Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 02)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 02)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کہاں گئے تھے تم ضماہیر؟ حویلی میں قدم رکھتے ہی حویلی ماں جو کب سے اس کا انتظارکر رہی تھیں اس سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ میں ان دنوں کہاں جاتا ہوں وہ بغیر کسی جھجک کے بول گیا ۔۔۔۔تو تم نے سدھرنا نہیں ہے ؟ کیوں اپنے دشمن بنے ہوے ہو ؟ اس گاؤں کے سرپنج ہو کر تم دوسرے گاؤں کے لوگوں کے لیے ڈاکو بنے ہو ۔۔۔۔کیوں اپنی عزت روندھنا چاہتے ہو ؟؟ وہ اس سے سوال کر رہی تھیں ۔۔۔میں اچھے سے جانتا ہو میرے لیے کیا اچھا ہے اور کیا برا ۔اپ کو میری فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔اپ اپنا یہ سارا پیار اپنے پوتے کے لیے سنبھال کر رکھیں آخر وہ بھی تو آنے والا ہے کچھ دنوں تک۔۔۔اور ویسے بھی مجھے آپ کے اس دکھلاوے کے پیار کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ اپنا یہ پیار اپنے پاس ہی رکھیں۔وہ تمیز کی تمام حدود پار کرتے گرج کر بولنے لگا۔
خالہ میں کمرے میں جا رہا ہوں چائے لے آنا ۔۔وہ سیڑھیاں چڑھتا اپنی خالہ کو ایک آرڈر دے گیا ۔۔اس کی زندگی میں ایک یہی انسان تو تھا جس نے ضماہیر سے بے لوث محبت کی تھی ضماہیر کے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کی خالہ فاطمہ نے بچپن سے اس کو سنبھالا تھا اور وہ اب تک اپنا یہ کام سر انجام دے رہی تھی۔۔۔ضماہیر کو اپنے ہر قدم پر ملنے والا شخص صرف اور صرف اس کی خالہ تھی ۔۔۔۔
دانیال میری شام کی فلائٹ ہے رباشہ دانیال کو اب تک قریباً چھ سات دفعہ کال کر کے یہ بات بتا چکی تھی۔۔۔جانتا ہوں اور کتنی دفعہ بتاؤ گی یہ بات ۔۔۔نہیں وہ میں نے سوچا آپ کو بتا دوں وہ ہچکچاتے ہوے بولنے لگی۔۔۔ہمممم ۔۔۔پیچھے منہ موڑو۔۔۔۔کیوں؟؟ کیا ہے پیچھے ؟؟ جتنا کہا ہے اتنا کرو۔۔
رباشہ موبائل کان ہر لگائے پیچھے کی جانب مڑی اور وہ حیران ہوی تھی وہاں دانیال کو پا کر وہ اپنے ہاتھ میں ایک خوبصورت سا سرخ رنگ کے گلابوں کا گل دستہ لیے کھڑا تھا ۔۔۔وہ بھاگ کر اس کے گلے لگ گئی۔۔مجھے یقین تھا آپ مجھے ضرور ملنے آئیں گے وہ اس کے سینے پر اپنا سر ٹکا گئی۔۔
تمہیں لگتا ہے میں تم سے ملنا نہ آتا ۔۔۔
نہیں مجھے۔۔میرے۔۔۔وہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرنے لگی۔۔۔یہ جو تم میری قربت میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی ہو یقین مانو سیدھا دل پر لگتی ہو وہ رباشہ کے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھونے لگا ۔۔
اپنے ماتھے پر لمس محسوس کر کے رباشہ فورا سے اس سے پیچھے ہوی ۔۔۔۔یہ پہلی دفعہ تھا جب وہ دانیال کے اتنا قریب آئی ورنہ پانچ سالوں تک قریب آنا تو بہت دور کی بات وہ کبھی اس سے اکیلے ملنے باہر تک نہ گئی تھی ۔۔
یہ پھول۔۔اس نے گل دستے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ہم میرے پھول کے لیے ۔۔۔اج پہلی دفعہ دانیال اس قدر بے باک باتیں کر رہا تھا اور وہ بے چاری اس کی باتوں پر سمٹنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔
یہ پھول میری محبت کے لیے ہیں انہیں ہمیشہ سنبھال کر رکھنا وہ گل دستہ رباشہ کے ہاتھ میں تھما گیا۔۔۔
مگر یہ تو خراب ہوجائیں گے ۔۔۔ان کا رنگ بھی خراب ہو جائے گا وہ معصوم سا چہرہ بنائے اس کے سامنے اپنا مسلہ بیان کرنے لگی۔
نہیں ہوں گے ان کو میری محبت کی طرح لینا ۔۔۔اگر تم ان پھولوں کو میری محبت کی طرح لو گی تو روز تمہیں ان کے رنگوں میں نکھار ملے گا۔۔
میری فلائٹ کا وقت ہوگیا ہے ۔۔۔وہ ایئرپورٹ پر ہونے والے اعلان کی طرف متوجہ ہوی جہاں پاکستان جانے والی فلائٹ کے متعلق اعلان کیا گیا تھا۔۔
خیال رکھنا اپنا میرے پاس تمہارا متبادل نہیں وہ بوجھل لہجے میں کہتا ایک دفعہ پھر اس کے ماتھے پر جھکا تھا ۔۔
خدا حافظ ۔۔۔رباشہ خدا حافظ کہتی ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوگئی اور وہ اسے جاتا دیکھ رہا تھا اس کے دل میں ڈر تھا اسے کھونے کا اس سے دور ہونے کا مگر وہ اسے اگنور کرگیا۔۔گھر جا کر ہمارے رشتے کی بات کرنا ۔۔۔۔اس نے گاڑی میں۔ بیٹھ کر رباشہ کو میسیج کیا اور گاڑی کا رخ اپنے فلیٹ کی جانب کیا۔۔۔
کچھ سمجھاؤ اس لڑکے کو تم نے زیادہ سر پر چڑھایا ہوا ہے ۔۔۔پو چھو اس سے کیا کرتا پھرتا ہے یہ ؟ حویلی ماں فاطمہ بیگم پر برس پڑی جو اس وقت ضماہیر کے لیے چائے بنا رہی تھی ۔کیوں حویلی ماں کیا ہوا ہے؟
کیا ہوا ہے ابھی بھی کچھ ہونے لائیک بچا ہے !!!! یہ کیا کرتا ہے یہ لڑکا چوریاں۔۔۔۔۔اسے کچھ شرم و لحاظ ہے بھی !!!
چوری نہیں اسے ڈاکہ مارنہ کہتے ہیں ضماہیر جو چائے کہ انتظار میں کمرے میں بیٹھا تھا چائے نہ آنے پر خود ہی کچن میں آگیا ۔۔۔کوئی شرم ہے تم میں ۔۔۔؟؟؟ کتنے دھڑلے سے کہ رہے ہو ڈاکہ مارنہ کہتے ہیں اسے!
جو سچ ہے وہ سچ ہے میں چوری نہیں کرتا ڈاکہ مارتا ہوں کیونکہ میں چیزیں لوگوں کی پیٹھ پیچھے نہیں بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر اٹھا تا ہوں۔۔۔
کس چیز کی کمی ہے تمہیں سب کچھ تو تمہارے پاس ہے اپنا کاروبار بھی ہے پھر کیوں کرتے ہو یہ سب وہ ہار ماننے والے انداز میں بولنے لگیں
آپ ماضی بھول سکتی ہیں میں نہیں خیر بلکہ آپ کا ماضی کیا ۔۔۔اپ کا تو وقت بہت اچھا گزرا تھا آپ تو چلی گئی تھی نہ اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس عیش و عشرت کی زندگی گزارنے ۔۔۔وہ وقت دیکھا تو میں نے تھا ۔۔۔اور جب تک میں اس کا بدلہ نہیں لوں گا مجھے چین نہیں ملے گا ۔۔۔۔
ناجانے وہ کونسا دن ہوگا جب تم سدھرو گے۔۔۔تمہاری عقل پر پڑے یہ بٹے ہٹیں گے۔
خالہ چائے بن گئی وہ حویلی ماں کو مکمل تور پر اگنور کر گیا
ہاں ہیر بن گئی ۔۔اچھا لے آئیں کمرے میں ۔۔میں اوپر جارہا ہوں
چلو تم میں لاتی ہوں۔۔۔ہمم وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا
کچھ سمجھاؤ فاطمہ اسے اس جہاں کا نہیں تو اگلے جہاں کا ہی خیال کر لے کیا جواب دے گا یہ خدا کو تم تو اچھے سے جانتی ہو کہ ڈاکہ زنی کی سزا کتنی بڑی ہے
میں کوشش کروں گی ۔۔۔وہ حویلی ماں کو تسلی دیتی خود بھی ضماہیر کے کمرے کی جانب چلی گئی۔
ہیر ایک بات کہوں ۔۔ضماہیر چائے پینے کے بعد فاطمہ کی گود میں سر رکھ چکا تھا جو اب ہلکے ہلکے ہاتھوں سے اس کا سر دبا رہی تھی
خالہ آپ کب سے اجازت لینے لگی ۔
نہیں میں نے سوچا کہیں تمہیں برا نہ لگے
نہیں نہیں کہیں کیا کہنا ہے آپ کو ؟؟
تم یہ سب چھوڑ دو جانتے ہو اللہ بھی ناراض ہوتے ہیں اس پر
چھوڑ دوں کیسے چھوڑ دوں آپ بھول گئی کیا کیا تھا ان گاؤں والوں نے ہمارے ساتھ ۔۔کیسا ماضی تھا ہمارا !!!
میرے بچے تم اس کی فکر نہ کرو وہ رب ہے نہ سب دیکھ رہا ہے وہ سب سے بڑا اور صاف انصاف کرنے والا ہے ۔تم اس پر چھوڑ دو
خالہ میں اس پر مزید بحث نہیں چاہتا ۔اس نے اپنا آخری پیغام سنایا تھا۔اور فاطمہ بیگم پر بار کی طرح اس کی بات پر خاموش ہوگئی تھی۔
رباشہ پاکستان پہنچ چکی تھی اس نے ائیرپورٹ پورٹ سے باہر نکلتے ہی سب سے پہلے موبائل اون کیا جہاں دانیال کا میسج جگمگا رہا تھا۔
پاکستان پہنچ گئی ہو
جی میں پہنچ گئی ۔جواب دے کر اس نے موبائل واپس پرس میں رکھا اور اب اس کی منزل اس کا گھر تھا ۔پانچ سال بعد گھر آئی تھی خوشی سے اس کے آنسو ہی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔۔۔یہ آنسو اپنے والدین سے ملنے کے تھے یا پانچ سال بعد دانیال سے دور ہونے کے یہ تو وہی جانتی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ ایک گھر کے سامنے کھڑی تھی جو اب کافی بدل گیا تھا وہ ویسا نہیں تھا جیسا وہ چھوڑ کر گئی تھی اس گھر کی کچی دیواریں بھی پکی ہوچکی تھی اور دروازہ جو کسی زمانے میں ہلکی سی ہوا چلنے پر پورا آسمان سر پر اٹھا لیتا تھا آج تیز ہوا چلنے کے بعد بھی خاموش تھا بالکل اس کی طرح۔وہ اپنے سینے میں اتنے طوفان لیے بلکل خاموش تھی۔
دو منٹ گھر کے باہر رکھنے کے بعد اس نے دروازہ بجایا اور یہاں اس کے ہاتھ لڑکھڑائے تھے یہ سوچ کر وہ اپنے والدین کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کیسے کرے گی۔کیسے کہے گی کہ وہ بھی محبت کی ڈور میں الجھ چکی ہے اور سلجھنا اب اس کے ہاتھ میں نہیں ۔اخر اس نے پاک محبت کی تھی دانیال سے کوئی ناجائز رشتہ بنانے کی بجائے خدا سے اس کے اور اپنے درمیان معتبر اور جائز رشتہ مانگا تھا اس نے۔
چند سیکنڈ کے بعد ہی دروازہ کھلا اور ایک بوڑھی عورت جس کے چہرے پر زیادہ ہڈیاں ہی تھیں چہرہ کی کھال گویا منڈھ گئی تھی ۔۔وہ فوراً سے اس کے سینے جالگی۔
رباشہ میری بچی۔۔۔وہ دروازے کے باہر ہی کھڑی اس کے گلے لگ گئی اور بچوں کی طرح سسکنا شروع ہوگئی۔اپنی ماں کو اس حال میں دیکھ کر اسے خود پر غصہ آنے لگا آخر یہ اس کی کوتاہیوں کا ہی تو نتیجہ تھا اگر وہ چاہتی تو پاکستان رہ کر ہی ایم بی بی ایس مکمل کر سکتی تھی اپنی ماں کا ساتھ دے سکتی تھی اس کا خیال رکھ سکتی تھی۔۔۔۔مگر اب وہ وقت گزر چکا تھا ۔۔۔
وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنی ماں کے سینے لگے گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔حمنہ ۔۔۔۔۔رباشہ کے ابو دی ۔۔ریکھ۔۔۔دیکھو۔۔؟خوشی کے مارے ان کے منہ سے الفاظ تک ادا نہ ہوے ۔۔۔دیکھو کون آیا ہے ۔۔۔حمنہ جو ابھی ابھی کالج سے آئی تھی اپنے یونیفارم میں موجود تھی رباشہ کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گئی۔۔
باجی ۔۔باجی آپ ؟ باجی آپ ہی ہیں نہ۔۔۔۔اس نے تصدیق چاہی ۔۔۔جیسے وہ رباشہ کے وجود کی موجودگی کا یقین چاہتی ہو
چندا میں ہی ہوں
رباشہ نے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے ۔۔۔اور اپنی بہن کو یقین دلایا کہ وہ یہاں حقیقت میں موجود ہے
ابو آپی آگئی ۔۔۔۔اپنی بہن کو سینے سے لگائے حمنہ صحن میں کھڑی ہی چلائی تھی زرا فاضلہ پر ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ہاتھ میں ایک چھڑی جو شاید اس کا سہارا تھی اس کو تھامے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔رباشہ کے قریب پہنچ کر اس نے اپنی بیٹی کے ماتھے پر نرمی سے اپنے لب رکھے ۔۔۔۔۔مرد زات تھی اس لیے اپنے اندر امڈنےوالے طوفان ۔۔۔۔وہ پانچ سال جب اس نے روز اپنی بڑی بیٹی کو یاد کیا تھا۔۔۔جب روز اس کے حق میں دعا کی تھی ۔۔۔جب وہ روز اپنی بیٹی کو اپنے سامنے پانے کے لیے تڑپا تھا وہ ان سب کو پس پشت ڈال کر اپنے اندر کے احساسات کو دور کہیں کسی ملبے تلے دفنا گیا اور بس خاموشی سے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر اس سے دور ہوا
باجی آپکو تو ابھی آنے میں دیر نہیں تھی۔۔۔یہ ان چار لوگوں کے درمیان کی جانے والی گفتگو کا پہلا سوال تھا
آنے میں تو ابھی وقت تھا مگر میں فری ہوگئی تھی اس لیے مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔رباشہ کی آنکھیں ابھی بھی آنسوؤں سے تر تھی۔۔۔
جا رباشہ کمرے میں چلی جا ۔۔نہا دھو کر آ میں کھانا لگاتی ہوں تھک گئی ہوگی تو
جی امی وہ اپنا بیگ اٹھائے اپنے کمرے کی جانب چل دی
باجی باجی ۔۔۔اس وقت رات کے دس بج رہے تھے وہ اپنی ماں اور باپ کے ساتھ بیٹھی انہیں اپنا حال سنا رہی تھی بتا رہی تھی کی یہ پانچ سال کیسے گزرے اس سب میں وہ دانیال کو تو بھول ہی چکی تھی
باجی کال آرہی ہے آپ کے موبائل پر حمنہ نے رباشہ کو موبائل دیا جہاں پر پھر سے سولمیٹ جگمگا رہا تھا ۔۔۔رباشہ کے جسم میں خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی۔۔۔اس کا جسم سرد پڑگیا اور یہ پہلی دفعہ تھا جب اسے دانیال کی کل آنے پر خوشی کی بجائے خوف محسوس ہو اتھا
اس نے کال کاٹی اور موبائل سائلینٹ پر لگا دیا
امی مجھے اب نیند آرہی ہے پانچ منٹ بعد ہی وہ نیند کا بہانا کرتی کمرے سے نکل گئی
ہاں میری بچی سوجا تھک گئی ہوگی۔۔۔
کہاں تھی کب سے کال کر رہا ہوں ۔۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہی رباشہ نے دروازہ بند کیا اور دانیال کو کال ملائی
نیچے امی ابو کے پاس تھی
تو تم بھول گئی مجھے اپنی مصروفیات میں۔۔۔وہ رباشہ سے سوال کرتا اس کی بکھری سانسوں کو مزید بکھیر گیا
آپ کو لگتا ہے میں آپ کو بھول سکتی ہوں ؟ اب کی بار سوال رباشہ کی جانب سے تھا۔
ہمممممم ۔۔۔۔۔وہ محض ہمممم کہتا بات بدل گیا
بات کی ہماری ۔۔۔۔اتنی جلدی۔۔
اتنی جلدی مطلب؟؟؟؟؟ میں آج ہی تو گھر آئی ہوں اور آج ہی بات کر لوں۔۔۔۔ابھی مجھے وقت چاہیے ۔۔۔۔۔مجھے ہمت اکھٹی کرنے کے لیے وقت درکار ہے
ٹھیک ہے آج ہفتہ ہے اور اگلے ہفتے اسی وقت میں تمہیں کال کروں گا۔۔۔اس سے پہلے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہوگا۔۔۔تب مجھے جواب دینا
جی صحیح ہے اس کے پاس ایک یہی جواب دینے کے علاؤہ دوسرا راستہ بھی تو نہیں تھا
جواب ہاں میں ہوں۔۔۔دانیال کا لہجہ سخت ہوا تھا اور اگر ایسا نہیں ہوا تو تم مجھ سے بخوبی واپس ہو خدا حافظ
وہ خدا حافظ کہتا کال کاٹ گیا ۔۔۔۔جبکہ رباشہ کے رگ و پے میں خوف سرایت کر گیا۔۔۔۔وہ تو مکمل ارادے سے آئی تھی کہ اپنے والدین کی رضامندی لے گی۔۔۔۔مگر یہاں آکر تو مانو وہ رضامندی حاصل کرنے سے پہلے ہی ہار گئی تھی۔۔۔وہ نامعلوم منزل کی راہی تھی وہ نہیں جانتی تھی اس کی زندگی کہاں لے کر جانے والی ہے ۔۔۔۔وہ اپنی منزل سے بے خبر ایک انجان بھٹکے مسافر کی طرح اپنی منزل ڈھونڈنے کے لیے منصوبے بنانے لگی
