Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 31)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

ایک شاندار صبح آج دانیال اور ضماہیر کے استقبال کے لیے تیار تھی۔

آج دونوں کی کی زندگی مکمل تھی دانیال کے پاس اس کی قاتل حسینہ اس کی وشمہ تھی جبکہ ضماہیر وہ تو گویا ساری زندگی کے لیے امر ہوا تھا اپنی حسینہ جانم کو حاصل کر لینے کے بعد ۔

ضماہیر یہ کنواں؟؟سوال پچھلی رات سے ہی اس کے ذہن میں تھا مگر اس کے کچھ بولتے ہی ضماہیر اسے خاموش کروا دیتا تھا ۔

کیوں اچھا نہیں ہے سرپرائز ؟

نہیں نہیں بہت اچھا ہے مگر یہ تو بلکل کسی فیری ٹیل کی طرح ہے جیسے ان کہانیوں میں ہر چیز میجیک سے ہوتی ہے ۔۔۔۔یہ بھی ایسے لگتا ہے جیسے میجیک ہو ۔

تو یہ ہے تو میجیک _ یہ میجیک ہے میری حسینہ جانم کے لیے ۔

مگر آپ کو کیسے پتا چلا اس کنویں کا اور پھر اس کے اندر یہ ۔۔۔وہ اب جاننے کے لیے متجسس ہورہی تھی آخر یہ اس کی زندگی کا پہلا تجربہ تھا ۔

جب پہلی چوری کی تھی تو چھپنے اس کنویں میں آیا تھا بس جب آیا _ تو خود بہ خود اس جگہ پر پہنچ گیا تب سے لے کر آج تک میں اس جگہ پر آتا ہوں مگر تم سے پہلے یہاں یہ سب نہیں تھا ۔

آپ اب بھی چوریاں کرتے ہیں ؟ آنکھوں میں خالی پن تھا جبکہ لہجہ بلکل روکھا تھا ۔

جس دن سے تم نے میرا دل چوری کیا ہے اس دن سے میں ہر چیز سے توبہ کرچکا ہوں ۔

میں اچھے سے جانتا ہوں گناہوں کی توبہ نہ کی جائے تو ان کی سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور شاید میں توبہ نہ کرتا تو تم اس دن میرے لیے لوٹ کر واپس نہ آتی ۔۔۔

تمہیں ہوش نہ آتا _ وہ دن اور آج کا دن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں کوئی گناہ نہ ہو جائے جس کا کفارہ مجھے تمہاری صورت میں ادا کرنا پڑے ۔

ضماہیر کی بات سنتے ہی رباشہ کے دل میں سکون اترا تھا جبکہ اپنے دنوں ہاتھ کھولے وہ ضماہیر کے گرد لپیٹ گئی ۔

خوبصورت سرخ پردے جو دیوار پر لٹک رہے تھے ہوا میں لہراتے دکھائی دیے ۔

یہ سب تمہارے آنے کے بعد کیا ہے میں نے ؟اس کا اشارہ اس خوبصورت کمرے کی طرف تھا جو آنکھوں کو لبھانے کی حد تک خوبصورت تھا ۔

میرے آنے کے بعد کیوں ؟؟

کیونکہ تم مجھے سرخ میں زیادہ اچھی لگتی ہو ۔

ضماہیر گھر چلیں ؟؟

ابھی سے آج رات بھی یہیں رہیں گے ہم !

نہیں نہیں ضماہیر مجھے گھر جانا ہے ۔ضماہیر کی کل رات والی شدتیں یاد کرتی وہ جی جان سے کانپنے لگی تھی ۔

خاموش لٹل فیری !! رباشہ کے لبوں پر انگلی رکھے ضماہیر نے انہیں بولنے سے بعض رکھا تھا ۔

لٹل فیری !! سنتے ہی اس کے ذہن میں وہ سب گھومنے لگا تھا جو اس نے کومے کے دوران سنا تھا ۔

جن کے ساتھ وہ بچپن سے رہ رہی تھی ۔۔۔جنہوں نے اس کی پرورش کی وہ اس کے ماں باپ نہیں تھے ۔

