Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 24)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 24)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
خود کو دانیال کی قید میں پائے وشمہ کی آنکھ کھلی تھی ایک نظر دانیال پر ڈالے _ خود کا معائنہ کیے وہ شرمندہ سی ہوی تھی _ مگر اس سے زیادہ اسے دانیال پر غصہ آرہا تھا جو اس کے انکار کے باوجود اس سے رشتہ قائم کرگیا تھا ۔
اپنے اوپر موجود دانیال کی شرٹ کے بٹنوں کو بند کیے وہ بھاگنے والے انداز میں چلتی واشروم میں خود کو بند کر گئی ۔
ناجانے کتنی دیر وہ شاور کے نیچے کھڑی خود پہ موجود اس زبردستی کے رشتے کے نشان مٹاتی رہی ۔
گلابی سے سوٹ میں خود کو تیار کیے وہ واشروم سے باہر نکلی تھی ۔
نظریں گھوم کر گھر کی دیواروں پر گئی تھی جو شاید لکڑی سے بنی تھی _ لکڑی سے بنا یہ ایک خوبصورت سا ووڈ کوٹیج تھا ۔اج سے پہلے اس نے اس قسم کا کوئی شاندار گھر نہیں دیکھا تھا ۔مگر اسے خوشی کہاں ملی تھی اسے دیکھ کر _ اس کے لیے تو یہ صرف ایک قید تھی دانیال کی قید جس سے وہ آزادی چاہتی تھی ۔
اب ایسے دیکھو گی تو مجھے پھر سے پیار اجائے گا تم پر ! وشمہ کو خود کو گھورتا دیکھ وہ رومنٹک سے موڈ میں اٹھتا دھیرے دھیرے اس کی جانب بڑھنے لگا ۔
تم مجھ سے دور رہا کرو مگر دانیال کو اپنے نزدیک آتا دیکھ وہ اس سے دور پیچھے کی جانب قدم اٹھانے لگی ۔
تم !! تمہیں سمجھ نہیں آتی انگلی اٹھائے وہ اسے وارن کرنے لگی ۔
دانیال پھر بھی ڈھیٹوں کی طرح محبت برساتی نظروں سے گھورے اسی کی جانب چلنے لگا ۔
تم !! اس سے پہلے وہ کچھ کہتی دانیال وشمہ کو کمر سے کھینچ کر اپنے سینے پہ گرائے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لے گیا ۔
کچھ دیر تک اس کے لبوں سے پیاس مٹائے اس کے بالوں میں چہرہ دیے اس کی خوشبو کو خود میں اتارنے لگا ۔
قاتل حسینہ یہ سزا ہے تمہاری جب جب تم مجھے تم کہو گی میری طرف سے ایسی میٹھی سزا پاؤ گی ۔
وشمہ کہ کان کی لو کو پیچھے کی جانب سے چھوے اس کے لب اس کی شہ رگ کے گرد طواف کرنے لگے ۔
وشمہ کو گھما کر اپنی جانب سیدھا کیے وہ ایک دفعہ پھر اس کے لبوں پہ جھکا اپنے خشک لبوں کو تر کرنے لگا ۔
کمبخت لب ! تمہارے لبوں کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے لبوں پہ ہنوز جھکے اس کے لبوں سے اپنے لب مس کیے وہ سرگوشیوں پر اتر آیا تھا ۔
مجھے گھر لے کر جاؤ مجھے گھر جانا ہے اس کی قربت میں پگھلتی وشمہ کافی حد تک خود کو سنبھالے اب اپنی ضد پر اتر آئی تھی ۔
مجھے گھر جانا ہے وہ ایک دفعہ پھر چلائی تھی _ دانیال ڈھیٹوں کی طرح اسے اپنی گود میں بھرے بیڈ تک لایا تھا ۔
سنائی نہیں دیتا تمہیں! اس کی بات کاٹتا دانیال اس کے چہرے کو اپنی دونوں ہاتھوں کے کٹورے میں بھرے اپنے چہرے کے نزدیک کیے _ اس کے ایک ایک نقش کو چھوے اس میں مدحوش ہونے لگا ۔
