Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
یہاں کون ا سکتا تھا.. کہیں چور تو نہیں…
وہ سر سے پاوں تک کانپ اٹھی..
دروازہ دبارہ بجا اب بیل کے ساتھ کوئ ہاتھوں سے بھی دروازہ توڑ دینا چاہتا تھا..
اسنے آنکھوں میں خوف سے ائ نمی کو صاف کیا… اور ہمت کرتی دروازے کے پاس ا گئ…
ایک بار پھر دھڑ دھڑ ہوئ.. اسنے… بمشکل ہی سہی دروازہ کھول دیا…
سامنے.. گاگلز آنکھوں پر چڑھائے…
وائٹ ڈریس شرٹ.. اور بلیو پینٹ میں.. وہ بہرام خان تھا.. جس کے چہرے سے ہی تعصورات اچھے خاصے بگڑے ہوئے تھے..
ارمیش کو شدید شرمندگی ہوئ..
سوری لالا”اسنے سر جھکا کر کہا…
اج کل میں اپنے ہی ٹھکانوں پر… باہر… غیروں کی طرح کھڑا.. بجا رہا ہوتا ہوں…” وہ دانت کچکا کر بولا…
تو… ارمیش دور ہو گئ…
جبکہ بہرام.. اندر ا گیا..
یہ جگہ… ابادی میں ہے.. چور وور کا سوچنا بھی مت اور یہاں کون اتا ہے کون نہیں سب مجھے پتا چل جاتا ہے” اسنے جیسے لاشعوری طور پر اسے سکیور کیا تھا کہ وہ.. فکر نہ کرے..
جی لالا”ارمیش نے کہا.. اور اسکو صوفے پر بیٹھتا دیکھا…
اپکے لیے کچھ کھانے کو لاو”وہ.. سر پر دوپٹہ درست کرتی بولی..جبکہ بہرام…. اپنا موبائل نکالے.. ایک نمبر ڈائل کرنے لگا… اسنے ایسے ہی سر ہلا دیا..
وہ تو عابیر کے والدین کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا.. وہ ہر حال میں اس لڑکی کو خوش کرنا چاہتا تھا…
جو اس سے خوش تو کیا اسکی شکل بھی نہیں دیکھتی تھی.. جبکہ بہرام اپنے دل کے جزبات پر اور کتنا غصہ کرتا بھلہ وہ اسکے قابو سے باہر تھا..
تبھی وہ سب بگڑا ہوا.. ٹھیک کر رہا تھا.. اور.. اپنے اپ کو بھی جیسے بھول گیا تھا… بس شراب کو نہیں بھول پاتا تھا…
ارمیش اسکے اقرار پر کچن میں ا گئ اسنے بریانی بنائ تھی.. حویلی کی سب لڑکیوں کو سب کام اتے تھے مگر.. کرتی سارے کام درخنے ہی تھی..
مگر اپنے اپنے موڈ پر باقی سب بھی کر ہی لیتے تھے جبکہ وہ تو ایساکچھ بھی نہیں کر پاتی تھی.. حیدر نے اسے سکھ دیا ہی کب تھا.. وہ حیدر کے بارے میں پھر سے سوچتی کے دماغ کو جھڑک گئ.. اب وہ اسے کبھی نہیں سوچے گی بس.
اس نے اپنا دماغ دوسری طرف لگایا…
اور پلیٹ.. میں سب سامان لگا کر وہ باہر لے ای..
ہاں معاویہ میں.. پھنچتا ہوں تمھارے پاس… جب تم شہر پہنچو تو مجھے بتا دینا”بہرام نے کہہ کر فون بند کیا.. اور ارمیش کو دیکھا….
سفید دوپٹے کے حالے.. میں… گلابی چہرہ… چمک رہا تھا…
اسنے پھر کھانے کی ٹرے دیکھی..
