Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Deewana Tha (Episode 20)

Ik Deewana Tha by Nazleen Kanwal

دانیال آپ مجھ سے محبت نہیں کر سکتے کیا ؟

نہیں اس نے بلکل کھرا جواب دیا تھا ۔

مگر مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے اس میں میرا کیا قصور ؟

قصور ہے تمہارا تم نے کیوں خود پر ایک نامحرم کی محبت کو حاوی ہونے دیا ۔

مجھ سے محبت کر کے تم تباہ ہو جاؤ گی !

اگر یہ تباہی اتنی خوبصورت ہے تو میں تباہ ہونا چاہتی ہوں دانیال !

میری زندگی میں صرف اندھیروں کا بسیرا ہے ۔

میں اس اندھیرے میں ایک ننھے جگنو کی طرح روشنی پھیلاؤ گی ۔

میری قسمت محبت کے معاملے میں دغا دے جاتی ہے ۔

قسمت دعاؤں سے بدل جاتی ہے میں ہمارے لیے دعا کروں گی ۔

وشمہ کیا تمہاری کوئی عزت نفس نہیں

میں کتنی دفعہ تمہیں دھتکار چکا ہوں اور تم بار بار اپنا مزاق بنوانے میرے سامنے آجاتی ہو ۔

وہ صحیح تو کہ رہا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا اس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے مگر ہمیشہ اس نے دھتکارا تو تھا وشمہ کو ۔

میں کیا کروں میرا یہ دل بے قرار ہوجاتا ہے آپ کا ساتھ پانے کے لیے ۔

کیا چاہتی ہو تم میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑوں کے مجھے چھوڑ دوں جان بخش دو میری وہ سخت آواز میں گرجا تھا ۔

آپ کو آزادی میری موت کے بعد ہی ملے گی مجھ سے ۔

پھر تو میں دعا کروں گا کہ تم جلد مر جاؤ وہ کتنا سنگ دل انسان تھا اس کے لیے موت اتنی آسان تھی کیا ؟

میں مر جاؤں گی !!!

میں آزاد ہوجاؤں گا چہرے پہ بلا کی مسکراہٹ تھی ۔

وشمہ آنکھوں میں ابھرے سمندر کو چھپائے چہرے پر ایک فریبی مسکراہٹ لیے اس کے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔

دوبارہ کبھی میری کمرے میں اپنے قدم نہ رکھنا وہ جاتے جاتے بھی اس کے دل پہ خنجر چلا گیا تھا ۔

ساری رات ضماہیر کی پناہوں میں بے بس ہوتی رباشہ خود کو مکمل طور پہ اس کے حوالے کرتی خواب و خرگوش میں مگن تھی ۔

مکمل ہو چکی تھی اس کی زندگی کتنی خوش نصیب تھی وہ جو انسان اس کی زندگی برباد کرنے کے لیے ایک جلاد کے روپ میں آیا تھا وہ آج اس کا شوہر تھا ۔

وہ شوہر بن کر کتنا خوبصورت ہوگیا تھا ۔۔وہ تو بھول گیا تھا کہ وہ کیوں اس لڑکی کو اپنے ساتھ لایا تھا ۔

رباشہ اس کی قربت میں ڈوبی سہمی سی اس کی شدتیں برداشت کرتی تھی اس کا لمس کبھی اس قدر پر سکون و نرم ہوتا تھا کہ اس کی روح تک کو سکون

پہنچاتا تھا کبھی اس قدر سخت کہ اس کی روح تک لرزنے پر مجبور ہو جاتی تھی ۔

صبح دونوں کی آنکھ مناہل کی گونجنے والی چیخوں سے کھلی تھی ۔

ضماہیر ہڑ بڑا کر اٹھا تھا جبکہ رباشہ وہ تو جانتی تھی کہ یہ سب کیا ہے وہ پرسکون سی اٹھ کر کمرے میں گھوم کر اس کی چیخوں سے لطف اندوز ہونے لگی ۔

حسینہ جانم کیا کارنامہ سر انجام دیا تھا کل تم لوگوں نے جس کی سزا یہ مجھے دے رہی ہے ۔

وہ تنگ ہوا تھا مناہل کی چیخوں کی وجہ سے جس وجہ سے اس کی نیند میں خلل آیا تھا ۔

جائیں خود جا کے دیکھ آئیں وہ دروازہ کھولتی ضماہیر کو باہر جانے کا اشارہ کرنے لگی ۔

ضماہیر کمرے سے باہر نکلا تھا جبکہ رباشہ خود بھی اس کے پیچھے چھپی آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگی ۔

وشمہ کب سے دروازے کے پیچھے کھڑی مناہل کی حالت سے محفوظ ہورہی تھی رباشہ کو آتا دیکھ وہ اسے بھی اپنے ساتھ وہیں چھپا گئی۔

بھابھی بیچاری بچی کے منہ سے تو فیس واش ہی نہیں اتر رہا وشمہ نے مزاق اڑانے والے انداز میں مناہل کی غیر ہوتی حالت کا مزاق بنایا تھا ۔

اب میں دیکھتی ہوں کیسے ڈھائی کلو میک اپ کر کے میرے شوہر پہ ڈورے ڈالے گی یہ میک اپ کی دکان مس چمکادڑ رباشہ مناہل کے کمرے میں داخل ہوی تھی ۔

ضماہیر اچھا ہوا تم آگئے دیکھنا پتا نہیں کیا ہوا میرے منہ سے یہ اتر نہیں رہا ۔

او بی بی میرے شوہر کیوں دیکھیں اگر اتنا شوق ہے نہ لڑکوں کو اپنا چہرہ دکھانے کا تو ایک عدد شوہر تم بھی لے لو۔

رباشہ میں مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں میرا چہرہ جل رہا ہے ۔

یہ تو بہت اچھا ہوا اب تم ڈھائی کلو میک اپ کرکے میرے شوہر کے سامنے تو نہیں آؤ گی ۔

ضماہیر میرے خیال سے اس فیس واش میں کچھ تھا وہ رباشہ کی زات کی موجودگی کو مکمل طور پر نظر انداز کر گئی۔

جبکہ اس کا ہاتھ جس میں فیس واش تھا وہ ضماہیر کے سامنے موجود تھا ۔

دو نمبر فیس واش کیوں استعمال کرتی ہو ایک اچھا سے لے لو بلکہ شوہر جی آپ ایک فیس واش مجھے لا کر دینا میں اپنے صدقہ دوں گی مناہل کو ۔

حسینہ جانم !! ضماہیر نے رباشہ کو گھورا تھا جس وجہ سے مناہل کے چہرے پہ ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری تھی ۔

رباشہ تو اس کی پھیلی مسکراہٹ دیکھ کر ہی خونخوار ہوی تھی اسے غصہ آنے لگا تھا ضماہیر پہ جس نے مناہل کے سامنے اسے ڈانٹا تھا ۔

رباشہ پیر پٹکتی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔

مناہل میں ان چیزوں سے واقف نہیں اس لیے میں اس میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا مناہل کو مدد سے انکار کرکے وہ واپس اپنے کمرے میں آیا تھا ۔

مناہل ہاں میں سر ہلاتی واشروم کی طرف مڑی تھی اس کے لیے تو یہی کافی تھا کہ ضماہیر نے آج رباشہ کا نہیں اس کا ساتھ دیا ہے ۔

یہ تو صرف شروعات ہے رباشہ آگے آگے دیکھو جیسے آج ضماہیر نے میری سائیڈ لی ہے کل کو وہ میری سائیڈ پہ ہوگا ۔

حسینہ جانم ! یہ کیا بدتمیزی تھی تم نے کیا کیا تھا اس کے فیس واش کے ساتھ ۔

گلو ملائی تھی اس میں چہرہ دوسری جانب کیے وہ ضماہیر کو جواب دینے لگی ۔

دماغ ٹھیک ہے تمہارا اگر اس کے چہرے کو کچھ ہوجاتا جانتی بھی ہو چہرہ کتنی حساس جگہ ہے جسم کی ضماہیر کا لہجہ سخت ہو اتھا ۔

میں پاگل نہیں ہوں پورے پانچ سال پڑھ کے آئی ہوں معلوم ہے مجھ کس چیز کے کیا سائیڈ ایفیکٹ ہیں بس تھوڑی دیر اس کو جلن ہوگی اس کے بعد ٹھیک ہو جائے گا ۔

آپ کو بہت فکر ہورہی ہے آخر جملہ ادا کرتے اس کی آواز بیٹھی تھی آواز میں سدیوں کا بھیگا پن تھا ۔بوجھل آواز لیے وہ اپنا چہرہ دوسری جانب کیے اپنے آنسوؤں کو پینے لگی ۔

تم رو رہی ہو ضماہیر کی روح کانپی تھی اس کے رونے پہ ۔

رونے کے لیے وجہ ہونی چاہیے ۔

مگر میری حسینہ جانم کے پاس تو یہ ٹیلنٹ بھی ہے کہ وہ بغیر وجہ کے بھی رو سکتی ہے ضماہیر نے اس کے رونے پہ چوٹ کی تھی ۔

جس وجہ سے اس کے رونے میں مزید شدت آئی تھی ۔

ادھر دیکھو !

نہیں!!!

وجہ ؟؟؟

میں آپ کو دیکھوں گی تو مجھے آپ پر پیار آجاتا ہے ۔

تو دیکھ لو تاکہ اسی بہانے تمہیں مجھ معصوم پر پیار تو آئے ۔

معصوم وہ بھی آپ صبح صبح سر دیوار سے تو نہیں ٹکرا گیا ۔

میں تو صبح صبح اپنی حسینہ جانم سے ٹکرایا تھا ۔

آپ نے مجھ پر غصہ کیوں کیا رباشہ کا چہرہ ابھی بھی دوسری جانب تھا ۔

رباشہ تم بد تمیزی کر رہی تھی اس سے ۔

تو جو وہ کرتی ہے وہ آپ کو نظر نہیں آتا ۔

کیا کیا ہے اس نے ؟

آپ کو میری غلطیاں تو نظر آجاتی ہیں اپنی محبوبہ کی نہیں آتی وہ سوں سوں کرتی اپنی آستینوں سے ناک کو پوچھنے لگی ۔

اچھا بابا سوری ! سوری جان وہ ہار مانتے بیڈ کے ساتھ اس کے گھٹنوں کا سہارا لیے نیچے بیٹھا تھا ۔

وہ چھ فٹ کا مرد آج اس عورت کہ جو بمشکل ہی پانچ فٹ کی تھی اس کے عشق میں ڈوبا اس کے سہارے بیٹھا اس سے معافی مانگ رہا تھا ۔

سوری جان اب نہیں کروں گا ۔

آپ نے دیکھا نہیں وہ کیسے مجھے اپنے اتنے بڑے بڑے دانت دکھا رہی تھی ۔

اچھا نہ جان سوری اگر اب اس نے ایسا کیا تو میں خود اس کے دانت توڑ دوں گا ۔

ضماہیر کی بات سنتی رباشہ کھلکھلا اٹھی تھی اپنا چہرہ ضماہیر کی جانب کیے وہ اس کے چہرے پہ نظریں ٹکا گئی ۔

آپ چاہتے ہیں نہ میں آپ کو معاف کر دوں

ہاں

پھر میری کچھ شرائط ہیں

بولو !!!

پہلے بتائیں مانیں گے نہ ؟

ہاں

آپ مجھ پر غصہ نہیں کریں گے !!

تم ایسے کام نہ کرنا کہ مجھے غصہ آئے ۔

آپ میری ساری باتیں مانیں گے ۔

جو ماننے والی ہوں گی ۔

آپ مجھے سے بہت پیار کریں گے ۔

حسینہ جانم جب میں اتنا بوڑھا ہوجاؤ گا میرے سامنے والے دونوں دانت ٹوٹ جائیں گے ان سے سیٹیاں بجنے لگے گی میں تب بھی تمہیں ایسے ہی چاہوں گا ۔

آپ اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے ۔

بہت زیادہ

کب سے ؟ رباشہ نے ایک اور سوال کیا تھا ۔

شاید تب سے جب سے تم میرے نکاح میں آئی ہو نکاح کے دو الفاظ ادا کرتے ہی ہی اللہ خود دلوں میں محبت ڈال دیتا ہے ۔

محبت کے دروازے آسمانوں پہ ہوتے ہیں جنہیں خدا چنے گئے لوگوں پہ کھولتا ہے ۔

ضماہیر اس کے سوکھے لبوں پہ انگھوٹا پھیرے اپنی تیز نگاہوں سے اس کے چہرے کو جھلسانے لگا ۔

وہ یک لخت اس کے سرد لبوں پہ جھکا تھا ضماہیر کے لمس کو محسوس کرتے اس کی جان لبوں پہ آئی تھی وہ اپنا سانس لینا بھول چکی تھی ۔

جانم اب میرا نہیں خیال کہ تمہیں اس طرح محسوس کرنا چاہیے ۔

اس طرح ؟ مطلب ؟

تمہاری سانس شاید تم مجھ میں منتقل کر رہی ہو ۔

ضماہیر سے دور ہوتے ہی اس نے اپنا سانس بحال کیا تھا ۔

آج آپ نے مجھے گھر لے کر جانا ہے رباشہ نے اسے کل والی بات یاد کرائی تھی ۔

ہاں مجھے یاد ہے اب اگر تم مجھے ایک میٹھی سی کس کرتی ہو تو میں تمہیں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گا ورنہ تم یہیں رہوں گی ۔

ضماہیر نے اپنے قدم بیڈ کی جانب بڑھائے تھے جبکہ اب وہ آنکھیں موندھے بیڈ پر لیٹ چکا تھا ۔

یہ چیٹنگ ہے !

چیٹنگ کیسی ؟

آپ نے کل نہیں بولا تھا ایسا

مگر اب تو بول رہا ہوں نہ مجھے کس کرو میں تمہیں لے کر جاؤں گا ۔

آپ بہت بڑے دھوکے باز ہیں

اوکے میں تمہیں لے کر نہیں جارہا وہ بیڈ سے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھا تھا

رباشہ جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے سینے سے لگ گئی

چور شوہر جی پلیز !

کس می جانم !

رباشہ نظریں جھکائے اپنا وزن پیروں پہ ڈالے اونچی ہوی تھی ۔

آنکھوں کا گھیرا ابھی بھی زمین پہ تھا ۔

ضماہیر کے لبوں کو اپنے لبوں کی دسترس میں لیے وہ جلدی سے پیچھے ہوی تھی ۔

جانم بس اتنی سی !

میں نے کر دی ہے بس اب نہیں۔

حسینہ جانم دیکھو ایسے کرتے ہیں رباشہ کے لبوں پہ جھکا وہ پوری شدت سے اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے گیا ۔

اس کا رباشہ کو آزادی بخشنے کا کوئی موڈ نہیں تھا ۔

رباشہ کی سانس اکھڑنے لگی تھا وہ اس کے رحم وکرم پہ کھڑی اسی کے سینے لگی تھی ۔

رباشہ کے جسم سے اٹھتی مہک اسے مدحوش کر رہی تھی اس کا جود پر سے کنٹرول ختم ہونے لگا تھا اس کے جسم کی خوشبو سے محسور ہوتا وہ جابجا اس کے چہرے کو اپنے لبوں سے چھونے لگا ۔

وہ مدحوش ہوگیا تھا اس کی قربت میں ۔

اس کے وجود پہ اپنی چھاپ نقش کرنے لگا ۔

میں تمہیں حفظ کرنا چاہتا ہوں حسینہ جانم ۔

حفظ تو تحریریں ہوتی ہیں ۔

حسینہ جانم تم میرے لیے ایک کھلی کتاب ہو جس کے ہر صفحہ پر ایک لفظ لکھا ہے جسے میں حفظ کر سکتا ہوں مگر تم طویل اتنی ہو کہ میں روز تمہیں حفظ کرنے کے باوجود اختتام تک نہیں پہنچ سکتا ۔

تم جانتی ہو تمہارا نشہ شراب سے بھی زیادہ تیز ہے آج میں مانتا ہوں عورت کا نشہ سستہ نہیں تم شراب سے بھی زیادہ حاوی ہوتی ہو مجھ پہ ۔

رباشہ کی قربت میں سکون پاکر وہ ہر نئے انداز میں اسے سراہتا تھا اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا تھا ۔

اس کی محبت کا ہر انداز نیا تھا ۔

جانم دیکھو کم از کم پانچ منٹ تو تمہارے یہ لب میرے لبوں کی قید میں رہنے چاہیے ۔

بے شرم انسان ! رباشہ جلدی سے اس سے دور ہو کر واشروم بھاگی گئی تھی جبکہ پیچھے ضماہیر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیڈ پہ لیٹا تھا ۔

ہیلو السلام علیکم!

وعلیکم السلام

کون میں بول رہی ہوں بھالو

اللہ وش تم ؟ تمہیں نمبر کہاں سے ملا

نہیں میرا بھوت بول رہا ہے نمبر تو ایسے پوچھ رہے ہو جیسے کہیں کہ وزیراعظم ہو تم ۔

نہ کر یار مجھے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے

کہاں ہو تم وشمہ سیدھا مدعے پر آئی تھی

۔

یونیورسٹی کے لیے تیار ہورہا ہوں ۔

مجھے لے کر جانا ساتھ ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اب اس کا زمانہ دانیال سے ہو کل کے بعد اتنا تو اس نے سوچا تھا کہ وہ دانیال کو اپنی اہمیت محسوس کروائے گی ۔

آخر اسے بھی تو پتہ چلے بے قراری کسے کہتے ہیں ۔۔۔۔تڑپ کا درد ۔۔۔۔۔انتظار۔۔۔۔ چہرے کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا کھوکھلا پن۔

او ہیلو میڈم تمہارا وہ جلاد منگیتر مجھے اپنی آنکھوں سے ہی بھون ڈالے گا نہ بابا نہ میں نے مرنا نہیں ہے ۔

میرا دماغ خراب نہ کر بھالو وہ آج کام سے گئے ہیں گھر نہیں ہیں تم آکر مجھے یونیورسٹی لے جانا وشمہ نے کال کاٹ دی تھی ۔

کہاں جارہی ہو وشمہ بچے سر پر چادر اوڑھے اپنا بیگ کاندھوں پہ ڈالے وہ گھر سے باہر نکلی تھی ۔

یونیورسٹی جا رہی ہوں دادا سائیں۔

دانیال تو ابھی اٹھا نہیں ۔

نہیں دادا سائیں آپ کو یاد ہوگا زین اس کے ساتھ جارہی ہوں

زین !؟؟؟

وہ موٹا بھالو !!

او ہاں ہاں پورانے گاؤں والا

جی دادا سائیں چلو اچھا چلی جاؤ ۔

خدا حافظ بولتی وہ گھر سے باہر نکلی تھی جہاں زین اپنی بائیک پہ بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا ۔

آگئی تم ؟

نہیں ابھی حویلی میں ہی ہوں ۔

چلو اچھا وشمہ ذین کے کاندھے پر ہاتھ رکھے اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔

دادا سائیں آج وشمہ نے یونیورسٹی نہیں جانا ڈاینگ ٹیبل پہ وشمہ کو موجود نہ پاکر دانیال دادا سائیں سے سوال کرنے لگا ۔

بچے وہ چلی گئی ہے

چلی گئی ! مگر کس کے ساتھ

اس کا ایک دوست ہے زین بچہ بہت اچھا ہے جب چھوٹا تھا تو میں ملا تھا اس سے بس اسی کے ساتھ گئی ہے ۔

زین ؟؟؟ وہ ناسمجھی سے ایک دفعہ دوبارہ اس کا نام دہرا گیا ۔

ہاں زین !

وہ کس سے پوچھ کر زین کے ساتھ گئی ہے دانیال ٹیبل پہ پڑا گلاس غصے میں زمین پر پٹخ کر حویلی سے باہر نکلا تھا ۔

اس کا غصہ سوا نیزے پہ پہنچا تھا ۔

جب میں نے منع کیا تھا اسے کہ مجھے اس لڑکے کے ساتھ نظر نہ آئے پھر بھی !!!

وہ غصے میں دھاڑا تھا ۔

موٹی ویسے تم بہت کھاتی ہو میری تو جیب ہی ہلکی کروادی تم نے ۔

وشمہ نے گھر سے ناشتہ نہیں کیا تھا اس لیے وہ اور زین ناشتے کے لیے ایک ہوٹل پر رکے تھے ۔

دانیال ریش ڈرائیونگ کرتا اپنی شرٹ کے اوپر کے دوبٹن کھولے اپنا غصہ کم کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔

کچھ ہی دیر میں اس کی گاڑی ذین کی بائیک کے آگے آکے رکی تھی وشمہ کو زین کے نزدیک بیٹھا دیکھ کر وہ مزید کڑھنے لگا تھا ۔

آستینوں کو کہنیوں تک چڑھائے وہ شدید غصے میں گاڑی سے باہر نکلا تھا ۔

وشمہ کی حالت اسے دیکھ کر ابتر ہوی تھی وہیں زین کے پیروں تلے زمین کھسکی تھی اسے تو یہ کہا گیا تھا کہ دانیال کام سے باہر گیا ہے ۔

منع کیا تھا نہ میں نے تمہیں وہ شیر کی سی رفتار سے وشمہ کے سر پہ پہنچا تھا ۔

آپ نے منع کیا تھا تو اس کا کیا مطلب ؟

میں غلام نہیں آپ کی جو ہر بات مانو گی وشمہ خود میں ہمت سمیٹے اس کی نظروں میں نظریں گاڑے سخت لہجے میں چیخی تھی ۔

تم تمہاری ہمت کیسے ہوی وشمہ کو اپنے ساتھ لے کر جانے کی ۔

زین کیا جواب دیتا اس کے پاس تو اس سوال کا جواب ہی نہیں تھا اگر وہ سچ بولتا تو وشمہ کے لیے مسلہ بن سکتا تھا ۔

اس لیے اس نے خاموشی سے بائیک کو ریس دی اور چند سیکنڈ میں ہی بائیک ہوا میں اڑاتا وہ اس سے دور پہنچا تھا ۔

بہت پڑھ لیا اس لڑکی نے ! کوئی ضرورت نہی اسے آگے پڑھنے کی ۔۔۔وہ وشمہ کو غصے سے حویلی میں کھینچ کر لایا تھا ۔

وشمہ کی آواز تو کہیں دور جا سوئی تھی اس کے پاس اب صرف آنکھوں میں موجود پانی تھا جو اس کی آنکھوں سے بہ رہا تھا ۔

دادا سائیں شادی کردیں اس کی حویلی میں شور سن کر ضماہیر نیچے آیا تھا ۔

کیا ہو رہا ہے یہاں

اپنی بہن کو سنبھال لو نا جانے کن لڑکوں کے ساتھ گھومتی رہتی ہے

تم ہوتے کون ہو میری بہن کے کردار پر انگلی اٹھانے والے

تمہارا ہونے والا بہنوئی اور تمہاری بہن کا شوہر دادا سائیں مجھے وشمہ سے شادی کرنی ہے بڑی ہی صفائی سے وہ اپنی پیش کش سامنے رکھ گیا تھا ۔

کیا ؟؟ ایسی سوچ بھی نہ رکھنا ضماہیر دھاڑا تھا اسے تو دانیال کی ایک جھلک بھی پسند نہیں تھی اور اب وہ اس کے گھر میں داخل ہونے کی بات کر رہا تھا ۔

