Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
یہ حویلی کا پہلا ناشتہ تھا جو بہت شاندار گزرا تھا……
سب کے مسکراتے چہرے تھے…
ناشتہ ختم ہی اسے لگا.. وہ اسے چھوڑ جائے گا.. اخر کو حیدر تو اٹھ کر چلا گیا تھا…
پھر اب تو ڈرامہ رہا ہی نہیں تھا.. مگر وہ وہیں بیٹھا تھا.. داجی بھی وہیں تھے.. جبکہ… باقی سب بھی…
کل ہونے والے ولیمے کا ذکر چھیڑہ تھا…
ارمیش سر جھکائے بیٹھی تھی.. جبکہ وہ.. موبائل میں مصروف دیکھ رہا تھا…
خان کس ہوٹل میں بوکینگ کرانی یے”داجی نے پوچھا…
تو اسنے چونک کر سر اٹھایا…
جیسے وہ بات سن نہیں رہا ہو.. جیسے وہ اس ماحول میں ہو ہی نہیں اسنے دیکھا تو داجی نے پھر اپنی بات دہرائ..
شہر.. کا کون سا ہوٹل پسند ہے خان بس وہیں.. بوکینگ کرا لیں گے” داجی نے کہا.. تو سب جیسے اسکی طرف متوجہ ہو گئے اسنے ارمیش کی طرف دیکھا.. وہ سر جھکائے بیٹھی تھی…
سب خواتین بڑے اشتیاق سے اسکی جانب دیکھ رہیں تھیں.. جبکہ معاویہ احمر سمت مرد بھی اسکیطرف متوجہ تھے..
لالا بول بھی چکو” نین کی اچانک زبان پھیسلی تو اب سب کی خوفناک نظروں کا مرکز وہ بن گئ..
بی جان نے نین کو گھورا..
میرا مطلب.. وہ بس
. ایسے ہی زبان پھیسل گئ” وہ سر جھکا کر منمنائ.. معاویہ اور احمر نے تو داجی کی وجہ سے اپنی ہنسی روکی….
جبکہ… اسکی رونے والی شکل دیکھ کر سب مدھم سا ہنسے.. سواے ارمیش بہرام کے…
نہیں شہر نہیں…. یہیں اسی حویلی میں کر لیں گے.. میرے خیال سے کالام سے زیادہ خوبصورت جگہ کوئ اور نہیں…. “اسنے نپے طلے لفظوں میں کہا…
تو سب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا..
سب ہی اسکے فیصلے سے خوش تھے جبکہ.. اسنے ایک بار پھر ارمیش کیطرف دیکھا.. اور سب کے سامنے وہ اسکے کان پر جھکا.. ارمیش.. کا رنگ ایکدم سفید پڑا…
اتنا سر جھکاو گی تو گردن ٹوٹ جائے گی.. اور تمھیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں.. مجھے ڈری سہمی… لڑکیاں نہیں پسند… “وہ اپنی بات سے اسے بہت کچھ باور کرا رہا تھا.. مگر وہ اپنا ڈر… اپنی جھجھک کہاں لے کر جاتی.. بہرام اس محفل میں سے اٹھ گیا.. جبکہ… ارمیش پھر اسی طرح بیٹھ گئ..
جاو ارمیش بیٹے ارام کر لو” بی جان کو ہی اس پر ترس ایا…
معاویہ اور احمر سمیت باقی لڑکے بھی نکل گئے جبکہ وہاں صرف داجی.. رہ گئے.. انوشے ارمیش نین کو بھی نیہا انکے رومز میں لے گئ..
سب کے جاتے ہی بی جان نے داجی کی طرف دیکھا…
اپ نے دیکھا سائیں.. حیدر سائیں کو دیکھ کر امیش خانم.. کس طرح در گئیں تھیں.. “اسنے کہا تو انھوں نے سر ہلایا جبکہ پھوپھو نے بھی انکی بات کی تائید کی..
