Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
داجی اپ نے اب کیا سوچا ہے.. اگر ہم نے سردار نہیں بیٹھایا.. تو.. لازمی ہمارے حریفوں میں سے کوئ سر اٹھائے گا “احمر… نے کہا تو.. انھوں نے سر ہلایا.. کمرے میں سب.. موجود تھے سواے.. بہرام خان کے جو کہ اج اپنی اہم کانفرنس میں گیا ہوا تھا.. اور حیدر خان کے.. جو… حویلی سے جا چکا تھا…
اج خان کی کانفرنس ہے… ” داجی نے احمر کیطرف دیکھا..
جی.. داجی “اسنے جواب دیا..
ساتھ کون گیا ہے “انھوں نے پوچھا…
معاویہ سائیں” عظیم خان نے جواب دیا تو انھوں نے سر ہلا دیا..
ایک لڑکی نے توڑ دیا.. ہمارے خان کو.. “وہ.. خاصے افسردہ لگ رہے تھے..
کوئ کچھ نہیں بولا… تو انھوں نے.. احمر کیطرف رکھ کیا..
چلاو.. زرا.. ایل سی ڈی خان کا نٹرویو دیکھیں” انھوں نے کہا.. تو.. باقی سب پہلو بدل گئے اتنے اہم مسلے کو چھوڑ کر انھیں معاویہ کی پڑی تھی..
احمر نے ایل سی ڈی چلا کر.. نیوز چینل لگا دیا…
کانفرنس شروع ہی تھی جبکہ ان لوگوں نے دیر سے دیکھی..
وہ بڑے تمتراق سے.. کرسی پر بیٹھا.. وہی مخصوص سٹائل سے.. ناک کی چونچ پر عینک رکھے سنجیدگی اور کچھ بے زاریت سے اپنی تعریفیں سن رہا تھا…
داجی مسکرا دیے…
وہ جان تھا انکی….
بس وہ خوش رہتا باقی دنیا تو بھاڑ میں جائے انکی بلا سے…
اس سے سوال کیے جانے لگے جن کا جواب وہ ہمیشہ کیطرح.. بڑی چلاکی سے دے رہ اتھا..
داجی کو.. اسکی زاہانت پر فخر ہوا…
اسکے سیٹ پر انے کے بعد نہ جانے کیا قسمت کا پھیر ہوا تھا کہ.. پہلے جو وہ ہر معملے میں کرپشن ضروری سمھجتے تھے..
یہاں.. کرپشن.. وہ خود نہیں کر رہا تھا…
کانفرنس بہت اچھی ج رہی تھی…
سب ہی کافی مطمئن ہوئے تھے کیونکہ اسکی.. پیچھے سے ہی… کرکردگی بہت اچھی جا رہی تھی…
میڈیا نے اب اس سے پرسنل سوال شروع کر دیے جس کا وہ مسکرا کر جواب دیتا ابھی اٹھتا…. کہ.. اسے اپنے شانے پر ایک ہاتھ محسوس ہوا….
پہلی.. ہاں پہلی بار بہرام خان کا دل انجانے خدشے سے دھڑکا تھا.. وہ اس ہاتھ کے کمس کو پہچانتا تھا…
اسنے ایک پل کو آنکھیں بند کیں.. کان میں لگی.. بلوٹوتھ میں معاویہ کی پریشان اواز ابھری..
تو نے عبایر کو کیوں بلایا ہے”
اسنے آنکھیں وا کیں.. میڈیا کی نظریں اسپر نہیں تھیں بلکہ پیچھے کھڑی عابیر پر تھیں.. وہ پہلی بار تو میڈیا پر نہیں ائ تھی..
یہ یہ کہنا بہتر ہے کہ.. عابیر اکبر پہلی بار میڈیا کے سامنے نہیں ائ تھی…
بلکہ مسز بہرام خان پہلی بار کیمرے کے سامنے ائ تھی…
بہرام نے.. مڑ کر اسکیطرف.. دیکھا…
جو
. سنجیدگی.. اور آنکھوں میں نفرت بھرے کھڑی تھی..
بتاو گے نہیں دنیا کو اپنی بیوی کے بارے میں ” بلکل خاموش ماحول میں عابیر کی اواز ابھری تھی.. بہرام کو پہلی بار یہ اواز کانوں میں چبھتی محسوس ہوئ…
اسنے عابیر کا وہی ہاتھ سختی سے پکڑا…
مگر عابیر نے اسکا کوئ اثر نہ لیا..
الٹا مسکرائ…
میں عابیر اکبر.. ایک عام سی لڑکی…
ایک کافی.. امیر.. اور سیاست کی دنیا میں اپنا نام منوانے والے… بہرام خان کی بیوی ہوں… اپ سب لوگ مجھے جانتے ہیں کیونکہ میں اپ کی طرح ایک عام انسان ہوں.. مگر یہ لوگ بہت بڑے لوگ ہیں.. بہت بڑے “طنزیہ مسکراہٹ کو لبوں پر سجائے.. وہ.. بہرام کی گھورتی نظروں میں نظریں گاڑے ہوئ.. تھی.. کھٹاکھٹ کیمرے سے تصاویر کھینچی جا رہی تھیں ایک.. فارمل سی کانفرنس میں ذاتی نوعیت کا مرچ مسالہ.. میڈیا تو جیسے.. نیوز کا بھوکہ تھا…
کیمروں کی روشنی عابیر کے چہرے پر تھی..
بہرام اسے لے کر نکل.. کچھ ٹھیک نہی لگ رہا مجھے”معاویہ کی اواز اسے اپنے کان میں سنائ دی..
عابیر… گھر چلو” اسنے.. مزید سختی سے اسکا ہاتھ جکڑ کر.. مدھم اواز میں اسے کہا… تو.. عابیر ہنسنے لگی..
کیوں بہرام خان بہت سٹیمنا ہے تم میں تو…
کہاں جا سویا اج… “
وہ مسکرا کر اونچی اواز میں بولی.. معاویہ نے دانت کچکائے..
بہرام اج اپنی محبت کو.. ریزہ ریزہ ہوتا دیکھ رہا تھا…
تو.. ناظرین.. اپ دیکھ سکتے ہیں یہ بہرام خان ہیں…
انکی تو کیا ہی بات ہے…
انکے دادا اپ جانتے ہی ہوں گے.. سب.. مراد خان..
کو تو.. جان چھڑکتے ہیں انپر…
بے انتھا…. بے شمار…. مگر.. انکی تربیت بڑی الہ عرفا کی ہے کہ خاندانی سے لگتے ہیں…
دنیا جہاں کی کرپشن کرواتے.. ہیں ان سے.. اور یہ بھی محبت میں عاوم کو لوٹتے ہیں… اور.. میڈیا کی نظر میں مسکرا مسکرا کر دھول جھونکتے ہیں…
عیاشی انکی فطرت ہے.. یہ کوٹھے پر اکثر پائے جاتے ہیں…
عورتیں سے کھیلنااور انکی عزتوں کو دو کڑی کا کر دینا.. انکے نزدیک.. جیسے… معمولی سی بات ہے
اور شراب وہ تو پوچھو ہی مت.. بچے کو دودھ کی ضرورت ہوتی ہے.. اور بہارام خان… کالام کی جان… کو.. شراب کی ضرورت ہوتی ہے
جس پر.. جس.. پر بھی انکا دل ا جائے.. یہ انھیں اٹھا لیتے ہیں…
انکی شادی رکوا دیتے ہیں…
انہو بدنام کر دیتے ہیں…
انکے بقول میں انکی بیوی عابیر اکبر…
یہ جو خوش حال.. زنگی سے بھرپور مسکان انکے.. منہ پہ ر سجای ہے یہ میرے ارمانوں کا خون ہے… “
وہ.. چیخی…
چارو طرف جیسے.. سناٹا چاہ گیا جس میں صرف عابیر کی اواز.. جیسے تابوت میں اخری کیل ٹھونک رہی تھی…
یہ اسقدر برا انسان ہے.. منافق.. مطلبی.. اسے صرف حوس ہے…
اور حوس کا پجاری مجھے مجبورا اپنے ساتھ باندھے ہوئے ہے…” وہ بہرام کو دھکا دیتی بولی…
لائیو کانفرنس.. میں.. یہ سب لائیو دنیا دیکھ رہی تھی…
حریف تھے جیسے… مزے میں ا گئے تھے جبکہ.. باقی سب.. دانتوں تلے انگلیاں دبا گئے تھے…
اج میں سب کے سمنے اس شخص سے اہنی نفرت کا اظہار کر کے.. اس سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہوں….
طلاق دو مجھے ابھی اسی وقت”وہ چلائ…
بہرام.. کی آنکھیں سرخی… کو چھلکانے کو تھیں…
وہ مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا…
کیا کچھ نہیں برباد ہوا تھا… اسکا اس سب سے..
کیسا لگ رہا ہے.. رسوا ہو کر دنیا کے سامنے.. بہرام خان” عابیر زرا جھک کر مسکرا کر بولی…
یہ تو بہرام ہی جانتا تھا اسے کیسا لگ رہا ہے…..
سب. وہاں بہرام کے ردعمل.. کے منتظر تھے.. وہ کیا کرے کا.. ہیڈ لائنز بن رہیں تھیں..
کچھ تو جھوٹ بول چکے تھے کہ بہرام خان نے عابیر اکبر کو طلاق دے دی جبکہ.. کچھ مزید ان باتوں میں مسالہ لگا چکے تھے…
جبکہ بہرام کے لیے.. سب ٹھر گیا تھا…
یہ مکافات عمل تھا… یہ…
اب محبت اسکی قسمت میں نہیں رہی تھی…
اسے لگا جیسے وہ تنہا ہو گیا ہے.. بھرے بازار میں اسکو اکیلا کر دیا تھا.. اور اب وہ معصوم بچے کیطرح چھپ جاتا.. رونے لگتا.. یہ.. پھر… اسکے اندر.. ایک اور بہرام جنم لینے والا تھا..
عابیر اسکیطرف دیکھ رہی تھی.. اسے سو فیصد یقین تھا بہرام طلاق دے گا…
بہرام کے لب ہلے.. جبکہ عابیر سمیت سب کے دل دھڑک اٹھے…
میں تمھیں طلاق نہیں دو گا “بہرام نے عابیر کی چمکتی آنکھوں میں بے یقینی مایوسی سی دیکھی.. اب مسکرانے کی باری اسکی تھی..
اب تم میری محبت نہیں ہو… صرف ضد ہو.” اسنے.. دو لفظ میں جواب دیا جسے صرف عابیر سن سکی..
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا…
آنکھوں کو اچھے سے گاگلز سے ڈھانپ کر.. وہ سیاہ.. شلوار سوٹ میں..
کمال ڈاھاتا وہاں سے نکل گیا…
جبکہ عابیر وہیں کھڑی تھی میڈیا اب اسکیطرف بڑھا..
میم کیا.. بمسٹر بہرام.. اپکو مارتے ہیں…
کیا.. انکا شادی سے پہلے اپ سے کوئ.. ناجائز تعلق تھا..
ایسے ہی کئ.. عجیب و غریب سوالوں. نے اسکا دل بری طرح دھڑکایا تھا.. وہ وہاں سے پلٹی…
تو سامنے واصف کو کھڑا پایا…
عابیر.. کو نہ جانے.. کیسا محسوس ہو رہا تھا.. وہ سر جھکا گئ اور اسکے پاس سے نکلنے لگی..
مجھے لگتا تھا تم ہمیشہ اچھے اور صیحی فیصلے کرتی ہو.. ایک نازک سی.. معصقم سی لڑکی ہو…
پھر جو تمھارے ساتھ ہوا. تو میں نے تمھارے لیے دعا کی.. کہ.. تمھارے جیسی نازک مزاج لڑکی.. ہمیشہ خوش رہی.. تمھاری عزت.. جو کھو گئ…. پھر اسی شخص کے ہاتھوں لوٹ ائے اور ایسا ہوا بھی…
مگر میں نہیں جانتا تھا.. چار پانچ ماہ میں.. تم اپنی ساری معصومیت بھلا دو گی.. تم بھول جاو گی تم ایک لڑکی ہو.. اور یہ دنیا…
بھوکی ہے….
گھات گھات پر بیٹھا شکاری تمھیں تمھارے اج کیے گئے عمل.. کے بارے میں ضرور بتائے گا کہ وہ صیحی تھا یہ غلط…
چلتا ہوں “عابیر تو وہیں ٹھر گئ تھی جبکہ وہ وہاں سے نکل گیا تھا…
چند پل جیسے اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی سنائ نہیں دی..
جبکہ.. کچھ دیر بعد یاد ایا کہ اتنا سب کرنے کے بعد بھی بہرام نے اسے طلاق نہیں دی تو.. وہ بلبلا اٹھی.. غصہ الگ ایا..
