Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
وہ حویلی میں داخل ہوا….. تو.. رات کافی ہو گئ تھی..
مردان خانے میں کوئ نہیں تھا…
اسکے کمرے سے کچھ فاصلے پر ہی حیدر کا کمرہ تھا..
اج اسے نا جانے کیوں محسوس ہو رہا تھا.. اس حویلی میں.. رہنے والا ہر فرد بے حص سفاک ہے.. جس میں وہ وخد بھی شامل ہے…
وہ سر جھٹکتا… اپنے کمرے میر ایا.. اور.. دروازہ کھلنا چاہا جو کہ اندر سے بند تھا… اسنے ناگواری سے دروازے کو دیکھا…
عابیر دروازہ کھولو”شاید ناراضگی تھی تبھی… اسنے اسے اسکے نام سے پکارہ…
مگر جواب نادر تھا…
اسنے پھر کھٹکھایا….
ناجانے کس چیز نے اسے کمزور کیا تھا… کہ وہ شخص جو.. کسی کو گھاس نہ ڈالے.. وہ.. اپنے ہی کمرے کے باہر کھڑا دروازہ بجا رہا تھا…
اگر کوئ اور دیکھ لیتا.. تو غش کھا جاتا…
عابیر دروازہ کھولو”اسنے اب کہ سختی سے کہا
عابیر نے پھر بھی دروازہ نہیں کھولا بہرام.. دانت پیس کر وہاں سے ہٹا.. اور معاویہ کے کمرے کی جانب چل دیا جبکہ اسکے پلٹتے قدم. سن کر اندر وہ کھل کر مسکرائ تھی…
معاویہ کے کمرے کا دروازہ مخصوس انداز میں کھول کر.. وہ اندر ایا.. معاویہ.. ابھی… تیار تھا نہ جانے وہ کہاں جا رہا تھا…
بہرام کو دیکھ کر اسکا سپرے کرتا ہاتھ روکا…
ایک دن میں بیوی سے.. من بھر گیا جو میری یاد ا گئ “معاویہ نے طنز کیا.. بھرام.. نے… اسکی جانب گھور کر دیکھا..
یہ بات.. مت بھولنا.. کہ لس کی بیوی کے بارے میں بات کر رہے ہو” بہرام نے.. کہا اور اسکے بستر پر جوتوں سمیت لیٹ گیا…
اچھا یہ بات تم نے اپنی بیوی کو کہی کہ یہ بات مت بھولو کہ تم کس کے دوست کے بارے مین بات کر رہی ہو.. تب تو منہ میں… گڑھ بھر گیا تھا نہ” معاویہ شدید جزباتی ہوا.. درحقیقت.. اسے عابیر کی یہ بات بہت بری لگی…
بہرام نے.. جواب نہ دیا…
کہاں جا رہے ہو” اسنے بات بدلی
جہاں بھی جاو.. تم سے مطلب “وہ پھر بگڑا…
بہرام.. اٹھا…
اور.. اسکی گردن کو سختی سے دبوچ لیا..
سالے.. سمھجہ کیا رہا ہے خود کو.. میری معاشوقہ ہے تع جو طنز پر طنز مارے جا رہا ہے.. حویلی کی دیواریں بھی یہ بات جانتی ہے بہرام.. معاویہ اور داجی کے بغیر نہیں رہ سکتا.. پھر جب چل کر تیرے پاس ا ہی گیا ہوں.. تو… اتنا بھاو دیکھا رہا ہے”اسنے ایک دو پنچ.. چیخنے کے ساتھ اسکے پیٹ میں دے مارے..
کمینے” معاویہ بھی چلایا.. اور.. اسکا بازو پکڑ کر موڑنا چاہا.. کہ.. بہرام نے.. پھیر.. اسکی گردن دبوچ لی..
چھوڑ منحوس”وہ. دھاڑا…
ٹھیک ہے پہلے یہ بتا جا کہاں رہا ہے” بہرام نے ویسے ہی اسکو گھمایا…
معاویہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا بس نہ چلا اس ادمی کو کچا چبا جائے..
شبنم کے پاس. “معاویہ نے بتایا..
بہرام نے اسے جھٹکا
لو وہ بھی کوئ چیز… ہے” اسنے منہ بنایا…
تجھ سے پوچھا ہے”وہ پھر.. بگڑا…
شرم کر. تیری لائن اب تک انوشے سے فٹ نہیں ہوئ جو باہر منہ مارنے جا رہا ہے” اسنے کہا تو معاویہ کو.. ایک دم میں اس تبدیلی.. پر صدمہ ہی ہو گیا…
بہرام اسکی ایکٹینگ پر قہقہ لگا گیا…
مولوی صاحب فطوے.. کسی اور پر جھاڑنڑنا..
شادی اپکی ہوئ ہے میری نہیں.. میری شادی ہو گی مجھے بھی عشق وشق کا بھوت چڑھے گا.. میں بھی.. کر لوں گا کنارہ” اسنے.. کہا.. تو بہرام کو عابیر کا کل سے اب تک کا رویہ یاد ا گیا…
عجیب شے ہے.. یہ محبت بھی سمھجہ ہی نہیں اتی… کچکچھ” وہ.. کچھ گم سے انداز میں بولا… اور پھر معاویہ کو دیکھا..چل تیری انوشے سے معلاقات کراو”وہ ہنسا… پوپورے دانت نکال کر.. وہ معاویہ کو زہر لگا…
مجھے نہیں ملنا… “معاویہ کو.. اپنی حرکت یادد ائ…
کیوں” بہرام نے پوچھا…
تو معاویہ نے ایک نظر اسکو دیکھ کر.. ساری داستان اسے سنا دی..
بہرام.. کی ہنسی.. بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی معاویہ نے زیچ ہو کر… ایک مکا اسکے بازو پر دےمارا
تجھے کس نے ہیرو بننے کے لیے کہا تھا”وہ ہنستے ہوئے بولا…
یار مجھے غصہ ا گیا.. عجیب لڑکیاں ہیں محبت نہیں ہے.. بھلہ اپنے منگیتر سے نہیں ہے کوئ تک ہے” وہ.. بولا.. تو بہرام.. نے سر ہلایا..
ہم جیسے بھی ہیں… محبت توکرتے ہیں نہ. ااب..
مولوی کے گھر پر پیدہ ہوتے تو.. ایسا بھی کچھ نہ کرتے”معاویہ اپنی ہی حانکے جا رہا تھا جبکہ بہرام مسلسل ہنس رہا تھا..
تیری جیسے دوستو کو.. بندہ… دفن کر دے کہیں”وہ چیڑہ
بہرام.. نے.. اسکا غصہ دیکھ کر ہاتھ اٹھائے اوکے..
اگے کیا سوچا ہے اب… “اسنے سوال کیا…
کیا سوچنا ہے.. شادی کرو گا اور کیا.. وہ بھی تو دیکھے…
معاویہ تو ایسا ہی ہے “وہ جنونی سا لگا..
بیٹے پھر یہ محبت نہیں ہوئ…
اور اچھی بات ہے کرنا بھی مت…” اسنے مشورہ دیا تو.. بہرام.. کی ایک دن میں کایا پلٹ پر.. اسنے.. اسکو دیکھا..
تو کیوں.. دیوداس کی پارو لگ رہا ہے “اسنے پوچھا
بہرام.. نے گھور کر دیکھا.. اور پھر.. عابیر اسکے دماغ میں ا گئ.. وہ گاوں کے لوگوں کے سامنے مردان خانے میں آ گئ تھی…
حالانکہ کے میں نے روکا تھا.. بس داجی اور باقی سب اس بات پر مشتعل ہو گیے…”
اور بہرام خان
داجی کے بقول کالام کی جان… اساس بات پر غمزدہ ہے.. رہنے دے اندر کی بات بتا”
اسے یقین نہ ایا کہ اس جیسا.. انسان.. اس بات کو.
فوقیت دے گا…
بہرام نے اسکی جانب دیکھا..
عابیر کے الفاظ اسکا رویہ اسکی نفرت.. وہ سوش سوچ.. کر.. بے حد الجھ گیا تھا..
وہ ایسی نفرت کرتی ہے مجھ سے.. جس کا کبھی اختتام نہیں.”
اسنے کہا.. لہجے میں اسکے پہلی بار معایہ نے اداسی محسوس کی اگر داجی دیکھتے تو لازمی. عابیر کی ہڈی پھسلی ایک کر دیتے.. تاور تو نے.. ایک دن میں ہار مان لی” معاویہ کو غصہ ایا
… دو تھپڑ لگا… “معاویہ وک بلکل بھی اسکا اداس انداز اچھا نہ لگا…
تھپڑ..” وہ ہنسا…
بہت… تیزتیزہے میرا سرکار..ایسا وار کرتا ہے… کہ. اگلا لفظ نہ بول پائے بات تھپڑ کی کرتا ہے”وہ ہنسا
معاویہ کو غصہ تو بہت ایا مگر جانتا تھا وہ بے حد جزباتی انسان ہے..
تبھی معاویہ خاموش ہوا..
چل پیتے ہیں “اسنے کہا… تو بہرام بھی اٹھ گیا…
اور دونوں بوتلیں ہاتھ میں لے کر… حویلی کے لون میں ا گئے.. جہاں انھوں نے
کچھ دیر بعد ہی کھانے پینے کا سامان منگوا لیا.. اور اب دونوں کی باتیں تھیں نشہ تھا سکون تھا…
مگر.. محبت تھی دماغ سے چمٹ ہی گئ تھی…
……………………
عابیر سو کر اٹھی.. زہن دل و دماغ.. جیسے کافی عرصے بعد تھکاوٹ… سےسے ازاد ہویے تھے..
گھر والوں کے بارے میں.. سوچ کر.. اسکا دل اداس ہوا..
اسنے.. ان سے رابطہ کرنے کا سوچا….
وہ یوں اپنوں کے بغیر کیسے رہے گی
وہ یہ بھول گئ تھی کہ وہ وہاں سے رسوا ہو کر ائ ہے موبائل اسکے پاس نہیں تھا.. بابا مما کی یاد ا رہی تھی جبکہ ریہا بھی یاد ا رہی تھی.. یہ حویلی اسکے لیے بس ایک قید تھی جس سے وہ جلد ازاد ہو جانے والی تھی..
وہ اس شخص سے طلاق لے لے گی.. ہر حال میں..
نگر اس سے پہلے.. وہ اسے.. اتنا توڑ دے گی.. کہ.. اسکا امن سکون سب برباد ہو جائے گا.. اور… اسکی تکلیف سے سب سے زیادہ.. عابیر کو سکون ملتا…
مگر اسکے پاس موبائل نہیں تھا…
اسنے.. اب بہرام کے بارے میں سوچا…
کل رات دروازہ نہ کھول کر اسنے اسکے منہ پر ایک اور طمانچہ مارا تھا…
وہ اٹھی اور ارام سے…
صاف ستھری ہوی لباس وہی تھا.. اب اسے یہ لباس بھی بدلنا تھا…
اسنے… جان بوجھ کر.. کمرے سے باہر قدم نکال دیے دوپہر کا وقت تھا مردان جانہ بھرا ہوا.. تھا…
جبکہ وہ. اسے کہیں نہ دیکھا…
یہ کیا کر رہی ہو ابھی مت نکلو کمرے سے ورنہ چھپ کر پیچھلے لون کیطرف سے یہاں ا جاو… “نین کی اواز تھی اسنے ساتھ دیکھا… اور.. اسے چیڑ ہوئ.. یہ لڑکی بلاوجہ اس سے چیپک رہی تھی اسنے گھور کر دیکھا.. اور سامنے چل دی.. نین نے دل تھام لیا..
یہ جرت نہیں. سیدھا سیدھا داجی سے پنگا تھا..
کہاں ہے تمھارا پوتا… شرم نہیں اتی بیوی کو چھور کر کس کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے “وہ بولی.. تو… سب نے ہی چونک کر اسکی جانب دیکھا…
لڑکی دفع ہو جاو یہاں سے” داجی نے.. دانت پیستے ہویے صفدر صاحب کو دیکھا…
جو اسے.. ہی دیکھ رہا تھا…
کیوں میں کیوں جاو… بات سنو میری تمھارے زانان خانے میں دبکی کوئ… لڑکی نہیں ہوں میں… جب وہ ا جائے تو اسے کہ دینا.. کمرے میں ائے” وہ جان بوجھ کر… اسقدر بدتمیزی کرتی چلی گئ…
سب حونک تھے…
بہرام خان کو بلاو” داجی نے.. دھار کر منیب کو کہا تو وہ معاویہ کے کمرے کیطرف بھاگا….
معاویہ کا دروازہ کھٹکھٹا کر… اسنے اندر خود ہی قدم رکھ دیے.. وہ دونوں دو مختلف سمتوں میں مزے سے سو رہے تھے..
خان” منیب نے.. مدھم اواز میں پکارہ..
بہرام سائیں “اسنے پھر پکارہ بہرام نے اسکی جانب دیکھا.. آنکھوں میں سرخی تھی کچی نیند کا خمار.. تھا.. منیب پر اس سے پہلے نزلہ گیرتا.. اسنے سب بک دیا.. بہرام جھٹکا کہا کر اٹھا معاویہ بھی اٹھ گیا جبکہ وہ اگے پیچھے وہاں سے نکلے….
داجی ادھر ادھر ہال میں چکر کاٹتے دیکھے..
تو مارا گیا اج”معاویہ نے اسے اطلاع دی..
نئ خبر ہے” وہ چیڑا.. اور داجی کے سامنے جا کھڑا ہوا..
خان وہ بدزات… اسے اسے تمیز ہی نہیں.. ہم اور مزید ایک دن اسے برداچمشت نہیں کریں گے… سمھجے تم فارغ کرو اسے “
داجی چلایے تو اسنے ناگوار نظریں اٹھایں..
داجی بیوی ہے وہ میری” وہ.. ضبط سے بولا.. انکا گالی دینا اسے کہان برداشت ہوا تھا..
اچھا شہزادے.. یہ بیوی ہے تمھاری جس کے کمرے سے نکلنے کے بجایے تم معاویہ سائیں کے کمرے سے نکلے… کمال ہے خان تم پر اتنے اندھے ہو جاو گے تم مھبت میں واہ” انھوں نے گھور کر اسے دیکھا.. تو. وہ. خاموش رہ گیا..
بہرام سائیں.. بات کو سمھجو. وہ لڑکی
. ہماری روایات.. ہماری رسموں میں نہیں رہ سکتی وہ ایک بے باک لڑکی ہے… اور یہاں اس کی کوی جگہ نہیں” یاور جان نے بھی سمھجایا..
اس سے پہلے وہ کوئ بات بولتا..
ہیچھے سے… اتی عابیر کی اواز پر.. وہ.. وہیں تھم گیا…
روایات… اپکی روایات ہر میں تھوکتی بھی نہیں… اور اپ مجھے غالی دیں گے… ہمت بھی کیسے ہوئ ایری غیری نہیں ہون جو کوئ بھی منہ اتھا کر گالی دے دے گا..
اپ سب اتنے ہی عزت دار تمیز دار ہیں… تو اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہوئے کافی کنجوسیت.. نہیں دیکھائ “وہ ھلق کے بل چلائ…
عظیم خان یاور خان جواد خان… باپ کے ساتھ اسقدر بدتمیزانہ سلوک پر ایکدم اکھڑے… بہرام.. ان سب کے سامنے تن گیا جبکہ عابیر تو چاہتی یہ ہی تھی اس شخص کو بے عزت کر کے رکھ دے…
بے غیرت ہو گئے ہو کیا بہرام خان..” عظیم خاں چلائے..
بابا سائیں یہ اپکا مسلہ نہیں.. وہ عابیر کو ہاتھ سے پیچھے کرتا.. بولا…
اچھا تو یہ چھٹانک بھر کی لڑکی ہمارے بابا سائیں کو کچھ بھی کہاے… اور ہم سنتے رہیں” یاور.. خان.. بولے تو وہ ابھی کچھ جواب دیتا کہ عابیر اپنا ہاتھ اس سے چھڑوا کر.. وہاں سے چلی گئ..
داجی نے.. دانت بھینچ کر بہرام کو دیکھا…
اور وہ بھی چلے گئے جبکہ سب ہی وہاں سے رفتا رفتا نکل گئے عابیر نے.. دور کھڑے.. اس شخص کو اکیلے دیکھا…
اب سمھجہ ائ بہرام خان.. اپنوں کا بیگانہ ہو جانا کتنا عزیت ناک ہے.. محسوس کرو تم بھی اس تکلیف کو اچھے سے.. “اور ہھر وہ وہاں سے چلی گی.. جبکہ بہرام.. کے ساتھ معاویہ.. کھڑا تھا.
تم کیوں کھڑے ہو چلے جاو اکیلا چھوڑ کر تم بھی” وہ دھاڑا.. ٹیبل پر پڑا واس دیوار پر دے مارا….
بہرام ریلکس “معاویہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
ریلکس ریلکس ہو جاو میں… اج میں اس لرکیس ے پوچھ ہی لوں یہ چاہتی کیا ہے”وہ.. دندناتا ہوا معاویہ کو راستے سے ہٹاتا.. اپنے روم میں ایا.. .
جہاں عابیر… بیڈ پر بیٹھی… تھی. جیسے اسی کی منتظر ہو..
بہرام نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے نزدیک کیا..
کیوں کر رہی ہو ایسا… کیوں سکون نہیں لینے دے رہی مجھے” وہ… جیسے بے بسی سے بولا تھا..
دو دن میں ہار گئے تم… صرف دو دن میں ایک ماہ.. تم نے میرا ہر ہر لمہہ جھنم کر دیا تھا..” عابیر اسکو نفرت سے دیکھتی بولی..
کیسے مانو گی عابیر سائیں کیسے.. بتاو مجھے جو کہو گی وہ کروں گا مگر “
میرے مان باپ اور معاشرے کے سامنے میری عزت بھال کر سکتے ہو”وہ اسکی بات کاٹتی اسے دھکا دے کر چلائ…
بہرام نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ وہ مظطرب تھا اسنے ایسا تو کچھ نہیں سوچا تھا…
مگر.. وہ سکون چاہتا تھا کیونکہ وہ سکون کا عادی تھا..
ٹھیک ہے جو تم چاہتی ہو وہی ہو گا… وعدہ ہے میرا” اسنے ہلکی سی سمائیل کی.. عابیر نخوت سے اسے دیکھ کر روکھ مور گئ.. اسکی اسقدر نفرت بہرام کو نہ جانے کیوں توڑ گئ تھی..
وہ جو غرور تھا خود پر وہ پاش پاش ہو رہا تھا..
مگر بری تکلیف دے کر..
بہرام وشروم میں جانے لگا..
رک جاو.. اتنی بڑی حویلی ہے کہیں بھی چلے جاو “اسنے اسے باہر نکلنا چاہا..
بہرام بغیر جواب دیے.. واشروم میں چلا گیا مگر نہ جانے اسکی سانسیں کیوں پھول گیین تھیں محبت تکلیف دے رہی تھی یہ وہ لڑکی…
…………………..
حیدر نے اسکے بعد پورے دن حور سے کوئ بات نہ کی..
جبکہ حور بھی بلائ بلائ پھیر رہی تھی..
حیدر کے اندر ارمیش اگ لگا گئ تھی..
وہ کچھ دیر بعد ہی اسے ڈھنڈنے نکلا تھا.. مگر… وہ اسے کہیں نہ ملی اور اب وہ گھر میں داخل ہوا تھا… حور نے اس سے سوال بھی کیا مگر.. اسنے کوئ جواب نہ دیا..
اس وت ارمیش اور اپنی مردانگی پر پڑنے والا تھپر اسے تلملا رہا تھا…
کیا وہ حویلی چلی گئ تھی..
وہ… سوچتے ہوئے… یاور جان کو نمبر ڈائل ل کرنے لگا…
بیوی کی پریشانی ہو رہی ہے “وحر نے دروازہ بند کیا.. اور اسکیطرف دیکھا..
دیکھ رہی ہو اس تھپڑ کا نشان” اسنے غصے سے مبائل پٹختے.. حور کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا..
حور اسکے گال پر معمولی سی سرخی دیکھ کر… ابھی کچھ بولتی کہ وہ بولا
اول تو اسے مجھے ملنا نہیں چاہیے اور اگر مل گئ تو زندہ گاڑھ دوں گا” وہ اسے جھٹک کر دوبارہ.. موبائل پر جھپٹا…
حور کے دل پہر سکون سا پڑا..
محتشم کو خلا.. کے کاغز بھیج دو…. میں جلد از جلد تمھارے نکاح میں انا چاہتی ہوں” اسنے حیدر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا…
حیدر نے جھٹکا کہا کر اسکو دیکھا.. موبائل دوبارہ وہیں چھوڑ دیا.. پورے دن کی تھکن جیسے… ان لفظوں نے اتار دی تھی..
تم سچ کہہ رہی ہو” وہ… جیسے بے یقین تھا..
ہاں.. “حور نے اسکی خوشی دیکھ کر… خود بھی خوشی محسوس کی خوشیوں پر اسکا بھی حق تھا…
مگر حیدر.. وہ… بچہ”حور نے.. جھجھکتے ہوئے کہا..
وہ میرا ہے” وہ بے لچک لہجے میں بولا
تو حور کو تسلی ہو گئ..
جبکہ حیدر نے اسے سینے سے لگا لیا…. جبکہ دونوں ہی مسکرائے تھے.. وہ یہ بھول گئے تھے کہ دوسروں کی خوشیاں برباد کر کے… وہ خوش کیسے رہ سکتے تھے….
………….
وہ اس برے سارے فلیٹ میں اکیلی تھی…
ڈر تو لگ رہا تھا مگر دل میں بے چینی نہیں تھی…
دل پرسکون تھا….
اسنے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا.. اور مسکرا دی…
میرا رب تمھاری حفاظت کرے گا”اسنے سوچا.. اور اٹھی فلیٹ میں سب چیز موجود تھی.. وہ کھانا بھی کھا چکی تھی…
وہ حویلی والوں سے دور ہی رہنا چاہتی تھی مگر اسنے بہرام کو ایسا کچھ نہیں کھا تھا پھر بھی وہ اسے یہاں لے ایا.. تھا..
انھی وہ یہ ہی سوچ رہی تھی کہ دروازہ بجا…
………..
………….
جاری ہے
