Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 04)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

میں کیا کہتا ہوں ہم نا یہ جو رباشہ کا سامان ہے اس کو کہیں چھپا دیتے ہیں ۔تم جانتی ہو یہ سب ہم نے کتنی محنت سے اس کے جہیز کے لیے جمع کیا ہے اب ہم اس کو ایسے ہی تو کسی کو نہیں دے سکتے نہ۔

یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ؟ یہ قریباً صبح کا وقت تھا اور رباشہ کے والدین کے درمیان کی جانے والی گفتگو تھی

تم بھول گئی کیا آج سردار صاحب نے آنا ہے اور اگر انہوں نے گھر میں تلاشی لی تو وہ یہ سامان بھی ساتھ لے جائیں گے ان کے لہجے سے شدید پریشانی ظاہر تھی

او خدایا اب ہم کیا کریں گے ہمیں اسے چھپانا چاہیے

کس کو چھپانے کی باتیں ہو رہی ہیں رباشہ کمرے سے باہر صرف گفتگو کا اتنا ہی حصہ سن سکی تھی

نہیں نہیں ہم نے تو کسی کو چھپانے کی بات نہیں کی ان کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا تھا کیونکہ وہ اس سب سے رباشہ کو دور رکھنا چاہتے تھے

امی بتائیں نہ کس کو چھپارہے ہیں آپ ؟

ادھر آؤ میرے پاس ؟

آپ کے پاس ابو آپ بتائیں گے مجھے اس نے سوالیہ طور پر تصدیق چاہی

ہاں ادھر میرے پاس آکر بیٹھو انہوں نے ہاتھ سے اپنے نزدیک بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ آنکھوں کے اشارے سے اس کی ماں کو تسلی دی

جس کو وہ پل بھر میں سمجھ گئی

جی ابو بتائیں آپ کیا چھپارہے ہیں وہ پاس بیٹھتے ہی پوچھنے لگی

بتاؤ کونسا مہینہ ہے یہ

نومبر کا اس نے فوراً ہی جواب دیا

تمہیں یاد ہے اس مہینے کے آخر میں حمنہ کی سالگرہ ہے تو ہم سوچ رہے ہیں کہ اس کو ایک اچھا سا سرپرائز دیا جائے

واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے تو آپ مجھ سے کیوں چھپا رہے تھے یہ

نہیں میری بچی تم سے کب چھپایا ہم تو یہ کہ رہے تھے کہ حمنہ کو پتا نہ چلے بس اس سے چھپی رہے یہ بات

کتنا مزہ آئے گا اچھا ساری ڈیکوریشن میں کروں گی جب بھی میری کسی دوست کی سالگرہ ہوتی تھی تو ہوسٹل میں ہی سجاتی تھی اس نے اپنا حصہ ڈال تھا

بلکل اب ہم بوڑھا بوڑھی کو کہاں پتہ ان سب چیزوں کا

امی یہ شور کیسا وہ باہر کی جانب سے آنے والے شور کی طرف متوجہ ہوی تھی

تم اندر جاؤ کمرے میں ہم دیکھتے ہیں کیا ہوا

وہ اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ افتخار صاحب ( رباشہ کے والد) آمنہ بی بی ( رباشہ کی والدہ) گھر سے باہر چلی گئی کیونکہ وہ بخوبی واقف تھے یہ کس چیز کا شور ہے

سامان ؟

سردار جی بس یہی ہے اس بار گاؤں کے سرپنج نے جواب دیا تھا

بس یہی؟؟؟؟؟

ہیلو بھائی ان گاؤں والوں نے تو بہت کم سامان رکھا ہے کہتے ہیں اس بار بس اتنا ہی ہے پھر میں لے آؤ یہ ؟شعیب گھوڑا زرا پیچھے کر کے کال پر ضماہیر سے بات کرنے لگا

یہ سالے ہر دفعہ ایسا کرتے ہیں تم ان کے گھر میں گھس کر تلاشی لو ۔۔۔ورنہ میں خود اجاتا ہوں کال کی دوسری جانب سے ضماہیر کی لو دیتی آواز واضح تھی

نہیں نہیں بھائی آپ زحمت نہ کریں آپ بیمار ہیں میں دیکھتا ہوں سب کچھ ۔۔۔میں کرتا ہوں کچھ بھائی کیا ان کے گھر گھس سکتا ہوں

ہاں تلاشی لے لینا وہ بھی بہت اچھے سے لینا مگر خیال رکھنا اس سب میں کسی عورت کو کوئی نقصان نہ ہو آخر میں اس نے تنبیہ کی تھی

جی بھائی جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی ہوگا

سامان بس یہ ہی ہے نہ ؟ شعیب نے ایک مرتبہ پھر سوال کیا

جی جی سردار صاحب یہی ہے

ہمممم۔۔

ان کے گھروں میں گھس جاؤ جو بھی مال ملے سونا چاندی نقدی یہ اور کچھ بھی سب نکال لاؤ اس نے لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد آرڈر دیا تھا

آرڈر ملتے ہی تمام لوگ یکایک گھوڑوں سے اترے گھروں میں گھس گئے جبکہ وہ خود باہر موجود رہا

سردار صاحب سردار صاحب یہ کیا ؟ یہ ظلم نہ کریں!!!! گاؤں کا سرپنج اس سے التجا کرنے لگا

اور رو تھوڑا اور رو مجھے سکون نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔ایسا کرو میرے پیروں میں بیٹھ کر ناک رگڑو اپنی۔۔۔۔۔وہ سفاکیت سے بولا مگر میں اتنا بے حس و بے رحم ہوں کے مجھے تب بھی ترس نہیں آنا تم پر

اس نے اپنی ٹانگ کو گھمایا تھا جس کی وجہ سے اس کی ٹانگ کے سہارے بیٹھا سرپنج جھٹکا کھا کر پیچھے گرا تھا

آپ آپ کون ہیں آپ ؟رباشہ پانی پینے کچن میں آئی تھی مگر اپنے گھر میں ایک اجنبی کو دیکھ کر ٹھٹکی تھی کون ہیں آپ ؟ ہمارے گھر میں کر رہے ہیں

لڑکی تمہارے والدین نے بتایا نہیں تمہارے رشتے دار آنے والے ہیں ان لوگوں میں سے ایک نے شیطانی مسکراہٹ سے جواب دیا

رش ۔تے دار کیس ے رشتے دار ن کلو یہاں سے وہ گھبرا کر ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرنے لگی

تم نکلو یہاں سے ان میں سے ایک لڑکا اس کی جانب بڑھا تھا

رباشہ نے نزدیک پڑا گلدان اٹھایا اور اس کے ہاتھ پر مارا جس کی وجہ سے وہ کچھ پیچھے ہٹا تھا

تیری ہمت کیسے ہوی لڑکی؟

سردار صاحب وہ چلانے لگا تھا

اس کے چلانے کی آواز سن کر شعیب چہرہ چھپائے اندر داخل ہوا

کیا ہوا ؟

یہ لڑکی یہ ہم پر وار کر رہی ہے اس نے مجھ پر جان لیوا حملہ کیا میں بہت مشکل سے بچا ہوں

لڑکی کیا تکلیف ہے تجھے وہ دہاڑا تھا

نکلو میرے گھر سے رباشہ نے بہت مشکل سے اپنے حواس بحال کیے

نکلو کیسے نکلیں مال کے بغیر تو نہیں جانے والے

مال کیسا مال

لگتا ہے گاؤں میں نئی ہوں۔تمھارے کپڑوں سے بھی واضح ہوتی ہے کہ تم اس گاؤں کی نہیں ۔۔۔۔اس نے رباشہ کے لباس پر چوٹ کی تھی جو اس وقت گھٹنوں سے زرا اونچی شرٹ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے سے بے نیاز تھی

میں جو بھی ہوں نئ یا پرانی ۔۔۔۔۔تمہارا اس سے مطلب

وہ زرا پیچھے ہوی تھی جبکہ شعیب نے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے

میرے پاس نہ آنا

اب تو آؤ گا !!! روک سکتی کو تو روک لو اس نے ہوا میں قہقہہ بلند کیا

تم سب نکلو یہاں سے اس لڑکی کو میں خود دیکھتا ہوں

اس نے اپنے لوگوں کو حکم دیا

حکم ملتے ہی تمام لوگ گھر سے باہر نکل گئے

لوگوں کو گھر سے باہر نکلتا دیکھ کر افتخار اور آمنہ گھر کی جانب بڑھے تھے جبکہ انہیں ان لوگوں نے گھر کے باہر ہی روک دیا

اب بتا لڑکی بہت زبان تیز ہے تیری !!! قینچی سے بھی تیز چلتی ہے تیری زبان وہ گرجدار آواز میں بولتا رباشہ کی جانب بڑھ رہا تھا

جبکہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے اس سے پیچھے قدم ہٹا رہی تھی

وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھا اور رباشہ کو بازو سے پکڑ

کر اپنی جانب کھینچا تھا

چھوڑ مجھے جاہل انسان بدتمیز

چھوڑو مجھے

ششششش چلنے سے کچھ نہیں ہوگا وہ اپنی شہادت کی انگلی اس کے لبوں پر رکھ کر اسے خاموش کروا گیا

وہ اس وقت صرف خدا کے سہارے تھی

اب خاموش کیوں ہے بول ؟؟ وہ اس کی شہ رگ پر جھکنے لگا تھا مگر اس سے پہلے ہی رباشہ نے اسے زور دار دھکا دیا

وہ اس دھکے کے لیے تیار نہیں تھا جس کے باعث وہ گلدان کے ٹوٹے ہوے کانچ کے ٹکڑوں پر گرا

اس کے سر سے خون جاری ہوچکا تھا

اس سب میں رباشہ خاموشی سے دیوار سے ٹیک لگائے سہمی کھڑی تھی اس نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا تھا اس نے صرف اپنی عزت کی حفاظت کی تھی اور ہر لڑکی اپنی عزت کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے

قریباً آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد جب گھر سے کوئی باہر نہ آیا تو سردار صاحب کے تمام آدمی گھر میں داخل ہوگئے

یہ مرگیا !! ایک آدمی نے آگے بڑھ کر شعیب کی نبض چیک کی تھی

ممم۔۔ررر۔۔۔گیا۔۔۔میں نننن ےے نہیں مارا وہ پاگلوں کی طرح اپنے خالی ہاتھ سب کو دیکھا نے لگی

دیکھو میرے پاس کچھ نہیں میں نے نہیں مارا

اب اس کا فیصلہ ہم نہیں بڑے سردار کریں گے۔۔۔۔جاو تم سردار صاحب کو اطلاع دو اس سب کی ایک آدمی نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور ہوا میں اڑتا ہوا حویلی کی جانب دوڑ گیا

اب رباشہ کی زندگی کا سوال تھا جبکہ وہ سہمی ہوی صرف اس بات کو دہرا رہی تھی کہ یہ میں نے نہیں کیا

کچھ ہی دیر میں ضماہیر اپنے پورانے حلیہ میں شدید بخار کے باوجود گاؤں پہنچا

اٹھا لو اس لڑکی کو حویلی لے چلو اسے اس نے حکم دیا تھا جبکہ فورآ اس کے حکم کی تعمیل کی گئی تھی

چھوڑ دو میری بچی کو ۔۔۔۔رحم کرو اس پر

رحم میرے بھائی کو مار دیا اس نے اور میں اس پر رحم کروں اس نے سختی سے رباشہ کو بازو سے تھاما اور اسے اپنے گھوڑے پر اپنے ساتھ بٹھا لیا

یہ پہلی مرتبہ تھا جب اس کے ساتھ گھوڑے پر کوئی دوسرا وجود موجود تھا جبکہ وہ بھی ایک عورت زات اس کے دل کو عجیب بے چینی ہوی تھی۔۔ نہیں وہ ایسا نہیں سوچ سکتا یہ ایک خونی ہے خون کیا ہے اس نے اس کے بھائی کا اس کے دوست کا وہ کیسے اس کے لیے اس قسم کے جزبات رکھ سکتا ہے

اترو نیچے ۔۔۔۔بیچ سفر میں اس نے گھوڑا روکا

رباشہ فورا ہی نیچے اتری تھی

بھائی آپ رک کیوں گئے میں اس کے ساتھ پیدل آرہا ہوں تم میرا گھوڑا لے کے گھر پہنچو

سردار صاحب پیدل کیوں ابھی تو بہت سفر رہتا ہے

تم میرا گھوڑا لے کر پہنچو اس سے زیادہ کہنے کی اجازت میں نے نہیں دی

وہ سب تیزی سے آگے نکل گئے جبکہ پیچھے تن تنہا رباشہ اور ضماہیر رہ گئے

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے جبکہ ضماہیر نے سختی سے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا

یہ ہاتھ تھامنا کوئی ان کی محبت نہیں تھا اور نہ ہی کسی مستقل ساتھ کی ضمانت یہ تو صرف اس لیے تھا کہ کہیں رباشہ موقع کا فائیدہ اٹھا کر بھاگ نہ جائے

یہ کس لڑکی کو اٹھا لائے تم ؟؟ اس نے گھر میں داخل ہوتے ہیں رباشہ کو ہال میں دھکا دیا تھا

ایک خونی کو!! نہایت شایستگی سے جواب دیا گیا

خونی!!!

اس لڑکی کو کمرے میں بیجھو حویلی ماں نے حکم دیا

کیا اتنا سب کچھ کیاںاس لڑکی نے ضماہیر اپنی خالہ اور حویلی ماں کو سب کچھ بتا دیا

مگر ضماہیر لڑکی نے شاید جان بوجھ کر نہ کیا ہو

ایک خون۔۔خون ہوتا ہے چاہے جان بوجھ کر کیا جائے یا انجانے میں۔۔۔اور میں ایسے ہی اس لڑکی کو جانے نہیں دوں گا

ابھی رات ہوگئی ہے تم سب کمروں میں جاؤ صبح اس کا فیصلہ کیا جائے گا

میں آپ کو کسی فیصلے کا حق نہیں دیتا جو فیصلہ ہوگا میں خود کروں گا وہ دروازے کو زور سے بند کرتا کمرے سے باہر نکل گیا

میں بھی چلتی ہوں حویلی ماں فاطمہ بیگم بھی کمرے سے باہر چلی گئی

پتا نہیں وہ کہاں لے گئے رباشہ کو ہم نے کیوں بلایا تھا اس کو یہاں وہ ہم سے دور ہی ٹھیک تھی

بھروسہ رکھو خدا پر وہ سب دیکھ رہا ہے نہ کچھ نہیں ہوگا ہماری بچی کے ساتھ

نیچے چلو بیٹا فاطمہ بیگم رباشہ کو اٹھانے کمرے میں ائی۔۔۔۔یہ پہلا انسان تھا اس حویلی کا جس نے اسے بیٹا کہ کر پکارا تھا آنٹی میں نے سچ میں نہیں مارا ۔۔۔۔اس نے۔۔۔اس نے میری عزت خراب کرنے کی کوشش کی تھی وہ بچوں کی طرح بلکتی ہوی فاطمہ بیگم کے سینے سے لگ گئی۔ ہم سمجھائیں گے ضماہیر کو تم فکر نہ کرو وہ تمہیں تمہارے گھر چھوڑ کر آئے گا وہ اتنا بے حس نہیں ہوا ابھی

رباشہ کی ساری رات روتے روتے گزرے تھی جس وجہ سے اس کی آنکھیں سوج گئی تھی

یہ لڑکی ۔۔۔۔یہ لڑکی یہاں کیا کر رہی ہے ؟ ضماہیر اپنی شیر سی آواز میں دھاڑا تھا ۔۔۔۔کس نے بولایا ہے اسے یہاں۔۔۔۔۔ضماہیر کیا ہوگیا ہے اس کا یہاں آنا ضروری تھا اس لیے بولایا ہے اسے۔۔۔۔تو اس کو بولو میری نظروں کے سامنے سے دفع ہوجائے۔۔۔۔مجھے شکل نہ دکھائے اپنی۔۔۔مگر جو نہی اس نے نظر اٹھا کر رباشہ کی جانب دیکھا تو ۔۔۔۔مانو وہ نظر جھکانا بھول گیا۔۔۔رباشہ سرخ رنگ کے ریشمی لباس میں پورے ہتھیاروں سے لیس اس پر بجلیاں گرا رہی تھی۔۔۔۔اج اس کے دل نے حقیقت میں اعتراف کیا تھا کہ یہ لڑکی واقعی خوبصورت ہے۔۔۔۔وہ سراپا حسن ہے۔۔۔اج ضماہیر کے دل نے اسے ملامت کی کہ وہ اس لڑکی کے لیے نامحرم ہے ۔۔اج اس کا دل رباشہ کی قربت کے لیے تڑپا تھا۔۔۔مگر وہ اپنے دل پر پہرے بٹھائے اس کی زات کا انکاری تھا۔۔۔۔

اس لڑکی سے بولنا آج کے بعد میرے سامنے کبھی نہ آئے ورنہ مجھے اس کی جان لینے میں زرا دیر نہیں لگنی۔۔۔

ضماہیر تمہیں اس سے نکاح کرنا ہوگا

نکاح وہ بھی اس خونی سے مجھے آپ کا فیصلہ منظور نہیں حویلی ماں

پھر اس لڑکی کو گھر چھوڑ آؤ

یہ آپ کیا اپنے فیصلے سنا رہی ہیں میں نے آپ سے کہا تھا اپنے فیصلہ لینے کا حق مجھے خود ہے

فیصلہ تم خود لے سکتے ہو مگر اپنے دادا سائیں کو کیا جواب دو گے وہ کچھ دنوں تک یہاں پاکستان واپس آرہے ہیں

وہ ٹھٹکا تھا یہ سن کر کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اپنے دادا سائیں سے جھوٹ نہیں بول سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *