Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں حیدر کی آواز گونج رہی تھی…
تم کس چیز کی فکر کر رہی ہو حور جب ہم ہیں تمھارے ساتھ… تو کچھ نہیں ہو سکتا… بس… تم.. کچھ دن ریسٹ کرو… تمھارے ماں باپ نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے…
اگر کوئ اور ہوتا تو بچتا نہ ہم سے….
ابھی تمھیں… آرام کی ضرورت ہے…. باقی ساری فکریں مجھے دے دو.. میں جانتا ہوں آگے کیا کرنا ہے… “وہ اسے تسلی دے رہ اتھا.. مگر ارمیش کو.. اتنا سا بھی فرق نہیں پڑا… وہ… اٹھی اور بال باندھ.. کر… واشروم کی جانب برھ گئ.. حیدر نے چونک کر اسکیطرف دیکھا.. حیدر کی اجازت کے بغیر تو اسے بستر سے اٹھنے کی… اجازت تھی ہی نہیں…
ہاں حور ہم نے پیسے بھی بھیجا دیے ہیں… کیوں رو رہی ہو.. اب.. یار.. “اسنے.. ارمیش.. پر دو حرف بول کر حور پر توجہ دی…
ہم کمرے میں ہوں” مسکرا کف بتایا گیا.. تب تک ارمیش بھی ہاتھ منہ دھو کر آ گی تھی.. اور اب.. ڈریسر کے سامنے کھڑی اپنے لمبے بالوں کی چوٹیا کھول رہی تھی….
حیدر.. اسکے لمبے بالوں کو دیکھ رہا تھا.. جو سنھری ہونے کے ساتھ ساتھ ریشم کی مانند تھے… اور کمر سے.. نیچے تک جاتے تھے…
ہم ہاں”چونک کر وہ پھر فون کیطرف متوجہ ہوا.. ارمیش نے.. اسپر.. ایک غلط نظر ڈالنا بھی گورا نہیں کیا…
بال بنا کر.. اسنے تھوڑا سا میکپ کیا.. آج اسکی ہر ادا حیدر کو پیچھلے دنوں سے الگ لگی.. وہ کبھی میکپ نہیں کرتی تھی.
لباس بھی.. خوبصورت زیب تن کیا ہوا تھا جبکہ اب وہ چوڑیان چڑھا رہی تھی… جبکہ چہرے… کے تصورات پر.. سکوت تھا…
ایسا سکوت جیسے… مرنے کے بعد…. چہرہ.. بے حس بے رحم نظر آتا ہو… جو دوسروں کے لیے.. کچھ نہ کرنے کی رعایت نہ رکھتا ہو…
اوکے ہم.. شہر.. کے لیے.. پندرہ منٹ میں نکلیں گے”اسنے کہ کر فون بند کیا.. جبکہ حور ابھی بول رہی تھی…
وہ اٹھا.. اور اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا…
کل مارے گئے تھپیڑوں کے نشان کو اسنے میکپ سے چھپا لیا تھا…
حیدر کے پیچھے کھڑے ہونے پر نہ اسکے چہرے پر شرم تھی نہ.. خوف.. نہ اسکی.. پلکیں گیرنے اٹھنے لگیں تھیں…
حیدر.. کو یہ سب.. بہت برا لگا.. تبھی.. اسنے.. ارمیش کی سرخ چوڑیوں سے سجی کلائ.. کو.. پکڑ کر اسکی کمر پرلگا دیا جبکہ چہرے پر حد سے زیادہ سختی تھی..