ضماہیر بابا میرے بابا نہیں ہیں ؟؟ آنکھوں میں نمی بھرے لہجے میں لرزاہٹ واضح تھی ۔

ہیں !!!تمہارے بابا تمہیں کس نے کہا وہ تمہارے بابا نہیں ۔

میں ان کی بیٹی نہیں ہوں ؟

حسینہ جانم ! یہ چیز معانی نہیں رکھتی بچپن سے لے کر اب تک انہوں نے تمہاری پرورش کی ہے تمہارے سر پہ ہاتھ رکھا ہے تمہاری ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھا ہے _ کیا اتنا کافی نہیں یہ جاننے کے لیے کہ وہ تمہارے ماں باپ ہیں ؟

اگر انہوں نے اب مجھے کہا کہ وہ میرے بابا نہیں ہے تو اس کا دل کانپنے لگا تھا یہ سوچ کر ہی کہ اگر وہ اپنے بابا سے دور ہوگئی تو ؟

حسینہ جانم ! تمہارے بابا تو یہ بات شروع دن سے ہی جانتے تھے کہ تم ان کی اولاد نہیں۔کیا کبھی انہوں نے تم سے کہا کہ وہ تمہارے بابا نہیں؟

نہیں!!! کبھی نہیں!!!!

بس پھر ڈر کیسا ماں باپ چاہے سگے ہوں یا سوتیلے اولاد_ اولاد ہوتی ہے _ اللہ تعالیٰ قدرتی طور پر ان کے دل میں اولاد کے لیے محبت ڈال دیتا ہے ۔

کپڑے ؟؟ ضماہیر مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں ۔

کبرڈ کھولو سامنے ہی پیکیٹ ہے ؟

کبرڈ کھولتے ہی اس نے پیکیٹ نکالا تھا جس میں سفید رنگ کی ایک لمبی فراک تھی جبکہ دوپٹہ سرخ رنگ کا تھا ۔

میں یہ نہیں پہنو گی سفید رنگ کا سوٹ دیکھتے ہی اس کے جسم میں خوف آیا تھا ۔

کیوں؟؟

نہیں مجھے ڈر لگتا ہے اس رنگ سے _ مجھے خوف آتا ہے اسے دیکھ کر ۔

کیوں _ خوف کیسا ؟؟؟

میں نے جب جب سفید رنگ پہنا ہے کچھ غلط ہوا ہے ۔کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آئی ہے ۔

اس دفعہ ایسا کچھ نہیں ہوگا _ پہنو یہ سفید فراک رباشہ کے ہاتھ میں پکڑائے ضماہیر اسے واشروم کے دروازے تک لایا تھا ۔

میں نے نہیں پہننا یہ ۔

پھر میں چلو اندر تمہارے ساتھ میں خود ہی پہنا دوں گا رباشہ کے ہاتھ پہ اپنا دباؤ بڑھائے اپنی سانسیں رباشہ کی گردن پر پھینکنے لگا ۔

نن نہیں میں خود ہی پہن لوں گی ۔

ضماہیر کے ہاتھ سے چھیننے والے انداز میں فراک لیے وہ واشروم میں گئی تھی ۔

دانیال حویلی چلے ہم ۔میرا دل بہت چاہ رہا ہے بھائی بھابھی دادا سائیں اور حویلی ماں سے ملنے کا ۔فاطمہ خاکہ بھی تو میرا انتظار کر رہی ہوں گی نہ ۔

میں لے جاؤں گا تمہیں مگر ایک شرط پر !

شرط کیسی ؟ ایک تو آپ ہر کام میں پہلے شرائط رکھتے ہیں ۔

دانیال کا قہقہہ بلند ہوا تھا _ شرط تو سن لو پہلے !

جی بتائیں کیا شرائط ہیں آپ کی ؟

تم وہاں جاکر مجھے نہیں بھولو گی ۔ہر جگہ میرے ساتھ رہو گی ۔جب میں بلاؤں گا فورا سے آجاؤ گی اور دو دن سے زیادہ حویلی نہیں رہو گی ۔

حد ہوتی ہے دانیال لے کر بھی صرف دو دن کے لیے جارہے ہیں اور شرائط ایسے رکھی ہیں جیسے پورا سال کے لیے رہنے جارہے ہیں ہم ۔

میں نے تمہیں پہلے ہی بتا دیا اگر تم نے ان میں سے ایک شرط بھی نہیں مانی تو اسی وقت میں تمہیں واپس لے آؤں گا ۔

جی ٹھیک ہے – میں تیار ہوجاؤ پھر چلتے ہیں ۔

تم نے اب تک الماری میں کپڑے نہیں رکھے صبح ہوتے ہی اپنا بیگ پچھلی رات کی طرح بند دیکھ کر وہ مناہل پر غرایا تھا ۔

کیوں میں کیوں رکھوں ؟ کپڑے تمہارے ہیں نہ تو خود ہی رکھ لو ۔

سنائی نہیں دیا تمہیں کپڑے رکھو !

