Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
حیدر کی آنکھ کھلی.. تو کمرے میں اندھیرا .. جبکہ ہلکی پھلکی ٹھنڈک.. کا احساس اور اس کے علاوہ دبیز پردے بھی کھڑکیوں کے آگے ڈلے ہوئے تھے.. وہ اٹھا تو سر بری طرح گھوم رہا تھا…
اسنے ارد گرد دیکھا… تو ارمیش کا وجود کہیں نظر نہ آیا….
حیدر کا دماغ گھوما….
وہ ایک جھٹکے سے اٹھا….
اور… بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکلا… اسکی جرت بھی کیسے ہوئی کہ.. وہ اسکے اٹھنے سے پہلے وہاں سے نکلی بھی.. وہ دندناتا ہوا… زنان خانے کیطرف بڑھا.. مردان خانے کے ہال میں سب ہی تھے..
دوپہر کے کھانے کی تیاریاں کی جا رہیں تھیں..
مگر ان میں سے ایک بھی چیز سے.. اسے فرق نہیں پڑتا تھا.. وہ تو یہ دیکھانا چاہتا تھا کہ انکی پسند کی اسکے نزدیک کتنی اوقات ہے اور یہ بات بار بار باور کرنے… سے اسکے دل کی بھڑاس کچھ کم ہوتی تھی جبکہ وہ اس سب میں کسی کے نازک جزبات کو بھول جاتا تھا…
ارمیش”وہ زنان خانے کے ہال میں کھڑا ہو کر دھاڑا.. اسکی موجودگی وہاں دیکھ کر.. سب ہی چہروں کو ڈھانپ گئیں…
جبکہ وہ لاپرواہ… رات کے سیاہ لباس میں بکھرے بالوں کے ساتھ کھڑا تھا..
چہرے پر… الجھن بھرے تصورات تھے..
جی.. جی سائیں” ارمیش کچن سے برآمد ہوئ تو.. حیدر… نے.. ایک کھینچ کر تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا… جس کا مقصد اپنے پیچھے کھڑے داجی کو بھی دیکھانا تھا…
ارمیش خانم اپنی اوقات سے باہر نکل رہی ہو” وہ اسکو بری طرح جھنجھوڑتا چینخا…
ارمیش کو اپنا کان سن ہوتا محسوس ہوا.. خفت سے وہ بری طرح سسکی….
حیدر.. یہ کیا حرکت ہے..” بالآخر.. جواد خان.. بول اٹھے حالانکہ انھوں نے کبھی ارمیش کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی کہ.. انکی بیوی… اس ایک بیٹی کے سوا انھیں کوئی اولاد نہ دے سکی تھی…
جس کی وجہ سے.. انھوں نے دوسری شادی کی اور دوسری بیوی سے.. بھی دو بیٹوں کے بعد کوئ اولاد نہ ہوئ…
ارے ارے.. جواد خانم… بھی بولے.. “وہ تمسخر سے ہنسا… ارمیش کی سسکیاں دل چیر رہیں تھی…
حیدر نے جان بوجھ کے.. اسکے.. بالوں کو… دوبارہ جھنجھوڑا.. وہ.. سسکتی ہوئ خوف کے زیر اثر… اسکے ہاتھوں کی حرکت پر ادھر ادھر ہوتی رہی…
تھی بھی تو نازک سی.. مگر اسکی ساری نزاکت… حیدر ختم کر رہا تھا….
بیٹی ہے وہ میری…. تم یہ سب وہ بھی سب کے سامنے نہیں کر سکتے”وہ بولے تو لہجہ کمزور تھا…
داجی… سمیت.. انکے… 5 بیٹے بھی تھے جبکہ.. باقی سب بھی آہستہ آہستہہ وہیں جمع ہو رہے تھے…
لڑکیاں مردوں کو آتا دیکھ ارمیش کی قسمت ہر آنسو بھاتی.. چھپ چکیں تھیں.. سب خوف کے زیر اثر تھے..
میں نے تو نہیں کہا.. تھا اس نمونے کو مجھ سے بیاہ دو.. خیر.. بیوی ہے میری… الٹا لٹکاو یہ سیدھا… کوئی یہاں کچھ کہہ کر تو دیکھاے…. “وہ سب پر خاص طور پر داجی ہر نگاہ ٹکا کر بولا….
دل.. اس سب.. سے اکتا بھی چکا تھا… تبھی ارمیش کے کان کے پاس وہ سب کے سامنے بے باکی سے جھکا….
داجی نے.. خونخوار نظروں سے اسے دیکھا…
کیوں جانم.. اور تماشے کی گنجائش ہے.. یہ کمرے میں آنا ہے..” وہ بولا.. لہجے میں سکون ہی سکون تھا…
ارمیش… کانپتی.. ہوئ اسکے پیچھے پیچھے چل دی….
وہاں.. فرح… خانم اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے اس ستم پر خون کے آنسو رو کر رہ گئیں جبکہ کوئی تھا. جو.. ان لڑکیوں کے کمرے میں… غصے سے ادھر ادھر…. چہل قدمی کرتی اس ناانصافی پر… بولے جا رہی تھی…
…………………
یہ کیا بیہودگی ہے.. ہر وقت حیدر خان اسی طرح کرتے ہیں مجھے سمھجہ نہیں آتی ارمیش… آخر… یہ سب برداشت کیوں کرتی ہے.. یہ حویلی کم جیل زیادہ ہے جہاں.. ہم اپنے ارمانوں کا گلہ گھونٹ کر ایک دن.. لاشیں بن جائیں گی.. صرف داجی کو نیچا دیکھانے کے لیے انھوں نے اسکے ساتھ اتنا برا سلوک کیا.. میرا بس چلے تو.. “
بس کرو” مریم خان نے اسکی کینچی کی طرح چلتی زبان کو خوف سے… جھنجھلا کر بند کرنے کے لیے ڈپٹا…
بی جان مسکراتی نظروں سے اسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگی…
ارمیش کے ساتھ جو ہو رہا تھا.. انکا دل بھی بہت کٹتا تھا….
مختصر سی انکی پوتیاں تھیں مگر وہ بھی اپنے باپ دادا پر بھاریں تھیں…
یہ بیٹوں کی خواہش کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ .. جنم انھوں نے عورت کی کوک سے ہی لیا ہے…
وہ.. تاسف سے.. ارمیش کو سوچ کر رہ گئیں…
اماں.. جان آپ یوں چپ کرا رہیں ہیں.. کبھی تائ جان کا غم سوچیں وہ کس قدر… تکلیف محسوس کرتی ہوں گی.. اور.. ارمیش… وہ.. تو شروع سے ڈرپوک تھی “وہ.. غصے سے… چھوٹی سی ناک سکیڑ.. کر… بیٹھ گئ….
نین خانم…. اتنا غصہ اچھا نہیں” بی جان نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…
بی جان… کیا یہ ٹھیک ہے… ہم کیا بھیڑ بکریاں ہیں.. ہماری مرضی نہیں. کوئی.. دم گھٹ گیا ہے ان روایتوں میں… “وہ.. ڈبڈباے لہجے میں بولی….
یوں ہی… دم نکلتا ہے….
مگر…. ہاں بیٹے شاید ہم عورتوں کا سرداروں کی عورتیں ہونا ستم ہے”
بی جان.. بولیں… باقی سب بھی.. وہیں جمع تھے…
نین بس کرو “اماں نے کہا…. تا کہ ماحول کا اثر ختم ہو مگر…
سب کا ارمیش کے لیے غم سے برا حال تھا…
جبکہ نین…. سب کو دیکھ کر جھنجھلا کر.. اٹھ گئ…
سفید گرارے.. قمیض میں.. چھوٹی کرتی پہنے.. بڑا سارا دوپٹہ لیے.. ہاتھوں پر مہندی سجاے.. وہ بے انتھا. خوبصورتی کا شہکار تھی.. مگر غصہ.. ناک پر ہر وقت دھرا رہتا تھا….
…….. ………..
بہرام سائیں.. بہت عرصہ ہوا.. شاپنگ بھی نہیں کرائ.. “شبنم نے اسکے چہرے پر اپنی مخروطی انگلیاں چلائیں… بہرام.. نے.. گلاس میں موجود سیال اپنے اندر اتار کر اسکیطرف دیکھا.. جو… کسی شریف کی نظر میں بیہودہ لباس میں…. اسپر.. تقریباً لیٹی ہوئی تھی…
بہرام.. رات بھر.. سے یہیں پر تھا.. اور.. اب.. شام ڈھلنے لگی تھی.. وہ حویلی جانا چاہتا تھا.. مگر شراب کی کثرت کے باعث.. وہ اٹھ نہ سکا یہ شاید وہ اٹھنا نہیں چاہتا تھا.. اوپر سے.. شبنم کے کچھ کچھ دیر بعد.. پڑنے والے.. حسین وار سے.. وہ جیسے.. وہیں رہ گیا.. دماغ.. شارب نوشی… کے باوجود بھی چوکس تھا..
اسنے کوئی جواب نہ دیا.. تو شبنم ایک بار پھر بیھودگی پر اترنے لگی مگر شاید اب بہرام خان.. تھک چکا تھا اکتا چکا تھا….
اور ابھی وہ اس سے پہلے اسے جھڑکتا…
اسکا فون بجنے لگا..
اے پیچھے ہٹو”وہ.. تیوری چڑھا کر بولا تو شبنم ہنس دی..
ساری رات…. تو نہ سوچا کہ پیچھے بھی ہٹانا ہے.. اچانک… پیچھے ہٹانے کی بات یاد آ گئ.. ہمارے نک چڑے سائیں کو” شبنم نے… اسکے ہاتھ سے موبائل چھیننا چاہا….
بہرام.. نے اسکے بال پکڑ کر.. اسکا سر.. پیچھے.. تکیے سے لگایا.. اور… شبنم.. تلملانے لگی. پھر ہنسنے لگی.. بہرام کو اس سے کوفت ہونے لگی..
وہ کال اٹینڈ نہیں کر پا رہا تھا.. تبھی اسکے منہ پہ تھپڑ… لگا دیا.. تھپڑ کی شدت سے.. شبنم بلکل سن رہ گئ.. جبکہ وہ.. اٹھا.. اسکے قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی…
ہاں.. بولو.. “اسنے خود کو آئینے میں دیکھا..
حد سے زیادہ خوبصورتی میں معمولی سا غصہ گھلا ملا تھا…
سائیں مداخلت معاف سائیں…
پریس.. میڈیا.. پولیس… کوٹھے… میں ہیں…” اسکا خاص ملازم .. ہچکچا کر بولا… بہرام کا.. سارا.. نشہ.. جو… بمشکل ہی چڑھتا تھا.. بھک سے اڑا…
کیا مطلب ہے.. آج سے پہلے تو ایسا نہ ہوا..” وہ.. چھینگاڑہ…
سائیں… آپ اب سیاست میں آ گئے ہیں.. گستاخی معاف.. آپکو وہاں سے.. جلد نکلنا ہو گا.. ورنہ.. ورنہ بہت غلط..”
گالی… بند کر اپنا منہ…. “اسنے موبائل بند کیا…
اور چہرے ہر ہاتھ پھیرا..
اگر اسکا وجود یہاں دیکھا جاتا تو.. داجی کی سیاست سمیت عزت… دو کوڑی کی رہ جاتی..
جبکہ.. اسکی عزت کو.. بھی بے شمار داغ.. لگتے.. اسے یہاں سے نکلنا تھا.. اور.. اس میڈیا کا بینڈ تو.. وہ بعد میں بخوبی بجائے گا.. وہ سوچ چکا تھا…
وہ شبنم پر ایک غلط نظر ڈالے بغیر دروازہ کھول کر نکلا..
نیچے ہال سے کئ آوازیں آ رہیں تھیں..
یہاں بہرام.. خان موجود ہیں.. آپ دیکھ سکتے ہیں ناظرین… سردار مراد خان کا پوتا .. جو سیاست.. میں عورتوں کے حقوق کے لیے قدم رکھ رہا ہے.. جس کی پہلی تقریر ہی عورتوں کے حقوق پر تھی.. وہ آدمی.. اس گھٹیا جگہ پر اپنی راتیں رنگین کر رہا ہے.. اور جس کی نظر میں.. عورت.. کی ولیو.. صرف… ایک بستر تک ہو.. وہ معاشرے کی عورتوں کو کس نگاہ سے دیکھے گا.. “کسی کی تیز.. باریک.. پہنکارتی ہوئ اواز….
پر.. اسکی آئ برو اچک گئ…
اسنے گریل میں سے.. پولیس.. اہلکار.. میڈیا.. کو دیکھا.. اور… نگاہ… پیٹھ موڑے کھڑی.. اس تیز ترار لڑکی پر گئ…
آی ویل کل یو” وہ… غرایا…
مگر اسکی شکل بھی دیکھنا چاہتا تھا….
وہ.. گریل کے ساتھ ساتھ چلنے لگا.. حالانکہ یہ اسکے لیے خطرے سے خالی نہیں تھا.. مگر.. بلیو جینز… پر وائٹ… کرتے میں پونی ٹیل کیے.. وہ لڑکی..جو بھی تھی.. پشت سے کافی پر کشش تھی.. اور.. آواز.. اس سے بھی زیادہ.. مگر الفاظ کافی زہریلے تھے..
وہ.. گریل سے گھومنے لگا…
تو لڑکی نے خود ہی رکھ پھیر لیا…
ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ. بھی بدلنخواستہ ہمارے ساتھ آئے ہیں “اسنے ایریا کے ایس ایچ او.. کو.. غصے سے دیکھا…
گلابی شھابی رنگت میں.. بولنے.. اور گرمی کے باعث… سرخی.. گھلی ملی تھی جبکہ…
گردن پر.. پسنیے سے بالوں کی چیپکی ہوئ.. لٹیں…
اس لڑیرے.. کی آنکھوں کو خیر کر رہیں تھیں…
قربان جاو.. اس حسن پر” وہ… گھیری.. چمک لیے.. بولا…
ایس اچ او گڑبڑایا…
نہیں میڈیم ایسا کیوں ہو گا بھلہ….” وہ.. نرمی سے بولا..
آپکو غلط فہمی ہو سکتی ہے.. وہ بہت عزت دار خاندان سے ہیں.. “وہ.. بولا تو..
اس لڑکی نے نفرت سے اسکیطرف دیکھا..
سر ابھی اس عزت دار خاندان کی حقیقت… معلوم ہو جاے گی.. “اسنے.. کہا.. اور.. اب مجبورن ایس اچ او کو اپنے بندے پھیلانے پڑے.. جبکہ بہرام… کے لبوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی…
کیا چیز ہے.. “وہ پھر بڑبڑایا..
پولیس اہلکار… اسکو دیکھ چکے تھے..
وہ.. اپنی شیو پر ہاتھ پھیرتا خاموش.. نظر انپر ڈال کر.. رہ گیا.. جو.. اسکی ایک خاموش نظر سے.. انجان بنتے.. ارد گرد تو پھیلے مگر اس تک نہ پہنچے…
بہرام.. خان بھی.. چلتا.. ہوا… سٹور روم.. کی اوٹ میں ہوا…
وہ وہاں سے.. باہر ہونے والا سارا نظارہ تک رہا تھا…
مجھے ایسا لگتا ہے تمھاری خبر غلط ہے.. تم سوچ نہیں سکتیں.. یہ لوگ تمھیں الٹا لٹکا دیں گے “واصف کی جھنجھلائ… ہوئ.. آواز پر.. عابیر نے اسکی جانب دیکھا…
میری انفارمیشن کبھی غلط نہیں ہو سکتی.. وہ.. کل کا آیا.. لڑکا.. عوام کو الو بنا دے” وہ غصے کی کیفیت میں تھی.. بہرام. جو انکے پیچھے روم میں ہی کھڑا تھا…
اسکی کل کا آیا سن کر.. اسکے ہونٹوں پر گھیری مسکراہٹ چھاپ چھوڑ گئ…
پولیس… پورے کوٹھے. کو چھان مار چکی تھی…
مگر بہرام خان کو ڈھونڈ کر بھی اگر آنکھیں بند کر لیں تھیں تو وہ انھیں کبھی نہیں مل سکتا تھا…
واصف پر ایس ایچ او چڑھ دوڑا.. جبکہ عابیر یہ سب تماشہ .. دیکھنے لگی….
یہ ایک غلط جگہ.. “
بس کرو بی بی” ایس سیچ او نے.. غصے میں کہا..
عابیر بغیر ڈرے اسکی صورت دیکھنے لگی…
یہاں تک پہنچانے کے لیے بہت شکریہ مگر کسی شریف انسان ہر الزام کا آپ کا کوئی حق نہیں.. بس صحافی کی طاقت استعمال کرتے ہیں “وہ بڑبڑایا.. واصف اسکی خوشامد کرنے لگا.. جبکہ عابیر اوپر جاتی سیڑھیوں کو گھور کر رہ گئ.. وہ جانتی تھی.. وہ آدمی یہیں ہے..
ابھی وہ.. آگے بڑھتی کہ کسی نے.. اسے… پیٹ پر.. بازو حائل کر کے.. اپنی طرف کھینچا… ہاتھ کی سختی اسکے پیٹ پر بری طرح تھی.. جبکہ لمس اسقدر… برا.. کہ.. وہ تلملاتی رہ گئ…
سائیں…. اوپر.. دائیں جانب چوتھے کمرے میں نیم مردہ… سی شبنم… کے پہلو کی سلوٹیں… بتا دیں گی… کہ بہرام خان.. وہیں تھا…. بھلہ آپکی جیسی نظر.. ان.. دوٹکے کے پولیس والوں کے پاس کہاں…
جلد ملیں گے دوبارہ… “اسکے کان میں زہر انڈیلتا وہ جھٹکے سے اسے دھکا دے.. کر… فرار ہوا… جبکہ عابیر ابھی سمبھالتی.. اور دوڑ کر اس کمرے تک جاتی.. وہ وہاں سے غائب تھا.. اسنے واصف.. کو دیکھا جو اب تک ایس سیچ او کو.. سمھجا رہا تھا… مگر وہ کچھ نہیں کر سکی تبھی.. مٹھی پر ہاتھ مار کر رہ گئ…
…………….
جاری ہے
See translation