بابا جان ہم نہیں جانتے اپ نے کیا سوچ کر حیدر سائیں کو حویلی میں انے دیا مگر… ہمیں لگتا ہے ارمیش خانم.. بلکل سمبھل نہیں پائیں گی.. وہ پہلی ہی.. اتنی نازک ہیں..” انھوں نے کہا.. تو داجی بھی اپنی جگہ سے اٹھے..
حیدر.. سائیں… کو اپنا اوقات کا اندازا خود باخود ہو رہا ہے… اور ہم چاہتے ہیں ارمیش خانم کا خوف نکل جائے اور وہ ہمارے خان کے ساتھ نارمل زندگی گزریں اور جب سینا ٹھنڈا ہو تو… کوئ گلہ نہیں رہتا..” انھوں نے بیٹی کی بات کا جواب دیا…
اور.. مردان خانے کی جانب چل دیے.. جبکہ وہاں ایک بار پھر مردان خانے اور زنان خانے کے درمیان جالیاں حائل کر دیں گئ تھیں…
………………
کیا منہ دیکھائ ملی ہے تمھیں” نیہا نے انوشے سے سب سے پہلے پوچھا.. وہ بیٹھے بیٹھے سرخ ہوئ تھی.. ارمیش اسکی شرماہٹ دیکھ کر اس عرصے میں پی بار مسکرائ..
اف اور کتنا شرمانا ہے جلدی دیکھاو” نین کی بے صبری کا لیول ہی کچھ اور تھا…
تبھی انوشے نے… گلے میں لٹکا معاویہ کے نام کا پینڈریٹ.. نکال کر انھیں دیکھایا.. وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا اور اسکی گردن میں جھومتا تو اور بھی بہت خو صورت انوشے شرم سے دھوری ہو رہی تھی جبکہ نین..
کی او او او ہی نہیں ختم ہو رہی تھی…
اچھا بس کرو نین”انوشے کو بلاخر اپنا سیلف ڈیفنس خود ہی کرنا پڑا..
اور تم دیکھاو کیا ملا” اب نین کی باری تھی..
ارمیش اور نیہا نے نین کیطرف دیکھا..
کل رات کو یاد کر کے.. نین بھی جھجھک ہی گئ.. با نیہا اور انوشے نے اسکا ریکارڈ لگایا تھا جبکہ وہ..
انھیں… گھور رہی تھی جس کا کسی پر اثر نہیں ہو رہا تھا…
دیکھاو نین” ارمیش نے کہا تو نین نے..
اپنی کلائ اگے کی…
پھوپھو سائیں کے کڑے… اہ گاڈ تمھیں یہ بہت پسند تھے” نیہا اور انوشے بیقوقت چیخیں.. تو نین دل کھول کر مسکرائ..
دیکھ لو ارمیش.. یہ تو یہ لڑکی احمر سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی یہ اب اسکی مسکراہٹیں ہی نہیں ختم ہو رہیں..” نیہا نے کہا تو.. ارمیش بھی مسکرای…
اچھا بس بس.. فری کر لو ان لڑکیوں کو بس. “وہ زرا غصہ دیکھانے لگی تو سب ہنس پڑے..
چلو لڑکی اب تم دیکھاو.. کیا ملا منہ دیکھائ میں.. “نین نے اب ارمیش کو.. کھینچا تو.. اسنے مسکرا کر ہاتھ اگے کر دیے…
خالی ہاتھوں کو. وہ تینوں دیکھنے لگیں…
کہاں چھپا کر ائ ہو”نین نے گھورا…
تو ارمیش.. مسکرا دی اس کے اسنے سچ بولا تھا اب وہ لوگ نہیں کچھ سمھجی تھیں تو شاید قدرت بھی اس شخص کا بھرم رکھنا چاہتی تھی..
اپی یہ کوئ اچھی بات نہیں” انوشے نے منہ بنایا… تو…
وہ مدھم سا ہنسی.. اسے اج خود ہی پر ہنسی ا رہی تھی…
اور وہ خود پر جتنا ہنستی اسے کم ہی لگا اتنا…
جلد ہی.. نین کا ریکارڈ شروع ہو گیا تھا تبھی اسک اموضوع وہیں ٹھر گیا..
……………
یہ کون ہیں” کاشان.. کیطرف دیکھ کر عابیر نے پوچھا..
