Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
اپکی یہ عادت سب سے بری ہے” احمر کی پیچھے سے اتی اواز پر.. وہ… جھٹکے سے پلٹی اور املی کو ہاتھ میں دبا لیا..
تم سے پوچھا ہے” غصے سے بولی…
نہیں.. بتایا ضرور ہے میں نے بیمار ہونے کا زیادہ دل کرتا ہے اپکا”وہ کافی بناتے ہوئے.. بولا..
دیکھو زیادہ فری نہ ہونا تم… بھولی نہیں ہوں میں وہ رات”نین تو غصے سے اگ بگولہ ہونے لگی…
احمر نے اسکی جانب دیکھا اور مدھم سا مسکرا دیا..
یقین مانیے وہ بھولنے ولای رات تھی بھی نہیں “وہ اسکے چہرے کے سحر میں محو ہوتا بولا…
نین نے غصے سے اسکو دیکھا..
تم تم نہ ادھر ہی رکو… بتاتی ہوں میں سارے گھر والوں کو.. خاص طور پر داجی کو… کہ تم مجھ سے گندی گندی باتیں کرتے ہو” وہ.. تو اسپر چڑھ دوڑی جبکہ احمر کے اہتھ سے.. چمچ چھوٹ گیا.. اسکے چہرے پر شدید حیرت کا تاثر تھا..
خدا کا خوف کریں نین کب کی ہے میں نے اپ سے..” وہ تو.. اس لڑکی کے اتنا بے باک ہونے پر ہی حیران تھا..
ہمم جھوٹ بول کر کم از کم میں اس رات کا بدلہ تو لو جبکہ تم گھٹیا پن کی لاسٹ سٹیج پر تھے”
احمر.. گھٹیا پن کی لاسٹ س[یج اور اس دن ہوئ زرا سی قربت کا ملاپ سمھجہ نہ سکا..
اپ جانتی بھی ہیں گھٹیا پن کی لاسٹ سٹیج کیا ہے” اسنے سوال کیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھا جو اب اسکے سامنے نقاب نہیں کرتی تھی.. اور احمر اسکے چہرے کے حسن میں یوں ہی کہو جاتا…
تم پھر سے.. کر رہے ہو…” نین نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا…
کوئ حال نہیں اپکا.. “احمر نے ہنس کر سر ہلایا..
ہاں تم تو دادا اماں ہو نہ.. کوئ… بہت معصوم سی”وہ… دوبودو ہوئ احمر نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی…
تم نے عابیر کو دیکھا..
اسکی خاموشی نین کو بری لگی تبھی خود سے سوال داغا..
جی دیکھ لیا ہے.. انھوں نے.. چھپنے کی کوشش بھی کب کی تھی” احمر نے شامے اچکائ..
پیاری ہے کہ بلکل میرے جیسی”وہ ایکسائٹیڈ لگی…
ام م م مجھے اپ سے بھی دو ہاتھ اگے لگی ہے
. دیکھ لینا.. جلد اپکے بھائ کو نظارہ دیکھا دے گی.. دن میں چاند تارے”احمر مدھم سا ہنسا…
اول تو.. مجھ سے دو ہاتھ اگے کہہ کر جیلس فیل نہ کراو.. اور دوسرا اچھے سے جانتے ہو تم.. بہرام.. سائیں.. بہت بڑے کمینے انسان ہیں… برحال… عشق میں پھر… بھی رعایت رکھ لیں
گے” اسنے سکون سے کہا
نین اپ نے گالی دی ہے”احمر.. نے اسکی توجہ… دوسری طرف کرائ…
نین گھیرہ سانس لیتی اسکو دیکھنے کیا گھورنے لگی…
تمھیں نا کوئ… دس بارہ بچوں کی ماہ ہونا چاہیے تھا.. ایسی شاندار تربیت کرتی کہ کیا ہی بات تھی.. حکومت کیطرف سے نوبل اوارڈ ملتا تمھیں..” وہ چیڑ کر بولی…
احمر کا پہلی بار شاید زندگی میں قہقہ نکلا تھا..
ہی ہی بہت ہنسنے کی بات تھی” اسکو ہنستا دیکھ وہ بولی اور.. پھر سے املی کھانے لگی..
اپنے شوہر کی اپ کتنی عزت کرتیں ہیں ماشاءاللہ سے “احمر.. نے املی.. کو دیکھتے. کہا.. وہ اسکو گھورتا.. دیکھ محسوس کر کے… املی چھپا گئ..
جزاک اللہ “اسنے شانے بے نیازی سے کہا تو.. وہ کافی کا مگ اٹھانے لگا…
جبکہ لبوں پر مسکراہٹ تھی..
سنو ایک بات سوچ رہی ہوں میں… نین نے… اسکا بازو تھامہ.. احمر.. اس بازو پر اسکی نرم گرفت… دیکھ.. دل میں کافی خوش ہوا تھا.. کیا وہ جو غصہ تھا.. وہ وقتی تھا….
اسنےا یک پل کو سوچا…
بہرام لالا.. کے پاس گئ ہے اج عابیر کیا خیال ہے.. دیکھیں…. “
نعوذبااللہ..” احمر نے اسکی بات پوری ہونے سے.. پہلے ہی کان تھام لیے.. کتنا خرافاتی دماغ تھا اس لڑکی کا.. عابیر.. ارے ارے کر کے رہ گئ…
اسنے اسکی بات پوری نہیں سنی تھی.. وہ اسکی بات کا کیا مطلب لے رہا تھا.. احمر نے اسکے ہاتھ سے املی کھنچی اور اسے گھورتا ہوا وہاں سے نکل گیا..
………………….
وہ جانتا تھا وہ.. لون میں ہوگی…
اج ڈیرے پر کچھ زیادہ ہی پی لی تھی…
وہ جھومتا جھامتا مردان خانے سے زنان خانے میں ایا…
اور پیچھلے لون کیطرف ا گیا وہ وہیں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی..
احمر اسکی طرف بڑھنے لگا انوشے نے بھی اسکو دیکھ لیا..
وہ ایکدم اٹھی اسکے قدموں کی لڑکھڑاہٹ بتا رہی تھی کہ.. وہ ڈرنک ہے.. انوشے ڈر کر اس سے پہلے بھاگتی.. معاویہ نے.. اسکا ہاتھ تھام لیا.. کلائ کو اس زور سے جکڑا کہ انوشے… تکلیف سے کراہی اور کھینچ. کر اسے.. ساامنے دیوار کے ساتھ لگا کر اسنے اسکے راستہ روک دیا…
انوشے اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر.. ڈر گئ…
اور سر جھکا لیا..
معاویہ کے کلون کے ساتھ شراب کی بدبو مل گئ تھی..
انوشے… کا سر چکرانے لگا…
تو… تمھیں محبت نہیں “معاویہ نے اسکا چہرہ اٹھا کر.. کہا…
انوشے نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی..
کیسا انسان تھا وہ…
انوشے بی بی محبت محبت… ہوتی ہے آنکھوں میں دکھ جاتی ہے مگر ہمارے درمیان چونکہ ایس اکچھ نہیں تو…
ٹھیک ہے… بہت اچھا… مگر تمھیں تو یسا ہی معاویہ ملے گا” وہ.. طنزیہ ہنسا..
تم بچ لو… بچ نہیں سکتی.. تم چھپ جاو چھپ نہیں سکتی.. کیونکہ.. تمھیں معاویہ… کا ہی ہونا ہے…
اس دن وہ درس….
مجھے سونے نہیں دے رہا…. “
وہ اسکے چہرے پر نرم انگلیاں چلاتا… بول رہا تھا اہستہ اہستہ..
انوشے کا دل کانپا…
ہٹیں.. “وہ بہت کم اواز میں بولی.. معاویہ مسکرا دیا..
تم نے کہا نازیبا حرکتیں.. تم جانتی ہو….
مجھے پسند ہیں لڑکیاں… “وہ جان بوجھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتی تکلیف… کو.. مزے سے دیکھتا بولا..
تو پھر اپ میرے پاس کیوں ائے ہیں “انوشے ہمت کر کے بولی
تم میری لڑکی ہو.. سوچو تمھارے ساتھ کیا کیا ہو گا “وہ.. اسکی گردن کو دیکھتا اس سے پہلے اسپر جھکتا.. انوشے نے تڑپ کر اسے دور کیا.. وہ منہ پر ہاتھ رکھے حیرت کے ساتھ مسلسل روئے جا رہی تھی…
حویلی کے مرد اچھے نہیں تھے مگر اتنے برے تھے.. اسکے وہم و گماں.. میں نہیں تھا…
اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا.. معاویہ کو کچھ غلط کا احساس ہوا…
انوشے روکو.. “معاویہ کا نشہ جیسے اڑا تھا…
اسنے اسے روکنا چاہا…
انوشے.. تو اس بری طرح سہمی تھی کہ.. وہ چیخنے لگی
..مورے ے ے ے”
معاویہ نے ارد گرد دیکھا.. وہ بری طرح رو رہی تھی…
معاویہ نے دکھ سے اسکو دیکھا.. وہ کیا اسے مطلب سمھجتا.. حالانکہ وہ اسپر برتری.. ثابت کرنے ایا تھا…
اور جب ہو گئ تھی وہ ڈر گئ تھی تو اسے برا کیوں لگ رہا تھا..
انوشے.. وہاں سے جا چکی تھی جبکہ وہ… ایسے ہی کھڑا تھا اج پھر ایک اور بار..
……………………
حیدر ایک جھٹکے سے اٹھا…
وقت اتنا گزر چکا تھا.. اسنے ایک نظر ارمیش کو دیکھا.. جو.. سو رہی تھی.. اسوقت اسکے چہرے پر.. بلا کی معصومیت تھی.. حءدر ایک پل کو مسکرایا.. اور پھر حور کا خیال اتے ہی وہ.. الٹے قدموں بھاگا تھا..
باہر سے برتن پٹخنے کی اواز ا رہی تھی حیدر نے زبان دانتوں تلے دبا لی.. غلط ہو گیا تھا…
وہ کچن کی جانب بڑھنے لگا…
حور وہیں تھی.. اسنے ہلکا سا کھنکھارا..
حور نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا..
واہ مہراجہ اٹھ گئے ہیں کیا خیال ہے.. اپکی اور اپکی.. بیوی.. کی خدمت میں کچھ پیش کروں “وہ چیخی جبکہ ہاتھ میں تھامی پلٹ دیوار پر دے ماری..
حور میری جان.. ایم سوری” حیدر نے جیسے ا0نی غلطی مانی..
اگر تم نے عیاشی کرنی تھی تو کرو.. میں تمھارے اور تمھاری بیوی کے بیچ نہیں ای ہوں حیدر خان
وہ .. پھر چلای.. لحیدر کو شدید شرمندگی ہوئ…
اج تو تمھاری بیوی جشن منایے گی.. مجھے بھی مارنے کی کوشش کی اور میری ہی محبت کء قربت میں رہی” وہ رونے لگی..
حور بات سنو میری.. کیا بولے جا رہی ہو.. ارمیش نے تمھیں مارنے کی کوشش کی. “وہ سمھجا نہیں وہ ایساکیسے بول رہی ہے…
ارمیش اور کسی کو مارے
ہاں دھکا دیا ہے صرف کھانے کا پوچھا تھا اتنی زور سے دھکا دی ا.. سیڑھیوں سے گیرتی.. مر جاتی تم بھی خوش ہو جاتے تمھاری بیوی بھی” وہ بری طرھ رونے لگی ھیدر کے ماتھے پر بل ڈل گئے اسنے
احور کا ہاتھ تھامہ اور.. سیدھا اپنے کمرے کی جانب چل دیا..
ارمیش اب بھی سو رہی تھی ارمیش کا ھولیہ دیکھ کر حور نے.. دانت پیسے..
حءدر نے بنا لحاظ کے ارمیش کو.. بیڈ سے ہاتھ پکڑ کر کھینچ ڈالا.. پپلے تو اسے کچھ سمھجہ نہ ائ.. اور جب ائ تو اپنے سامنے.. دونوں کو دیلھ کر وہ.. حیران ہوئ…
تم نے حور کو دھکا دیا “حیدر غصے… بولا…
ارمیش.. کو کچھ سمھجہ نہ ائ کہ حیدر نے اسکا ہاتھ بری طرح پکر کر جھنجھوڑ دیا….
اسقدر بدتمیزی” وہ غصے اور حیرانگی میں تھا..
سائیں میں نے کچھ”
شیٹ اپ.. اسقدر زبان دراز ہو گئ وہ” وہ دھاڑا جبکہ ارمیش کے منہ پر اپنے تھپڑ.. کی انگلیوں کے نشان دیکھنے لگا…
ارمیش.. کی آنکھیں سرخ ہو گئیں..
میں نے کچھ نہیں کیا” اسنے ہونٹ نکالے.. حیدر نے.. حور کی جانب دیکھا… جو مسکرا رہی تھی.. پھر ایکدم سنجیدگی سے حیدر کو دیکھنے لگی..
اسکی آنکھوں میں عجیب سی بات تھی جیسے وہ اپنی بیوی پر یقین لے ایا تھا کہ وہ سچی ہے..
حور گھبرائ..
حیدر جھوٹ بول رہی ہے.. اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی تھی “حور بولی.. تو.. حیدر نے… دانت بھینچے..
معافی مانگو.. ارمیش” وہ بولا.. ارمیش نے اسکی جانب دیکھا .. انسو اسکے گالوں پر لڑھک ائے…
معافی چاہتی ہوں”وہ بولی.. وہ سسکنے لگی جبکہ حیدر حور کو لے کر باہر نکل ایا..
کیوں جھوٹ بولا تم نے ہم سے” وہ اب حور سے.. پوچھ رہا تھا انداز سخت ہی تھا..
حیدر وہ”
بس حور.. مجھے یہ حرکتیں نلکل نہیں پسند تمھیں وہ نہیں پسند تم مججے کہو میں اسے واپس بھیج دوں گا مگر جھوٹ.. بول کر یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں “وہ دو ٹوک لہجے میں بولا…
بیوی کی حمایت لے رہے ہو” حور نے.. نم آنکھوں سےا سکو دیکھا..
نہیں وہ بیوی ہے صرف بیوی اور تم محبت ہو… تمھیں سمھجہ ا رہی ہے نہ “وہ اسکے گال پیار سے تھپتھپانے لگا.. اسنے سر ہلایا..
میں کھانا لگاتی ہوں” اسنے کہا..
نہیں.. تیار ہو جاو شاپینگ پر چلیں گے” اسنے یاد دلیا تو وہ سر ہلا گئ…
جبکہ حیدر اسے وہیں چھوڑ اپنے کمرے میں دوبارہ ایا..
ارمیش کی سسکیوں سے کمرہ گونج رہا تھا…
وہ کچھ دیر برداشت کرتا رہا پھر غصے سے بولا..
کب تک رو گی خانم “
مجھے حویلی جانا ہے.. “وہ جلدی سے بولی..
دو دن بعد” حءدر نے کہا..
کیوں” وہ پگر رونے لگی
حویلی جانا ہے “ہونٹ نکال کر.. وہ سسکی.. حیدر.. نے.. اسکو دیکھا…
اج اسے اتنا محسوس کیوں ہو رہا تھا اسپر ہاتھ اٹھانا حالانکہ یہ تو عام بات تھی..
شاید وہ بے قصور تھی اس لیے..
مگر وہ تو.. پہلے بھی بے قصور تھی.. اسنے زمیر کی اواز کو جھٹکا.. اور.. اسکیطرف دیکھا..
کہا نہ.. دو دن بعد”وہ پھر بولا…
نہیں” ارمیش نے ضد کی
جبکہ حیدر کا میٹر گھوما..
ایسی کی تسیسی تمھاری اور تمھاری حویلی کی”اسنے ایک جھٹکے سے اسے نزدیک کیا.. اور اسکی سانسو کو بھی قید کر گیا…
ارمیش.. اسکو روک نہیں سکتی تھی بھلہ وہ موم کہ گڑیا اس ادمی کے سامنے کیا تھی..
اسکی جسارتیں بڑھ رہیں تھیں…
ارمیش نےا سکو دور کیا….
حیدر.. نے ایک قدم پیچھے لیا…
اور اسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا
اپکے پاس مجھے ہرانے کا نس یہ ہی طریقہ ہے”وہ روتے میں چلائ..
اسکا چلانا حیدر کو مزاہ دینے لگا.. وہ ہنسا..
دونوں.. ہاتھوں سے پھیر سے چہرہ اسکا تھام لیا
جب ہم حور سے شادی کر لیں گے تو تمھیں بھی ازاد کر دیں گے تم بھی اچھے سے لرکے سے شادی کر لینا” اسنے.. آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.. جیسےطوہ اسکے اگلے عمل کو منتظر ہو اس بات کے بعد..
اور ارمیش نے اسکی عین توقع کے مطابق ہی کیا..
اسکو دور جھٹکا…
اتنے ظلم کے بعد.. خانم اتنی محبت” وہ.. اسکی گردن.. میں چہرہ گھونستا بولا…
ارمیش نے اسکی جانب دیکھا.. آنکھوں کی نمی گالوں پر تھی..
اپکو. پشتاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی” وہ بولی تو حیدر نے چونک کر دیکھا..
اور پھر قہقہ لگانے لگا…
وہ پہلی بار اسکے سامنے ہنسا…
ارمیش یو ہی دیکھتی رہی..
وہ ہنستے ہوئے اسکے گال تھپتھپا کر. پیشانی چوم گیا..
اور یوں ہی.. واشروم کی جانب چلا گیا…
ارمیش.. انسو صاف کرنے لگی.. اسکا لمس اسے پسند تھا… مگر وہ تکلیف بھی اتنا ہی دیتا تھا…
وہ بید پر بیٹھ کر حور کا جھوٹ سوچ کر پھر سے.. رونے لگی..
حیدر فریش سے باہر ایا…
اسکو دیکھا…
اب اسکے رونے کی اسے پروا نہیں تھی…
وہ.. اچھا سا تیار ہوتا…
وہاں سے.. نکلنے لگا… کہ دروازے میں مڑا…
ارمیش کی جانب دیکھا.. وہ بھی اسے ہی دیکھ رہہ تھی…
حءدر نے اسے سمائیل کے ساتھ ایک ونک پاس کی..
اور.. وہاں سے نکل گیا.. ارمیش.. نے کچھ دیر بعد گاڑی کی اواز سنی..
وہ اپنی بے بسی اور اس لڑکی کی فتح پر.. سسک کر رہ گئ.. کر بھی کیا سکتی تھی …
……………………
عابیر کو منیب اسکے کمرے کے سامنے چھوڑ گیا..
اسنے دروازہ بجانے کی زحمت نہ کی اور کمرے میں ا گئ تو ایک پل کو ساکت رہ گ>..
کمرہ مکمل روشنیوں سے بھرا تھا..
نیم اندھیرے میں کینڈلز.. جگہ جگہ بکھری ہوئ تھیں.. جبکہ کمرے میں اے سی کی.. خنکی بڑی بھلی لگ رہی تھی گو کہ حویلی میں. اور کالام میں اسے.. گرمی لگی ہی نہیں. تھی پھر بھی یہ خنکی اچھی لگی..
سفید.. بیڈ کی چادر پھولوں سے لدی ہوی بہت ہی حسین لگ رہی تھی نیڈ سے نیچے بھی پھول بکھرے ہوئے تھے..
عابیر مسکرا دی اس شخص کے ارمانوں پر..
اسنے پلٹ کر دیکھا…
وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا.. تھا.. ٹروازر شرٹ میں بے پناہ حسین لگ رہا تھا مگر عابیر کو اسکی صورت سے زیادہ کسی کی صورت بدصورت نہیں لگتی تھی…
بہرام اسکو اپنے علاقائ لباس میں دیکھ کر دل سے مسکرایا تھا…
دروازہ بند کرتا وہ اسکی جانب بڑھنے لگا.. عابیر کا دل.. کانپ رہا تھا.. مگر.. اسنے کچھ واضح نہیں کیا..
وہ اسکے نزدیک ایا…
اور.. اسکے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسے اپنے سینے سے چیپکا لیا..
مکھن اس رات کا انتظار… بہت شدید تھا… “وہ.. اسکے چہرے پر نرمی سے انگلیاں چلانے لگا..
عابیر سانس روکے بغیر شرمائے.. اسکی آنکھوں کو دیکھنے لگی
بہرام.. نے.. چاہت سے.. اسکی پلکوں کو لبوں میں دبا لیا…
سرکار.. شرماتی بھی نہیں ہو” وہ مدھم سا ہنسا…
بہرام… کی بات کا اسنے جواب نہ دیا.. اور پلکیں جھکا لیں.. جبکہ بہرام دل کھول کر ہنسا عابیر نے پھر اسکی جانب دیکھا…
اتنی تابعداری” وہ خود ھیران تھا…
عابیر سے اسے تابعداری کی امید نہیں تھی..
عابیر اب بھی یوں ہی کھڑی تھی جبکہ وہ.. بہکنے لگا تھا…
میری ملائ… اتنی خوبصورت کیوں ہے” وہ.. اسکے چہرے.. کے نقوش کو… بے قراری سے چھو رہا تھا…
جبکہ عابیر سن کھڑی تھی بہرام… اسکے لبوں کے کنارے پر موجود تل کو.. غور سے دیکھتا.. اچانک اسپر جھک گیا…
اسکے لمس میں تڑپ تھی…
بہرام نے.. اسکے ہاتھ اپنی گردن میں ڈالے اور کمر کو جھٹکا دے کر.. اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا.. وہ اسپر بڑی شدت سے حاوی ہوا تھا…
عابیر کا دم گھٹنے لگا.. مگر وہ اپنی مرضی سے ہٹا…
بہرام نے.. سانس بھال کرتے اب اسکی گردن پر وار کیا…
وہ.. اپنی حدود پر کر رہا تھا.. عابیر نے اسکو.. نہیں روکا..
جبکہ اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں.. انسو لڑھک کر.. بہرام خان.. کے مدہوش چہرے پر گیرہ.. تو وہ ایکدم الرٹ ہوا…
اسنے عابیر کو دیکھا.. جو لبوں کو دانتوں میں لیے ضبط سے کھڑی تھی بہرام..
مسکرا دیا.. اور.. اسکا ہاتھ تھاما تو. اسنے اسکی جانب دیکھا…
وہ اسے بیڈ پر لے ایا…
عابیر بھی اسکے ساتھ چل رہی تھی مگر چہرے پر سنجیدگی تھی..
بہرام.. اسکے ساتھ بیٹھا.. اور ابھی اس سے پہلے وہ کچھ اور کرتا.. عابیر نے…
اسکا ہاتھ جھٹکا… وہ حیرانگی سے چونک کر دیکھ رہا تھا…
تم کتنے بدصورت ہو کبھی کسی نے بتایا”عابیر اسکی حیران آنکھوں میں سفاکیت سے دیکھتی بولی..
ہاں بہرام خان کے رنگ اڑے تھے…
اسکا چہرہ اس انداز مج پھیکا پڑا.. کہ عابیر… مسکرا اٹھی..
بہت بدصورت ہو تم….
بدصورتی کے ساتھ کون جی سکتا ہے” وہ.. اسکے چہرے کے قریب ہوئ..
بہرام… کی سانسیں تیز ہو رہیں تھیں.. وہ سن رہی تھی..
وہ ہلکا سا پیچھے ہوا.. حءرت ہی حیرت تھی…
مجھے تمھاری بدصورتی سے… الجھن ہوتی ہے گھن اتی ہے… ” وہ… اسکے چہرے کو عجیب… انداز میں دیکھ رہی تھی..
تم وہ گندی گوٹھلی ہو جسے میں نغل نہیں سکتی… اغل نہیں سکتی پھنس گئ ہو…” وہ متلا کر بولی بہرام جھٹکے سے اٹھا…
اسکا پارہ ہوئ ہو رہا تھا..
دل کی دھڑکن.. بری طرح تھی..
عابیر ہنس پڑی…
تمھیں پہلے کوئ بتا دیتا تو اج تمھیں دکھ نہ ہوتا..” وہ کہتے ہوئے اٹھی.. اور اسکے قریب انے لگی..
دور رہو “بہرام دھاڑا.. عابیر
اووو کر کے رہ گئ..
جبکہ وہ.. شدید گھبراہٹ.. میں کمرے سے نکل گیا..
ابھی تو.. مزید سہنا ہے”عابیر ہنس کر شانے اچکا گئ..
………….
جاری ہے
