Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
بہرام سو کر اٹھا تو.. اسے محسوس ہوا.. رات ہو چکی تھی ایک اچھا تاثر.. اسکے وجود میں سرایت کر رہا تھا..
اسنے.. بیڈ سے نیچے قدم رکھا… اور انڑکام پریس کیا.. جس سے اسکے خاص ملازم کو اسکے جاگنے کی اطلاع مل گئ.. اور.. وہ بوتل کے جن کی طرح… اسکے روم میں داخل ہوا.. وہ ایک چھوٹا.. تقریباً بیس سال کا لڑکا.. تھا…
کمرے میں جا بجا پڑی شراب کی بوتلوں کو.. منیب نے.. ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے مالک پر نظر ڈالی جو شرٹ لیس.. بیٹھا آنکھیں بند کیے نا جانے کس بات پر مسکرا رہا تھا….
صاحب کچھ کھانے کو لاو”اسنے پوچھا تو… بہرام نے آنکھیں وا کیں…
نہیں کچھ پینے کا دل ہے” اسنے… بوتلوں پر نظر ڈال کر کہا.. مگر تمھارے ہاتھ سے نہیں…
آج تو جام محبوب کے ہاتھ سے پیئیں گے “وہ کافی سے زیادہ خوش لگ رہا تھا… منیب نے سر ہلایا..
معاویہ خانم کو.. کہہ دو آج شہر جانا ہے “وہ اٹھتے ہوئے بولا تو منیب باہر چلا گیا.. جبکہ وہ.. واشروم میں… تقریب بیس منٹ بعد وہ باہر آیا.. تو.. پینٹ… کی بیلٹ ڈالتے ہوئے.. اسنے دروازے کیطرف دیکھا.. جہاں منیب کھڑا تھا.. وہ اکثر بغیر بجائے بھی آ جاتا تھا… مگر بہرام کو ناگواری ہونے کے باوجود وہ اسے کم ٹوکتا تھا…
صاحب معاویہ صاحب نے جانے سے انکار کر دیا ہے انھوں نے کہا ہے.. آپ انکے کچھ نہیں لگتے”منیب نے کہا.. تو.. اسکے ماتھے پر بل ڈلے
ٹھیک ہے جاو میں دیکھ لوں گا..” اسنے کہا تو منیب باہر چلا گیا… جبکہ آب وہ اپنی شرٹ ڈال کر.. بالوں کو بنا رہا تھا.. جن پر کسی جیل یا سپرے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی وہ ایسے ہی کافی سٹائلش تھے…
بال بنا کر اسنے خود پر سپرے کیا… پھر پرفیوم.. لگا کر.. وہ خوشبو میں بسا.. مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا.. تو مردان خانے میں اسے کوئ نہ دیکھا.. وہ شانے اچکا تا.. پہلے داجی کے کمرے کیطرف بڑھا.. بغیر اجازت طلب کیا… دھاڑ سے دروازہ کھولتا… وہ اندر آیا.. داجی… کھڑکی کے پاس کھڑے تھے…
مڑ کر.. اسکیطرف دیکھا… تو جیسے آج ہوئے واقعے کا سارا اثر زائل ہو گیا…
آو میری جان.. آنکھوں کو چین دینے میں اتنی دیر لگا دی… “وہ اسکو سینے… سے لگائے…. فخر محسوس کرنے لگے جبکہ وہ دھیرے سے مسکرایا…
خیریت… کچھ الجھے الجھے ہیں آپ” وہ انکے چہرے کے تاثرات بخوبی پہچان گیا تھا…
زیادہ کچھ نہیں……. “وہ آب لاپرواہی سے بولے کے اسے دیکھ کر تو سارے غم غلط ہو جاتے تھے…
اچھا..” اسنے بھی لاپرواہی سے شانے اچکائے…
اور باہر جانے لگا کیونکہ معاویہ کی کلاس لگانی تھی..
میرے رات کے شہزادے.. اس وقت.. کہاں کی تیاری ہے “وہ مسکرا کر اسکو.. سجا سنورا دیکھ کر بولے.. یہ بھی نہ پوچھا کہ دو دن تک وہ.. کمرے میں کیوں بند تھا.. اور ملازم کو مارنے کا مقصد.. وہ تو بس اسکی صورت… دیکھ کر ہی.. شیری ہو گئے تھے جیسے…
شہر” وہ… بولا… جبکہ.. جیب سے سیل فون نکال کر.. اسکو بھی اون کیا ساتھ ساتھ جو وہ پاور آف کیے ہوے تھا…
اسوقت کیوں” انھیں حیرت ہوئ.. حال کہ وہ کسی سے اتنے سوال نہیں کرتے تھے… مگر بہرام… کے لیے تو.. ہر بات الگ ہی تھی…
اجی داجی.. مرکز جب شہر میں ہے.. ہمارا تو.. کالام کی حسین وادیوں میں.. راتیں…. بے چین… ہیں..” وہ قہقہ لگاتا… باہر نکل گیا جبکہ وہ.. پرسوچ نظروں سے ماتھے پر معمولی بل ڈلے.. اس کی بات کی تہہ تک پہنچ رہے تھے…
……………….
اووو معاویہ سائیں ناراض.. حسینا بننے کا کوئ فائدہ نہیں ہے.. جانتے ہو بخوبی.. منانے کی عادت نہیں ہے ہمیں…
کالام کی شان ہیں ہم… بھلہ تم جیسے کو منائیں گے آب ” سوتے ہوئے معاویہ.. پر سے کمبل کھینچ کر… وہ.. مغرور لہجے میں بولا… مگر مقابل بھی معاویہ تھا..
دفع دور” ایک نظر اسکو دیکھ کر.. وہ.. زور سے بولا اور کروٹ موڑ گیا…
سالے.. اتنے پنجے نکال.. کہ میرے ہاتھوں زندہ بچ جائے “بہرام.. نے.. کھینچ.. کر اسکے کمر میں مکہ جڑ دیا.. معاویہ نے.. ایک کہرام اٹھا لیا…
جبکہ وہ سکون سے اسکی اداکاری دیکھ رہا تھا..
معاویہ کو بالآخر خود ہی چپ ہونا پڑا..
ہو گیا” بہرام نے اکتا کر پوچھا معاویہ نے جواب نہ دیا…
یار جلدی ا[ھ وقت نہیں ہے “وہ اجلت سے بولا….
تو معاویہ کو بدلنخواستہ اسکی بات مان کر دینی پڑی…
دس منٹ میں وہ ریدی تھا جبکہ ناراضگی آب بھی برقرار تھی..
سالے منہ مت سجا آب…. معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. اور.. تو جانتا ہے.. منانا کسی کو مجھے تا نہیں.. تو.. اپنا.. دو سو گز کا منہ ٹھیک کر.. آج تو.. بڑی قاتل رات ہے.. مزے کریں گے”… وہ اس چھڑتا ہوا.. بولا.. جبکہ معاویہ اسکے چہرے کی چمک دیکھ رہا تھا…
مدھم سا مسکرا دیا…
جیپ میں دونوں ہی ایکسائٹیڈ سے سوار.. تھے.. اور بہرام اپنے مخصوس سٹائل میں جیپ دوڑا رہا تھا.. معاویہ. بس اتنا جانتا تھا کہ وہ کسی کوٹھے پر رات رنگین کرنے کجا رہے ہیں.. جبکہ.. بہرام.. کی تو نیا ہی کہیں اور ڈوبی ہوئ تھی..
کچھ دیر.. میوزک سننے کے بعد معاویہ نے کچھ سوچتے ہوئے میوزک بند کیا…
جیپ رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئ… بڑے جوش سے شہر کے راستے کو تھی….
جیسے مالک.. کی خوشی میں خود بھی سرمست ہو…
تجھے پتا ہے.. آج.. کیا ہوا ہے حویلی میں “معاویہ نے پوچھا تو بہرام نے نفی میں گردن ہلا.. دی…
وہ تو اٹھا ہی ابھی تھا….
معاویہ کا دل کیا… اسکا منہ توڑ دے مگر.. اب منہ اپنا بھی سلامت رکھنا تھا…
وہ اپنی بہن سے اتنا غافل تھا.. خیر حویلی میں.. عورتوں کے ساتھ تو یہ ہی ہوتا آیا تھا..
پھر وہ رفتہ رفتہ.. اسے سب بتاتا چلا گیا.. جبکہ.. بہرام.. کے ماتھے پر کئ شکنیں ابھری…
غصے کا گراف اچانک ہی بڑھا..
نین. اسقدر گستاخ.. ہے… “وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا…
تم مجھے حویلی میں ہی بتاتے” وہ غصے سے بولا…
اوو بھائ.. حویلی میں ایک ہنگامہ تھا.. جس وقت تم کوپیاں چڑھا کر.. پڑے تھے.. خود اٹھتے اور میں کیوں.. لگاو بجھاو “وہ شانے اچکا کر بول آ… بہرام کا دل تو کیا جیپ موڑ لے.. مگر…
اسوقت دل.. کی.. آواز بس اس چہرے کے گرد طواف کر رہی تھی.. اور وہاں نہ پہنچتا تو شاید.. اسک چین سکون سب ختم ہو جاتا….
تبھی.. گاڑی شہر کے راستے پر ڈالی رکھی..
احمر … سمجھدار ہے” وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا…
ہاں بھئ بہت… تمھاری جیسی.. تمھاری ہی سرپہری بہن کو سمبھال لیں گے معلوم ہے ” معاویہ ہنسا تو بہرام اسے گھورنے لگا..کھا مت جانا آب میری نازک جان کو “معاویہ نے ڈرنے کی اداکاری کی جبکہ بہرام کا مکہ.. اسکے بازو پر پڑا.. اور وہ بلبلا کر رہ گیا…
……………………
نین سرخ سوجی آنکھوں سے.. کھڑکی سے پار… چاند کو دیکھ رہی تھی….
مگر اندر کی آگ.. اسے چین لینے نہیں دے رہی تھی…
ایک تو اسے.. اس سے چھوٹے شخص سے بیاہ دیا تھا… جبکہ
وہ.. کیا تھا.. اسکی حویلی میں پوزیشن کیا تھی.. کیا داجی اسے اپنے پوتوں جیسا مقام دیتے تھے.. ہرگیز نہیں بلکل نہیں…
اور ایسے شخص کو اسکی قسمت میں بندھ دیا گیا…
اسنے اپنے کمرے کو تھس نہس کر دیا تھا…
چند ہی منٹوں میں مگر غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا…
وہ یہاں رہنا ہی نہیں چاہتی تھی.. داجی کو انکی جیت کا جشن بنانے دیتی…
انکی روایتوں کو.. توڑنے کی ایک سرکشی.. اسکے وجود میں… بھنبھڑ پکا رہی تھی….
آب اسے کیا ڈر تھا.. اور وہ کیوں ڈرتی.. احمر کے ساتھ.. تو جو کرنا تھا وہ بعد کی بات تھی… فلحال.. داجی کی قید سے باہر نکلنا تھا…
اسنے آنسو پونچے…. تمام خواتین اس سے سخت خفا تھیں کوئ اسکے پاس نہیں آیا تھا.. اگر وہ تحمل سے کام لیتی تو ضرور اسکی بات کا حل نکل جاتا مگر اسکی جلد بازی نے.. باقی سب پر بھی مزید سختی کر دی تھی…
رخصتی کا شوشا بھی چھوڑ دیا گیا تھا…
کہ شادی اپنے وقت پر ہر حال میں ہونی تھی.. اور جو.. خواتین. بازاروں کے چکر لگا لیتی تھیں آب ان پر بھی پابندی لگا دی گئ تھی.. کہ… سب.. چیزیں مرد حضرات اپنی مرضی سے لے آئیں گے…
نین.. کو کسی سے کوئ غرض نہیں تھا.. وہ. تو آنے والے کل کو سوچ رہی تھی.
………….
اسکا خوبصورت چہرہ اس انداز میں دیکھنے کو ملنا تھا یہ تو اسنے تصور بھی نہیں کیا تھا…..
وہ بہت حسین تھی اتنا انداز تو تھا اسے… جب اسکا چھوٹا بھائ… آنکھوں کو چندھیا دینے والا حسن رکھتا تھا.. تو پھر.. اسکی تو بات ہی کیا تھی…
مگر احمر کے ساتھ ساتھ حویلی کے سب لڑکوں اور شاید ملازموں نے بھی اسے دیکھ لیا تھا… اور.. یہ ہی بات اسکا دل جلا رہی تھی.. وہ اتنی جزباتی کیوں تھی….
وہ سمھجہ نہیں پاتا تھا…..
اور پھر اسکے دماغ میں… اسکی باتیں گردش کرنے لگیں…
وہ اسے کیا سمھجتی تھی…
یہ تو اسکی باتوں اور لہجے نے ہی.. واضح کر دیا تھا.. کہ اسکی نظر میں اسکی کوئ ولیو نہیں.. وہ اسے خود سے چھوٹا سمھجتی ہے… حالانکہ یہ فرق کوئ معنی تو نہیں رکھتے.. پھر وہ ٹھیک ہی تھی…
بھلہ وہ.. خانزادی اسکو پسند بھی کیوں کرتی… تھا ہی کیا اسکے پاس…
نانکے کی دہلیز پر ساری زندگی گزاری تھی… اور آب آگے بھی….
وہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوا… آج اپنے باپ پر بھی شدید غصہ آیا….
جن کی وفات نے.. انھیں… دو کڑی کا کر دیا تھا….
……………..
نین کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے.. خوف آ رہا تھا.. اگر سمندر خان سے اسکی شادی ہو جاتی پھر…
پھر پھر کیا ہوتا.. ہاں وہ جلد باز تھی.. معملہ حل کرنے کے بجائے بگاڑ چکی تھی…
وہ اسکے پاس جانا چاہتی تھی مگر… حیدر کی کمرے میں موجودگی اسکے قدموں کو بند باندھ گئ….
صوفے پر بیٹھی… وہ.. سر.. پشت پر لگائے… بیٹھی تھی….
حیدر اپنے موبائل میں مصروف تھا….
ایک نظر اسکی جانب دیکھا….
خانم کل دس بجے حویلی سے شہر کے لیے نکلنا ہے “کڑے لہجے میں وہ… بولا.. تو ارمیش کی روح فنا ہو گئ….
سائیں آپ ایسا نہیں کر سکتے” اچانک وہ قدرے انچی آواز میں بولی…
تو… حیدر نے موبائل سائیڈ پر پٹخا.. اور آٹھ کھڑا ہوا.. اسکے اٹھتے ہی… ارمیش کا دم نکلا…
خانم…. اگر خود کو نین سمھجہ رہی ہو تو… یقین مانو زبان… کھینچ.. کر گردن پر.. لپیٹ دیں گے” وہ اسکا چہرہ جکڑتا غرایا….
ارمیش رونے لگی سرخ… آنکھیں اس بے حس کو دیکھ رہیں تھیں..
مت دیں ایسی سزا… سائیں… ہم ہاتھ جوڑتے ہیں خدا کے لیے…. ایسا مت کریں.. میں میرا کیا قصور ہے” وہ سسکی.. تو وہ اسکا چہرہ جھٹک کر رہ گیا….
جب ہم یہ بچہ چاہتے ہی نہیں.. تو کس خوشی میں. تم… بکواس کر رہی ہو” وہ غصے سے گھورنے لگا….
ارمیش کا دم گھٹنے لگا.. کیا یہ احساس صرف چند لمہوں کا تھا….
کیا کل صبح.. اسکا وجود خالی ہو جائے گا.. اور پھر وہ دوبارہ اسکی غلامی کرے گی.. کیا وہ اس لیے پیدا ہوئ تھی.. کیا اسکی زندگی میں سکون نہیں تھا…
وہ.. بری طرح رونے لگی….
جبکہ.. وہ لاپرواہی سے بستر پر لیٹ گیا…
آب تمھیں خط لکھوں.. یہ خود آٹھ کر آ رہی ہو “وہ دھاڑا… ارمیش.. کی سسکی دم توڑ گئ…
اور وہ
.. مرے مرے قدموں سے.. ڈریسنگ روم میں چلی گئ…
……………….
اسکے لیے اسکا گھر ڈھونڈنا کوئ مشکل کام نہیں تھا… اس وقت.. وہ گاڑی میں بیٹھا… شراب کی بوتل.. منہ سے لگایے… سامنے اس چھوٹے سے گھر کو گھور رہا تھا…
جبکہ معاویہ… نہ سمھجی سے اسے دیکھ رہا تھا..
آب منہ سے کچھ پھوٹو گے یہ…. میرا صبر یوں ہی ازمانہ ہے”
یہ لڑکی چاہیے.. معاویہ سائیں… ابھی چاہیے” ضدی لہجے میں.. وہ بس دو لفظوں میں.. اسے بہت کچھ باور کرا گیا…
معاویہ.. ایک پل کو چپ سا رہ گیا….
کون ہے یہ “وہ کچھ دیر بعد بولا….
معلوم نہیں…” وہ بس اتنا بولا.. بوتل کو اسکی طرف اچھال دیا….
اور دروازہ کھول کر باہر نکلا…
کہاں” معاویہ نے پوچھا….
تم نے جہاں جانا ہے چلے جاو” وہ.. ناگواری سے بولا.. اسک اٹوکنا زہر ہی لگا…
اور آگے بڑھ گیا.. معاویہ بھی باہر آ گیا…
بھائ یہ ہو کیا رہا ہے” وہ ہلکی آواز میں چلایا… بہرام نے بغیر لحاظ کے اسکے منہ پر پنچ دے مارا….
آگے بھی کچھ بتاو کیا ہو رہا ہے “وہ شدید غصے سے بولا.. تو.. وہ اسے کود کر رہ گیا….
جبکہ… بہرام… کے وجود میں مزاہ.. سا ابھرا….
آب کالام… کا سردار… کھڑکیاں پھلانگے گا… “وہ ہلکا سا بولا….
معاویہ… پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ… رہے تھے…. مگر آب وہ خاموش تھا جبکہ. بہرام… اس پائپ کو دیکھ رہا تھا… جو کافی مظبوط لگ رہا تھا.. کیا وہ اسکا وزن سہہ سکتا تھا…
خیر اسے پہ رواہ نہیں تھی… اسنے… تو.. اوپر جانا تھا.. اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ اوپر پایپ کہاں جاتا ہے…
برحال… جہاں بھی جاتا ہو… وہ.. اسے ڈھوند ہی لے گا…
معاویہ سائیں…….. مزاہ آنے والا ہے “اسے منہ میں جیسے رس گھل رہا تھا… معاویہ کو اپنی کفلنکس..گاگلز موبائیل.. تھما کر.. وہ پاوں جماتا…. پائپ پر چڑھنے لگا..
تمھارے جسم کی.. 4 ہڈیاں تو لازمی ٹوٹیں گی لکھ کر رکھ لو…” معاویہ کی بربڑاہٹ.. پر کان دھرے بغیر وہ مسرور سا چڑھتا گیا.. وہ پائپ سیدھا چھت کو جاتا تھا…
