Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 15)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 15)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
یہ درد آپ نے دیا ہے مجھے ؟ ضماہیر اس کے نزدیک بیٹھا بہت پیار سے اس کی بازو کو ہلکا ہلکا دبا رہا تھا ۔
ضماہیر کی اتنی سی محبت پہ وہ اس سے اس کی شکایت کرنے لگی ۔
جانم درد دیا ہے تو مرہم بھی میں ہی رکھ رہا ہوں نا ؟ وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑے اس کی پٹی کو ہولے ہولے لبوں سے چھونے لگا ۔
اگر آپ درد نہ دیتے تو اس مرہم کی بھی ضرورت نہیں پڑتی ۔
سوری ! سچ میں اب نہیں کروں گا مجھے غصہ آگیا تھا جب تم نے میری بات نہیں مانی تھی ۔
تو اس کا مطلب ہے کل کو اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوگئی تو آپ مجھ پر ایسے ہاتھ اٹھائیں گے ۔
اچھا نہ جان سوری ! سچ میں اب نہیں کروں گا ۔
اب کیا چاہتی ہو کان پکڑوں
جی ! وہ جلدی سے اپنے آنسو پوچھتی ضماہیر کو جواب دینے لگی ۔
کیا ؟؟
کان پکڑیں
یار دیکھو میں کان پکڑتا اچھا لگوں گا کیا ؟
آپ چاہتے ہیں نہ میں آپ سے ناراض نہ ہوں
ہاں ضماہیر نے جلدی سے سر ہاں میں ہلایا تھا
تو کان پکڑیں !!
یہ آخری فیصلہ ہے تمہارا ؟ وہ آنکھیں اچکائے رباشہ سے پوچھنے لگا
جی بلکل !
چلو مجھے منظور ہے مگر اس کے بعد تم میری بھی ایک بات مانو گی ۔
ہممم !! اب جلدی کریں
وہ دونوں کان پکڑے اس سے معافی مانگنے لگا ۔
مبارک ہو تمہارا چڑا، چڑیا کو لے کر آزاد گھوم رہا ہے مناہل کو پاس سے گزرتا دیکھ کر دانیال نے اس کے زخموں کو کریدا تھا ۔
میرا چڑا جس کے ساتھ بھی ہو تم سے مطلب ؟ وہ بھی مناہل تھی کہاں ہار مانتی تھی اتنی آسانی سے
واہ لگتا ہے غم دل پہ لے لیا ہے تم نے ؟ وہ شیطانی مسکراہٹ مسکرایا تھا ۔
ویسے اگر کسی کام میں میری مدد چاہیے ہو تو میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں ۔
تم میری مدد کیوں کرو گے ؟ وہ حیران تھی اس کی بات پہ ۔
ضماہیر کی بربادی میرا مقصد ہے ۔اگر تم اس کی زندگی میں آجاؤ تو ویسے ہی اس کی زندگی برباد ہو جائے گی اس نے طنز کیا تھا مناہل پہ
تو تم دو گے ساتھ میرا ؟
ہاں ! مگر اس کے بارے میں کسی کو علم نہ ہو
مجھے کیا پاگل کتے نہ کاٹا ہے جو کسی کو بتاؤ گی کہ ہم ضماہیر کو رباشہ سے الگ کرنے کے منصوبے بنارہے ہیں ۔
پاگل کہ منہ سے ایسی بات اچھی نہیں لگتی ! اس کا طنزیہ قہقہہ بلند ہوا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوی مجھے پاگل کہنے کی ؟ مناہل بدتمیزی پہ اتر آئی تھی ۔
میرے ساتھ بد تمیزی کرنے کی ضرورت نہیں ورنہ تمہارے یہ جو ارادے ہیں نہ ان میں رکاوٹ کھڑی کردوں گا میں وہ مناہل کو دھمکی دینے لگا ۔
مناہل دانیال کی دھمکی پر فورا سے سیدھی ہوی تھی ۔
تمہیں کیا زیادہ شوق ہے ہر جگہ میرے سامنے آنے کا ؟دانیال اپنے کمرے میں جاتے ہوے وشمہ سے ٹکرایا تھا ۔
مجھے شوق نہیں آپ سے ہر جگہ ٹکرانے کا مگر شاید میرا ہر راستہ ہی آپ تک آتا ہے ! وہ ناسمجھی میں بھی اسے بہت کچھ باوارا کرچکی تھی ۔
کیا مطلب ؟
اب آپ کیا بچہ ہیں جسے کچھ سمجھ نہیں آتا ؟
آج وہ دانیال کو اپنے دل کے حالات بتانا چاہتی تھی اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اس شخص کی محبت میں کتنا آگے نکل چکی ہے ۔
تم کیا بولے جارہی ہو ؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا !
محبت کرتی ہوں میں آپ سے ۔
دماغ درست ہے تمہارا کیوں آگ میں قدم رکھنا چاہتی ہو ۔
میں اس آگ میں صدیوں سے جھلس رہی ہو مسٹر دانیال ۔
میں نے نہیں کہا مجھ سے محبت کرو ؟ آنکھوں میں مکمل طور پر خالی پن تھا
اس کی آنکھیں ہر قسم کے جزبات سے عاری تھی
کہا تو میں نے بھی نہیں تھا اپنے دل کو کہ آپ سے محبت کرے !
مگر ہوگئی نہ !!!!
دوبارہ میرے سامنے نہ آنا ۔جب دانیال سے کچھ جواب نہ بن پایا تو اس نے اپنا آخری پتہ پھینکا تھا ۔
میں تو آؤ گی آخر آپ کو حفظ کرنے کا ارادہ ہے میرا آنکھوں میں جذبات کا سمندر لیے وہ دانیال کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
تمہیں شرم نہیں آتی ایک لڑکے کے سے اظہارِ محبت کر رہی ہو
نہیں بلکل نہیں ۔ جب محبت کر سکتی ہوں تو اظہار میں کیسی شرم
اور یہ مت سوچیے گا کہ آپ کے انکار کا مطلب انکار ہے وشمہ گوندل کبھی اپنا حق نہیں چھوڑتی جسے وہ دل سے اپنا لے وہ اس کا ہوجاتا ہے ۔۔۔۔
آپ بس تیاری کریں میرا ہونے کی ۔۔۔۔۔دانیال کی زبان بند کرواتی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی
پیچھے دانیال اس لڑکی کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہا تھا جو اس کی زبان بند کروا گئی تھی ۔
کیا چیز ہے یہ ؟ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا دانیال اپنے کمرے میں داخل ہوا تھا
حسینہ جانم ! بس پورے پانچ منٹ ہوگئے کان پکڑے ہوے اب تو یہ بیچارے لال بھی ہو گئے ہوں گے
اب چھوڑ دوں
جی چھوڑ دیں ! اب کیا آیندہ کبھی کریں گے میرے ساتھ ایسا
نہیں کبھی نہیں جان !
تم نے مجھے لال کیا اور اب لال ہونے کی باری تمہاری! رباشہ کو جھٹکا دے کر وہ اسے بیڈ پر لٹا گیا
جبکہ خود اس کے اوپر جھکا وہ اس کی شہ رگ پہ موجود تل پہ اپنی محبت نچھاور کرنے لگا ۔
آہ ! وہ درد سے کراہی تھی
کیا ہوا ؟
درد ہورہا ہے ہاتھ میں ۔۔وہ اپنا ہاتھ اٹھائے ضماہیر کو دکھانے لگی ۔
بہت برا ہوں نہ میں تمہیں تکلیف دیتا ہوں
ہاں تھوڑے سے بس زیادہ نہیں
تم بھی کوئی کم بری نہیں دیکھو کیسے اپنے شوہر کو برا کہ رہی ہو ۔
اچھی بیویاں شوہر کو برا نہیں کہتی !
