Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

گاڑی تیزی سے.. کالام کے راستے پر سفر کر رہی تھی جبکہ ارمیش… خاموش بیٹھی تھی اور حیدر کے لبوں پر.. مسکراہٹ تھی مگر وہ مسکراہٹ بلکل بھی واضح نہیں تھی…
آب سے گزرے پیچھلے چند گھنٹوں کو یاد کر کے.. اسکی… تکلیف کا احساس دوبالا ہو گیا تھا… اسے اپنا اپ جیسے اب بلکل بے کار لگا جیسے اسکی ضرورت اسکی.. اہمیت… کچھ نہیں تھی.. زندگی میں جینے کو…. پہلی بار اسنے لب کشائ کی… اپنے حق کے لیے وہ اسکے سامنے ڈٹی… جبکہ اسنے اسکو.. نئے سرے سے توڑ دیا… آج اسکے توڑنے میں بدلاو یہ..تھا کہ وہ آگ.. جو وہ چھپائے بیٹھا تھا اسکی رمق نہیں تھی…
آج کسی کی چاہت کو پورا کر دینے کا.. جوش تھا….
چند گھنٹے پہلے….
جب… روم میں دوبارہ کوی ڈاکٹر یا… حیدر خود بھی نہ آیا.. تو.. وہ.. اٹھ کر.. روم سے باہر آ گئ..
لوگوں کی بھیڑ میں وہ تنہا اسے ڈھونڈتی پھیر رہی تھی..
کیا وہ اسے چھوڑ گیا تھا..
مگر وہ کہاں گیا تھا.. وہ کیوں چلا گیا تھا….
اسے راستہ سجاہای نہیں دے رہا تھا
.. وہ کہاں جائے پہلے کبھی.. وہ.. یوں کب نکلی تھی گھر سے.. وہ سیدھی چلتی جا رہی تھی..
ایک بار پھر آنسو نکل آئے تھے.. ہونٹ.. بھی نکلنے لگے تھے.. وہ اسقدر معصوم لگ رہی تھی.. کہ کوئ بھی اسپر فدا ہو جاتا.. مگر وہ شخص تو آنکھیں بند کیے ہوئے تھا…
وہ.. چلتی چلتی باہر اگئ…
جبکہ… حیدر اب بھی نہیں دیکھا تھا.. ہوسپیٹل سے نکلتے ہی بہت بڑا لون تھا… وہ لون کے چارو اطراف دیکھنے لگی.. ابھی وہ.. بقائدہ رونا شروع کرتی کہ.. ایک کونے میں بنچ پر بیٹھے حیدر اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر وہ وہیں ٹھر گئ….
ستم پر ستم تھا…..
وہ حور تھی….
حالانکہ پہلے کبھی اسکو دیکھا نہیں تھا… مگر حیدر کی آنکھیں.. گواہی دے گئیں تھیں…..
نہ جانے اسکے قدم کیسے انکی طرف خود بخود اٹھنے لگے….
اور وہ حیدر کے سامنے جا کھڑی ہوئ… کسی گڑیا کی مانند جو… ریموٹ سے چلائ جائے…
سفید چادر کے حوالے میں سندھر معصوم سا مکھڑا دیکھ.. حور.. ایک پل کو.. چونکی….
ارمیش یوں ہی کھڑی تھی…
یہ… ہماری.. بیوی ہے ارمیش”اسنے کچھ اٹک کر اسکا تعارف کرایا…
حور مسکرا دی..
بہت پیاری ہے…” مگر مسکراہٹ میں جلن کا انثر واضح تھا….
تم سے زیادہ نہیں. “حیدر… نے اسکا ہاتھ تھاما…. حور نے حیرت سے ارمیش کو.. پھر حیدر کو دیکھا.. ارمیش اب بھی یوں ہی کھڑی تھی..
تم ادھر بیٹھو ہم آتے ہیں “حیدر… نرمی سے کہہ کر.. حور کو لے کر.. کچھ فاصلے پر چلا گیا…
ارمیش وہیں بیٹھ گئ.. اسکے کانوں میں حیدر کی آواز آ رہی تھی…
تم نے ہمارا انتظار نہیں کیا..” وہ تڑپ کر بولا تھا..
کیا تھا.. بہت کیا تھا مگر تم نہیں آئے “مقابل بھی شکواہ کناہ تھا…
اسنے انکی طرف نگاہ نہیں اٹھائ تھی.. وہ.. دل کی دھڑکنوں کا شور سن رہی تھی… جو اسے سمھجہ آ رہا تھا.. وہ حقیقت کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی…
کچھ دیر.. وہاں سے آواز نہیں ای…
برحال جو گزر گیا.. اسکو بدلہ نہیں جا سکتا… ہمارے راستے جدا ہیں صرف تمھاری وجہ سے…. “وہ رکی کچھ دیر کے لیے…
تم اپنی بیوی کے ساتھ خوش رہو…” اسکی پھر سے آواز آئ مگر آنسوؤں کے ساتھ..
کس نے کہا ہے ہم خوش ہیں خوش ہوتے تو اپنے بچے کے ساتھ ایسا نہ کرتے دو سال… گزر گئے ہمیں اسی کشمکش میں…
اور تم ہمیں کہہ رہی ہو.. کہ اب تمھارے ملنے کے بعد بھی ہم پیچھے ہٹیں ناممکن.. ایسا کبھی نہیں ہو گا.. حور تم پہماری ہو.. “
ارمیش.. کا دم گھٹنے لگا…. کتنا پیار تھا اسے اس سے..
کوئ.. اتنا… ظالم کیسے ہو سکتا ہے….
کیا وہ اس سے دور نہیں جا سکتا تھا.. وہیں اسکے پاس کھڑے ہو کر.. وہ کسی ورق کی طرح.. اسکو پھاڑ رہا تھا… بے رحمی سے…
تمھاری بیوی پاس ہی ہے” حور جزبز ہو کر بولی…
وہ صرف بیوی ہے.. اور تم ہمارا چین سکون.. ہماری محبت.. ہمارا عشق ہو” حیدر.. کی آواز میں جان لیوا…. مان تھا… یقینی طور پر حور کو.. اپنا آپ خوشقسمت لگا تھا….
حیدر… ہم ایک نہیں ہو سکتے”وہ پھر بولی… ارمیش… نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا….
اسے چکر آنے لگے تھے طبعیت… جیسے نڈھال ہو گئ تھی…
ہم ایک ہو سکتے ہیں تم ہم پر سب چھوڑ دو….” وہ پھر بولا..
میں ماں نہیں بن سکتی “حور جھنجھلای…
مجھے فرق نہیں پڑتا… کیونکہ ہم باپ بن رہے ہیں …. “یعنی فیصلہ ہو گیا تھا.. اسکا ڈر سامنے تھا.. ارمیش نے سرخ آنکھیں کھولیں….
ہاں ہمارا بچہ تمھارا بچہ ہی تو ہے… تم نے.. صرف ایک بچے کے لیے اپنا کیا حال کرلیا….
تم ہی اسکی ماں ہو…. وہ ہمارا بچہ ہو گا” اسنے بڑی چاہت سے.. جیسے.. اسکو.. سکون اور ارمیش کو بے سکون کیا تھا…
مگر تمھاری بیوی” حور.. بھی خودغرضی کی انتہا پر تھی..
اسے کوئ مسلہ نہیں… فکر مت کرو “حیدر… کا لہجہ سرد تھا…
حور نے شاید اسے بے یقینی سے دیکھا تھا.. ارمیش.. کو انکے قدموں کی چاپ.. اپنے نزدیک محسوس ہوئ…
اور.. وہ دونوں اسکے.. سامنے آ کھڑے ہوئے…
ارمیش کی نگاہ انکے ہاتھوں پر ٹھر گئ جو حیدر نے تھام رکھے تھے….
