Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 30)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 30)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
دور ہٹیں مجھ سے اور یہ کیا بیہودگی ہے ؟
بیہودگی ! میری محبت ہے یہ_ تمہیں میری محبت دکھائی نہیں دے رہی میں پاگل ہوگیا ہوں یار _ میرا جسم میری روح ہر چیز کو تمہاری طلب ہے ۔
تم نشہ ہو میرا جو میری نسوں میں گھل کر مجھے سکون دیتا ہے ۔
اپنا سکون آپ نے خود برباد کیا ہے !! وہ تذبذب سے لہجے میں اپنے زخم کا کچھ حصہ اسے بھی دے گئی ۔
بس رباشہ بہت ہوا ایک چیز کی بھی حد ہوتی ہے میں کب سے اس کے لیے معافی مانگ رہا ہوں میں جانتا ہوں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی تھی مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر نالاں ہوجاؤ ۔
رباشہ شاید اس قدر سنگ دل ہوچکی تھی کہ ضماہیر کے آنسو اس کے لیے بے مول تھے _ وہ شخص جو رباشہ کے ایک آنسو کی قیمت اپنی جان سے زیادہ لگاتا تھا آج اس کے آنسوؤں کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی تھی اس کی بیوی کی نظر میں ۔
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ !!! آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی ۔
پھر وہی ضد !! وہ غصے میں دھاڑا تھا _ سامنے پڑے گلدان کو اتنی سختی سے دیوار پر مارا کہ وہ ریزہ ریزہ ہو کر ادھر ادھر پھیل گیا ۔
تمہیں سمجھ نہیں آتی میں نے کیا بکواس کی تھی تم مجھ سے کسی صورت آزاد نہیں ہوسکتی میری موت کے بعد بھی نہیں ۔
مگر جب مجھے رہنا ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔مجھے نہیں رہنا ایک ایسے شخص کے ساتھ جو کسی بھی شخص کی باتوں میں آکر اپنی بیوی کا کردار خراب کرے ۔
نہیں رہنا تمہیں ؟ گویا اس نے ایک دفعہ وضاحت چاہی تھی ۔
نہیں چہرہ موڑے وہ ابھی بھی اپنی بات پہ قائم تھی ۔
یہ سوچ دماغ سے نکال کر کوڑے دان میں پھینک آؤ کہ تمہیں میرے ساتھ نہیں رہنا _ تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا ہے میں بھی دیکھتا ہوں کیسے دور جاتی ہو تم مجھ سے ۔
شدت سے چور لہجے میں رباشہ کے چہرے کو تھوڑی سے پکڑے وہ اس کے لبوں پہ اپنا سحر انگیز لمس چھوڑ گیا ۔
نہیں رہنا نہ تمہیں _ تو اپنی ان آنکھوں کو قرار کیسے دو گی جنہیں میرے لمس کی تمنا ہو _ اپنے ان لبوں کا تازگی کیسے بخشو گی ۔
رباشہ یہ میری پہلی اور آخری بات تم مجھ سے دور نہیں جاسکتی اور نہ ہی میں تمہیں جانے دوں گا میری بیوی ہو میرے ساتھ رہو گی _ اس کے بعد دوبارہ ہمارے درمیان اس ٹاپک سے ریلیٹڈ کوئی بات نہیں ہوگی ۔
رباشہ کی فراک کو کاندھے سے ہٹائے وہاں اپنے تشنہ لب رکھے خود کو سکون دینے لگا ۔
ماتھے سے بال ہٹائے وہاں اپنے لب رکھے اس کے لب رباشہ کی کمر کو چھونے لگے ۔
شدت سے بھرپور لمس رباشہ کو بے بس کرگیا ۔
اس کا وجود یک دم بے جان ہوا تھا جبکہ ضماہیر کے لبوں کے بڑھتے ہر قدم پر اس کے جسم میں سنسناہٹ دوڑتی تھی ۔
میں کتنا ترسا ہوں جانتی ہو تم میں نے ہر پل خود کو تمہارا قصور وار ٹہرایا ہے اور میں تھا بھی تمہارا قصور وار مگر اس کا مقصد یہ تو ہر گز نہیں نہ کہ تم میری سزا موت ٹہراؤ ۔
میں نے ہر پل تمہارا ساتھ چاہا ہے ہر پل تمہارا انتظار کیا ہے ۔
ایک مرد صرف اپنی پسندیدہ عورت کے لیے تڑپتا ہے اور یہ تڑپ مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا ۔
I am sorry zamaheer
اسے احساس ہوا تھا اپنی غلطی کا یہ بات تو وہ بھی اچھے سے جانتی تھی کہ ضماہیر ایک مرد ہے اگر وہ آنا پرست بن جائے تو وہ کچھ بھی کر گزرسکتا ہے مگر وہ اسے منارہا تھا ۔۔۔۔اس کے جزبات کا خیال کر رہا تھا ۔
اتنی سزا بہت تھی ضماہیر کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔اور آج اس کی سزا ختم ہوی تھی
ضماہیر مجھے معاف کردیں رباشہ کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر بہنے لگا تھا ۔
نہیں حسینہ جانم !!! یہ آنسو اتنے بے مول نہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر تم ان کی قیمت گھٹا دو ۔
رباشہ کی آنکھوں پہ جھکے اس کے ایک ایک آنسو کو اپنے لبوں سے چننے لگا ۔
تم چھوڑ گی تو نہیں نہ مجھے ………..؟؟؟؟
کبھی نہیں ضماہیر کی بات ختم ہوتے ہی رباشہ نے جلدی سے جواب دیا تھا ۔
جبکہ رباشہ کی اس قدر جلدبازی پر ان دونوں کا ہی قہقہہ بلند ہوا تھا ۔
میری سانس ہو تم اگر تم نہ ہو تو یہ ضماہیر بھی نہیں _ میرے جینے کی وجہ ہو تم اگر تم نہیں تو یہ ضماہیر بھی بے وجہ ہے ۔
حسینہ جانم ! میری قسمت جس پنسل سے لکھی گئی ہے وہ اب ٹوٹ گئی ہے تم سے اگے تمہارے بعد میری قسمت میں کچھ نہیں ۔
جذبات سے لبریز لہجے آنکھوں میں نمی لیے وہ رباشہ کے لبوں پہ جھکا تھا ۔
یہ نمی رباشہ کے مل جانے کی تھی یا شاید اپنے صبر کے پھل کو حاصل کر لینے کی ۔اس نے ثبوت دیا تھا وہ دیوانہ ہے اپنی بیوی کا _ وہ دیوانہ ہے اپنی حسینہ جانم کا ۔
اجازت ہے حسینہ جانم !! تمہیں اپنی سانسوں سے نتھارنے کی _ تمہارے نشے کو اپنے حواس پہ طاری کرنے کی ۔
ججج_ جی وہ جی جان سے کانپی تھی ۔
ویسے حسینہ جانم مجھے اب تم سے اجازت تو طلب نہیں کرنی چاہیے مگر کیا کریں رسم نبھانی پڑتی ہے آنکھ ونگ کیے وہ رباشہ کو مزید اپنے حصار میں قید کرگیا ۔
ضماہیر کے حصار میں وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی آنکھیں موندھ گئی ۔
نہیں نہیں حسینہ جانم یہ آنکھیں بلکل بند نہیں ہوں گی آج یہ کھلی رہیں گی آج یہ میری شدتوں کو دیکھیں گی رباشہ کے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھوے وہ مدحوش ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔اج یہ میری تڑپ دیکھے گی ______اج یہ دیکھیں گی کہ کوئی شخص اس قدر بھی کسی کا دیوانہ ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔رباشہ کی شہ رگ پہ جھکا وہاں اپنی گرم سانسیں چھوڑے وہ رباشہ کو خود میں قید کرنے لگا ۔
چلو اپنا سامان باندھ لو!!
ہائے شکریہ شکریہ مجھے پتا تھا تم جیسا شخص کبھی میرے ساتھ رہ ہی نہیں سکتا _ آخر تم اتنی سمجھدار ہو اور میں میرے پاس تو اپنی خود کی عقل بھی نہیں ہے لوگوں سے ادھار مانگ کر استعمال کرتی ہوں زاویار کی بات سنتے ہی مناہل کی خوشیاں ساتویں آسمان پر پہنچی تھی ۔
دل چاہ رہا ہے تمہارے ان لبوں کو چوم لوں جن سے تم نے اتنے اچھے الفاظ بولے ہیں ۔
اس نے یہ بات دل میں سوچا تھی مگر شاید اس کی زبان اس سے دغا کرگئی تھی ۔
ہاں تو دیر کیسی آؤ اور چوم لو مناہل کی بات سنتے زاویار اسی کی جانب بڑھنے لگا تھا ۔
زاویار کا ایک ایک بڑھتا قدم مناہل کی سانسوں کو خشک کر رہا تھا ۔
نہیں نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
پھر کیا مطلب تھا تمہارا زاویار کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔
میرا مطلب یہ تھا _ نہیں مجھے نہیں پتا کیا مطلب تھا میرا ۔
تمہاری مطلب بس اتنا ہے کہ تمہارے شوہر کو اس وقت تمہارے ان ہونٹوں کی طلب ہے جھٹکے سے مناہل کو کھینچے زاویار پوری شدت سے اس کے لبوں پہ جھکا تھا ۔
ہم حویلی جارہے ہیں ؟ مناہل سے دور ہوے اس نے اپنا اعلان سنایا تھا ۔
حویلی کیوں ؟ اتھل پتھل سانسوں کو ترتیب دیے وہ زاویار کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔!!!
تمہارے مائیکے جاؤں گا گھر جمائی بننے _ مناہل کی جانب سے گزرے اس کے کان پہ اپنی سانسیں چھوڑے وہ اس سے آگے آکر بیڈ پر بیٹھا تھا ۔
وشمہ یار اب اٹھ بھی جاؤ میں رباشہ کو بھی کب سے چھوڑ آیا ہوں ٹائم دیکھو شام کے چار بج رہے ہیں اور تم صبح آٹھ بجے سے سورہی ہو ۔
یار اٹھ جاؤ بھوک لگ رہی ہے دانیال وشمہ کو اٹھانے کا ہر طریقہ آزما چکا تھا مگر ایک وہ تھی جس کے کان پر جو تک نہیں رینگی تھی ۔
اگر آپ کو اپنی بھوک کی اتنی فکر ہوتی ہے تو ساری رات مجھے سکون سے سونے دیا کریں ۔
ساری رات جگا کے رکھتے ہیں اور پھر آپ کو مجھے جلدی اٹھانے کی پڑی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
جلدی !!! ہیں
یہ جلدی ہے شام کے چار _ اس نے یاد دہانی کرائی تھی ۔
میں سوئی کب تھی ؟
صبح آٹھ بجے !!!!
اس سے پہلے سوئی تھی میں ؟
نہیں _
تو پھر اب خود دیکھ لیں صرف چار گھنٹے سوئی ہوں _
اگر نیند پوری نہ کی جائے تو مما اور بے بی دونوں کے لیے مسئلہ بنتا ہے ۔
مسئلہ _ کیسا مسئلہ!!!
ڈارک سرکلز ہوجائیں گے نہ !!!پھر دیکھو سب کی کہیں گے مما اور بے بی دونوں کے ہلکے ہیں ۔۔۔۔یہ تو بہت برا لگے گا نہ پھر !!!!
اففف یار تم پاگل ہو کیا ..؟
جو بھی ہوں جیسی ہوں آپ کی ہوں ۔
بلکل میری ہو اور میری رہو گی _
ویسے وشمہ !!! وشمہ کے ساتھ اپنی جگہ بنائے دانیال نے وشمہ کا سر اپنے بازو پر رکھا تھا ۔
جی _ آدھ کھلی آنکھوں میں نیند کا خمار لیے اس نے جواب دیا تھا ۔
ہماری پرنسز کب آئے گی ۔
سات مہینے بعد _
اس سے پہلے نہیں آسکتی کیا ؟؟
خدا کا خوف کریں آپ کیا ایبنورمل ڈیلیوری چاہتے ہیں ۔
وشمہ کی آدھ کھلی آنکھیں فٹ سے کھلی تھی ۔
دانیال کا ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا تھا _ نہیں نہیں مطلب دیکھو سب کا بے بی نو مہینے کے بعد آتا ہے ہم کچھ الگ کرتے ہیں نہ چھ مہینے بعد بے بی !!! آدھے الفاظ ادا کرتا وہ خاموش ہوا تھا ۔
اگر اتنا شوق ہے نہ کچھ الگ کرنے کا تو پریگنینٹ ہوجائیں یہ سب سے الگ بات ہوگی ___
ہیں ۔۔۔!!! پریگننٹ میں !!!! یار یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔!!! یہ تو ناممکن ہے
تو چھ مہینے میں بے بی آپ ممکن کریں گے ؟
اچھا چھوڑو یہ بتاو تم نے مجھے کتنا مس کیا تھا ؟ وہ ایک دفعہ پھر پورانی باتیں چھیڑ بیٹھا تھا ۔
میں نے آپ کو مس ہی نہیں کیا زرا سا بھی نہیں ۔۔۔!!! اتنا سا بھی نہیں ۔۔۔!!! انگلیوں کو چھوٹا کیے وشمہ نے اشارہ کیا تھا ۔
کیوں نہیں کیا ۔۔۔؟؟ دانیال کا یک دم موڈ تبدیل ہوا تھا ۔
کیونکہ میرے ساتھ ہر وقت آپ موجود تھے ۔۔۔۔۔میرے ساتھ ہروقت آپ کے پیار کی نشانی تھی ۔۔۔اپ کا احساس تھا میرے ساتھ ۔۔۔۔۔دانیال کے نزدیک ہوے وہ دانیال کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ گئی ۔
یہ پہلا لمس تھا جو وشمہ نے خود سے دانیال کو محسوس کروایا تھا ۔۔۔۔۔۔وشمہ کی اس حرکت پر دانیال کو ٹوٹ کر اس پہ پیار آیا تھا ۔
I love you Qatil haseena ![]()
میں محبت کرتا ہوں تم سے قاتل حسینہ !!!! نہیں صرف محبت ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نشہ بن چکی ہو میرا جو میرے خون میں پھیل کر مجھے سکون دیتا ہوں میں شراب سے زیادہ تمہارا نشئی بن گیا ہوں ۔
اوہو دانیال!!! میں زرا سا فری ہینڈ کیا دے دو آپ تو شروع ہی ہوجاتے ہیں ۔
تو کون کہتا ہے مجھے شروع کیا کرو ۔۔۔۔۔جب تم میرے پاس ہوتی ہو نہ تو مجھ سے زیادہ مجھ میں شیطان ہوتا ہے جو مجھے تمہاری قربت کے لیے ورغلاتا ہے ۔
وشمہ کی آنکھوں پہ لب رکھے وہ اطمینان سے اسے اپنے ساتھ لگا گیا آج اسے کوئی ڈر نہیں تھا ______ نہ اپنی قاتل حسینہ سے دوری کا ________ اور نہ اسے کھونے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔پرسکون تھا وہ آج ____ مگر وہ یہ بھوک گیا تھا خوشی کے پل چند دنوں چند گھنٹوں چند سیکنڈ کے مہمان ہوتے ہیں ۔
پھوپھو !! گھر میں داخل ہوتے ہی مناہل نے سب سے پہلے حویلی ماں کو پکارا تھا ۔
مناہل !!! حویلی ماں جو اوپر کمرے میں تھی مناہل کی آواز سنتے ہی نیچے آئی تھی ۔
مناہل!! پکارتے وہ مناہل کو اپنے گلے سے لگا گئی مگر اس کے پیچھے کھڑے شخص کو دیکھے انہوں نے مناہل کو حقارت سے دور دھکیلا تھا ۔
پھوپھو!! حویلی ماں نے جونہی اسے خود سے دور دھکیلا تھا اس کی آنکھوں میں آنسو اتر آئے تھے کیونکہ ایک وہ ہی تو تھی جو بچپن سے مناہل کے ساتھ تھی ۔
کیا کرنے آئی ہو حویلی میں !!! لہجے سے اجنبیت ظاہر تھی ۔
کیا ہوا ہے پھوپھو!! اسے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ حویلی ماں اتنا عجیب رویہ کیوں اپنا رہی ہیں
یہ شخص کیوں آیا ہے یہاں ؟؟؟
اوہو دادو سائیں!! کیا ہے نہ آپ کی جو چھوٹی بہو تھی ان کی اولاد ہوں بس یہ الگ بات ہے آپ کے بیٹے کی نہیں!!!
زاویار کی بات نے مزید جلتی پر تیل کا کام کیا تھا ۔
نکلو میری حویلی سے دونوں ؟؟؟
اب آئے اپنی مرض سے ہیں تو جائیں گے بھی اپنی مرض سے ۔
بیگم کونسا کمرہ ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مناہل کا ہاتھ پکڑے وہ سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔
جبکہ مناہل آنسوؤں سے بھرا چہرہ لیے بار بار حویلی ماں کو دیکھ رہی تھی ایسا بھی کیا ہوگیا ہے جو پھوپھو اتنا بدل گئی ہیں اس نے دل میں سوچا تھا ۔
میری حویلی سے نکلو !!! راستے میں حائل ہوے وہ چیخی تھی ۔
دادو سائیں دیہان سے بڑھاپے میں زیادہ چیخنے سے ہارٹ اٹیک آجاتا ہے اور میں نہیں چاہتا میں اپنی دادی کھو دوں!!! ایک آنکھ ونگ کیے وہ مناہل کے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔
یہ کیا رونے دھونے کا تماشہ لگایا ہوا ہے تم نے ؟؟
تماشہ ۔۔۔۔!!!! ایک تو وہ پہلے ہی حویلی ماں کی وجہ سے پریشان تھی اوپر سے زاویار مزید اسے تنگ کر رہا تھا ۔
ہاں نہ تماشہ ہی تو ہے یہ دو چار جعلی آنسو تو تم ویسے بھی بہا لیتی ہو ۔
تم بدتمیز انسان !!! مناہل نے انگلی کا اشارہ کیا تھا ابھی میرا کوئی ارادہ نہیں تم سے مغز ماری کرنے کا ۔۔۔۔اس کیے براہ مہربانی اپنی اس تلوار سی زبان کو لگام دو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو جب ارادہ بنے بتا دینا !!!! میں آجاؤ گا مغز ماری اور بہت کچھ کرنے ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج یہ زندگی واقعی حسین ہوگئی ہے میرے لیے …رباشہ کو اپنے حصار میں قید کیے ضماہیر کے کب بار بار اس کے گالوں پر چھوٹی چھوٹی گستاخیاں کر رہے تھے ۔
ضماہیر میں نے آپ کو بہت تکلیف دی تھی نہ ؟؟؟
میں حق دار تھا اس تکلیف کا مگر اگر تم نے اب مجھے تکلیف تو تم ناحق ایک انسان کو تکلیف پہنچاو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دانیال بابا بننے والے ہیں ؟؟ رباشہ نے ضماہیر کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی تھی شاید وہ اسے یقین دلانا چاہتی تھی کہ اس کی زندگی میں دانیال—- اور دانیال کی زندگی میں وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔۔
ہائے حسینہ جانم !!! یہی تو غم ہے !!
کیوں آپ خوش نہیں ہیں ؟؟؟؟
خوش تو میں ہوں ——– مگر بہت خوش میں تب ہوں گا جب تم مجھے یہ خبر سناؤ گی کہ تم ماں بننے والی ہو ہمارے رحمت آنے والی ہے ۔۔
ضماہیر اور دانیال دونوں ایک ہی سوچ رکھتے تھے انہیں اپنی اولاد بیٹی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔رحمت کے طلبگار تھے دونوں
رحمت!! وہ نعمت بھی تو ہوسکتی ہے نہ ؟؟؟
تم کیا چاہتی ہو میں خوش قسمت نہ بنو ؟؟
مطلب جس کی پہلی اولاد بیٹی ہوتی ہے وہ خوش قسمت ہوتے ہیں ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوتے ہیں ۔۔۔۔اور میں چاہتا ہوں ہم خوش قسمت کہلائے جائیں ۔۔۔۔
