Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 03)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 03)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
دادا سائیں پاکستان کب جانا ہے ؟ دانیال کب سے دادا سائیں کے ارد گرد چکر لگا رہا تھا ۔مگر وہ اس کے سوال پر خاموش تھے ۔دادو سائیں میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ۔۔۔دانیال ابھی نہیں کچھ دن تک جائیں گے ابھی گاؤں کے حالات ٹھیک نہیں ہیں۔
پر کیوں دادا سائیں ؟ مجھے پاکستان جانا ہے !!! وہ بے چین ہوا تھا رباشہ سے ملنے کے لیے ابھی تو اسے گئے ہوے صرف ایک دن ہوا تھا اور وہ رباشہ کی یاد میں بے قرار تھا ۔۔یہی تو محبت تھی جو آج اس کے دل میں شدت سے پروان چڑھی تھی آج اسے احساس ہوا تھا کہ وہ ہلکے نقوش رکھنے والی لڑکی اس کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے۔۔۔وہ بے چین ہوا تھا اس کی جھلک پانے کی خاطر ۔۔۔۔مگر اسے اپنی بات کا پاس رکھنا تھا اس لیے وہ خود پر ضبط کر رہا تھا ۔۔۔رباشہ کس موڑ پر لے آئی ہو مجھے تم۔۔۔۔تم مجھے دیوانہ بنا چکی ہو اپنا۔۔۔۔دیکھو یہ ستائیس سالہ نوجوان تمہیں بچوں کی طرح یاد کر رہا ہے ۔۔۔دیکھو کیا حالت کردی تم نے میری؟ تمہیں ترس نہیں آرہا مجھ پر ؟ وہ رباشہ کی تصویر کو ہاتھ میں پکڑے بار بار اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھو رہا تھا مانو چھونے سے وہ حقیقت میں اس کے روبرو ہو جائے گی ۔
رباشہ اٹھ جاؤ بیٹا سکینہ رباشہ کے کمرے میں داخل ہوی اور اسے نماز کے لیے اٹھانے لگی ۔۔۔جی امی وہ اپنی ماں کی ایک ہی آواز پر لبیک کہتی اٹھ بیٹھی ۔۔۔وضو کر کے وہ جائے نماز پر بیٹھی نماز پڑھ کر اپنے نصیب کی دعا کر رہی تھی وہ اپنے لیے ایک نا محرم کو مانگ رہی تھی اسے یقین تھا کہ دعائیں کبھی رد نہیں ہوتی مگر اکثر اوقات قسمت لکھنے والے نے ہمارے نصیب میں کچھ مزید بہتر لکھا ہوتا ہے ۔۔۔شاید رباشہ کا نصیب بھی کچھ اور تھا شاید اس کی دعائیں قبولیت کے لیے نہیں صلہ دینے کے لیے بنائ گئی تھی ۔۔۔یہ تو اس کی قسمت تھی جس نے اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے تھا ۔۔۔اس کے ناجانے کتنے ہی آنسو جائے نماز پر سجدے کی حالت میں جذب ہوے تھے وہ سسک سسک کر اپنے لیے دعائیں مانگ رہی تھی ۔۔۔اور دوسری طرف دانیال خود پر پہرے بٹھائے اپنے جذبات کو ابھرنے سے روک رہا تھا وہ بے بس ہوگیا تھا اس لڑکی یاد میں۔۔۔
اسلام وعلیکم! اس کا ضبط ختم ہوا تھا وہ رباشہ کو کال کرچکا تھا پہلی رنگ پر ہی کال اٹھا لی گئی تھی
وعلیکم السلام! دوسری جانب سے رباشہ نے جواب دیا تھا
سوری مجھے لگتا ہے غلطی سے کال ہوگئی وہ اپنی جلد بازی پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا ۔۔۔مگر اس نے خود کو کال کاٹنے سے بعض رکھا کیونکہ وہ تو اس دشمن جان کی سحر انگیز آواز سننا چاہتا تھا ۔وہ اس کی آواز کے نشے میں ڈوبنا چاہتا تھا
دان ۔۔ی ۔۔ا۔۔ل الفاظ توڑ پھوڑ کر ادا کیے گئے جبکہ آواز بھری ہوی معلوم ہوی تھی
تم روئی ہو ؟ وہ اس کے منہ سے اپنا نام سن کر ہی پہچان گیا تھا کہ وہ دشمن جان روئی ہے
نہیں میں نے کیوں رونا تھا رباشہ کی آواز لرز بھی رہی تھی مگر وہ رونے سے انکار کر رہی تھی۔
تو پھر کیا ہوا گلہ خراب ہے تمہارا ؟جیسے اسے جھوٹ بولنے کا بہانہ خود ہی دینا چاہتا ہو
جی گلہ خراب ہے میرا وہ بامشکل ہی یہ لفظ ادا کر پائی تھی
مجھے کیا پاگل سمجھ رکھا ہے پانچ سال سے ہم ساتھ ہیں اور میں تمہارا جھوٹ نہیں پکڑ سکتا ۔۔۔۔بہت اچھی محبت نبھا رہی ہو آخر تم بھی دوسروں کی طرح بے وفا نکلی پاکستان جاتے ہی تمام عہد سے دستبردار ہو گئی تم وہ گرجا تھا ۔۔۔۔۔
میں نے کوئی بے وفائی نہیں کی ؟ اس کے رونے میں شدت آئی تھی
بے وفائی نہیں کی ؟ تو مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا ؟
کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھ سے اگلے ہفتے بات کریں گے۔
اچھا میں نے کہا تھا ۔۔۔۔۔کل جو میں کہوں گا مجھے چھوڑ دو تو تم چھوڑ دو گی اس نے سوال کیا تھا
نہیں کبھی نہیں
تو پھر کال کیوں نہیں کی ؟
آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ رابطہ نہ کرنا اور اب خود کہ رہے ہیں کہ رابطہ کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔انسان ہوں میں کھلونا نہیں ۔۔۔۔۔یہ پہلی دفعہ تھا جب رباشہ نے دانیال کے لیے سخت لہجہ اختیار کیا تھا ۔وہ یک دم خاموش ہوا تھا اسے احساس ہوا تھا اپنی غلطی کا مگر وہ اپنی انا کے پیش نظر اس سے معافی تک نہ مانگ سکا
شاید حقیقت میں ہی کال غلطی سے مل گئی تھی وہ آخری بار واضح کرتا کال کاٹ گیا جبکہ رباشہ وہیں نیچے دیوار سے ٹیک لگ کر بیٹھ گئی اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا اس کے لیے اپنی زندگی کے مطابق انداذہ ہی غلط تھا۔وہ تو خاموشی سے جی رہی تھی مگر آج اسے معلوم ہوا تھا جینے اور زندہ رہنے میں فرق ہے۔۔۔۔۔اس کی زندگی میں کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔وہ کس منزل کی جانب رواں ہے یہ سب اس کی سوچ سے بالاتر تھا۔
دانیال اس کی محبت ۔۔وہ۔کیسے ملے گی ۔۔اسے بات کرنی تھی اپنے والدین سے دانیال اور اپنے بارے میں اور یہی بات اس کے لیے سوحان روح تھی۔۔۔وہ زمین سے اٹھی اپنا چہرہ صاف کرتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔
ہیر بیٹا ۔۔۔میرا چاند اٹھ جا۔ فاطمہ بیگم کب سے ہیر کو جگانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ایک وہ تھا جو شاید گدھے گھوڑے سب بیج کر سویا تھا
ہیر۔۔ہیر ۔۔۔۔فاطمہ بیگم نے ہاتھ آگے بڑھا کر ضماہیر کو سر کی جانب سے چھوا تھا اور وہ پل بھر میں ہاتھ پیچھے ہٹا گئی کیونکہ چہرہ تپتی ریت کی مانند گرم تھا۔۔
اس کو تو بخار ہے ۔۔
ہیر ۔۔ہیر انہوں نے دوبارہ اسے جگانے کی کوشش کی مگر وہ بے سود تھی جلدی سے پانی کو گلاس میں انڈیلتی وہ ہیر کے چہرے پر اس کے چھینٹے مارنے لگی ۔
مگر ہیر اب بھی ہوش وحواس سے بیگانہ تھا ۔۔۔۔وہ۔کمرے سے باہر نکلی اور حویلی ماں کے کمرے کی جانب بھاگی ۔۔۔
حویلی ماں ۔۔۔۔۔حویلی ماں۔۔۔۔کیا ہوا؟ حویلی ماں جو نماز ادا کرنے کے بعد تسبیح کر رہی تھی فاطمہ کی آواز سنتے ہی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوی ۔۔۔حویلی ماں ہیر کو بہت بخار ہے وہ آنکھیں بھی نہیں کھول رہا
کیا ۔۔۔ان کے چہرے پر پریشانی صاف نمایاں تھی وہ جلدی سے کمرے سے باہر ہیر کے کمرے کی جانب آئی ویسے تو وہ کبھی اس کمرے میں نہیں آئی تھی کیونکہ ضماہیر کو ان کا اس کے کمرے میں آنا پسند نہیں تھا مگر آج شاید یہ پہلی بار تھا وہ ضماہیر کے کمرے کی حدود پار کرتی کمرے میں داخل ہوی
فاطمہ یہ لو ڈاکٹر کو کال کرو انہوں نے اپنے موبایل میں ایک نمبر نکال کر فاطمہ کو دیا۔۔۔ہیر کی حالت دیکھ کر ان میں اتنی سکت ہی نہ رہی تھی کہ وہ کسی سے بات تو کیا اپنے پیروں پر بھی کھڑی ہو سکیں۔۔وہ سایڈ میز کا سہارا لیتی وہیں ضماہیر کے ساتھ جگہ بنا کر بیٹھ گئیں
گھبرانے کی کوئی بات نہیں بس بخار تھوڑا تیز ہے وہ بھی شاید اس لیے کیونکہ موسم تبدیل ہورہا ہے ۔۔باقی میں نے دوا دی ہے انشاللہ اللہ شفا دے گا ۔۔۔۔کچھ دیر تک انہیں ہوش اجائے گا
شکریہ ڈاکٹر صاحب ۔۔۔فاطمہ بیگم ڈاکٹر کو گھر سے باہر چھوڑنے دروازے تک آئی جبکہ حویلی ماں وہی اپنے ہوتے کا ہاتھ پکڑے بیٹھی رہی
کیا چاہتے ہو ؟ یہ بوڑھی ہڈیاں پہلے ہی اتنی گل چکی ہیں اور اوپر سے تم اتنی ٹینشن دیتے ہو وہ ہلکے ہلکے ہاتھوں سے اس کا سر دبانے لگی ۔۔
خال ل ہ ۔۔۔۔۔وہ ہلکا ہلکا ہوش میں آنے لگا تھا اور ہوش میں آتے ہی اس نے اپنی خالہ کا نام لیا تھا
کیا ہوا ہیر میں ہوں یہاں۔اپ ؟ آپ کیا کر رہی ہیں میرے کمرے میں وہ بخار کی حالت میں بھی اپنے غصے کو ضبط نہ کر سکا
تمہیں بخار ہے
جانتا ہوں میں
مجھے فکر تھی تمہاری
میں نے نہیں کہا آپ میری فکر کریں ۔۔۔۔اس کا لہجہ سخت ہوا تھا
اب جائیں یہاں سے اور براہ مہربانی اگر میرے کمرے میں میرا جنازہ بھی ہو تب بھی اس کمرے میں قدم نہ رکھیے گا یہ درخواست ہے میری ۔۔۔۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہو ؟ پاگل ہو گئے ہو کیا انہوں نے فوراً اس کے منہ کو ہاتھ رکھ کر بند کیا تھا ۔۔۔ایسی باتیں نہیں کرتے میرے بچے وہ لہجہ نرم کرتی ضماہیر کو پیار سے سمجھانے لگی
میں اپنے بڑوں کی عزت کرنا جانتا ہوں اس لیے تمیز کے لہجے میں التجا کر رہا ہوں کہ یہاں سے باہر چلی جائیں
۔۔۔اگر آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کب سے ہاتھ پکڑ کر باہر نکال چکا ہوتا۔۔۔۔اس نے وارننگ دینے والا لہجہ اختیار کیا تھا
اب جائیں یہاں سے اور خالہ کو بھیج دیں
حویلی ماں اس کی مزاحمت کے باوجود اس کا ماتھا چومتی بوجھل چہرے کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔
فاطمہ ہیر کو ہوش آگیا ہے وہ بلا رہا ہے۔۔۔۔فاطمہ بیگم کچن میں کھڑی ضماہیر کے لیے کچھڑی بنا رہی تھی حویلی ماں کی آواز سن کر فوراً سے پلٹی اور ضماہیر کے کمرے کی طرف چلی گئیں
کیوں میرے بچے کیوں؟ کوئی کسی سے اتنی نفرت کیسے کرسکتا ہے؟ چند سالوں پہلے کی گئی میری غلطی اتنی بڑی تھی کیا کہ تمہیں مجھ سے نفرت ہوگئی؟ کفارہ تو گناہوں کا بھی ہوتا ہے تو میری غلطی کی معافی کیوں نہیں ۔۔۔اس وقت حویلی ماں کے زہن میں ضماہیر کا سخت لہجہ گھوم رہا تھا ۔۔۔۔وہ بچوں کی طرح سسک سسک کر رو وہی تھی ۔۔۔۔مگر شاید ضماہیر اور ان کے درمیان یہ نفرت کی دیوار بہت سخت وبلند تھی۔۔
اسلام وعلیکم
وعلیکم السلام
جی بھائی کیسے یاد کیا ؟
شعیب اس وقت کہاں ہو تم ؟
گاؤں میں ہی ہوں بھائی کوئی کام تھا
ہاں ! تم جانتے ہو مجھے کل گاؤں جانا تھا مگر مجھے بخار ہوگیا ہے اس لیے میں نہیں جا سکتا تم کل میری جگہ گاؤں جانا
بھائی میں کیسے ؟
جتنا کہا ہے اتنا کرنا
بھائی اس دفعہ جانے دیں چھوڑ دیں گاؤں والوں کو ویسے بھی آپ بیمار ہیں
تمھاری بکواس سننے کے لیے کال نہیں کی ۔۔۔جانے دوں کیسے جانے دوں مجھ پر رحم کھایا تھا ان گاؤں والوں نے ۔۔۔اب زیادہ بکواس نہ کرنا جتنا کہا ہے اتنا کرنا۔۔۔۔شام کو اصطبل سے میرا گھوڑا لے جانا
جی بھائی
ضماہیر کال بند کرتا ایک دفعہ پھر سے ماضی میں گم ہوچکا تھا۔۔۔۔۔اس کا ماضی بہت سیاہ تھا۔۔۔۔شاید اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ اس ماضی کو بھولنا چاہتا مگر ایک یہ تھا جو قریباً روز ہی ماضی کے پنے پلٹتا تھا تاکہ اس کی نفرت کی آگ مزید ہوا کھائے۔۔