خانم… یہ بچہ… ہمارا ہے.. ہم اس کے بارے میں فیصلے کا پورا اختیار رکھتے ہیں… کوئ. مسلہ تو نہیں “اسنے پہلی بار.. اسسے سوال کیا تھا اسکی مرضی اپنا اختیار دیکھا کر پوچھی تھی…
ارمیش نے حیدر کیطرف دیکھا…
میں اپنا بچہ کسی.. ایرے گیرے کو نہیں دوں گی سائیں….
اس سے بہتر ہے.. مروا دیں آپ” وہ سنجیدگی سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی….
حیدر… حیرانگی سے.. اسکے لہجے کی مظبوطی.. اور اسکی اتنی زبان درازی دیکھنے لگا….
حور نے طنزیہ نظریں حیدر پر ٹکائیں..
اور حیدر کی مردانگی نے بھرپور جوش مارا تھا….
اسکی محبوبہ کے سامنے اسکی بیوی نے اسکی ولیو ٹکے کی کر دی تھی…
ایک لمحہ.. صرف ایک لمحہ لگا تھا… اردگرد بیٹھے کئ لوگوں نے.. ارمیش کے منہ.. ہر چھاپ چھوڑ دینے والے طمانچے کی گونج سنی تھی.. مگر ارمیش اپنی جگہ سے ٹس مس نہیں ہوی..
حور کو ایک گو نا گو سکون ملا.. اسنے.. اسکی خامی.. پر ٹونٹ کیا تھا…
خانم یقین مانو ہمیں یقین نہیں آ رہا “حیدر نے اسکا.. منہ جکڑا.. ارمیش اسی طرح بے تاثر رہی..
تمھیں تو ہم اچھے سے بتائیں گے” وہ اسکی آنکھوں کی بغاوت.. کو اگنور کرتا حور.. کی جانب لپکا جو اس سے جان چھڑا کر.. جا رہی تھی..
حور… “حیدر بولا…
ارمیش دھندلائ آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی..
تمھاری بیوی نے میری بےعزتی کی ہے… “حور چیخی لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے…
وہ بچہ تمھارا ہے….
یہ وعدہ ہے ہمارا.. اور اسنے جو کیا.. اسکا سبق… اسکو بہت سخت ملے گا.. تم پریشان مت ہو.. چلو ہم تمھیں گھر چھوڑ دیتے ہیں …” اسنے.. کہا.. تو… حور… اپنے زمیر.. کی جائز آواز کو دباتی بہت کچھ سوچتی.. حیدر کے ساتھ ہو لی.. جبکہ ارمیش نے.. اگلے ڈیڈ گھنٹے حیدر کا اسی بینچ پر بیٹھ کر انتظار کیا.. اس تھپڑ نے اسکا ہونٹ پھاڑ دیا تھا لوگ تاسف سے کچھ پل اسے دیکھ کر ادھر ادھر ہو لیے.. جبکہ وہ.. بے حس و حرکت تھی.
ڈیڈ گھنٹے بعد وہ اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ گاڑی میں لے آیا…
بہت زبان کھل گئ ہے
میری حور کو تانا دو گی.. تم تم… “بیٹھتے ساتھ ہی.. محاسبہ شروع ہو گیا تھا…
اسنے.. دو تھپڑ مزید رکھ دیے.. ارمیش… یوں ہی بیٹھی رہی.. شاید اسکے جزبات مر چکے تھے.. اسے تکلیف نہیں ہو رہی تھی….
وہ اپنی بھڑاس اسپر اچھے سے نکال کر.. اب باقی حساب گھر.. جا کر لینے پر وارن کرتا… کالام کے راستوں پر ہو لیا تھا…
لیکن وہ شاید بے خبر تھا.. اب وہ… پرانی ارمیش کو دفن کر کے.. نئ ارمیش کو ساتھ لے جا رہا تھا….
جو جلد ہی اسکی ہمتیں توڑ… دینے والی تھی… اسکو خبر ہونے تک….
