Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal NovelR50522 Ik Deewana Tha (Episode 22)
Rate this Novel
Ik Deewana Tha (Episode 22)
Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal
کیا کر رہی تھی تم اس کے ساتھ ؟ غصہ میں پھنکارتے رباشہ کو بیڈ پہ گرائے ضماہیر سختی سے اس پہ جھکا تھا ۔
آنکھوں میں بلا کی شدت تھی ۔ وہ میں چا۔۔چا ۔۔چابی لینے گئی تھی ضماہیر کی آنکھوں میں چھائی سرخی کو دیکھ اس کے جسم میں خوف نے سرائیت کی تھی ۔
چابی !!!! ہا ہا ہا ۔۔۔۔مجھے بھی تو کہ سکتی تھی تمہیں وشمہ سے ملنا ہے ۔۔۔طنزیہ مسکراہٹ لیے وہ مزید اس کے گرد اپنا دائرہ تنگ کر گیا ۔
آپ حویلی نہیں تھے ۔۔لہجہ میں لڑکھڑاہٹ تھی
مر گیا تھا کیا میں یا میں نے واپس نہیں آنا تھا ؟ غصہ سے چیختے رباشہ کے بازوؤں کو سختی سے اس کی کمرے کے گرد باندھیں وہ اس کے لبوں پہ جارحانہ حملہ کر گیا ۔۔۔
چھونے میں اتنی شدت تھی کہ رباشہ کانپ اٹھی تھی ۔۔۔۔اج وہ پہلے والا ضماہیر نہیں تھا ۔۔۔۔جو سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی حسینہ جانم کے نزدیک جاتا تھا ۔۔۔یہ ضماہیر گوندل تھا ۔۔۔
جو اپنی حسینہ جانم کو سزا دینے کے لیے اسے تکلیف پہنچا رہا تھا ۔۔۔وہ کسی بھی عمل سے اپنی حسینہ جانم کا دیوانہ نہیں لگ رہا تھا ۔
درد کی شدت سے رباشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔۔مجھے درد ہورہا ہے ۔۔۔۔اس کے رونے میں مزید شدت آئی تھی ۔۔۔۔انسو کسی آبشار کی مانند بہنے لگے تھے ۔
درد !!! جانتی بھی ہو درد کا مطلب ؟ اعصاب تن گئے تھے ۔
گہری آنکھیں بغیر کسی جزبات کے اپنی حسینہ جانم کو گھور رہی تھی ۔
آج اس کی آنکھوں میں کوئی جزبات نہیں تھے کوئی احساسات نہیں تھے ۔۔۔
وہ جزبات سے عاری تھا ۔
درد مجھے ملا ہے ۔ اور وہ بھی کوئی ایک نہیں ہزاروں ۔۔۔۔محبت کرنے کا درد ۔۔۔اندھے اعتماد کا درد ۔۔۔۔۔دھوکے کا درد۔۔۔کسی کو خود کو سونپ دینے کا درد۔۔۔۔ کسی کی محبت میں دیوانہ ہونے کا درد ۔۔۔۔۔۔وہ ایک ایک لفظ چبا کر ادا کرنے لگا ۔
میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ضماہیر ۔۔۔۔روتے بلکتے وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگی ۔
کیا نہیں کیا ؟ وہ غصے میں چیختے ڈریسنگ پر موجود ہر چیز زمین پر پٹخ چکا تھا ۔
نہیں کیا ؟ نہیں کیا اس دانیال سے اپنی محبت کا اظہار ؟ اسے یقین نہیں دلا رہی تھی تم محبت کا ؟ شرم آنی چاہیے تمہیں شوہر کے ساتھ دغا کرتے ہوے ؟ تم میں اور دانیال کی ماں میں کوئی فرق نہیں ہے وہ بھی شادی کے بعد ایک نامحرم سے رابطے میں تھی اور تم ۔۔۔تم نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی
وہ غصے میں کیا بول رہا تھا اسے خود معلوم نہیں تھا بس اسے اتنا پتا تھا کہ اس کی بیوی اس کی حسینہ جانم ایک لڑکے ۔۔۔۔ایک نامحرم کے انتہائی نزدیک کھڑی اس سے محبت کے دعوے کر رہی تھی ۔
میں نے سچ میں یہ نہیں کہا ؟
اور کتنی بکواس کرنی ہے تمہیں؟ غصے میں دھاڑتے وہ رباشہ کو کسی کھلونے کی طرح دیوار کی طرف دھکا دے گیا ۔
رباشہ کی کمر دیوار سے جالگی تھی ۔۔۔جسم میں درد کی لہریں اٹھ گئی ۔۔۔۔وہ کیا کر سکتی تھی؟ کچھ نہیں ۔ اب اسے صرف ضماہیر کا غصہ ہی تو برداشت کرنا تھا ۔
آج اسے یقین ہو اتھا یہ شخص واقع ہی اس کا دیوانہ ہے ۔۔۔۔خود پر ملامت کرنے لگی کہ وہ کیوں دانیال کے پاس چابی لینے گئی تھی ۔
وہ درد کی شدت سے رونے لگی تھی جبکہ ضماہیر وہ تو یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ اب صرف اس کی بیوی نہیں رہی بلکہ اس کے بچے کی ماں بھی ہے ۔۔۔۔اس کے لیے اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا تھا ۔
مجھے سکون نہیں مل رہا آج ۔ تمہارے یہ لب ۔۔۔رباشہ کے لبوں پہ برقی رفتار سے جھکتے اس نے سختی سے انہیں اپنے لبوں میں لیا تھا ۔۔
رباشہ کے ہونٹوں پہ اپنے دانتوں سے گہرا زخم لگائے وہ اسی کے نزدیک ہی اپنی کفوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے کھڑا ہوا تھا ۔
تمہارے یہ لب !! تمہارا یہ تل ۔۔۔۔۔وہ اس تل کو بھی بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا اس تل پہ بھی جان لیوا حملہ کرتے وہ رباشہ کے کان کی لو کو دانتوں میں دباگیا ۔۔اج یہ کچھ بھی مجھے سکون نہیں دے رہا ۔
جا نتی ہو کیوں ؟ کیونکہ تم نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ہے ۔
میں نے کچھ نہیں کیا میرا یقین کریں ؟ ضماہیر کو اپنی بانہوں میں جکڑے وہ سختی سے اسے اپنے گلے لگا گئی ۔
نہیں آج نہیں ۔۔اج تمہاری یہ خوبصورتی بھی تمہارے گناہ کی تلافی نہیں کر سکتی
رباشہ کو جھٹکتے وہ اسے خود سے دور دھکا دے گیا ۔
مرو ! یہیں مرو ! تب تک مرو جب تک تم مر نہیں جاتی !! جب مر جاؤ تب بھی یہیں رہنا !! تمہاری لاش بھی اسی کمرے میں گلے گی ۔۔
رباشہ کے لبوں کو سختی سے اپنی گرفت میں لیے پہلے سے موجود زخم کو تازہ کیے وہ اسے چھوڑتا کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
دروازے پہ پہنچ کر وہ رباشہ کی جانب مڑ اتھا ۔
جب اس زخم سے خون آنا بند ہو جائے تو مجھے کال کر دینا اس زخم کو تازہ کرنے دوبارہ آؤ گا حسینہ جانم
وہ اپنی جیب سے ایک موبائل نکالتا اسے رباشہ کی جھولی میں پھینک گیا ۔
اور اگر تمہاری کال آنے میں دیر ہوی تو ایسے ہزار زخم تم اپنے وجود پہ پاؤ گی ۔۔۔نگاہوں کی سرخی سے رباشہ کو خوفزدہ کیے وہ دروازے کو لاک کرتا حویلی سے باہر نکلا تھا ۔
یہ میں نے کیا کردیا ؟ مجھے کیا ہوگیا تھا ؟ میں کب سے اتنا گر گیا کہ میں ایک لڑکی کے کردار کو مشکوک بنا گیا ۔۔۔۔۔وہ بھی اس کے شوہر کے سامنے…..
نہیں مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا مجھے معافی مانگنی ہوگی ضماہیر سے میں گناہ گار ہو رباشہ کا ۔۔۔مجھے ضماہیر کو سب سچ بتانا ہوگا ۔۔۔۔۔وشمہ !! وہ مزید نفرت کرے گی مجھ سے ۔۔۔۔۔۔میں نہیں آسکتا ان دونوں کی زندگی میں وہ لڑکی ماضی تھی میرا ۔۔۔۔۔
میرا حال میرا مستقبل سب وشمہ سے جڑا ہے ۔۔۔۔۔خود کو ملامت کیے وہ کمرے سے باہر نکلا تھا ۔
میں معافی مانگتا ہوں رباشہ سے ۔۔۔اسے احساس ہوا تھا اپنی غلطی کا مگر شاید اس کی غلطی ضماہیر اور رباشہ کی زندگی میں ایک طوفان کی طرح تباہی مچا گئی تھی ۔
دانیال کی گئی غلطی ضماہیر کے سامنے رباشہ کا گناہ تھی ۔۔۔
کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے دروازہ کو چھوا تھا جو باہر سے لاک تھا
لاک ؟؟ ابرو اچکائے وہ ناسمجھی کے عالم میں اپنے قدم وشمہ کے کمرے کی جانب موڑ گیا ۔
دروازے کا لاک کھولتے وہ کمرے میں داخل ہوا تھا بیڈ پہ آڑی ترچھی وشمہ اس کے دل کے تار ہلانے لگی ۔
آہستہ آہستہ وہ اپنے قدم اٹھائے اس کے بیڈ کے نزدیک گیا ۔
وشمہ معاف کر دو مجھے ۔۔۔میں غلطی کر آیا ہوں ۔۔۔۔۔میں نے ضماہیر اور رباشہ کی زندگی خراب کردی ۔۔میں نے کڑکڑاہٹ پھیلا دی ان کی زندگی میں ۔۔۔۔۔وشمہ کے بیڈ کے نزدیک نیچے کی جانب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھتے وہ اس کے چہرے پہ آئی لٹھوں کو پھیچے کرتے اسے وضاحت دینے لگا تھا ۔
چہرے پہ خشک آنسوؤں کے نشانات تھے ۔
اپنے جزبات کے ہاتھوں مجبور ہوے وہ کھڑا ہوا تھا ہوا سے اڑتے بال بار بار اس کے چہرے کو ڈھک رہے تھے ۔
وشمہ پہ جھکے وہ اس کے بال کان کے پیچھے اڑیسنے لگا جبکہ اس کی گرم سانسیں وشمہ کو بھگونے لگی تھی ۔
چہرے پہ کسی کی گرم سانسوں کو محسوس کرتے اس نے فوراً آنکھ کھولی تھی ۔
تم !! دانیال کو اپنے کمرے میں اپنے اتنے نزدیک پاکر وہ اسے خود سے دور دھکیلتے بیڈ سے پیچھے دھکا دے گئی۔
کیا کر رہے تھے میرے اتنے نزدیک؟؟ اگر میں نے شادی سے انکار کیا تو اس کا کیا مطلب ہے اب تم ناجائز طریقہ اختیار کرو گے ۔۔۔۔۔اب تم حرام طریقے سے مجھے اپنی زندگی میں شامل کرو گے ۔۔۔
مجھے حرام حلال جو طریقہ اختیار کرنا پڑا میں سب کروں گا مگر تمہیں کبھی خود سے دور جانے نہیں دوں گا ۔۔۔اس کا کسی قسم کا ایسا ارادہ نہیں تھا جیسا وشمہ سوچ رہی تھی مگر اپنی عادت سے مجبور وہ ہر دفعہ زہریلے الفاظ استعمال کرتا تھا ۔
مان جاؤ مجھ سے شادی کے لیے ؟ اس کا لہجہ کسی معصوم بچے کی طرح تھا جو اپنے والدین سے کھلونے کی فرمائش کر رہا ہو ۔
کیا کہا تھا آپ نے مجھے ؟ عزت نفس !!!
آپ کی عزت نفس نہیں ہے کیا جو بار بار میرے ٹھکرانے میرے انکار کرنے کے باوجود مجھ سے بے عزت ہونے آجاتے ہیں ۔۔۔۔دانیال کا طنزیہ تیر آج وہ اسی پر چلا گئی تھی ۔
ہم عاشقوں کی یہی تو خصلت ہوتی ہے محبوب سے بار بار بے عزت ہونے کے بعد دوبارہ اسی کے در بے عزت ہونے چلے آتے ہیں آج وہ پہلے والا دانیال نہیں تھا جس کا لہجہ ہمیشہ مغرور ہوتا تھا جس کی چال ڈھال سے انا ٹپکتی تھی ۔۔۔۔یہ تو وشمہ کے عشق میں پاگل دیوانہ تھا ۔۔۔۔یہ وشمہ کا دانیال تھا جسے وشمہ کی محبت نے بدلا تھا ۔
کرلو نا مجھ سے شادی ؟
مجھے موت جلدی آئے گی ۔۔۔
اتنی بکواس باتیں کہاں سے آتی ہیں تمہارے دماغ میں لہجہ میں یک دم سختی ابھری تھی ۔
یہ میرے دماغ میں نہیں آتی بلکہ ایسی دعائیں مجھے لوگوں سے ملتی ہیں دانیال کی کہی گئی بات وہ اسی کے منہ پہ مار گئی ۔
اگر لوگوں کے کہنے سے موت ہوتی تو دنیا میں آج انسان نہ ہوتے ۔
لوگوں کے کہنے سے عمر لمبی بھی تو ہوتی ہے ۔۔
I am sorry
کس چیز کے لیے ؟ نگاہوں میں سوال لیے وہ دانیال کی جانب دیکھنے لگی تھی ۔
تمہیں تکلیف پہچانے کے لیے ۔۔تمہاری روح کو چھلنی کرنے کے لیے ۔۔۔۔تمہارے جزبات کا مزاق اڑانے کے لیے اور ہر اس غم کے لیے جو میں نے تمہیں دیا ہے
تکلیف!!! کونسی تکلیف ایسی تکلیفیں تو بچپن سے ہم آپ کی ماں کی وجہ سے جھیلتے آئے ہیں ۔۔بات رہی میرے جزبات کی تو اچھا ہے نہ آپ نے مزاق بنایا مجھے میری اوقات تو معلوم ہوی ۔۔
اوقات تمہاری اوقات میری بساط سے زیادہ ہے قاتل حسینہ!
اگر میری اوقات آپ کی بساط سے زیادہ ہے تو مجھے حاصل کرنے کی تمنا چھوڑ دیں آپ ۔۔۔اور براہ مہربانی اس کمرے سے نکل جائیں
آپ کو معلوم نہیں ایک لڑکی کے کمرے میں اتنی رات کو نہیں آتے ۔۔۔اور خاص طور پہ ایک کنواری لڑکی کے ۔۔۔
اب مہربانی کرکے میرے کمرے سے نکل جائیں جزبات سے عاری لہجہ تھا ۔۔۔۔۔لہجہ سے مکمل اجنبیت ظاہر تھی ۔
پلیز وشمہ اتنی بڑی سزا نہ دو مجھے !!! میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر وہ ٹوٹا ہارا انسان ایک دفعہ پھر اپنی محبت ہار گیا تھا ۔وہ آج ایک دفعہ پھر اپنی محبت پانے میں ناکام ہوا تھا ۔
محبت شاہد کچھ لوگوں کو راس آتی ہے ۔
میں رہ سکتی ہوں تو آپ بھی رہ سکتے ہیں ۔۔۔۔اگر نہیں رہ سکتے تو عادت ڈال لیں ۔۔۔اور اب نکل جائیں میرے کمرے سے ۔۔۔دوبارہ کبھی میرے سامنے اپنا یہ چہرہ نہ لانا آپ کا یہ چہرہ دیکھ کر میری نفرت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
کیا رہ گیا تھا اس کی زندگی میں وہ سب ہار گیا تھا ۔۔کمرے سے باہر نکلے وہ ایک دفعہ پھر رباشہ کے کمرے کی جانب مڑا تھا ۔
دروازہ پھر لاک تھا اب کی دفعہ اس نے دروازہ ناک کیا تھا جبکہ کمرے کے اندر سے کچھ گرنے کی آواز آئی تھی ۔
کوئی ہے اندر ؟
جواب نہ پاکر اس نے سائیڈ پڑی میز کے دراز سے چابی نکالی تھی ۔
دروازہ کھول کہ وہ اندر داخل ہوا کمرہ مکمل طور پہ اندھیرے میں ڈوبہ تھا جبکہ دیوار سے لگے کسی کے سسکنے کی آواز اس کے قدم دیوار کی جانب اٹھا گئی۔
قدموں کی سنسناہٹ سن کر رباشہ فوراً اٹھی اور اس کے سینے سے جالگی ۔۔۔مگر اس کے کلون کی خوشبو۔۔۔یہ ضماہیر نہیں تھا ۔۔ اپنے ہاتھ اس کی پشت سے ہٹائے وہ دانیال سے دور ہوی تھی ۔
کک کون ہے ؟
میں !!!
دانیال تم کیا کر رہے ہو یہاں ؟ آواز پہچانتے ہی وہ بہت اونچی آواز میں چیخی تھی ۔
تم رو کیوں رہی ہو ؟ کمرے کی لائٹ اون کرتے اس کی نگاہیں رباشہ کے چہرے پہ گئی تھی ۔
اور جشن مناؤ اپنی بربادی پر !
بربادی!!
تم نے جو میری شان میں میرے شوہر کے سامنے تعریفیں کی ہیں اس پر تو جشن بنتا ہے نا
میرا یقین کرو میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔میں نہیں چاہتا تھا ایسا کچھ ہو ۔
تم نہیں چاہتے تھے پر ہو تو گیا نہ ؟ وہ چیخی تھی ۔
مجھے معاف کر دو ۔
ضماہیر کا جو اعتبار ختم ہوا ہے اسے واپس لا سکتے ہو آنکھوں میں سوال تھا ۔
میں تمہاری زندگی سے بہت دور چلا جاؤں گا وشمہ کو لے کر
وشمہ !! اب اس کی زندگی برباد کرنا چاہتے ہو تم ۔تم جیسا انسان تو کبھی کسی کی زندگی میں شامل نہ ہو
دانیال نے کرب سے مٹھیاں بھینچی تھی ۔
کیا کر رہے ہو یہاں میرے کمرے میں اب پھر ضماہیر کے آنے کا انتظار ہے یا پھر کوئی نیا الزام سوچ کر آئے ہو دانیال پر طنز کرتی وہ اس کی روح تک چھلنی کر گئی تھی ۔
وہ پہلے افسوس میں ڈوبا تھا اور اب رباشہ اسے مزید شرمندہ کر گئی تھی ۔
قدموں کا رخ موڑے وہ رباشہ کے کمرے سے باہر چلا گیا ۔
ضماہیر کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہورہا تھا وہ ناجانے کتنی سگریٹیں اپنے اندر انڈیل چکا تھا ۔
کیسے کر سکتی ہے وہ میرے ساتھ ایسا ؟ محبت کے بدلے تو محبت دی جاتی ہے نہ ؟ اور وہ ۔۔۔۔۔میں نے ہمیشہ اس سے محبت کی ہے ۔۔اگر اسے مجھ سے رشتہ نہیں بنانا تھا تو اس نے بنایا کیوں ؟
میں عذاب بنادوں گا اس کی زندگی جلتی سگریٹ کو مٹھی میں دبائے وہ خود پر قابو پانے لگا ۔
ہاتھ پر چھالا امنڈ آیا تھا ۔۔۔۔جس میں اب درد ہونے لگا تھا مگر اس درد کو اگنور کیے وہ مزید بے دردی سے ایک اور سگریٹ جلائے اسی چھالے پہ رگڑنے لگا ۔
اس سب کا قصور وار میں ہی تو ہوں یہ سب میں نے کیا ہے نہ میں اسے اتنی آزادی دیتا نہ وہ میرے پیٹھ پیچھے اتنا سب کچھ کرتی ۔
اسے غصہ آرہا تھا رباشہ پہ جو ایک لڑکے کے اتنے نزدیک کھڑی اس کے لیے پیار کا نغمہ گنگنا رہی تھی ۔
میں چلی جاتی ہوں یہاں سے ۔۔۔۔مجھے نہیں رہنا۔۔۔میں اپنے گھر جاتی ہوں ۔۔۔جب ضماہیر کا غصہ ٹھنڈا ہوگا پھر آجاؤ گی سر پر چادر اوڑھے خود کو اچھے سے ڈھکے وہ کمرے سے باہر نکلی تھی ۔
صحیح کہتے ہیں لوگ اس دنیا میں ماں باپ کے سوا کوئی اپنا نہیں ہوتا چہرہ آنسوؤں سے تر ہونے لگا تھا ۔
باہر نکل گئی ہے وہ لڑکی حویلی سے ؟ رباشہ کو حویلی سے باہر نکلتا دیکھ مناہل نے ایک انجانے نمبر پہ کال ملائی تھی ۔
چہرے پہ ایک پرسکون مسکراہٹ تھی ۔
تم لوگوں کو یہ بچی ہم نے اس لیے نہیں لا کر دی تھی کہ اس کی شادی کسی اور سے کردو ؟ یہ ہم نے امانت دی تھی تمہیں!!
اور تم !!!
تم لوگوں نے وہ بچی کسی اور کو سونپ دی ؟ تمہاری ہمت کیسے ہوی یہ کرنے کی اوپر سے ہمیں بھنک تک نہیں لگنے دی ۔
نہیں نہیں چھوٹی مالکن ہمیں نہیں پتا تھا یہ اتنا سب کچھ ہو جائے گا اور رباشہ وہ حویلی کی ہی بہو بنے گی ۔
ہمیں تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ ڈاکو اسے ایسے پھینک جائیں گے اور وہ حویلی کے چھوٹے صاحب کو ملے گی ۔
ہم رباشہ سے بات کریں گے وہ خلع لے لے گی اس سے ۔
بہت ہی گھٹیا مزاق تھا وہ حویلی کی بہو بنی ہے اس کے شوہر کے جسم میں حویلی والوں کا خوں دوڑتا ہے وہ کبھی اپنی بیوی کو نہیں چھوڑے گا ۔
مام آپ فکر نہ کریں ؟ بس آپ دیکھتی جائیں رباشہ اس کو تو مجھ سے کبھی آزادی نہیں ملے گی ۔
یا وہ میری ہوگی یا میں سانسیں چھین لوں گا اس کی آنکھوں میں وحشت لیے وہ بے دردوں کی طرح زاویار رباشہ کے باپ کے چہرے پر ایک تھپڑ رسید کرگیا ۔
ہیلو ؟
کہاں ہو تم ضماہیر کچھ خبر بھی ہے رباشہ کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے ہسپتال میں ہے وہ
کیا ؟ کیسے فاطمہ خالہ وہ اس قدر زور سے چیخا تھا کہ فاطمہ خالہ کو اپنے کان پھٹتے ہوئے محسوس ہوے۔
خود کو سنبھالے سگریٹ کو پھینکے وہ ریش ڈرائیونگ کرتا ہسپتال پہنچا تھا ۔
خالہ !! خالہ!! کدھر ہے میری رباشہ ؟ کیا ہو اہے سے ؟ وہ بے بس رو دینے کو تھا ۔
ایک کار سے ٹکرا گئی ہے وہ ؟
کار سے ؟ کار سے کیسے ؟ گھر میں کار کہاں ؟ وہ تو کمرے میں لاک تھی ؟ پھر کیسے ٹکرا گئی وہ دماغ میں موجود دھندلی کڑیوں کو ایک لڑی میں جوڑنے لگا تھا ۔
ہمیں نہیں پتا کیسے کیا کر رہی تھی؟ ہمیں صرف ایک کال آئی تھی کہ اس جگہ پہ ایکسیڈنٹ ہوا ہے اس لڑکی کا اور ہم سب لوگ جب وہاں پہنچے تو وہ رباشہ تھی ۔
رباشہ کیسے خالہ ؟ میں تو اسے کمرے میں چھوڑ کر آیا تھا ۔
اسے کچھ ہوگا تو نہیں نہ ؟ کہاں ہے وہ خالہ ؟ میں مل لوں اس سے وہ دیوانہ وار اوپریشن تھیٹر کی جانب بڑھا تھا جس جگہ پر فاطمہ بیگم نے اشارہ کیا تھا ۔
نہیں آپ اندر نہیں جاسکتے راستے میں ایک نرس حائل ہوی تھی جس نے ضماہیر کو اندر جانے سے روکا تھا ۔
میری بیوی ہے اندر!! گویا اس نے گواہی دی تھی
ان کا آپریشن چل رہا ہے جب تک اوپریشن چل رہا ہو کوئی بھی تھیٹر کے اندر نہیں جاسکتا ۔
پلیز آپ بھی سمجھنے کی کوشش کریں آپ کو باہر ہی رہنا ہوگا ۔
اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو میں یہ پورا ہسپتال تباہ کردوں گا تہس نہس کردوں گا میں یہ دنیا ۔۔۔۔۔یہ دنیا اپنی بربادی دیکھے گی ۔
ہیر ریلیکس ہوجاؤ اندر آپریشن چل رہا ہے کچھ نہیں ہوگا رباشہ کو ۔۔۔دیکھنا اللہ پاک سب صحیح کردیں گے ۔۔۔۔۔
خالہ اگر اسے کچھ ہوگیا ۔۔۔۔یہ ضماہیر بھی ختم ہو جائے گا ۔۔۔
میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر اس کے جسم میں میری روح بستی ہے ۔۔۔۔۔اگر سے کچھ ہوا تو میری روح بھی پرواز کر جائے گی ۔
خالہ !!!! وہ کیوں باہر گئی !! میں نے تو بند کیا تھا اسے ۔۔۔۔
تم نے بند کیا تھا کا کیا مطلب ؟ وہ نا سمجھی سے ضماہیر کو دیکھنے لگی ۔
بس آپ یہ سمجھ لیں یہ دنیا مجھے برباد کرنے میں کامیاب ہوگئی۔۔۔۔۔میں نے خود اپنے لیے بربادی چنی ہے ۔۔۔۔لہجہ میں کرب تھا ۔۔۔۔ایک افسوس تھا ۔۔۔۔پچھتاوا تھا مگر اب پچھتاوے سے کیا فائیدہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ۔۔۔
ہمیں معاف کرنا ہم آپ بچہ نہیں بچا سکے ۔۔۔۔
میری رباشہ !! میری بیوی !!! اسے اپنے بچے سے زیادہ اپنی بیوی کی فکر تھی ۔۔۔۔وہ صحیح ہے اسے کچھ ہوا تو نہیں وہ بھوکے شیر کے طرح ڈاکٹر کی طرف بھاگا تھا ۔
آپ کی بیوی کا بہت خون بہ چکا ہے ۔۔۔۔خون کا فوری انتظام کریں اگر خون نہ ملا تو معاملہ ہمارے کنٹرول سے باہر ہوگا ۔
کیا مطلب ہے آپ کا کنٹرول سے باہر ہوگا ؟ ضماہیر ڈاکٹر کے منہ پر ایک مکہ رسید کرگیا ۔۔۔
اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو تیرا جو یہ منہ ہے ۔۔۔تیرا ہسپتال ۔۔۔تیری سانسیں کچھ نہیں بچے گا تجھ میں ۔۔سب کچھ چھین لوں گا میں تجھ سے ۔۔۔۔۔تیری ایک ایک چیز میری قفس میں ہوگی ۔
یہ کیا بد تمیزی ہے ؟
بدتمیزی تو ابھی دیکھی نہیں میری بیوی ہے وہ !!! وہ مجھے چھوڑ نہیں سکتی ۔۔۔
آپ سمجھائیں انہیں ضماہیر کا ہاتھ اپنے گریبان سے دور کیے ڈاکٹر واپس آپریشن تھیٹر میں چلا گیا ۔۔۔
خون کا انتظام کیجیے!! ورنہ ہم گارنٹی نہیں دے سکتے ۔۔
خالہ !! وہ ایک دفعہ پھر نم آنکھیں لیے فاطمہ خالہ کے پاس آیا تھا ۔حالت ایک دم اجڑی تھی ۔۔۔۔بکھرے بال۔۔۔چہرہ مٹی سے لت پت۔۔۔۔شرٹ پر سلوٹیں ابھر آئی تھی ۔۔۔۔۔ کف کہنیوں تک فولڈ تھی ۔۔۔۔۔ہاتھ کا زخم اسے تو شاید وہ بھول چکا تھا ۔
گھر !! میں گھر کال کرتا ہوں رباشہ کے فون اٹھائے وہ رباشہ کے گھر کال ملانے لگا ۔
آنٹی آپ جلدی سے ہسپتال آجائیں ۔
ہسپتال !! کیوں بیٹا سب خیریت!!!
بس آپ لوگ جلدی سے آجائیں ۔۔۔
وضو کیے وہ ہسپتال میں موجود ایک چھوٹی سی مسجد میں داخل ہوا تھا ۔
ناجانے کتنے آنسو وہ اپنے رب کے حضور بہا چکا تھا ۔
اس نے ہمیشہ سے اپنی پسندیدہ چیزیں کھوئی تھی اپنی ماں !! باپ !! لٹل فیری
مگر اب وہ رباشہ کو کھونا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ ڈرتا تھا اپنی بیوی کو کھونے سے ۔۔۔۔۔اس کے لیے سب سے زیادہ اہم اس کی بیوی تھی ۔۔۔
سجدے میں سر رکھے وہ اپنی بیوی کی سلامتی کے لیے دعائیں کرنے لگا۔۔۔
میں نے جو کچھ کہا تھا غصے میں کہا تھا میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ۔۔۔۔
میری سانسیں چل رہی ہیں تو اس کی سانسیں کیسے رک سکتی ہیں ۔۔۔
کیا ہوا سب خیریت ؟ کیوں بلایا ہے ہمیں ؟
رباشہ کے لیے خون چاہیے تھا
خون !!؟؟؟؟
اس کاایکسیڈنٹ ہوا ہے اور ہمیں خون چاہیے!
کہاں ہے میری بچی ؟ کیسی ہے وہ !!
رباشہ کی ماں کا ہاتھ پکڑے فاطمہ بیگم اسے آپریشن تھیٹر کے سامنے لائی تھی ۔
بس آپ سب لوگ دعا کریں آنٹی رباشہ کو کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔میں بھی دعا کر رہا ہوں اللہ پاک اسے صحت یاب کریں ۔
میری بیوی کو تم لوگوں کی دعاؤں کی ضرورت نہیں خاص طور پر تمہاری ۔۔۔میں ہوں اپنی بیوی کے لیے دعا کرنے کے لیے ۔۔۔۔اور میرے خیال سے میری دعائیں اتنی تو قابل قبول ہیں کہ رب کو میری حالت پہ رحم اجائے ۔۔۔
ضماہیر یہ کس طریقے سے بات کر رہے ہو تم زاویار سے ۔۔۔۔۔۔
تم تو خاموش ہی رہو دانیال جس کو خود ادب تمیز کا معلوم نہ ہو وہ دوسروں کو سبق دیتے اچھا نہیں لگتا ۔
ضماہیر مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔۔خدا پر بھروسہ رکھو کچھ نہیں ہوتا رباشہ کو ۔۔۔
برباد کرنے والے آباد ہونے کی تسلی دیتے اچھے نہیں لگتے دانیال گوندل دانیال کو خود سے دور دھکا دیے وہ آپریشن تھیٹر کے دروازے کے سامنے جا رکا تھا ۔
سوری !! آپ کی وائف قومہ میں جاچکی ہیں ۔۔۔۔
قومہ !! اس کے قدم لڑکھڑائے تھے
ہم کچھ نہیں کہ سکتے وہ کب تک قومے سے باہر آئی گی
We are sorry!!!
ضماہیر یک دم اپنے حوش وحواس سے بیگانہ ہوا تھا لڑکھڑاتے قدموں سے وہ آپریشن تھیٹر میں داخل ہوا تھا ۔
اس کی بیوی اس کی حسینہ جانم ہزاروں مشینوں کی قفس میں جکڑی تھی ۔
رباشہ کے لیے قید تو ضماہیر کی بانہیں تھی مگر آج !! آج وہ اس قید سے آزاد تھی ۔
آج وہ مشینوں میں قید تھی ۔
لٹل فیری!! قدم اٹھائے نم آنکھیں لیے وہ رباشہ کی جانب بڑھنے لگا ۔
لٹل فیری !!! حسینہ جانم لہجہ بوجھل سا تھا اس کے لیے ایک لفظ تک ادا کرنا مشکل ہورہا تھا ۔
بیوی !! جسم میں سکون نے سرائیت کی تھی ۔
معاف کر دو مجھے ۔۔۔۔۔لٹل فیری !! رباشہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اس کے ماتھے پہ جھکا تھا ۔
اتنی ناراض تھی اپنے چور شوہر سے کے اس سے دور بھاگ رہی تھی تم ۔۔۔۔ رباشہ کے چہرے پہ جھکا اپنے آنسوؤں سے وہ س کا چہرہ بھگونے لگا تھا ۔
وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں رویا تھا
