Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 09)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 09)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کیا تم میری یہ ویران زندگی رنگوں سے بھرنا چاہو گی ؟
وہ اس کے لبوں کو آزادی بخشتے اس کی شہ رگ پہ جھکا اپنا گرم لمس چھوڑنے لگا
اس کے سرگوشی پر رباشہ خاموش رہی
کیا تم میرے ساتھ یہ اتنی بڑی زندگی گزارنا چاہو گی حسینہ جانم کیا تم چاہو گی کہ ہم یہ زندگی ختم ہونے کے بعد اسے چھوٹا کہہ سکیں !!
کیا تم چاہو گی کہ ہم اس لاحاصل زندگی میں ایک دوسرے کو مکمل حاصل کر لیں رباشہ کے ماتھے پہ بکھری لٹھوں کو پیچھے کرتے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے
مجھے وقت چاہیے وہ محض اتنا ہی جواب دے سکی
ضماہیر جو مکمل طور پر رباشہ پہ جھکا اپنا قفس بنائے ہوے تھا اس سے دور ہوا
تمہیں وقت چاہیے ٹھیک ہے کل رات تک کا وقت ہے تمہارے پاس کل ہمارا ولیمہ ہے میں تم سے کل اپنے تمام حقوق حاصل کروں کا حسینہ جانم ایک مرتبہ پھر اس کی کمر کے گرد بازو حائل کیے اسے پنے جانب کھینچ کر اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے گیا
یہ تو بہت کم وقت ہے !! اس کی بے باقیوں پر لرزتی رباشہ اس کے سینہ میں اپنا منہ چھپا گئی
وقت کم زیادہ نہیں ہوتا وقت ،وقت ہوتا ہے حسینہ جانم
مگر میں ابھی آپ کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں بنانا چاہتی۔ آپ کا کیا بھروسہ آج بیوی کا حق دے کر کل کو طلاق کا دھبہ داغ دیں مجھ پر اس نے اپنا ڈر ضماہیر پر افشاں کیا تھا
اگر تم پورے دل سے مجھے اپنے شوہر کا درجہ دوگی تو وعدہ کرتا ہوں ضماہیر گوندل کو ہر جگہ اپنے ساتھ پاؤ گی حسینہ جانم
مجھ سے دغا نہ کرنا !!! جہاں تک بات رہی رشتہ بنانے کی وہ تو تمہیں میرے ساتھ ہی بنانا ہے آج نہیں تو کل ہی صحیح
مگر آپ سے پہلے ۔۔۔۔وہ چاہتی تھی ضماہیر اس کے ماضی کے بارے میں جانے اس کے بولنے سے پہلے ہی ضماہیر اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیے خاموش کرواگیا
جو کچھ بھی تھا میں نہیں سننا چاہتا ۔۔۔جانم جب مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے تو اسے اس سے جڑی ان چیزوں سے نفرت ہو جاتی ہے جو ان کے درمیان فاصلہ لائے
میں اس محبت کی منزل پر چل پڑا ہوں میں نہیں جانتا اس کا انجام کیا ہوگا مگر اب میں چاہتا ہوں میں اس سفر میں اپنی منزل کو پہنچ جاؤں اس سب کے لیے مجھے سفر میں تمہارا ساتھ چاہیے میں چاہتا ہوں اس سفر میں میں تمہیں اپنا ہم سفر بناؤ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے وہ اسے سکون دے رہا تھا جبکہ رباشہ تو اس کو سنے بغیر ہی نیند کی وادیوں میں اتر چکی تھی ۔
صبح ضماہیر کی آنکھ فجر کی اذان پر کھلی رباشہ اپنی بکھری لٹھوں کے ساتھ اس کے سینے پر سر رکھے ابھی بھی اپنے خوابوں کی دنیا میں گم تھی
حسینہ جانم تم مجھے اپنا دیوانہ بنا رہی ہو ۔اپنی کمر پہ انگلیوں کی حرکت محسوس کرکے رباشہ نیند میں کسمسائی تھی
حسینہ جانم اٹھ جاؤ آج ہمارا ولیمہ ہے تمہیں تیار ہونا ہوگا وہ اسے نیند سے جگانے کی کوشش کررہا تھا
ضماہیر مجھے سونے دیں رات بھی میں لیٹ سوئی تھی آپ کی وجہ سے وہ صوفے پر ضماہیر کو دور کرتی ایک کونے میں اٹھ بیٹھی تھی
اووو بلکہ میں بھول گیا حسینہ جانم سوجاؤ تم آخر ساری رات تم نے جاگنا ہی تو ہے ایک آنکھ ونگ کرتا وہ اسے جھٹکے میں ہی صوفے پر لیٹا چکا تھا
اب کیا خاک نیند آنے لگی مجھے جلدی سے صوفے سے نیچے اتر کر وہ واشروم کی جانب بڑھی تھی
نہیں نہیں چھپکلی رات والی چھپکلی یاد آتے ہی وہ جلدی سے ضماہیر کے پاس بھاگ کر آئی تھی ضماہیر جو اس کے لیے تیار نہیں تھا اچانک ملنے والے جھٹکے پر رباشہ کے ساتھ صوفے پر گرا تھا
حسینہ جانم اب کیا چاہتی ہو تم میں دن میں بھی تمہارے ساتھ جڑا رہوں اس کی کان کی لو کو دانتوں میں دبائے ہلکا سا دباؤ دیے اس سے دور ہوا تھا
نہیں وہ چھپکلی پلیز اسے دیکھ لیں کیا وہ ابھی بھی بیڈ پر تو نہیں پلیز پلیز رباشہ بچوں کی طرح رونے کے لیے تیار تھی
میں دیکھتا ہوں مگر ایک شرط ہے
مجھے منظور ہے
پہلے سن تو لو
جو بھی ہے مجھے منظور ہے !!
ٹھیک ہے یہاں کس کرو اپنے لبوں پہ انگلی رکھے اس نے رباشہ کو بانہوں میں قید کیے اپنی جانب کھینچا تھا
پلیز چھپکلی!!!!!
سوچ لو ورنہ آج رات بھی تمہیں میرے ساتھ صوفے پر گزارا کرنا ہوگا حسینہ جانم ضماہیر ایک مرتبہ پھر اس کے وجود پہ حاوی ہونے لگا تھا
ویسے میرا گزارا تو بہت اچھا ہوتا ہے صوفے پر۔ میرا تو دل نہیں اس چھپکلی کو بھگانے کا اس کی گردن میں چہرہ چھپائے وہ سرگوشی کرنے لگا
پلیز وہ رو دینے کو تھی
پلیز ولیز کچھ نہیں میری بات مانو وہ سدا کا ڈھیٹ اپنی ضد پہ قائم تھا
رات کو !!! وہ نظریں جھکائے اپنی چھوٹی سی بات کہ گئی
کیوں رات کو کچھ خاص ہے !!!
Go to hell
Ok janummm with you
وہ ایک مرتبہ پھر آگے بڑھی تھی مگر چھپکلی کے ڈر سے واپس ضماہیر کی جانب مددگار نظروں سے دیکھنے لگی
حسینہ جانم جاؤ میں دیکھتا ہوں رباشہ کا ہاتھ پکڑے اسے واشروم میں چھوڑ کر وہ بیڈ کی جناب بڑھا تھا
ویسے ہو تم بہت کام کی چیز بیڈ کے ایک کونے میں پڑی چھپکلی کو اٹھا کر اس نے احتیاط سے کیبنیٹ میں رکھا تھا
تم آگے میرے بہت کام آنے والی ہو پیاری چھپکلی!!!
مناہل آج آنے والی ہے !! ضماہیر کے نیچے آتے ہی حویلی ماں نے اس کے سر پہ بم پھاڑا تھا
مجھے فرق نہیں پڑتا
وہ تمہارے لیے آئے گی
اسے دیکھ رہی ہیں آپ اس لڑکی کو ۔۔۔۔رباشہ جو ضماہیر کے ساتھ نیچے اتری تھی اسے اپنے قریب کیے وہ حویلی ماں سے مخاطب تھا
جانتی ہیں کون ہے یہ ؟؟؟
یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو ؟؟ میں نے تمہیں یہ بتایا ہے کہ آج مناہل آرہی ہے اور تم بغیر سر پیر کی باتیں لے کر بیٹھ گئے ہو
میں نے ایک سوال کیا ہے آپ سے ؟؟ حویلی ماں کی باتوں کو خاطر خواہ نہ لاتے ہوے وہ اپنے سوال کا جواب چاہتا تھا
کون ہے یہ ؟ کیا رشتہ ہے اس لڑکی کا مجھ سے
سب جانتے ہیں بیوی ہے یہ تمہاری
آج کا فنکشن کیوں رکھا گیا ہے
تمہارے ولیمہ کے لیے
جب آپ جانتی ہیں حویلی ماں کہ میں شادی شدہ ہوں ۔میری بیوی بھی ہے اور ماشاءاللہ اتنی خوبصورت کہ مجھے اس سے ہٹ کر ہر چیز بے رونق لگتی ہے پھر آپ کیوں ایک لڑکی کا زکر مجھ سے کر رہی ہیں اپنی بھتیجی کو اچھے سے سمجھا دیجیے گا مجھ سے سو قدم کے فاصلے پر رہے اور میری بیوی سے ہزار قدم کے فاصلے پر
اس نے اگر میری بیوی کو نقصان پہنچانے کے لیے اس کی جانب ایک قدم بھی بڑھایا تو میں اس کی وہ حالت کروں گا کہ اس کے لیے خود کو پہچاننا مشکل ہو جائے گا
رباشہ میری بیوی ہے میں اسے ہر قسم کا حق دے چکا ہوں جبکہ اس سے اپنے حقوق لے بھی چکا ہوں بے شرموں کی طرح رباشہ کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ کر پیچھے ہوا تھا شاید وہ حویلی ماں کو اپنے رشتے کا یقین دلانا چاہتا تھا انہیں بتانا چاہتا تھا کہ رباشہ ضماہیر کی زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے
بیٹھو ناشتہ کرلو ضماہیر نے اپنے ساتھ موجود کرسی کو کھینچ کر آگے نکالا تھا اور رباشہ کو اس پر بیٹھنے کا کہا
اس کرسی پر !! وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
ہاں اس پر
اس کرسی پر وہ اچھے سے جانتی تھی کہ حویلی ماں نے اسے اس پر بیٹھنے سے منع کیا تھا ساتھ ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ یہ کرسی ضماہیر کی بیوی کے لیے ہے
ہاں اس کرسی پر ضماہیر گوندل کی بیوی اس کے ساتھ ہی بیٹھے گی نہ وہ ہونقوں کی طرح اس شخص کو دیکھ رہی تھی کیا وہ حقیقت میں اتنا تبدیل ہوچکا تھا کیا وہ سچ میں چاہتا تھا کہ وہ دونوں اس لاحاصل دنیا میں ایک دوسرے کو حاصل کر لیں یا پھر وہ یہ سب صرف حویلی ماں کو دکھا رہا تھا
میں بیٹھ جاؤ یہاں اس نے حویلی ماں کی جانب دیکھا تھا
تمہارے شوہر کا گھر ہے یہ ۔تمہیں کچھ بھی کرنے کے لیے کسی کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں خاص طور پر خانہ بدوش لوگوں کی تو بلکل نہیں
رباشہ نے ضماہیر کے ہاتھ پہ دباؤ ڈالا تھا وہ اسے خاموش کروانا چاہتی تھی وہ اچھے سے جانتی تھی کہ حویلی ماں اس کے اس رویے سے کتنا ہرٹ ہوتی ہیں اس کا یہ انداز انہیں کتنی تکلیف پہنچاتا ہے
ہاتھ پر دباؤ محسوس کرتے ہی ضماہیر خاموش ہوا تھا جبکہ رباشہ اس کے پاس بیٹھ گئی تھی
حسینہ جانم تم نے شوہر کو خاموش کروانے کے لیے دیسی بیویوں والے انداز بھی سیکھ لیے تھوڑا سا رباشہ کی جانب جھکتے ضماہیر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی
ضماہیر کے زرا سا پاس آنے پر رباشہ کا ہاتھ کانپا تھا اور اس کے ہاتھ میں موجود گلاس ضماہیر پر گر اتھا جس وجہ سے ضماہیر کے سارے کپڑے پانی میں بھیگ چکے تھے
وہ خاموش رہا ۔۔۔۔۔وہ شخص جو کسی کی زرا سی کوتاہی برداشت نہیں کرتا تھا آج اپنے کپڑے خراب ہونے پر خاموش تھا ۔
میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں ۔۔۔۔۔۔حسینہ جانم میرے کپڑے نکال دو گی
اس نے درخواست کی تھی جبکہ رباشہ تو اسی سوچ میں گم تھی کہ وہ کس قدر بے باک ہے پہلے وہ سب کے سامنے اسے کس کرگیا تھا اور اب حسینہ جانم !!
فاطمہ بیگم اس سب سے بہت خوش تھی وہ یہی تو چاہتی تھی ضماہیر اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا وہ سب بھول جائے ۔۔۔۔اپنے سیاہ ماضی کے پنوں کو ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی کی کتاب سے ختم کر دے
کپڑے میں نکال دوں
ہاں مجھے لگا تم نہیں آؤ گی ضماہیر جو الماری میں منہ دیے کپڑے ڈھونڈ رہا تھا رباشہ کی آواز آنے پر پیچھے مڑا
تم نے یہ سارے کپڑے سیٹ کیوں نہیں کیے ؟؟ اس کا اشارہ ان شاپنگ بیگز کی طرف تھا جو اس نے اور رباشہ نے کل کی تھی حقیقت میں صرف اس نے رباشہ کے لیے کی تھی
کیونکہ میں نے یہ نہیں پہننے
کیا مطلب نہیں پہننے؟؟
میں اور فاطمہ خالہ شاپنگ پر جائیں گے تب میں اپنے پسند کے کپڑے لاؤ گی اور وہ پہنو گی وہ بچوں کی طرح اسے منہ بن کر دکھانے لگی
اور تمہیں لگتا ہے ایسا ہوگا ضماہیر اس کی جانب بڑھا تھا
لگنے کی تو بات ہی نہیں خالہ نے کہا ہے میں اور وہ صرف میں اور وہ اس نے اپنی بات پر زور دیا تھا شاپنگ پر جائیں گے
تم نے میری اجازت کے بغیر اس گھر سے ایک قدم بھی نکالا تو تمہاری ٹانگیں کاٹ کر فریم کروا دوں گا
رباشہ باقی تمام الفاظ کو اگنور کرتی صرف فریم پر رکی تھی
فریم !!!
ہاں فریم آخر میری حسینہ جانم کی ٹانگیں ہوں گی رایگاں تھوڑی جائیں گی
آپ کو کیوں لگتا ہے میں آپ کی دھمکی سے ڈروں گی ؟ ضماہیر کی محبت نے اسے اتنی تو ہمت دی تھی کہ وہ اب اس کے سامنے بات کر سکتی تھی بلکہ اس کی دھمکیوں کا جواب دے سکتی تھی ۔
میں نے دھمکی نہیں دی اور نہ ہی میں دھمکیاں دینے والا ہوں میں صرف پہلی اور آخری دفع بات کو صور کی طرح کان میں اتارتا ہوں اسے دیوار سے لگائے وہ اس کی کمر میں اپنی انگلیاں پیوست کرگیا
مجھے غصہ نہ دلاؤ یہ ہم دونوں کے لیے اچھا ہوگا !! ابھی تم نے صرف میرا پیار دیکھا ہے غصہ دیکھ لیا تو شاید تم ایک سیکینڈ بھی میرے ساتھ نہ رہ سکو حسینہ جانم اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیے وہ خود کو پر سکون کرنے لگا
خود کو پر سکون کیے وہ اس سے دور ہوا تھا
میں تم پر غصہ نہیں کرنا چاہتا مگر تم مجھے مجبور کرتی ہو وہ بچوں کی طرح پکڑے اسے بیڈ پر لایا تھا
میری بات مانا کرو میں جو کہتا ہوں وہ کیا کرو جس سے منع کرو اس سے دور ہوجایا کرو
میں آپ کی کوئی بات نہیں مانو گی
سو سو کرتے اس نے اپنی آستینوں سے اپنے گالوں کو رگڑا تھا
حسینہ جانم کیوں مجھے تکلیف دے رہی ہو
اس کے ہاتھوں کو اس کے گالوں سے دور لے جاتے وہ اس کے ہاتھوں پہ اپنے لب رکھے ان کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا
میں آپ کی کوئی بات نہیں سنو گی نہ ہی کوئی آپ کی مرضی کا کام کروں گی بلکہ ہر وہ کام کروں گی جس سے آپ مجھے منع کریں گے
ٹھیک ہے مجھے ہر پانچ سیکنڈ کے بعد کس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں وہ ایک آنکھ ونگ کرتا اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کرتا رباشہ کو خود پر گرا گیا
