Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 01)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 01)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
شام کے سائے ڈھلتے ہی گاؤں کے آخری کونے سے کچھ گھوڑوں کے دوڑنے کی آوازیں آنے لگی جو آہستہ آہستہ گاؤں کی حدود میں داخل ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔
گاؤں والے جو ابھی مغرب کی نماز ادا کر کے مسجد سے نکلے تھے آوازیں سن کر اپنے گھروں کی طرف دوڑ گئے کیونکہ وہ ان آوازوں سے اچھی طرح واقف تھے یہی تو وہ آوازیں تھی جو ان کی زندگیوں میں ہر مہینے کے شروع میں سور کی طرح پھونک دی جاتی تھیں اور یہ غریب و ناچار کی طرح اپنا سب کچھ ان لوگوں کے سپرد کر دیتے تھے ۔لوگوں نے گھروں میں داخل ہو کر اپنے گھروں کو بند کر لیا اگر لوگ گھر بند نہ بھی کرتے تب بھی ان کی بیویوں بیٹیوں کے لیے کچھ خطرہ نہیں تھا ۔سردار صاحب پورا گاؤں اسے سردار صاحب کے نام سے ہی جانتا تھا اس کے حقیقی نام سے تو کوئی بھی اس گاؤں میں واقف نہ تھا۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پر چوری کرتا تھا مگر کبھی اس نے کسی عورت کی طرف غلط نظر سے نہیں دیکھا تھا ۔اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا اس گاؤں کو غریب سے غریب تر بنانا۔
کچھ ہی دیر کے بعد ایک سیاہ رنگ کا گھوڑا اور اس کے پیچھے چار پانچ گھوڑے گاؤں کے درمیان آکر رکا۔تو گاؤں والو میرا سامان کہا ہے وہ اپنی جگہ خالی دیکھ کر چلایا تھا ہزارا دفعہ تم لوگوں سے کہا ہے پانچ تاریخ سے پہلے پہلے اس جگہ پر تمہارا سب کچھ موجود ہو۔یہ خالی کیوں ہے ؟ وہ دھاڑا تھا
سردار صاحب گاؤں کا سر پنج باہر آیا سردار صاحب معاف کر دیں اس مہینے ابھی تک ہماری فصل نہیں کٹی اور گاؤں میں ابھی ابھی کالج بنا ہے اس لیے ہماری جمع پونجی وہاں لگ گئی۔
تو میرا کیا ؟ میرا سامانِ کہاں ہے ۔کالج بنا ہے میں ابھی اس کالج کو ہی زمین کے برابر کروادیتا ہوں وہ سختی سے اپنے دانت بھینچے دھاڑا تھا۔سردار صاحب ایسا نہ کریں ہمارے بچے پڑھیں گے اس کالج میں اور گاؤں کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
یہی تو میں نہیں چاہتا کہ یہ گاؤں ترقی کرے وہ چیخا تھا میں کچھ نہیں جانتا دو دن کا وقت ہے میں دوبارہ آؤں گا اور اگر تب تک میرا مال یہاں نہیں ہوا تو تم لوگوں پر میرا قہر برسے گا یہ پہلی اور آخری دفعہ ہے جو میں تم لوگوں کو چھوٹ دے رہا ہوں اگلی دفعہ تم لوگوں کو اگلی سانس لینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔
وہ اپنے گھوڑے کو واپسی کے راستے پر موڑتا چلنے کے لیے اس کی باگ تھامنے لگا۔
سردار صاحب رکیے گاؤں کے ایک گھر سے ایک آدمی نکلا جو دکھنے میں تھوڑی زیادہ عمر کا دکھائی دیتا تھا شاید نشے کی حالت میں تھا ۔وہ اس کے گھوڑے کے زرا نزدیک آیا آپ میری بیٹی لے لیں بہت پیاری ہے ساری زندگی آپ کی کنیز بن کر رہے گی ۔سردار جو اپنے گھوڑے پر بیٹھا تھا اس کی بات سن کر گھوڑے سے نیچے اترا اور دو قدم چل کر اس کے نزدیک آیا ۔کیا کہا تم نے دوبارہ بتانا میں نے سنا نہیں تھا۔میں نے یہ کہا ہے کہ آپ میری بیٹی کو ساری زندگی کے لیے اپنی کنیز بنالیں۔سردار کی رومال کے پیچھے چھپی آنکھوں میں خون اتر آیا آج تک اس ک چہرہ کسی نے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ جب بھی گاؤں آتا اپنا چہرہ ایک رومال کے پردے میں ڈھانپ کر آتا تھا۔اس کا ہاتھ اٹھا اور اس گاؤں والے کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا ۔
کیا کہا ایک عورت رکھ لوں ۔یہ عورتوں کے سستے نشے میں نہیں کرتا وہ دھاڑا تھا ۔میں ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا کہ ان عورتوں کے سستے نشے مجھ پر غالب آجائیں دفعہ ہوجاؤ اپنے گھر اور اگر مجھے تمہارے گھر سے کچھ نہ ملا تو تمھاری یہ بوڑھی ہڈیاں ایک دن میں ہی مٹی میں گل جائیں گی۔پرسوں دوبارہ آؤں گا میں گاؤں والو خود کو تیار رکھو یہ کہتا وہ اپنے گھوڑے کو اسی راستے پر ڈال گیا جس پر سے وہ آیا تھا ۔گاؤں والوں کے پاس اس کی بات ماننے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کیونکہ وہ اس کے خلاف کچھ کر تو نہیں سکتے تھے یہی سوچ کر وہ اپنا سارا مال خاموشی سے پچھلے تین سالوں سے اس کے سپرد کر دیا کرتے تھے۔
امی بہت بہت مبارک ہو آج مجھے آخر کار اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری مل گئی رباشہ نے ڈگری ملتے ہی سب سے پہلے اپنے گھر کال کی اور ان کو یہ خوشخبری سنائی گاؤں میں چونکہ کالج وغیرہ نہیں تھےاس لیے وہ پہلی لڑکی تھی جو اپنے گاؤں سے پڑھنے باہر نکلی تھی اور اسی وجہ سے آج گاؤں میں کالج بن رہا تھا۔میری بچی مجھے پورا یقین تھا ایک دن تم ضرور اپنے باپ کا خواب پورا کرو گی ۔بیٹا بس اب واپس آجا پانچ سال ہوگئے اپنی لخت جگر سے ملے ہوے ۔ماں تھی اپنی بیٹی کی یاد پل پل ستاتی تھی مگر کبھی اس کے سامنے ظاہر نہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ ان سے اتنے دور بیٹھی پریشان ہو۔مگر آج ان کی ہمت کی دور ٹوٹی تھی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے
امی آپ روئے تو نہ میں بس بہت جلد آپ کے پاس ہونگیں دیکھنا ۔رباشہ جو اپنی امی سے بات کر رہی تھی موبائل پر دوسری کال آ نے پر اس کی جا نب متوجہ ہوی جہاں سولمیٹ نام جگمگا رہا تھا ۔یہ نام دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تیرنے لگے پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ اس کال کا تو انتظار کر رہی تھی امی میں بعد میں بات کرتی ہوں یہ کہتے ہی اس نے کل کاٹ دی اور دوسری کال اٹھا لی ۔اسلام و علیکم موبائل کی دوسری جانب سے آواز آئی ۔وعلیکم السلام دانیال میں کب سے آپکی کال کا انتظار کر رہی تھی بغیر کسی جھجک کے وہ اپنا شکوہ دانیال کے سامنے رکھ چکی تھی۔سوری تھوڑا مصروف تھا بہت بہت مبارک ہو میری جان آخر تم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ۔جی یک لفظی جواب میں شکریہ ادا کیا گیا ۔کیا ہوا؟ دانیال اس کی خاموشی سمجھ کر اس سے پوچھنے لگا ۔نہیں کچھ نہیں
تم پاکستان کب جارہی ہو ؟کل ۔۔ہمم۔اور اپنے گھر بات کب کرو گی ہمارے رشتے کے بارے میں ۔۔۔دانیال شاید اس کی پریشانی سمجھ چکا تھا۔۔۔میں بات کر لوں مگر تم جانتے ہو میں کسی اور سے بھی منسلک ہوں۔۔میں کسی کی منگ ہوں۔۔۔۔اور کیا وہ مجھے ایسے چھوڑ دے گا۔۔۔یہ سب کچھ تمہیں مجھ سے محبت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا دانیال اس کی طرف سے ملنے والے جوابات پر اپنے غصے کو کنٹرول کرتے بولا۔۔۔اگر تم کچھ نہیں کر سکتی تو نہ کرنا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں تمہیں گھر سے اٹھوا سکتا ہوں۔۔اب جو بھی ہے پاکستان جاؤ اور گھر بات کرو۔۔۔اور اس بے نام رشتے سے چھٹکارا حاصل کرو۔۔۔۔مگر ۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتی دانیال کال بند کرچکا تھا۔
یہ مجھے کس امتحان میں ڈال دیا آپ نے اللہ ۔میں نے محبت تو کر لی یہ جانتے ہوے کہ میں کسی اور کی منگ ہوں مگر میں اپنے امی ابو کو کیسے بتاؤں گی اس رشتے کے بارے میں۔۔۔کیا وہ یہ سب کچھ قبول کر لیں گے۔۔۔پلیز اللہ میری مدد کرنا ۔۔میں دانیال کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتی اب اور میں نہ ہی اپنے والدین کی نظروں میں شرمسار ہو سکتی ہوں۔۔وہ خداسے باتیں کر نے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی مدد اللہ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا ۔خیر جو بھی تھا اب اسے اپنے والدین کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کرنا تھا یہی سوچ کر وہ اپنا سامان پیک کرنے لگی کیونکہ اسے پاکستان واپس لوٹنا تھا اپنی گمنام منزل حاصل کر نے کے لیے ۔
امی کیسی ہیں آپ ؟میں بالکل ٹھیک بیٹا تم سناؤ کب آؤ گے ملتان ۔۔امی بہت جلد آخر آپ کے بیٹے کو گھوڑی بھی تو چڑھنا ہے وہ شرارت آمیز لہجے میں کہنے لگا
۔میرے بیٹے کو کچھ زیادہ شوق نہیں ہے گھوڑی چڑھنے کا وہ بھی ماں تھی کیسے اس کی محبت کو پس پشت ڈال سکتی تھی۔۔۔امی بس جب کسی پر خدا مہرباں ہوتا ہے تو اسے اس کی محبت دے دیتا ہے ۔تھوڑی تو شرم کیا کر ماں ہوں میں تیری کیسی باتیں کرتا ہے ماں سے۔ماں ہو اسی لیے آپ کو بتا رہا ہوں ورنہ اپنی محبت کا نگارا بجانا تو مجھے بھی منظور نہیں۔۔ہمم اب زیادہ نہ بن ادھر آنے کی تیاری کر ایک تیری ماں بھی تیرے انتظار میں بیٹھی ہے ۔جی جی امی بس کچھ دن کا کام ہے پھر میں پاکستان واپس آجاؤں گا۔