تمہیں کیا لگتا ہے تم رضامندی نہیں دو گے تو میں وشمہ سے شادی نہیں کروں گا ۔

مسٹر ضماہیر گوندل سات سال پہلے جو کچھ ہوا اس میں میرا قصور صرف اتنا تھا کہ میں اس عورت کا بیٹا ہوں اس کے علاؤہ میرا کوئی قصور نہیں اور جہاں تک بات رہی وشمہ کی اسے تو میں تمہاری نظروں کے سامنے سے لے کر غائب ہوجاؤ گا ۔

میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہوں گا کیا دانیال ؟

ہاتھ پہ ہاتھ تو تم تب دھرو گے نہ جب تمہیں وشمہ کی خیر خبر ملے گی ۔

وشمہ کو کھینچتا وہ کمرے میں لے جا کر اسے کمرے میں لاک کرگیا ۔میں آپ سے شادی نہیں کروں گی دادا سائیں مجھے زین سے شادی کرنی ہے اس کے رونے نے شدت پکڑی تھی ۔

دانیال کمرے کے اندر داخل ہوتا اسے اندر سے کنڈی لگا گیا ۔

کیا بکواس کر رہی ہو تم اب تو تم صرف میری ہو کر رہو گی میرے بعد تمہارا مقدر قبر ہے ۔

مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ۔

میں ایک بٹے ہوے انسان سے کبھی محبت نہیں کرسکتی ۔مجھے نفرت ہے تم سے وہ اسے آپ سے تم پر لے آئی تھی ۔

نفرت ؟؟ محبت حد سے بڑھ گئی تو اب تم نے اسے نفرت کا نام دے دیا

میں اچھے سے جانتی ہوں آپ کے اور بھابھی کے درمیان کیا رشتہ تھا ۔

دانیال کی پکڑ وشمہ پہ کمزور ہوی تھی

رشتہ تھا نہ ہے تو نہیں!

آپ ایک بٹے ہوے انسان ہیں ۔

تو تم مجھے خود سے ضرب دے کر خود میں جمع کرلو نہ

Krelace

مجھے نفرت ہے تم سے دانیال! تمہارے علاؤہ مجھے ہر لڑکا منظور ہے

میرا علاؤہ کوئی لڑکا تمہاری قسمت میں نہیں یہ اپنے اس دماغ میں بٹھا لو ۔

مجھے نفرت ہے وہ غصے میں اپنا چہرہ موڑ گئی

تمہاری یہ بے رخی میری جان لے لے گی میں بے موت مارا جاؤ گا وشمہ ۔

اگر میں بے موت مارا گیا تو میری قاتل تم ہوں گی قاتل حسینہ ۔

بابا آپ تیار ہو گئے زاویار آج صبح جلدی اٹھ گیا تھا اسے خوشی تھی اپنی رباشہ سے ملنے کی جو اب اس کی نہیں رہی تھی ۔

بچے تمہیں تو بہت جلدی ہے آج !!

کیا کروں بابا چھ سال ہوگئے رباشہ کو دیکھے ہوے اب تو دل چاہ رہا ہے اڑ کر پہنچ جاؤ رباشہ کے پاس۔

بس تھوڑا سا انتظار کرو میں سوچ رہا ہوں آج تمہاری شادی کی ڈیٹ بھی فکس کر آئیں ۔

ہائے صدقے بابا آج آپ نے ثبوت دیا کہ آپ کو اپنے اکلوتے بیٹے سے بہت پیار ہے وہ بچوں کی طرح اپنے باپ کے چہرے کو چومنے لگا ۔

اوئے باؤلا ہوگیا ہے کیا !

کس طرح اپنے باپ کو کاٹ رہا ہے ۔

نہیں نہیں ماما پیار کر رہا ہوں آپ کے شوہر کو ویسے آپ کو کچھ زیادہ فکر نہیں ہورہی اپنے شوہر کی ۔۔۔

پورے گھر میں قہقہہ گونجا تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *