Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 29)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 29)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
تم کیا دماغ سے پیدل ہو جنگلی گوریلے ؟
کیوں تمہارا دماغ کیا موٹر سائیکل پہ سوار ہے ؟وہ صبح صبح ہی اسے تنگ کرنے کا باقاعدہ ارادہ بنا چکا تھا ۔
زاویار بیڈ پہ جبکہ_ مناہل منھ پھولائے صوفے پہ بیٹھی تھی کیونکہ زاویار نے صبح اٹھتے ہی اسے چوہیا کا خطاب دیا تھا ۔
تمہارا دماغ کام نہیں کرتا کیا ؟
کیوں تمہارا دماغ کیا گھر میں جھاڑو پوچا کرتا ہے ؟
زاویار بیڈ پہ اٹھ بیٹھا تھا ۔
ویسے لگتا ہے اللہ نے تمہاری عقل میں بھوسا بھرا ہے
مناہل اس کی باتوں سے مکمل زچ ہوچکی تھی ۔
تبھی تم جیسے جانور صبح صبح بھوسا چرنے آجاتے ہیں ۔
زاویار اس کی اچھی خاصی کرچکا تھا _ مناہل نے غصے میں صوفے سے کشن اٹھا کر زاویار کو مارا تھا جو سیدھا اس کے ہونٹ پہ لگا تھا ۔
ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا _ ہونٹ پہ نمی محسوس کرتے زاویار نے اپنے ہونٹ کو چھوا تھا جہاں سے خون کی چند بوندیں اس کی انگلی سے ٹکرائی تھی ۔
ادھر آؤ ؟ زاویار کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ ہوے تھے جبکہ وہ غصے میں اسے اپنے پاس بلاتے خود ہی اس کی جانب بڑھا تھا ۔
نہیں آتی کیا کر لو گے ؟اپنی ٹانگیں صوفے پہ کیے وہ جلدی سے صوفے پہ کھڑی ہوی تھی ۔
نیچے اترو !!
نہیں اتر رہی !! کارٹونوں والی شکل بنائے وہ زاویار کو چڑانے لگی تھی ۔
تم نہیں آتی میں آرہا ہوں _ مناہل کی کمر کے گرد بازو ڈالے وہ اسی کی ساتھ صوفے پہ کھڑا ہوا تھا ۔
ہٹو جنگلی گوریلے!!!!!
تمہیں ابھی تک میں نے اپنا جنگلی پن نہیں دکھایا اسی لیے تم میرے سر پر چڑھ رہی ہو ۔
تمہارے سر پر !!!!!!!! ہیں ___ کہاں ؟؟ مناہل نے ہاتھ بڑھا کر اس کے سر کو ادھر ادھر جھٹکا تھا _ مجھے تو نظر نہیں آرہا کہاں ہوں میں ۔
زاویار کے بال جو اس کے ہاتھ میں قید تھے _ زاویار کی پکڑ کو کمزور دیکھ اس نے انہیں زور سے کھینچا تھا ۔
بال کھینچتے وہ بھاگنے کی مکمل تیاری کر چکی تھی ۔
مناہل نے جونہی بال کھینچے زاویار نے اس کی کمر کو سختی سے دبوچا تھا ۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ؟؟
کیا ؟؟ شکل ابھی بھی معصوم بنی ہوی تھی جبکہ آنکھوں میں شرارت کے شرارے تھے ۔
تمہیں تمیز نہیں ہے کیا ؟ میرے بال پھاڑنے کی ہمت کیسے ہوی تمہاری ؟ بہت بدتمیز ہو تم !!!!!!وہ غصے میں غرایا تھا۔
شکر ہے تمہیں معلوم ہوا میں بدتمیز ہوں _ بدتمیز لوگوں سے رشتے نہیں بناتے _ چلو جلدی سے آزاد کرو مجھے _ زاویار کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھے اس نے طلاق کی بات اس انداز میں کی تھی گویا زاویار اس معاملے میں اس کا قرض دار تھا اور وہ اس سے اپنا قرض مانگ رہی ہو ۔
ہممم !!!! انٹرسٹنگ!!!!
واٹ انٹرسٹنگ ؟؟؟ اس کی اتنی ضروری بات پر زاویار کا خالی
انٹرسٹنگ کہنا اسے طیش دلاگیا ۔
تو میری چوہیا کو طلاق چاہیے مجھ سے !
مناہل کے چہرے کو تھوڑی کی جانب سے اونچا کیے اس کے لبوں پر اپنی ناک رکھے زاویار نے سانس اندر کھینچا تھا ۔
زاویار کی اس بے باکی پر وہ اپنا بیلنس برقرار نہ رکھتے ہوے صوفے پہ گرنے کو تھی _ گرنے سے پہلے ہی زاویار مزید مضبوطی سے اسے خود سے لگا گیا ۔
دور ہٹو جنگلی گوریلے!! زاویار کی پکڑ میں بے بس سی مناہل غرائی تھی ۔
کیا کرو گی مجھ سے طلاق لے کر زاویار نے اپنی انگلیاں مناہل کی کمر میں دھنسائی تھی ۔
ضماہیر سے شادی !! شیطانی مسکراہٹ لیے مناہل نے اس کے تن بدن میں آگ لگائی تھی ۔
ایک مرد کبھی اپنی پسندیدہ عورت کسی دوسرے مرد کے لیے نہیں چھوڑتا تم میری پسندیدہ تو نہیں مگر بیوی تو ہو اس لیے یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دو ۔
ہا ہا ہا ہا مسٹر زاویار تم نکال دو یہ سوچ اپنے دماغ سے کہ تم مجھے اپنے ساتھ باندھ کر رکھ سکتے ہو ۔میں کبھی تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی ۔
کیسے نہیں رہو گی میں دیکھتا ہوں !!!! زاویار کے ماتھے پہ پڑتے بل مناہل کو محفوظ کرنے لگے ۔
زاویار!!! کمرے کے باہر سے زاویار کی ماں کی آواز آئی تھی ان دونوں کے درمیان چلتی لڑائی بھی اسی بات پر رکی تھی ۔
جی امی !!!
باہر آؤ
جی آیا امی!!!!
ہاں ہاں جاؤ وہ کہتے ہیں نہ ممی ڈیڈی بچے _ بلکل وہی ہو تم _ جاؤ بیٹا تمہاری ممی بلا رہی ہیں مناہل نے زاویار کو زبان دکھائی تھی ۔
بتاؤ تمہیں میں _ میں کتنا ممی ڈیڈی بچہ ہوں !!!!
اووہ _ بچے ممی فیڈر تو اچھے سے بنا کر دیتی ہیں نہ وہ خود ہی اپنی بات پر زور سے قہقہے لگانے لگی _
آج رات تمہیں بتاتا ہوں میں _ ممی ڈیڈی بچے کیا کیا کر سکتے ہیں دروازے کو زور سے بند کرتا وہ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
کمرے میں گرجدار دھڑام کی آواز گونجی تھی ۔
ہا ہا جنگلی گوریلا ! جنگلی گوریلا بڑبڑائے اس کے لبوں پہ ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی تھی ۔
قاتل حسینہ تم نے مجھے مکمل اس دنیا سے بیگانہ کردیا ہے اب یہ دانیال صرف تمہارا ہوچکا ہے یہ دیوانہ ہے تمہارا _ وشمہ کے ماتھے پر پھیلے بالوں کو ہٹائے دانیال نے وہاں اپنے ٹھنڈے لب رکھے تھے ۔
مجھ سے دور نہ جانا تم کبھی نہیں !!! ماتھے کو سر کرتے اس کے لب اب وشمہ کی گردن پہ پہنچے تھے ۔
اپنی گردن پہ رینگتے لبوں کی سرسراہٹ محسوس کر کے وہ جی جان سے کانپی تھی ۔
اس کا کانپنا دانیال اچھے سے محسوس کرگیا تھا _ وہ جان گیا تھا کہ وہ جاگ گئی ہے _ مگر وشمہ ابھی ابھی آنکھیں بند کیے تھی ۔
