Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ کافی غصے میں تھی سمھجہ نہیں ایا غصہ کس بات پر تھا….
کیا اس نے دوسری شادی کر لی یہ غصہ تھا.. مگر یہ تو اسنے اچھا ہی کیا.. کہ دوسری شادی کر لی مگر اسے کیوں اپنے ساتھ باندھ کر رکھا… ہوا تھا…
وہ گھر ائ اور کمرے میں بند ہو گئ..
اسے رونا ا رہا تھا…
سٹالر گلے سے کھینچ کر بیڈ پر پٹختی… وہ کھڑکی میں بیٹھ گئ…
باہر خاموش.. دوپہر.. اور گرمی.. صحن.. کو بلکل خشک کر چکی تھی…..
اسے لگا.. وہ بھی جیسے تپتی دھوپ میں کھڑی ہو گئ ہے…
انکھ سے بلاوجہ نکلنے والے آنسوں کو اسنے بے دردی سے صاف کیا..
کس قدر منافق ہو تم بہرام خان”اسنے غصے سے سوچا مگر اپنے اندر کی کیفیت کو بلکل سمھجہ نہ سکی کہ اخر وہ چاہتی کیا.. ہے…
یوں ہی کھڑکی… کے پاس بیٹھی.. وہ.. باہر دیکھتی رہی تو اسے.. وہ رات یاد ا ئ.. جب.. اس شخص نے.. اسے… کس طرح زبردستی اپنے نزدیک کیا تھا….
دل و دماغ سے فورا اس کا خیال جھٹک کر وہ بستر پر لیٹ گئ..
آنکھیں بند کرتے ہی اسے.. وہ رات یاد ائ.. جب وہ اسکے سیراھانے بیٹھا تھا…
اتنی مختصر محبت تھی.. اسکی..
یہ بات اسنے زبان سے ادا نہیں کی.. بلکے دل کو بھی اسنے روکا مگر.. کہاں چل رہی تھی یہ بات اسکے.. اسے معلوم نہیں تھا
اسنے پھر جھٹکا مگر…. ویسے ہی حالات رہے تو وہ جھنجھلا گئ..
مسلہ کیا ہے تمھارے ساتھ عابیر”وہ غصے سے بولی…
اور… پھر.. لیٹ گئ…
اب وہ.. خود کو اسکے خیال سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی….
……………….
وہ دونوں حویلی اے.. تو… وہاں سب ارمیش کو دیکھ کر دنگ رہ گئے…
جبکہ ارمیش شرم سے سرخ تھی..
جبکہ بہرام بھی کافی خوش نظر ا رہا تھا…
کوئی نہیں جانتا تھا وہ سکوت جو اسکے چہرے پر دیکھائ دیتا تھا.. وہ کہاں گیا.. شاید ان دو دنوں میں ان دونوں کے بیچ سب ٹھیک ہو چکا تھا سب کو تو یہ ہی لگا…
ان سب میں حور بھی تھی جو ارمیش کی بے شمار خوبصورتی سے ایک بار پھر جلنے کڑھنے لگی تھی…
ہممم کس قدر خوش قسمت نکلی یہ منحوس… “اسے شدید جیلسی ہو رہی تھی ارمیش سے…
حیدر کی اسپر کوئی توجہ نہیں تھی.. جبکہ بہرام اپنی بیوی کو کتنی پروٹوکول دیتا تھا…
اج پھر زنان خانے کی جالیاں ہٹائیں گئیں…
اور اج پھر بہرام کے لیے داجی کی جانب سے ڈنر کا احتمام ہوا…
ارمیش تو شرمائی شرمائی سی.. پھیر رہی تھی…
اسے اج انجانی سی خوشی ہو رہی تھی.. وہ شخص کافی خوش. دیکھائ دے رہا تھا.. اور اسے اسکاخوش رہنا بھی کافی اچھا لگ رہا تھا..
حیدر… کے دل میں بھی بہرام اور ارمیش کو دیکھ کر کافی جیلسی ہو رہی تھی.. اور ارمیش تو اسقدر خوبصورت لگ رہی تھی کہ.. وہ خود دنگ رہ گیا….
تبھی… وہ زنان.. خانے.. کے پاس سے گزرتا.. کہ ارمیش… کچن میں جاتی دیکھائ دی..
شارٹ سی پلم شرٹ.. پر.. گولڈن دوپٹے میں وہ بہت سٹائلش لگ رہی تھی جبکہ بہرام معاویہ کے کمرے میں تھا.. وہ جانتا تھا…
وہ خود ادھر ادھر دیکھتا.. کچن میں ا گیا..
تمھارے تو… انداز ہی بدل گئے ارمیش میڈیم”اسنے.. سکون سے کہا.. ارمیش.. کا.. کافی بناتا ہاتھ تھم گیا..
اج وہ بہرام کے لیے اپنے ہاتھ سے کافی بنانے والی تھی کچھ ہی دیر.. میں… ڈنر بھی شروع ہوتا… مگر پہلے اسنے کافی کا سوچا…..
مگر بہرام کی بات یاد اتے ہی وہ اپنے کانپتے دل کو یہ سمھجانے لگی کہ وہ اس شخص سے نفرت کرتی ہے..
تبھی وہ اب
.. پرسکون لگ رہی تھی حیدر کو.. اسکے چہرے کا سکون برا ہی لگا..
ہمممم بال بھی کٹوا لیے.. مجھے تو تمھاری وہ لمبی چوٹیا ہی پسند تھی “اسنے ارمیش کے.. کٹے ہوئے بال دیکھے…
ارمیش کا دل کیا منہ نوچ لے اسکا
.
مگر خود میں ابھی اتنی ہمت نہیں پا رہی تھی…
کیا ہوا بولو گی نہیں…” حیدر زرا اسکے نزدیک ہوا… ارمیش کا دم نکلنے لگا.. خوف سے.. اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے جبکہ.. حیدر اسکے خوف سے.. سکون محسوس کر رہا تھا…
مگر اسے جھٹکا کہا کر.. پیچھے ہونا پڑا…
کیونکہ اسے بہرام کی اواز سنائ دے رہی تھی.. جو بی جان سے بات کر رہا تھا..
حیدر پل میں پیچھے چلا گیا. اور ایسے واضح کیا.. جیسے وہ.. کچھ اور کام کرنے ایا تھا….
بہرام کچن میں ا چکا تھا.. جبکہ حور نے اسے.. ہال میں سے کچن کی جانب اتے دیکھا.. تو نہ جانے کیوں وہ اسکیطرف کھینچی چلی ائ..
کچن میں ارمیش کو اور حیدر کو دیکھ کر.. اسے.. کچھ اچھا نہیں لگا.. تبھی. وہ ارمیش کی جانب بڑھا..
حیدر نے بھی یہ جان بوجھ کے کیا تھا.. کہ وہ.. ارمیش کو. غلط سمھجے اور بہرام کے تیور یہ ہی بتا رہے تھے.. اب وہ اس ہیپی کپل کا تماشہ دیکھنے والا تھا تبھی کافی کا کپ لے کر.. وہیں کھڑا ہو گیا..
بہرام نے ارمیش… کو دیکھا…
وہ ایسے ہی سر جھکائے. کھڑی تھی جبکہ کپ کے باہر.. کافی گیری ہوئ تھی..
اسے حیدر پر رج کر غصہ ایا…
سائیں کافی بنائ جا رہی ہے ہمارے لیے “اسنے.. ارمیش کو پیچھے سے.. پکڑا.. ارمیش سٹپٹا گئ.. حیدر کی مسکراہٹ نے جہاں دم توڑا وہیں حور کو ارمیش سے مزید جیلسی ہوئ..
اتنا اچھا بھرپور اتنی بڑی جائیداد کا مالک اسے مل گیا…
اسکے اندر کی حسد سکون نہیں لینے دے رہی تھی…
ارمیش.. نے انکھ اٹھا کر اسکیطرف دیکھا..
اور شاید یہ ہی اسکی غلطی تھی…
ائ ڈونٹ لائک ٹیرز… وعدہ توڑنے کی سزا بھگتو.. “اسنے مدھم اواز میں کہا…
اور… اسکا روخ. اچانک اپنی جانب موڑ کر..اسنے… حیدر کا لحاظ کیے بغیر..
ارمیش… کی سانسیں روک لیں…
ارمیش کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں جبکہ…
حیدر.. نے غصے سے دانت پیسے..
بہرام اپنے کام میں کافی مگن دیکھ رہا تھا..
حور تو شدید جیلس ہوتی وہاں سے نکل گئ..
کاش حیدر بھی ایساہوتا.. اسنے کڑھ کر سوچا..
جبکہ بہرام.. نے ارمیش کو ایسا جکڑا.. کہ چھوڑا ہی نہیں.. چند پل حیدر بھی وہاں سے نکل گیا…
جبکہ بہرام اس سے الگ ہوا..
ارمیش کا چہرہ سرخ تھا…
تمھیں روکا تھا نہ اس ادمی کے سامنے رونا مت “وہ سختی سے غرایا اواز مدھم ہی تھی.. وہ اسکے اتنا قریب تھا کے ارمیش کو لگا اسکی کمر میں شیلف.. گھس جائے گی..
وہ.. اپ.. یہاں پلیز” وہ بے ربط ہوئ جبکہ بہرام نے. وہ کپ ہاتھ سے.. پیچھے دھکیل کر.. پھر سے ارمیش کی سانسیں روک دیں.. رفتہ رفتہ وہ اسے شیلف پر چڑھا چکا تھا…
ارمیش.. کا دل… جیسے پھسلیاں توڑ کر نکلنے کے لیے بے تاب تھا..
مگر وہ اپنی ہی من مانی کر رہا تھا…
اور اب اس من مانی میں شدت ا رہی تھی….
………………………
ڈنر کے لیے.. وہ ریڈی ہو کر.. ابھی زنان خانے کیطرف جاتا ہی کہ حور اسکے سامنے ا گئ..
وہ سیاہ علاقائ شلوار سوٹ میں غضب لگ رہا تھا.. اوپر سے ماتھے کے تیور…
حور بری طرح اس سے اٹریکٹ ہوئ…
کیا تکلیف ہے “وہ اکتایا ہوا سا بولا..
ارمیش تو پہلے ہی جا چکی تھی.. جبکہ… وہ کافی لیٹ گیا تھا…
مردان خانے میں بھی کوئ نہیں تھا…
تکلیف تو کوئ نہیں بس سوچا.. اپ سے بھی بات کر لوں افٹر آل اپ بھی اسی گھر کے فرد ہیں اور جب سے.. میں ائ ہوں اپ سے بات کرنا نہیں ہوا” حور مسکرا کر بولی…
جبکہ بہرام بھی مسکرایا…
ویسے.. قاتلوں کی اصل جگہ.. جیل ہوتی ہے… میں سوچ رہا تھا.. پھر بھی.. اپ.. حویلی میں گھوم پھیر رہیں ہیں قسمت کیطرف سے میلے کچھ دن گھر کے فردوں پر ضایع کرنے کے بجائے…
اپنے نام نہاد شوہر کے ساتھ گزارنے چاہیے رائٹ”وہ بولا تو حور کا رنگ اڑا..
کیا مطلب.. ک.. کیسا قتل” وہ حیران ہوئ..
حیدر کا بچہ.. اسے تو جانتی ہو نہ.. بھولنا مت… کیونکہ میں تمھیں بھولنے نہیں دوں گا… “وہ.. اسکی آنکھوں میں دیکھتا غرایا.. اور پاس سے گزرنے لگا..
اپنی بیوی کے پہلے بچے کی بڑی فکر ہے تمھیں “حور نے ٹونٹ کیا..
نہیں.. اسکی فکر نہیں… بس.. تمھیں تمھارے اصل ٹھکانے پر دیکھنا چاہتا ہوں… “اسنے سمائیل پاس کی اور.. زنان خانے کیطرف چلا گیا…
جبکہ حور.. نے ناک پر سے مکھی اڑائ.. اسکے پاس ثبوت کیا تھا.. اور ایک.. ایسے بچے کا.. کیا کیس بنتا جو دنیا میں ایا ہی نہیں تھا..
وہ ہنسی..
مگر بھول گئ تھی اللہ کی عدالت میں اس معصوم جان کی بھی بہت اہمیت ہے..
…………………….
شام ڈھلے وہ اٹھی تو آئینے میں خود کو.. وہ کافی افسردہ لگی..
کیوں.. اسنے ماتھے پر بل ڈالے.. اج.. چینل کی پارٹی تھی..
اور ارہم سر نے.. اسے خود انویٹیشن دیا تھا.. وہ ادمی بھی.. دو چار دنوں سے بدلا بدلا لگ رہا تھا…
تبھی وہ سکون سے.. کافی تیار ہوئ…
اج اسنے… ساڑھی کا انتخاب کیا.. اور کافی پیارہ تیار ہوئ..
باہر نکلی تو ریہا نے اسکی جانب ھیرت سے دیکھا تو وہ ہنس دی…
اور اسکے نزدیک چلی ائ..
سوری ریہا… “اسنے بڑے پیار سے.. اسکو کہا.. تو ریہا.. اسکو پھر بھی دیکھتی رہی ابھی کوئ بات کرتی کے گاڑی کا ہارن بجا اور وہ وہاں سے چلی گئ…
ریہا نے فون اٹھایا.. اور کسی کو نمبر ڈائل کیا
…………………
مس عابیر اپکی خوبصورتی بے مثال ہے.. بہت خوبصورت لگ رہیں ہیں اپ…” ارہم نے کہا تو.. وہ.. ہلکا سا مسکرا دی..
ارہم کی عجیب نظروں سے اسے کوفت محسوس ہو رہی تھی..
جبکہ ارہم.. نے غور سے اسکیطرف دیکھا…
جو گاڑی سے باہر دیکھ رہی تھی..
اور وہ.. گاڑی کی سپیڈ بڑھا گیا…
افس کے سامنے گاڑی روکی.. تو وہ دونوں اندر ا گئے..
مگر یہ کیا یہاں پر تو کوئی بھی نہیں تھا…
افس کا کوئ بھی ورکر نہیں…
اسنے ارہم کیطرف دیکھا.. جو مین گلاس ڈور کو لاک کر رہا تھا..
کیا ہوا اپ پریشان کیوں ہو گئیں.. “
ارہم نے کہا.. اور اسکے نزدیک ایا..
عابیر کو شدید خطرے کا احساس ہونے لگا…
س.. سر.. باقی سب کہاں ہیں” اسنے ہمت کر کے پوچھا..
اپ میں اور ہم میں باقیوں کا کیا کام.. “ارہم.. نے مسکرا کر کہا…
اور اسکے ہالف.. بازوں پر.. ہاتھ پھیرا.. عابیر جھٹکا کہا کر دور ہوئ..
یہ کیا بدتمیزی ہے “وہ غصے سے چیخ بھی نہ سکی..
بدتمیزی کیسی.. کاشان کو بھی تو وقت دیتی ہو… میرے ساتھ کیا مسلہ ہے… اس سے زیادہ ہی پے کر سکتا “
تڑاخ” اسکا ہاتھ اٹھا اور ارہم کا منہ بند کر گیا.. عابیر کو لگا.. وہ ہوا میں ہے.. جیسے قدم زمین پر جمانا چاہ رہی ہے مگر جما نہیں پا رہی..
یہ سب اور وہ اسے اتنا غلیظ سمھجہ رہا تھا..
تو نے مجھے مارا”ارہم چلایا…
اور اس سے پہلے عابیر پر جھپٹتا.. عابیر پیچھے کیطرف بھاگی…
وہ اندھا دھن بھاگ رہی تھی.. خود کو بچا رہی تھی.. مگر.. وہ اسکے پیچھے تھا..
ارہم.. نے ہاتھ بڑھا کر… اسکی ساڑھی کا پلو… جکڑا.. اور کھینچا.. کہ عابیر تیورا کر گیری.. اور اسکی دل سوز چیخ نکلی..
اور ارہم کا قہقہ بلند ہوا.
اتناتیار ہو کر ائ ہو.. اور خراج بھی نہیں لو گی “ارہم.. اسکیطرف بڑھا مگر.. عابیر.. روتی ہوئ.. پیچھے کھسکنے لگی..
کون تھا جو اسکی مدد کرتا.. کوئ بھی تو نہیں.. اج اسے بچانے کے لیے کوئ بھی نہیں تھا..
چل زیادہ مت اکڑ بہت دیکھا تیرے جیسی لڑکیوں کو…” ارہم نے.. اسکے رونے سے اکتا کر.. کہا…
اور.. اسکی ساڑھی.. کا پلو پیچھے کو پھینکا…
عابیر اپنا اپ چھپانے لگی..
ارہم ہنسا.. عابیر نے.. ارد گرد دیکھا اور پاس پڑی ڈسبین.. اسپر ماری جو اسکے سر پر لگی.. اور.. یہ ہی موقع تھا وہ ایک بار پھر اندھا دھوند بھاگنے لگی..
وہ سیڑھیاں اوپر چڑھ رہی تھی جبکہ.. ارہم بھی اسکے پیچھے دوڑا…..
وہ شیشے کی وینڈو بجانے لگی..
ہیلپ.. ہیلپ.. “وہ چلائ…
جبکہ ارہم کا قہقہ.. تھا..
اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا…
یہ بیلڈینگ ساونڈ پروف تھی..
وہ تیزی سے اوپر ایا… عابیر…. کی ہچکیاں بندھ گئ.. وہ مزید دوڑی.. اس وقت وہ لڑکی بے حال تھی وہ نہیں جانتی تھی اسکی عزت بچ بھی سکے گی یہ نہیں….
ساڑھی کا پلو پیچھے پیچھے تھا جبکہ اگے دوڑ رہی تھی…
اور اچانک… وہ.. کسی سے ٹکرائ…
سیاہ لباس میں وہ اسکے اگے تنا کھڑا تھا…
اسے یقین ہی نہیں ایا.. کہ وہ یہاں ہے….
…………………….
ریہا کی کال دیکھ کر.. اسنے… حیرت سے کال پیک کی…
اور ٹیبل پر سے اٹھا…
بہرام بھائ.. اپی کافی تیار ہو کر گئیں ہیں مجھے کچھ ٹھیک نہی لگ رہا.. “اسنے پریشانی سے کہا…
کہاں گئ ہے” اسنے پوچھا…
انکے باس ائے تھے انھیں کے ساتھ… “اسنے کہا تو… بہرام.. نے فون بند کر دیا..
فیصلہ تو وہ کر چکا تھا..
تبھی اج. وہ پرسکون تھا.. جیسے.. وجود پر پڑا وزن فیصلے کی وجہ سے دور ہو گیا تھا..
ارمیش کے ساتھ ا کر وہ پھیر سے بیٹھ گیا..
اپ… اپ کھانا کھا لیں” ارمیش نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا.. تو وہ مدھم سا مسکرایا…
اپ کھلا دیں..” اسنے.. اسکو چھیڑہ.. تو وہ سٹپٹا گئ..
مگر بہرام کا دل کافی.. دھکڑ پکڑ کا شکار.. تھا…
اوو بھای کیا ہوا.. “معاویہ نے.. اسکے پرسوچ انداز پر… اسکو ٹھونگا مارا…
تو وہ نفی میں سر ہلا گیا.. مگر اسکا کھانا حرام ہو گیا تھا..
معاویہ زکی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے” اچانک ہی وہ بولا.. تو معاویہ اچھل پڑا کیا..
ہاں اور ڈاکٹر نے کافی نازک حلت بتائ ہے “بہرام اٹھتے ہوئے بولا معاویہ بھی اتھا…
سب انکی جانب دیکھنے لگے
.
داجی.. مجھے جانا ہو گا.. کل ملتا ہوں.. “دونوں بولے اور ایک لمہے میں حویلی سے نکلے…
یہ کب ہوا.. ا بھی دوپہر اس سے بات ہوئی ہے میری”معاویہ تو حیران ہی تھا.
مجھے لگ رہا ہے عابیر سائیں مشکل میں ہیں “وہ بے سبی سے بولا
. تو.. معایہ کا دل کیا.. اسے ان پہاڑوں سے نیچے پھینک دے..
سالے کمینے اسکے لیے نکال کر لایا ہے مجھے “معاویہ دھاڑا.. مگر.. اسنے نوٹس نہیں لیا…
اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی..
ادھے گھنتے میں وہ اس بیڈینگ کے سامنے تھے…
جہاں دور دور تک سناٹا تھا…
اگے کا دروازہ بند تھا..
پیچھے سے چل اندر” معاویہ نے کہا تو وہ پیچھے کیطرف دوڑا.. قسمت سے وہ دروازہ کھلا تھا.. اور اوپر کیطرف سیڑھیاں جاتی تھیں…
وہ دونوں ابھی اندر ائے ہی تھے کہ چیخوں کی آوازیں.. دونوں نے ایک دوسرے کیطرف فیکھا..
اور
. بہرام
. جیسے ہوا کی دوڑ سے.. اوپر پھنچا تھا…
اور اوپر کا منظر دیکھ کر… اسکے وجود میں شرارے دور گیے معاویہ بھی اسکے پیچھے تھا.. عابیر کی حالت دیکھ کر وہ بھی دنگ رہ گیا…
عابیر.. بہرام کے سینے سے لگی… بری طرح رو رہی تھی جبکہ…
ارہم.. بہرام اور معاویہ کو دیکھ رہا تھا…
بیرام تو جا یہاں سے میں دیکھ لوں گا”معاویہ کی سخت اواز ابھری..
بہرام نے عابیر کو پیچھے دھکا دیا…
اس وقت اس لڑکی کیطرف وہ دیکھنا نہیں چاہتا تھا..
اور وہ ارہم پر تل پڑا…
اسکو لاتوں اور مکووں پر رکھ لیا..
وہ اسے بری طرح پیٹ رہا تھا مگر ارہم بھی اسے مار رہا تھا…
معاویہ روکو انھیں..” عابیر کو جب سنگینی کا احساس ہوا تو.. وہ.. خود کو اپنے پلو سے ڈھانپتی بولی..
خوش ہو جاو تم… اب تو تمھاری مرکی کا ہی سب ہو رہا یے” اسنے کڑے تیوروں میں کہا…
تو عابیر.. پیچھے ہٹ گئ…
بہرام نے ارہم کی جبکہ اتہم نے بہرام کی بری حالت کر دی تھی..
معاویہ نے اسکو اس سے الگ کیا…
جا تو یہاں سے… ” اسنے بہرام کو پیچھے دھاکادیا.. جبکہ بہرام دھاڑا تھا..
اسکی دھاڑ میں کافی تکلیف تھی جیسے وہ اج مکمل ٹوٹ گیا ہو..
سارا مان ساری محبت.. ہوا ہو گئ ہو…
معاویہ نے بمشکل عابیر کی حالت کا احساس دلاتے ہوئے وہاں سے ان دونوں کو نکالا..
وہ بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا…
جبکہ عابیر کیا کرتی..
روتی… یا اپنے تماشے پر ہنستی.. اگر اس شخص نے اسکا ایک بار تماشہ بنوایا تھا تو وہ اپنے غصے… اور جزباتی پن کی وجہ سے بار بار اپنا تماشہ بنوا چکی تھی…
وہ ایسے ہی بیٹھی رہی یہاں تک کہ اسکا گھر ا گیا..
اسنے اسکے ہاتھ کی گرفت اپنی کلائ پر بڑی سخت دیکھی تھی.. جیسے وہ اسکی کلائ توڑ دے گا… ا
بہرام نے اسے باہر گھسیٹا.. اور گھر کے اندر لے ایا…
ریہا اور مما نے اسکی حالت دیکھ کر منہ پر ہاتھ رکھ لیا.. جبکہ بہرام نے اسے صحن میں دھکا دیا…
…………………
ہاں تو عابیر میڈیم کتنی خوشی ملی اپ کو یہ سب کر کے”وی غصے سے بولا.. مگر عابیر.. جو ہمیشہ اسکے سامنے تن کر کھڑی رہتی تھی اسکے الفاظ دم توڑ گئے…
بکواس کرو نکالوں اپنی نفرت اب تم….
اب کیوں کھڑی ہو چپ چاپ….
ایک مرد کے ہاس تم میرے نکاح میں ہوتے ہوئے اتنا بن ٹھن کر گئ.. لعنت ہے تم پر” وہ دھاڑا… جبکہ عابیر… کو شدت سے رونا ایا..
ہاں اسکی غلطی تھی اسکی جلد بازی.. اسکی ضد….
اسکی انا.. اسکا غرور.. وہ سب پاش پاش ہو چکا تھا.. اب وہ اس وقت صرف ایک ڈری سہمی مرمولی سی لڑکی لگ رہی تھی جس کا شوہر اسے مار دینا چاہتا تھا…
اسکے کانوں میں ریہا اور مما کی سسکنے کی آوازیں ا رہیں تھیں…
اس لڑکی ضد اج اسکو کہیں کا نہ چھوڑتی.. “مما کیطرف دیکھ کر اسنے اسے… غصے سے جھٹکا….
یہ صرف مجھے سزا دینا چاہتی ہے.. میں نے اسکے ساتھ جو کیا.. بس یہ اس پر.. مجھے مار دینا چاہتی ہے..
میں نے ہر طرح سے.. اسکو خوش رکھنے کی کوشش کی.. اسکو ازاد چھوڑ دیا….
مگر عابیر اکبر نے یہ واضح کر دیا.. کہ ہاں اسکا غرور اسکی ضد سب سے بڑی ہے اور وہ یہ جنگ جیت گئ یے “وہ اسکے چہرے کے قریب پھنکارہ.. عابیر نے.. بہرام کیطرف نگاہ اٹھائ…
جیت گئ ہو تم….. ہاں تم جیت گئ.. اور میری محبت ہار گئ.. جشن مناو اب” وہ چھنگاڑہ…
تو عابیر… کو لگا.. اسکادم نکل جائے گا…. وہ رونا چاہتی تھی مگر.. انکھ میں انسو نہیں. رہا تھا…
میں نے تمھیں طلاق دی.. عابیر اکبر….”
نہیں….. “مما نے ایکدم چیختے ہوئے.. اسکے اگے ہاتھ جوڑے..
سب ختم کر دیا تمھاری ضد نے.. یہ شاید مجھے مکافات عمل ملا…
میں نے کیا غلط.. ہاں میں نے… شروع میں نے کیا.. اور انت تم نے تم جیت گئ… “وہ اسکی انکھ میں دیکھتا.. اج بہرام خان نہیں لگ رہا تھا…
وہ شخص تو بڑا عشق مزاج انسان تھا…
عابیر کو لگا.. وہ ڈھے گئ…
میں تمھیں کبھی طلاق نہیں دوں گا” اسکی اواز کی بازگشت کانوں میں گونجنے لگی… اور وہ بیٹھتی چلی گئ….
بیٹا نہیں.. نہیں ایسا مت کرو.. میری بچی پر یہ داغ مت لگاو… کون کرے گا شادی اس سے… بیٹا.. کل ریہا کی شادی.. خدا کے لیے اسے تو تم اپنی چھوٹی بہن کہتے ہو
. خاندان والے ایک بار پھر تھو تھو کریں گے خدا کے لیے ایسا مت کرو”وہ اسکے اگے گڑگڑانے لگیں جبکہ.. بہرام. سرخ آنکھوں سے عابیر کو دیکھ رہا..
دل میں کوئ جزبہ نہیں تھا…
اور اچانک.. ایک نرم سا احساس اتے ہی.. وہ.. اسے. یوں ہی چھوڑے اس گھر سے نکل گیا….
شاید ہمیشہ کے لیے…
شاید اسکو ادھورا چھوڑ کر..
یہ پشتاوں میں چھوڑ کر..
یہ شاید وہ واپس اتا….
کوئ نہیں جانتا تھا…
مما عابیر کیطرف پلٹیں.. جو.. زمین پر بیٹھی تھی…
شکر ادا کرو خدا کا… “انھوں نے اسے جھنجھوڑ دیا…
تو وہ مسکرائ ..
وہ بھیک میں اپنی زوجیت ادھوری دے گیا….
اس بات پر” وہ ہنسی…
ہپاگل ہو گئ ہو تم.. تمھیں کچھ سمھجہ نہیں اتی.. عابیر کچھ بھی “مما رونے لگیں.. تو اسکا ضبط بھی جواب دے گیا…
اور وہ ماں کی گود میں سر رکھ کر.. ایسے روئ کہ.. پورا گھر سر پر اٹھا لیا…
اج کا حادثہ.. اسکی اجن بھی ہلا گیا تھا..
پھر کہاں رہنی تھی کاڑ…
……………………..
بہرام کمرے میں داخل ہوا تو… معمولی سی اے سی کولینگ.. اسے کافی اچھی لگی…
جبکہ.. بستر پر سکڑا سیمٹا وجود دیکھ کر…
اسے لگا جیسے وہ ساری پریشانیاں بھلا چکا ہے…
وہ اسکی جانب ایا…
تو وہ اسکے.. دلائے گیے.. ڈریس میں تھی.. پینک شرٹ.. اور نیچے پجامے میں وہ.. دونوں ہاتھ.. چہرے کے نیچے رکھے..
بہت پیاری لگ رہی تھی..
بہرام کو لگا.. سکون سارا صرف یہیں ہے..
اپ محبت میں سکون تلاش کرتے ہو جبکہ محبت میں سکون.. خوش نصیبوں کو میسر اتا.. ہے..
بعض… فیصلے جو.. ہمیں وقت پر غلط لگیں بعد میں وہی.. ہماری عادت ہمارا سکون بن جاتے ہیں.. کہ دنیا میں کہیں بھی پھیر کر آئیں ٹھکانہ وہی ہوتا ہے…
اور یہ بہرام خان کے ساتھ ہوا تھا.. اسے سمھجہ ا گئ تھی..
محبت کو چھینا جھپٹا نہیں جا سکتا.. اگر اپ.. ایسا کریں تو لازمی… اپ اس چھینا جھپٹی میں خود ہی زخمی ہوتے ہیں…
اسنے.. ارمیش کے.. گالوں کو… دونوں طرف سے اپنے ہاتھوں میں بھر لیا.. اسکا شفاف چہرہ اسکے سامنے تھا..
بہرام ہلکا سا جھکا.. اور اسکے ماتھے پر. لب رکھ دیے…
اسکو اندر تک ٹھنڈک اترتی محسوس ہوئ..
جبکہ.. وہ اتناحواس سے بیگانہ ہوا.. کہ رفتا رفتا… اسکے گالوں پر… اسکی ناک پر اور.. پھر اسکی گردن پر اسکے ہونٹوں کی حرکت بھڑتی چلی گئ…
ارمیش کے سانس نیندوں میں ہی بھاری ہو گئے…
جبکہ بہرام بڑی نرمی سے… اسکو محسوس کر رہا تھا…
اچانک ہی اسکی انکھ کھلی.. تو بہرام.. کو بلکل اپنے اوپر پایا..
وہ ایکدم جھٹکا کہا کر اٹھی تو.. بہرام.. اس سے دور ہوا…
اپ.. “وہ حیرت میں تھیں.. اسے یہ ہی لگا وہ نہیں ائے گا..
مگر وہ تو اسکے سامنے تھا.. اور.. کیا کر رہا تھا.. اسے شرم ائ..
ہاں میں.. کیوں کوئی مسلہ” بہرام نے تیور بگاڑے…
تو.. ارمیش آنکھیں پھیلائے دیکھنے لگی.. اور پھر زور زور سے.. نفی میں گردن ہلانے لگی…
گڈ… “اسنے سنجیدگی سے کہا.. اور.. دوبارہ اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر خود سے قریب کیا…
جبکہ ابھی وہ اسکے ہونٹوں کو نشانہ بناتا ہی کہ… ارمیش نے گھما کر اسکے ہاتھ کے نیچے سے اپنی گردن نکالی.. اسکا دل نہنہی چڑیا کی طرح اچھل کود کر رہا تھا…
بہرام نے.. غصے سے اسکے دونوں ہاتھ پکڑے….
ب.. بہرام “ارمیش… کو کچھ سمھجہ نہیں آ. رہی تھی…
سرکار… حکم کرو” وہ طنزیہ بولا… ارمیش نے.. پھر نفی کی.. جبکہ وہ… اسکے دوپٹے سے اسکے.. ہاتھ باندھ کر.. پیچھے کر چکا تھا…
کھلی پنک شرٹ کے گلے سے جھجھکتی اور.. سمٹ رہی.. تھی.. جبکہ بہرام کو تو اج.. جیسے من مانی کا سرٹیفیکیٹ مل گیا تھا.. وہ اسپر جھکا… جبکہ اسکی گردن.. پر… ایک جنون کی دستان رقم کرنے.. لگا.. ارمیش بے بسی سے… اسکی بے تابیاں سہنے لگی…
جبکہ.. دل کی دھڑکن اج اسے اپنے کانوں میں محسوس ہوئ..
اسے سمھجہ ا رہا تھا.. بہرام خان اج رکنے والا نہیں…
مگر اسے.. اچانک ہی عابیر کا خیال ایا..
وہ اسکی بیوی تھی پہلی.. پہلا حق اسکا تھا..
س… سنیں “اسنے… بمشکل بولنا چاہا.. تو وہ پہلے تو.. اسکی ساسیں روک گیا… اور جب اپنی مرضی سے دور ہوا تو.. اسکے بالوں کو انگلی کی مدد سے پیچھے کرتا.. سکون سے بولا..
جی بولیں” ارمیش.. کا دل کیا.. چھپ جائے اسکی نظروں سے مگر یہ کہاں ممکن تھا…
وہ…. ع.. عابیر سے… “اسے سمھجہ نہیں ائ… وہ کیا بات کرے.. اوپر سے.. اس شخص کی نظریں.. توبہ…
وہ جیسے پگھل گی تھی..
اسسے قبل اسکی بات پوری ہوتی…
کوائٹ”بہرام نے اپنی انگلی.. اسکے ہونٹوں پر رکھ دی…
اس وقت… صرف.. مسٹر اینڈ مسَ بہرام خان… “وہ بولا….
اور.. اسپر ایک بار پھر سے حاوی ہوتا.. وہ اپنی حدیں پار کرنے لگا… مگر اسکے اندز میں اتنی نرمی تھی…
کہ ارمیش.. سب تلخیاں.. تلخ یادیں بھول چکی تھی…
اسکے دل نے بہرام کے لیے دھرکنا شروع کر دیا تھا….
بہرام نے.. ہاتھ مار کر.. لیمپ اف کیا… تو… ارمیش نے.. آنکھیں بند کر لیں…
……………………………
جاری ہے