Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 05)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 05)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
تمہیں نکاح کرنا ہوگا اس لڑکی سے
میں اس خونی سے نکاح نہیں کر سکتا وہ دبی آواز میں چلایا تھا
ٹھیک ہے نہیں کرنا نہ نکاح تو اس کو ابھی کے ابھی گھر چھوڑ کر آؤ ہم اپنے گھر کا ماحول برباد نہیں کرسکتے کل پرسوں تک تمہارے دادا سائیں آ جائیں گے کیا جواب دیں گے ہم ان کو
وہ آپ کا مسلہ ہے میرا نہیں
ٹھیک ہے کل کو جو کچھ بھی ہوگا اس سب کے زمہ دار تم ہوں گے
ضماہیر گھر چھوڑ آؤ بچی کو ہمیں سب کو افسوس ہے کہ اس سے نا چاہتے ہوے ایک خون ہوگیا مگر ایک وجہ تھی اس کی
واہ خالہ خون کرنے کی کب سے وجہ ہونے لگی
ایک لڑکی کے لیے سب سے زیادہ ضروری اس کی عزت ہوتی ہے اور شعیب نے اس کی عزت خراب کرنے کی گھٹیا کوشش کی تھی ۔اس میں اس کا کیا قصور تھا اس نے تو صرف اپنی عزت کی حفاظت کی ۔
ضماہیر تم ایسا کرو دادا سائیں کے حویلی میں رہنے تک اس لڑکی کو بیوی بنائے رکھنا ان کے جاتے ہی طلاق دے دینا ویسے بھی ہمیں بھی حویلی کے لیے اپنے ہی خاندان کی کوئی لڑکی چاہیے
حویلی ماں یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ خود ایک عورت ہیں اور دوسری عورت کی زندگی برباد کرنے کے مشورے دے رہی ہیں
خالہ پلیز آپ چپ ہو جائیں مجھے حویلی ماں کا یہ مشورہ قبول ہے۔ضماہیر دو راہیں ہیں یا اس لڑکی کو نکاح میں لے آؤ یا گھر چھوڑ آؤ اس کے علاؤہ ہمیں کچھ نہیں سننا
پر حویلی ماں
میں نے جو کہا ہے اس میں سے ایک راہ پر گامزن ہوجاؤ
ٹھیک ہے نکاح کرو گا میں اس سے
پر مجھے نکاح نہیں کرنا مجھے گھر جانا ہے امی ابو کے پاس رباشہ نے نکاح کا سنتے ہی زارو قطار رونا شروع کر دیا
تم سے پوچھا کسی نے یہ سب تمہاری ہی وجہ سے ہے کہ مجھے ایک خونی سے شادی کرنی پڑ رہی ہے ضماہیر گرجا تھا جبکہ رباشہ سہم کر بلکل خاموش ہوگئی تھی
کچھ ہی وقت کے بعد رباشہ ،رباشہ حبیب سے رباشہ ضماہیر گوندل بن چکی تھی ہر چیز اس کی سمجھ سے باہر تھی اس نے تو یہ خواب دانیال کے ساتھ دیکھا تھا دلہن تو اسے دانیال کی بننا تھا مگر چند پل میں ہی اس کے تمام خوب ٹوٹ کر چکنا چور ہوگئے
وہ رباشہ دانیال بننا چاہتی تھی جبکہ قسمت نے اسے رباشہ ضماہیر گوندل بنا دیا تھا وہ ایسی دلہن تھی جسے اپنے رشتے کا دورانیہ بھی معلوم تھا وہ جانتی تھی اس حویلی کے دادا سائیں کے چلے جانے کے بعد اسے طلاق دے دی جائے گی
وہ زارو قطار رو رہی تھی اس کے آنسو تھمنے ک نام نہیں لے رہے تھے آج اسے افسوس ہوا تھا پاکستان آنے پر اسے پاکستان نہیں آنا چاہیے تھا وہیں دانیال کے ساتھ رہتی اس کے دماغ میں دانیال کا عکس گھوم رہا تھا مگر اب تو وہ اس عکس کو محسوس کرنے کی اجازت بھی نہیں رکھتی تھی
فاطمہ جاؤ لڑکی کو کمرے میں چھوڑ آؤ اور ناشتہ بھی دے آنا
جی حویلی ماں
چلیں رباشہ بیٹا
رباشہ جو دیوار کے نزدیک پڑی کرسی پر بیٹھی تھی فاطمہ بیگم کے ساتھ چل دی
خالہ آپ کیوں ؟ میں ہوں نہ میں لے کر جاؤ گا اپنی دو دن کی بیوی کو
ضماہیر نے رباشہ کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا تھا جسے پکڑنے کی زحمت رباشہ نے نہیں کی تھی
ہاتھ پکڑو میرا
وہ زرا نزدیک ہو کر رباشہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگا
کیوں آپ نے تو ہاتھ پکڑنے کے بعد چھوڑ دینا ہے
میں اگر ایک دفعہ کسی کو ہاتھ تھام لوں تو زندگی بھر نہیں چھوڑتا مانو اس نے رباشہ کو تسلی دی تھی کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہے
ایک دفعہ ہاتھ تھام کر تو دیکھو اس نے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا
جبکہ اب کی دفعہ رباشہ پھل بھر میں ہی ہاتھ تھام گئی
Welcome to the hell hassina janummm
ویلکم ٹو دی ہیل حسینہ جانم
کمرے میں آتے ہی اس نے رباشہ کا ہاتھ جھٹکا تھا
وہ کیسا شخص تھا جو پل میں تولہ پل میں ماشہ تھا
ابھی نیچے ہی تو وہ کتنی خوبصورت سے اپنے رشتے کی ضمانت دے کر آیا تھا اور کمرے میں آتے ہی وہ ہر بات سے دستبردار ہوگیا
پلیز مجھے میرے امی ابو کے پاس چھوڑ آئیں وہ اس کی منتیں کرنے لگی
شعیب نے تمھارے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی
پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے گھر چھوڑ آئیں مجھے اپنے گھر جانا ہے
میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے سنائی دیا تم کو شعیب نے بدتمیزی کی تھی تمہارے ساتھ وہ ناچاہتے ہوے بھی وضاحت چاہتا تھا اس سے
جی اس نے۔۔اس نے مجھے یہاں چھوا تھا اس نے گلے سے دوبٹہ زرا نیچے کرکے اپنی گردن پر ہاتھ رکھا تھا جہاں ایک خوبصورت سا سیاہ رنگ کا تل ضماہیر کی جان لینے کے لیے تیار تھا
ضماہیر نے اس کے بازو کمر کے گرد باندھے وہ لاشعوری طور پر اس تل پر جھکا تھا وہ اتنی شدت سے جھکا تھا جیسے آج اس تل کو ختم کرکے ہی سکون لے گا
اس نے یہاں چھوا تھا تمہیں وہ اس تل پر اپنا انگھوٹا پھیرنے لگا
جبکہ رباشہ خاموشی سے کھڑی سب برداشت کر رہی تھی
ہمم یہاں اس نے ہاں میں گردن ہلائی
وہ اتنا قریب آیا تھا تمہارے ضماہیر نے ایک اور سول کیا
جی بہت قریب اس کے دل میں آگ لگی تھی رباشہ کی بات سن کر
اس کی ہمت کیسے ہوی تمہارے اتنا قریب آنے کی وہ اس تل پر جھکا سرگوشی کرنے لگا
دور ہٹیں مجھ سے رباشہ نے ضماہیر کو ہلکا سا دھکا دیا تھا
تمہاری یہ ننھی منی مزاحمتیں میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہاں اگر دوبارہ ایسا کچھ کیا تو تمہارا بہت کچھ بگڑ سکتا ہے وہ اس کی مزاحمتوں پر اسے دھمکی دینے لگا
اب کی دفعہ وہ اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لے چکا تھا پہلی مرتبہ وہ کسی عورت کے اتنا نزدیک گیا تھا
اس نے کبھی ایسا نہیں سوچا تھا شاید یہ ان کے درمیان جائز اور حلال رشتے کی کشش تھی جس نے اس کے تمام پہرے ختم کیے تھے ۔وہ حقیقیت میں اس کے لیے حسینہ جانم تھی
ہیر تم کمرے میں ہو
خالہ کی آواز سنتے ہی اس نے رباشہ کے لبوں کو آزادی بخشی تھی جانم دوبارہ کانٹینیو کریں گے خالہ کو جانے دو وہ رباشہ کے کان کی لو کو ہلکا سا دباتا پیچھے ہوے تھا
جی خالہ
بیٹا بیٹھ جاؤ یہ ناشتہ کر لو اور رباشہ کو بھی کروا دو بے چاری بچی نے شام سے کچھ نہیں کھایا
جی خالہ ابھی وہ نکاح سے پہلے اس کی زات کا انکاری تھا اور نکاح ہوتے ہی وہ اس کاخیال رکھنے لگا تھا
اور ہاں زرا کوشش کرو بچی کو سمجھنے کی جو کچھ ہوا اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا
میں دیکھتا ہوں اس نے فقط اتنا ہی جواب دیا
ناشتہ کرلو حسینہ جانم
رباشہ نام ہے میرا
جو بھی ہے میرے لیے تو حسینہ جانم ہو تم حسینہ جانم اس نے دانتوں کی نمائش کروائی تھی
ناشتہ کرلو
بھوک نہیں ہے مجھے
اب کیا چاہتی ہو کھانا بھی میں اپنے ہاتھ سے کھلاؤ
نہیں میں ایسا بالکل نہیں چاہتی بلکہ میں تو زرا نہیں چاہتی کہ مجھے آپ کی عادت ہو تاکہ جب آپ مجھے چھوڑو تو مجھے تکلیف نہ ہو
ا چھا جب میں تمہیں طلاق دوں گا تو تم کیا کرو گی
کیا کرو گی مطلب ؟؟؟اس نے سوالیہ نظروں سے گھورا تھا
مطلب تم شادی کرو گی دوبارہ
جی بلکل میرا تو بلکہ ایک عاشق بھی ہے کان کھول کر سن لیں میرا عاشق ہے جیسے آپ مجھے طلاق دیں گے میں فوراً اس سے شادی کروں گی
تمہیں لگتا ہے میں تمہیں چھوڑ دوں گا وہ زرا اور اس کے نزدیک ہو تھا
آپ نے شادی ہی اسی شرط پر کی ہے مجھ سے وہ سوالوں کے جواب دینے میں ماہر تھی
تم نے تو ایک دن میں ہی مجھے اپنا دیوانہ بنانا شروع کردیا ہے سوچو اگر میں تمہارا دیوانہ بن گیا تو پھر کیا ہوگا ۔۔۔۔۔وہ اس کے لبوں کو چھوتا سرگوشی کرنے لگا
آپ نہایت ہی بے شرم انسان ہیں وہ ضماہیر سے دور ہوی تھی
جو بات کرنی ہے یہاں پاس آکر کرو میں نے تمہیں دور جانے کی اجازت نہیں دی وہ اسے ایک مرتبہ پھر اپنے پاس کھینچ کر اس کے تل کو لبوں سے چھونے لگا
آپ نہ۔ا۔ی۔ت بے شرم ۔۔۔۔۔اس سے زیادہ بولنے سے وہ قاصر تھی
حسینہ جانم پہلے بولنا تو سیکھ لو۔۔۔۔میرے نزدیک آتے ہی تمہاری زبان تو تالو سے چپک جاتی ہے اس نے رباشہ کی بے بسی کا مذاق بنایا تھا
دو۔۔دور ہٹیں میں نے ناشتہ کرنا ہے
تو کر لو یہاں میرے ساتھ بیٹھ کر اس نے بیڈ پر بلکل اپنے ساتھ اشارہ کیا
نہیں میں یہی صحیح ہوں وہ ضماہیر سے تھوڑا دور ہٹتی ناشتہ کرنے لگی
ہاں ہاں کر لو جلدی سے ناشتہ پھر آخر مجھے بھی تو تم نے ناشتہ کروانا ہے کہیں تمہاری انرجی ختم نہ ہو جائے حسینہ جانم
رباشہ!!! !!!!! اتنا مشکل نہیں کے آپ ادا کرنے سے قاصر ہیں
جانم کہا تو ہے تم رباشہ نہیں حسینہ جانم ہو میری
میں زرا نہا لوں تمہارے خونی بدن سے جسم اٹیچ ہوا تھا میرا۔۔عجیب شخص تھا پل میں وہ بیوی کے حقوق ادا کرتا تھا اور پل میں اس کی تزلیل کرجاتا تھا
میں نے نہیں کہا میرے ساتھ اپنا وجود اٹیچ کریں۔۔۔مجھے کوئی شوق بھی نہیں آپ سے جڑنے کا
صبر کرو میں نہا کر آتا ہوں پھر جواب دوں گا تمہیں اور ہاں کوئی چاکلیٹ کھا لینا آخر مجھے بھی تو ناشتہ کرنا ہے
مطلب ؟؟؟؟؟
چاکلیٹ کھالینا پھر بتاؤ گا
میں نہیں کھاؤ گی اور یہ بچوں والی چیزیں مجھے پسند نہیں
تم میٹھی ہو مگر تھوڑا زیادہ میٹھا ہو جاتا تو بہت اچھا ہوتا ۔۔ وہ بے شرموں کی طرح ڈھٹائی سے دانت نکالنے لگا
جی الحمدللہ میں بہت میٹھی ہوں اور چاکلیٹ کھاؤں گی تو کہیں مجھے شوگر نہ ہو جائے وہ اپنے بال انگلی کے گرد لپیٹنے لگی
حسینہ جانم تمہارا تو پتہ نہیں مگر تمہاری مٹھاس چکھنے سے مجھے زرور شوگر ہوجائے گی ۔۔۔۔اس نے فوراً ہی واشروم کا دروازہ بند کیا تھا
بے شرم بدتمیز بے حیا لوفر انسان۔۔۔وہ پیر پٹکتی اسے القابات سے نوازتی کمرے سے باہر نکل گئی
آجاؤ بچے ادھر آؤ نیچے آتے ہی اس کا سامنا فاطمہ بیگم سے ہوا تھا جنہوں نے نہایت شفقت سے اسے اپنے پاس بلایا تھا
