۔۔ آخری الفاظ بڑے ہی بے شرم طریقے سے ادا کیے مناہل کے چہرے پہ پھونک مارے گاڑی کی سپیڈ تیز کر گیا ۔
سپیڈ کم کرو
کیوں تمہیں ڈر لگ رہا ہے
ڈرتی تو میں اپنے باپ سے بھی نہیں مسٹر زاویار! نظریں فورا اوپر کی جانب کیے اس نے زاویار کی طرف دیکھا تھا ۔
مناہل کی نظروں کا ٹکراؤ زاویار کی نظروں سے ہوا تھا اس لیے وہ فوراً ہی نظریں واپس نیچے کی جانب کرگئی ۔
زاویار شوہر تھا اس کا ان کے درمیان ایک نیا رشتہ قائم ہوا تھا ایسا رشتہ جس کی سوچ اس کے زہن میں بھی کبھی نہیں آئی تھی ۔
گاڑی کو ایک جھٹکے سے روکے مناہل کے چہرے کو اپنی جانب کیے تھوڑی سے پکڑے زاویار نے اسے اونچا کیا تھا ۔
زاویار کا جھلستا لمس تھوڑی پہ محسوس کرکے وہ کانپنے لگی تھی جبکہ دل سینے کی دیواروں کو توڑ کر باہر آنے کو تھا ۔
مناہل کے ماتھے سے اپنا ماتھا ٹکائے _ اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے مناہل کو اپنی جانب کھینچےاس کے چہرے پہ جھکا اپنی گرم سانسیں چھوڑنے لگا ۔
زاویار کی سانسیں اسے جھلسانے لگی تھی اس کی جھلستی سانسوں سے گھبراتی اس کو سینے کی طرف سے زور سے پیچھے دھکا دیے مناہل نے خود کو سنبھالا تھا ۔
دور رہا کرو مجھ سے ؟ الفاظ ٹوٹ پھوٹ کر ادا ہونے لگے تھے
یہ ناممکن ہے وہ ایک دفعہ پھر اس کی جانب اپنا منھ موڑنے لگا تھا ۔
زاویار کو اپنے جانب مڑتے دیکھ مناہل جلدی سے گاڑی کی سیٹ سے اپنی کمر موڑے دروازے کے اندورنی حصے کو ٹیک لگا گئی ۔
دیکھا ڈر گئی نہ مناہل کے کان کے بلکل نزدیک ہوے اس نے سرگوشی کی تھی جبکہ مناہل کا ہاتھ لاشعوری طور پہ اس کے لبوں پہ گیا ان کو خاموش کرواگیا ۔
واہ بیوی اب تم نے اپنا پہلا لمس بھی مجھے محسوس کروا دیا ۔۔۔میری روح میں سکون اترا ہے ایک دفعہ گاڑی پھر سے سٹارٹ کیے وہ اسے بھگا لے جانے لگا جبکہ اپنے ہونٹوں پہ رکھے مناہل کے ہاتھ کو ہٹائے اپنے ہاتھ میں لیے اسے اپنے ہونٹوں سے چھونے لگا ۔
زاویار کی اس بے باک حرکت پہ اس کے جسم کا رنگ فق ہوا تھا ۔قہ لرزنے لگی تھی اس کی اتنی سے قربت میں ۔
مجھے جانا ہے ضماہیر ؟ وہ بیڈ پہ بیٹھے رونے میں مصروف تھی وہ اپنا سامان مکمل طور پر پیک کر چکی تھی مگر ضماہیر کے انکار اور اس کے غصے کہ خوف نے اسے جانے سے بعض رکھا تھا ۔
میں نے منع کیا ہے نہ وہ جو صوفے پہ بیٹھا اسے روتا دیکھ رہا تھا اس کی بات سنتے ایک دم اٹھا تھا ۔
مجھے جانا ہے مجھے نہیں رہنا یہاں ؟ ابھی بھی اپنی بات پہ قائم تھی ۔
رباشہ رباشہ فاطمہ بیگم کو نرس نے بتایا تھا کہ وہ رباشہ سے مل لیں کیونکہ اسے ہوش آچکا ہے ۔
رباشہ کے ہوش میں آنے کی خبر سنتے ہی وہ خوشی کے مارے ہلکان ہوے اس کے کمرے میں آئی تھی ۔
میری بچی ٹھیک ہوگئی کمرے میں آتے ہی وہ فورا رباشہ کی جانب لپکتی اسے اپنے سینے میں بھینچ گئی ۔
میری بچی آنکھوں سے بہتے خوشی کی آنسو رباشہ کے گالوں پہ گرتے انہیں بھگونے لگے ۔
فاطمہ خالہ مجھے گھر جانا ہے ؟ وہ سسکیاں مارتی خود کو سنبھالے فاطمہ بیگم کے کاندھے سے سر ٹکا گئی ۔
میرے بچے نے گھر جانا ہے رباشہ کے گالوں کو ہاتھ سے چھوے وہ اس کا سر سیدھا کرنے لگی جو سیدھا ہوے واپس سے فاطمہ خالہ کے کاندھے پہ ڈھلکا تھا ۔
رباشہ ۔رباشہ کا سر اپنے کاندھے پہ ڈھلکتے دیکھ وہ پریشانی میں اس کے گالوں کو تھپتپانے لگی ۔
حسینہ جانم ضماہیر نے رباشہ کا سر فاطمہ خالہ کے کاندھے سے ہٹائے اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا ۔
رباشہ کو اٹھائے وہ اسے بیڈ پہ لٹائے اس کہ چہرے پہ پانی کے چھینٹے مارنے لگا ۔
ضماہیر مجھے گھر جانا ہے ہلکے ہوش میں آئے اس کے لبوں پہ گھر واپس جانے کی ضد تھی ۔
ضماہیر کیوں تکلیف پہنچا رہے ہو بچی کو چھوڑ آؤ گھر ۔۔۔۔جانتے بھی ہو وہ ابھی ابھی اتنی بڑی ازیت سہ کر آئی ہے ۔
رباشہ کو سسکتے دیکھ فاطمہ بیگم ضماہیر کو مخاطب کیے تلخ لہجہ اختیار کر گئی ۔
خالہ اس حالت میں چھوڑ آؤں اسے جبکہ میں جانتا ہوں اس وقت اس کو میری ضرورت ہے ۔
میں بخوبی واقف ہوں اپنے فرائض سے اور
میں اپنے فرائض سے دستبردار نہیں ہوسکتا ۔
میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں شوہر بیوی کے بغیر ،بیوی شوہر کے بغیر برہنہ ہے ۔
ضماہیر اسے اس وقت اس کو ماں باپ کی ضرورت ہے ۔
وہ گھر اس کا نہیں ہے اور نہ وہ اس کے ماں باپ ہیں یہ میری لٹل فیری ہے میرے چاچو کی امانت ۔
یہ دوائی دو اسے ہاتھوں میں پانی کا گلاس لیے فاطمہ بیگم نے اسے ضماہیر کی جانب بڑھایا تھا ۔
خالہ مجھے اکیلا وقت چاہیے اپنی بیوی کے ساتھ رباشہ کے پیروں کی جانب بیٹھے وہ ہولے ہولے اس کے پاؤں کو اپنے ہاتھوں میں لیے انہیں دبانے لگا تھا ۔
معاف کر دو مجھے حسینہ جانم ضماہیر کی آنکھوں سے نکلتے آنسو رباشہ کے پیروں پہ گرنے لگے تھے ۔
اپنے پیروں پہ گرتے پانی کو محسوس کرتے رباشہ نے اپنی آنکھیں کھولی تھی وہ دوائی کے زیر اثر نیم نیند کی حالت میں تھی ۔
آپ پلیز میرے پاؤں سے ہاتھ ہٹائیں رباشہ کی ہلکی کھلی آنکھیں ضماہیر کو اپنی جانب کھینچنے لگی تھی ۔
وہ اس کی آنکھوں میں ڈوبے اس کی جانب بڑھے اسے سختی سے خود میں بھینچنے لگا ۔
میری سزا ختم کروں حسینہ جانم
میں آپ کو سزا نہیں دینا چاہتی مگر میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔
تم مجھے سزا کی جگہ دردناک عذاب کا صور پھونک رہی ہو ۔
آپ کو جو سمجھنا ہیں سمجھیں میرا اس سے واسطہ نہیں ضماہیر سے دور ہوے بیڈ پہ سیدھا لیٹے وہ آنکھیں میچ گئی ۔
کرب ناک درد سے گزرے_ کمرے کو اندر سے لاک کیے _لائٹ بجھائے _ جیب سے سگریٹ نکالے ضماہیر سٹڈی روم میں گیا _ سگریٹ سلگھائے اپنا غم دھویں میں اڑانے لگا ۔
مگر شاید اس کا غم زیادہ تھا جو اس سگریٹ کے دھوئیں سے ہوا میں محلق نہیں ہورہا تھا ۔
اس کا غم اس کے دل پہ دباؤ ڈالے تھا جسے صرف رباشہ ہلکا کر سکتی تھی ۔
آج اسے احساس ہوا تھا اپنی بیوی پہ یقین کرنا کتنا ضروری ہے ۔۔۔میاں بیوی کا رشتہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہوسکتا جب تک ان کے درمیان موجود یقین کی دیوار مضبوط نہ ہو ۔
سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑے وہ واپس رباشہ کے پاس آیا تھا ابھی تو اس کی بیوی موت سے لڑ کر آئی تھی ۔
بیوی تم ابھی موت کو ہرا کر آئی ہو اور آتے ہی تم نے مجھے موت کا سندیسہ دے دیا ۔
رباشہ کے ماتھے پہ اپنا سرد لمس چھوڑے اس کے گرد اپنی بازوؤں کا حصار بنائے اس کے بلکل قریب لیٹے اپنا ایک ہاتھ اس کے سر کے نیچے رکھ کر اسے اپنے نزدیک کھینچ گیا ۔
نیند کے دوائیوں کے زیر اثر وہ سدھ بدھ سی اس کی بانہوں میں پڑی اس کی موجودگی تک محسوس نہ کرسکی ۔
وہ کتنے پہر اسے یونہی تکتا رہا کتنا بے بس ہوگیا تھا اپنی بیوی کے آگے ۔۔۔۔ آج اس کے پاس اس کی بیوی تو تھی مگر اس کا لمس ۔۔۔اس کا وہ خوبصورت لمس جو ضماہیر کو سکون پہنچاتا تھا وہ شاید کہیں کھو گیا تھا ۔۔۔۔
مناہل!! مناہل کال اٹھاؤ رباشہ کے ہوش میں آنے کی خبر سنتے ہی حویلی ماں نے مناہل کو کال ملائی تھی ۔
وہ کتنی ہی کالیں اسے کر چکی تھی مگر مناہل تھی جس نے ان کی ایک کال تک ریسیو نہیں کی تھی ۔
مناہل کہاں ہو تم غصے میں انہوں نے ایک دفعہ پھر مناہل کو ملائی تھی ۔
جو چند بیلوں کے بعد اٹھالی گئی تھی ۔
کہاں ہو تم میں نے ساری حویلی میں دیکھ لیا تم نے کہا تھا تم اور زاویار حویلی میں ہی رہو گے مگر تم تو یہاں نہیں ہو ۔۔۔وہ ایک ہی رٹ میں سارا کچھ بول گئی ۔
اپنے شوہر کے پاس _ اپنے سسرال _ مناہل کے موبائل پہ حویلی ماں کی کال دیکھے زاویار نے کال اٹینڈ کی تھی ۔
تم !! مناہل کو فون دو وہ سخت آواز میں گویا ہوی تھی ۔
سوری یہ میاں بیوی کے رومینس کا وقت ہے حویلی ماں کی کال کاٹتے وہ مناہل کا موبائل بیڈ پہ اچھال گیا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوی میرے موبائل کو ہاتھ لگانے کی موبائل بیڈ پہ گرے مناہل نے جلدی سے اپنے موبائل اٹھایا تھا ۔
ہمت تو مجھ میں تمہاری بہت سے چیزوں کو چھونے کی ہے ایک ایک قدم مناہل کی جانب اٹھائے وہ اس کی سانسیں منتشر کرنے لگا ۔
تم ! اس سے پہلے وہ کچھ کہتی زاویار نے اس کی کمر کے گرد بازوؤں کو ڈالے اسے اپنی جانب کھینچے اس کے لبوں کو اپنا نشانہ بنایا تھا ۔
یہ پہلا جان لیوا لمس تھا جو زاویار نے مناہل کو محسوس کروایا تھا جس کا اثر یہ ہوا تھا کہ وہ اس کے سینے سے لگے کانپنے لگی تھی ۔
وہ بہت بولڈ لڑکی تھی مگر آج زاویار کو اپنے اتنے قریب _اس کا لمس اپنے لبوں سے گزرتے اپنی شہ رگ پہ محسوس کیے وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگے تھی ۔
تیار ہوجاؤ آج ہم باہر ڈنر کے لیے چلیں گے کمرے میں داخل ہوے دانیال نے وشمہ کو حکم دیا تھا وہ جو صوفے پہ بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی اس کی بات سنتے نظریں اٹھائے اسے دیکھنے لگی ۔
آپ مجھے لے جائیں گے باہر ؟ جیسے اسے دانیال کی بات پہ یقین ہی نہ ہو ۔
ہاں تو اس میں کیا برائی ہے شوہر اپنی بیوی کو گھمانے لے جاسکتا ہے قاتل حسینہ!
آپ مجھے اس حالت میں لے کر جائیں گے صوفے سے اٹھتے اس نے پیٹ پہ ہاتھ رکھے اسے یاد دلوایا تھا کہ بہت جلد ان کی زندگی میں ایک تیسرا انسان شامل ہونے والا ہے ۔
جان تمہاری اس حالت کا زمہ دار بھی تو میں ہوں لبوں کہ کناروں پہ ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی تھی جسے وشمہ نے بخوبی دیکھا تھا ۔
میں چادر لے لو دانیال کی نظروں سے خود کو بچانے کے لیے وہ جلدی سے پیچھے کی جانب مڑتی اپنی چادر تلاش کرنے لگی ۔
جلدی لینا ! اگر نہیں مل رہی تو میں تلاش کرادیتا ہوں وشمہ کی پیٹھ کو اپنے سینے سے لگائے اس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھے اسی کے ساتھ ہی الماری کی چیزوں کو ادھر ادھر کرنے لگا ۔
نہیں نہیں میں ڈھونڈ لوں گی اپنے ہاتھوں پہ دانیال کے ہاتھ دیکھتے اس کے ہاتھوں نے حرکت چھوڑی تھی جبکہ وہ اس کے اتنا پاس آنے پہ ہلکان ہونے لگی تھی ۔۔
کیا قاتل حسینہ تمہارا اب یہ اتنا شرمانا اور کپکپانا تو بلکل ہی نہیں بنتا ! اب تو ہمارا رشتہ مزید مضبوط ہوچکا ہے نہ جان
وشمہ کے پیٹ پہ ہاتھ چلائے وہ اسے مزید کپکپانے پہ مجبور کرگیا ۔
یہ مل گئی چادر اپنا چہرہ موڑے وشمہ نے اس کے سامنے چادر کی تھی ۔
وشمہ کی جلدبازی دیکھ دانیال محفوظ ہوا تھا جبکہ نگاہیں اس کی نم آنکھوں پہ مرکوز تھی جن میں اکثر نمی ہی سرائیت کرتی تھی ۔
میں شوہر ہوں تمہارا اور آج سے تم میرا ہر حکم مانو گی مناہل کے جبڑے کو ہاتھ میں قید کیے وہ خون چھلکاتی نظروں سے اسے گھورنے لگا ۔
شوہر ہو تو کیا سر پہ بٹھالوں ؟اسی کے لہجے میں جواب دیے اپنی نگاہوں سے سامنے کی دیوار کو گھورنے لگی ۔
شوہر ویسے بھی بیوی کے سر کا تاج ہوتا ہے بیگم !!
شوہر!! زبردستی کا شوہر نہیں وہ مناہل تھی ہر بات کا جواب واپس دینا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔
تمہاری اس چلتی زبان کو بہت آسانی سے کاٹ سکتا ہوں مگر ابھی مجھے تمہاری اس بکواس کی ضرورت ہے مناہل کو خود سے دور کیے وہ اپنے کپڑے اٹھائے واشروم میں گیا تھا ۔
زاویار کے موبائل پہ آتی کال دیکھ مناہل کا دیہان اس کے موبائل پہ گیا تھا ۔
Mom !!
تمہاری ماں کی کال آرہی ہے جنگلی گوریلے زاویار کا موبائل اٹھائے وہ واشروم کے دروازے سے ٹیک لگائے اس کا مزاق بنانے لگی ۔
موبائل پہ آتی کال کا سنتے زاویار نے اپنے گرد تولیہ لپیٹے واشروم کا دروازہ کھولا تھا مناہل جو دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی اچانک دروازہ کھولنے پر اپنا اپنا بیلینس برقرار نہ رکھتے ہوے اس کے برہنہ سینے سے لگی تھی ۔
تو اب مجھے چپکنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہو تم مناہل کے گرد بازوؤں کا حصار بنائے زاویار نے اس کی پیٹھ پہ زور دیا تھا ۔
مگر میں تمہاری اس خوبصورتی کے آگے نہیں بہک سکتا بیگم _ البتہ اگر بہک گیا تو بہت کچھ کر جاؤں گا ایک آنکھ بند کیے مناہل کے ہاتھ سے موبائل کھینچے وہ واپس واشروم میں گیا تھا ۔
جبکہ پیچھے مناہل کنگ سے حالت میں کھڑی وہ سب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
جی مام !
کہاں ہو تم ؟
پورانے گھر میں !
کس کے ساتھ ؟
آپ کی بہو کے !!
بہو !! اس کا مطلب پلین کامیاب ہوا موبائل کی دوسری جانب سے دانیال کی ماں کی قہقتی آواز گونجی تھی ۔
یس مام ! آپ کو لگتا ہے آپ کا بیٹا کچھ پلین کرے اور وہ اس میں کامیاب نہ ہو مگر مجھے آپ کی وجہ سے اس بدتمیز لڑکی کو بھی برداشت کرنا پڑے گا ۔
بس کچھ دن کی بات ہے جیسے ہی مجھے حویلی سے میری جائیداد واپس مل جائے گی تم اس لڑکی کو اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دینا جیسے چائے سے مکھی پھینکی جاتی ہے ۔
مام مگر تب تک میں اس لڑکی کو کیسے برداشت کروں گا ؟ زاویار کو تو مناہل پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا جس کی زبان چھری سے زیادہ تیز تھی ۔
بیٹا تمہیں اپنی ماں کے لیے یہ سب کرنا ہوگا ؟
بس اسی لیے اسے برداشت کر رہا ہوں ورنہ میں تو کبھی اس جیسی لڑکی کے منھ تک نہ لگو ! کراہت سے بولتے اس نے کال کاٹی تھی ۔
وشمہ ! وشمہ !! وہ ہوٹل سے کھانا کھا کر باہر نکلے تھا مگر اس کے پیچھے وشمہ کہیں نہیں تھی ۔
وشمہ ! وشمہ کا نام بار بار پکارے وہ واپس ہوٹل میں آیا تھا ۔
میری بیوی آئی تھی میرے ساتھ کہاں ہے وہ ؟
وشمہ کو اپنے ساتھ نہ پاکر وہ ہوٹل کے مینیجر کے سر پہ پہنچا تھا ۔
سر آپ کی بیوی تھی آپ کو پتا ہوگا کہاں ہے وہ ؟
میری بیوی میرے ساتھ تھی مگر اب نہیں ہے !
مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھاؤ مینیجر کا گریبان پکڑے وہ تیز آواز میں گرجا تھا ۔