نہیں رکھتی میں غصے میں دروازہ بند کیے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔

ایک دفعہ واپس تو آجاؤ چوہیا پھر بتاتا ہوں میں تمہیں! مناہل کو جاتا دیکھ زاویار نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ۔

اپنا بیگ اٹھائے وہ سیدھا الماری کے سامنے آیا تھا مگر دروازے کھولتے ہی ایک کپڑوں کا باہر کی جانب نکلتا زخیرہ تھا جس نے اس کا استقبال کیا تھا_ الماری میں موجود مناہل کے سارے کپڑے اس پر آگرے تھے ۔

What the hell is this ?

کیا مصیبت ہے یہ ؟ دانت پیستے وہ غرایا تھا مگر کمرے میں ایسا کوئی موجود نہ تھا جس پر اس کی غراہٹ کا رتی برابر بھی اثر ہو ۔

پھوپھو کیا ہوا ہے آپ کیوں مجھ سے اس قدر ناراض ہیں ؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ؟

مناہل میری ایک بات مانو گی ؟

پھوپھو آپ کا تو ہر حکم سر آنکھوں پر !

اس زاویار کے ساتھ اپنی زندگی شروع کرو اور ضماہیر کا پیچھا چھوڑ دو ۔

اس کی اور رباشہ کی زندگی سے دور ہوجاؤ ۔

مگر پھوپھو کیوں ؟ آپ تو خود چاہتی تھی نہ کہ میں ضماہیر سے شادی کروں ۔

مگر میں اب نہیں چاہتی ! میں چاہتی ہوں ضماہیر اور رباشہ ہمیشہ ساتھ رہیں میں دیکھ چکی ہوں رباشہ کے لیے ضماہیر کا دیوانہ پن _ اس کی تڑپ

پھوپھو یہ محبت کی آگ میرے دل میں بچپن سے آپ نے ہی لگائی تھی ۔

اسی آگ کا رخ زاویار کی طرف کردو تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی ۔

نہیں کبھی نہیں اس شخص کے ساتھ تو میں کبھی نہیں رہ سکتی اس سے تو میں آزاد ہو ہی جاؤں گی اور بہت جلد اس رباشہ جو ضماہیر کی زندگی سے پھینک دوں گی ۔

خبردار جو میری پوتی کے بارے میں کچھ کہا _ یا اس کی زندگی خراب کرنے کی کوشش کی _ اس کی دادی ہر جگہ اس کی حفاظت کرے گی ۔

پوتی !! مناہل تو پوتی پر اٹک کر رہ گئی تھی ۔

ہاں پوتی ضماہیر کی لٹل فیری !!

لٹل فیری سنتے ہی وہ اب کچھ سمجھ گئی تھی اسے سارا ماضی واپس سے اپنے دماغ میں گھومتا محسوس ہوا جب چھوٹے ضماہیر کے لبوں پہ صرف ایک نام کی تسبیح ہوتی تھی “لٹل فیری”

خاموشی سے اپنے قدم اٹھائے وہ حویلی ماں کے کمرے سے باہر نکلتی ناشتے کے لیے کچن میں گئی تھی ۔

وہ جان گئی تھی کہ اب مزید کچھ کہنا بے کار ہے مگر ضماہیر _ آج اس نے ضماہیر کو کھودیا تھا آج اس کی پھوپھو بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی ۔

تو کیا میں ساری زندگی اس زاویار ___ اس نے دل میں سوچا تھا ۔

نہیں کبھی نہیں!!! زاویار تو کبھی نہیں__ خود کو جھوٹی تسلی دیے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔

لیکن اب تو اس کا مقدر جڑ چکا تھا زاویار کے ساتھ _ اس کا ہم سفر زاویار مقرر ہوگیا تھا ۔

مناہل کے کپڑوں کو فرش سے اٹھائے وہ ایک ایک کو تہ لگانے لگا ان کپڑوں کو تہ لگا کر زاویار نے الماری کے ایک کونے میں رکھا تھا جبکہ دوسری جانب اپنے کپڑے رکھے وہ الماری کو بہت ہی زبردست انداز میں ترتیب لگاگیا ۔

تم رو رہی ہو کپڑے تبدیل کرتا وہ نیچے آیا تھا جہاں وشمہ ڈاینگ ٹیبل پہ بیٹھی بہتے آنسوؤں کے ساتھ نوالہ حلق میں اتار رہی تھی ۔