قاتل حسینہ تمہیں کیا لگتا ہے جتنا تم نے مجھے تڑپایا ہے میں ایسے ہی جانے دوں گا تمہیں ۔
تم بھی میرے ساتھ رہو گی _ تڑپو گی اپنے بھائی سے ملنے کے لیے پر افسوس مجھے تم پر زرا ترس نہیں آئے گا قاتل حسینہ ۔
میں بدنام ہوگئی ہوں تمہاری وجہ سے دانیال کو خود سے پرے دھکیلے بیڈ کے ایک کنارے سے لگے وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔
مجھے فرق نہیں پڑتا ! بدنام ہونے سے تمہیں میرا نام تو مل گیا ۔
میں دنیا کا سامنا نہیں کرسکوں گی یہ دنیا تنگ ہوگئی ہے مجھ پہ چہرے سے ہولے ہولے گرتے آنسوؤں کو صاف کیے وہ اب سسکنے لگے تھی ۔
تمہاری دنیا ویسے بھی بہت تنگ ہے _ تمہاری دنیا بہت چھوٹی ہے کیونکہ اس کا دائرہ صرف میں ہوں بیڈ پہ بیٹھے جیب سے سگریٹ نکالے وہ اسے سلگانے لگا تھا ۔
یہ دنیا اب ظلم کرے گی مجھ پر یہ دنیا بدکار کہے گی مجھے
تمہاری دنیا میں ہو اور میں صرف تم سے پیار کرنا جانتا ہوں _ میں جانتا ہوں تمہارا کردار پاک ہے تم پاکیزہ ہو۔
مجھے گھر جانا ہے اس نے گھٹی آواز میں ایک دفعہ پھر کوشش کی تھی ۔
وشمہ کی بات کو مکمل اگنور کیے اپنے کپڑے لیتا وہ واشروم میں گیا تھا ۔
بلیک ٹی شرٹ بلیک پینٹ میں فریش ہوے واشروم سے باہر آئے وہ الماری کی جانب بڑھنے لگا ۔
وشمہ بیڈ پہ اسی پوزیشن میں بیٹھی رونے میں مصروف تھی ۔
اٹھو ! الماری سے ایک باکس نکالے وشمہ کو آرڈر دیتا شیشے کے سامنے کھڑا ہوا تھا ۔
سنائی نہیں دیا اٹھو وہ جو رونے میں مصروف تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ دانیال کی بات نہیں سن سکی تھی فوراً سے بیڈ سے نیچے اتری تھی ۔
جب میں کوئی بات کہو تو فورا مان جایا کرو آنکھوں میں سرخی لیے کھا جانے والی نظروں سے وشمہ کو گھورنے لگا ۔
وشمہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی شیشے کے سامنے آ کھڑی ہوی تھی ۔
باکس کھولے اس میں سے ایک پینڈٹ نکالے اسے وشمہ کے گلے میں پہنانے لگا ۔
اس کو قیمتی ہونا تھا اس لیے یہ میں تمہارے لیے لے آیا پینڈٹ کی ہک بند کیے وشمہ کا چہرہ اپنی جانب موڑے وہ اس پینڈٹ پہ خوبصورتی سے لکھے قاتل حسینہ پہ جھکا اس پہ اپنے لب رکھ گیا ۔
قاتل حسینہ آج سے تم ہمیشہ کے لیے میری ہوی اب اس پینڈٹ کو میری طرف سے پہلا تحفہ سمجھو یا میری قید کی پہلی کڑی بس یہ کبھی تمہارے گلے سے نہ اترے ۔
اگر کبھی یہ مجھے تمہاری گردن میں نظر نہ آیا تو یاد رکھنا اس دفعہ یہ تمہاری گردن میں ہے اگلی دفعہ تمہاری گردن اس میں ہوگی ۔
میں ناشتہ بنانے جارہا ہوں منھ ہاتھ دھو کر نیچے آجاؤ اور اب یہ رونا دھونا بند کرو دوبارہ روتی ہوی نظر آئی تو یاد رکھنا تمہارے ان آنسوؤں کو تم سے چھین لوں گا کیونکہ تم میری چیزوں کو تکلیف دیتی ہو _ اور جو میری چیزوں کو تکلیف دے مجھ نفرت ہے اس سے جان لے لیتا ہوں میں ایسے لوگوں گی _ مگر ایک واحد تم ہو جسے میں اپنی جان دے چکا ہوں وشمہ کے ماتھے پہ اپنے سلگتے لب رکھے اس سے اپنی محبت کا اظہار کیے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
