Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
Epi 28
ایک خاموش سفر کر کے وہ اسکے ساتھ اسی فلیٹ پر پہنچی جہاں. اسنے پہلے اسکو ٹھرایا تھا…
گیارہ بج چکے تھے…
اور… اسے کافی لیٹ ہو چکا تھا… اسکے پی اے کے مسلسل فون. رہے تھے…
اسکا ارادہ ارمیش کو ساتھ لے کر جانے کا تھا.. مگر ارمیش کی لوکس.. بلکل بھی ویسی نہیں تھی.. کہ وہ.. اسکی بیوی کی حثیت سے اسکے ساتھ جاتی.. اور اج انے والے شبنم کے فون نے…
وہ جو ہلکی پھولکی سی خوشی تھی.. اسکے چہرے پر وہ اڑا دی تھی وہ پھر سے خاموشی کا لبادہ اڑھ کر اندر چلنے لگی..
بہرام کو سمھجہ نہیں. ارہا تھا وہ اسکے سامنے اسقدر کنفیوز کیوں تھا…
یہ تو عام بات تھی وہ تھا ہی ایسا پھر بھی.. شبنم اسے کافی زہر ہی لگی..
وہ یوں ہی کھڑا تھاجبکہ ارمیش اگے چلی گئ…
روکو”اسنے پکارہ تو وہ فورا رک گی…
وہ شبنم تھی” وہ پہلی بار کسی کو صفائ دے رہا تھا…
ارمیش.. کے لیے یہ سب اتنا حیران کن تھا… کہ… وہ پلٹ بھی نہیں سکی…
وہ… “اس سے پہلے وہ کچھ بولتا… وہ.. اندر بھاگ گئ…
اسکا دل شدت سے ڈوبا تھا…
وہ اسے صفائ دے رہا تھا…
اسے.. جس کی اہمیت… کیا تھی.. بھلہ کیا تھی حویلی میں اسکی اہمیت…
وہ لڑکی جسے حیدر نے پل پل منحوس کہا…
کیسے.. کیسے وہ اسے اتنی اہمیت دے سکتا تھا…
اسنے وعدہ کیا تھا.. وہ روے گی نہیں.. مگر اب یہ شخص اسے خود رولا رہا تھا….
وہ جا چکی تھی.. بہرام
. خاموش ہال میں کھڑا تھا…
اسکے دل و دماغ میں اس وقت کچھ نہیں تھا.. وہ سمھجہ نہیں سکا وہ خود کیسے اسے صفائ دینے لگا…
حالانکہ یہ ضروری نہین تھا..
مگر اسکا دل کہتا تھا.. وہ ایک پھول کی مانند ہے.. جیسے.. صرف سینچا جا سکتا ہے…
جسے صرف سمبھال کر رکھا جا سکتا ہے.. وہ.. کانچ کی گڑیا.. جو ٹھرک سے ٹوٹ جائے…
یہ تھی ارمیش خانم… اور وہ.. کسی کو توڑنا نہیں چاہتا تھا…
کیونکہ ٹوٹیں گئیں کرچیاں اب بھی اسکے دل میں پھنسیی تھیں…
بھلہ.. وہ اس تکلیف میں خود مبتلہ ہو کر کسی اور کو.. کیا.. تکلیف دیتا… اسنے موبائل کی جانب دیکھا جو بج رہا تھا… معاویہ کا فون تھا…
اسنے سرد اہ بھر کر فون اٹھایا..
اور بھئ ہیرو.. پارٹی میں جانے کے بجائے ہنی مون پر تو نہیں نکل پڑے “اسکی چھکتی ہوئ اواز سنائ دی..
جا ہی رہا ہوں اس بورینگ پارٹی میں…” اسنے کہا اور پراڈو کا گئٹ بند کر کے.. وہ اب گاڑی.. چلا رہا تھا…
اہو…. بورینگ”معاویہ ہنسا…
کمینگی نہیں.. میرا موڈ نہیں ہے.. تیرے قہقہے سننے کا.. فون بند کر” اسنے جھڑک کر کہا…
ااوو بھائ.. لڑکی کو پورے خاندان کے سامنے لے گیا.. جانت ابھی ہے داجی نے ناک سکیڑ کر کیا.. کہا…
کاش یہ خان بھی ہمارے قابو کا ہوتا “اسنے داجی کی نکل اتاری تو.. وہ.. ہلکا سا ہنسا…
معاویہ نے کافی دنوں بعد اسکے ہنسنے کی اواز سنی..
جان ہیں داجی تو” بہرام.. پیار سے بولا
ویسے تیری کتنی جانیں ہیں… سب کو ہی جان بنا لیتا ہے.. “وہ پھر ہنسا…
بس تیرے علاوہ… ” بہرام نے.. منہ بنایا…
چل بے… بند کر.. میری فیری ا گئ ہے.. میں چلا جنت کی سیر کرنے” اسکی ہنسی میں ڈوبی اواز ائ تو بہرام نے نوٹی سی گالی دے کر فون بند کر دیا…
خاموش سیاہ سٹرک پر وہ خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا…
راستہ جیسے بہت لمبا لگنے لگا..
پہلے یہ راستے اسکے لیے.. کتنے چھوٹے ہوتے تھے..
کہ اسے لگتا تھا وہ پل میں اس راہ پر پہنچ گیا جہاں
اسکا دل بستا ہے.. مگر.. دل نے.. تو.. دم توڑ دیا تھا..
اسکی دھڑکنیں پہلے کی طرح.. سنائ نہیں دیتی تھیں.. مگر پہلے وہ خوش رہتا تھا.. اب تو لگتا.. یر احساس پر برف جم گئ ہے…
وہ مزید اپنے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا اگر کوئ کہتا بہرام خان.. خود سے اہنے اندر کی آوازوں سے بھاگ رہا ہے تو.. ہاں یہ حقیقت تھی وہ.. بھاگ رہا تھا خود سے.. وہ سننا نہیں چاہتا تھا..
اگر وہ زمیر کی عدالت لے کر بیٹھ جاتا تو.. اسے فیصلہ کرنا پڑتا.. جو وہ کرنا نہیں چاہتا تھا…
تبھی اسنے گاڑی کی سپیڈ بھڑا دی..
………………….
اپ کتنے بدتمیز ہیں معاویہ “ریڈ پیارے سے ڈریس میں.. وہ مکمل تیار.. اسکے سامنے بیٹھی شرمندہ تھی شدید…
میں تو بدتمیز ہوں خود کو دیکھا ہے” امعاویہ نے زور سے اسکا منہ پکڑا اور دل لگا کر جسارت کی… کہ انوشے کا سانس ہی اکھڑ گیا جبکہ وہ دور ہو کر مسکرا رہا تھا..
کدو ہو تم میرا “اسنے چاہت سے.. کہا..
کیا کدو “انوشے.. ن
نے حیرت سے دیکھا.. نہیں مطلب شوہر کتنے خوبصورت ناموں سے بیویوں کو پکارتے ہیں اور وہ کتنا پرجوش ہو کر اسے کدو کہہ رہا تھا…
اب ایسے منہ مت کھولو مجھے کچھ کچھ ہوتا ہے پھر بہت کچھ ہوتا ہے”وہ قہقہ لگانے لگا…
اسکا مکھڑا ہی ایسا تھا.. کہ وہ اس پر جتنا فدا ہوتا اتنا کم تھا…
اس وقت بھی سرخ لباس میں وہ اسکے دل پر بجلیاں گیرا رہی تھی…
انوشے اسکی بے باکی پر.. کہاں چھپتی.. کوئ اسرا ہی نہیں تھا تبھی وہ اٹھ کر فرار ہونے کو تھی کہ.. معاویہ کے کھنچنے پر وہ اسپر ایک ڈال کی طرح گیری.. اور بس.. اب وہ مکمل طور پر معاویہ کی دسترس میں.. اسکی محبت کی بارش میں بھیگنے لگی تھی…
……………..
پندرہ بیس منٹ میں وہ اس پارٹی میں تھا…
جس میں اسے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا…
وہ سب سے بڑا پرفیشنلی مل رہا تھا لگ ہی نہیں رہا تھا. کہ وہ بہرام ہے…
معمولی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ سب سے مل رہا تھا تبھی اسے کسی جلے کٹے کی اواز سنائ دی..
یہ وہی پولیٹیشن ہے نہ جس کی بیوی میڈیا پر.. اسکی دھجیاں بکھیر گئ تھی “وہ جو بھی تھا ہنسا تھا…
بہرام اپنی پوزیشن اور حثیت جانتا تھا تبھی…
بے پناہ غصہ انے کے باوجود میں.. اگے بڑھ گیا…
وہ بیر کو ٹچ بھی نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر وہ.. شدید سیاسی باتوں سے.. اسقدر بور ہوا کہ.. بلاخر وہ سب سے ایکسکیوز کرتا.. بار کیطرف طڑھا…
ہیلو ہینڈسم”بئیر کا پھلا گھونٹ لیتے ہی اسے.. ایک گرین ساڑھی میں ادھیڑ عمر عورت.. اپنے مقابل نظر ائ.. جو کہ.. مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی اسنے سر.. ہلایا اور گھونٹ حلق سے نیچے اتارا…
اکیلے ہو” اس عورت نے ب|ی ارام سے بہرام کے ہاتھ سے بیر لی اور اسکا جھوٹا پی گئ.. یہ عام بات تھی وہ جانتا تھا.. ایسی پارٹیز میں یہ سب ہوتا ہے..
نہیں.. میں اکیلا کب ہو” بہرام نے شانے اچکا کر.. دوسری بئیر اٹھا لی…
شراب ساتھ ہے نہ”گھونٹ بھر کر.. وہ مزے سے بولا تو وہ عورت کھلکھلائ..
شاباب نہیں چاہیے”اسنے سوال کیا…
بہرام… نے.. بس ہلکی سی ہنسی سے اسکی جانب دیکھا…
تبھی اسکا پی ایے ا گیا…
سر.. اپکو کسی سے ملوانا ہے.. پلیز… “اسنے کہا تو وہ سر ہلا کر اب اپنے پی کے پیچھے چلا گیا جبکہ.. اس عورت کو.. اسنے بھرپور مسکراہٹ دی تھی جو خود بھی مزے سے مسکراتی اب.. وہیں بئیر پینے میں مصروف ہو گئ جبکہ وہ اپنے پی کے ساتھ چلنے لگا…
سر یہ مسٹر ارہم ہیں…
…… نیوز چینل اونر” پی اے نے بتایا تو.. اسنے بس… سرد نظروں سے اسکی جانب دیکھا.. یہ وہی چینل تھا جہاں پر عابیر کام کرتی تھی مگر… یہ وہ لڑکا نہیں تھا جسے.. اسنے پیٹا تھا..
ارہم نے مسکرا کر اسکی جانب ہاتھ بڑھایا..
اپ سے مل کر خوشی ہوئی…” اسنے دوستانہ انداز میں کہا…
بہرام نے بس رسمی سا سر ہلایا…
سیاسی پارٹیز عجیب سی ہی ہوتی تھیں.. وہ اب اردگرد دیکھنے لگا…
ارہم… جو کسی کو گھاس نہ دالے بہرام سے کافی متاثر لگ رہا تھا..
اپ کا سیاسی کریر.. بہت شاندار گزر رہا ہے کونگراجولیشنز” اسنے کہا تب بھی بہرام نے بس سر ہال دیا…
تبھی.. وہیں واصف.. ا گیا..
سر.. اپ برا نہ مانیں تو.. ہم کچھ پیکس لے سکتیں ہیں اپ لوگوں کی ساتھ اور کچھ چھوٹا سا انٹرویو… ” واصف نے.. کہا تو.. ارہم نے خوشدلی سے شیور کہا جبکہ بہرام.. نے گھیری سانس کھینچی وہ صاف انکار کر دینا چاہتا تھا… مگر اسکے کانوں میں… جانی پہچانی اواز پڑی.. وہ جیسے تھم گیا…
ایس الگا.. وہ دوبارہ پیچھے جا کھرا ہوا ہو.. کتنی مشکلوں سے کھینچ کر وہ خود کو اس سے دور لایا تھا.. اور وہ پھر.. اسکے نہایت قریب ا گئ تھی…
گڈایونیگ سر… “وہ اسکی پشت پر تھی تبھی پیچان نہ سکی… اور بولی تو ارہم نے سر ہلا دیا…
جبکہ وہ پلٹا نہیں.. اور عابیر وک خود ہی اگے انا پڑا…
اور جیسے ہی وہ اگے ائ…
اسکی مسکراہٹ سکڑ گئ..
بہرام لاکھ چاہ کر بھی خود کو اسے دیکھنے سے روک نہ پایا.. وہ.. اسے دیکھے گیا… اور بس دیکھے گیا.. واصد.. تو سب سمھجہ رہا تھا مگر ارہم کے پلے کچھ نہ پڑا….
مس عابیر.. “ارہم نے زرا کھنکھارا.. دونوں ہی ہوش میں ائے..
اور عابیر اجنبی بن گئ.. جبکہ بہرام.. کیسے اجنبی بن سکتا تھا…
سر اپکی پکس لے لیں..” واصف نے کہا تو.. بہرام ارہم کے ساتھ کھڑا ہو گیا… اور.. واصف انکی تصویریں لینے لگا.. عابیر ایک طرف کھڑی تھی وہ بلکل بھی ارہم پر یہ واضح نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ بہرام کو جانتی ہے..
سر اپکو سیاسی کریر کافی اچھا گزر رہا ہے لوگوں میں اپ کافی مقبول ہو رہے ہیں… اس بارے میں اپ کچھ کہیں گے”
ان دونوں کو اکھٹے دیکھ کر.. باکی نیوز چینلز والے بھی انکے گرد جمع ہو گئے…
دھڑا دھڑ بہرام سے سوال کیے جانے لگے جبکہ… اسکی نظر تو کہیں اور تھی.. وہ شخص اسکی بیوی کا ہاتھ پکڑ رہا تھا.. جبکہ عابیر نے بھی ارہم کی اس حرکت پر بہرام کو دیکھا…
اسکی سرخ آنکھیں تھیں… وہ کسیے خود پر کنٹرول کر رہا تھا یہ بات تو بہرام خان ہی جانتا تھا..
مس عابیر یہ انٹرویو ہمارے چینل پر سب سے پہلے چلنا چاہءے.. سو ڈو یور ورک”ارہم نے کہا.. تو عابیر نے اسکی جانب دیکھا.. سر. کیا یی انٹرویو بہت ضروری ہے مءرا مطلب. کیا فرق پڑتا ہے اگر ہم یہ نہ لیں تو” عابءر نے کہا تو ارہم نے ھیرت سے اسکی جانب دیکھا..
اپ جانتی بھی ہیں.. کیا بات کر رہیں ہیں..
بہرام خان.. مشہورپولٹیشن.. اسکا انٹرویو ہمارے چینل کی ریٹینگ بڑھائے گا.. یہ.. پھر اپکی مرضی بڑھاے گی” وہ اچانک ہی غصے سے بولا تو.. عابیر… کچھ بول نہ سکی.. اور نہ چاہتے ہوئے بھی بہرام کے سامنے اسے اپنا مائک کرنا پڑا جبکہ وہ سوال کوئ نہیں کر رہی تھی جبکہ… بہرام بھی کوی جواب نہیں دے رہا تھا…
مس عابءر” ارہم نے.. اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
عابیر نے بہرام کی آنکھوں کی سرخی کو اچھے سے دیکھا.. اور پھر مسکرا دی..
وہ کیوں بچے گی اس سے… بھلا…
یس سر” وہ ادا سے پلٹی ارہم حیران ہوا…
سر.. جو اپ کہہ رہے ہیں وہ ہو جائے گا… “اسنے پلٹ کر.. ارہم کی تائ درست کی.. اور.. بہرام کیطرف پلٹی تو اب کہ وہ.. بہرام کے دل کو فتح سے کچل دینے والی عابیر تھی جبکہ ارہم.. اس لڑکی کے لمس پر وہیں روکا کھڑا تھا…
مسٹر بہران یہ فئیر پولیٹکس چل رہی ہے.. یہ وہی جو اپکی جاندانی.. یعنی میرا مطلب کرپشن “اسنے ہمیشہ کیطرح اسے ذلیل کیا..
بہرام کو لگا.. اسکی آنکھیں بھسم ہو جائیں گی…
جل رہیں تھیں اسکی آنکھیں اور دل..
ایکسکیوز می” اسنے کہا اور سب کو وہیں چھوڑتا وہ وہاں سے نکل گیا…
……………………
اپنے فلیت پر وہ با مشکل پہنچا تھا…
اسے اس وقت صرف ایک چیز کی ضرورت تھی اور وہ شراب تھی…
تبھی وہ اندر ایا.. اور.. نا جانے اسے اہنے گال پر کیا محسوس ہوا.. اسنے گال پر ہاتھ پھیرہ تو وہ معمولی سا گیلا تھا.. کیا وہ رویا تھا..
وہ شاکڈ ہوا…
نہیں یہ اسکا وہم تھا…
اسنے.. سوچا اور اپنے ہی اندر کے چور سے نگاہ بچا کر وہ.. فلءٹ میں ایا اور… اپنے کمرے میں. ا گیا…
ارمیش اس کمرے میں نہیں تھی….
بہرام اس روم سے باہر نکلا.. اور دوسرے روم میں ایا تو… وہ جائے نامز پر بیٹھی تھی…
بہران اسے دیکھ کر وہیں رعک گیا.. وہ اسکی تلاش میں نہیں تھا.. وہ تو شراب کی تلاش میں نکلا تھا.. مگر.. دروازے میں کھڑا رہ گیا.. اسے لگا اسکے.. تڑپتے دل پر ہلکی ہلکی اوس پڑ رہی ہو…
ارمیش نے.. دعا کے لیے ہاتھ اتھایے ہوئے تھے جبکہ.. پہلی بار.. اسے لگا اسکا دھیان دعا سے ہ[ گیا ہو.. اسنے ہاتھوں کی اوٹ سے پلکیں اٹھایں تو اسکے حالت سے ایکدم تھم سی گئ…
بہرام.. اسکی جانب.. چلنے لگا.. جبکہ. وہ یوں ہی بیٹھی تھی..
وہ ایکدم زمین پر بیٹھا… اور.. اسکیطرف دیکھتا کہ.. اسکے پیچھے ٹیبل پر اسکی محبت اسکا ہر غم جو بھلا دے.. وہ.. پڑی اسے اپنی جانب کھنچنے لگی.. وہ فورا اٹھ کر.. بوتل اٹھا گیا جبکہ پھر اسی جگہ پر بیٹھ گیا..
اور ارمیش کیطرف دیکھنے لگا..
ارمیش.. بھی اسی کی جانب دیکھ رہی تھی..
من پسند شخص ہر مرض کا علاج ہوتا ہے.. “اسنے جیسے سوال کیا تھا.. ارمیش.. سمھجی نہیں.. جبکہو ہ بوتل کھولنے لگا..
وہ نہیں جانتی تھی کیوں مگر اسکا دل کہہ رہا تھا.. وہ اسے اج پینے سے روک دے…
کیا وہ رک جائے گا.. یہ انا کا مسلہ بنا جر اسکو مارنے لگے گا.. اسے مار پیٹ سے تو ڈر کافی لگتا تھا…
مگر پھر بھی جرت کر کے اسکے لبوں میں جانے سے پہلے اسنے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا…
اپ… اپ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے.. “اسنے کہا تو بہرام کا ہاتھ وہیں تھم گیا…
جیسے وہ اسے دیکھ رہا تھا…
ارمیش خود کو تھپڑ کے لیے تیار کر چکی تھی…
بہرام نے بوتل زمین پر پٹخ دی..
اور…. اچانک ہی.. وہ جھکا.. اور وہ بھرپور مرد… جس کے بازوں میں اتنی ہمت تھی کہ وہ دنیا فتح کر لے وہ اسکی گود میں بکھر گیا تھا…
پھر وہ میرے ہر دکھ… کی وجہ کیوں ہے “وہ لاشعوری طور پر.. کہہ گیا.. حالانکہ اپنا اپ تو اسنے کبھی کسی پر عیاں نہیں کیا تھا..
ارمیش.. جو پہلے شاکڈ تھی.. پھر سب سمھجنے لگی.. اور… خودبخود اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی…
بہرام کی آنکھیں بند تھیں…
اپکے بالوں کو تیل لگا دوں” اسنے الٹا ہی جواب دیا تو.. وہ.. آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگا..
اسے لگا تھا اسے برا لگے گا جبکہ وہ اپنی اس جلد بازی پر خود بھی حیران تھا مگر اب اس لڑکی پر زیادہ حیران ہوا تھا…
ارمیش اسی کی جانب دیکھ رہی تھی اسنے کوئ ردعمل دیے بغیر… اسکی گردن میں اپنا بازو ڈالا.. اور ایکدم اسے اپنے چہرے پر جھکا کر… اسکے لبوں پر قفل ڈال دیا….
اسکے انداز میں اج جنون سا تھا جیسے.. وہ اپنے نادر کی اگ اس میں ممتقل کر کے سکون حاصل کرے گا……
کمرے میں معنی خیزی بڑھتی گی…
جبکہ ارمیش نے کوئ تردد نہیں کیا. وہ اپنی مرضی سے اس سے دور ہوا….
اور حد سے زیادہ نارمل تھا جبکہ ارمیش سفید دوپٹے کے ھالے میں سرخ تھی..
ہاں تم کیا کہہ رہی تھی “اسنے اٹھتے ہوے اسکیطرف دیکھا…. ارمیش سرخ چہرے سے.. سر جھکائے ہوئے تھی…
بہرام… اسکی جانب ایسے ہی دیکھتا رہا..
میری طرف دیکھو” اسنے دوبارہ بوتل کو کھولا…
ارمیش نے ایکدم دیکھا… وہ بوتل کھول چکا تھا…
جبکہ ابھی وہ… اپنے منہ کو لگاتا..
میں.. میں کہہ رہی تھی.. میں اپکے سر کو تیل لگا دیتی ہوں” اسنے بڑی مشکل سے اسکی نظروں سے خود کو بچانا چاہا تھا جبکہ اسکے چہرے پر کچھ لمہے پہلے کا کوئ تاثر نہیں تھا مگر وہ اب مظطرب نہیں لگ رہا تھا….
بہرام نے کوئ جواب نہیں دیا جبکہ ارمیش چاہتی تھی وہ اج پیے نہ تبھی وہ اٹھی اور اسکا بازو ہمت سے تھام کر وہ اسے لیے.. صوفے کی جانب چل دی جبکہ.. بہران اسکے ساتھ ساتھ کیس ربورٹ کیطرح تھا…
ارمیش کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں اس کے دماغ کو.. اسقدر سکون بخش رہیں تھیں کہ.. وہ عابیر نامی پھانس کو بھول کر اسکی گود میں یوں ہی سو گیا…
جبکہ ارمیش.. اج اسے نہ پینے دینے پر کامیاب ہو گئ تھی…
…………..
جاری ہے