نہیں تماشہ لگا __ بات پوری ہونے سے پہلے ہی آنسوؤں کا ایک پھندا اس کے گلے میں اٹکا تھا اور لقمہ حلق میں پھنس چکا تھا ۔

چہرہ سرخ ہوگیا جبکہ وہ بری طرح سے اپنا گلہ پکڑے کھانسنے لگی تھی ۔

پانی پیو !! زاویار نے جلدی سے پانی گلاس میں ڈالتے اسے مناہل کے منھ پر لگایا تھا ۔

وہ غٹاغٹ سارا پانی اپنے اندر اتار گئی سانسیں تیز تیز چلنے لگی تھی ۔

اس کی حالت محسوس کرتے زاویار اسے سینے سے لگائے اس کی پیٹھ تھپتھپانے لگا ۔

ٹھیک ہو تم !!

ہممم!! زاویار سے دور ہوے محض ہاں میں سر ہلاتے وہ وہاں سے اٹھ کر بوجھل قدم لیے اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔

اسے کیا ہوا ؟ خود سے سوچتا وہ کرسی پہ بیٹھتے مناہل کی جھوٹی پلیٹ سے کھانا کھانے لگا ۔

ہمیشہ کی طرح مجھے اپنا دیوانہ بنارہی ہو _ رباشہ جو ابھی ابھی سفید فراک پہنے ہلکا سا میک اپ کیے تیار ہوی تھی ضماہیر اس کے نزدیک آئے اس کے کاندھے پہ اپنا سر ٹکا گیا ۔

ضماہیر میرا دل بہت گھبرا رہا ہے _ پتا نہیں عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے ۔

تم غلط مت سوچو کچھ نہیں ہوگا _ آؤ چلیں گھر رباشہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے باہر لایا تھا ۔

سورج کی سیدھی پڑتی شعائیں کنویں کے اندرونی منظر کو سجا کر پیش کررہی تھی ۔

رباشہ کی جانب کا دروازہ کھول کر اسے وہاں بٹھائے ضماہیر نے خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی ۔

سپیڈ تو تیز کر لیں ضماہیر _ ورنہ جتنی سپیڈ سے آپ چلا رہے ہیں اس سے تو بہتر تھا ہم اپنے پیروں پر چل کر گھر پہنچ جائیں _ اس سے جلدی تو پہنچیں گے ۔

تمہیں کوئی مسلئہ _ میں چاہتا ہوں ہمیں زیادہ سے زیادہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ ملے _ میں اور تم تیسرا کوئی نہیں ۔

گھر پہنچ جائیں پھر گزار لینا رباشہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔

ہممم گھر پہنچ کر تو تم مجھ پہچاننے سے ہی انکار کر دیتی ہو ۔

ہا ہا ہا ضماہیر میں آپ کو پہچاننے سے کیسے انکار کر سکتی ہوں

بس بس رہنے دو اچھے سے پتا ہے مجھے !!! اچانک ہی گاڑی نے اپنا بیلنس کھویا تھا کیونکہ کسی نے پیچھے کی جانب سے ٹائر پر گولی چلائی تھی ۔

گاڑی ان بیلنس ہوے سامنے کے درخت سے لگی تھی ۔

رباشہ کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا تھا اور وہ ایک ہی لمحے میں اپنے حواس کھو بیٹھی تھی ۔

ضماہیر نے جلدی سے دیش بورڈ سے گن اٹھائے پیچھے موجود گاڑی پد فائر کیا تھا مگر اس سے پہلے ہی چار گاڑیاں اس جگہ پر پہنچی تھی ۔

گاڑی کا دروازہ بند کرتا ضماہیر دونوں ہاتھوں میں گن پکڑے باہر آیا تھا اس کے باہر آتے ہی گاڑی سے ایک عورت رباشہ کو وہاں سے کھینچ کر اپنے ساتھ لے آئی ۔

چاچی !! وہ چیخا تھا ۔

چھوڑ دو میری حسینہ جانم کو اگر اسے کچھ ہوا تو میں تمہاری دنیا اجاڑ دوں گا برباد کردوں گا تمہیں ۔

ہا !!!!میں تو ڈر گئی سنا آپ نے ساتھ کھڑے اپنے شوہر کو جھنجھوڑے وہ دبی سے آواز میں غرائی تھی ۔

یہ کل کا آیا بچہ ڈرا رہا ہے مجھے _

جو کام تم نہیں کر سکے وہ میں کر رہی ہوں زاویار کو کال ملائے وہ فون کان سے لگا گئی ۔

کیا کر رہی ہیں آپ امی ؟ وہ ڈری آواز میں استفار کرنے لگا ۔

رباشہ کی موت !!