رباشہ تو اس کی بات پہ اپنے لبوں کو بھینچے اپنی ہنسی ضبط کرنے لگی ۔
جو ہر بات میں اپنا مطلب ڈھونڈ لیتا تھا
اب ہوا صحیح! وہ اس کے پاس ہی اٹھ کر بیٹھا تھا جبکہ رباشہ ابھی بھی بیڈ پہ لیٹی ہوی تھی ۔
جی اب صحیح ہے ویسے پہلے بھی اتنا نہیں تھا بس وہ مجھے کچھ ایکٹنگ کرنے کا شوق زیادہ ہے ۔
حسینہ جانم ! تم بہت تیز ہوتی جارہی ہو
چلو اب میرے ساتھ رومینس کی ایکٹنگ کرنا رباشہ پہ جھکا وہ مزید اس پہ اپنا سایہ قائم کرگیا ۔
میں تمہارے عشق میں دیوانہ ہورہا ہوں جانم ! تمہارا مجھ سے دور جانا مجھے تکلیف دیتا ہے ۔
جب تم نے اپنے گھر جانے کے لیے ہاں کی تھی
جانتی ہو ایک پل کو تو میری روح میرا ساتھ چھوڑ گئی تھی ۔
میں ایک سیکینڈ بھی تمہارے بغیر سوچنے کا نہیں سوچ سکتا ۔
مجھے ہر لمحہ تمہاری ضرورت ہے وہ اس کے لبوں پہ جھکا اپنی پیاس مٹانے لگا ۔
مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے ؟
ابھی کوئی بات کرنے کا میرا موڈ نہیں ۔میرا موڈ رومینس کرنے کا ہے حسینہ جانم! وہ مزید شدت سے اس کے لبوں پہ جھکا اس کی سانسوں کو پینے لگا ۔
رباشہ اس کی کمر پہ مکے برساتی اسے خود سے دور کروانے لگی ۔
ہر دفعہ وہ انہی مزاحمتوں سے تو خود کو ضماہیر سے بچانے کی کوشش کرتی تھی ۔ جو اس کی حفاظت کم ضماہیر کی شدت کو مزید بڑھا دیتی تھی ۔
میری زندگی میں آپ سے پہلے ایک لڑکا تھا ۔مگر میرا خدا گواہ ہے میں نے ہمیشہ اس سے دل سے محبت کی کبھی اسے اپنے پاس نہیں آنے دیا ۔
جانتا ہوں میں اور ایسی باتیں ان موقعوں پر اچھی نہیں لگتی وہ ایک دفعہ پھر اس کے لبوں پہ جھکنے لگا تھا ۔
دانیال تھا وہ !!ضماہیر کے جھکنے سے پہلے ہی وہ اسے دانیال کا بتاگئی۔
دانیال کا نام سنتے ہی اس کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا تھا ۔
دانیال اس نے دانت پیسے تصدیق چاہی ؟
رباشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
یہ کوئی نیا طریقہ ہے اپنی غلطیوں پہ پردہ ڈالنے کا وہ رباشہ کے بہتے آنسوؤں کو اگنور کرتا اس کے پاس سے اٹھا تھا ۔
تمہیں اپنے والدین کی عزت روندھتے ہوے شرم نہیں آئی ؟
میں نے پہلے بھی آپ کو بتایا تھا ضماہیر کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی دم توڑنے لگے ۔
کتنے سال سے تھی تم اس کے ساتھ ؟
چار سال !!!
چار سال ! چار سال تم ایک لڑکے کے ساتھ ناجائز تعلقات میں تھی ۔
میں مانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوی ہے مگر وہ سب شاید میرے ساتھ ہونا لکھا تھا مگر اب صرف میری زندگی میں آپ ہیں ۔
آپ کے علاؤہ کوئی نہیں ۔
غلطی!! گناہ کیا ہے تم نے
کسی سے محبت کرنا گناہ نہیں! رباشہ کی آواز نے سختی پکڑی تھی محبت تو آپ بھی مجھ سے کرتے ہیں نہ تو وہ بھی گناہ ہے ۔
بیوی سے محبت کرنا گناہ نہیں ہے مس رباشہ حبیب وہ تو پل بھر میں اس کے نام کے آگے سے اپنا نام ہٹا گیا
یہ پہلی دفعہ تھا جب وہ رباشہ کو ایک اجنبی لگا تھا ۔
وہ حیوان بننے لگا تھا ۔
کہیں اپنے اس پرانے عاشق کو تم نے ہی تو نہیں بولایا یہاں ؟
رباشہ کا ہاتھ اٹھا اور ضماہیر کے گال پہ نشان چھوڑ گیا ۔
کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو آپ کب سے میرے کردار پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔میں خاموشی سے سن رہی ہوں اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا کردار خراب ہے ۔
میں آپ کو آپکی نظروں میں گرانا نہیں چاہتی ۔میں نہیں چاہتی کہ آپ اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہوں ۔اپ میرا سامنا نہ کر سکیں ۔
بدتمیزی کا تو سرٹیفکیٹ ہے تمہارے پاس ! ایک تو قصور بھی تمہارا ہے اور الزام مجھ پر لگا رہی ہو وہ گرجنے لگا تھا ۔
میں نے کہا ہے نہ آپ سے اب میری زندگی میں دانیال کی کوئی جگہ نہیں
میں کیسے مان لو ؟ کہ جو تم کہ رہی ہو وہ سب سچ ہے
آپ جو ثبوت مانگیں گے میں دینے کے لیے تیار ہوں ؟
جو مانگو ؟
ہممم
سوچ لو ؟؟
جس سفر میں پہلے آپ تن تنہا سفر کر رہے تھے اب سفر میں ،میں بھی چل پڑی ہوں مگر شاید میں ابھی آپ سے پیچھے ہوں
وہ بہت ہی خوبصورت انداز میں اپنی محبت کا اعتراف کر گئی تھی ۔
مجھ سے یہ فلسفیانہ باتیں نہ کیا کرو ! جو کہا ہے اس کا جواب دو ۔
جی جیسا ثبوت آپ مانگیں وہ خاموشی سے جواب دیتی نظریں جھکا گئی۔
یہ پہن کر آؤ ! وہ الماری میں گھسا ایک پیکٹ نکال کر لایا تھا ۔
کیا ہے اس میں
مجھے نہیں پتا ؟جب پہنو گی تو پتہ چل جائے گا ۔
اگر ہیلپ چاہیے ہو تو بلا لینا
میں یہ نہیں پہنو گی وہ تو سرخ رنگ کی ساڑھی کو دیکھ کر ہی شرم سے پانی پانی ہوگئی تھی جس کا پچھلا گلا مکمل طور پر ڈوریوں کے رحم و کرم پہ تھا ۔ مجھے ثبوت چاہیے کہ تمہارے دل میں دانیال نہیں! وہ واشروم کے باہر کھڑا دبی سی مگر سخت آواز میں گرجا تھا ۔
ایسے کپڑے میں نے کبھی نہیں پہنے وہ شرم سے سرخ ہوتی ساڑھی کو ہاتھ میں لیے دروازے کے ساتھ لگی کھڑی تھی ۔
یقین کرو میں نے بھی ایسے کپڑوں میں کبھی کسی کو نہیں دیکھا اسی کی ٹون میں بولتا وہ رباشہ کو خاموش کروا گیا ۔
اچھا میں پہنتی ہوں مگر !!
مگر آپ اپنی آنکھیں بند رکھیں گے
