Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 11)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

چوری کرنے میں بھی محنت لگتی ہے حسینہ جانم !! ایسے ہی کوئی بچوں کا کام نہیں یہ ۔۔۔۔۔۔۔رباشہ کا دوپٹہ اس کے چہرے پر گھونگھٹ کی شکل میں ڈالے وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے نیچے لانے لگا ۔

یہ گھونگھٹ سارا وقت ایسے ہی رہے ۔ ایک منٹ کے لیے بھی تمہارے چہرے سے یہ گھونگھٹ نہ ہٹے آہستہ آہستہ چلتے ہوے ضماہیر رباشہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگا ۔

مگر میں کیا سارا وقت ایسے بیٹھی رہوں گی

تیار میرے لیے ہوی ہوں نہ تو اپنا حسن کسی دوسرے کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے

میرے لیے چھپا کر رکھو اسے رات کو اچھے سے سراہوں گا بے باک گفتگو کرتا وہ رباشہ کو لرزنے پر مجبور کرگیا

اس کے ہاتھ کانپنے لگے تھے جسے ضماہیر نے اچھے سے محسوس کیا تھے کیونکہ وہ رباشہ کا ہاتھ تھامے ہوے تھا ۔

ضماہیر پلیز یہاں تو تھوڑا خیال کریں ۔۔وہ بیچاری اس کی بڑھتی بے باکیاں روکنے کے لیے اس سے التجا ہی تو کر سکتی تھی ۔

حسینہ جانم یہاں خیال ہی تو کر رہا ہوں ورنہ تم تو اتنی خوبصورت لگ رہی ہو دل چاہ رہا ہے کہ اٹھا کر ابھی کمرے میں بھاگ جاؤ رباشہ کا ہاتھ فاطمہ بیگم کو پکڑواتے وہ فاطمہ بیگم کے پاس آیا تھا ۔

خالہ رباشہ کا گھونگھٹ غلطی سے بھی نہیں ہٹنا چاہیے ۔۔۔فاطمہ بیگم کے نزدیک ہوکر اس نے کان میں آہستہ سے کہا اور خود حویلی سے باہر مردان خانے میں چلا گیا جہاں آدمیوں کے کھانے کابندوبست کیا گیا تھا ۔

فاطمہ بیگم نے رباشہ کو بہت دیہان سے سٹیج پر موجود صوفے پر بٹھایا تھا کیونکہ وہ اب اتنا تو جاننے لگی تھی کہ رباشہ کی تکلیف ضماہیر کا حیوان جگا دیتی ہے ۔

ماشاءاللہ بہو تو بہت ہی سونی ہے گاؤں کی ایک عورت حویلی ماں کے پاس کھڑی رباشہ کی تعریف کر رہی تھی

ہاں ہاں ہمارے ضماہیر کی جو بیوی ہے سونی تو ہوگی نہ مردہ دل سے رباشہ کی تعریف کیے وہ اس عورت کے پاس سے ہٹی تھی ۔

کچھ ہی دیر میں ضماہیر بھی رباشہ کے پاس آکر بیٹھ چکا تھا ۔ سارے گاؤں والے اس جوڑے پر قربان ہو رہے تھے وہ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تھے ۔

ان دونوں کا وجود چاند ستارے کی طرح تھا جو ایک دوسرے کی مدد سے روشن ہو کر خوبصورت لگتے ہیں ۔

ماشاءاللہ سرادر صاحب آپ تو ویسے ہی بہت خوبصورت ہیں مگر بہو رانی انہوں نے تو آپ سے بھی زیادہ چاندنی چورائی ہے ۔

ضماہیر نے نگاہ اٹھا کر رباشہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔اب میری بیوی کو نظر نہ لگا دیجیے گا

اسے کہاں گوارا تھا اس کے علاؤہ کوئی اور رباشہ کے حسن کی تعریف کرے اس کی خوبصورتی کو سراہے۔

آئے ہائے سردار صاحب کیسی باتیں کرتے ہیں ہماری تو بیٹی ہے ہماری کیوں نظر لگنے لگی ۔

ماسی میرے خیال سے کھانا لگ گیا ہے آپ کھانا کھا لیں ۔

وہ عورت بار بار رباشہ کا گھونگھٹ اٹھا کر دیکھ رہی تھی جبکہ ضماہیر غصے میں صرف اپنی مٹھیاں ہی بھینچے جا رہا تھا

اسے غصہ آنے لگا تھا اس عورت پر جو اس کی بیوی کو نظر لگانے کا ارادہ رکھتی تھی ۔

جی جی سردار صاحب وہ فوراً سے ہاں میں سر ہلاتی سٹیج سے نیچے اتری تھی ۔

کھانا کھایا حسینہ جانم ؟

نہیں

کیوں ؟

کسی نے لا کر نہیں دیا

پاگل ہوکیا !

صبح کے ناشتے کے بعد تم نے کچھ نہیں کہا طبیعت خراب ہو جاتی تو ۔۔مجھے کہ دیتی میں نظر نہیں آیا تمہیں ۔۔۔۔خالہ کہاں ہیں

اسے مزید غصہ آنے لگا تھا رباشہ کی لاپرواہی پر

آپ کو خیال رکھنا چاہیے تھا میرے کھانے کا ! وہ گھونگھٹ میں سے ہی معصوم سی ہلکی آواز میں بولی تھی

ہاں شاید تم صحیح کہ رہی ہو غلطی میری ہے مجھے خیال رکھنا چاہیے تھا آئیند میں خیال رکھوں گا کھانا پلیٹ میں ڈالتے اس نے نوالہ رباشہ کی جانب بڑھایا تھا۔

ضماہیر کے نوالے کو اگنور کرتے رباشہ نے پلیٹ سے خود

نوالہ بنایا جبکہ ضماہیر اس کا بڑھتا ہاتھ پلیٹ میں ہی روک چکا تھا ۔

کھلا رہا ہوں نہ میں !!! اس نے غصہ سے رباشہ کے ہاتھ کو دبایا تھا

ضماہیر سارے گاؤں والے ہیں یہاں

کسی غیر کو تو نہیں کھلا رہا تم بیوی ہو میری میں شوہر ہوں تمہارا میرے خیال سے اتنا کافی ہے گاوں والوں کے لیے نوالہ گھونگھٹ کے اندر کرتے اس نے رباشہ کو کھلایا تھا

ضماہیر ہٹ جاؤ سارے گاؤں والے باتیں بنا رہے ہیں حویلی ماں ضماہیر کو رباشہ کے پاس بیٹھا دیکھ کر اس کے پاس سٹیج پر آئی تھی

جو باتیں بنانی ہیں بنائیں اب کیا شوہر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا ۔۔۔۔۔بڑی ڈھٹائی سے جواب دیتا وہ رباشہ کا ہاتھ پکڑتا سٹیج سے نیچے آیا تھا

خالہ رات زیادہ ہوگئی ہے میں کمرے میں جارہا ہوں

سردار صاحب تو بہت پیار کرتے ہیں اپنی بیوی سے ۔۔۔۔اخر ہے جو اتنی خوبصورت کیسے نہ کریں گاؤں والوں کی باتیں حویلی ماں کے اندر جلتی آگ پر مزید تیل کا کام کر رہی تھی ۔

آپ سب کو اب گھر چلے جانا چاہیے آپ لوگ یہاں آئے بہت شکریہ حویلی ماں گاؤں والوں کا شکریہ ادا کرتی حویلی کا بڑا دروازہ کھلوا چکی تھی جو اکثر تب ہی کھلتا تھا جب حویلی میں کسی کھانے وغیرہ کا اہتمام ہو ۔

سارے گاؤں والے اپنے گھروں کو چل دیے جبکہ حویلی ماں فاطمہ بیگم کو بازو سے پکڑے کمرے میں لائی تھی

یہ کیا تماشہ لگایا ہوا ہے تمہارے بھانجے نے؟

کیا ہوا ہے حویلی ماں اتنے غصے سے کیوں بات کر رہی ہیں وہ بے بسی سے اپنا بازو حویلی ماں کی گرفت سے چھڑوانے لگی ۔

یہ کیا تمہارا بھانجا دیوانہ ہوگیا ہے جو ایسی حرکتیں کر رہا ہے ۔۔۔۔ اس لڑکی کے ساتھ ایسے چپک چپک کر بیٹھ رہا تھا ۔۔۔اسے زرا شرم نہیں آئی ۔۔۔

حویلی ماں اگر وہ اپنی بیوی کا خیال رکھ رہا تھا تو اس میں شرم کیسی ؟

بیوی!!! بیوی تو کہو ہی مت کچھ دن کی مہمان ہے بس وہ لڑکی۔ آرہی ہے کل مناہل پھر دیکھتے ہیں ضماہیر کیسے اس لڑکی کو رکھ پاتا ہے اپنے ساتھ !!

دعا کریں آنے والا مہمان ،مہمان نہ ہو فاطمہ بیگم خاموشی سے کہتی کمرے سے باہر نکلی تھی جبکہ پیچھے حویلی ماں اس کی بات کے مطلب کو سمجھنے کی غوروفکر میں لگ گئی ۔

حسینہ جانم ! کمرے کے دروازے پر پہنچتے ہی ضماہیر نے اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا

پاؤں سے دروازے کو بند کرتے وہ رباشہ کو بیڈ تک لایا تھا

حسینہ جانم ! کیا تم اجازت دیتی ہو میں تم پر اپنی چھاپ چھوڑوں تم مکمل طور پر میری ہوجاؤ ۔۔۔۔میں تمہارے وجود سے روح تک کا سفر کروں اسے بیڈ پر بٹھا کر وہ خود اس کے نزدیک بیٹھتا اس سے اجازت طلب کرنے لگا ۔

میں نے آپ کو بتایا تھا مجھے وقت ۔۔۔۔۔وقت سنتے ہی وہ رباشہ کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرے اس کے لبوں پہ سختی سے جھکا تھا ۔

پوچھنا میرا فرض تھا حسینہ جانم !! ضماہیر کی انگلیاں اس کی شرٹ پر لگی ڈوریوں کے اردگرد گھومنے لگی جبکہ رباشہ کا وجود تو خوف سے ہی لرزنے لگا ۔

ضماہیر کے چھوتے ہی اس کے جسم میں سرد لہریں دوڑنے لگی ۔

ضماہیر!!

ضماہیر کی اتنی سی قربت میں ہی اس کی جان ہوا ہونے لگی تھی

جی جان !! اتنی خوبصورت سے جواب دیا گیا کہ ایک پل کو تو رباشہ اس دشمن جان کو دیکھنے لگی ۔

آپ نے تو مجھ سے بدلہ لینے کے لیے شادی کی تھی نہ ؟ وہ آج اس سے اپنے ہر سوال کا جواب لینا چاہتی تھی

جانم پورانی باتیں بھول جاؤ وہ اپنے لبوں سے اس کی شہ رگ پہ گستاخیاں کرنے لگا

مگر مجھے جاننا ہے ایسا کیا ہوا جو آپ مجھ سے اتنی محبت کرنے لگا؟

تم سے کس نے کہا میں تم سے محبت کرتا ہوں وہ پل میں سیدھا ہو کر بیٹھا تھا

مجھے لگا !!! رباشہ شرمندہ سی اپنی نظریں جھکا گئی

شاید وہ غلط سوال کر بیٹھی تھی ۔

جانم میں محبت نہیں عشق کرتا ہوں تم سے !! کب سے کیسے کیوں اس کا جواب میرے پاس نہیں وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ بڑھائے اس کی کمر پہ ڈوریوں کی گرفت کو ڈھیلا کرنے لگا

شاید قبول ہے کہ دو الفاظ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دو نامحرم لوگوں کو محرم بنانے سے لے کر محبت کی منزلوں تک پہنچا دیتے ہیں

مگر شعیب!

ہاں میں تمہیں اس دن بدلے کے لیے لایا تھا کیونکہ تم نے خون کیا تھا مگر میں حقیقت سے ناآشنا نہیں میں جانتا ہوں تم نے اپنی عزت کی حفاظت کے لیے وہ سب کیا تھا ۔

جتنا میں جانتا ہوں اس لحاظ سے تم نے اپنی حفاظت کی تھی ۔۔۔اور حفاظت کے لیے کیا گیا قتل ،قتل نہیں ہوتا

وہ مکمل طور پر اس کی کمر کو ڈوریوں سے آزاد کر چکا تھا۔

مگر !!!!

ششششش حسینہ جانم !!!!

مجھے محسوس کرنے دو خود کو !! مجھے اس خوشبو میں ڈوبنے دو اس کے ماتھے سے ہوتے ضماہیر کے لب رباشہ کی شہ رگ پہ پہنچے تھے ۔

رباشہ آج بغیر کسی مزاحمت کے اسے مکمل طور پر خود پر اختیار دے چکی تھی وہ بھی تو اس ستم گر کا ساتھ چاہتی تھی ۔۔۔۔اسے ہر قدم پر اپنا محافظ ضماہیر چاہیے تھا ۔۔۔۔دانیال کی محبت تو شاید اب کہیں کھونے لگی تھی شاید یہ رباشہ تو رباشہ ضماہیر ہے ۔۔۔۔جو ساری زندگی اپنے شوہر کا ساتھ چاہتی ہے

میں آپ سے ایک بات پوچھوں!!

ہممم اس کے لبوں پہ ہنوز جھکے ضماہیر نے محض اتنا سا جواب دیا

آپ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟

حویلی ماں آپ ان سے ایسے کیوں بولتے ہو ؟ آپ کے مما بابا کہاں ہیں ؟

ایک تو تم بولتی بہت ہو حسینہ جانم !! اس کے لبوں پہ جھکا ان پر قفل لگا گیا اگر اب آواز آئی نہ پھر دیکھنا

وہ نہیں چاہتا تھا اس وقت ان سوالوں کا جواب دینا ! شاید وہ کبھی ان سوالوں کا جواب دینا نہیں چاہتا تھا ۔

اس سب سے تو دور بھاگنا تھا اسے ۔

آپ !!!

شششششش!!!تمہیں سمجھ نہیں آئی

اس کے لبوں پہ اپنی انگلی رکھے خاموش کرواتا وہ رباشہ کی شرٹ کاندھے سے مکمل طور پر ہٹا چکا تھا

رباشہ شرم کے مارے سرخ ہوتی جلدی سے خود کو ضماہیر کے سینے سے لگاگئی ۔

حسینہ جانم !! خود سے دور کرتے ضماہیر نے بھیگی آواز میں اسے پکارا تھا ۔

جبکہ اب اس کا نشانہ رباشہ کے مہندی سے سجے ہاتھ تھے

میری محبت پر میری محبت کا رنگ بہت گہرا چڑھا ہےوہ اس کے ہاتھوں پہ جھکا مہندی کی خوشبو اپنی سانسوں میں گھولنے لگا

ضماہیر کال !!

ضماہیر کا فون جو پہلے تین دفعہ بج کر بند ہوچکا تھا چوتھی دفعہ کال آنے پر رباشہ نے اس کی توجہ اس کے موبائل کی جانب کی تھی ۔

آنے دو !!!

دیکھ لیں کوئی ضروری کال نہ ہو

جو میں اس وقت کر رہا ہوں اس سے زیادہ ضروری کچھ نہیں ۔۔۔ضماہیر کی منمانیاں بڑھنے لگی تھی وہ رباشہ پہ جھکا اپنی وحشت اس میں انڈیلنا لگا

ایک دفعہ دیکھ لیں ۔۔۔۔

موبائل دوبارہ بجنے پر ضماہیر نے کال اٹینڈ کی تھی

کون ؟؟ وہ کال پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے فورا ہی مدعے پر آیا تھا ۔

کیا ؟؟ دادو سائیں ؟؟؟ کہاں ؟؟

دانیال !!!

وہ جلدی سے رباشہ سے دور اٹھ کر بیٹھا تھا میں ابھی آیا بس پانچ منٹ

مجھے ابھی جانا ہوگا تم تھک گئی ہو سوجانا اس کا ماتھا چومتے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا

جبکہ پیچھے رباشہ تو دانیال پر ہی اٹک گئی تھی

دانیال!! اس نے زیر لب ایک دفعہ یہ نام دوبارہ بڑبڑایا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *