Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 06)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 06)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
بیٹا ادھر آؤ میرے پاس ؟؟
جی آنٹی وہ خاموش سے کہتی فاطمہ بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی ۔آ نٹی کیا ہوا ؟؟؟
رباشہ تم خوش ہو ؟؟
آنٹی خوش!!! اس میں میری رضامندی کہاں شامل ہے جو میرے خوش ہونے سے فرق پڑتا ہے میں تو ابھی چند دن پہلے ہی پاکستان آئی تھی مجھے کیا معلوم تھا میری زندگی اس قدر بدل جائے گی
میں تو کسی اور کی منگ بھی تھی !! مگر میری قسمت بچپن سے ایک شخص سے جڑے رہنے کے باوجود میں کسی اور کے نام سے منسلک ہوگئی۔
اب میں سوچتی ہوں کہ کاش اس دن میں اپنی عزت کی خاطر اس کا قتل نہ کرتی لٹ جانے دیتی اپنی آبرو کم ازکم اس جہنم میں تو نہ آتی
اتنی سستی ہے تمہاری عزت ضماہیر ابھی ابھی سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آیا تھا مگر رباشہ کی بات سن کر اس کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچا تھا
بولو اتنی سستی ہے تمہاری عزت اس نے نزدیک آکر رباشہ کو بازوؤں سے جکڑا تھا
کل تک تو بہت عزت کے گن گا رہی تھی کہ ایک لڑکی کہ لیے اس کی عزت اس کا قیمتی زیور ہوتی ہے اور آج اس کو لٹوانے کی دعا کر رہی ہو
بتاؤ مجھے تمہارے لیے عزت کے کوئی معانی نہیں اس نے جھنجھوڑا تھا رباشہ کو وہ ہونقوں کی طرح بے بس سی آنکھوں میں آنسوں لیے اسے دیکھ رہی تھی
ضماہیر بچی ہے۔۔۔۔۔چھوڑ دو
خالہ پلیز یہ ہمارے میاں بیوی کہ درمیان کی بات ہے اس نے ہاتھ کے اشارے سے فاطمہ بیگم کو خاموش کروایا تھا جبکہ وہ رباشہ کو کھینچتا کمرے میں لے گیا۔
کیا کہ رہی تھی تم نیچے اس نے رباشہ کو کمرے میں لاتے ہی دیوار سے پن کیا تھا رباشہ کو اپنے دونوں بازوؤں میں قید کرتا اس پر اپنا سایہ بنا گیا
اگر اس دن آپ کے وہ دوست میری عزت۔۔۔۔۔۔۔رباشہ آدھے الفاظ ہی ادا کر پائی تھی کہ وہ پوری شدت سے اس کے نرم لبوں پہ جھکا الفاظ کو اس کے منہ میں ہی قید کرگیااس کے چھونے میں زرا نرمی نہیں تھی شاید وہ اس پر اپنا ڈر قائم کرنا چاہتا تھا
دور ہٹیں رباشہ اپنے دونوں ہاتھوں سے مزاحمت کرتی اسے خود سے دور کر رہی تھی جبکہ اس کی یہ مزاحمتیں ضماہیر کے جنون کو مزید ہوا دے رہی تھی۔
حسینہ جانم کہا ہے نہ خود سے دور نہ کیا کرو ضماہیر نے رباشہ کے لبوں پر اپنے دانتوں سے زرا سی ضرب لگائی تھی جس کی وجہ سے اس کے ہونٹوں سے خون نکلنے لگا
یہ زخم تمہیں یاد کروائے گا کہ تمہاری عزت میرے لیے کتنی ضروری ہے ضماہیر اپنے انگھوٹے کو اس کے لبوں پر پھیرنے لگا
اگر تمہاری عزت محفوظ نہ ہوتی تو کیا مجھے یہ سکون ملتا وہ نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتے اس کی گردن کے تل تک پہنچا تھا
کیا میں تمہاری قربت کے لیے بے تاب ہوتا اس کی شہ رگ کو اپنے لبوں سے چھونے لگا۔۔
ضماہیر سب صحیح ہے بیٹا؟؟؟ رباشہ کہاں ہے؟؟ فاطمہ بیگم دروازے کے باہر کھڑی ضماہیر سے پوچھنے لگی
جی خالہ سب صحیح ہے ۔۔۔۔وہ ابھی بھی ڈھٹائی سے اس کی گردن پہ جھکا تھا
اس کی گردن پر جھکے ہی اس نے جواب دیا تھا جس وجہ سے اس کے لب ہلتے ہوے بار بار رباشہ کی شہ رگ کو چھو رہے تھی
ضماہیر پلیز۔۔۔۔پلیز دور ہو جائیں ۔۔۔۔
وہ رباشہ سے دور ہوا تھا مگر ابھی بھی رباشہ اس کی بانہوں میں ہی قید تھی تم جانتی ہو میرے لیے تمہاری عزت سب سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ تم میری عزت ہو اور مجھے اپنی عزت پر سمجھوتا منظور نہیں
اگلی دفعہ کوشش کرنا کہ ایسی بات میرے سامنے نہ ہو ورنہ پرومو تو تم دیکھ چکی ہو فلم میں دکھا دوں گا
لیکن شاید میری فلم تمہارے لیے ڈراؤنی ثابت ہو حسینہ جانم اس کے لبوں کو ایک دفعہ پھر چھوتا اس سے دور ہوا تھا
چلو باہر رباشہ کا ہاتھ تھامتا اس کا دوبٹہ اس کے سر پر اوڑھاتا وہ باہر آیا تھا
رباشہ بچے سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔باہر آتے ہی فاطمہ بیگم رباشہ کی طرف لپکی تھی
جی آنٹی ۔۔۔رباشہ نے محض اتنے ہی الفاظ ادا کیا تھے
ضماہیر کیوں بچی کو تکلیف دے رہے ہو ؟؟ ساری سچائی سے تم بخوبی واقف ہو !!!