کیوں گئیں تھی تم مجھ سے دور ؟ جانتی ہو کتنا تکلیف دہ وقت گزرا ہے میرا_ بلکہ گزرا کہاں ؟ تکلیف دہ پل تو تھم جاتے ہیں وہ پل رک جاتے ہیں صرف آپ کو اذیت دینے کی خاطر _ وہ خوشی کے لمحات کی طرح جلدی نہیں گزرتے ۔
آپ کا صبر آزماتے ہیں وہ اور میں واقف ہوں اس میٹھے پل سے
مکمل طور پر سیدھا ہوے دانیال نے وشمہ کا سر اپنے بازو پہ رکھا تھا میں بہت ڈر گیا تھا _ مجھے لگا میں نے تمہیں کھودیا _ مجھے لگا میری دنیا اجڑ گئی _ کیونکہ میری دنیا ہی تم ہو _ جذبات سے بھرپور لہجہ دانیال کی بڑھتی شدتیں وشمہ کو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی ۔
یہ اب کپکپاہٹ کیسی ؟ اب تو تم میں اور مجھ میں کوئی پردہ نہیں رہا قاتل حسینہ وشمہ کے کان میں سرگوشی کیے اس نے وشمہ کے کان کی لو کو ہلکا سا دانتوں میں دبائے کھینچ کر چھوڑا تھا ۔
وہ جی جان سے کانپ اٹھی تھی اس کی اتنی سے قربت پر ۔
لٹل پرنسز تم نے مس کیا تھا بابا کو ؟ وشمہ کے پیٹ پہ اپنا کان لگائے وہ شاید اپنے اس ننھے مہمان سے سوال کر رہا تھا ۔
پرنسز!!! یہ پرنس بھی تو ہو سکتا ہے
ہاں ہوسکتا ہے مگر وہ اس کے بعد آئے گا پہلے میری پرنسز آئے گی _ ہم دونوں کی پرنسز _
پرنسز!!! آپ نے مس کیا تھا بابا کو وہ ایک دفعہ پھر وشمہ کے پیٹ پر اپنا کان لگانے لگا جیسے کچھ سننے کی جستجو رکھتا ہو ۔
دانیال کیا کر رہے ہیں آپ ؟ یہ بچوں والی حرکتیں ہیں دانیال وشمہ کے پیٹ سے کان لگائے سوال کیے جارہا تھا جیسے اس ان کا جواب ملے گا ۔
مگر جو بچہ اس دنیا میں آیا ہی نہ ہو وہ کیسے اس کے سوالوں کا جواب دے سکتا ہے ۔
تم چپ کرجاو!!! یہ بابا اور بیٹی کے درمیان کی بات ہے وشمہ کو ڈپٹ کر چپ کروائے دانیال نے وشمہ کے پیٹ پر سر رکھا تھا _
ٹھیک ہے آپ کریں بات اپنے بچے سے میں بھائی کو بولیں گی مجھے لے جائیں ۔
سوچنا بھی مت ایسا _ اب تم کبھی مجھ سے الگ نہیں ہوں گی _ چند پل کیا ایک پل کے لیے بھی نہیں!!
تمہارا دن رات اب صرف دانیال کے ساتھ ہے _اسے کے ساتھ سونا اسی کے ساتھ جاگنا
وشمہ کی بات اسے غصہ دلا گئی تھی کتنے انتظار کے بعد تو وہ اپنی قاتل حسینہ سے ملا تھا اور وہ _ وہ اس سے دور جانا چاہتی تھی ۔
جی امی !!!
کام کب تک کرو گے تم ؟
بس کچھ دن اور چاہیے امی ؟
دن !_ کتنے دن میں مزید اپنی جائیداد سے دور نہیں رہ سکتی ۔
امی بس کچھ دن اور !!! میں جاؤں گا حویلی
جاؤں گا جاؤں گا کب جاؤ گے !! تم سے کہا تھا اس حویلی میں رہنا تم تو اس لڑکی کو بھی یہاں اٹھالائے _ میں نے کیا غریب کھانا کھول رکھا ہے جو اسے پالوں گی _
امی وہ بیوی ہے میری اب شادی ہو چکی ہے میری !!
بیوی _ کوئی بیوی نہیں ہے مطلب نکالو اپنا اور آزاد کرو اسے _
آزاد زاویار کے دل کو کچھ عجیب ہوا تھا صرف یہ سوچ کر ہی کہ وہ اس پاگل لڑکی کو خود سے آزاد کیسے کرے گا ۔
کیونکہ اسے صرف اپنے مطلب سے غرض تھی اسے تو وہ جائیداد چاہیے تھی جو اس کی ماں کے نام تھی اس سے زیادہ کی توقع تو اسے کچھ نہیں تھی ۔
میں اور مناہل آج ہی حویلی جائیں گے !!!!
دونوں جانا اور میری جائیداد کے کاغذات مجھے لا دینا ۔یہ اچھے سے دماغ میں بٹھالو کہ وہ لڑکی ہمارے لیے صرف ایک مہرہ ہے تاکہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں _ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔
کالی قمیض شلوار پہنے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے گلے میں لٹکی چین جو اس کو جازب نظر بنا رہی تھی _ چھ فٹ کا لمبا نکلتا قد لیے وہ صبح صبح ہی تیار ہو کر اپنی حسینہ جانم کا انتظار کر رہا تھا ۔
وہ فارم ہاؤس کے دروازے کی سائیڈ پہ موجود ایک صوفے پہ بیٹھا تھا جہاں سے وہ باہر آنے والوں کو بخوبی دیکھ سکتا تھا ۔
اس کا انتظار بڑھ رہا تھا صبح کے دس بجنے لگے تھے جبکہ وہ آٹھ بجے سے ہی تیار انتظار کےمیٹھےدرد سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔
دس بج کر تیس منٹ پر _ ایک کالی مرسیڈیز ٹھیک اس فارم ہاؤس کے سامنے رکی تھی ۔
اس مرسیڈیز کا دروازہ کھولتے ہی ضماہیر کی آنکھوں کو قرار ملا تھا _ مگر دانیال اس سے باہر آیا تھا ۔
رباشہ کہاں ہے ؟ دانیال کے باہر آتے ہی ضماہیر اس کی جانب لپکا تھا ۔
گاڑی میں !
گاڑی میں ضماہیر نے ناسمجھی سے دانیال کو دیکھا تھا ۔
بیہوشی میں ہے وہ تم نے جو دوائی دی تھی وہ پلا دی تھی میں نے اس کو _
رباشہ کی موجودگی کا سنتے ہی ضماہیر پلک جھپکتے ہی رباشہ کی طرف بھاگا تھا _
سرخ فراک میں سیٹ سے سر لگائے وہ مکمل سدھ بدھ پڑی تھی _رباشہ کو دیکھ اسے قرار ملا تھا ۔
رباشہ کی کمر کے نیچے سے ہاتھ گزار کر ضماہیر نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا ۔
حسینہ جانم ! دانیال کو مکمل اگنور کیے وہ رباشہ کو فارم ہاؤس پر لایا تھا ۔
میں نے اپنا وعدہ پورا کیا دوبارہ کبھی یہ حرکت نہ کرنا جو اس دفعہ کی ہے _ اس دفعہ تمہاری بیوی بیہوش ہے اگلی دفعہ بیہوشی کی اگلی کیٹگری میں بھی ہوسکتی ہے ۔
ضماہیر کو جاتے دیکھ دانیال نے پیچھے سے آواز لگائی تھی ۔
اسے کہاں فرق پڑتا تھا اب دانیال کی باتوں سے _ اس کے پاس اس کی بیوی تھی _ اس کی حسینہ جانم _ اس کا کل جہان اس کی بانہوں میں تھا _خوشیاں اس کی جھولی میں تھی آج
حسینہ جانم !! رباشہ کے بالوں سے اٹھنے والی دھیمی دھیمی خوشبو اس کے حواس پہ چھانے لگی تھی ۔
کتنا انتظار کروایا تم نے مجھے رباشہ کو بیڈ پہ لٹائے وہ مکمل طور پر اس کے گرد اپنا حصار قائم کرگیا ۔
چند پل رباشہ اس کے حصار میں قید رہی تھی جبکہ مرسیڈیز کی آواز _ جو اشارہ تھی کہ دانیال جاچکا ہے اس آواز پر وہ باہر آیا تھا ۔
فارم ہاؤس سے باہر گاڑی نکالے وہ واپس اندر کمرے میں آیا تھا جہاں وہ اپنی حسینہ جانم کو بیڈ پہ چھوڑ کر آیا تھا ۔
رباشہ کو سیٹ پر بٹھائے گاڑی کو فل سپیڈ میں چلانے لگا چند منٹ کے سفر قریباً آدھے گھنٹے کے بعد وہ ایک جنگل میں پہنچے تھے ۔
گہرا سیاہ جنگل جو اس قدر اونچے درختوں سے ڈھکا تھا کہ دن کے چمکتے اجالے میں بھی اس جنگل میں تاریکی کا بسیرا تھا ۔
رباشہ کو اپنی گود میں لیے گاڑی لاک کرتے وہ ایک کنوئیں کے سرے پر آیا تھا جس کے اندر نیچے کی جانب کچھ سیڑھیاں موجود تھی ۔
دیہان سے ایک ایک سیڑھی سے نیچے اترتے وہ کنویں کے وسط میں پہنچا تھا ۔
آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہی اس نے دیوار پر چھپے ایک بٹن کو دبایا تھا ۔
بٹن دباتے ہی کچھ سرسراہٹ ہوی جبکہ دیوار کی ایک جانب ایک دروازہ امنڈ آیا تھا ۔
اپنے قدم اٹھائے رباشہ کو اپنی بانہوں کے حصار میں قید کیے وہ اس دروازے میں داخل ہوا تھا ۔
دروازے میں داخل ہوتے ہی منظر یک دم تبدیل ہو اتھا وہ تاریکی جو ابھی کنویں کے باہر پھیلی تھی اب تیزی سے روشنی میں بدل چکی تھی ۔
یہ منظر کسی کہانیوں کے محل سے کم نہ تھا ۔دیواروں پہ لگے خوبصورت سرخ پردے _ ایک گول بیڈ جس کے چاروں جانب سرخ رنگ کے جالی کے پردے لٹکے رہے تھے ۔
تیز چمکتی روشنی _ ہلکی ہلکی ٹھنڈک _ اس کے حواس پہ حاوی ہورہی تھی ۔
بیڈ سے جالی ہٹائے وہ رباشہ کو وہاں لیٹا گیا جبکہ خود بھی اس پہ جھکا تھا ۔
حسینہ جانم ! اب میرا صبر جواب دے گیا ہے اب یہ دوریاں میں مزید برداشت نہیں کرسکتا رباشہ کی کمر پہ موجود ڈوری کو ایک ہی جھٹکے میں کھینچ کر وہ اسے توڑ گیا ۔
رباشہ جو بیہوش ہونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی کمر سے شرٹ سرکتے دیکھ فورا ہی آنکھیں کھولے اسے گھورنے لگی ۔
ضماہیر!! دانت پیسے مگر دھیمی آواز میں اس نے ضماہیر کو پکارا تھا ۔
آرام سے حسینہ جانم ! چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔
آپ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ؟
میں اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنا نہیں چاہتا تھا اس لیے تمہیں بیہوش کیا تھا تاکہ صبح ہونے سے پہلے ہی تمہیں گھر چھوڑ سکوں !!! مگر شاید تم ہوش میں ہی مجھے محسوس کرنا چاہتی تھی ۔
ویسے تمہارا یہ وجود مجھے اکسا رہا ہے گستاخیوں کے لیے _
مجھ سے دور ہٹیں رباشہ نے فورا ہی اپنے ہاتھوں کی مدد سے خود کو چھپایا تھا ۔
اس سب کا کوئی فائیدہ نہیں آج کی رات تم صرف میری ہو _ آج تم آزاد نہیں حسینہ جانم !!! رباشہ کے لبوں پہ پوری شدت سے جھکے وہ اپنے انتظار کے ایک ایک پل کا حساب اس سے لینے لگا ۔
بس یہ آخری چوری اس کے بعد ساری چوریوں سے توبہ !!
چوری کیسے چوری ؟
تمہیں تم سے چرا لوں ایک آنکھ ونگ کیے وہ رباشہ کی گردن پہ اپنے گرم لب رکھے اس کی سانسیں بکھیرنے لگا ۔
