Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
جلسہ تو اپنی جگہ ہو رہا تھا.. لوگ اسکے انداز گفتگو سے.. ایمپریس نظر آ رہے تھے.. یہ جلسہ یقیناً کامیاب جانے والا تھا.. مگر وہ نہیں تھی..
کیوں…؟؟؟؟؟
اسے بے چینی ہونے لگی… میڈیا تو تھا.. اور وہ لڑکا بھی نظر آ رہا تھا جس کے ساتھ وہ آئ تھی پھر.. وہ کیوں نہیں تھی..
تقریباً دو گھنٹے.. متواتر جھوٹ بولنے سے اسکی زبان ہی اکڑ گئ تھی جبکہ ابھی اور بھی سپیچ باقی تھی اسنے.. وہیں اختتام کیا.. اور سٹیج سے اتر گیا… داجی نے.. اسپر ترچھی نظر ڈالی.. اور بھی قبیلے کے اور.. علاقائی لوگوں کے علاوہ دوست احباب بھی..
اور. سیاست دان بھی تھے…
مگر اسنے کسی کی پرواہ نہ کی اور سٹیج سے اتر گیا.. معاویہ اسکے پیچھے لپکا..
یہ کیا کر رہے ہو خان.. سب لوگ دیکھ رہے ہیں ” معاویہ نے اسکا ہاتھ تھامہ ..
سائیں وہ تو آئ ہی نہیں” بہرام نے گاگلز کے پیچھے سے اسکو دیکھا…
معاویہ کا دل کیا سر پیٹ لے..
بہرام. تم جانتے ہو نہ داجی تمھیں نہیں تو ہم سب کو کھا جائیں گے.. تم اپنی تقریر پوری کرو”معاویہ نے اسے دوبارہ کھینچا…
بس… کہہ دیا نہ اب مزید نہیں… “وہ غصے سے بولا…
عابیر کا خیال سر پر بری طرح حاوی تھا..
اور وہ معاویہ کے روکنے کے باوجود.. وہاں سے نکل جاتا اگر داجی کو اپنی جانب آتا نہ دیکھتا… تو.. معاویہ داجی کو دیکھ کر. سائیڈ پر.. ہوا…
دادا کی جان…… کیا ہوا شہزادے… لوگ منتظر ہیں” انھوں نے. اسکو لاڈ سے.. دیکھا..
داجی.. میرا موڈ نہیں اب” وہ.. موبائیل نکالتا ایک نمبر ڈائل کرنے لگا..
ٹھیک ہے ٹھیک ہے…. ہمارے.. خان کا موڈ نہیں.. تو.. بس ختم جلسہ.. مگر خان ابھی کہیں نہیں جا سکتے.. چندا… اپوزیشن پارٹی کو بھی خرید لیا ہے.. بیٹے.. اب تو… ضروری ہے آپکا وہاں ہونا..”
داجی اسے پیار سے پچکارنے لگے.. وہ اب مزید وہاں نہیں بیٹھنا چاہتا تھا..
داجی میں”
ہمارے لیے “انھوں نے کہا…. تو.. وہ بدلنخواستہ انکی… جانب بڑھ گیا..
جبکہ فون پک ہونے پر اسنے… ضروری تنبھی دی تھی… جو کہ عابیر کے متعلق تھی.. کہ… اس روز کے بعد اسنے اسکے گھر کے باہر عابیر کی پھیرہ داری کے لیے… ایک بندہ رکھ دیا تھا.. اب وہ اسی کو فون کر رہا تھا.. جس نے اسے بتایا کہ وہ تو.. اس روز کے بعد گھر سے نکلی ہی نہیں.. تب جا کر. بہرام.. کے بے چین قدم سکون میں آئے…
رات دیر تک پارٹی جاری رہی جلسہ اس وقت ختم ہونے کے بعد بھی..
شراب بھی تھی شباب بھی تھا.. مگر اسکی توجہ شراب پر تھی…
جبکہ شباب پر ایک نظر بھی نہیں ڈالا تھا…
……………….
حیدر.. دو دن سے.. گھر نہیں آیا تھا.. وہ کمرے میں سکون سے تھی سب اسکا خیال رکھ رہے تھے.. مگر.. وہ اپنے کمرے سے نہ نکلی…
مگر آج اسے احساس ہو رہا تھا.. کہ وہ غلط کر رہی ہے…
بھلہ ان سب کا کیا قصور تھا…
وہ سب تو اسی کی بھلائ چاہتیں تھیں….
تبھی.. اسنے… خود.. کو کوسا. اور…. باہر نکل آئ…
مردان خانے میں کوئ نہیں تھا آج.. بہرام لالا کا جلسہ تھا تبھی. سب وہیں گیے ہوئے تھے.. وہ.. جلدی سے. زنان خانے کیطرف بڑھی…
بی جان ہال میں بیٹھیں تھیں.. اسکی جانب دیکھ کر. اپنے بازو وا کیے…
وہ بھی انکے بازوں میں سما گئ..
معافی چاہتی ہوں بی جان.. اس دن بہت بدتمیزی کی تھی “وہ نم لہجے میں بولی…
جبکہ بی جان اسے پیار کر رہیں تھیں.. آہستہ آہستہ سب اکھٹے ہونے لگے….
اسنے سب سے ہی معافی مانگی…
خاص کر اپنی مورے.. سے… سب نے.. ہی اسکو پیار.. کیا.. اور زنان خانے میں ایک اچھی فضا بن گئ…
بی جان… ڈھولک رکھتے ہیں. کل نیہا کی مہندی ہے اس سے پہلے.. “نین بولی تو.. ایک نظر سب نے اسکی طرف دیکھا… بی جان سے تو اسنے بات کر لی تھی مگر باقی سب سے.. اسنے کوئ بات نہیں کی تھی.. بی جان نے اسے اپنی قسم دی تھی کہ وہ آج کے بعد یہاں سے جانے کی بات نہیں کرے گی.. جس کو اسنے مان تو لیا تھا…
مگر زہن اب بھی گردش میں تھا…
آب کیا مجھے بھی سب سے معافی مانگنی ہو گی ارمیش نے اتنی مانگی ہے فٹی فٹی کر لیں سب “وہ… بولی.. تو.. کسی کیطرف سے کوئ ریسپونس نہ آیا…
اسنے بے چارگی سے بی جان کو دیکھا..
جو نین خانم نے کیا.. وہ غلط تھا.. سرا سر….
مگر.. ہم لوگوں نے بھی غلط کیا… لڑکی کی مرضی جانے بغیر.. اسے کسی کے ساتھ باندھ دینا ناانصافی ہے..
بی جان اگر.. یہ.. تماشہ لگانے کے بجائے ہمیں کہتیں.. تو ضرور کوئ نہ کوئ حل نکل جاتا “یہ تائ جان تھیں جو اس دن سے ہی کافی غصے میں تھیں…
تائ جان.. پلیز. میں..”
نین.. آپ ہم سے مت بولیں آپکی وجہ سے… آپکی مورے کی تربیت پر کتنی انگلیاں اٹھیں ہیں…. آپ نے سوچا.. داجی سے کتنی بدتمیزی کی ہے آپ نے.. سب کے سامنے بے پردہ ہو گئیں اور پھوپھو سائیں کے بارے میں سوچا… آپ کے الفاظ انھیں کتنی تکلیف دے رہے ہوں گے آج تک کسی نے.. ایسا نہیں کہا جبکہ.. آپ… آپ.. بلا دھڑک سناے جا رہیں ہیں.. “تائ.. نے اسکو اچھا خاصا لتاڑا نین کی آنکھیں بھیگ گئیں جبکہ شرمندگی سے سر جھکا لیا…
پھوپھو ساییں.. ہم معافی چاہتے ہیں ہمیں غصے میں کچھ سمھجہ نہیں آیا…
میرا مقصد آپکا دل دکھانا نہیں تھا… ” وہ… انکے پاس آ کر بیٹھی.. اور.. سرخ.. آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگی…
تم نے ٹھیک کہا جو بھی کہا” انھوں نے کہا.. تو.. سب.. ہی.. نم آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگے..
نہیں آپ ایسا نہ کہیں.. پلیز.. آپ معاف کر دیں مجھے”وہ سسکی.. تو انھوں نے اسکی پیشانی چوم لی.. وہ انھیں عزیز تھی بچپن سے ہی…
سب مسکرا دیے.. کہ.. جب انھوں نے معاف کر دیا تو.. کسی اور کے ناراض رہنے کا کوئ جواز نہیں تھا….
میں میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں” اسنے مورے سے بھی معافی مانگی.. اور پھر.. سکون تو اسکو تھا نہیں.. تبھی.. بولی.. تو.. سب نے چونک کر اسے دیکھا..
پلیز پھوپھو.. میں ابھی.. شادی نہیں چاہتی.. پلیز.. آپ لوگ پہلے نیہا کی ہی شادی… کر دیں مجھے رخصتی.. نہیں کرنی” اتنی آسانی سے تو وہ احمر کے دام میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی
… نین” مورے نے گھورا..
رک جاو… “انھوں نے روکا…
ٹھیک ہے جیسا تم چاہو” انھوں نے کہا تو وہ ایک پل… انھیں دیکھتی رہ گئ.. اور پھر اتنا پرجوش ہو کر چیخی.. کہ سب نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں..
جبکہ.. اسکی کھلکھلایٹ.. دیکھنے لائق تھی..
اگر نین.. سدھر جائیں تو کیا ہی بات ہے “مورے نے افسوس سے کہا.. جبکہ اب وہ ڈھولک کے لیے.. درخنے کو آرڈرز دے رہی تھی..
ارمیش انوشے… نیہا.. سب ہی بہت خوش تھے
……………..
معاویہ…. آرام سے زنان خانے میں آیا…. ارادہ.. انوشے سے ملنے کا تھا…
آرام آرام سے قدم رکھتا… وہ.. پورے ہال میں جھانک رہا تھا.. بہرام.. مردان خانے کے دروازے پر تھا….
تو نے تو کہا تھا.. یہیں کہیں ہو گی “بہرام نے. غصے سے اسے گھورا.. اگر داجی یہ کسی کو بھی.. پتا چل جاتا تو… بلا لحاظ… لتاڑا جاتا… اور یہ جانے کے بعد کے ہم.. کیا کرنے اییں ہیں.. حویلی.. سے ہی نکال دیا جاتا….
یار اس دن تو یہیں تھی.. اچانک ہی ای تھی” معاویہ نے… آہستہ آواز میں پوچھا…
چلو آتا نہ پتا… چلیں ہیں ملاقاتوں کے لیے” وہ بھنایا…
تو معاویہ نے اسے گھورا…
کمرہ کون سا ہے “بہرام نے.. اب زنان خانے میں آ کر پوچھا…
معلوم نہیں” اور یہ کہنے کی دیر تھی.. بہرام نے ہاتھ گھوما کر اسے رکھا.. وہ.. گردن سہلا کر رہ گیا…
نالائق اب تک… ہم سے کچھ سیکھا ہی نہیں” وہ.. تفخر سے بولا.. تو معاویہ منہ چیڑا کر.. ادھر ادھر دیکھنے لگا..
ابھی وہ دونوں اسی ادھیڑ پن میں تھے کہ.. اسکا کمرہ کون سا ہو گا..
احمر کی آواز پر.. دونوں ہی اچھل پڑے…
کیا ہو رہا ہے” وہ.. دونوں کو گھور رہا تھا…
میں تو تم سے بڑا ہوں تو مجھ سے.. پوچھنے کا کوی مقصد نہیں.. اس سے پوچھو.. یہ.. اپنی.. تازی تازی.. محبوبہ سے کیوں ملنے آیا ہے. حویلی کے اصولوں کے خلاف جاتا ہے سالے” اسنے اسکی.. گردن پکڑی معاویہ تو.. حیران رہ گیا…
اس چور کو میں نے بھی پکڑا ہے.. داجی کے پاس.. لے کر جاتا ہوں اسے میں” بہرام سنجیدہ اور کافی غصے میں لگ رہا تھا..
رہنے دو داجی اس کی ایک دو پہسلی توڑ دیں گے… “احمر نے.. افسوس سے.. کہا.. تو.. بہرام.. نے اسکو جھٹکا..
یہ بس احمر کی وجہ سے.. تو بچ گیا.. ورنہ”اسنے اسپر مکہ تانا..
اچھا اچھا بس کرو بہرام.. چلو… معاویہ آئندہ ایسا نہ ہو ورنہ میں… ماموجان کو بتا دو گا “احمر نے کہا تو.. معاویہ نے سر ہلایا….
احمر.. دونوں کو ایک نظر دیکھ کر.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ معاویہ.. کا پارہ… ہنڈرڈ سینٹی گریڈ ہر پھنچا.. اور.. اسنے اپنی پشاوری چیپل نکالی..
دیکھ تجھے بچایا.. ہے. سالے..” بہرام نے. اسے روکنا چاہا.. کہ. معاویہ کی چپل. اسپر گھومتی ہوئ ای.. اور اگر وہ نہ بیٹھتا.. تو ضرور منہ پر کھاتا..اور پھر.. جنگ.. جو شروع ہونی تھی.. دیکھنے لائق تھی..
بہرام.. اس سے بچنے کے لیے. پیچھلے لون میں بھاگا.. دونوں کے قہقہوں کی آواز.. سن کر کوی.. بری طرح ڈرا… تھا…
جبکہ.. لون.. میں وہ دونوں ایک دوسرے کی دھلائ کر رہے تھے .. گالیوں سے بھی نوازا جا رہا تھا.. انوشے.. کے ہاتھ پاوں کانپ گئے.. رات کی تاریکی میں چاند دیکھنا اسے بہت پسند تھا.. مگر.. یہ..
وہ حیران تھی.. اور قدرے اندھیرے میں.. تبھی ان کی نظر اسپر نہیں پڑی تھی..
اور جس طرح وہ
. ایک دوسرے کو پیٹ رہے تھے…
انوشے تو.. بری طرح سہمی.. سمھجہ نہیں آیا. کس کو بلائے…
اور اسی خوف کے تحت اسنے خود کو ڈھانپا اور اندر بی جان کو بتانے کے لیے.. اس سے پہلے دوڑتی.. بہرام کی نظر اسپر گئ..
اے روکو”وہ زور سے بولا.. انوشے وہیں ٹھر گئ
انوشے” معاویہ نے فورا پہچان لیا…
اووووو”بہرام… نے اسے چٹکی کاٹی.. جبکہ معاویہ اپنے بال درست کرتا.. آگے بڑھا… اسکا گریبان.. چاک تھا.. بہرام وہیں سے لیٹا… ان دونوں کو دیکھ رہا تھا….
کیسی ہو” معاویہ نے اسکی جانب دیکھا جو نقاب کیے.. سیاہ دوپتے کا.. حیرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی….
کیا ہوا ڈر گئ” معاویہ اسکے مزید نزدیک ہوا
بتاتا ہوں میں داجی کو…. “بہرام ہاتھ جھاڑتا اٹھا.. انوشے جو.. معاویہ کو.. دیکھ رہی تھی.. جو.. کافی ڈیشنگ تھا.. بہرام کی بات پر.. اسکے ہاتھوں کا دم نکلا…
ارے نہیں.. یہ تو جھوٹ بول رہا ہے “معاویہ نے بات سمبھال آ چاہی. مگر…. انوشے کی آنکھیں بھیگنے لگ گئ تھیں…
بلکل نہیں.. زنان خانے میں ایسی لڑکیاں توبہ توبہ..” بہرام… کی اداکاری عروج پر تھی جبکہ انوشے… خود سے تھر تھر کانپ رہی تھی….
لالا… نہ.. نہیں… میں تو… “انوشے… کی بھیگی.. بھیگی آواز معاویہ.. نے کڑے تیوروں سے.. اسے دیکھا… جبکہ اتنے میں.. ہی انوشے وہاں سے فرار.. تھی.. معاویہ کا بس نہیں چلا.. بہرام کے اندر بم بلاسٹ کر دے..
وہ خونخوار نظروں سے پلٹا… جبکہ.. بہرام.. اسے دھکا دے.. کر وہاں سے.. مردان خانے کیطرف بھاگا.. ایک بار پھر.. حویلی میں اسکے قہقہے گونج رہے تھے…
………………
اسکے لیے ماں باپ کی بے اعتباری… سوہان روح تھی…
جبکہ معاذ سے بھی کونٹکٹ کر کر کے وہ تھک چکی تھی کوئ اسکی آواز نہیں سننا چاہتا تھا….
کچھ ہی دنوں میں اسکی رخصتی تھی…
اسے شادی سے کوئ مسلہ نہیں تھا مگر.. اسطرح.. کے اسکے عزیز ہی اس سے نفرت کر رہے تھے..
ریہا سے مما اسکو بات نہیں کرنے دیتی تھی.. بابا سے بولنے پر وہ جواب نہیں دیتے تھے اور مما.. تو اس سے بری طرح بدزن تھی.. کیا اتنی بے اعتبار ہو کر وہ اس گھر سے جائے گی.. اور اگلے گھر.. میں بھی بے اعتباری منہ کھلے کھڑی ہو گی.. وہ بری طرح رونے لگی تھی..
اس ایک شخص نے اسکو کیا سے کیا کر دیا تھا.. محبت کرنے والے لوگ… نفرت کر رہے تھے…
جب آپکی اہمیت آپکے اپنے ہی گیرا دیں تو اس تکلیف کو کیا کہتے ہیں یہ عابیر سے بہتر کوئ نہیں جانتا تھا…
…………..
مہندی کا فنکشن.. ختم ہوا… تو. حویلی کے مردان خانے کے لون میں نئے سرے سے. مردوں کا فنکشن شروع ہو گیا تھا.. اور وہ کیا تھا سب جانتے تھے….
نین.. ان سب کو کھینچ کھانچ کر چھت پر لے آئ..
نین کوئ آٹھ گیا.. تو جان َسے مارے جاییں گے..
نیہا خوفزدہ تھی جبکہ باقی سب بھی. اور وہ تو.. نیچے.. ہونے والی عیاشی کو دیکھ توبہ توبہ کر رہی تھی مگر دیکھنا بھی فرض تھا جیسے..
لو جی حیدر. لالا بھی آئے “وہ بولی تو ارمیش…. نے ایک نظر نین کو ضرور دیکھا مگر نیچے نہ جھانکا وہ اور نیہا پیچھے کھڑے تھے…
معاویہ کی حرکتیں دیکھو.. اللہ.. توبہ” نین نے.. جلدی سے چہرہ موڑا..
انوشے نے.. تھورا سا نیچے جھانکا.. اور پیچھے ہٹ گئ.. دل بری طرح دھڑکا.. جبکہ.. چہرے پر اداسی بھی چھا گئ…
سب سے اچھے احمر لالا ہیں” اسنے کہا اور وہ سب سیڑھیوں کیطرف بڑھیں..
ہممم نوٹنکی ہے “نین.. نے منہ بگاڑہ..
شکر نہیں ہے تم میں… “ارمیش کے گھورنے پر وہ کندھے اچکا گئ.. وہ سب تو اپنے اپنے روم میں چلی گئی جبکہ ارمیش اپنے روم میں آ گئ…
وہ.. جلدی سے اب.. اس لہنگا کرتی سے نجات چاہتی تھی..
تبھی.. روم میں داخل ہوتے ہی.. ڈریسنگ کیطرف بڑھتی کہ اسکے قدم.. حیدر کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ ایک پل کو روکے… ن
وہ یہاں کیوں تھا.. باہر تو اسکا من پسند کھیل جاری تھا…
اسنے سوچا اور پھر.. دوبارہ ڈریسنگ.. کی طرف بڑھنے لگی… کہ حیدر نے اسکی کلائ جکڑ.. لی….
ارمیش کو محسوس ہوا.. وہ بری طرح تپ رہا تھا…
خانم.. ضرورت ہے تمھاری “وہ.. آنکھوں میں.. گھمبیر تاثر لیے اسے گھور رہا تھا.. ارمیش نے ایک پل کو اسکو دیکھا.. اور. ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا…
پیچھلے چار دن سے. آپ جس کے پاس تھے سائیں کیا اس سے ضرورتیں پوری نہیں کیں” وہ.. بے تاثر لہجے میں اسے گھور رہی تھی… حیدر نے.. چند سانہیے حیرت سے اسے تکا… اور. پھر کھینچ کر تھپڑ دے مارا.
خانم.. بتایا تھا نہ.. حور ہمارا مسلہ ہے اور ہم تمھارا.. یہ کیا ناز نکھرے لیے بیٹھی ہو کس نے.. تمھاری ہمارے سامنے زبان نکالنے.. کی جرتیں بڑھا دیں سمھجہ کیا رہی ہو خود کو.. “وہ مسلسل.. اسکو. مارتا.. چینخ رہا تھا….
جبکہ ارمیش.. خود کو بچانا چاہ رہی تھی..
ح…. حیدر” ارمیش نے اسکا دوبارہ اٹھتا ہاتھ تھاما… اسکا چہرہ سرخ تھا.. جبکہ.. آنکھوں سے اشک جاری تھے…
ایک کان کا اویزہ… بیڈ سے نیچے.. پڑا تھا.. جبکہ دوسرے کان سے.. ہلکا سا خون نکلنے لگا تھا.. گردن پر بھی حیدر.. کے ناخنوں کی خراشیں تھیں غرض پل میں حیدر نے اسکی اوقات اسپر واضح کر دی…
حیدر نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے جھٹکا اور اسکے بال… پکڑ کر اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا
خانم…. فضول محنت مت کرو……
سب ضایع ہے.. “مدھم سی مسکراہٹ.. لیے.. وہ اسکو باور کرا رہا تھا… کہ وہ اسکے سامنے کچھ نہیں
ارمیش کے بال کھنچ رہے تھے.. وہ مزید پٹ کر… اپنے بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی.. تبھی.. نگاہ جھکا گئ..
جبکہ حیدر.. نے.. بے دردی سے… اسکے کانپتے… لبوں پر قفل لگایا…
ارمیش کو یہ قربت بچھو کی مانند ڈسنے لگی….
اسکی سسکیاں بلند ہو رہیں تھیں جبکہ وہ. اسپر پوری طرح حاوی ہو چکا تھا…..
…………………..
جاری ہے