خالہ میں نے کب کہا میں نے تکلیف دی ہے پوچھ لو اپنی بہو سے پیار کر کے آیا ہوں وہ بے شرم تھا رباشہ کو شک تھا اس پر مگر آج یقین ہوا تھا کہ وہ مہا بے شرم ہے
جبکہ فاطمہ بیگم تو اس کے اس جواب پر مزید کچھ پوچھنے کی ہمت ہی کھو بیٹھی تھی
ضماہیر رباشہ کو زرا شاپنگ پر لے جانا بچی کے پاس کپڑے نہیں ہیں پہننے کے لیے یہ ایک ہی سوٹ پڑا تھا وشمہ کا جو میں نے اسے دیا ہے
جی خالہ وہ فرمانبرداری سے جواب دینے لگا۔۔۔
حویلی ماں نہیں آئی نیچے ؟؟
نہیں ان کی زرا طبیعت خراب ہے بس اسی لیے نیچے نہیں آئی جاؤ تم کمرے میں جاکر طبیعت پوچھ آؤ
نہیں میں یہیں صحیح ہوں
رباشہ میں باہر گاڑی نکالتا ہوں تم آجاؤ ۔۔۔۔وہ خاموشی سے حویلی سے باہر نکل گیا
آنٹی ضماہیر اور حویلی ماں کے درمیان سب ٹھیک ہے رباشہ بخوبی حویلی ماں کے زکر پر ضماہیر کے بدلتے رنگ کا جائزہ لے چکی تھی
بیٹا یہ تو تم خود ضماہیر سے پوچھنا وہ اچھے سے بیان کرسکے گا جاؤ تم چادر لے آؤ اور کوشش کرو کہ اس رشتے کو مضبوط بناؤ اگر لڑکی پر طلاق کا دھبہ لگ جائے تو یہ دنیا اسے جینے نہیں دیتی
لڑکی پاک نیت بھی ہو تب بھی اس کی زات میں عیب نکالے جاتے ہیں مرد زات اپنی محبت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے اگر مرد کسی عورت سے سچی محبت کرے تو وہ اسے کبھی کسی دوسرے آدمی کے لیے نہیں چھوڑتا
ضماہیر کو اپنا دیوانہ بناؤ تم بیوی ہو اس کی ۔۔۔۔۔اپنے حسن سے متاثر کر سکتی ہو اسے۔۔۔وہ شوہر ہے تمہارا تمہاری زرا سی محبت پر تمہاری جانب کھینچا چلا آ ئے گا ۔۔۔
جی آنٹی میں کوشش کروں گی ۔۔۔اس نے حامی ضرور بھری تھی مگر اس کے دل میں تو ضماہیر کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی اس کا دل تو ہمیشہ سے دانیال کے لیے دھڑکا تھا پھر وہ کیسے دانیال کی جگہ ضماہیر کو دے سکتی تھی
رباشہ میں انتظار کر رہا تھا تمہارا باہر ۔رباشہ کے باہر نہ آنے پر ضماہیر خود اسے لینے حویلی آگیا تھا
جی میں بس آئی وہ چادر سر پر کرتی آگے کی جانب بڑھی تھی جبکہ ضماہیر نے اس کا ہاتھ نرمی سے تھام لیا تھا
اتنے آرام سے جو ہاتھ پکڑا ہے کیا چھوڑنے کا ارادہ ہے ۔۔۔رباشہ نے اپنے دانتوں کی نمائش کروائی تھی وہ جتنا اس شخص سے دور بھاگ رہی تھی وہ اتنا رباشہ کے قریب ہورہا تھا
ضماہیر نے ہاتھ پر گرفت سخت کردی حسینہ جانم تمہیں تو اب کبھی نہیں چھوڑنا میں نے ضماہیر نے رباشہ کے کان میں سرگوشی کی تھی
کیوں ؟؟ آپ کو مجھ سے محبت نہیں
ہاں مجھے تم سے محبت نہیں مگر تم ایک خونی ہو اور مجھے ایک خونی کے ساتھ رہنے کا ایکسپرینس کرنا ہے وہ ضماہیر تھا ہر بات کا رخ اپنی مرضی سے ڈھالتا تھا۔
اور آپ کیا ہیں ڈاکو؟؟ شکر ہے آپ کے پاس گاڑی بھی ہے ورنہ میں تو سمجھی تھی شاید مجھے شاپنگ پر بھی گھوڑے پر لے کر جائیں گے !! کہیں یہ گاڑی بھی چوری کی تو نہیں
آپ کے پاس پیسے ہیں یا کپڑے بھی چوری کریں گے ہم؟؟؟
چوریاں کرنے میں تو آپ ویسے ماہر ہیں۔۔۔۔۔۔ضماہیر اس کے لبوں پر جھکا الفاظ کو اس کے منہ میں ہی قید کرگیا حسینہ جانم بہت زبان چلنے لگی ہے تمہاری چلو ایک دن اس زبان کو بھی کاٹ دوں گا اس کے گال کو تھپتپاتے ضماہیر نے گاڑی کا دروازہ کھولا تھا
رباشہ خاموشی سے گاڑی کے اندر بیٹھ گئی ضماہیر کے پاس ہتھیار موجود تھے اس کی زبان کو خاموش کروانے کے۔۔۔ وہ یہی ہتھیار استعمال کرکے اس کی زبان خاموش کروادیا کرتا تھا
رباشہ اس کی اس قدر بے باکیوں پر سوائے خاموش رہنے کے کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی وہ بے بس تھی اس کی گستاخیوں کے اگے۔۔۔
یہ کار میں اتنی خاموشی کیوں ہے ضماہیر رباشہ کی زبان پر چوٹ کرنے لگا جو شاید تالو سے چپکی ہوی تھی
کون ہے خاموش میں تو بول رہی ہوں
مجھے بولنے والے لوگ بلکل پسند نہیں پھر میرے خیال سے مجھے تمہیں خاموش کروانا چاہیے اپنے سٹائل سے
وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا
یہ آپ اتنے بے شرم کیوں ہیں ؟؟
میں سچ میں پہلے بے شرم نہیں تھا مگر جب سے تم ملی ہو میری شرم کھو گئی ہے حسینہ جانم اور ویسے بھی تم ہو نہ شرمانے کے لیے ۔۔۔۔میں کیوں کرو شرم اگر شرم کرتا رہا تو بچے کہاں سے آئیں گے
انتہائی بے شرم انسان ہیں آپ !!!
تمہاری دو دن کی صحبت کا اثر ہے حسینہ جانم۔۔۔اب تم مجھے ایسے نہ گھورو یہ نہ ہو میرا موڈ خراب ہو جائے
ضماہیر کی بات سنتے ہی رباشہ نے جلدی سے اپنا چہرہ موڑا تھا
ضماہیر رباشہ کی اس قدر جلدی پر اپنی ہنسی ضبط نہ کرسکا اس کاایک زوردار قہقہہ بلند ہوا تھا جبکہ رباشہ نے اس کو دیکھنے کی ہمت تک نہ کی تھی
مگر وہ اس شخص کی مسکراہٹ پر قربان ہوی تھی یہ جاندار قہقہہ اس کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا تھا وہ اس شخص سے محبت کرنا چاہتی تھی اور کرتی بھی کیسے نہ شوہر تھا وہ اس کا ۔۔۔۔اپنے شوہر سے محبت کرنا اس پر فرض تھا
لیکن اس کی محبت کا کیا جس سے اس نے پانچ سال محبت کی تھی ۔۔۔اسے غصہ آیا تھا آج خود پر اس نے کیوں کسی شخص سے محبت کی ۔۔۔۔۔اسے اپنے مقدر کا انتظار کرنا چاہیے تھا !!
یہاں دیکھو میری طرف ؟؟؟ اس نے حکم دیا تھا رباشہ کو جس کا اس پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا تھا
سنائی نہیں دیا تمہیں یہاں دیکھو میری طرف ضماہیر کا لہجہ سخت ہوا تھا
ضماہیر کے بدلتے تیور دیکھ کر رباشہ نے جلدی سے اپنا چہرہ اس کی جانب کیا تھا
ہممم اور اب مجھے دیکھتی رہو !!!
آپ کے ساتھ کوئی مسلہ ہے کیا ابھی آپ نے کہا کہ میری طرف نہ دیکھو میرا موڈ خراب ہو جائے گا اور اب کہتے ہو میری طرف دیکھو کیا کروں میں
تم بس وہ کرو جو میں کہتا ہوں اور اب میں نے کہاہے مجھے دیکھو
رباشہ نے ایک لمبا سانس ہوا میں چھوڑا اور اسے دیکھنے لگی !!!
ہائے حسینہ جانم ایسے دیکھو گی تو میں ٹھیک سے گاڑی نہیں چلا سکوں گا کہیں پیار نہ ہو جائے مجھے تم سے ۔
ضماہیر۔۔۔۔۔رباشہ نے الفاظ کھینچ کر ادا کیے تھے اور خود گاڑی کی سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھیں موندہ گئی
ضماہیر بھی اس کو بہت تنگ کر چکا تھا اس لیے وہ خاموش سے گاڑی چلانے لگا
