Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
کشمیر کی حسین وادیوں میں….
اکر.. وہ… اتنی خوش اور پر جوش تھی… کہ معاویہ.. اسے تنگ کر کر نہیں تھک رہا تھا……
اے برف کے گولے… باہر کیا جھانک رہی ہو… ادھر دیکھو میری طرف” اسنے.. اسکو کمر سے پکڑ کر روخ اپنی جانب کیا.. جبکہ انوشے مسکرا کر.. اسکو… دیکھنے لگی جو.. ابھی سو کر اٹھا تھا….
کیا دیکھ رہی ہو” اسنے پوچھا… تو انوشے.. جو اب اسکے ساتھ کافی فرینک ہو گئ… تھی… اسکی گردن میں بازو ڈالے اور… … اسکی جانب پیار سے دیکھا….
میں کشمیر کی خوبصورتی دیکھ رہی تھی… کالام میں رہتے ہوئے بھی ہم لوگوں نے کبھی کالام نہیں دیکھا.. اور اج کشمیر.. کی خوبصورتی دیکھ کر.. میں بہت خوش ہوں “وہ پر جوش ہو کر اچھلی تو.. معاویہ نے ایک انکھ اٹھائ..
کافی ہلکی پھلکی سی خوشی ہے جناب اپکی… یہاں دیکھیں….
اپکو دن رات دیکھ کر بے حد خوش ہوتا ہوں… ایسی خوشی خوشی ہوتی ہے… اب تم کہو.. سردار اپکی تو بات ہی کیا ہے جلدی کم اون” اسنے…. شوخی پن کا بھرپور مظاہرہ کیا…
انوشے نے… آنکھیں گھما کر اسکیطرف دیکھا…
اپ… کی بات تو عام سی ہے.. وہی اپکی شکل ہے اب میں اپکو دیکھ دیکھ کر تھک بھی تو گئ ہوں نہ.. تبھی میں کشمیر کو دیکھ کر زیادہ خوش ہوں َ” وہ اس سے جدا ہوتے ہوئے… معاویہ کا خون کلسا گئ.. جبکہ معاویہ نے کڑے تیوروں سے اسکا بازوں جکڑ کر کمر سے لگا دیا…
اچھا تو تم تھک گئ ہو.. وہ بھی مجھ سے..”
اہ نہیں میں تو… “بمشکل ہنسی روکتی.. وہ اسے صفائ دینے لگی…
کیا میں تو…. ٹانگے توڑ دینی ہے میں نے جو تم نے میرے سوا کسی کو دیکھا… “اسنے اسکے کان میں جھکتے ہوئے غصے سے کہا.. جبکہ ویسے ہی جکڑے وہ اب اسکو پیار کر رہا تھا…
اور جب وہ مزید شوخا ہوا تو انوشے نے.. اس سے خود کو ازاد کرایا…
اف اف معاویہ… دو دن سے کمرے میں بند ہیں ہم.. باہر چلتے ہیں.. پلیز…” اسنے.. اسکے جزبات کے بے لگام گھوڑوں پر… بندھ باھندنا چاہا.. جبکہ معاویہ نے نفی کی…
میڈیم نوشے…. یہ میرا.. ٹریپ ہے.. نو اپکی مرضی” وہ.. اسے پھر پکڑ چکا تھا.. انوشے نے منہ بنا لیا.. جبکہ معاویہ نے.. اسکا منہ پکڑا… اور اسکے… پھولے پھولے منہ اور خفا خفا آنکھوں کو دیکھتا رہا…
یہ لڑکی اسکے دل و دماغ میں ایسی سوار ہوئ تھی.. کہ وہ کسی اور کیطرف دیکھ ہی نہیں پاتا تھا…
معاویہ نے… اسکی مدھم سانسوں کو بلکل ہی روک دیا.. جبکہ اسکے بازوں اپنی گردن میں حائل کر کے… وہ.. اسکو بلکل اپنے بس میں لے چکا تھا…..
انوشے بھی اسکی بے پناہ محبت پر سر شار تھی… مگر وہ.. کچھ ہی لمہوں میں اس سے جدا ہوئ.. معاویہ نے منہ بنایا..
شاور لیں باہر چلیں گے… جلدی جلدی”اسنے… کہا.. جبکہ اپنی ہنسی چھپا لی..
معاویہ اسے گھورتا ہوا.. وہاں سے.. واشروم میں چلا گیا
جبکہ میرادل بلکل نہیں تھا اس کمرے سے جانے کا… باہر مگر..
بیگم کا حکم حکم ہے.. اور وہ سر آنکھوں پر” وہ بڑبڑایا جبکہ انوشے کھلکھلا دی.. اور دوبارہ کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئ..
…………
وہ سکون سے اسکی بانہوں میں سو رہی تھی.. وائٹ نائٹ سوٹ میں… اسکے بازوں کو جکڑے.. اسکے سینے پر سر رکھے… وہ.. گھیری نیند میں تھی جبکہ بہرام.. کی آنکھوں میں.. نیند… کا نام و نشان نہیں تھا.. وہ اکثر ایسے ہی جاگتا رہتا تھا…
معلوم نہیں کیوں اسے… اب نیند… نہیں اتی تھی…
اسنے بکھرنا چھوڑ دیا تھا.. اس لڑکی کو اپنا سہارا بنانا چھوڑ دیا تھا…
وہ ارمیش کو خوشیاں دے رہا تھا.. جبکہ.. اسکی خوشیاں کہاں تھیں اسے معلوم نہیں تھا…
بظاہر مسکراتے… چہرے کے پیچھے چھپی سنجیدگی… وہ اب کسی پر عیاں نہیں کرتا تھا…
اسے ارمیش سے محبت نہیں تھی…
ہاں وہ پاس ہوتی….
تو.. سکون ضرور ہوتا تھا..
مگر دماغ پر… عجیب سی فکر سوار رہتی تھی..
وہ نہیں جانتا تھا.. کیوں مگر.. وہ اپنی فکر کو.. خود سے بھی بیان نہیں کرنا چاہتا تھا…
محبت کبھی مرتی نہیں….
ہاں مگر .. غلطیوں میں ڈھک چھپ ضرور جاتی ہے….
وہ خود کو یہ بات… اکثر جیتاتا رہا…
مگر… اب… جبکہ.. اپنے ہاتھوں سے.. اسنے خود.. اپنی زندگی کو.. جبکہ.. اپنے ساتھ ساتھ کسی اور کی زندگی کو بھی تماشہ بنایا
تو یہ سب باتیں بس اسے اب چپکے سے محسوس ہوتی تھیں…
مگر.. بظاہر وہ مطمئین دیکھائ دیتا تھا…
ارمیش کے بار بار پوچھنے پر بھی وہ عابیر کے مطعلق ایک لفظ زبان سے نہیں بولتا تھا…
کیا بتاتا… اسکے پاس اسکے مطعلق کوئ بات نہیں تھی…
وہ اپنی ہی سوچو میں.. اتنا مگن تھا کہ.. اسے ارمیش.. کے جاگنے
کا بھی پتہ نہیں چلا….
خان”اسنے مدھم اواز میں پکارہ.. بہرام نے گردن کا.. روخ اسکیطرف کیا…. اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا.. جہاں زندگی ہی زندگی تھی…
ہممم بولو” اسنے.. اپنی انگلی کی پور سے اسکی پلکوں کو چھوا.. اور.. اسکیطرف متوجہ ہوا جبکہ لبوں پر مسکان نہیں تھی…
اپ کچھ سوچ رہے تھے” ارمیش… نے پوچھا…
ہاں “اسنے.. اب اسی انگلی سے اسکے ہلتے ہونٹوں کو چھوا…
کیا…” ارمیش… نے پوچھا…
یہی کہ خانم جلدی نہیں جاگ گئ.. ابھی تو رات تک سونا تھا.. تم نے” وہ آنکھیں گھما کر.. بولا تو.. اسے لگا جیسے اسنے اپنے پیچھلے لہجے پر پردہ ڈالا ہو.. وہ مسکرا دی.. مگر کہا کچھ نہیں…
اپ جاگ رہے تھے اور میں اتنی دیر سوتی رہی.. “وہ اسکے پہلو سے اٹھتی.. اپنے گاون کی ڈوریاں بند کرتی بالوں کا جوڑا بنانے لگی….
اوو رئیلی… میں اسی لیے جاگ رہا تھا.. کیوں کہ میرا پلین ایک بار ہھر سے اپنی بیوی.. کو تنگ کرنے کا ہے” بہرام نے کہتے ساتھ اسے.. دوبارہ اپنی جانب کھینچا…
ارمیش کی آنکھیں پھیلیں
. پورے دو دن سے.. نہ معاویہ لالا نہ احمر لالا اور نہ ہم.. باہر نہیں نکلے.. اور اپ کا اب بھی ارادہ…” وہ رک گئ..
جی ہاں نیک ارادہ… “وہ اسکو….. اپنے قابو میں کرتا اس سے پہلے اسپر جھکتا.. زور سے دروازہ بجا…
بھائ.. اپنے حجرے سے کس دن باہر نکلو گے”یہ معاویہ تھا جو باہر کھڑا چیخ رہا تھا…
بہرام نے تیور بگاڑ کر ارمیش کیطرف دیکھا.. جو کھلکھلا دی.. اور… اسکے پہلو سے جھٹ سے نکلتی… واشروم کیطرف بھاگی..
بہرام جو شرٹ لیس.. تھا… ویسے ہی اٹھ کر دروازہ کھولا.. اور کھینچ کر مکہ معاویہ کی ناک پر جڑ دیا.. انوشے نے ایک چیخ مار کر.. منہ ہر ہاتھ رکھا..
کس چیز کی تکلیف ہے”وہ سکون سے بولاجبکہ معاویہ نے بھی پلٹ کر.. سیم وار کیا… اب بہرام ایک قدم دور ہوا تھا…
یہی کہ جب میں کمرے سے باہر ہوں تو سالے تو.. کیوں… ہے کمرے میں” وہ پل میں دونوں ایک دوسرے پر تل گئے جبکہ انوشے نے بھکلا کر احمر کے کمرے کا دروازہ بجایا…
لالا وہ وہ اپس میں لڑ رہے ہیں” انوشے رو دینے کو تھی.. احمر.. اور اسکے پیچھے نین دونوں.. باہر نکلے جبکہ.. اب وہ دونوں زمین پر لیٹے قہقہے لگا رہے تھے…
معاویہ نے بہرام کی جانب دیکھا… قہقہ لگاتے ہوئے اسکی آنکھوں سے انسو نکل ایے تھے…
اسنے ماتھے پر بل ڈلے…
خان…”
ہم”بہرام نے اسکی جانب دیکھا….
بھول جا “معاویہ نے مدھم اواز میں کہا… تو.. وہ مسکرا دیا..
وہ کافی بدل گیا تھا.. پہلے اسکے قہقے میں بلا کی دلکشی تھی
جبکہ انکھ سے انسو تو.. کبھی.. اسکے دیکھا ہی نہیں تھا….
بہرام نے کوئ جواب نہیں دیا جبکہ دونوں کی ناک سی معمولی سا خون نکل رہا تھا…
اگر اپ دونوں کا جنگلی پن ختم ہو گیا ہو تو… اٹھ جائیں “احمر نے کہا تو.. معاویہ تو فورا کپڑے جھاڑتا اٹھا.. جبکہ بہرام
زمین پر بیٹھا… سب کو اپنے کمرے میں دیکھ رہا تھا…
ایک.. بس ایک منٹ میں مجھے اور میری بیوی کو اکیلا.. چھوڑو” وہ چلایا.. جبکہ احمر اور معاویہ منہ کھلے.. اسکی صورت دیکھنے لگے ارمیش تو شرم سے سرخ ہی پڑ گئ…
وہ ابھی ابھی گیلے بالوں میں سب کے سامنے نکلی تھی.. انکھ اٹھا کر بھی کسی کی طرف دیکھا نہیں جا رہا تھا…
اور اوپر سے اسکی بات…
خان…. شرم کر” معاویہ نے افسوس سے کہا… جبکہ… اسنے.. ہاتھ ہلا کر… سب کو چلتا کیا…. اور اٹھ کھڑا ہوا…
دو منٹ سے زیادہ نہیں باہر نکل فورا…” معاویہ بولا تو اسنے مسکرا کر ارمیش کیطرف دیکھا…
اور… معمول کی طرح اسکے گال پر.. چٹکی لے کر وہ واشروم میں چلا گیا…
پیچھے ارمیش دل سے مسکرائ تھی اسے.. معلوم نہیں تھا.. کہ.. اس شخص میں اسکی خوشیاں چھپی ہیں… اور اج وہ سب پا کر… وہ بے پناہ خوش تھی…
…………………….
معاذ اٹھ بھی چکو”عابیر نے.. اسکو ہلایا…
جبکہ اسنے اسکا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ خود پر گیرا لیا.. اور اسکے گیلے بالوں میں چہرہ چھپا لیا…
اسکی محبت جلد ہی عابیر کو… اسکا کر گئ تھی….
اور عابیر کو پھر سے.. نارمل دیکھ کر.. سب ہی بہت خوش تھے…
یہ چھچھور پن.. کب تک چلے گا” وہ… بال جھٹکتے ہوئے بولی..
جب تک ہے جاں…” معاذ… نے اسکے گال.. پر پیار کیا.. عابیر منہ بنا کر دور ہوی..
بہت فری ہو گئے ہو “اسنے… افسوس سے کہا.. اور اس سے دور ہوی…
اپ نے ہی ایک دن اچانک مجھے ایسا فری کیا.. کہ.. اب میں قابو میں انا نا ممکن ہے” اسنے پیچھے سے اسکو بانہوں میں بھر کر اسکے شانے پر ٹھڑی ٹکا لی…
عابیر.. مدھم سا مسکرائ…
تم ریڈی ہو میری بیوٹی…
میں دو منٹ میں فریش ہو کر اتا ہوپھر چلتے ہیں.. کشمیر کی وادیوں میں.. دو پریمی…” وہ فلمی سے انداز میں بولا تو عابیر… ہنسنے لگی..
کوی حال نہیں” اسنے کہا جبکہ معاذ.. ایک وینک پاس کرتا… وہاں سے.. غائب ہوا….
تو عابیر… کھڑکی کے پاس ا گئ.. باہر کے نظارے بہت حسین تھے…
معاذ کے ساتھ اسنے زندگی کا بڑا میٹھا اور پر لطف.. انداز دیکھا تھا.. تبھی وہ ہر تلخ یاد کو بھلا چکی تھی…
…………………….
خان وہ دیکھیں.. وہ کتنا خوبصورت ہے.. “ارمیش اسکا ہاتھ تھامتی.. پہاڑ سے نیچے زرا کھائ میں ایک پرندہ دیکھا رہی تھی..
ان دونوں کے ہی کانوں میں جانی پہچانی اواز سنائ دی جو.. یہ ہی بات کہہ رہی تھی..
معاذ یہ بہت خوبصورت ہے.. مجھے یہ چاہیے” وہ مان سے بول رہی تھی…
بہرام… نے جیسے جھٹکا کہا کر… اس جانب دیکھا… وہ ائین اسکے ساتھ کھڑی تھی..
معاذ نے بھی بہرام کو دیکھ لیا تھا.. جبکہ عابیر.. دیکھ کر انجان بن گئ..
جیسے وہاں کوئ اجنبی ہو… ارمیش.. نے بہرام کے بازو پر ہاتھ رکھا….
اسنے ارمیش کی جانب دیکھا… اور آنکھوں پر ایک سرد پن سا اتر ایا…
سائیں اپکو وہ چاہیے “بہرام نے… مسکرا کر سوال کیا جبکہ ارمیش نے بھی مسکرا کر نفی کی….
وہ میں میں اپ سے ایک بات کہنی ہے” ارمیش نے کچھ جھجھکتے ہوئے… کہا…
جبکہ بہرام عابیر کیطرف سے پیٹھ کر چکا تھا…
حکم کرو “اسنے آنکھوں پر.. گاگلز لگا کر اسکو دیکھا..
وہ میں عابیر سے… کچھ بات کر لو”وہ آنکھیں جھکائے پوچھنے لگی..
بہرام.. نے.. اسکی جانب دیکھا ضرور مگر بولے بغیر.. وہ.. ان دونوں کے بیچ سے نکل کر.. معاویہ کے پاس چلا گیا.. معاویہ یہ سب دیکھ چکا تھا…
خان.. بئیر پیں” اسنے… مشورہ دیا…
تیرے پیچھے تیری جان سے عزیز بیوی.. بلکل خونخوار نظروں سے تجھے ہی دیکھ رہی ہے” بہرام نے سنجیدگی سے کہا..
جبکہ معاویہ ایکدم پلٹا اور اب انوشے اگے اگے تھی جبکہ وہ پیچھے پیچھے…
بہرام وہاں اکیلا رہ گیا… وہ ارد گرد سب کو دیکھ رہا تھا..
جہاں سب کے پاس سب… تھے…
………………
کیا میں تم سے بات کر سکتیں ہوں” ارمیش نے عابیر سے کہا… عابیر جو اب بھی پرندے کو دیکھ رہی تھی اسنے ارمیش کی جانب دیکھا…
معاذ بھی اسی کیطرف دیکھ رہا تھا.. ارمیش کنفیوز لگ رہی تھی…
کیا میں اپکو جانتی ہوں” عابیر کا لہجہ سرد تھا…. ارمیش نے اسکی جانب دیکھا…
معاذ نے… عابیر کا ہاتھ دبایا… جبکہ.. عابیر نے اسکیطرف دیکھا..
کر لو بات میں اس طرف ہوں” وہ مدھم اواز میں کہہ کر وہاں سے نکل گیا جبکہ… عابیر.. نے ایک گھیرہ سانس کھینچا اور اسکیطرف دیکھا..
جی فرمائیے”
میں… میں معافی چاہتی ہوں….
اس دن.. میں نے تم پر ہاتھ.. ہاتھ اٹھایا….
اور پھر.. وہ شادی…….
داجی نے.. پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا….
انھوں نے کہا… انکے خان کو سمبھال لوں….
انھوں نے کہا….. وہ اپنے خان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتے….
انھوں نے کہا وہ بھیک مانگتے ہیں اپنے خان کی خوشیوں کے لیے…
میں انکار نہیں کر سکی…
وہ… وہ شخص… جو کبھی پوتیوں کے ہونے پر خوش نہیں ہوا… وہ بہرام خان… کی وجہ سے.. اتنا ٹوٹا کہ.. وہ.. ایک عام سی لڑکی کہ اگے ہاتھ جوڑنے لگا…
میں نے انکار نہیں کیا.. حامی بھر لی..
دل خوف ذدہ تھا….
کیونکہ.. وہ بھی ایک ہارا ہوا انسان تھا…
بلکل حیدر کیطرح….
لگتا تھا.. تم سے جدائ کے بدلے وہ مجھ سے لے گا…
مگر تم جانتی ہو.. جس ادمی کو سمبھالنے کے لیے. میں اسکی زندگی میں شامل ہوئ… وہ مجھے سمبھال رہا ہے….
وہ مجھ سے چھپ گیا ہے.. اسکے اندر کیا چلتا ہے میں نہیں جانتی..پھر میں سوچتی ہوں میں.. زرا خود غرض ہو گئ ہوں…
کیونکہ اسنے مان ہی ایسا بخشا….
وہ شخص بہت… الگ سا ہے… کچھ ضدی کچھ جزباتی…
اور ایک پہیلی…
میں اس پہیلی کو سلجھانا نہیں چاہتی…
کیونکہ.. میرا دل… اسکے ساتھ بندھ رہا ہے.. اگر میں نے سلجھایا تو میں جانتی ہوں.. اسکے اندر سے کیا نکلے گا…. “
وہ خاموش ہوئ.. عابیر اب بھی اسکیطرف دیکھ رہی تھی….
ارمیش نے… اسکا ہاتھ تھاما…
تم مجھے معاف کر دو… میں تمھاری خوشیوں…”
ایک منٹ… میری خوشیاں جس کے ساتھ جوڑیں تھیں میں اسکے ساتھ ہوں.. وہ تمھارا نصیب تھا…. میرا نہیں….. “اسنے… سکون سے کہا.. تو ارمیش.. مدھم سا مسکرائ..
مطلب میں سمھجو تم نے مجھے معاف کر دیا “عابیر اسکی بات پر ہلکا سا ہنس دی…
معافی کی کیا بات ہے… ہمارے بیچ ایساکچھ نہیں… “اسنے کہا.. اور ادھر ادھر دیکھنے لگی… معاذ.. کچھ فاصلے پر کھڑا اسی کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا…
جبکہ اسکے.. بلکل سامنے بہرام آنکھوں کوگاگلز سے ڈھانپے کھڑا تھا.. عابیر نے دیکھا… ہاں وہ شخص بلاشبہ اس جگہ پر… اپنی شخصیت کا تاثر… چھوڑ رہا تھا.. ہاں وہ اتنا ہینڈسم تھا…
مگر…. اسے معاذ سے زیادہ نہ لگا….
تو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں “ارمیش نے نرمی سے سوال کیا..
شیور….” عابیر نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام لیا…
وہ دونوں.. ہنس دیں…
اور… ان دونوں کیطرف بڑھنے لگیں..
بہرام نے ارمیش کی جانب دیکھا.. اور اسکیطرف انے لگا.. جبکہ… معاذ وہیں کھڑا.. عابیر کو اپنی طرف اتا دیکھ رہا تھا…
کہ اچانک عابیر کا پاوں پھیسلا.. اور اس سے پہلے.. وہ نیچے گیرتی..
دو بازوں نے اسے.. اپنے بازوں کا سہارا دیا…
وہ دونوں ہی.. سٹپٹا کر ایک دوسرے سے الگ.. ہوئے..
جبکہ معاذ اور ارمیش سمیت.. احمر ننین انوشے معاویہ سب یہ منظر دیکھ چکے تھے…
عابیر نے اسکا ہاتھ جھٹکا..
اسکا شوہر سامنے کھڑا تھا.. اور وہ اتنی کمزور نہیں تھی کہ اس شخص.. کے بازوں کا ہار بنی رہے…
س.. سوری سائیں “بہرام نے ..مدھم لہجے میں کہا…
اسکی اواز میں ایسی بات تھی کہ.. عابیر… کو پہلی بار… اس سے معمولی سی ہمدردی ہوئ…
ایکسکیوز می” اور اگلے لمہے سرد اندز میں کہہ کر وہ اسکے پاس سے گزر گئ…
وہ گزر چکی تھی…
ماضی بن کر.. جبکہ حال
. اسکے سامنے معصومیت سے… آنکھیں… جھپکائے کھڑا تھا…
اسنے…. اہنے اندر.. اپنا ہر احساس… قید کر لیا…..
میں اسے بھول نہیں سکتا….
کیونکہ میں اسے بھولنا چاہتا ہی نہیں….
میری ہر بیوقوفی… ہر نہ دانی کے باوجود.. وہ میری محبت ہے…
اور رہے گی…
بھلے وہ… محبت…. جو…. میرا پچھتاوا ہے.. میری بیوقفیوں اور.. غرور میں… اپنے ہاتھوں سے میں نے گنوائ…
اس محبت کو.. میں ایک سزا کے طور پر اپنی دل کی سلاخوں میں قید کر لوں….
میں اپنی اخری سانس.. تک اسکو چاہو گا….
اور.. میں جانتا ہوں.. اب کہ اخری سانس تک میں اسے دیکھ نہیں سکتا….
اور اگر میں نے کوشش کی… تو.. میں.. ایک معصوم دل توڑ دوں گا…
اور کسی کا دل توڑ کر پہلے ہی میں نے کھسارا اٹھایا.. ہے.. دوبارہ یہ جرم نہیں کروں… گا…..
میرا غرور… میرے وجود میں ہی پاش پاش ہو گیا….
اور کسی کو خبر نہ ہوئ….
وہ میرے سامنے کھڑی ہے اس بھری آنکھوں سے مجھے ہی دیکھ رہی ہے….
میں بس یہ جانتا ہوں. میرا سکون… مجھے بنانے والے نے اس میں رکھ. دیا ہے…..
اسکے بغیر…. میں… نہیں رہ سکتا…
وہ مسکرایا…
زخمی سی مسکراہٹ.. اور اسکی جانب بڑھنے لگا….
ارمیش اسی کیطرف دیکھ رہی تھی….
وہ چلتا ہوا اسکے نزدیک ا گیا…
اور اسکو بانہوں میں بھر لیا..
ارمیش حونک ہوئ….
لوگ.. تھے.. اپنے تھے.. پرائے تھے….
ایک دنیا تھی جو ارد گرد تھی….
اسے پروا نہیں تھی دنیا کی….
اسنے.. اسکے گالوں کو… ہاتھوں میں بھر لیا….
اور اپنے ہونٹ اسکے گالوں پر رکھ دیے…
I want peace …
You know Armish Khanum … you are calm …
اسنے… کہا.. اور… اسکی.. نرم سانسوں کو…. اپنی سانسو سے جوڑ لیا…..
لوگوں کی تلیوں اور سیٹی… پر… وہ ہنستا ہوا اس سے دور ہوا..
جبکہ.. ارمیش.. کو اگر وہ دوبارہ نہ تھامتا تو وہ تیورا کر.. زمین بوس ہوتی…
معاویی.. نے کھانستے ہوئے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…. ..
چلیں خان باکی کا کمرے میں جا کر کرنا “وہ ہنسا…
جبکہ ارمیش فورا.. اسکے پیچھے چھوپی.. اور اور ان تینوں کے قہقہے… اٹھے..
وہ تینوں اپنی اپنی زندگیوں کے.. ساتھ.. کشمیر کے… راستوں پر چل دیے… …
اس روڈ سے نکلتے ہوئے.. اسنے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا…
وہ معاذ کی کسی بات پر کھلکھلائ تھی…
اسنے آنکھوں کو میچا… اور ہمیشہ کے لیے… اس راہ سے دور نکل گیا….
تو بس یہاں تک تھی بہرام خان کی الجھی بکھری سی محبت…
جسے وہ اپنے اندر ہی اندر یہ تو ایک دن.. دفن کر دیتا …یہ شاید ساری زندگی… اپنے اندر پالتا…
……………………..
حیدر.. میں میں اپنے پاوں پر چل رہیں ہوں دیکھو یہ ٹھیک ہو گئے.. “حور اسکو چل کر دیکھا رہی تھی.. حیدر نے اثبات میں سر ہلایا…
بہرام اور معاویہ نے.. اسکا علاج کرایا تھا….
حور کو لگا وہ برسو بعد خوش ہوئ ہو…
خدا کی بنائ ہر چیز اپکے وجود میں کسی نعمت سے کم نہیں….
ہم حویلی جا رہے ہیں” حیدر نے اسے اطلاع دی…
جب اسے پتہ چلا سب واپس ا گئے ہیں.. تو اسنے.. وہاں جا کر ارمیش سے معافی مانگنے کا سوچا….
حور نے اثبات میں سر ہلایا…
میں بھی.. ارمیش سے معافی مانگنا چاہتی ہوں… میں نے بہت زیادتی کی اسکے ساتھ” حور نے دکھ سے کہا…
ہم دونوں نے.. “اسنے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
مگر میں جانتا ہوں…. وہ ہمیں معاف کر دے گی.. بلکے سب ہی… “حیدر نے ایک یقین سے کہا….
حیدر… تم بھی مجھے. معاف”
حور میں اچھا انسان نہیں ہوں.. مجھ سے معافی مت مانگو “اسنے.. حور.. کے جڑے ہاتھ کھولے..
میں تمھیں مکمل خوشیاں نہیں دے سکتی” حور کا اپنے اندر کی کمی کا احساس ہوا…
جب اچھائ کی راہ پر نکلو.. تو خدا بھی مدد کرتا ہے..
وہ مہربان رب ہے…. ہمارے لیے کوئی وسیلہ ضرور بنائے گا”
اسنے کہا تو حور مسکرا دی…
جبکہ حیدر… کے ساتھ وہ حویلی کے لیے نکلنے لگے تھے…….
…………..
ختم شد