میں لے جاؤ اپنی بیوی کو صبح ہوتے ہی ضماہیر ڈاکٹر کے سر پہ سوار ہوا تھا ۔
جی لے جائیے مگر آپ کو ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک نرس رکھنی ہوگی ۔
میں رکھ سکتا ہوں اپنی بیوی کا خیال ٹیبل پہ اپنے دونوں ہاتھ ٹکائے وہ نیچے کی جانب جھکا تھا ۔
جی آپ رکھ سکتے ہیں مگر ایک نرس اچھے سے جانتی ہے کہ اس کنڈیشن کے پیشنٹ کو کیسے ٹریٹ کرنا ہے باقی مرضی اپ کی ہے ہم کچھ نہیں کہ سکتے مگر ،اگر دیر سویر ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے تو ہم آپ کو کچھ نہیں کہ سکتے ___بات کو ادھورا چھوڑے ڈاکٹر ضماہیر کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا ۔
ٹھیک ہے آپ انتظام کردیجیے ایک نرس کا ! ہاں میں جواب دیے رباشہ کے کمرے کی جانب مڑ گیا ۔
حسینہ جانم ! آج تم اپنے گھر جارہی ہو ! تمہارا گھر! اب وہ میرا کہاں رہا ہے ! میں اگر اکیلا اس گھر میں جاؤ گا تو وہ مجھے قبول نہیں کرے گا ۔
رباشہ کے بازو کو پکڑے سٹول آگے کیے وہ اس کے بیڈ کے ساتھ بیٹھا تھا ۔
بیوی تم تو خود ڈاکٹر ہوں نا۔۔تم تو اچھے سے جانتی ہو تم ٹھیک کیسے ہوں گی ۔۔پھر ٹھیک ہوجاؤ تم ۔۔جان !! دیکھو کیا کردیا ہے تم نے میرا میں چوبیس گھنٹے تم عورتوں کی طرح تمہاری خاطر روتا رہتا ہوں ۔۔سجدے میں جاتا ہوں تو تمہارا خیال میرے سجدوں میں خلل ڈالتا ہے ۔۔میں ادھورا ہوں تمہارے بغیر ۔۔۔اور تم نے مجھے حقیقت میں ادھورا چھوڑ دیا ۔۔۔مجھے مکمل کرو حسینہ جانم !! مکمل کرو مجھے ۔۔
یہاں بیٹھو ! خود کرسی پہ بیٹھے وہ وشمہ کو اپنی ٹانگوں پہ بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا ۔
میں کرسی پر بیٹھ جاؤ گی ۔
سنائی دیا ہے تمہیں میں نے کیا کہا ہے گرجدار آواز میں دھاڑے وہ وشمہ کو خوفزدہ کرگیا تھا ۔
بیٹھو !
وشمہ جلدی سے اس کی ٹانگوں پہ بیٹھی تھی ۔
ایک چمی دو !
What ?
کس کرو مجھے جانو !
کیا ؟
لگتا ہے تمہیں عام الفاظ سمجھ آتے ہیں ۔
میرے لبوں کو اپنے لبوں کا ذائقہ ٹیسٹ کرواؤ _ اگر یہ بھی سمجھ نہیں آیا تو اپنے لبوں کو میرے لبوں کی قید میں دو
وشمہ کے ہونٹوں پہ انگھوٹا پھیرے وہ وشمہ کو بے جان کرگیا
وشمہ کی گردن کے بلکل نزدیک ہوے اس پہ اپنا گرم لمس چھوڑے وہ اسے لرزنے پہ مجبور کر گیا ۔
جبکہ وشمہ سر تا پیر سرخ ہوی اس کے ہاتھوں کو گھورنے لگی تھی ۔
کیا چاہتی ہو اپنا ہاتھ کاٹ دو ! چہرے پہ سنجیدہ آثار لیے اپنی شہادت کی انگلی سے وشمہ کے چہرے کو اونچا کرگیا ۔
جج _ جی _ مطلب ؟؟ زبان الفاظ ادا کرنے سے قاصر تھی ۔
میرے علاوہ اگر کسی بھی چیز کو غور سے دیکھو گی تو اس کا انجام موت ہوگا ۔
ہم کونسی جگہ پر ہیں !
ناشتہ کرو
چھوٹے چھوٹے لقمے بنائے وہ وشمہ کو کھلانے لگا ۔
آپ مجھے گھر لے جائیں پلیز
کیا یہ گھر نہیں ہے
نہیں مجھے میرے گھر جانا ہے
یہ تمہارا گھر ہے شادی ہو کر تم اس گھر میں آئی ہو ۔
لے جائیں مجھے میرے گھر صرف ایک دفعہ پلیز
وشمہ کی بات کو مکمل طور پر ان سنا کیے اس کے لبوں پہ جھکا ان پر اپنا قفس بنا گیا ۔
آج کے بعد تمہارے منھ سے یہ بات دوبارہ نہ سنو قاتل حسینہ وشمہ کے گالوں پہ ہاتھ پھیرے وہ سمجھانے والے انداز میں اس کی جانب دیکھنے لگا ۔
مناہل یہ اچھا موقع ہے ضماہیر کو اپنانے کا اس کی بیوی بیچاری تو ویسے ہی کسی بھی دن خدا کو پیاری ہو جائے گی ۔
حویلی ماں آپ فکر نہ کریں اگر وہ خود خدا کو پیاری نہیں ہوی تو میں اس کو مار دوں گی ایک شیطانی قہقہہ بلند کیے وہ بلکل حویلی ماں کے نزدیک آ کھڑی ہوی تھی ۔
ویسے حویلی ماں ضماہیر اس ادھ مری بیوی کا کیا کرے گا ہاتھوں کو گول گھمائے حویلی ماں کو دیکھے وہ شیطانی مسکراہٹ مسکرائی تھی ۔
کیا کرے گا بس بیچارہ کفن کے انتظام میں لگا ہوگا ۔۔کتنی خوشی ہوگی جس دن سننے کو ملے گا رباشہ انتقال کر گئی ہے ۔
مناہل کوئی شرم ہے تم میں فاطمہ بیگم جو کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی مناہل کے منھ سے ایسی باتیں سنتی کمرے میں داخل ہوی ۔
انسان میں تھوڑی بہت تو حیا ہونی چاہیے مگر شاید تمہاری تربیت میں اس طرح کی کوئی چیز شامل ہی نہیں۔
فاطمہ! حویلی ماں چلائی تھی ۔
حویلی ماں آپ تو خاموش رہیں وہاں سب لوگ اس بچی کے لیے پریشان ہیں اس کی زندگی کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں اس کا شوہر دن رات اس کے لیے تڑپ رہا ہے اور ایک آپ لوگ ہیں جنہیں کسی کے مرنے جینے سے فرق نہیں پڑتا۔۔زندگی کے لیے دعائیں تو مانگنے سے گئے اس بچی کی موت کے لیے دعائیں کر رہے ہیں ۔
یہ پہلی دفعہ تھا جب فاطمہ بیگم حویلی ماں کے سامنے اس قدر زور سے بولی تھی ۔
خالہ ! خالہ رباشہ کو ویل چیئر پہ بٹھائے ضماہیر حویلی میں داخل ہوا تھا ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اس نے فاطمہ خالہ کو آواز دی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا اس گھر میں فاطمہ خالہ کے سوا ان کا سہارا اور کوئی نہیں ۔
ہیر ! ضماہیر کی آواز سنتی وہ حویلی ماں کے کمرے سے باہر نکلی نیچے حال میں آئی تھی ۔
ہیر آگئے تم ! رباشہ ۔رباشہ کو کیوں لے آئے
خالہ ڈاکٹر نے چھٹی دی ہے ۔۔اب سے نرس گھر میں دیکھ بھال کرے گی رباشہ کی ۔
سیڑھیوں پر ویل چئیر چڑھائے وہ رباشہ کو اپنے کمرے میں لایا تھا ۔
بیوی دیکھ رہی ہو ہمارا کمرہ ! دیکھو اس بیڈ کی چادر کو اس پر سلوٹیں نہیں ہیں جانتی ہو کیوں ؟ کیونکہ اس پر ہمارے پیار کی نشانی موجود نہیں رہی ۔
کتنی سزا باقی ہے میری بس اب ٹھیک ہوجاؤ لٹل فیری تمہارا ضماہیر اب مزید تمہاری آواز سنے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
رباشہ کو ویل چیئر سے اٹھائے اپنی بازوؤں میں بھرے اسے بیڈ پر لٹانے لگا ۔
دانیال سارے برتن دھو کر اوپر کمرے میں آیا تھا جہاں اس کی قاتل حسینہ دنیا و مافیہا سے بے خبر بیڈ پہ لیٹی اس کے حوش اڑا رہی تھی ۔
کمرے کو اندر سے بند کیے اپنے قدم اٹھائے بیڈ پہ بلکل اس کے نزدیک بیٹھ گیا جبکہ اس کے چہرے پہ آئی کچھ لٹھوں کو اپنی انگلی کی مدد سے اس کا کان کے پیچھے اڑیسنے لگا ۔
اب تو تمہیں محسوس کر سکتا ہوں میں قاتل حسینہ وشمہ کے گلے سے دوپٹہ نکالے اس کی شہ رگ کو اپنے لبوں سے چھونے لگا ۔
خود پر کسی کا لمس محسوس کرتی وہ جلدی سے ہڑبڑا کر اٹھی تھی ۔
ریلیکس جان ! تمہارا دانیال ہے وشمہ کو واپس بیڈ پہ لٹائے اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسوں کو خود میں انڈیلنا لگا ۔
آہستہ آہستہ ہاتھ اس کے کندھے سے سرکتے شرٹ تک آئے تھے ہاتھوں کو ہولے ہولے ہلائے وہ اس کی زپ سے کھیلنے لگا تھا ۔
ایک ہی جھٹکے میں اس کی قمیض کو ڈھیلا کیے وہ اسے کندھے سے مکمل طور پر ہٹا گیا ۔
شرٹ سرکاتے ہی وہاں اپنے گرم لب رکھے اس کے کندھے کو اپنی تپش سے جھلسانے لگا ۔
دانیال کا گرم لمس اپنے کاندھے پہ محسوس کیے اس کی جان ایک دم سست پڑی تھی خود پر سے ہوش کھوئے وہ مکمل خود کو اس کے حوالے کر گئی ۔
شاید محرم رشتے میں اتنی طاقت ہوتی ہے وہ چاہے اس شخص سے نفرت کرتی تھی مگر اس کی قربت میں آتے ہی وہ سب کچھ بھول کر اس کی ہوجاتی تھی ۔اس کی بانہوں میں خود کو چھپاتی تھی ۔
وہ جانتی تھی دانیال کو اس سے محبت ہے مگر دانیال کا ہر دفعہ اسے ٹھکرانا اسے سنگ دل بنا گیا تھا ۔
دانیال کی شدتیں بڑھنے لگی تھی وہ پور پور اس پہ جھکا اپنا سائے بنائے اپنی خوشبو سے اسے مہکانے لگا تھا ۔
خاموش سی وشمہ اس کی بانہوں میں پڑی اس کی ساری شدتیں برداشت کر رہی تھی ۔
اور اب شاید دانیال کی یہ شدتیں اسے ساری زندگی برداشت کرنی تھی آخر محبت جو ٹہری تھی وہ دانیال کی !
زاویار میں تم سے ملنا چاہتی ہوں مناہل نے زاویار کو کال ملائی تھی ۔
مجھ سے کیوں ؟
جگہ بتاؤ کہاں ملنا ہے میں ملنے آؤ گی تم سے ۔
حسینہ جانم پورا ایک مہینہ ہوگیا کے تم سے جدائی کا درد برداشت کر رہا ہوں اب ختم کردو میری سزا ۔۔۔پورا ایک مہینہ گزر گیا تھا ضماہیر کو رباشہ کی دوری سہے ۔
مگر آج بھی وہ ہر بار کی طرح خالی ہاتھ اس کے ساتھ تھا ۔
حسینہ جانم بس اب بہت ہوا کیا سمجھتی ہو تم ! میں پاگل ہوں جو ایسے تمہارے ساتھ رہوں گا ایک چھوٹے سے گناہ کی اتنی بڑی سزا ۔۔۔۔گناہ تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے مگر تم !! تم مجھے معاف نہیں کر سکتی کیا ؟
تمہیں اٹھنا ہوگا اب ۔
تم مجھے پل پل مرتا دیکھنا چاہتی ہو ٹھیک ہے میں ایک ہی دفعہ میں خود کو ختم کردیتا ہوں ڈریسنگ کے دراز سے گن نکالے اسے اپنے سر پر رکھ گیا ۔
چلو حسینہ جانم گنتی گننا شروع کرو ۔۔۔تم بیوہ ہونے لگی ہو
1
2
تین پر آتے ہی وہ یک لخت خاموش ہوا تھا ۔
ایک بات بتاؤں حسینہ جانم گن کو سر پر رکھے وہ بلکل رباشہ کے کان کے نزدیک ہوا تھا مانو سرگوشی کرنے لگا ہو ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں اکیلا مر جاؤ گا اور تم میرے بعد کسی اور سے شادی کرلو گی ۔
نہیں کبھی نہیں! تم زندہ ہو میری بیوی بن کر تمہارے مرحومہ نام کے ساتھ بھی میرے نام ہوگا
میں اکیلا نہیں مروں گا مرنے سے پہلے یہ دو انچ کا پائپ جو تم منھ پر لگائے زندہ ہو اس کو اتار کے پھینکو گا تاکہ تمہیں بھی میرے ساتھ موت آئے ۔
میری موت کے بعد تم کسی کی نہ ہوں آنکھوں میں جنون لیے وہ رباشہ کے وجود کو نگاہوں کی تپش سے چھلنی کرنے لگا تھا ۔
اٹھو حسینہ جانم ! اگر تم نہیں اٹھی تو تمہاری اور میری موت یقینی ہوگی آج ۔
میں شادی کرنا چاہتی ہوں زاویار سے
دماغ خراب ہے تمہارا مناہل
میں نے آپ کو بتادیا ہے حویلی ماں مجھے زاویار سے شادی کرنی ہے