خبردار جو ہاتھ بھی لگایا میری بیوی کو ضماہیر کی گرجتی آواز سنتے زاویار نے کال کاٹی تھی اور گاڑی کی چابیاں اٹھائے گاڑی کو زن سے بھگا لے گیا ۔

اب تو یہ مرے گی !!!!

تم ہاتھ تو لگاؤ اسے اتنے ٹکڑے کروں گا کہ لاکھ کتے بھی کھالیں پھر بھی پورے نہیں ہوں گے ۔

لو لگا لیا !! رباشہ کو ہاتھ لگائے وہ ضماہیر کے غصے کو دعوت دے گئی ۔

ضماہیر نے اپنی گن سے شوٹ کیا تھا مگر اس سے پہلے ہی اس عورت کی گن سے نکلی گولی ضماہیر کا سینہ چیر گئی ۔

امی یہ کیا کیا آپ نے ؟

وہ تو خود ڈر گئی وہ کہاں ضماہیر پر گولی چلانا چاہتی تھی ان کا مقصد تو صرف ضماہیر کو ڈرا کر جائیداد کے کاغذات پر دستخط لینا تھا ۔

ضماہیر کا بے جان وجود سڑک پر پڑا تھا جبکہ رباشہ جو بیہوش تھی وہ سڑک کے دوسرے کنارے پہ گری تھی

زاویار نے جلدی سے ضماہیر کو گاڑی میں ڈالا تھا اور اسے اپنے ساتھ ہسپتال لے گیا ۔

موقع پر پولیس نے پہنچ کر ضماہیر کی چاچی اور چاچو کو حراست میں لے لیا تھا ۔

مگر شاید آج ان کی وجہ سے ایک شخص زندگی ہار بیٹھا تھا ۔

پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے وہ اپنی بیوی سے ملنا چاہتے ہیں ڈاکٹر نے باہر آتے ہی زاویار سے کہا تھا ۔اس وقت ہسپتال میں زاویار اور رباشہ ہی موجود تھے انہوں نے اس کے علاؤہ کسی کو خبر بھی نہیں کی تھی ۔

ضماہیر مشینوں میں جکڑے وجود کو دیکھ وہ نڈھال ہوتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔

مجھے اپ سے بات کرنی ہے ڈاکٹر زاویار کے پاس آیا تھا ۔

جی بولیے ڈاکٹر صاحب

گولی بلکل ان کے سینے کی جانب لگی تھی ہم نے آپریشن کیا اور ہم ماشاءاللہ کامیاب بھی ہوے مگر ہم پورے یقین سے نہیں کہ سکتے کہ ان کا زندہ رہنا __

چوبیس گھنٹے ہم انہیں انڈر ابزرویشن رکھیں گے پھر ہی کچھ نتیجہ نکلے گا ۔

ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ان کے دل کا کوئی والو ڈیمیج نہ ہوگیا ہو۔

ڈاکٹر کی ایک ایک بات زاویار پر بجلیاں گرا رہی تھی ۔

حسینہ جانم ! اس کے لبوں میں ہلکی سی گردش ہوی تھی ۔

مجھے معاف کر دینا حسینہ جانم ! میں نے بہت غلط کیا ہے تمہارے ساتھ ۔اگر میں مرجاؤ تو معاف کر دینا اپنے چور شوہر کو ۔

ضماہیر ایسی باتیں تو نہ کریں آپ کچھ نہیں ہوگا آپ کو ۔اپ کہیں نہیں جائیں گے ۔

مجھے جانا ہوگا نہ اگر میں نہیں گیا تو تاریخ میں کیسے لکھا جائے گا اک دیوانہ تھا _ اک دیوانہ تھا اپنی حسینہ جانم کا ۔

سامنے سکرین پر چلتی لکیریں بلکل سیدھی ہوی تھی ساتھ ہی رباشہ کو اپنی سانس نکلتی محسوس ہوی تھی ۔

ضماہیر کا وجود بے جان ہونے لگا تھا ۔

ڈاکٹر آنسوؤں کے پھندے میں اٹکے اس نے چیختے ڈاکٹر کو بلایا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *