Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
صبح کا سورج نکل ایا تھا.. مگر پلکیں نہیں جھپکی گئیں تھیں… وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے… بیٹھا.. اسکی صورت تک رہا تھا.. جو سکون سے سو رہی تھی…
وقت گزر رہا تھا…
بہرام.. کے دل میں طوفان اٹھ رہے تھے..
ایسے طوفان… جن کے اگے.. اگر کوئ اتا.. تو جل کر بھسم ہو جاتا.. ہاں بلکل ایساہی تھا…
یہ لڑکی.. اگر اسکی چاہت نہ ہوتی تو.. وہ اسے بتاتا. کہ وہ کیا.. ہے.. اور.. بہران خان کالام کی جان کیا ہے…
بہرام نے مٹھی.. کو صوفے کے کونے پر مارنا شروع کیا.. اسکے الفاظ دماغ.. میں… چبھ رہے تھے…
وہ مارتا گیا.. ہاتھ مارتا گیا.. حتی کہ.. اسنے… ٹیبل پر سے گلاس اٹھا کر دیوار پر دے مارا…
عابیر چھناکے کی اواز سے.. اٹھی.. اور سامنے اسے دیکھ کر.. ایکدم دنگ رہ گئ..
کل رات کے لباس میں.. گلے میں ٹائ جھولائے.. اگلے بٹن کھولے بکھرے بالوں سے وہ کتنا مضطرب لگ رہا تھا…
عابیر کو حیرانگی ہوئ.. وہ اتنا خود پسند تھا یعنی..
ایک کمزوری.. اسکی.. اسکے ہاتھ ا گئ تھی…
عابیر.. نے اب ایک نظر گلاس کو دیکھا…
جو کئ ٹکڑوں میں تقسیم تھا…
اسی طرح ٹکڑے ہو جاتے ہیں…
جنھیں دوبارہ کوئ جوڑ نہیں سکتا…
جیسے تم اسے اسکی اصل شکل میں نہیں لا سکتے…
یوں ہی ٹکڑے کر دیا ہے.. تم سب نے مل کر”وہ سنجیدگی سے کہتی.. اٹھی.. واشروم میں جاتی بہرام نے ایکدم اسکو جکڑا..
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ…
محبت… یہ چار پانچ لفظ کو میں کسی پر پھینکنا بھی پسند نہ کرو اگر میں تم سے کر گیا تو تم… یہ سب کرو گی میرے ساتھ.. اج تک میری نیند کوئ حرام نہیں کر سکا تم نے ایک رات میں.. مجھے سونے نہ دیا…
عابیر بہرام.. کی اگر تم محبت ہو تو.. بہرام خود اپنا عشق ہے… “وہ دھاڑا.. عابیر کو ایک پل کے لیے اس سے خوف ایا…
اور محبت کو تو میں… گاڑ سکتا ہوں مگر میرا.. عشق….
نہ ختم ہونے والا ہے” وہ اسکے بازوں کو سختی سے جکڑتا.. چلا رہا تھا..
یہ ہی یہ ہی تمھارا غرور کسی دن کسی بہت کمزور کے ہاتھوں ٹوٹے گا..
تمھیں مجھ سے محبت وحبت نہیں ہے… صرف تمھارے دماغ میں فطور سوار ہے کسی طرح تم مجھے رام کر لو کسی طرح…
تم میرے وجود تک رسوائ کر لو… اور بس….
بس اتنا ہی…. محبت.. محبت کے معنی.. کیا ہیں.. تمھیں انکا علم نہیں…. سمھجے… ہٹو میرے راستے سے جتنی تم نے مجھے رسوائ دی ہے…
فقت چند لفظوں سے جو کمرے میں بند تمھیں بولے گے تم تڑپ اٹھے…
تم نے مجھے رسوا کیا ہے.. مجھے مار دیا ہے… تو تمھیں کیا لگتا ہے.. سکون سے جینے دوں گی میں تمھیں “وہ… جیسے پہٹ پڑی.. بہرام.. اسکی نفرت دیکھ کر رہ گیا…
عابیر نے اسے دھکا… دیا…
بہرام دو قدم دور ہوا..
اور عابیر وہاں سے نکل گئ…
بہرام.. چہرے پر ائے پسینے کا صاف کرتا… خود بھی ڈریسنگ روم میں چلا گیا…
حالانکہ وہ اسپر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر…
پھر بھی وہ اسپر غصہ کر گیا تھا…
…………………
تیار ہو کر وہ اپنے روم سے نکلا تو عابیر بھی اسکے ساتھ نکل ائ… بہرام نے چونک کر اسکو دیکھا.. اسوقت مردان خانے میں بہت لوگ تھے…
جبکہ.. باقی سب گھر والے بھی تھے…
بہرام.. ایک قدم پیچھے ہوا..
سائیں کچھ دیر بعد کمرے سے نکلنا… “اسنے.. کچھ جھک کر کہا اور اسکے اگے ا گیا..
کیوں” وہ ماتھے پر تیوری ڈالے بولی… اتنی نفرت تھی اسے اس سے.. کہ ایک.. بات بھی اسکی ماننا زہر لگتا تھا
گاوں کے لوگ.. ائے ہوئے ہیں اور مردان خانے میں… عورتیں اسی طرح منہ اٹھا کر نہیں اتی”اسنے پیار سے سمھجایا… کہ غصے سے وہ ہینڈل نہیں ہو رہی تھی..
عابیر نے ایک چبھتی نظر اسکی مدھم مسکراہٹ پر ڈالی اور
. ایک قدم دور ہو کر کمرے میں چلی گئ..
بہرام کی مسکراہٹ کھل اٹھی اسنے اسکی بات جو مان لی تھی..
بہرام وہیں سے نکلتا.. ہال میں ایا
تو سب سمیت گاوں کے لوگ اسے..
دیکھنے لگے..
اوو.. شیر… دادا کی جان”داجی نے.. بڑے فخر سے.. اسکے بے مثال حسن کو دیکھتے کہا.. تو وہ انکے ساتھ بیٹھ گیا..
گاوں کے لوگ.. اسکو.. تک رہے تھے….
بھئ ووٹنگ شروع ہو گئ ہے..
سب سے زیادہ ووٹ… ہمارے سائیں بہرام کو پڑنے چاہیے” انھوں نے کہا تو سب پرجوش ہو کر تالیاں بجانے لگے..
بہرام بھی معمولی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھا تھا اسے معاویہ کے علاوہ سب نظر ا رہے تھے..
معاویہ کو بھی منانا تھا… اسکے دماع نے کلک کیا..
اور اس سے پہلے وہ.. وہاں سے اٹھتا…
عابیر کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھ اسے جھٹکا لگا تھا….
ہال میں سکوت چھا گیا…
سب چپ کیوں ہو گئے… کیا بہرام خان کی بیوی سے نہیں ملیں گے”وہ.. سنجیدگی سے بولی اور اسکے بولنے کی دیر تھی ہال میں لوگوں کے درمیان چیماگویاں شروع تھیں..
سب کی زبان پر یہ ہی الفاظ تھی..
بہرام سائیں نے شادی کر لی…
بہرام سائیں نے شادی کر لی…
داجی.. نے عابیر کو دیکھا.. پھر.. اپنے ساکت کھڑے پوتے کو..
یاور” وہ.. سختی اور سنجیدگی سے بولے…
باہر لے جاو سب کو” اسنے.. پہلے لوگوں کو نکالنے کی کی… سب اہستہ اہستہ یاور خان کے کہنے پر باہر نکلنے لگے..
ارے وہ سب چلے گے.. میں ملی بھی نہیں “عابیر نے افسوس سے کہا…
وہاں موجود باقی لوگوں کے دل دھڑک اٹھے تھے اب کیا ہونے والا ہے.. کوئ نہیں جانتا تھا.. مگر ناگواری ہی ناگواری تھی…
گستاخ منہ بند کر اپنا” داجی.. اس سے پہلے عابیر پر جھپٹتے… بہرام نے بیچ میں ہی انکا ہاتھ پکڑلیا…
خان… یہ بنے گی ہمارے خاندان کی بہو یہ.. جسے.. پردے کا پاس نہیں..” داجی نے.. بہرام سے اپنا ہاتھ چھڑایا..
عابیر.. کی ہنسی چھوٹ گئ.. طنزیہ ہنسی
کیا لوگ تھے منافق عجیب..
واہ واہ واہ… کیا بات ہے پردہ.. یہاں پردہ بھی ہوتا ہے” وہ.. اردگرد دیکھنے لگی
. بہرام یوں ہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا…
اوہ ہاں مجھے لگتا ہے.. یہ سلاخیں پردہ ہیں. وہ عورتوں کے لیے بنائ گئ ہیں.. ماں اپنے بیٹے سے نہیں مل سکتی بہن اپنے بھائ سے کچھ ایسی پردہ داری ہے… ” عابیر نے.. زنان خانے کی جالی.. کو چھوا اسے محسوس ہوا وہاں پر عورتیں جمع تھیں..
وہ ازاد انسان تھا.. اسنے کبھی سوچا نہیں تھا.. کہ وہ یہ اس سے متعلق… کوئ انسان.. داجی کے کٹھڑے میں… کھڑے ہو گے.. اور وہ تماشہ بنے گا.. اسوقت بہرام کے ماتھے کی رگیں تن گئیں…
بہرام یہ تو اسے یہاں تو اسے سے لے جاو ورنہ اب ہم سے برا کوئ نہی ہو گا”عظیم خان بھی دھاڑے…
لو.. یہ کیوں لے کر جائیے گا. میں خود چلی جاو گی پاوں ہیں میرے پاس… اور.. ایک منٹ….
یہ جو منافقت اپ لوگوں نے پھیلائ ہوئ ہے.. اس کو.. ختم کریں یہاں تو سب ہی.. عجیب شکلوں کے ہیں..
قانون بھی صرف عورتوں کے لیے… واہ رے… حویلی اور اس حویلی کی نحوست”وہ بے دھڑک بولتی.. دوبارہ اپنے کمرے میں پلٹ گئ…
دیکھ رہے ہو خان… یہ یہ ہمارے اصول اور ہمیں منحوس کہہ گئ… اور تم چپ کھڑے رہ گئے.. ایسی گیدڑوں والی تربیت کی تھی میں نے تمھاری ایسی” داجی نے اسے جھنجھوڑ دیا…
بہرام انکا ہاتھ جھٹکتا…
حویلی کے حال سے ہی نکلنے لگا…
مگر اس سے پہلے وہ نکلتا… روکا…
میرے کمرے میں کوئ نہ جائے…. ” اسنے گردن موڑ کر کہا.. اور سیدھا.. اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گیا…
غصہ کہیں نہ کہیں تو نکلنا ہی تھا…
معلوم نہیں تھا اب کون معصوم جان اس غصے کی نظر ہونے والی تھی…
…………………..
وہ لوگ ساری رات نہیں ائے تھے..
وہ ڈرتی رہی تھی.. بار بار مورے.. کو یاد کر کے وہ روتی رہی تھی.
اسے تنہائ سے ڈر لگتا تھا…
اور پوری رات وہ کیسے.. گزار دیتی..
برحال نیند تو.. شاید.. انسان کو انگاروں پر بھی ا جاتی ہے جب اسنے انا ہو…
اور یہ ہی ہوا تھا فجر کی نماز پڑھ کر وہ مسلسل روے جا رہی تھی اور اچانک غنودگی نے جا لیا…
تبھی… گھر میں کھٹ پٹ کی اواز ائ…
وہ ایکدم الرٹ ہوئ ڈر مزید لگنے لگا…
حیدر”اتنے خوف میں بھی اسنے ایک جن کو ہی پکارہ تھا…
عجیب محبت تھی…
قدموں کی اواز بھی ا رہی تھی جبکہ اب بولنے کی اواز ا رہی تھی…
وہ.. بری طرح سہم چکی تھی..
اور جیسے ہی اسکی سماعتوں نے اس اواز کو پہچانا… اسے کچھ سہجائ نہیں دیا.. وہ بغیر کچھ دیکھے.. اندھا دھن باہر کیطرف بھاگی… چھوٹے سے.. ڈرائینگ روم میں.. وہ.. اور حور آمنے سامنے کھڑے تھے تبھی ارمیش ای اور.. اسکے سینے سے لگ گئ…
گھر میں کوئ ہے سائیں.. ابھی مجھے آوازیں ائ ہیں “وہ سسکنے لگی ایک پل کو تو حیدر حیران ہوا.. پھر اسے فکر ہوئ.. کہ گھر میں کون تھا.. مگر وہ تو ابھی ائے تھے اور بولے بھی وہی تھے ایک دوسرے سے…
اسے ارمیش کی کم عقلی پر غصہ ایا…
اسنے اسے خود سے دور کیا.. ارمیش خجالت کا شکار ہوئ.. وہ کیسے اتنی بے اختیار ہو سکتی تھی…
واہ بڑی ڈرامے باز ہو تم تو “حور نے نخوت سے کہا…
خانم دماغ ٹھیک ہے” حیدر نے بھی لتاڑا تو.. وہ مزید کنفیوز ہوتی.. اور رو دی..
ایییی تم زیچ نہیں ہوتے اسکے ہر وقت رونے دھونے سے… “حور نے برا سا منہ بنایا.. حیدر خاموش رہا جبکہ ارمیش حور کو دیکھ کر رہ گئ…
جاو کمرے میں کچھ دیر بعد ڈاکٹر کے پاس جانا ہے “اسنے سختی سے کہا تو.. ارمیش.. انسو پوچھتی.. کمرے میں چلی گئ…
یہ احساس شدت سے ہوا کہ اسکا کوئ نہیں تھا.. مگر.. تھا یہ غلط تھا وہ ناشکری نہیں تھی.. اللہ تھا اسکے ساتھ.. اور پھر اللہ نے اسکو اولاد جیسی نعمت دی… کیا یہ نعمتیں کم تھیں..
اسنے.. سوچتے ہوئےزمین پر پڑا دوپٹہ اٹھایا…
باہر سے آوازیں انا بند ہو گئیں تھیں.. تو کیا وہ اسکے روم میں چلا گیا تھا..
اسنے ایک پل کو سوچا… دل پھر خون کے انسو رونے لگا..
کیا بس اسکی قسمت میں ان آنسو کا ساتھ تھا…
اسنے.. ائینے میں اپنا عکس دیکھا.. سرخ سوجے پیپوٹے.. اور زردی مائل چہرہ کل والے کپڑے…
وہ تو کبھی ایسی نہیں دیکھتی تھی..
مگر حیدر کی محبت نے.. اسکا یہ حال کر دیا تھا…
اسے بھوک لگنے لگی.. تو.. وہ کچن میں ا گئ وہ ٹھیک سمھجی تھی وہ حور کے کمرے میں جا چکا تھا…
اسنے اس بند کمرے کو… افسوس سے دیکھا.. انسان.. کتنا… بڑا سمھجتا ہے خود کو.. حالانکہ اسکی.. اہمیت زرے کے برابر بھی نہیں.. وہ شخص بھی.. ایک نا محرم لڑکی کے ساتھ خود کو مصروف کر کے.. کتنا بڑا بن رہا تھا..
اسنے.. نظریں پھیریں اور کچن میں ا گئ…
بریڈ انڈا بناتے ہوئے نہ جانے اسکے ہاتھ خود باخود کانپنے لگے.. اسنے کچھ نہیں کھایا تھا جب سے یہاں ائ تھی..
وہ عورت اسکا بچہ لینا چاہتی تھی.. اسکا نہ سہی اسکے بچے کا احساس تو وہ کر سکتے تھے نہ.. اسنے پھر اسی کے بارے میں سوچا.. اب کہ وہ رونے لگی.. اسکی حمت نہیں بن رہی تھی.. مگر. وہ تنہا تھی.. مورے نین انوشے.. بی جان. تائ جان پھوپھو کون تھا جس کے سامنے وہ روتی اور اسکے احساس میں.. کوئ اسکے لیے کچھ بنا دیتا.. مگر کیا وہ بھی اسکے اپنے تھے…
بغیر بتائے.. وہ لڑکی انکے گھر سے کب سے غائب تھی نہ اسکی مورے یہ… نہ اسکے بابا جان.. یہ ہی قریب رشتے تھے نہ انھیں وہ یاد بھی نہیں ائ تھی.. وہ کیسے اپنے تھے…
جو اسکے لیے فکر مند نہیں تھے حیدر کے لیے تھے.. کہ وہ شخص اسکے ساتھ ٹھیک ہو جائے بس. وہ یہ چاہتے تھے…
اسنے.. کانپتے ہاتھوں سے. ابھی ایک لقمہ منہ میں رکھنا چاہا…
کہ حور.. نے. اسکے ہاتھ سے.. سلائس لے کر.. دور پھینک دیا..
تمھیں یہ احساس ہے کہ.. حیدر اور میں بھوکے ہیں ساری رات باہر.. گزار دی. اور اب بھی اپنے کھانے کی پڑی ہے… “وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسکو دیکھنے لگی…
ارمیش.. نے بھی اسکی جانب دیکھا…
ارمیش نے جواب نہ دیا اور.. پلیٹ اٹھا کر.. وہ کچن سے نکلنے کو تھی.. کہ حور.. کو.. پھر سے وہی احساس ہوا.. جیسے. وہ.. خاموشی کا طمانچہ مار گئ ہو اسے..
سمھجتی کیا ہو خود کو” حور نے اسکے ہاتھ سے پلیٹ لے لی..
راستہ چھوڑیں میرا” ارمیش کو اس سے خوف ا رہا تھا وہ اسپر چڑھ رہی تھی.. جبکہ نقاہت نے اسے. مزید کمزور کر دیا تھا.
مہرانی صاحبہ میرا گھر ہے یہ “حور نے غصے سے.. اسکا منہ پکڑا لیا.. ارمیش نے.. ہاتھ کی مدد سے خود کو چھڑوانا چاہا…
مگر حور کا بس نہیں چل رہا تھا اس کو بھی وہ کمزوری دے دے جو.. اس کے وجود میں ہے.. اور بس اس خیال نے اسکو.. آپے میں نہ چھوڑا…
اسنے ارمیش کو بری طرح جھنجھور دیا..
یہ یہ تیری آنکھیں بار بار کہتی ہیں مجھے کہ میں ماں نہیں بن سکتی.. میں نوچ لوں گی انھیں “وہ اسکی آنکھوں کو.. ابھی چوٹتی.. ارمیش نے اسے پیچھے دھکا دیا..
اسکا سانس پھول گیا تھا.. یہ سب کیا ہو رہا تھا کیا ہو گیا تھا اسے.. وہ کیا پاگل تھی.. اسکا دل… جیسے پھٹنے کو تھا وہ اسے پکارنا چاہتی تھی…
مگر.. حلق میں اواز دم توڑ رہی تھی…
جبکہ حور کا غصہ مزید اپے سے باہر ہوا.. کیونکہ پیچھے گیرتے ہی وہ منہ کے بل گیری تھی…
اور یہ گیرنا ہی اسے احساس.. کمتری میں کیا ڈالتا.. وہ… چیل کیطرح اسپر جھپٹی..
تیرا یہ بچہ میں مار دوں گی پھر تو بھی میرے جیسی ہی ہو جائیے گی تیری یہ آنکھیں برتری کا احساس نہ کریں گی “وہ کوئ پاگل لگ رہی تھی…
اسنے ارمیش کے پیٹ پر مارنا چاہا.. کہ.. ارمیش جو اسکی بکواس حیرت سے سن رہی تھی اچانک اس میں نا جانے کون سی فولادی قوت اسکے اندر ا گئ…
کہ اسنے کھینچ کر حور کے منہ پر تھپڑ دے مارا…
وہ اپنے قدموں پر لڑکھڑائ تھی..
میرے بچے کو ختم کرو گی تم.. تم “وہ حقارت سے چلای.. اسوقت وہ کہیں سے بھی ڈری سہمی ارمیش نہیں لگ رہی تھی…
یہ خانزادی کا بچہ ہے.. تمھاری جیسی ایری گیری کا نہیں جو… کسی کے ساتھ بھی راتیں گزار لے..” وہ.. اسکے بال نوچتی دھاڑی…
اور اسے پرے دھکیل دیا..
حیدر اسکے چیخنے چلانے پر نیندوں میں اٹھتا باہر ایا…
اور سامنے اک منظر دیکھ کر حیدر حیران رہ گیا.. ارمیش حور کے بالوں میں لٹکی ہوئ تھی…
ارمیش” حیدر کی دھاڑ پر اسکی گرفت ہلکی ہوئ مگر اج.. اسنے چھوڑا نہیں.. حور بری طرح رونے لگی..
حیدر یہ مجھے مار دے گی” وہ سسکی..
ارمیش کو اب اسکے ڈرامے کی.. کوی پرواہ نہیں تھی. وہ لڑکی اسکے بچے کو مارنے کے منسوبے بنا رہی تھی.. اسکے وجود میں پہلی بار کوی بات انگارے بھر گئ…
ارمیش خانم..” حیدر نے ارمیش کی کلای پکڑ کر جھٹکی..
کیا پاگل پن ہے.. کیا حرکتیں کر رہی ہو”حیدر اس سے پہلے کوی ایکشن لیتا.. ارمیش نے.. کھینچ کر حیدر کے منہ پر تھپڑ مارا…
حیدر سمیت حور پر بھی جیسے.. حیرتوں کا پہاڑ… ٹوٹ پڑا…
بے غیرت ہیں اپ.. بے غیرت… “وہ.. پھنکاری. اور.. دونوں پر نفرت بھری نظر ڈال کر وہ باہر بھاگ گئ..
حیدر نے اسے روکا نہیں وہ کہاں جا رہی تھی…
اس سے پوچھا نہیں وہ تو اس شہر سے ناواقف تھی پھر اسنے کہا جانا تھا…
وہ تو… ابھی. اس بات پر ہی ھیران تھا کہ.. یہ لڑکی اسکے منہ پر تھپڑ مار گئ…
حور.. خود بھی اس ڈری سہمی ارمیش کی جرت پر.. دم سادھ گی تھی.. اسکے.. ارادے ناکام ہوئے تھے اسے اسکا بھی افسوس تھا..
جبکہ ارمیش.. ہچکیوں سے روتی.. روڈ پر… اب سہمی ہوی چل رہی تھی..
نہیں جانا تھا اسنے حویلی نہیں جانا تھا.. اسنے.. اس جگہ. جہاں اسکی کوی اہمیت نہیں تھی ایک بار پھر.. اسے اسکے.. پلے ڈال دیتے…
اسے اکتاہٹ ہو گئ تھی.. اب اسے ان لوگوں میں نہیں رہنا تھا..
وہ روتے روتے بھی تھک گی تھی…
چلتے چلتے وہ کافی دور نکل ای تھی وہ تو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں تھی…
مگر وہ چلتی جا رہی تھی چلتی جا رہی تھی..
اج دل بری طرح ٹوٹا تھا.. وہ شخص ہر حال میں بس.. حور کا تھا جائز یہ نہ جائز…
اسے اب حیدر چاہیے بھی نہیں تھا…
وہ.. گلیوں میں موڑنے کا سوچنے لگی
مگر کہاں جانا تھا…
سمھجہ سے بالا تر تھا…
اسنے ابھی..ایک موڑتے موڑ پر قدم رکھا ہی تھا.. کہ.. ایک جیپ اسکے سامنے ا روکی…
بہرام لالا”ارمیش نے دھڑکتے دل سے اسکی جانب دیکھا..
جو آنکھوں پر گاگلز لگائے… اسکو گھور رہا تھا…
ارمیش اس سے دور ہونے لگی..
سٹاپ ارمیش” بہرام.. نے انگلی اٹھا کر اسکو روکا…
ارمیش کو ایسا لگا.. کافی عرصے بعد اسے کسی نے اسکے نام سے پکارہ تھا…
گاڑی میں او”بہرام نے ہھر سے کہا..
وہ ھویلی نہیں جانا چاہتی تھی…
مگر وہ جاتی تھی یہ شخص یوں نہیں جائے گا اپنی قسمت کو کوستی وہ.. اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ..
کیا قسمت.. کوئ نہیں راہ کھولنے والی تھی…
یہ کوئ نہیں جانتا تھا..
نگر دونوں جانب.. اج گھیرے زخم لگے ہوئے تھے..
..
………..
جاری ہے