بڑے بھائ ہیں میرے” اسنے کچھ ڈرتے ہوئے بتایا…
اہو.. تبھی تم کام میں لگ گئے ہو “وہ ہنسی..
لڑکی.. پہلے ہی تمھارے عاشق سے کافی پیٹا ہوں مزید پیٹنے کی ہمت نہیں اور بھائ تو مجھے کچا چبا جائیں گے تم جانتی نہیں کتنا خطرناک ادمی ہے یہ”کاشان نے اسے ڈرایا تو وہ کھلکھلای…
شاید اب خطرناک لوگوں کو سدھارنے کی عادت ہو گئ ہے مجھے “
اسنے زرا اترا کر کہا…
اچھی نہیں کافی اچھی غلط فہمی ہے”اسنے منہ بنایا..
کاشان” روعب دار اواز پر دونوں پلٹے بھائ کی اواز پر تو کاشان کے ہاتھ سے ہی فائل چھوٹ گئ..
عابیر بھی زرا مرعوب ہوئ. اس ادمی کے چہرے پر شاید خطرناک حد تک سنجیدگی تھی..
یہ افس ہے کوئ کایفے نہیں میڈم جو اپ یوں منہ اٹھا کر ا گیں باتیں کرنے…
کام کرنے اتے ہیں یہاں اور جس مقصد کے لیے اتے ہیں وہ ہی پورا ہو جائے تو زیادہ بہتر ہے “وہ… بول رہا تھا جبکہ عابیر صرف اسکے ہلتے لبوں کو دیکھ رہی تھی…
ایکدم اسنے اپنے دماغ کو جھٹکا…
اسکے ہونٹ کافی.. بہرام سے ملتے تھے.. ایک لمہے کے لیے وہ حیران ہوئ اور اگلے لمہے ماتھے پر بل ڈالے وہ وہاں سے نکلنے لگی…
کرنے کیا آئیں تھیں ویسے اپ یہاں” اس لڑکے نے اسے روکا…
اپ میرے باس نہیں ہیں جو اپکو جواب دوں ندیم صاحب یہ سوال کریں تو انھیں جواب دوں گی” اس ادمی کی سخت نظروں سے نگاہ چراتی وہ بولی تو…
ارہم نے غصے سے اسکی جانب دیکھا…
ندیم صاحب ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں “وہ زرا بلند اواز میں بولا…
وہ اپنے باپ کے بارے میں بات کر رہا تھا… کاشان.. نے تو وہ فائلز وہیں رکھ کر اپنی جان چھڑانا چاہی…
عابیر کا منہ کھل گیا صبح ہی وہ ان سے ملی تھی اور تین چار گھنٹوں میں ریٹائرمنٹ..
اب اپنا منہ بند کر لیں…” ارہم نے.. اسکو غصے سے ٹوکا تو عابیر کو بھی غصہ انے لگا
. بھلہ وہ کسی کا وزن لیتی تھی کبھی..
بہرام کو مزاہ چکھا کر.. اسکے اندر ایک تفخر سا. اگیا تھا..
مگر یہاں اسطاڑیل ادمی سے بحث.. کیے بغیر وہ وہاں سے نللتی کہ اسنے اسے دوبارہ روک لیا..
کس ڈیپارٹمنٹ سے ہیں “ارہم اگے ایا..
عابیر نے.. اسکی جانب دیکھا.. عجیب آنکھیں تھیں..
بار بار نظر جھکانے پر مجبور کر رہیں تھیں…
ترڈ” اسنے کہا.. تو اسکے کانوں میں طنزیہ ہنسی کی گونج سنائ دی..
اسنے.. زرا غصے سے دیکھا..
مجھے لگا.. نو بجے کا بولیٹین.. دیتی ہو… اور فرسٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہو تبھی اتنی اکڑ ہے” اسنے.. اوپر سے نیچے تک دیکھا…
عابیر کھا جانے ولای نظروں سے گھور رہی تھی..
اسکی کبھی کسی نے اتنی بے عزتی نہیں کی تھی… بلکہ سب کی بے عزتی کا ٹھیکا تو اسنے اٹھایا یوا تھا…
ارہم اسکے سامنے سے گزر گیا جبکہ.. عابیر پیچوتاب کھانے لگی…
………………
حیدر اسقدر شاکڈ میں تھا کہ ناشتے کی ٹیبل پر اس سے بولا ہی نہیں گیا..
ارمیش ارمیش اور بہرام
وہ یہ سب قبول ہی نہیں کر پا رہا تھا..
ان دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا…
اور اسطرح شادی اور بہرام کو تو عابیر پسند تھی اسکی شادی.. سب اسکے دماغ میں کڈ مڈ ہو رہا تھا…
اور.. اسکا بچہ..
جو کے.. ارمیش کو دیکھ کر اسے اندازا ہوا.. کہ اب نہیں رہا..
داجی کی بات
. ایکدم اسے یاد ائ.. وہ قاتل…
اسے لگا.. جلد اسکے دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی..
دل تھا کہ جیسے کسی فولادی گرفت. میں ا گیا ہو..
وہ کتنے استحقاق سے اسکے ساتھ بیٹھا تھا…
اور ارمیش. اس سے شادی کر چکی تھی.. اسکا دماغ جیسے قبول ہی نہیں کر پا رہا تھا…
یہ سب. جو بھی ہوا تھا یہ جو اسنے دیکھا.. اسے وہ آنکھوں کا دھوکہ تصور کر لینا چاہتا تھا..
بڑی جلدی نہیں بدل گئ تمھاری ایکس بیوی…
ویسے وہ شخص کافی ہینڈسم ہے.. کافی لفظ تو چھوٹا ہے.. بے حد ہینڈسم ہے.. واو “حور کی اواز اسکے کانوں میں پڑی.. اسے لگا وہ کچھ بول نہیں سکتا..
حور نے حیدر کیطرف دیکھا.. اسکا تو دل جیسے سکون سے بھر گیا تھا.. اسے اس گھر میں جگہ مل گئ تھی یعنی حیدر پہلے کیطرح امیر تھا اور کیا چاہیے تھا.. مگر اب حیدر.. منہ سجائے کیوں بیٹھا تھا..
بلاخر اسنے خود ہی پیش قدمی کی تو.. حیدر نے اسے بری طرح جھٹکا…
حور حیران رہ گئ..
تم بے حد لالچی لڑکی ہو.. اج میرے اپس سب ا گیا تو تمھیں یاد ا گیا کہ میں بھی کوئ ہوں ورنہ…
بس کرو حءدر یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تمھیں یہ دوبارہ تمھاری سکاھ میری وجہ سے ملی ہے”حور کا چہرہ اپنی بےعزتی پر سرخ ہو رہا تھا…
ہاہا.. تمھاری.. یہاں داجی کا ہمیں رکھنے کا مقصد باخوبی جانتا ہوں انکے نزدیک تمھاری کوی ولیو نہیں ہے حور بی بی.. تو اپنے دماغ کا فطور زرا پرے رکھو.. اور وہم بھی” وہ دو لفظوں میں اسے جھڑتا اٹھا.. اور کمرے کی بلکونی میں جا کھڑا ہوا.. اسکی اور بہرام کی بلکونی…
جیسے تقریبا ساتھ ہی تھی…
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی بالکونی میں دیکھنے لگا…
تو اسے بہرام نظر ایا.. جو کہ.. کین کی کرسی پر بیٹھا ڈرنک کر رہا تھا….
اور انکے کمرے سے مدھم گانے کی اواز بھی ا رہی تھی..
حیدر کی آنکھوں نے اسے تلاشا.. جو کچھ ہی دیر میں وہاں نمودار ہوئ تو گویا حیدر کی بے چینی دوگنا ہو گئ..
وہ اسکے کمرے میں ہوتی تھی کبھی.. اور اج کسی اور کے پاس کسی اور کے کمرے میں تھی….
اوو ڈارلنگ.. تمھارا ہی ویٹ تھا.. “بہرام کی اواز سن کر.. حیدر نے مٹھیاں بھینچی…
جبکہ دانتوں تلے دانت دبا لیے…
حسد کا جزبہ اسکے دل میں شدت سے اٹھا..
یہ لڑکی.. اور اسکی فرمابردای کسی اور کے لیے.. اسے برداشت کیوں نہیں ہو رہا تھا.. اسنے تو کہا تھا وہ اسے ڈائورس دے تو.. وہ کسی سے بھی شادی کر لے مگر.. اب اسے یہ برداشت کیوں نہیں ہو رہا تھا..
ارمءش کے تاثرات اسے نظر نہیں ا رہے تھے کیونکہ اسکی پشت تھی..
اسکی لمبی.. چوٹیا حیدر کو دیکھائ دے رہی تھی..
ادھر او “بہرام کی اواز ائ…
ارمیش اب بھی وہیں کھڑی تھی…
حیدر کو ایک گو نا گو سکون سا ملا.. وہ اسے اتنی جلدی بھلا دے یہ ممکن ہی نہیں تھا…
ادھر او
. ڈول” بہرام.. بڑی چاہت سے.. بولا… اسکا انداز.. بڑا منفرد سا تھا..
وہ اپنی ٹانگ کیطرف اشارہ کر رہا تھا.. کہ ارمیش اسکی ٹانگوں پر بیٹھے ارنیش اپنی جگہ سے مع. ولی سا بھی نہ ہلی حیدر جیسے بہرام پر طنزیہ اس سے پہلے ہنستا.. کہ ارمیش.. اسکی.. طرف بڑھی…
حیدر آنکھیں پھاڑے.. اسکی جانب.. دیکھنے لگا.. وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ کتنی اخلاق سے بری حرکت کر رہا تھا..
اسے ارمیش بہرام اس وقت سب سے زیادہ زہر لگے..
ارمیش اسکی ٹانگ پر بیٹھی تو بہرام نے پیچھے ٹیک لگا لی. اب وہ اسے خمار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا.. جبکہ اسکے سر سے دوپٹہ بھی.. اتار چکا تھا.. حیدر کے لیے.. یہ سب ناقابل برداشت ہوا.. تو.. وہ.. بلکونی سے ہٹ گیا..
دل میں وہ بہرام کو.. ایک سو ایک گالیاں دے چکا تھا…
………………
وہ پتے کی مانند کانپ رہی تھی.. وہ اسکا کہنا مان چکی تھی مگر
اس سے اب اپنا اپ سمبھالا نہیں جا رہا تھا..
بہرام کے لب معمولی سی مسکراہٹ میں ڈھلے..
اٹھنا چاہتی ہو “اسنے سوال کیا.. ارمیش کو لگا اب اسکا لہجہ.. پہلے کی نسبت بدلا ہو ہے.. نارمل بلکل نارمل ہے.. جبکہ ابھی ہی کچھ دیر پہلے وہ ایسے بول رہا تھا جیسے ارمیش اسکی محبوبہ ہو..
ج… جی” اسنے.. کہا.. جبکہ آنکھوں سے انسو بھی نکلا ائے..
بہرام نے وائن کا گلاس رکھا تو. وہ دونوں ایک دوسرے کے کافی نزدیک ا گئے..
بہران کی خوشبو ارمیش.. کے نتھنوں سے ٹکراتی اسکے… مزید پریشان کر گئ..
جبکہ وہ شخص.. وہ نہیں جانتی تھی اتنا نارمل. کیوں ہوتا ہے.. کس لیے.. اخر کو اسکے ساتھ زبردستی کی گئ تھی.. اسے.. مجبور کیا گیا تھا.. اسکی پی بیوی بھی تھی.. پھر بھہ اسکے جزبات عجیب سے تھے کہ وہ شخص.. اسے سمھجہ ہی نہیں. ارہا تھا…
بہرام نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے.. اپنی گود سے اٹھنے کے لیے کہا..
ارمیش.. اٹھی تو بہرام نے دوسرے ہاتھ سے چئیر کھینچ کر اس چئیر پر اسے دھکا دیا.. تو وہ ایکدم گیر گئ..
سر تھا کے.. بلکل جھک گیا تھا..
گردن ٹوٹ جاے گی کسی دن “اسنے
کہا.. تو ارمیش کو شرمندگی ہوئ بہرام نے نگاہ اٹھا کر حیدر کی بلکونی میں دیکھا وہاں اب کوئی نہیں تھا..
اسنے سرد سانس کھینچی..
تمھاری وارڈ روپ بلکل اچھی نہیں ہے” اسنے.. اسے سے ہلکی پھولکی بات کرنا چاہی..
جواب دو… میں اپنے فرشتوں سے نہیں بول رہا”وہ ناگواری سے بولا..
. جی… ج اچھی نہیں ہے “ارمیش ربورٹ کیطرح بولی..
پھر.. کیا کیا جائے” وہ ڈرنک کر رہا تھا جبکہ اسکی جانب بھی دیکھ رہا تھا…
ج
. جو اپ کہیں “ارمیش کو پتہ نہیں کیوں رونا انے لگا…
کاش کسی انسان کو نارمل. کرنے کے لیے.. اسکے اندر چابی بھری جاتی..
جیسے ایک کھلونا…. اسکے اندر چابی بھرو تو. وہ.. چل لیتا ہے. پھر روک جاتا ہے.. جب چابی ختم ہو.. ٹھر جاتا ہے.. وہ دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے… جب تک اسے کوئی چھوے گا نہیں.. تب تک.. وہ چل نہیں سکتا…
انسان.. کے اندر بھی چابی ہوتی تو وہ اپنے جزبات اپنا غصہ.. نکال دیتا…
اور پھر ایک نارمل زندگی گزارتا مگر ایسا نہیں ہے”دوسری شراب کی بوتل کھولتے ہوئے اسکی مدھم اوازپر ارمیش کا سر اپنے اپ اٹھا…
وہ اسکی جانب دیکھنے لگی…
بہرام.. نے اسکی گیرے آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا..
وہ ہنس دیا..
ایسے کیا دیکھ رہی ہو” پیچھے ٹیک لگاتے ہوئے اسنے گلاس کو جھلایا…
مجھے نہیں لگتا تھا اپ ایسے ہیں” وہ بولی اواز بہت مدھم تھی..
میں کیا ہوں.. ہاہا.. تم. میری زندگی میں اکر دیکھو.. تنگ ا جاو گی..
وہ کیا بات ہے.. میرے ساتھ جو بھی رہا قرار میں نہیں رہا… “
اسنے بڑا سا گھونٹ بھر کر.. کین کی چئیر پر گردن ٹکا دی..
ارمیش کچھ نہیں بولی..
اگر اج کے بعد تم میرے سامنے خاموش رہی تو تمھاری زبان پر چھری پھیر دوں گا…” اسنے.. ایسی نظروں سے ارمیش کو دیکھا.. کہ وہ.. سہم ہی گئ….
لال سرخ آنکھوں میں ارمیش کو کوئی رعایت نہی دیکھی..
اسنے سر جھکایا..
سر اٹھاو اپنا” وہ.. غصے سے بولا..
ارمیش بلکل ڈر ہی گئ…
بات کرو… مجھ سے.. “ارمیش کی رونی صورت دیکھ کر اسنے اپنا لہجہ پھر نرم کر لیا..
ک… کیا بات کرو “وہ.. نا سمھجی سے دیکھ رہی تھی…
کچھ بھی” اسنے.. پھر سے گھونٹ بھرا..
اپ شراب کیوں پیتے ہیں “اسنے انگلیاں مروڑتے ہوئے پوچھا..
بہرام. کو اسک اکنفیوز ہونا.. فضول ہی لگا…
بھلہ ایسی لڑکی سے اسکا کبھی پالا نہیں پڑا تھا.. اور نہ شاید ارمیش کا ایسے مرد سے.. جو سمھجہ ہی نہ ایے…
محبت ہے یہ میری”اسنے گلاس کو چاما…
تو ارمیش.. حیران ہوئ..
حرام چیز سے”مدھم اواز وہی لہجہ…
پہلی محبت نا محرم سے ہوتی ہے.. حرام ہی تو ہوتی ہے.. مگر پھر بھی ہو جاتی ہے نہ “اسنے جواب دیا…
ارمیش نے نفی کی..
محرم سے بھی یو جاتی ہے” اچانک ہی اسکے لبوں سے نکالا..
بہرام.. اسکی بات کی مفہوم میں اتر کر بھی انجان ہو گیا..
تو کب کر رہی ہو مجھ سے محبت”اسنے.. پھر اپنی آنکھوں سے اسے ٹریپ کر لیا..
ارمیش کا سر جھکنے لگا..
بولنے کے لیے کچھ نہیں تھا..
وہ ہنس دیا..
جاو سو جاو”اسنے کہا.. تو ارمیش اٹھ گئ…
مجھے سونے کا نہیں کھو گی”بہرام نے دوبارہ گلاس بھرتے اسکو دیکھا..
اپ میرے کہنے سے سو جائیں گے” وہ مدھم اواز میں حیرت بھرے لہجے میں بولی
نہیں” وہ ہنسا…
ارمیش.. کی حیرت نے.. جواب دے دیا.. مرد ایک ہی جیسے ہوتے ہیں..
اسنے سوچا.. اور… اگے بیڈ کیطرف جانے لگی…
کہ اپنے پیچھے اسکے قدموں کی چاپ سن کر.. اسکا دل سہم گیا..
اسنے پلٹ کر دیکھا…
عجیب داستان ہے یہ” اسکا قہقہ.. دلکش تھا.. وہ.. اسکے قہقہے کی اواز.. سن رہی تھی..
اسکے گالوں کو دو انگلیوں سے چھو کر.. وہ واشروم میں چلا گیا.. جبکہ وہ وہیں.. باہر پڑی شراب کو دیکھتی رہی..
کیا کبھی حیدر نے اسکی بات مانی تھی..
وہ نا چاہتے ہوئے بھی موازنہ کر بیٹھی..
…………..
صبح سے دوپہر.. اور دوپہر سے شام ڈھل ائ..
انتظار کر کر کے.. اسکے ہونٹ نکل ایے تھے.. یہ ادمی بھی ویسا ہی تھا.. صرف اسکو تکلیف دے رہا تھا.. بھلہ کوئی اتنی دیر تک.. کیسے سو سکتا ہے.. اسے لگا وہ جان بوجھ کر سونے کا ڈرامہ کر رہا ہے..
جبکہ مغرب کی نماز پڑھ کر وہ اٹھی تو وہ بے ہوش کسمسایا…
اور ایکدم اٹھ بیٹھا…
اور ارد گرد دیکھنے لگا ارمیش اسی کیطرف دیکھ رہی تھی..
بہرام بھی اسکی جانب دیکھتا رہا.. اور پھر جیسے وہ اصل حقیقت میں لوٹ ایا…
خانم… یہاں کیا کر رہی ہو… “اسنے اٹھتے ہوئے پوچھا..
وہ میں ص صبح سے اپکے جاگنے کا انتظرا کر رہی تھی..” اسکی بات پر بہرام.. نے آنکھیں پھاڑ کر اسکو دیکھا..
کیوں “سوال کیا…
ارمیش کنفیوز ہو گئ.. بہرام نے اسکی انگلیوں کو دیکھا جو ہو مور توڑ رہی تھی..
وہ میں.. اپکے کہنے پر… باہر جاتی” اسنے کہا..
بہرام
. کا میٹر گھوما…
ارمیش خانم… حیدر خان کا کمرہ نہیں ہے یہ”وہ بلند اواز میں بولا… تو.. ارمیش فق چہرے سے اسکو دیکھنے لگی..
جو اسکے رولز فالو کر رہی ہو “وہ.. تقریبا چیخا..
ارمیش. کا وجود.. ہوا ہونے لگا…
بہرام نے.. زیچ ہو کر اسکےانسو دیکھے..
سائیں.. اس عقل پر زور دے کر اسے چلایا بھی جا سکتا ہے “نہ جانے کیسے.. وہ.. اپنا لہجہ.. بدل گیا…
شاید.. اسکو چپ کرانے کے لیے مگر غصہ تو اسے کافی ایا تھا…
ارمیش پلکے جھپکنے لگی تھی…
پلکیں گیراتی اٹھتی وہ.. اپنے انسو روکنا چاہا رہی تھی..
بہرام.. اسکو دیکھنے لگا…
دیکھتا گیا… ط
انف…”
اسنے گردن نفی میں ہلائ..
اور زور.. سے اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر
. اسنے اسکا روخ.. بڑی تیزی سے بدلا… اور.. اسکے نازک. کانپتے ہونٹوں.. پر قید… ڈال دی….
شدت نہیں تھی.. جنون نہیں تھا.. مگر نرمی بھی نہیں تھی..
سب ٹھر گیا…
چارو طرف سکوت سا تھا…
ارمیش کی ٹانگوں کی ہمت جواب دے گئ..
وہ سہرا نہ پاتے ہوئے پیچھے جا گیری..
بہرام وہیں کھڑا رہا..
پہلے تو ارمیش… کا دماغ سن رہ گیا.. جبکہ اسکے بعد..
وہ رونے لگی…
سٹیل فولیش “وہ.. دو لفظ کہ کر.. وہاں سے چلا گیا…
جبکہ یہ سب کیا ہوا تھا ارمیش پریشان ہی تھی..
کمرے میں روکنے کی سزا…
وہ.. پل میں باہر دوڑی تھی کہ.. اس شخص کا سامنا ناممکن تھا…
……………………..
زنان خانے کیطرف وہ چل نہیں دوڑ رہی تھی دماغ میں صرف بہرام خان تھا…
کہ اسکا تصادم ہوا…
حور تھی.. اسکو گھورنے لگی…
اسکے.. چہرے کے رنگ. اسکی حیا.. حور کو عجیب سی جلن کا شکار کر گئ..
ارمیش نے اسکی جانب دیکھا.. اور پاس سے گزرنا چاہا..
حیدر سے زہادہ ہینڈسم پھنسایا ہے اب کی بار تو.. اور سننے میں ایا ہے.. سب ہی اسکے نام ہے.. لافی بڑی اسامی ہے”حور کو یہ بات ملازموں سے پتا چلی تھی..
ارمیش نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا..
ھور نے اسکی کلائ غصے سے پکڑی..
جبکہ اسکے ہاتھ کے اوپر ایک اور ہاتھ.. ایا تھا.. سفید جلد.. پر بھرے بال… اور حور نے جیسے ہی نگاہ اٹھائ.. تو..
سرخ آنکھیں.. جبکہ.. بے لچک نگاہ..
حور کا ہاتھ خود با خود ارمیش کے ہاتھ پر سے ہٹا…
تمھیں رعایت مل رہی ہے تو.. سر پر سوار نہ ہو…
جانتی ہو یہ کون ہے”وہ سختی سے پوچھ رہا تھا..
بہ.. بہرام” ارمیش نے مدھم اواز میں اسکو.. روکنا چاہا…
مسز بہرام…. اس حویلی میں رہنا ہے تو سب سے پہلے انکی عزت کرنی ہو گی “وہ.. پیچھے کھڑے حیدر کو اگنور کرتا…
ارمیش کے شانے پر بازو پھیلا گیا.. ارمیش.. نے اسکی جانب دیکھا.. کہ اس سے پہلے وہ حیدر پر نگاہ اٹھاتی اس شخص نے پھر اسے اپنے وش میں لیا…
مائنڈ اٹ” وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتا…
اسکے زنان خانے کے اندر چھوڑتا…
باہر نکل گیا…
ارمیش… ویسے ہی کھڑی اس شخص.. کی پشت دیکھنے لگی.. جبکہ حور نے حیدر کو گھورا..
وہ تمھاری بیوی کو باتیں سنا رہا تھا.. کیا تمھیں سنائ نہیں دیتا” وہ چلائ…
حیدر.. کے اندر جیسے.. ٹوٹ پھوٹ سی ہو رہی تھی.. وہ اپنے اپ کو بے حد کمزور محسوس کر رہا تھا…
بھاڑ میں چلے جاو تم..” حور پیچھے سے چیخی تھی..
………………
جاری ہے