اور وہ تیز تیز چلتی.. ابھی.. اس گاڑی میں بیٹھتی جو بہرام نے دی تھی.. اور اسنے ڈرائیور سے لے لی تھی. جبکہ ڈرائیور بہرام انفارم کر چکا تھا..
کہ چند لڑکیوں کی اواز بھی اسے اپنے کانوں میں سنائ دی..
یار یہ کتنی ناشکری ہے.. بہرام جیسا مرد کس کی خواہش نہیں…
ہمم چل چھوڑ اس کے ساتھ بھی تو غلط ہوا تھا…
اسنے خود ہی بتایا ہے…
مگر یہ پھر بھی… یہ کوئ طریقہ نہیں.. کمرے میں سلجھانے والی بات کو یہ کیسے دنیا کے سامنے لے ائ..
عابیر کا بس نہیں چلا.. اس لڑکی کا منہ توڑ دے.. وہ.. گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اپنے گھر کو ڈال دی..
اسے سننا ہی نہیں تھا کسی کو…
گھر کے سامنے گاڑی روک کر وہ نکلی تو.. اسے لگنا کیا تھا سارا محلہ اسے.. دیکھ رہا تھا. لوگ اسکے ارد گرد ابھی جمع ہوتے. کہ.. وہ گھ را کر وہاں سے اندر ا گئ..
یہ سب کیا تماشہ ہے… “اسنے سوچا.. اسنے بہرام کے ساتھ بلکل ٹھیک کیا تھا..
وہ اسی لائق تھا اسے محسوس ہونا چاہیے تھا کہ.. وہکس ازیت سے گزری تھی…
وہ پلٹی.. مما سامنے ہی تھیں..
ریہا بھی…
وہ نہیں جنتی تھی کہ.. انکے گھر کا خرچہ پانی اب.. کون اٹھا رہا ہے جبکہ اکبر صاحب تو عمر سے پہلے ہی کافی.. کمزور لگنے لگے تھے..
شاید حقیقی معنی میں اج تم نے اپنی عزت کا جنازہ نکالا ہے.. “
مما نے کہا.. وہ منہ کھولے انھیں دیکھنے لگی..
جبکہ وہ دونوں ندر چلیں گئیں..
مگر عابیر کا دماغ گھوما تھا..
سسب مجھے ہی غلط کیوں کہہ رہے ہیں.. اسنے جو کیا.. کیا وہ نہیں دیکھا کسی نے..
اتنی عرصے قید میں رکھا وہ نہ دیکھا…
بس کریں اپی..
کیا ظلم کیے انھوں نے اپ پر…
شادی اپ نے خود نے کی…
ان سے…
گئیں اپ خود انکے ساتھ…
وہاں اپکے ٹھاٹ دیکھ کر.. خاندان کی ہر لڑی اپکے جیسے نصیب کی خواہش مند ہے…
ہاں سچ ہے بہرام خان نے اپکو رسو اکیا…
مگر اپ نے یہ کیوں نہ سوچا کہ وہ تو چند لوگ تھے…
اور اس شخص نے انھیں چند لوگوں میں اپکی بے انتھا.. قدر اور عزت بڑھا دی..
اور اج.. اپ اپ خود.. اپنے پاوں پر کلہاڑی مار کے آئیں ہیں..
اپکی جزباتیات…
سب کو ہلکان کر گئ…
اپ گئیں خود… اس ریپورٹینگ شعبے میں جبکہ.. سب نے کہا.. کہ.. یہ شعبہ اپکے لیے ٹھیک نہیں…
پھر اپ نے.. اس کوٹھے پر جہاں کوئ شریف لڑکی جانا پسند نہ کرے وہاں جا کر اس ادمی کو… ایکسپوز کرنا چاہا..
اپ خود انکی نظروں میں آئیں.. ورنہ انھیں الہام نہیں ہوا تھا.. اس سڑے بسے محلے میں کوئ عابیر بھی رہتی ہے…
چلو ٹھیک ہے.. وہ اپکی ڈیوٹی تھی.. اسکے بعد.. کالام گئیں اپ.. زبردستی مما بابا سے اجازت لی..
وہاں جا کر.. اپ نے فضول سوال کیے…
پھر انکی نظروں میں ا گئیں…
اگر انھوں نے صرف غلط کیا
تھا.. تو اپ نے اج حدیں پار کر دیں ہیں “وہ غصے سے کہتی.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ عابیر اپنی جان سے عزیز بہن.. کے منہ سے یہ سب سن کر… جیسے اپنے قدموں پر ہلی تھی….
………………
چند ہی لمہوں میں داجی نے اس ہال روم کو کباڑ میں بدل دیا تھا…
یاور خان گاڑی نکالوں اج اس لڑکی.. کے اندر یہ گولیاں اتار کر ہمیں سکون ملے گا..
وہ چلائے..
بابا سائیں…. بہرام.. خان.. کا پتہ لگانا زیادہ ضروری ہے. اس لڑکی کو بات میں دیکھ لیں گے”یاور خان نے سمھجانا چاہا.. داجی.. تو.. اپے سے باہر ہی ہو رہے تھے جبکہ..
معاویہ خان کو اپنے موبائل سے نمبر ڈایل کیا تو فون بند جا رہا تھا..
یہ کیا بکواس ہے.. بتا دے رہے ہیں ہمارے خان کو کچھ ہوا تو… سب تباہ کر دین گے.. سمھجہ کیا لیا.. وہ لاوارث ہے کوئ غیرہ پڑا ہے”داجی.. نے موبائل. کان سے اتار کر دے کر زمین پر مارا اور
. وہاں سے.. نکلنے لگے..
داجی.. صفدر صاحب کا فون ہے” اسیسٹینٹ.. کے فون پر انے والی کال پر احمر نے کہا.. جبکہ باقی سب کے پاس بھی فون انا شروع ہقے.. داجی نے پھر پیچھے مڑک کر نہ دیکھا انکے وجود میں تو پتنگے لگے تھے..
انکی جان… انکا بہرام.. مشکل میں تھا اور وہ.. ان… لوگوں کو اہمیت دیتے.. بھلے انکی سیٹ چلی جاتی.. مگر انھیں بہرام سے شیادہ عزیز کوئ نہیں تھا..
احمر بھی انکے پیچھے ہوا کہ کہیں مزید نقصان نہ ہو جائے…
جبکہ باقی سب سمیت خواتین بھی جو خد بھی یہ سب دیکھ چکیں تھیں…
دعا گو تھیں کہ بہرام مل جائے..
نین اور مورے تو بقائدہ رو رہیں تھیں.. مگر.. وہ اب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے..
…………………..
حیدر نے ایل ای ڈی بند کی.. عابیر پر بے انتھا غصہ ہی ایا…
وہ بہرام کو سوچ رہا تھا.. وہ کہاں ہو گا…
جبکہ حور جو.. جیسے ہر پل جلے پاوں کی بلی بنی رہتی تھی… اسکے پاس ائ..
جب سب ختم ہو جاے گا تب ہوش میں او گے “وہ بولی تو حیدر نے چونک کر اسکیطرف دیکھا…
یہ تم جب سے شادی ہوئ ہے کافی اونچا بولتی ہو.. محبوبہ کم بیوی زیادہ لگتی ہو..” اسنے ہنس کر.. حور کو.. اپنی قید میں لینا چاہا کہ حور.. اسے دھکا دے کر دور ہوئ..
یہ جو ہر وقت کا رومینس ہے یہ کھاتے رہنا ہے تم نے ساری زندگی…”
وہ غصے سے بولی..
مگر ہمارے فلیٹ میں اتنا سب ہے. کہ تم ایک ماہ عیاشی کر سکتی ہو “وہ ہنسا…
تو حور کا خون کھول گیا اسے اگے کی فکر تھی جبکہ یہ ادمی سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں تھا….
حیدر… تم کب حویلی جاو گے”حور نے بمشکل نرمی سے پوچھا..
کبھی نہیں ساری زندگی بس ہم اپکے پاس رہے گئیں “اسنے گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے حور کو نزدیک کیا…
نہ جانے اس لمہے حور کو کیا ہوا اسنے جھنجھلا کر حیدر کے منہ پر تھپڑ دے مارا….
زہر لگتے ہیں مجھے وہ مرد جنھیں صرف یہ اتا ہو.. کہ بیوی…”
قہ روکی.. حیدر حونک تھا…
میں تمھیں کہہ چکیں ہوں… تم حویلی جاو گے”وہ.. غصے سے بتی اندر چلی گئ.. جبکہ..
حیدر کے دماغ میں جیسے فلیش بیک ہوا تھا.. اور حور کے لیے ارمیش کو مارا گیا پہلا تھپڑ یاد ا گیا…
ابھی تو بہت کچھ تھا…
……………………..
بہرام… رات گزر چکی ہے بس کر” معاویہ نے… اسکے ہارھ سے بوتل لی..
ام ہوں… بلکل چپ.. اسنے کہا.. عیاش ہوں میں.. جبکہ میں.. یہ سوچ رہا ہوں… یہ سالہ محبت انسان کو…. گالی..
بنا دیتی ہے……
اور میں بن گیا..
میں بھول گیا میں بہرام ہوں بہرام خان…
اسنے… لبوں سے پھر بوتل لگا لی…
جبکہ نشہ تھا کہ اج خوب چڑھ رہا تھا…
ہم نے سوچا تھا اب اس راستے پر نہیں چلیں گے”معاویہ نے اسے اسکی بات یاد دلائ..
اوو بھائ” وہ ہنسا..
شراب چھوڑنی کی بات تو ہوئ بھی نہیں تھی..
یہ برینڈی.. اس سے محبت ہونی چاہیے.. اممممم.. ہلک میں اترے تو.. رگ رگ میں لزت بھر دے…
وہ پھر ہنسا.. معاویہ کو اج اسکے پینے پر پہلی بار غصہ ایا اور پہلی بار اسنے اسکا ساتھ نہیں دیا..
طلاق کیوں نہیں دیتا اسے “معاویہ نے پوچھا.. تو.. وہ بوتل ہٹا کر مسکراتا سر ہلانے لگا..
میرے ماتھے پر بیوقوف لکھا ہے کیا” اسنے قہقہ لگایا…
وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے…
یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے
سچ کو میں نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا
اب زمانے کی نظروں میں یہ حماقت ہے تو ہے..
کب کہا میں نے وہ مل جائے مجھے میں اسکو
غیر نہ ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے
جل گیا پروانہ اگر تو کیا خطا ہے شمع کی
رات بھر جلنا جلانا اسکی قسمت ہے تو ہے..
دوست بن کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے
پھر بھی اس ظالم پر مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے
وہ نشے میں جھومتا.. اسے اپنی عاشقی کی دستان اب بھی سنا کر معاویہ کو تپا رہا تھا جبکہ خود.. بوتل کے ساتھ جھوم رہا تھا…
تبھی.. فلیٹ کا دروازہ دھڑ دھڑ بجا…
جائے جناب داجی… ا گئے ہیں.. “وہ ہنسا…
معاویہ نے جیسے… تھوک نگلا…
اور دروازہ کھولنے بھڑا.. کہ داجی اندھی طوفان کیطرح اندر داخل ہوئے…
اور ایک زور دار مکہ معاویہ کی ناک پر جڑ دیا..
جب اس کا کوئ فائدہ نہیں تو رکھا کیوں ہے” وہ دھاڑے…
اور معاویہ کا موبائل دے کر زمین پر مارا.. معاویہ منہ کھولے اپنے موبائل ٹکڑے دیکھنے لگا..
بیٹے… میرا منہ بھی دیکھ لے یہ ملاپ اگر اب بھی نہ ہوتا تو لازمی میں تو.. وفات پا جاتا” احمر نے.. افسوس سے اسکے موبائل کو دیکھا.. اور.. بتا کر اگے بڑھا..
بہرام لاونج میں بیٹھا تھا.. حالت کافی بکھری ہوی تھی جبکہ لبوں پر مسکان تھی…
جان دادا.. مار دینا چاہتے ہو کیا.. یار” داجی پل میں اس تک پہنچ کر بوتل کو اس سے چھینتے.. اسے سینے میں بینچ گئے.. وہ کسی بچے کیطرح انکے وجود میں چھپ گیا…
چھوڑ دو اس لڑکی کو.. چھوڑ دے یار… ” وہ… اسکی سسکیاں اپنے سینے.. میں… بری مشکلوں سے برداشت کر رہے تھے.. معاویہ احمر بھی.. بے چین ہو چکے تھے جبکہ معاویہ کا بس نہیں چل رہا تھا.. اسے جان سے مار دے..
خان” داجی.. نے.. اسکو جھنجھوڑا..
وہ.. گھیرہ سانس لیتا اٹھا.. اور.. گال پر پھیلی نمی کو صاف کر کے دوبارہ شراب کی بوتل اٹھانے لگا کہ.. داجی نے.. وہ بوتل دھکیل دی..
یار… قیمتی تھی” وہ افسوس سے بولا…
خان… اج کے بعد میں نہ دیکھو اسے پیتے ہوئے “وہ سختی سے بولے…
وہ ہنسنے لگا..
ڈن.. مگر اج پینی ہے”اسنے فرمائش کی.. داجی نے گھورا…
معاویہ سائیں کچھ کرو کچھ کرو… معملہ خراب ہو رہا..” وہ اپنے اپکو نارمل ظاہر کرنے لگا…
اے خان.. “داجی. نے اسکا حسین چہرہ اپنی جانب موڑا.. گیرے آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی غم تھا…
حکم خان” وہ.. نشے کی کیفیت سے نڈھال ہونے لگا..
احمر اور معاویہ.. دونوں کو دیکھ رہے تھے..
ہمارا کہا مانو گے” انھوں نے کسی سوچ کے تھت پوچھا…
بہرام نے انکی جانب دیکھا..
نہ کروں تو “اسنے سوال کیا…
تب بھی.. وہ ہی کرو گے جو ہم کہیں گے” انھوں نے سختی سے کہا..
پہلے کبھی کیا ہے” وہ ہنسا.. اور انکی گود میں سر رکھ دیا…
نیند سی انے لگی تھی…
ارمیش خانم سے شادی کر لو.. اور اسے حکم سمھجنا..” وہ.. اسکی بند ہوتی آنکھوں کو… دیکھتے.. اٹل لہجے میں بولے.. وہ.. جو ابھی آنکھیں بند کر رہا تھا.. آنکھیں پھاڑے انھیں دیکھنے لگا…
ساکت سپاٹ…
انکی بھی آنکھوں میں کوئ لچک نہیں تھی…
نہیں کا لفظ زبان پر بھی مت لانا” انھوں نے پہلے ہی وارن
کیا
ورنہ.. “وہ ائ برو اچکا کر بولا…
جبکہ داجی نے نفی میں سر ہلایا…
ورنہ جب کریں گے تب بتائیں گے”
وہ سنجیدہ دیکھائ دیے..
داجی مگر… “
معاویہ سائیں خاموش ہو جاو…. “انھوں نے سختی سے روکا..
تو وہ چپ ہو گیا…
بہرام.. ایک پل انھیں دیکھتا رہا…
اور پھر آنکھیں بند کر لیں.. ہنسنے لگا…
چند گھنٹے بھی فارغ نہیں رہنے دیں گےَ”
خان سنجیدہ ہیں ہم”داجی نے کہا.. پھر کوئ کسی پر فیصلے تھوپ رہا ہے..” وہ ایکدم اٹھ کر غصے سے بولا…
یقین ہے ہمارا.. یہ فیصلہ شاندار ہو گا”
میں نے اچار نہیں ڈالنا اپکے یقین کا…
بیوی ہے میری “وہ بولا..
اچھا” داجی ہنسے.. معاویہ احمر تو جیسے تماشہ دیکھنے ائے تھے
بہرام نے گھورا…
بیوی نہیں صرف لڑکی.. عجیب مرد ہو ویسے خان تم” انھوں نے طنز کیا وہ خوب سمھجتا تھا…
جو اپ چاہتے ہیں.. نہ وہ مین نہیں چاہتا اور نہ شاید ارمیش” اسنے کہا…
اس بار انکی مرضی.. سے ہی ہو گا.. اور تم پر ہماری مرضی چلے گی.. دماغ کو.. تیار رکھنا”کہتے وہ اتھ گئے..
کیا تماشہ ہے” بہرام نے گلاسوں پر ہاتھ مارا جو ٹیبل سے گیر گئے..
داجی سکون سے وہاں جیسے ائے تھے چلے گئے..
معاویہ منہ کھولے.. بہرام کو دیکھ رہا تھا..
گالی… منہ توڑ دو گا.. چلا جا یہاں سے”وہ دھاڑا..
معاویہ تو بے انتھا خوش ہوا تھا اگر ایسا ہو جاتا تو کافی اچھا ہوتا…
اسکے بقول دو ٹوٹے ہوئے لوگ ایک دوسرے کو نہیں توڑ سکتے تھے…
جبکہ بہرام.. نے.. دوسری بوتل کھول لی تھی..
کیا عجیب شوشہ چھوڑا تھا داجی نے بھی..
…………………..
جاری ہے
