Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 16)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 16)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
ضماہیر کی منمانیاں بڑھنے لگی تھی ۔انکھوں میں جذبات کا سمندر لیے وہ رباشہ کے انگ انگ کو مہکا رہا تھا ۔
رباشہ بغیر کسی مزاحمت کے اس کی بانہوں میں پگھل رہی تھی ۔
اپنی گستاخیاں کرتا وہ رباشہ کے لبوں پہ جھکا سرگوشیاں کرنے لگا ۔
ضماہیر میں نے آپ کو اپنا سب کچھ بتادیا کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ آپ مجھ سے بد گماں ہوں ۔اپ نے مجھے اپنے ماضی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ؟
کیا کرو گی جان کر ؟ اس کے لہجہ میں کرب واضح تھا ۔
میں آپ کے ہر دکھ درد کا ساتھی بننا چاہتی ہوں ۔میں جانتی ہوں مجھے ایک نا محرم سے محبت تھی جو میرا محرم نہ بن سکا مگر میں اپنے شوہر کے ساتھ مخلص رہنا چاہتی ہوں ۔میں نہیں چاہتی جو گناہ میں نے کیا ہے میں اس سے بھی بڑا کوئی اور گناہ کرو اس کی آنکھوں سے آنسو بہت تیزی سے بہنے لگے تھے ۔
جانم رویا نہ کرو اس کی آنکھوں پہ جھکا وہ ایک ایک آنسو پینے لگا تھا ۔
تمہارا رونہ مجھے تکلیف دیتا ہے جانم اور تم جان بوجھ کر مجھے تکلیف پہنچاتی ہو وہ اس کو اپنے ساتھ لگائے اس کے کاندھے پر سر ٹیک گیا ۔
آپ مجھے بتائیں کیا ہو اتھا آپ کے ساتھ ۔میں چاہتی ہوں آپ مجھ سے اپنا ہر غم بانٹیں ضماہیر کے سر میں اپنی انگلیاں پھیرتی وہ اسے سکون پہچانے لگی ۔
میرا ماضی یاد کرواکے تکلیف دو گی تم مجھے اس نے درخواست کی تھی ۔
آپ کی ہر تکلیف کا مرہم میں بن جاؤ گی ۔
وہ خاموشی سے رباشہ کا ہاتھ ہٹا کر اس کی گود میں اپنا سر رکھ گیا ۔
جانتی ہو سات سال پہلے ۔۔۔جس گاؤں میں تم رہتی ہو اس گاؤں کے سربراہ بڑی حویلی کے لوگ تھے ۔
بڑی حویلی ؟
گوندل حویلی ۔ایک دن اس حویلی میں آگ لگ گئی میرے ماں، باپ ،تایا ،چاچو ،چچی وہ سب اس آگ میں جھلس کر مر گئے ۔
اور جانتی ہو یہ آگ خود نہیں لگی تھی لگائی گئی تھی
کیا لگائی گئی ؟ کس نے لگائی تھی
میری تائی مجھے سوچتے ہوے بھی شرم آتی ہے کوئی عورت اس قدر کیسے گر سکتی ہے ۔
مگر انہوں نے کیوں؟
وہ ہمارے خاندان میں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ہمارے خاندان کے رسم ورواج کے مطابق بڑی حویلی کی بہو ہمیشہ ان کے اپنے خاندان سے ہوتی ہے۔
آپ کی تائی امی وہ کہاں ہیں ؟
معلوم نہیں۔۔مگر میں ایک دن ضرور ان تک پہنچ جاؤ گا رباشہ کے رکتے ہاتھوں کو وہ ایک دفعہ پھر سر پر رکھ گیا اسے اشارہ دینے لگا کہ اس کے سر میں انگلیاں پھیری جائیں۔
آپ حویلی ماں سے اتنے خفا کیوں رہتے ہیں ؟ یہ چیز بھی تو رباشہ نے نوٹ کی تھی
اس گھر میں دو بچے اس دن یتیم و مسکین ہوے تھے جبکہ دانیال کی تو ماں بھی زندہ تھی میں نے تو ماں باپ کو بھی کھودیا تھا وہ دانیال کو لے کر اٹلی چلی گئی تھی میں وشمہ اور خالہ ایک کچے گھر میں رہنا شروع ہوگئے ۔
جہاں وہ دانیال کو لے کر جاسکتی ہیں ہمیں بھی تو لے کر جاسکتی تھی نہ
میں آج بھی وہ وقت یاد کرتا ہوں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔گاوں میں سے کسی نے یہ تک نہ پوچھا کہ ہم زندگی بھی ہیں یا مر گئے ۔
فاطمہ خالہ نے اپنی ساری زندگی صرف میرے اور وشمہ کے لیے وقف کر دی جانتی ہو ہمارا پیٹ پالنے کے لیے انہوں نے گاؤں والوں کے گھر میں کام کیا ۔
میں بھی کام کی تلاش میں بہت پھرا مجھے کہیں کوئی کم نہیں ملا یہاں تک کہ میں نے شہر میں جاکر بھیک بھی مانگی تھی وہ مرد تھا مگر آج وہ کسی بچے کی طرح رباشہ کی گود میں سر رکھ کے رو رہا تھا ۔
پھر ایک دن ہم حویلی سے اس دوسرے گاؤں میں آگئے مگر میں وہ سب کچھ نہیں بھول سکتا جو کچھ ان گاؤں کے لوگوں نے میرے ساتھ کیا وہ چاہتے تو ہماری مدد کر سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں کی تب سے میں نے یہ سوچا تھا میں اس گاؤں کو اتنا غریب کردوں گا کہ اس گاؤں میں کوئی بھی سکون سے نہ رہے وہ پل پل مریں اس کی آنکھوں سے نکلتا پانی آنکھوں میں ہی جم گیا تھا جس کی جگہ اب سرخی امنڈ آئی تھی ۔
مگر یہ تو اسلام میں گناہ ہے ؟
کسی یتیم و مسکین کو مرنے کے لیے چھوڑ دینا گناہ نہیں ؟ وہ واپس رباشہ سے سوال کرنے لگا ۔
جانتی ہو کئی کئی دن فاقہ گزارا ہے ہم نے خالہ جن گھروں میں کام کرتی تھی وہاں سے بچا کچا کھانا ہمارے لیے لاتی تھی جسے ہم کھایا کرتے تھے ۔
رباشہ تو اس شخص کو دیکھ رہی تھی جو ناجانے کتنے دکھوں کو سمو کر بھی جی رہا تھا ۔
جانتی ہو یہ حویلی والے بھی کسے کے نہیں یہ حویلی ماں جو آج یہاں ہیں اپنے پوتے کو لے گئی تھی ۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک ہی حویلی کا ایک پوتا سکون سے مخمل کے بستروں پہ آرام کریں جبکہ دوسرا فٹ پاتھ پہ رات کو تارے گن گن کے راتیں گزارے ۔
تمہیں پتہ ہے میں نے پہلی دفعہ چوری کب کی تھی ؟ کیوں کی تھی ؟
رباشہ تو بس خاموشی سے اس کے سر میں ہاتھ پھیرے اس کے دکھ کو محسوس کر رہی تھی
میں نے پہلی چوری اس پیٹ کی خاطر کی تھی
میں نے پہلی دفعہ ایک ہوٹل سے کھانا چرایا تھا پورے تین دن سے ہم بھوکے تھے وشمہ کا رو رو کہ برا حال تھا اس دن میں نے پہلی چوری کی تھی ۔
تب سے میں نے یہ عہد کیا تھا اس سب کی وجہ وہ گاؤں ہے نہ اب بس وہ گاؤں میں برباد کروں گا ۔
آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس میں اس گاؤں کے بچوں کا کیا قصور ؟
اس گاؤں کے ہر فرد کا قصور ہے میں تباہ کر دوں گا اس گاؤں کو اس گاؤں میں صرف غربت ہوگی اس کا لہجہ کرخت ہوا تھا ۔
اور دانیال! یہ سب جس پر اتنا رحم کرتے ہیں سارا کچھ تو اس کی ماں نے کیا تھا صرف اس کی ماں کی وجہ سے اس دن آگ میں میں نے اپنی لٹل فیری کھو دی تھی ۔ضماہیر کا خود پر سے بس ختم ہونے لگا تھا اس کے اندر جلتی آگ رباشہ کو بھی جھلسا رہی تھی
لٹل فیری ؟
میرے چاچو کی چھوٹی سی پری۔ لٹل فیری کو یاد کرتے ہی اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی ۔
اگر آج وہ ہوتی تو شاید تم یہاں نہ ہوتی ؟ میں نے اپنا سب کچھ کھو دیا اس دن اپنے ماں باپ اپنا پیار اور صرف یہاں تک نہیں
تمہارے شوہر پر ریپ کا الزام بھی لگایا گیا ۔
جس گھر میں ہم لوگ رہتے تھے اس گھر میں میں کچھ چیزیں بھول آیا تھا جسے لینے میں اس گھر واپس گیا تھا مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہاں اس گھر میں کچھ لوگ رہتے ہیں میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوا توا یک لڑکے کو لڑکی سے بدتمیزی کرتے دیکھا
میں اس لڑکی کو بچانے کے لیے وہاں گیا اس نے پورے گاؤں میں سب کے سامنے مجھ پر الزام لگا دیا کہ میں نے اس لڑکی کے ساتھ بد تمیزی کی ۔
دو سال بغیر کسی گناہ کے جیل میں رہا ہوں میں ۔
آپ نے اتنا سب کچھ کیسے برداشت کیا ؟
جب برا وقت اجائے تو اسے برداشت کرنے کی ہمت بھی خود آجاتی ہے حسینہ جانم !
رباشہ کی آنکھوں سے آنسو بہ کر اس کے چہرے پر گرنے لگے تھے ۔
اب تم پھر رو رہی ہو ؟
جانم میں بہت اکیلا ہوں ۔میں نے تمہیں سب کچھ بتا دیا ۔میں تنہا ہوں اس اتنی بڑی زندگی میں ۔وعدہ کرو تم ہر پل میرے ساتھ رہو گی ۔کبھی مجھے خود سے دور نہیں کرو گی ۔
میں کبھی آپ سے دور نہیں ہوں گی ۔اب میں آپ کے علاؤہ کسی دوسرے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔
تمہیں ایسا کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں حسینہ جانم!
رباشہ کی گود سے سر اٹھائے وہ رباشہ کو لٹائے خود اس کے اوپر جھکا تھا ۔
مرہم رکھو میرے زخموں پہ تم نے میرا زخموں کو واپس کریدا ہے ۔
وہ کیسے ؟
مجھے کس کرو
کس می ۔
مم مجھے شرم آتی ہے مجھ سے نہیں ہوگی ۔
اچھا پھر ایک کام کرو مجھ سے لے لو۔
اپنا غم بھلانے کے لیے اسے اپنی بیوی کا ساتھ چاہیے تھا ۔
رباشہ اس کی بات پر آنکھیں میچ گئی ۔
ضماہیر اس کی حرکت پہ اپنی ہنسی ضبط کرتا اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے سکون حاصل کرنے لگا ۔
ر باشہ کا ساتھ ہونا اسے سکون پہنچاتا تھا ۔
آہستہ آہستہ رباشہ پہ حاوی ہوے وہ رباشہ پہ اپنی محبت کی بارش کرنے لگا ۔رباشہ کے وجود پہ اپنی محبت کی چھاپ چھوڑنے لگا ۔
رباشہ کو اپنی محبت کی بارش میں بھگوتا وہ مکمل طور پہ رباشہ کو اپنا بنانے لگا ۔
ضماہیر نہیں آیا آج ؟ دادا سائیں کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھے شام کے کھانے پہ ضماہیر کا انتظار کرنے لگے ۔
شگفتہ جاؤ ضماہیر کو بلا لاؤ
بڑے سردار صاحب انہوں نے کہا تھا وہ اور بی بی صاحبہ کھانا کھا چکے ہیں ۔
اتنی جلدی ؟
صاحب جی پتہ نہیں
اچھا چلو چھوڑو ہم کرتے ہیں
تمہارے بھابھی اور بھائی کچھ زیادہ ہی کمرے میں نہیں رہتے
دانیال شگفتہ کی بات پر مکمل طور پر جل چکا تھا اس لیے نزدیک بیٹھی وشمہ کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کرنے لگا
کیا کریں میرے بھائی ہیں ہی اتنے رومنٹک! وہ ایک آنکھ ونگ کر گئی ۔
اب آپ کی طرح ان رومنٹک تھوڑے ہیں ۔
تمہیں زیادہ پتہ ہے میں ان رومنٹک ہوں ۔
آپ رومنٹک ہیں کیا ؟ وشمہ اپنی مسکراہٹ دبائے دانیال کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
فضول سوالات کے جواب نہیں میرے پاس وشمہ کو اگنور کرتا وہ اپنا دیہان کھانے پر لگا گیا
جواب نہ دیں بیوی بنا کر رومینٹک ہونے کا عملی ثبوت دے دینا
نوالا دانیال کے ہلک میں پھنسا تھا وہ کھانستے ہوے پانی پینے لگا جبکہ وشمہ تو اس کی اس حالت پہ ہنستی خود کو قابو کرنے لگی ۔
مجھے بخار ہے صبح سے میں ضماہیر کو بلالو ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا مجھے ۔
جہاں دانیال کو ان کی غیر موجودگی پہ آگ لگی تھی وہی مناہل کی حالت بھی کچھ غیر تھی ۔
دانیال لے جائے گا تمہیں۔
نہیں نہیں دادا سائیں یہ تو خود اب آیا ہے اس کو کیا پتا ہسپتال کہاں ہے
میں چل لو گی ساتھ وشمہ نے فوراً اپنا حصہ ڈالا تھا
تم تو خود کل آئی ہو تمہیں کیا پتا ؟
بچپن سارا انہی گلیوں میں گزرا ہے میرا مجھے ایک ایک جگہ حفظ ہے
ہاں ٹھیک ہے بچے تم چلی جانا ساتھ ان کے
وشمہ تو دادا سائیں کی بات پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی ۔
جبکہ دانیال ٹیبل سے اٹھ کر باہر کی جانب چلا گیا
آجاؤ میں باہر جارہا ہوں ۔دانیال میز سے اٹھ کر حویلی سے باہر نکل گیا ۔
وشمہ اور مناہل دانیال کے پیچھے پیچھے ہی باہر نکل گئی ۔
وشمہ نے چادر اچھی طرح سیٹ کی اور گاڑی کے پیچھے کا دروازہ کھولا تھا
اس کو چادر سیٹ کرتا دیکھ دانیال کو ایک انجانی خوشی ہوی تھی مگر جونہی اس نے پیچھے کا دروازہ کھولا وہ غصے میں لبریز اس کی جانب بڑھا تھا ۔
آگے آکر بیٹھو دانیال نے وشمہ کی پیٹھ کو گاڑی سے لگایا تھا ؟
کیوں ؟ وہ اس سے سوال کرنے لگی
ڈرائیور نہیں ہوں تمہارا جو تم دونوں ماہ رانیوں کی طرح پیچھے بیٹھو گی وشمہ کے بازوؤں پر موجود اس کا دباؤ بڑھنے لگا تھا ۔
تکلیف کے مارے اس کی آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا
مناہل کو بٹھا لیں آواز زرا نم ہوی تھی ۔
اپنا حق چھوڑ دو گی
Kralice ( queen)
حق تو میں اپنا چھین کے بھی لے لیتی ہوں غصے سے دانیال کو پیچھے کر کے وہ مناہل کے پاس سے گزرتی آگے آکر بیٹھی تھی ۔
دروازہ اتنی زور سے بند کیا تھا کہ دانیال کے کان میں اگلے دس منٹ تک وہ آواز گونجتی رہی ۔
گول گپے کھاؤ گی ؟راستے میں گول گپوں کی دکان دیکھ کر دانیال نے مناہل سے پوچھا تھا ۔
آپ کو شرم آنی چاہیے ؟
کیوں ؟گول گپوں کا پوچھنے میں کیسی شرم
شرم اس لیے کہ آپ گول گپے کھلانے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا نہیں کرتے سیدھا کھلاتے ہیں ۔
دانیال تو اس کی اوٹ پٹانگ باتوں پہ اسے داد دے رہا تھا
ماشاءاللہ تمہارے پاس عقل بہت ہے ۔
جی جی الحمدللہ
بس دماغ کے کسی کونے میں ہزاروں پردوں میں چھپی ہے ۔
میں اپنی بے عزتی برداشت نہیں کرتی مگر آپ تھوڑے خاص ہیں اس لیے برداشت کر رہی ہوں وشمہ نے غصہ سے سامنے پڑی پانی کی بوتل کو اٹھایا تھا ۔
میں نے بے عزتی نہیں کی دانیال کا لہجہ مکمل معصومانہ ہوا تھا ۔
عزت بھی تو نہیں کی ؟
دانیال کتنی دیر ہے اور ؟
کہاں جانے میں ؟ دانیال نے مناہل سے سوال کیا
ہسپتال ؟ اور کہاں
کیوں تمہیں سچ میں بخار ہے کیا وہ مناہل کی غیر ہوتی حالت کا مزاق بنانے لگا
نہیں مجھے شوق ہے ہسپتال جانے کا
ویسے یہ بخار سردی سے ہے یا کوئی اور وجہ ؟ دانیال نے فرنٹ مرر کو مناہل پر سیٹ کیا تھا ۔
شاید میری چادر خراب ہو رہی ہے وشمہ نے فوراً ہی شیشے کو اپنی جانب پھیرا تھا
Bu kiz beni deli etti
( This girl made me crazy)
یہ لڑکی مجھے پاگل کردے گی وہ منہ میں بڑبڑایا تھا ۔
یہ فارسی کہاں سے سیکھی آپ نے وہ ترکی زبان کو فارسی کا نام دے چکی تھی ۔
جب سے تم میری زندگی میں آئی ہو
Kralice
میں بھی یہ سیکھ لو پھر اکھٹے فارسی بولا کریں گے آخر ہر چیز میں مجھے آپ کا ساتھ جو دینا ہے ۔
ہا ہا ہا ۔۔۔اس کا زور دارقہقہ بلند ہو اتھا
مجھ سے سیکھ لینا فری میں سیکھا دوں گا
وشمہ گوندل فری کی چیزوں سے دور رہتی ہے مسٹر دانیال ۔۔۔
پھر تو میں بھی تمہیں بہت مہنگا پڑنے والا ہوں
مہنگی چیزیں میں بہت شوق سے خریدتی ہوں
اگر تم دونوں اپنی زبان بند کرو تو بہت اچھا ہوگا میرے سر میں درد ہورہا ہے مناہل ان کی باتوں سے مکمل طور پہ اکتا چکی تھی
تم خاموش ہوجاؤ تمہیں معلوم نہیں دو لوگوں کی باتیں نہیں کاٹتے وشمہ اسے جواب دیتی مکمل خاموش کروا گئی۔
دانیال تو اس کی ہمت پہ اش اش کر اٹھا وہ کیا چیز تھی ۔۔۔ روز روز وہ اسے اپنا ایک نیا روپ دکھا رہی تھی ۔
یہ لڑکی پیچیدہ ہے ؟ دانیال نے دل میں سوچا تھا ۔
وہ رات دیر سے واپس آئے تھے مناہل گھر میں داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کی جانب غصے میں بڑھی تھی اس نےث ارادے تو ضماہیر کے ساتھ جانے کے تھے جس پر دادا سائیں نے بڑی ہی صفائی سے پانی پھیرا تھا ۔
آہ وشمہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی مگر اونچی ہیل پہننے کی وجہ سے اس کا پاؤں مڑ گیا تھا
دانیال اس کی جانب بڑھنے لگا جب چلنا نہیں آتا تو اتنے اونچے جوتے نہ پہنا کرو وشمہ کے پاؤں میں بیٹھتے وہ اس کے پاؤں سے جوتے نکالنے لگا ۔
مجھے معلوم تھا کہ آپ ہیں سہارا دینے کے لیے وہ اپنی ہر ادا سے اس کو محبت ظاہر کر رہی تھی
دانیال بھی نہ چاہتے ہوے اس کی جانب کھچنے لگا تھا مگر پہلی محبت!! وہ بھلانا اتنا آسان نہیں
