Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
ارمیش..روم.میں آئ تو.. تھکن سی تھی حالانکہ وہ یوں ہی بی جان کے پاس لیٹی رہی.. تھی پھر بھی تھکان طبعیت بوجھل… دل الٹ سا رہا تھا
.
حیدر نے اسے پھر ملگجے حولیے میں دیکھا… ماتھے پر بل ڈل گئے…
خانم یہ منحوس شکل اور منحوس حولیہ دیکھانا ہو تو آنکھوں کے سامنے مت آیا کرو… “وہ سرد لہجے میں بولا..
حالنکہ کہ یہ معمولی بات تھی…. مگر ارمیش کا دل اس وقت اس قدر حساس ہو رہا تھا کہ وہ… آنکھوں پر… مٹھیاں رکھ کر وہیں بیٹھتی رونے لگی…
اسکی سسکیاں سن کر حیدر.. منہ کھولے اسے دیکھنے لگا..
ایسا بھی کیا.. بول دیا جو اتنا ڈرامہ کر رہی ہو “وہ غرایا…
ارمیش کا رونا بند نہ ہوا.. الٹا.. وہ پہلی بار اسے.. اب غصے سے گھور رہی تھی…
حیدر… توغش کھا گیا….
یہ نین کی صعوبت کا اثر ہے کہ زبان تڑ تڑ اور آنکھیں… گھورنے کے کام آنے لگیں ہیں مگر خانم بھولو مت.. آنکھیں نوچ لیں گے زبان کھینچ لیں گے” وہ سنجیدگی سے بولا…
ارمیش بے بس سی اٹھی…
چینج کرو” وہ پیچھے سے بولا.. وہ اسکا مفہوم سمھجہ چکی تھی.. مگر.. وہ تھکی ہوئ تھی بری طرح.. دل الگ.. عجیب و غریب سا ہو رہا تھا..
وہ جو.. اسکا ہر حکم مانتی تھی.. بھنا کر.. بغیر ریسپونس کیے.. واشروم میں جانے لگی کہ.. پیچھے سے حیدر نے اسکی چوٹیا سمیت سر… گرفت میں لے لیا….
یہ ناز نخرے.. کس عاشق کو دیکھا رہی ہو… ہم تو تمھارے کچھ بھی نہیں لگتے…..
پھر کون سا عاشق پال لیا جس نے.. ہمارے سامنے سر اٹھانا سیکھا دیا.. “وہ اسکے کان میں غرا رہا تھا.. ارمیش کی آنکھیں بھیگی
سائیں میں.. تھک.. تھک گئ تھی” ارمیش کو ڈر لگنے لگا…
اور.. خانم تمھیں لگتا ہے.. ہمیں تمھاری تھکاوٹ کی رتی بھی پرواہ ہے “وہ.. اسکا منہ دبوچے اپنی انگلیاں اسکے نازک گالوں میں گاڑے کھڑا تھا..
ارمیش میں اسکا ہاتھ ہٹانے کی جرت نہیں تھی..
میں میں.. لباس تبدیل کر کے آپکے پاس.. آتی ہوں.. “وہ مرے دل سے.. ربورٹ کیطرح.. بولی تو حیدر نے اسے جھٹک دیا..
حور بہت خوبصورت تھی.. ہر طرح پرفیکٹ.. اکثر ہم سوچتے تھے کیسے.. کیسے کوئ اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے….
مگر دیکھو… ہمارے نصیب میں.. تمھاری یہ منحوس صورت آ گئ.. اور اوپر سے.. اس احسان.. کو خانم جھنجھلا کر نہیں.. خندہ پیشانی سے قبول کرو… اب جاو “وہ.. زہر کے نشتر اچھالتا… بستر پر جا کر لیٹ گیا.. جبکہ..
وہ مرے مرے قدموں سے اپنا نائیٹ ڈریس.. جو سب کے سب.. حیدر کی مرضی منشا کے تھے.. جنھیں.. وہ.. کبھی.. اکیلے میں بھی نکال کر نہ دیکھے… وہ.. درد سی آہیں بھرتی… واشروم میں قید ہو گئ…
وہ بری طرح رونے لگی کہ اسکی سسکیاں باہر بھی سنائ دے رہیں تھیں…
مگر.. وہ.. بہرہ سا ہو گیا تھا..
روتے روتے وہ بے حال ہوتی بیٹھ گئ….
مگر آنے والی قے نے.. اسکو اٹھنے پر مجبور کیا…
اور وہ واشبیسن پر جھک گئ…
بے حال ہوتے اسنے سر اٹھایا… ط
تو اسکا معصوم چہرہ… سرخ ہو رہا تھا جبکہ زردیاں گھولی ہوئیں تھیں.. وہ کانپنے لگی… اسے مزید قے.. آنے لگی.. اور پھر.. مسلسل.. آنے سے.. اسکا اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا.. وہ ہنپتی.. دروازے تک پہنچی…
آنسو متواتر گیر رہے تھے.. حیدر.. اسکو دیکھ کر.. اچانک اٹھا..
خانم “اسکے لب پھڑ پھڑائے…
ارمیش… نے ہونٹ نکال کر سسکی لی.. وہ…
اسکی کمر میں فورا ہاتھ ڈال کر سہارا دے گیا…
ارمیش.. اسپر گیر گئ جبکہ حیدر اسے بیڈ پر لے آیا.. انٹرکام اٹھا کر اسنے فورا ڈاکٹر کو بلانے کا حکم دیا.. وہ شاید پہلی بار.. پریشان ہوا تھا.. وہ بھی اسکے لیے..
……….. …
ڈاکٹر.. آیا… اور خوشخبری سنائی تو مانو.. حویلی.. میں مسرت آمیز ایک لہر دوڑ گئ.. داجی کا فخر سے سینہ چوڑا ہو گیا تھا.. کہ.. انکا پر پوتا ہی ہو گا… جبکہ بی جان بھی بہت خوش تھیں.. اور باقی سب بھی…. لڑکوں نے یہ خبر سنی ضرور.. مگر کوئ خاص ردعمل نہ دے سکے.. جبکہ لڑکیاں خوشی سے اچھل رہیں تھیں.. کیونکہ انھیں ارمیش عزیز تھی.. ایک تو شادی کی خوشی دوسری یہ خوشی.. جیسے…
مزا دوبالا ہو گیا تھا..
حیدر خاموش تھا…
صاف بات تھی وہ اس عورت سے اپنی اولاد نہیں چاہتا تھا.. جبکہ ارمیش…. نے جب یہ خبر سنی تو عجیب سا احساس وجود میں جاگا…
مگر حیدر کی خاموشی اور سنجیدگی اسکے حوصلے توڑ گئ…
ہم یہ بچہ نہیں چاہتے تم ہمارے ساتھ شہر چلو.. اور آزاد ہو اس جھنجھٹ سے”وہ.. صوفے پر بیٹھا اس وقت.. ارمیش کو حد سے زیادہ برا لگا.. کہ اسکا بس نہ چلا.. وہ سامنے بیٹھے شخص کا منہ نوچ لے.. اور پوچھے.. کہ اپنی اولاد کے ساتھ ہی.. اتنا ظلم…
مگر وہ خاموش رہی.. اسکو دیکھتی رہی….
سنائ دے رہا ہے خانم یہ.. کانوں میں.. رویاں ڈال لیں ہیں “وہ.. اسکو گھورتے ہوئے بولا…
اپنی نسل ختم کر رہیں ہیں سائیں” وہ مدھم آواز میں افسوس سے بولی…
حیدر آٹھ کے اسکے نزدیک آ گیا…
اگر یہ نسل تم سے نہ ہوتی تو.. مر کے بھی نہیں کرتا.. ہم نہیں چاہتے اپنی اولاد سے بھی نفرت کریں اسکی شکل کو بھی کوسیں.. تو بہتر ہے.. آزاد ہو اس جھنجھٹ سے” وہ دوٹوک لہجے میں.. اسکے دل کے کئ ٹکڑے کر گیا…
اور داجی کو کوئ خوشی ہماری طرف سے مل. رہی ہے.. کیسے گوارا کریں… ” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اضطرابی کیفیت کا شکار تھا…
سائیں ایسا ظلم مت کریں آپ مت قبول کریں اس بچے کو.. مگر . قتل مت کریں کیا منہ دکھائیں گے قیامت کو اس کو ہم… “ارمیش کو اسکے لہجے میں کوئ لچک نہ دیکھی.. اسے انداز ہوا کہ وہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے.. اسکے لیے کوئ گنجائش بھی نہیں…. تو.. اسے اپنے بچے کی جان خطرے میں محسوس ہوئ..
بکواس بند کرو” وہ چلایا.. ارمیش روتی رہی.. اسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگی…
حیدر نے اسکا منہ.. سختی سے پکڑا…
ہم، مزید تماشے برداشت نہیں کریں گے.. باہر جا رہے ہیں.. دس منٹ میں واپس ائیں.. تو.. ہماری مرضی.. کے مطابق ہمیں ملنا.. ورنہ… اس کے بعد کی ذمہ دار خود ہو گی” اسکا منہ جھٹک کر.. وہ دو قدم دور ہوا..
نہیں..” ارمیش… معمولی سا چلائ.. مگر وہ سفاک بڑے بڑے قدم بھرتا.. باہر نکل گیا… جبکہ ارمیش اسکے پیچھے دروازے تک آئ تھی.. خوف سے.. وہ اپنے.. پیٹ پر ہاتھ رکھ کر رہ گئ…
……………
اسکے لیے یہ خبر کسی شاکڈ سے کم نہیں تھی کہ.. نیہا کے ساتھ اسکی بھی شادی کی جا رہی تھی… اور وہ بھی احمر خان کے ساتھ.. اسکے وجود میں جیسے پتنگے لگ گئے…
سب اس فیصلے پر بہت خوش تھے یہاں تک کے مورے بھی بی جان.. اور پھوپھو اسکو پیار کر کے جا چکیں تھیں جبکہ باقی سب بھی اور وہ یوں ہی بیٹھی خلا میں گھور رہی تھی..
شادی ہونی تھی جلد با دیر.. اسے اس سے کوئی مسلہ نہیں تھا مگر اپنے سے چھوٹے شخص سے… کیا کمی تھی اس میں جو.. اسے احمر کے ساتھ باندھا جا رہا تھا.. جو خود کچھ نہیں تھا… بچپن سے… وہ.. اپنے نانکے میں رہتا تھا…
ایسے شخص کے ساتھ اسنے شادی کا تصور نہیں کیا تھا…
اسے غصہ آنے لگا.. اور ساتھ رونا بھی مگر.. یہ بات تو طے تھی کہ وہ کسی احمر.. کے ساتھ شادی نہیں کرے گی…
مورے.. اسکے پاس آئیں انوشے بھی وہیں بیٹھی تھی کافی ایکسائیڈیڈ لگ رہی تھی….
مورے میں احمر سے شادی نہیں کرو گی”اچانک کمرے کی چہکتی ہوئ فضا میں اسکی آواز بلند ہوئ تو انوشے.. سمیت مورے بھی.. سن اسے دیکھنے لگیں…
میں نے کہہ دیا ہے.. میں اپنے سے چھوٹے لڑکے سے کبھی شادی نہیں کرو گی..” وہ باغی لہجے میں بولی…
مورے نے خوف سے اسکے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا…
بکواس کیے جا رہی ہو.. منہ پھاڑ کر شرم حیا ختم ہو گئ ہے یوں منہ اٹھا کر بول دیا جاتا ہے کچھ بھی…” مورے.. غصے سے بولیں…
ہاں جب آپ پر ظلم ہو رہا ہو تو یوں ہی ہوتا ہے.. کیا سمجھتے ہیں یہ داجی خود کو…. سب کو اپنی پسند سے جوڑ رہے ہیں یہ جانے بغیر دوسرا کیا چاہتا ہے اور وہ بھی اس شخص کے ساتھ جو بچپن سے یہاں پڑا ہے وہ خود کچھ بھی نہیں … ” وہ چلا اٹھی جبکہ.. بی جان بھی وہیں کھڑی رہ گئیں جو اسپر سے مرچے وارنے کو لائیں تھیں اسکے علاوہ ان سے چند قدم دور… پھوپھو بھی ساکت تھیں…
منہ بند کر بدبخت اپنا” مورے کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے.. اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارا. جبکہ اسے اس تھپڑ سے کوئ فرق نہیں پڑا..
دیکھ لوں گی میں.. جا رہی ہوں میں حیدر لالا کے پاس اور پوچھو تو زرا… کس جنم کا بدلہ لے رہیں ہیں فیصلے انکے ہاتھ میں ہیں… اور وہ اب.. سب سے بدلے نکالیں گے کیا”سرخ آنکھوں سے وہ کہیں سے بھی.. وہ نین نہیں لگ رہی تھی جو ہر وقت چھکتی رہتی تھی..
نین” انوشے نے اسکو پکڑنا چاہا….
جبکہ وہ ہاتھ جھٹکتی.. وہاں سے نکلی تو ایک پل کے لیے بی جان اور پھوپھو کو دیکھ کر.. اسکے دل کو کچھ ہوا.. کہ ان دونوں کی ہی آنکھیں نم تھیں…
مگر آج وہ جزبات میں بہہ جاتی تو ساری زندگی.. احمر.. کو برداشت کرنا پڑتا تبھی کسی کے بھی سنے بغیر.. وہ… بغیر لحاظ کے… مردان خانے کیطرف بڑھی..
روک جاو. نین”تائ نے بھی فرح خانم نے بھی.. اس سے روکنا چاہا مگر.. وہ.. نہ روکی…
اور مردان.. خانے کی جالی.. آج پہلی بار کسی عورت نے پار کر لی تھی….
وہاں.. سب ہال میں کسی موضوع کو زیر بحث لائے ہوئے تھے..
الیکشن کے دن قریب آ رہے تھے جبکہ بہرام کمرہ نشین تھا کوئ سمھجہ نہہ پا رہا تھا.. تبھی.. نین کو پردے کی اوٹ میں سرخ آنکھوں سے وہاں دیکھ کر سب ایکدم اٹھے…
لڑکی ہوش میں تو ہو”داجی.. غصے سے دھاڑے جان تو گئے تھے کہ یہ بغاوت کس نے کرنے کی جرت کی تھی…
جی ہوش میں ہوں مگر آپ اپنے ہوش گوا چکے ہیں” وہ سرد لہجے میں بولی تو… داجی اشتعال سے اٹھے… اور ابھی وہ اسکا منہ تھپڑوں سے سجاتے.. احمر نے بیچ میں ٹوک دیا…
داجی.. داجی.. ایک منٹ پلیز” اسکے لہجے میں التجا تھی.. نین کو وہ سخت زہر لگا.. مگر وہ یوں ہی کھڑی رہی..
نین خانم آپ جائیں.. ہماری عورتوں کا مردان خانے میں کوئ کام نہیں… آپ کو جو بات کرنی ہے تمیز کے دائرے میں بی جان سے کریں وہ داجی تک پہنچا دیں گے” احمر.. نظر جھکائے بولا.. تو سب نے.. جیسے تائیدی انداز میں اسے دیکھا جیسے وہ بلکل ٹھیک کہہ رہا ہو…
تم اپنا منہ بند رکھو احمر خان… داجی.. ہر بار اپنی مرضی ہم پر نہیں تھوپ سکتے مجھے تم سے شادی نہیں کرنی کبھی نہیں کرنی بلکل نہیں کرنی.. وجہ یہ ہی ہے. کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو.. اور ہمارا کوئ جوڑ نہیں اور دوسرا.. تم.. ہو کیا.. بچپن سے تمھیں یہیں دیکھا ہے.. تمھارا اپنا وجود کیا ہے… تم خود کچھ نہیں ہو .. تو یہ… الٹے سیدھے رشتے جوڑ کر مجھے بھی ارمیش جیسی زندگی دینا چاہتے ہیں تو سوچ ہے انکی “وہ چلائ.. گریل کے اس پار تمام عورتیں تھر تھر کانپ رہیں تھیں…
جبکہ احمر شاکڈ سا اسے دیکھ رہا تھا.. سب ہی حیران.. تھے.. انکے گھر کی کسی عورت میں اتنی جرت.. تو یہ بات تو.. حیران کن ہی تھی…
داجی نے احمر کو.. پیچھے جھٹکا….. اور نین کے منہ پر.. تھپڑ کھنچ مارا… اور یک بعد دیگر پڑنے والے تھپڑ.. نین.. کا حجاب.. اٹھ چکا تھا.. چہرہ سرخ جبکہ.. ہونٹ سے لکیر پھوٹ پڑی تھی..
بغاوت کرتی ہے ہم سے.. ہم کون ہوتے ہیں.. بتاتے ہیں تمھیں.. دل تو کرتا ہے….. یہیں سر قلم کر دیں مگر نہیں تمھارے لیے اس سے بہتر سزا ہے میرے پاس
احمر. بلاو. .. سمندر خان.. کو… اسکے ساتھ بیاہ کر.. اس بدزات کے قدموں سے حویلی پاک کرو”وہ دھاڑے.. نین.. آنکھیں پھاڑے اس فیصلے کو.. سنتی.. بل کھا کر رہ گئ… اسنے.. اپنے باپ کی جانب دیکھا.. جو.. اسے گھور رہا تھا…
کیوں عظیم خان… کوئ اعتراض ہے” اب وہ.. غظیم خان کی طرف دیکھنے لگے جنھوں نے نفی میں سر ہلا دیا….
نین جیسے بہرے مجمعے .. میں تنہا رہ گئ تھی..
تمھیں سنائ نہیں دے رہا” داجی احمر پر دھاڑے مگر وہ یوں ہی کھڑا تھا.. معلوم نہیں تھا… وہ حسینہ.. اپنا دیدار یوں کراے گی….
داجی نے احمر کو گھورا.. اور… معاویہ کیطرف دیکھا.
. مولوی کا انتظام کرو… ہمارے سامنے سر اٹھانے والے کا سر قلم کر دیں گے ہم… اور اس لڑکی کی بغاوت کا انجام یہ ہی ہونا چاہیے “معاویہ پہلے تو نین کو دیکھ کر حیران رہ گیا.. مطلب حویلی میں بھی اتنی خوبصورتی تھی… اب تو.. اسے اپنی منگیتر کو دیکھنے کا تجسس بھی ہوا…
آج ویسے بھی انھوں نے شہر جانا تھا مگر یہ ڈرامہ ہو چکا تھا.. تبھی وہ سر ہلاتا باہر نکلا…
نین سے کھڑا ہونا محال تھا…
وہ.. بہرام کو ڈھونڈنے لگی.. وہ اسکا بھائ تھا شاید کچھ کرتا.. مگر وہ وہاں نہیں تھا…
داجی.. یہ ہم نہیں ہونے دیں گے کہ آپ.. حویلی کی عزت کو.. ملازم کے حوالے کر دو”حیدر… بولا… تو نین نے… آنسو صاف کر کے.. اسکیطرف دیکھا….
حیدر لالا…” ابھی وہ کچھ بولتی کہ.. اسنے ہاتھ اٹھا دیا…
اگر تم طریقے سے بات کرتی تو ضرور ہم تمھارے ساتھ یہ ظلم نہ ہونے دیتے.. کہ داجی کی مرضی.. تم پر تھپتے مگر.. تم نے جو قدم اٹھایا ہے.. وہ ناقابل برداشت ہے… آج تک.. حویلی کی عورتوں کو کسی نے نہیں دیکھا اور آج تم نے خود کو سب کے سمانے بے پردہ کر کے اپنے اندر کی بغاوت.. سے آگاہ کیا….
افسوس ہے ہمیں.. کہ یہ تمھاری تربیت تھی “حیدر نپے تلے لفظوں میں.. اسے سنانے لگا… داجی… مٹھیاں بھینچتے.. صوفے پر بیٹھ گئے.. خیر سمندر خان سے تو وہ بھی کسی صورت اسکو نہ بیاہتے تو اچھا تھا.. کہ.. حیدر فیصلہ کرتا….
تربیت.. آپکی تربیت کہاں جا سوئ تھی جو ارمیش خانم کا جینا حرام کر دیا آپ نے… اور… مجھے تربیت کے درس دے رہیں ہیں.. میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے نہ.. داجی ہیں اور نہ.. ہی آپ.. یہ کوئ بھی ہاں باپ کو بھی میں نے دیکھ لیا.. پیسے کی چکا چوند انھیں داجی کے سامنے سر اٹھانے نہیں دے رہی..
زہریلے لوگ ہیں آپ سب….. “وہ.. حلق کے بل چلا رہی تھی… خواتین تو منہ پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں.. حیدر نے ناگواری سے اسے دیکھا….
چاچا سائیں… یا تو.. آپ.. انکا منہ بند کرا لیں ورنہ ہم واقعی داجی کا فیصلہ مان لیں گے” حیدر بڑے ضبط سے بولا… نین.. کو اپنا آپ جیسے فضول سا لگا… متواتر بہنے والے آنسوں نے.. اسکی آنکھوں پر… ایک سوگ اتارا تھا…
معاویہ.. سمندر خان.. اور مولی سمیت اندر داخل ہوا.. نین بھاگ کرزنان خانے کیطرف بڑھنے لگی کہ.. عظیم خان نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا.. اور اسکے منہ پر کپڑہ ڈالا..
بابا سائیں نہیں بابا سائیں پلیز.. بیٹی ہوں میں آپکی… مت کریں مجھ پر ظلم…. “وہ التجا کرنے لگی مگر وہ تو کان بند کر گئے تھے
احمر خانم.. کیا تم ہماری بیٹی کو قبول کرو گے “عظیم خان کڑے تیوروں میں پوچھ رہے تھے… احمر.. مجمند تھا… انھیں اسکی خاموشی… میں انکار محسوس ہو گیا.. نین تو ایک پل کو اسکو بھی دیکھ کر رہ گئ.. یہ کیا ہو رہا تھا.. اسکی جلد بازی.. کیا کر رہی تھی…
وہ اپنا ہاتھ چھڑا نہیں پا رہی تھی…
نکاح پڑھواو.. مولوی صاحب.. سمندر خان سے نین خانم کا.. “وہ
. بولے. تو داجی نے.. پہلو بدلہ….
جبکہ حیدر.. کو بھی احمر پر غصہ آیا.. اور یہ ہی حال.. معاویہ سمیت وہاں سب کا.. تھا…
نین تو چیخنے چلانے لگی… مگر.. اپنے ہی باپ کے ہاتھ کے تھپڑ.نے. اسکی بولتی بند کرا دی…
خواتین کی سسکیاں آج مردان خانے میں گونج رہیں تھیں…
مولوی.. صاحب.. نے نکاح شروع کیا.. سمندر خان تو حکم کا غلام تھا.. سر جھکائے کھڑا تھا…
وہ یہ بھی نہ کہہ سکا کے.. وہ جوان بچوں کا باپ ہے….
احمر.. نے پر جلالی نظروں سے یہ منظر دیکھا. وہ جیسے ہوش میں آیا تھا.. ایک دم….
رک جاو.. “اسکی دھاڑ نے.. ایک بار.. سب..کو چپ کرا دیا مولوی.. صاحب بھی اسکو دیکھنے لگے.. جبکہ نین اب کہ ساکت تھی…
داجی ہم نین خانم کو اپنی زوجیت میں لینا چاہتے ہیں کیا آپکو اعترض ہے” وہ.. دو ٹوک لہجے میں بولا.. تو داجی نے.. اٹھ کر اسکا شانہ تھپتھپایا… جبکہ سب نے سکھ کا سانس لیا….
اور احمر.. سمندر خان بچارے کو ایک نظر.. دیکھ کر.. بیٹھا.. وہ دوپٹہ.. ڈالے… ساکت بیٹھی تھی.. مولوی صاحب نے.. نکاح شروع کیا.. نین کو.. اپنا دل کٹتا محسوس ہوا.. مگر.. وہ ایک بات سوچ.. چکی تھی وہ.. ان سب کو… مزاہ چکھا کر رہے گی.. خاص کر اپنے باپ کو.. اور.. اس شخص کو.. جو… بہت عظیم بن رہا تھا…