……………….
احمر.. کو نین کی دھمکی سے نہ چاہتے ہوئے بھی خوف آ رہا تھا..
یہ تو اسے کچھ ہی دنوں میں پتہ چل گیا تھا کہ وہ شدید جزباتی لڑکی ہے.. اور اپنا کہا پورا کرنے کو کسی بھی حد تک جا سکتی ہے.. تبھی.. وہ.. داجی کے کمرے کیطرف بڑھا.. اس سے پہلے… کوئ غلط قدم اسے داجی کی بندوق کا نشانہ بناتا… ایسا نہیں تھا.. وہ.. کسی سے ڈرتا تھا… اس کی تربیت داجی نے کی تھی…
اور… یہاں کوئ کسی سے ڈر تا نہیں تھا.. اپنی من مانی عام تھی مگر… داجی.. کا کنٹرول سوائے بہرام کے سب پر تھا…
اسنے دروازہ کھٹکھٹایا….
تو اندر سے.. اندر آنے کی اجازت ملی.. اور وہ اندر آ گیا….
سلام داجی “اسنے سلام کیا تو داجی نے.. اسکی جانب دیکھ کر سر ہلا کر سلام کا جواب دیا…
وہ بہت کم انکے پاس آتا تھا…
ان کے لیے.. یہ چونکنے کی بات تو تھی مگر.. انھیں اپنے تصورات پر کمال کنٹرول حاصل تھا…
داجی… وہ میں” اسنے بولنا شروع کیا.. تو وہ.. ساری توجہ اسکی جانب مرکوز کر گئے..
کیا کہنا چاہتے ہو خان.. کھل کر کھو.. عورتوں کی طرح اٹکنا نہیں سکھایا ہم نے تمھیں” وہ کڑے لہجے میں بولے تو اسنے تھوک نگلا..
داجی میں رخصتی کے بعد… حویلی میں نہیں رہنا چاہتا…
میں میں.. خود.. اپنے قدموں پر کچھ کرنا چاہتا ہوں.. اور نین خانم کو.. بھی…
بس..” داجی.. کی دھاڑ پر وہ تقریباً اچھلا ہی تھا…
آخر کو اسکو پالا تھا وہ جانتے تھے.. کون کیا ہے…
کس کی زبان بول رہے.. ہو.. احمر خان…. اس بدزات کی اتنی جرت.. کے وہ مردان خانے میں تم سے ملنے.. اور یہ درس دینے پھنچ گئ” وہ چنگھاڑے.. احمر.. تو شاکڈ رہ گیا.. انھوں نے کتنا پرفیکٹ انداز لگایا تھا..
ایسا نہیں ہے داجی.. یہ میری اپنی خواہش ہے… مورے.. اور نین میری زمہداری ہیں اور میں.. انھیں نبھانا چاہتا ہوں” وہ مظبوط لہجے میں انکی بات کی نفی کرنے لگا..
تین سال کے تھے خان.. جب ہماری گود میں آئے….
تب.. سے.. ہماری آنکھوں کے سامنے ہو… ہمیں یہاں رہنے والے ہر فرد کا پتہ ہے.. کہ وہ کتنے پانی میں ہے…
آج سے پہلے تو نہ سوچا یہ سب… پھر آج یہ خیال اچانک.. آ گیا… احمر سائیں.. ہمارے ساتھ سیاست نہیں چلے گی.. اس گستاخ لڑکی…. کا ہم حشر بگاڑ دیں گے.. “وہ غصے سے بولتے اٹھے….
داجی.. داجی.. کہاں جا رہے ہیں” احمر پریشانی سے انکے پیچھے لپکا مگر انھیں روکنا اسکے بس میں نہ تھا….
عظیم خان.. “داجی.. مردان خانے کے ہال میں للکارے…
جی… بابا سائیں” وہ فورا انکے قریب… ہوے…
سن لو اپنی بیٹی.. کے کرتوت….
احمر خان کو.. حویلی چھوڑنے پر اکسا رہی ہے” وہ غرایے.. رفتہ رفتہ سب ہی باہر نکل آیے.. اور اس بات پر سب کے منہ کھل گئے…
معاویہ کا دل کیا نین کو ٹروفی دے آئے.. بھئ… کیا لڑکی تھی…
مگر احمر.. حویلی چھوڑتا یہ تو کسی کو منظور نہیں تھا…
عظیم خان نے کچھ دیر خود پر قابو پانے کی کوشش کی اور پھر زنان خانے کیطرف.. چل دیے داجی بھی ساتھ تھے.. جبکہ احمر… کو.. اپنی سب سے بڑی غلطی کا احساس ہو گیا…
اس سیلاب پر بندھ بس ایک انسان باندھ سکتا تھا… وہ بہرام کے کمرے کیطرف بڑھا…. جبکہ معاویہ بھی اسکے پیچھے ہوا..
…………..
نین خانم کو بولاو…. پوچھ ہی لیں اس سے اتنی نیچ تربیت کی ہے.. تم نے.. اسکی… خانم کے وہ مردان خانے میں منہ اتھا کر.. پہنچ جاتی ہے… اور احمر خان کو حویلی چھوڑنے پر اکسا رہی ہے “عطیم خان… اپنی بیوی.. پر داھارے.. شاید ان سب کا زور بس اپنی عورتوں پر چلتا تھا.. جبکہ وہ سب مرد ایک دوسرے کے لیے لڑنے مرنے تک کو تیار تھے…
انوشے اور نیہا.. تو کچن کی اوٹ میں چھپ گئیں آج پھر نین کی وجہ سے عدالت لگی ہوی تھی باقی.. سب بھی ھیران حونک تھیں.. جبکہ پھوپھو… کی آنکھ نم ہوئ تھی…
بی جان بھی ورطہ ھیرت تھیں…
داجی کے حکم پر درخنے… نین کے کمرے کیطرف دوڑی.. آج.. وہ اس لڑکی کا دماغ درست کر دینا چاہتے تھے…
درخنے کو پریشان حال دیکھ کر.. نین کو جو خود بھی دروازے سے کان لگائے سن رہی تھی.. ڈر.. گئ… نہ جانے کیا ہونے والا تھا.. احمر کو تو وہ کچا چبا جائے گی اگر وہ زندہ بچی تو..
خود کو چادر میں ڈھانپ کر.. وہ سستی سے.. نیچے آئ….
اور… خوف سے لرزتے ہوئے… اپنے باپ دادا کو دیکھا.. جو… اسکو مار دینے کے در پر تھے…
تمھاری اتنی جرت.. خانم.. اس عمر میں میرے پگڑی کا خیال بھی بلایے تاق رکھ دیا ہے تم نے “عظیم. خان.. چلائے.. تو نین ایک پل کو سہم گئ.. مگر.. پھر اسکے اندر چھپی باغی لڑکی نے انگڑائ لی…
آپ نے.. بابا سائیں ہونے کا حق ادا کیا تھا….” وہ… سرخ آنکھوں سے.. انھیں دیکھتی بولی… تو عظیم خان اپنا آپا کھوتے.. اسپر جھپٹتے کے احمر بیچ میں آ گیا.. نین.. نے.. اسکی قمیض کو پیچھے سے جکڑ لیا…
وہ ڈر.. گئ تھی..
بیوی ہیں یہ میری.. اور کوئ انپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں رکھتا….
” وہ اٹل لہجے میں بولا.. تو.. عظیم خان سمیت داجی نے بھی اسے گھورا…
تم.. ہمارے سامنے.. زبان درازی کرو گے” داجی… نے احمر کا گریبان پکڑا… جو… سر جھکا گیا تھا کہ داجی کے سامنے.. وہ بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر نین کو.. بیچ چوھرایے پر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا…
داجی…” بہرام… نے انھیں پکارا.. داجی احمر کی اس چلاکی پر.. بل کھا کر رہ گیے جبکہ. اسکا گریبان چھوڑنے پر.. احمر کے لب معمولی سے مسکرائیے.. جسے داجی نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…
اور مڑ… کر… بہرام کو.. دیکھا.. جو… رف سے.. ٹراوزر شرٹ.. میں . معاویہ کے ساتھ کھڑا تھا…
یار آپکو میری نیند پیاری نہیں ہے “وہ چیڑتا ہوا بولا…
یہ تم سب لوگ زنان خانے میں کیا کر رہے ہو” داجی نے.. باقی سب کو گھورا.. اور پھر اھحمر کو بھی جو… نین کا ہاتھ چھوڑ کر.. وہاں سے نکلتا چلا گیا…
بہرام اب بھی تیور بگاڑے وہیں کھڑا تھا….
دادا کی جان.. جاو سو جاو… “انھوں نے.. اسکے ماتھے پر بوسہ دیا.. تو… وہ بھی.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ ایک سخت نظر نین پر ڈال کر وہ وہاں سے نکل گئے…
عظیم خان بھی.. وہاں سے نکل آئے جبکہ بی جان نے…
نین.. کو پکڑا.. اور اپنے کمرے میں لے گئیں…
جبکہ اسکی نظر اپنی روتی ہوئ مورے پر تھی جن کو باقی سب سمبھال رہے تھے..
آج اسے دکھ ہوا تھا…. اسکی وجہ سے… اسکی مورے کو کیا سنا پڑا… تھا..
……………..
رات گئے نیند پوری کر کے وہ اٹھا….
اور.. انٹرکام پریس کیا.. تو منیبب کمرے میں آیا….
سائیں کھانے کو لاو کچھ “اسنے پوچھا..
ہاں کھانا داجی کے کمرے میں لگا دو وہیں کھاو گا.”اسنے کہا تو منیب وہاں سے چلا گیا.. جبکہ.. اسنے معاویہ کو میسیج کیا…
رات چلنے کا “اور آٹھ کر.. نیک سیک سے تیار ہو کر.. وہ.. پندرہ بیس منٹ میں.. داجی کے کمرے میں تھا..
بغیر اجازت طلب کیے.. وہ اندر داجل ہوا… تو.. داجی نے مسکرا کر اسکو دیکھا..
آو.. میرے شہزادے..” انھوں نے… دونوں بازو پھیلائے.. تو.. بہرام ان میں سما گیا.. جبکہ اسی وقت.. دروازہ نوک کر کے معاویہ بھی اندر آیا.. اور مسکرا کر.. انکو سلام کیا…
داجی میرے اکاونٹس خالی ہیں” بہرام.. نے کہا.. تو داجی نے. حیرت سے اسے دیکھا.. ابھی کچھ دن پھیلے.. تو.. پچاس لاکھ ٹرانسفر کراے تھے مگر… کوی سوال کیے بغیر انھوں نے.. اپنے خاص آدمی کو.. فون گھمایا…
بہرام.. خان کے اکاونٹ میں.. ایک کروڑ…
نہیں دو” وہ بیچ میں بولا… تو داجی… کا سیرو خون بھڑا…. اپنی بات تو وہ جیسے ڈنکے کی چوٹ پر منواتا تھا…
تین کروڑ ٹرانسفر کر دو” انھوں نے کہا تو… وہ خوشی سے انکی طرف دیکھنے لگا..
جیو سرکار “وہ اپنے مخصوص لہجے میں دادا دینے لگا…
تو دونوں ہی کھل کر ہنسے…
داجی یہ. کرم نوازی کبھی ہم ہر بھی کر دیا.. کریں”وہ شکواہ کرنے لگا…
معاویہ سائیں… محنت کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے.. کر کے.. دیکھو زرا “داجی نے.. کہا تو.. معاویہ اس دہرائے پر منہ بسور ے لگا..
ہاں.. جی اس.. نے تو.. سارے محنت کے پیڑ لگائے ہوئے ہیں “
یو جیلس” بہرام کا قہقہ داجی کے سینے میں ڈھنڈ ڈال گیا….
جبکہ معاویہ نے.. منہ پر ہاتھ پھیرہ…
خان…. ایک جلسہ کرنا ہے…. شہزادے کچھ وقت دو” داجی کچھ یاد آنے پر بولے.. بہرام منہ بسور گیا…
میرا بچہ.. بس.. دو گھنٹے کی تو بات ہے.. سب تیار ہے. بس تم نے بولنا ہے… میری جان دادا کے لیے..” وہ اسکو ایسے پچکار رہے تھے.. جیسے وہ. کوئ.. دو سلا کا بچہ ہو….
بہرام.. نے.. حامی بھر.. دی…
کب.. ہے “
پرسو” انھوں نے کہا.. تو وہ سر ہلا گیا..
چلو معاویہ سائیں آج پھر جلدی انا پڑے گا.. نیند بھی پوری کرنی ہے. ورنہ دن کو ہم سوتے رہ جائیں گے.. داجی کے جلسے کا کیا بنے گا “وہ ہنستا ہوا اٹھا..
کھانا تو کھاو..” داجی نے ٹوکا..
نہیں داجی…. ہم اپنے سرکار کے ہاتھوں کھائیں گے”وہ آنکھ دباتا… باہر نکلا جبکہ.. داجی کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہوا.. معاویہ بھی پل میں نکلا کبھی اس سے سوال جواب نہ شروع ہو جائیں…
……………..
ایک بار پھر اسی.. طرح… گاڑی.. اس کے گھر کے سامنے روکے.. وہ… شراب کی بوتل لبوں سے لگائے.. سرخ آنکھوں سے.. اس چھوٹے سے گھر کو دیکھ رہا تھا..
معاویہ سائیں لگتا ہے. سرکار ڈر گئے ہیں “وہ سنجیدگی سے بولا…
معاویہ.. نے اسکیطرف دیکھا…
اس سے کیا فرق پڑتا ہے” وہ شانے اچکا گیا.. اتنا تو معلوم ہو ہی گیا تھا.. کہ وہ. ریپوٹر کے پیچھے پڑا ہے.. مگر اس کے دل کی بے چینی تک ابھی نہیں پھنچ پایا تھا.. کہ اسے.. یہ سب فلرٹ لگ رہا تھا…
ایسے نہیں سائیں مزاہ نہیں آتا جبکہ تک… وہ ٹکر کا مقابلہ نہ کریں” وہ آب بھی سنجیدہ تھا…
اوو بھائی.. میں کلب جا رہا ہوں.. جب تو. اپنے.. سرکار سے فارغ ہو جاے تب.. بتا دینا..”
معاویہ عاجز آیا..
بیٹے گاڑی.. یہیں چھوڑ پیدل چلا جا “بہرام بھی آخر بہرام تھا..
بوتل اسپر اچھال کر وہ چابی نکالتا… آگے بڑھ گیا جبکہ معاویہ اسے پیچھے سے زبردست گالیوں سے نواز رہا تھا…
پھر اسی طرح چوروں کے مافق.. وہ.. عابیر کے گھر میں گھس آیا…
اور.. دوبارہ… انھیں راستوں سے ہوتے…
وہ اس کمرے تک.. اور پھر اس بیڈ تک پہنچا… مگر.. وہ بیڈ خالی تھا…
مکھن واقع ڈر گیا ہے “وہ محظوظ ہوا.. اور دوسرے بیڈ پر دیکھا جہاں… کوئ نہیں تھا.. اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا…
تو وہ دوسرے کمرے میں گیا.. جہاں.. وہی سنگل بیڈ تھا.. اور دو لوگ تھے.. پھر عابیر کہاں تھی..
اسی کشمکش میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسنے پورا گھر چھان مارا.. میٹر شاٹ ہونے لگا.. اور… وہ دندناتا ہوا… اس کمرے میں گھس گیا. اور سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا….
تو کمرے میں روشنی پھیل گئ..
سب سے پہلے اکبر صاحب کی آنکھ کھلی.. اور اس سے پہلے وہ سمبھلتے.. اسنے انکا گریبان جکڑ لیا
..کون ہو تم “وہ خوف زدہ ہوے ..
تیری بیٹی کا یار…. کہاں ہے وہ.. جلدی بول” وہ بنا لحاظ کے اپنا آپا کھو چکا تھا.. اکبر صاحب.. ھیران و پریشان.. سے اس نوجوان.. سرخ آنکھوں والے لڑکے کو دیکھنے لگا…
عابیر کہاں ہے”وہ چلایا.. تو.. مقابل لیٹی عورت بھی اٹھ گی.. اور ھیرت اور خوف سے اسکی چیخ نکل گی جس پر بہرام نے توجہ نہ.. دی..
وہ. اپنی. نانی کے گھر ہے. پیچھلے ایک ہفتے سے” اکبر صاحب نے.. اسے بتایا.. تو. وہ انھیں جھٹک کر.. سر میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا..
سن میری بات…. اسے فورا.. بولا…. کل اگر.. عابیر یہاں نہ ہوئ.. تو اس پوری صابن دانی میں آگ لگا دوں گا.. سمھجا” اسے جھٹکا دے کر.. وہ.. پلٹا.. جب وہ ہی نہیں تھی تو وہ اس گھر میں کیا کرتا.. وہ پلٹ گیا.. مگر ابھی کالام جانے کا ارادہ نہیں تھا.. جب تک وہ اس سے مل نہ لیتا…
جبکہ اکبر.. صاحب… نے فورا… پریشانی سے.. عابیر کو فون ملایا تھا.. جبکہ.. مما رونے لگی تھی کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے..
اور اس پہیلی کو عابیر ہی حل کر سکتی تھی…….
…………………..
تھینکیو معاذ “عابیر نے مدھم سی سمائل دی تو.. معاز نے دل پر ہاتھ رکھا..
تم پریشان تھی تو میں کیسے نہ تمھاری پریشانی ختم کرتا…
اوپر سے تم شییر بھی نہیں کرتی پھر مجھے لگا تم فیڈپ ہو اسی لیے تمھاری چھٹیاں لے کر.. میں تمھیں یہاں لے آیا” اسنے تفصیلی کہا تو عابیر کو وہ رات یاد آ گی.. جسے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی..
اس دن کے بعد اسکی طبعیت پریشانی لے لے کر کافی خراب ہو گئ تھی اور جب معاذ کو پتہ چلا تو.. وہ اسے.. نانی کے گھر لے آیا…
یہاں پرسکون ہوں میں” اسنے جیسے.. لہلہاتے درختوں کی ٹھنڈک کو محسوس کیا..
میں بھی” معاذ.. نے گھمبیر لہجے میں کہا.. تو.. عابیر اسکو ایک نظر دیکھ کر رکھ پھیر گئ..
تبھی اسکا فون بجا..
بابا نے اس وقت کیوں کال کی”اسنے جلدی سے فون پیک کیا..
ریہا.. اور تم کل فورا گھر او” انھوں نے سخت لہجے میں کہا..
بابا”وہ تو انکے سخت لہجے پر حیران تھی.. کہ انھوں نے اگلی بات سنے بغیر فون بند کر دیا..
کیا ہوا” معاذ نے پوچھا..
پتہ نہیں.. بابا”وہ.. پریشانی سے موبائل دیکھنے لگی… آنکھیں بھی بھیگ گئیں تھیں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا
ریلکس.. میں کل تمھیں وہاں چھوڑ دو گا.. جاو سو جاو”اسنے تسلی دی تو وہ سر ہلاتی چلی گئ مگر ساری رات نیند نہیں آنی تھی وہ جانتی تھی
جاری ہے