اگر میں نے آنکھیں ہی بند رکھنی ہیں تو تمہارے پہننے کا فایدہ ۔۔۔۔
پھر میں نہیں پہنتی
پہن رہی ہو یا میں پہنانے آؤ
دروازہ لاک ہے شوہر جی ۔۔۔
حسینہ جانم اس لاک کی ڈپلیکیٹ کی میرے پاس ہے ۔۔۔۔جتنی زحمت زبان کو دیتی ہو نہ اتنی زحمت اپنی عقل کو بھی دے دیا کرو ۔
باتوں میں وقت کیوں ضائع کر رہی ہو اگر پانچ منٹ سے پہلے باہر نہیں آئی تو میں اندر ہوں گا۔ حسینہ جانم آخر تم سے ثبوت لینے ہے اپنے رشتے کا ۔
اس سے تو میرا جسم نظر آئے گا ۔
تمہارا وقت گزر رہا ہے ۔۔۔۔
پانچ منٹ پورے ہوچکے ہیں تم باہر نہیں آئی تو میں لاک اوپن کرکے اندر آجاؤ گا ۔
اچھا آپ سائیڈ پہ ہوجائیں میں آرہی ہوں ۔
قسم سے سائیڈ پہ ہی ہوں بیڈ پہ لیٹا تمہارا انتظار کر رہا ہوں وہ ایک دم رومینٹک موڈ میں آیا تھا ۔
رباشہ کے لیے تو شرم کے مارے نظریں اٹھانا ہی مشکل ہو رہا تھا ۔
وہ اپنی جھکی نگاہیں لیے واشروم کا دروازہ ان لاک کرتی ضماہیر کی جانب بڑھنے لگی تھی ۔
ضماہیر تو اپنی حسینہ جانم کا یہ روپ دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا وہ سرخ ساڑھی میں مکمل طور پر سجی اس کے دل پہ بجلیاں گرا رہی تھی ۔
ادھر آؤ وہ تھوڑا ڈریسنگ ٹیبل کی سائیڈ پہ ہوتا اسے اپنی جانب بلانے لگا جس نے باہر آتے ہی ساڑھی کے پلو سے خود کو ڈھانپا تھا ۔
رباشہ کی یہ حرکت دیکھ کر وہ مزید غصہ ہوا تھا ۔
کون ہوں میں ؟ رباشہ کے نزدیک آتے ہی وہ غصے میں اسے دبوچ گیا ۔
کیا رشتہ ہے ہمارا ؟ کیا لگتا ہوں میں تمہارا
شوہر نظر یں ابھی بھی فرش پہ تھی !!
تو یہ پردہ کیسا وہ غصے میں مٹھیاں پھینچے ساڑھی کے پلو کو واپس پیچھے اچھال گیا ۔
وہ جلدی سے ضماہیر کے سینے لگی خود کو چھپانے لگی ۔
مجھے شرم آرہی ہے ؟ ضماہیر کے سینے سے سر ٹکائے وہ آنکھیں موندھ گئی گویا اسے یقین دلانا چاہتی ہو کہ اس کے لیے سکون ضماہیر کی قربت ہے ۔
میری بانہوں میں شرماؤ میں تمہیں خود میں چھپا لوں گا جانم ۔
ابھی تو ویسے بھی تم نے بہت کچھ کرنا ہے اس لیے ابھی شرما لو جتنا شرمانا ہے
رباشہ کو کرسی پہ بٹھاتا وہ اس کے ہونٹوں پہ لپسٹک لگانے لگا ۔
بس یہ لپسٹک!! اس لپسٹک کی کمی ہے پھر تمہارا شوہر رومینٹک ہوجائے گا ۔
ویسے حسینہ جانم ! بیویاں خود اپنے شوہر کے لیے تیار ہوتی ہیں اور یہاں میں اپنی بیوی کو لپسٹک لگا رہا ہوں
تاکہ میں بعد میں لپسٹک خراب کرسکوں !
ویسے تمہاری لپسٹک کے ٹیسٹ کچھ زیادہ اچھے نہیں ہیں کل میرے ساتھ چلنا اچھے ٹیسٹ والی لائیں گے
رباشہ کو لپسٹک لگائے وہ اسے بانہوں میں بھرتا بیڈ پر لٹا گیا ۔
رباشہ پہ جھکے اس کے ہاتھ ڈوریوں کے ساتھ گستاخیاں کرنے لگے وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتا ڈوریوں کی قید میں جکڑی رباشہ کی کمر کو آزاد کرنے لگا ۔
آپ کو یقین ہوا اب کہ میرے دل میں آپ کے علاؤہ کوئی نہیں!
حسینہ جانم ایسے کیسے یہ چھوٹے موٹے ثبوت تو تمہیں مجھے روز دینے پڑیں گے رباشہ کی کمر کو مکمل طور پر ڈوریوں سے آزاد کرگیا۔
وہ جلدی سے اس کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچے اس میں چھپنے لگی ۔
اچھا تو اب یہ شرٹ تمہیں مجھ سے چھپائے گی ؟
بٹن کھولو میرے ؟
ججج جی
اونچا سنتی ہو کیا یا اب سنائی نہیں دے رہا
بٹن کھولو میری شرٹ کے وہ بے شرموں کی طرح ایک نئی ضد پر اڑ گیا ۔
میں !! رباشہ کہ منہ سے تو الفاظ ادا ہونے ہی مشکل ہوگئے تھے
تمہارے علاؤہ کوئی نظر آرہا ہے یہاں تمہیں ؟
میں کیسے ؟
مجھے کھولنے نہیں آتے اس نے نیا بہانہ بنایا تھا ۔
ہاں جیسے مجھے تو ڈوریاں کھولنے کا ایکسپرینس تھا میں تو پیدا ہی لڑکیوں کی ڈوریاں کھولنے کے لیے ہوا ہوں نہ ۔
وہ رباشہ کے سامنے اس کی شرٹ کی ڈوری کو اچھال کر دور پھینک گیا ڈوری کھلنے کی وجہ سے شرٹ مکمل طور پر ڈھیلی پڑ گئی تھی ۔
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں ؟ وہ جان بوجھ کر اس سے سوال کرنے لگی تھی
تمہیں سنائی دیا تھا میں نے کہا ہے بٹن کھولو میرے ؟ وہ اسے گھوری سے نواز گیا
ضماہیر کی آنکھوں میں موجود سختی کو دیکھ کر اس کے ہاتھ فوراً سے اس کی شرٹ کے بٹن پر گئے تھے وہ لرزتے ہاتھوں سے ضماہیر کے بٹن کھولنے لگی ۔
گڈ حسینہ جانم ! وہ مکمل طور پر اس کی حالت سے محفوظ ہورہا تھا
اب جلدی سے مجھے اس شرٹ سے آزاد کرو
میں نے بٹن کھول دیے
میں نے کچھ اور کہا ہے
پلیز!! اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی
نہیں حسینہ جانم ! آج یہ آنسو مجھے تمہیں اپنا بنانے سے نہیں روک سکتے
شرٹ اتارو میری وہ اپنی ضد پہ قائم تھا ۔۔
رباشہ تو اس کی بے شرمی پہ ہی دنگ رہی گئی تھی وہ اتنا بے شرم ہے اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا ۔
ا چھا چھوڑو حسینہ جانم تم سے نہیں ہوگا ! میں خود ہی کرتا ہوں ضماہیر نے اپنی شرٹ اتار کر بیڈ سے نیچے پھینکی تھی ۔
آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں رباشہ نے دوبارہ سوال کیا تھا ۔
نہیں! مجھے بس شوق ہے لڑکیوں کی لپسٹک خراب کرنا کا ۔انہیں اپنی پسند کی ساڑھی پہنانے کا ۔ساڑھی پہنانے کے بعد ڈوریاں توڑنے کا ۔
وہ اس کے سوال کا جواب اپنے انداز میں دینے لگا
اس کی اس قدر بے باک باتوں پہ رباشہ کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا ۔
آج اس نے دل میں حقیقی اقرار کیا تھا اس شخص کی محبت کا ۔کتنی ضروری ہوگئی تھی وہ اس کے لیے ۔
آپ بہت بے شرم ہیں ! رباشہ کی زبان تو خاموش ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
جانم اسے بے شرم نہیں رومنٹک ہونا کہتے ہیں وہ ایک آنکھ ونگ کرتا اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے گیا ۔
رباشہ کی سانسیں اکھڑنے لگی تھی جبکہ اسے آزاد کرنے کا ضماہیر کا کوئی ارادہ نہیں تھا
وہ اس کے لبوں پہ جھکا اس کی ایک ایک سانس کو پینے لگا ۔
وہ اس کی سانسوں کو چھیننے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
اپنی پیاس مٹاتے ضماہیر نے اس کے لبوں کو آزادی بخشی تھی ۔
وہ تیزی سے سانس لیتی اپنی سانسیں بہال کرنے لگی ۔
میں تمہیں اپنی دنیا میں لے کر جانا چاہتا ہوں حسینہ جانم جہاں صرف تم اور میں ہوں ہماری دنیا جہاں صرف محبت ہو۔
جہاں ایک حسینہ جانم ہو اور ایک اس کا دیوانہ
سرگوشیاں کرتے وہ ہولے ہولے اس کی شہ رگ پہ اپنا گرم لمس چھوڑنے لگا ۔
وہ اپنی مزاحمتیں ترک کرتی مکمل طور پر خود کو ضماہیر کے حوالے کر گئی ۔