خانم نکھرے کس بات کے… “وہ پھنکارہ ارمیش سر جھکایے کھری رہی.. اسکی کلائ میں چوڑیاں ٹوٹ کر چبھنے لگیں تھی گر چہرے پر معمولی سا بھی تکلیف کا انصر نہ تھا.. حیدر اسکو گھورتا رہا.. کلائ کو مزید موڑ دیا.. ارمیش کو لگا.. اسکا.. ہاتھ ٹوٹ جائے گا…
بے تاثر چہرے پر.. آنسوں نے لکیر باندھ لی…
جبکہ پلکیں جھکیں ہوئیں تھیں…
جو ہو وہی رہو… حور سے تو ہم شادی کریں گے… مگر تمھیں.. چھوڑنے کا سوال نہیں ہے… حور.. ہمارا مسلہ ہے.. اور ہم تمھارے… آج کے بعد یہ ادائیں دکھائیں تو ہم. پہلے ہی بہت برے ہیں یاد ہو گا تمھیں.. “اسنے جھٹکے سے اسکو چھوڑا…
ارمیش.. نے اپنی زخمی کلائ.. کو بس ایک نظر دیکھا.. اور دوپٹہ درست کر کے… وہ.. چپ چاپ باہر کی جانب ہو لی….
حیدر کا خون کھول اٹھا.. اس سے پے وہ کمرے سے نکلی تھی.. اسکی بات کا جواب نہیں دیا تھا.. تیار وہ کس کے لیے ہوئ تھی ج. ایک نظر بھی اسکیطرف نہیں دیکھ رہی تھی..
وہ اپنی شامت کو خود بولا رہی تھی…
حیدر نے.. حور کو سوچتے ہوئے… ارمیش… کو بعد پر ڈال کر وہ تیار ہونے چل دیا….
حور سے ملنے کی خوشی نے جلد ہی ارمیش کو بھلا دیا تھا…
…………………
ساری رات گاڑی میں گزار دی تھی معاویہ تو سو گیا تھا جبکہ وہ پوری رات… ڈرنک کرتا رہا… اسکی غیر موجودگی نے…. دل و دماغ کو جیسے جلتی بھٹی میں سلگا دیا تھا…
دن کا سورج پہلی بار اپنی آنکھ سے نکلتا دیکھا… پھر.. آہستہ اہستہ یہ جان لیوا وقت گزرتا رہا…. اور… دوپہر ہونے کو آئ.. کالام میں تو یہ موسم اتنا…. شدید نہیں لگتا تھا.. جتنا شہر میں آ کر گرمی کا احساس ہوا.. ویسے اس انسان کو.. پتہ بھی کیسے چلتا.. جو راتوں کو جاگ کر پورا دن.. اپنی نیند پوری کرتا ہو…
وقت سرکتا جا رہا تھا.. اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا…
ساری بوتلیں جو اسکی گاڑی میں تھیں وہ بھی ختم ہو گئ تھی…
اسکا دماغ بھنا چکا تھا.. معاویہ کو سکون سے سوتا دیکھ.. اسنے.. اسکے بازو پر زور سے مکہ.. مارا.. تو وہ بلبلا کر اٹھ گیا….
یہاں.. سونے کے لیے ساتھ لایا تھا “بہرام نے سنجیدگی سے پوچھا.. اسکی آنکھوں میں پوری رات جاگنے کا خمار تھا… جبکہ لہجہ… معمولی س لڑکھڑا رہا تھا.. اور یہ پہلی بار ہی تھا شاید کے وہ.. ڈرنک کی اس قدر مقدار کے بعد.. لڑکھڑا رہا تھا. مگر حواس اب بھی قابو تھے……
معاویہ نے.. منہ پر ہاتھ پھیرہ اور الرٹ ہوا… معملہ تو حد سے زیادہ ہی سیریس لگ رہا تھا..
تم.. سوئے نہیں… “اسنے سوال کیا… بہرام نے جواب نہ دیا..
چلو” وہ گن نکال.. کر… گاڑی سے اترا…
بہرام.. مسلہ کیا ہے بتاو گے”معاویہ اسکے پیچھے ہوا…
وہ غائب ہے گھر پر نہیں ہے کہاں ہے وہ… نہیں پتا مجھے….
اور جب وہ میری نظروں سے دور ہے میں سکون سے کیسے سو جاو….” وہ چلایا…..
معاویہ نے اسکا بازو پکڑنا چاہا… مگر.. اسنے.. ہاتھ جھٹکا.. اور.. دوبارہ اس گھر میں داخل ہو گیا…
دروازہ اندر سے.. لوک تھا… بہرام.. کا چہرہ سرخ ہو گیا.. اور اسنے.. لاتے.. مار مار کر.. اس دروازے کو توڑنے کا احد کر لیا.. معاویہ کو سمھجہ نہیں آ رہا تھا کیسے روکے اسے.. ماحلے کے لوگ بھی جمع ہونے شروع ہو گئے.. چیما گویاں شروع ہو گئیں تھیں.. تبھی دروازہ کھلا….
اکبر صاحب کے رونگ اڑ چکے تھے.. ماحلے میں بدنامی… الگ تھی..
کہاں ہے تیری بیٹی بول جلدی”اسنے اسکا گریبان پکڑ جر جھنجھوڑ ڈالا…
وہ وہ.. آ رہی ہے” اکبر صاحب بولے تو.. وہ سر ہلا کر انھیں جھٹک گیا….
لوگ گھر میں جمع ہو رہے تھے…
اکبر صاحب کی بیگم.. کا رو رو کر برا حال تھا جبکہ وہ.. خود بھی پریشان حال تھے….
بہرام.. نے اب لوگوں پر توجہ دی تو.. بلا دھڑک.. اوپر ہاتھ کر کے… فائر کھول دیے…
گالی سالون نکلو یہاں سے “وہ دھاڑا.. لوگ.. باہر نکلے جبکہ خواتین کی سرگوشیاں سنے لائق تھی…
لگتا ہے بیٹی کا معملہ ہے ہائے توبہ.. کسی کی ایسی اولاد نہ ہو….
خاک ڈلوا دی باپ کے سر پر” اکبر صاحب کے لیے یہ سب جان لیوا تھا جبکہ بہرام سمیت معاویہ کو بھی.. رتی بھی فرق نہ پڑا…
وہ اندر لاونج میں صوفے پر ٹانک پر ٹانک رکھ کر بیتھ گیا.. بے چینی الگ تھی….
کچھ دیر مزید انتظار کی سولی پر لٹکا پڑا…
اور.. دروازہ بجا.. بہرام یون ہی مٹھی بھینچے بیٹھا رہا.. جبکہ معاویہ بھی بیتھا تھا…
کچھ ہی دیر میں اسکی آواز سنائی دی.. جبکہ اسکے.. ساتھ کوئ لڑکا بھی تھا.. لونج سے باہر صحن کا منظر نظر آ رہا تھا.. عابیر نے مان باپ کو دیکھا.. دونوں کی ہی آنکھیں نم تھیں…
تمھارا عاشق آیا ہے “مما کی انگاریں چباتی آواز پر وہ چونکی.. اور پھر سب سمھجہ آنے لگا.. معاذ حیران سا… دیکھ رہا تھا.. جبکہ ریہا.. بھی.. ایسے ہی دیکھ رہی تھی..
وہ دونوں آگے سے ہٹے جبکہ عابیر کو وہ سودے پر پوری شان سے بیٹھا دیکھا…. اسکے پاوں کانپے تھے….
……………………
وہ ایک لمہے کہ لیے سن رہ گئ مگر اگلا لمہہ.. اسکا.. دماع گھوما.. اور وہ سیدھا.. لاونج کیطرف بڑھی…
سب اسکے پیچھے تھے..
یہ کیا تماشہ ہے… “وہ.. بولی.. بہرام کے اندر تک سکون اتر گیا.. پیستل سائیڈ پر اچھال کر.. وہ… دلنشین آنکھوں سے… اسے تکنے لگا… جبکہ اسکے پیچھے معاز بھی تھا..
عابیر.. کون ہے یہ ” معاذ نے پوچھا… جبکہ بہرام.. نے اسکی جانب دیکھا…
چہرے پر خرکتگی تھی…
خاموش…. مزید بولا.. تو اگلا سانس لینے قابل نہیں رہے گا…
معاویہ سائیں.. زرا.. تنہائ میسر ہو گی یا یوں ہی کھڑے رہنا ہے آپ نے”
حضور بندہ حاضر.. مگر.. خان ایک وعدہ بنتا ہے… “معاویہ اور وہ ایک دوسرے سے.. ایسے بات کر.. رہے تھے جیسے وہاں کوئ نہ ہو…
جبکہ سب.. حیران کھڑے تھے…
کیسا وعدہ “بہرام بے گھورا..
خان.. ہماری بھی ملاقات ہونی چاہیے…
منگنی ہو گئ پتہ بھی نہیں لگتا کے منگنی شدہ ہیں “وہ منہ بسور نے لگا..
سالے تو ویسے بھی.. اپنا پورا کرلیتا ہے… “بہرام نے.. کہا تو وہ ہنس دیا..
چلو.. بھئ. ہمارے خان کو تنہائی چاہیے” معاویہ نے سب کو باہر چلنے کا کہا…
کیا بکواس ہے” معاذ دھاڑا..
ابے اوئے… یہ پاگل ہے جنگلی ہے.. تجھے کاٹ لیا تو.. سولہ ٹیکے.. بھی کم.. لگتے ہوں گے ڈائریکٹ.. اللہ کے پاس پہنچے گا.. زیادہ نہ بول. بھائ.. چل باہر چل”معاویہ نے گن اٹھا کر اسپر تانی…
میری بیٹی… “اکبر صاحب.. نے معاویہ کے دھکا دینے ہر دھای دی.. عابیر.. کی آنکھیں نم ہو گئیں..
یہ سب کیا کر رہے ہو گم “معاویہ ان سب کو دھکا دے کر باہر لے جا رہا تھا جبکہ عابیر کا دم نکل رہا تھا..
میری بھولی چڑیا… یہ سب تم نے کیا ہے اگر تم نہ جاتی تو میں بھی ایسا قدم نہ اٹھتا..” مسکرا کے وہ شانے اچکا گیا جبکہ عابیر کا ضبط کھو رہا تھا…
چاہتے کیا ہو تم ” اسکے لہجے کی معمولی سی بے بسی اسے بہت پسند آئ…
سرکار… ہم صرف. آپکو چاہتے ہیں…. آپکے سوا چاہ کیسے سکتے ہیں “وہ اسکے نزدیک ہوا.. عام سے لباس میں اسکا چہرہ دمک رہا تھا….
جبکہ عابیر اس سے دور ہوی.. اسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے اسکے باپ.. اور منگیتر کے سامنے یہ شخص.. اسکو رسوا کر رہا ہے…
باہر سے اونچا اونچا بولنے کی آوازیں آ رہیں تھیں معاز.. اور اکبر صاحب سمیت.. مما کی بھی آواز تھی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
صرف اپنی فیملی کی وجہ سے.. وہ اسکے سامنے کمزور پڑی تھی..
ارے… میتھی رو کیوں رہی ہو “بہرام.. مسکرا کر.. اسکی بے بس آنکھوں میں جھانکنے لگا..
جاو تم یہاں سے کیوں مجھے رسوا کر رہے ہو” عابیر.. بولی.. سرخ.. آنکھیں…. اور آنسو ون کی آمیزش.. بہرام.. کو جان لیوا لگیں.. اچانک ہی اسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر.. وہ اسے بلکل نزدیک کر گیا.. اتنا کہ.. دونوں کے چہرے ایک انچ کے فاصلے پر تھے عابیر… ایک پل کو حیران ہوئ…
وجود میں کپکپاہٹ… اتر ای.. بہرام نے.. محسوس کیا.. اسکی خوشی دیکھنے لائق تھی..
مکھن کیوں تڑپا رہی ہو…..
بس کرو نہ… دو دن میں… میرا سانس.. روک دیا آپ.. نے.. سائیں.. اتنا ستم نہیں کرتے….
آپ ہماری ہو جائیں…. بس.. “وہ.. بڑی چاہ سے.. اسکے چہرے پر انگلیاں چلاتا وہ بھک رہا تھا.. نظریں.. اسکے لبوں کے کنارے ر موجود تل.. پر ٹھر گئیں.. تھیں….
عابیر… کا خون.. کھول اٹھا.. ایک جھٹکا دے کر وہ اس سے جدا ہوی.. اور کھینچ کر تھپڑ.. اسکے منہ پر دے مارا…
کمینے…. تمھیں کیا کگ رہا ہے.. میں کوئ کوٹھے پر بیٹھی نیچ لڑکی ہون.. میرے گھر میں گھس او گے میرے باپ کی عزت اچھالو گے.. اور میں نہیں خاموش رہو گی.. یہ عشق کا بھوت.. ان سے.. پورا کرو.. آج کے بعد بہرام خان میرے.. پاس نظر بھی ایگ تو.. یقین مانو.. میں تمھارا وہ حشر کرو گی.. کہ تمھاری نسلیں بھی یاد رکھیں گی. دفع ہو جاو “.. وہ بلند اوز میں چلائ
بہرام. نے.. اپنے اندر امڈنے والا اشتعال… بمشکل دبایا.. اور مسکرا دیا….
اگر میں تمھیں کوتھے پر بیٹھی لڑکی سمھجہ رہا ہوتا.. تو.. تم سے.. اس زبان میں بات نہ کرتا….
اور یقین مانیں سرکار جن سے آپکو دیکھا.. ہے.. کوٹھا تو کیا.. کہیں بھی جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… کسی کو دیکھنا الگ بات ہے.. میٹھی… میرا طریقے غلط ہیں.. مگر.. میرے جزبات نہیں…. “وہ پھر سے.. دوبارہ اسی انداز میں بولتا عابیر کو زہر ہی لگا…..
جاو یہاں سے” عابیر کرے تیوروں میں بولی..
آپکی وجہ سے.. ساری رات جاگا ہون.. اور ملاقات کی مدت.. بس چند منٹ.. بلکل نہیں… “وہ ضدی لہجے میں بولا تو.. عابیر پاوں پٹخ ے لگی..
تمھیں یہ کیوں نہیں سمھجہ آ رہا.. میرا باپ.. اور منگیتر.. ہے.. یہاں… “وہ غصے سے چلای..
منگیتر ہممممم… وہ دو فٹیا….
میرے دلبر… آپ ہم سے یاری لڑاو…. یقین مانو فخر سے بتاو گی…
کہ یہ میرا.. سائیں ہے.. “وہ صوفے پر بیٹھتا…. اسکو.. دیکھتا مسکرا.. رہا تھا… عابیر اس پر لعنت بیجتی اس سے پہلے باہر نکلتی.. بہرام نے اسکی کلائ تھامی.. اور اپنی جانب کھینچ.. لیا.. کہ وہ اسپر غیرتی کہ عابیر نے.. اسی کی ٹانگ کا سہارا لے کر.. خود کو اسپر گیر نے سے بچایا….
اگلی بار.. کب ملو گی.. “بہرام اسکے بال پیچھے کان. میں اڑستا.. بولا….
مر جاو تم” عابیر.. نے خود کو چھڑانا چاہا.. مگر.. بہرام.. نے نہ چھوڑا… وہ.. رونے لگی. سرج آنکھیں بھیگ گییں کسی بھی لرکی کے لیے یہ لمہ موت سے کم نہیں تھا. وہ اتنی مظبوط بھی بار بار ہار رہی تھی…
کل… ملنے او گا… اب کہیں مت جانا ورنہ.. سرکار آپ کے باپ کی کھوپڑی ارانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا “مسکرا کر کہتا.. وہ زبردستی.. ایک گستاخی.. کر گیا… عابیر. کا خون کھول اٹھا… اس سے پہلے وہ اسکو پھر رکھتی بہرام نے اسکو خود سے دور دھکیلا..
سرکار.. ہزار بار حاضر یہ گال.. بار بار چھونے کا دل کرتا ہے کیا ہمیں” وہ زیچ کر رہا تھا اسے.. عابیر یون ہی اسے گھورتی رہی.. جبکہ وہ. ایک ونک دیتا.. باہر.. نکل گیا.. باہر. وہی رونا دھونا جاری تھا…
بہرام.. مسکراتا ہوا.. معاز کے قریب آیا…
ہممم” وہ ہنسا…
پاور از پاور “اسکے منہ ہر دو لفظ اچھال کر.. وہ.. معاویہ. کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا…
جبکہ باہر.. کان لگایے لوگ بھی اسکے نکلنے پر. ادھر ادھر ہوگئے…
…………..
ارمیش میری جان کیا ہو گیا ہے… “مورے اسکا چہرہ تھامے پوچھ رہیں تھیں جبکہ وہ ایسے ہی بیٹھی تھی…
کچھ تو بولو میری جان… ” ارمیش نے.. انکی طرف دیکھا….
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جبکہ.. چیرہ بے تاثر تھا…
مر گئ ارمیش… “اسنے.. مدھم آواز میں کہا….
ایسے کیسے مر گی.. دماغ ٹھیک ہے تمھارا..” یہ نین تھی جو کافی دیر سے جاموش تھی.. بی جان… نے اس دن اسکو اچھی خاصی کلاس لی تھی جس کا اسپر رتی بھی اثر نہیں ہوا تھا…..
میں نین نہیں ہوں… ارمیش ہوں مجھے ارمیش کیوں نہیں سمھجا کوئ… سب اپنی مرضی اپنی مرضی.. چلا رہے ہیں…
شادی سے پہلے مورے.. نے کہا.. جو وہ کہے وہ کرنا… وہ جیسا کہتے گئے ویسا کیا میں.. نے.. انکی مار سہتی رہی….
پھر تم کہتی ہو اپنے لیے سٹینڈ لو….
اپنے لیے سٹیند لے کر بھی مار کہانی ہی ہےتع ارمیش مر کیوں مہی جاتی.. سب.. اپنی مرکی اپنی من مانی کرتے ہیں.. آپ سب لوگوں کو میری فکر نہیں ہے. بس یہ فکر ہے. حیدر.. ارمیش کے ساتھ ٹھیک ہو جائے…
ارمیش پھر مرے یا جیے.. اگر میں یہاں ہون.. تو مجھ سے سوال کیے جا رہے ہیں. تین دن سے میں کہاں تھی.. پوچھا کسی نے…
مار دیں ارمیش کو.. سب کو سکون آ جائے گا “وہ چلاتی ہوی.. اٹھی.. اور.. اپنے روم کی جانب چل دی… کسی.. میں اسکو روکنے کی ہمت نہ ہوئ.. ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ.. کھلوانا سمھجہ لیا تھا اسکو تو… سب نے..
………………..
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی… ٹیبل پر سر رکھے.. اس سلشخص کو سوچ رہی تھی جو اسکی زندگی میں نہ جانے کیوں آ گیا تھا…
بابا نے اسپر.. ہر چیز کی پابندی لگا دی تھی.. کیسا یقین جب سب.. اس سے منہ موڑ چکے تھے.. اور.. اسکی فورا.. شادی کی جا رہی.. تھی….
یہ کیسا یقین تھا.. نہ معاذ اسکی کچھ سن رہا تھا.. نہ بابا مما…
سب اسے قصور وار کہہ رہے تھے.. مما… نے اسکی نوکری کی وجہ ٹھرائ….
اور.. جہاں عابیر… کی عزت تار تار ہو رہی تھی
وہاں وہ شخص سکون میں تھا..اپنی صفائ میں ایک لفظ.. اسے بولنے نہیں دیا گیا تھا…
کیوں..
اسنے غصے سے ساری رائٹنگ ٹیبل اجاڑ دی..
وہ بقائدہ آواز سے رو رہی تھی.. اسکے خواب دم توڑ گئے تھے کچھ بنے کے خواب…
سادگی سے اسکا نکاح کر کے اسے دوسرے شہر بھیجا جا رہا تھا.. سارا محلہ.. اسکی آوارگی کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنا رہا تھا..
عابیر کا دم گھٹنے لگا تھا….
مگر حل کچھ سجاہی نہیں دے رہا تھا….
رو رو کر.. اسنے اپنا برا حال کر لیا تھا…
باپ نے پی بار اسپر ہاتھ اٹھایا تھا.. سب بہاڑ میں جاتے.. مگر اسکے ماں باپ تو یقین کرتے… انھوں نے بھی بے یقینی دیکھا کر اسکا.. مان توڑ دیا تھا….
روٹی کھا لو. “مما نے.. اسکے رونے کا نوٹس لیے بغیر.. ٹیبل پر کھانا رکھا اور باہر نکل گئیں.. وہ دھندلائ نظروں سے انھیں دیکھنے لگی…
چھوڑو گی نہیں تمھیں میں بہرام خان..” وہ.. مٹھی بینچ جر اسے سوچنے لگی.. اور پھر.. آنسو پونچھ کر اٹھی…
بیگ شانے پر ڈالا…..
اورمما کے پاس آئ..
مما میں کچھ دیر میں آتی ہوں”
اسنے کہا. وہ اسکی سوجی آنکھیں دیکھ کر.. برتن وہیں پھینک کر اٹھیں..
کیوں ملاقات کا وقت ہو گیا ہے. کیا. جو… منہ اٹھا کر نکل پڑی ہو.. دفع ہو جاو.. اندر.. کہیں نہیں جو گی تم” وہ غصے سے بولیں
مما “وہ تو حیران رہ گئ…
آپ میرا یقین کریں.. میں”
چپ “وہ چلائیں..
یہ عاشقی پالنے سے پہلے سوچ لیتی.. کے غریب مان باپ اور ایک بہن بھی ہے “وہ غصے سے اسے جھنجھوڑ رہیں تھیں..
عابیر پھر رونے لگی…
انھوں نے اسکا بیگ.. اٹھا جر چھولے ہر رکھ کر جلا ڈالا.. اسکا موبائیل اسکا سامن. سب جل رہا تھا…
اور وہ.. بے بسی.. کی آخری انتھا پر.. رو رہی تھی…
مما بھی رو رہیں تھیں جبکہ.. ریہا بھی….
……………
دادا کی جان.. اٹھ جاو دوسرا دن چھڑ گیا ہے.. جان کالام. آج جلسہ ہے “وہ اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں چلاتے… پیار. سے بولے..
بہرام نے آنکھیں وا کیں اور سمکرا جر اسے دیکھا…
داجی… عشق کیا ہوتا ہے” وہ ایسے ہی لیٹے لیٹے بولا.. داجی مسکرائیے..
بہرام خان عشق ہے”وہ بولے…
سائیں مزاق نہیں” وہ چیڑا…
بھئ ہمارے لیے تو.. ہمرا خان عشق ہے.. باقیوں کا پتہ نہیں” وہ شانے اچکا گئے..
داجی وہ عشق ہے… ہمرا سرکار عشق ہے…
اسکی آنکھیں اسکا غصہ.. اسکا چہرہ.. اسکا وجود.. عشق ہے…
اسکا خمار عشق ہے…
وہ سراپا عشق ہے… وہ ہمارا عشق ہے..
داجی.. آپکا شہزادہ ڈوب گیا…
عشق کی وادیوں میں….
جی کرتا ہے.. اسے بانھوں میں بھر لو….
مگر… ہمرا سرکار زرا نکھریلا ہے.. ہتھ مشکل آئے گا “وہ.. پرجوش سے انھیں سب بتا رہا تھا.. داجی سنجیدگی سے سب سمھجہ رہے تھے..
یہ تو خیر ناممکن تھا کہ.. کالام کی شان… کی بیگم…
عام.. سی بنے..
مگر وہ ابھی اسے یہ سب نہیں.. بتا سکتے تھے.. تبھی خاموشی سے مسکرائے…
ابھی آیا میں.. آج تو.. وہ بھی رو بارو ہوں گے” وہ مزے سے کہتا. رات. کی بچی. شراب کا گھونٹ بھرتا…
واشروم کیطرف بھاگا..
جان دادا… آپکی یہ خواہش… پوری ہونا نا ممکن ہے” وہ بولے… اور… روم سے نکل گئے….
…………….
جاری ہے