ان دونوں کی کبھی اپس میں حویلی میں کوئ بات نہیں ہوئ تھی شکلوں کی پہچان بھی بس ایسے ہی تھی…
صرف نام کی واکفیت تھی…
مجھے نہیں کھانا میں جا رہا ہوں “اسنے کہا..
اور ہاں… وہ… منیب کی بہن ہے.. وہ تمھارے ساتھ ا کر رہے گی… تو گھبرانہ مت کبھی دروازہ ہی نہ کھولو” اسنے سنجیدگی سے طنز کیا.. ارمیش کی تو آنکھیں ہی نہیں اٹھ رہیں تھی اول تو اسے یقین ہی نہیں ا رہا تھا… یہ بظاہر اتنا لاپرواہ جزباتی.. دیکھنے والا انسان اندر سے… اتنا کئیرنگ کیسے ہو سکتا ہے…
حالانکہ وہ اسے.. لے جا سکتا تھا حویلی تماشہ بنوا سکتا تھا.. وہ ایسا ہی تھا.. چھوٹی سی بات پر.. اکڑ جانے والا.. مگر اب کیا ہو گیا تھا..
اسکے بغیر کہے وہ اسے یہاں لے ایا.. تھا.. سختی سے ہی سہی اسکی کئیر کر رہا تھا…
وہ حونک رہ گئ..
جبکہ بہرام.. نے اسپر اگلی نظر ڈالی ہی نہیں کیونکہ معاویہ کی کال ا رہی تھی…
وہ اس سے پہلے نکلتا… کہ.. اچانک رک گیا…
پیچھے پلٹ کر دیکھا… وہ یوں ہی سر جھکائے کھڑی تھی.. اسکے ماتھے پر بل ائے..
کہیں کھڑے کھڑے تو نہیں سوتی تم”بہرام.. نے اسکو ٹوکا.. ارمیش ہڑبڑا کر سیدھی ہوئ.. جبکہ پھر سے شرمندگی ہونے پر… وہ سر جھکاتی… کہ.. بہرام نے.. سر نفی میں ہلایا…
اسے یہ لڑکی عجیب ہی لگی…
اب اسکی نظر بریانی پر گئ…
حالانکہ وہ مسالے والے کھانے نہیں کھاتا تھا.. کیونکہ زیادہ تر اسے چائنیز پسند تھا… مگر پھر بھی اسنے جھک کر ایک چمچ منہ میں ڈال لیا..
واو”بے ساختہ اسکے منہ سے تعریف نکلی ارمیش تو سرخ پڑ گئ.. اسے خوشی ہوئ کہ اسکی چیز اسنے چکھی تھی…
اسنے وہ پلیٹ ہاتھ میں اٹھا لی.. اور لے کر باہر نکل گیا…
جبکہ فلیٹ کا دروازہ بھی بند کر دیا تھا….
ارمیش سن کھڑی رہ گئ…
یہ کیا وہ تو پوری پلیٹ ہی لے گیا تھا…
اسنے حیرت سے سوچا…
…………………..
نین اپنے کپڑے الٹ پلٹ رہی تھی.. کہ عابیر وہاں ا گئ..
مجھے تمھارے کچھ کپڑے چاہیے”وہ بغیر روکے بولی..
اوکے.. جو تمھیں پسند ہے لے لو” نین نے مسکرا کر اسکے سامنے اپنے کپڑے کیے.. وہ رنگ برنگے کپڑے گرارا کرتی کی ہی شکل کے تھے..
یہ سب تماشہ پہنتی کیسے ہو”عابیر اکتا کر بولی..
نین ہلکا سا ہنسی
یہ ہمارا علاقائ لباس ہے… اور اچھا لگتا ہے.. مجھے تو بہت.. دیکھو مہندی بھی اچھی لگتی ہے چوڑیاں بھی… میں اور ارمیش.. تو اپنے ہاتھ ہمیشہ مہندی سے سجے رکھتے تھے..
تمھیں بھی لگاو” وہ پرجوش ہوئ..
عابیر نے منہ بنایا..
کبھی نہیں…” اسکا ایسے حقارت سے کہنا.. نین کو برا لگا…
یو نو.. جب سے میں یہاں ائ ہوں.. خواتین عجیب جوکر بنی پھیرتی ہیں اور مرد.. ہم ذلیل… خیر مجھے یہ سب نہیں پسند.. کہ اپنے اپ کو لڑکی کے بجائے میں گائے سمھجو… بس یہ سوٹ ٹھیک ہے یہ لے جا رہی ہوں تھنکیو” وہ کہہ کر نکل گئ.. جبکہ نین یوں ہی کھڑی رہ گئ…
اسے عابیر کا انداز اسکی گفتگو اسکے بول سخت برے لگے تھے..
اسکا مسلہ بہرام تھا.. زنان خانے کی خواتین نہیں جسے جوکر کہہ گئ تھی…
وہ اسقدر منہ پھٹ نکلے گی نین کو تو یقین ہی نہ ایا…
جبکہ عجیب خفت کا سا احساس ہوا… بے عزتی الگ محسوس ہوئ.
اسنے اپنے مہندی سے سجے ہاتھوں کو دیکھا….
کیا وہ جوکر لگتی تھی.. “پہلی بار وہ.. عجیب احساس میں گھیر گئ..
غصہ الٹا ایا…
رونا بھی وہ اسے کیسے باتیں سنا کر چلی گئ…
نین نے غصے سے سارے کپڑے.. پھینکے وہ اس سے کپڑے لے لے گی..
جب ہم جوکر ہیں عابیر بی بی تو… ہمارے کپڑے بھی نہیں پہنے.” اسکے غصے کا گراف حد سے زہادہ تھا.. وہ دندناتی ہوئ نیچے ائ.. مگر عابیر جا چکی تھی.. لاونج میں بھی کوئ نہیں تھا..
وہ مردان خانے میں نہیں جا سکتی تھی اسوقت تبھی… غصہ نکالنے.. کچن میں ا گئ…
اور املی ڈھنڈنے لگی…
معلوم نہیں کیوں… اسکی آنکھیں بھیگ بھیگ جا رہیں تھیں..
کسی کو.. اتنا ڈی گریڈ کرنے کا کیا حق تھا. وہ شہر سے ائ تھی تو.. کیا. انپر سردار بن گئ تھی..
اسے املی مل گئ.. سرخ آنکھوں سے املی کھانے لگی جبکہ اسے بھی سوچ رہی تھی
چھوڑو گی نہیں تمھیں میں “اسنے گال پر اتے.. انسو رگڑ دیے.. وہ اسے جوکر کہہ رہی تھی.. دل تو اسکا بیٹھ ہی گیا تھا..
تبھی وہاں احمر ا گیا.. سامنے اسے روتا دیکھ.. احمر کی تو جان سوکھ گئ…
نین” وہ ایک پل میں اس تک پہنچا.. جبکہ نین بھی سیدھی ہو گئ..
اس سے کچھ فاصلے پر رک کر اسنے.. نین کو دیکھا…
کیوں روئ ہیں اپ.. کیا ہوا ہے” اسنے سوال کیا..
نین کا دل ویسے ہی بھر رہا تھا.. وہ.. آنکھوں پر مٹھی رکھ کر رونے لگی..
نین “احمر تو حیران ہی رہ گیا
. دوسروں کو رولا دینے والی لڑکی کیسے رو سکتی تھی خود
ہوا کیا ہے بی جان نے کچھ کہا ہے.. یہ مورے نے یہ مامی جان نے”وہ.. اسکے نزدیک ہوا.. اور اسکا مومی ہاتھ تھام لیا.. پہلی بار. اسکو چھوا تھا.. ایک نایاب احساس بھی وجود میں ہلچل نہ مچا سکا الٹا اسکا رونا.. پریشان کر رہا تھا..
اپ بتائیں گی..” احمر نے اب سختی سے پوچھا..
وہ عابیر سمھجتی کیا ہے خود کو بہت کوئ خوبصورت شے ہے..
اتنی بدتمیز… ہمیں.. بلکہ سب.. زنان خانے کی عورتوں کو جوکر کہہ رہی تھی.. کہتی ہے..
ہم جو پہنتے ہیں تماشہ ہے..
مہندی کو بھی ایسے حقیر نظروں سے دیکھ رہی تھی…” وہ کسی معصوم بچے کیطرح اسے شکایت لگانے لگی.. اول تو احمر کو بہت اچھا لگا کہ اسنے اس سے اپنی پریشانی شئیر کی تھی اور دوسرا عابیر کی اس حرکت پر وہ حیران ہوا..
ایسا کیوں کہا انھوں نے” احمر نے سوال کیا.. نین کو غصہ ہی ایا..
پوچھ کر اتی ہوں”وہ الٹا اسپر چڑھ دوڑی
نہیں میرا مطلب.. یہ بہت بدتمیزی کی ہے انھوں نے”َاحمر سنجیدگی سے بولا
بہت زہر لگ رہی ہے وہ مجھے” نین نے کہا تو… احمر مسکرا دیا…
اچھا”
ہنس لو تم” وہ غصے سے بولی…
نہیں میں ہنس نہیں رہا.. اور یہ انھوں نے اپ سے جیلسی.. فیل کرتے ہوئے کہا تھا..
اپ بہت پیاری لگتی ہیں بہت اپنی لگتی ہیں اس لباس میں سجی سنوری… بہت پیاری” احمر نے اسکی تعریف کی وہ احمر کو.. دیکھنے کم. گھورنے لگی.. گویا یقین کر رہی ہو.. وہ کسی قسم کا مزاق تو نہیں کر رہا..
احمر.. سنجیدہ تھا…
ہمم پتا ہے جل رہی تھی” اسنے کہا.. تو احمر نے سر ہلا دیا..
اب رونا نہیں “احمر نے پیار سے اسکو دیکھا..
ہاں میں کیوں ضایع کرو اسپر اپنے انسو. “نین نے بھی کہا.. وہ ناک سے مکھی اڑا دی..
مگر وہ چڑیل میرا سوٹ لے گئ” نین غصے سے بولی..
احمر کو ہنسی ائ.. ابھی کل تک وہ اسکے جیسی تھی اور اسے کافی پسند تھی
مگر یہ بات کہ کر.. بھلہ اسنے.. اپنی شامت بلوانی تھی تبھی.. اسکی طرف دیکھا..
کچھ نہیں ہوتا رہنے دو اپ” اسنے کہا…
کیوں “وہ اکڑی…
ایسے ہی” اسنے انتقامی آنکھوں سے. عابیر کو سوچا.. اور دھپ دھپ کرتی کچن سے نکل گی..
احمر نے پیچھے سے… اسکی چھوڑی املی اٹھا کر.. بکس میں ڈال کر رکھ دی..
درحقیقت عابیر کی بات اسے بھی اچھی نہیں لگی تھی.. نین کے سامنے تو اسنے ایساکچھ نہی کہا تھا…
مگر بہرام سے بات کرنے کا وہ فیصلہ کر چکا تھا…
………………..
بہرام اور معاویہ نے اج پھر اس گھر کے سامنے گاڑی روکی جہاں دوبارہ انے کا سوچا نہیں تھا اس گھر کی قیمتی چیز وہ چرا لے گیا تھا..
مگر چوری کی تھی نہ تبھی راس نہیں ائ…
آنکھوں پر گاگلز لگائے اج وہ اپنے شخصیت کے برخلاف کام کرنے جا رہا تھا… معاویہ.. بھی چپ چاپ اسکے ساتھ ہو لیا…
بہرام نے دروازہ کھٹکھٹایا…
تو کچھ دیر بعد دروازہ ریہا نے کھول دیا…
وہ سامنے بہرام کو دیکھ کر ایکدم پرجوش ہوتی.. باہر ائ.. بہن نہیں تھی…
اسے دکھ ہوا پھر یہ یہاں کیوں تھا…
اکبر صاحب سے بات کرنی ہے”معاویہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی.. ہٹی.. تو وہ دونوں اندر ا گئے…
مما نے انھیں دیکھا ایکدم اگے آئیں…
کیوں ائے ہو یہاں اب مزید رسوائ رہتی تھی کیا” مما نے غصے سے کہا..
میڈیم ہم اکبر صاحب سے بات کرنا چاہتے ہیں.. “معاویہ بولا.. تو.. مما نے اسکوگھورا..
وہ رسوائ.. انھیں جان سے مار رہی ہے.. دو دل کے دورے پڑ چکے ہیں. ان چار دنوں میں.. تمھیں دیکھ کر… مر ہی جائیں گے چلے جاو تم یہاں سے “انھوں نے روتے ہوئے… کہا تو. بہرام نے.. دیکھا…
اسکی محبت کچھ زیادہ ہی برا کر گی تھی..
کسی کا سہارا چھن رہا تھا..
وہ اندر ہیں” اب کہ بہرام بولا.. اور اندر چلا گیا مما پیچھے انھیں روک رہیں تھیں مگر وہ کیا تھا.. کہ وہ ضد کا پکا تھا…
اسنے.. اکبر صاحب کو دیکھا..
بستر پر وہ ایک کمزور لحاش لگ رہے تھے…
پہلی بار کسی بات پر اسے دکھ ہوا.. یہ ہی حال معاویہ کا تھا…
اکبر صاحب نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں…
بہرام کو سامنے دیکھ کر انکی نظروں نے عابیر کو تلاشا تھا…
کس ہسپیٹل لے کر جاتے رہے ہو “بہرام نے ریہا سے سنجیدگی سے پوچھا..
معاذ بھیا لے کر جاتے ہیں.. مگر.. اتنے پیسے نہیں کے علاج پورا ہو” ریہا نے اسے صاف بات بتائ..
معاذ کا نام سن کر.. اسنے.. اپنا غصہ دبایا..
معاویہ گاڑی میں ڈال. “بہرام نے کہا.. تو وہ سب حونک ہوئے اکبر صاحب سمیت..
نہیں میں کہیں نہیں جانا چاہتا “اکبر صاحب نے کہا… تو بہرام.. نے اسکی طرف دیکھا..
جب صحت یاب ہو گے.. تو زیادہ بہتر اندز میں مجھے یہاں سے نکلنے کا کہو گے.. “اسنے کہا.. تو معاویہ مدھم سا ہنسا…
اور پھر دونوں نے ان سب کے نہ نہ کرنے کے باوجود.. اکبر صاحب کو گاڑی میں ڈالا.. اور ان دونوں ماں بیٹی کو لے کر.. وہ
.. شہر کے بڑے ہسپٹل کی جانب بڑھ گیا..
اگر اکبر صاحب کو کچھ ہوتا.. تو عابیر تو مر کر بھی اسکی نہ ہوتی.. جبکہ اسکے اندر بھی بلاوجہ گلٹ جڑ پکڑ رہا تھا.. وہ بدل رہا تھا..
یہ محبت کی مات اسے بدل رہی تھی
ہسپیٹل سے فارغ ہو کر انھیں انکے گھر چھوڑ .. وہ باہر سے ہی نکل گیا…
اب کیا کرنا ہے… “معاویہ نے کہا…
تو بہرام… نے جواب نہ دیا..
بوتل دے” اسنے بس اتنا کہا.. معاویہ نے شانے اچکا دیے..
اور بوتل نکال کر اسکو دی… اب وہ.. ڈرنک کر رہا تھا.. ڈرائیو کر رہا تھا.. جبکہ عابیر… اسکے دماغ میں گردش کر رہی تھی..
………………….
صیحی شام وہ حویلی پہنچ گیا تھا.. جب سے عابیر ای تھی حویلی والے اسے.. اپنی طبعیت کے برخالف جاتا ہوا دیکھ رہے تھے.. جو شخص زرا سی بات پر پوری حویلی سر پر اٹھا لے.. اسکا اتنا سیدھا نداز کس کو بھانا تھا بھلہ…
اسے لگا بہت دن گزر گئے داجی کے پاس گئے ہوئے. وہ انکے کمرے میں داخل ہوا…
وہ… ارام کر رہے تھے… وہ انکے بستر میں گھس گیا..
وہ ایساہی تھا.. بچپن میں بھی. وہ اپنے باپ سے چھپ کر کسی بھی بات پر.. انکے بستر میں چھپ جاتا تھا.. جبکہ اج تو.. وہ بہت اداس تھا…
اوپر سے داجی بھی ناراض تھے…
اسنے آنکھیں بند کیں.. اور نہ جانے.. کیا ہوا… کہ وہ کچھ ہی دیر میں وہاں سو گیا..
داجی بھی سو رہے تھے..
تقریبا.. گھنٹے بعد انکی انکھ کھلی تو اپنے برابر میں.. بہرام کو دیکھ کر انھیں. اسپر رج کر پیار ایا..
اسوقت وہ چھ سال والا بہرام ہی لگا… مگر کل ہونے والی ھرکت یاد کر کے وہ.. اٹھ گئے..
اسکی خاطر.. وہ.. عابیر کو قبول کر بھی لیتے مگر وہ ایک انتہائ گستاخ لڑکی تھی…
وہ.. اٹھ کر فریش ہونے چلے گئے جبکہ…
وہ بھی کچھ دیر میں اٹھ گیا..
تکیوں سے ٹیک لگا کر… وہ.. بیٹھا انکو دیکھ رہا تھا جو اپنی چئیر پر بیٹھ رہے تھے جبکہ اخبار انکے ہاتھ میں تھا…
مبارک ہو خان قومی اسمبلی میں سیٹیں نکال لیں ہیں.. عشق معشوقی سے فرصت ملے تو.. کل چل لینا ساتھ”مدھم طنزیہ اواز میں بولے تو وہ ہنس دیا..
جان بہرام… بیوی کیطرح بی ہیو کھا رہے ہو” وہ اٹھا…
جبکہ داجی نے گھورا..
بیوی کا نام مت لینا.. “انھوں نے وارن کیا
پھر کس کا لوں مراد خان کا” وہ ہنسا..
داجی نے ریسپونس نہیں دیا..
یار پلیز داجی وہ غصے میں ہے میں وعدہ کر رہا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا” اسنے کہا.
خان… کیسے ٹھیک ہو گا.. چلو ٹھیک ہے وہ غصے میں ہے تو ہم سب کو.. وہ… سناے گی…
بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں اس لڑکی کو… “
داجی وہ جان بوجھ کر کر رہی ہے درحقیقت وہ ایسی نہیں ہے “اسنے فیور کیا..
ہماری برداشت سے باہر ہے جیسی بھی ہے… ” داجی نے سختی سے کہا..
کیا میں بھی” اسنے معصومیت کے ریکارڈ توڑے اب کسی طرح تو انھیں ٹریپ کرنا تھا…
داجی نے ایک نظر اسکو دیکھا…
ادھر او”اب کیا کیا جا سکتا تھا…
وہ تو انکی جان تھا….
بہرام دانت نکالتا ان تک پہنچا…
اور داجی کے اگے جھکا.. داجی نے اسکے کان پکڑ لیے.. اور کھینچے
داجی ی ی ی” وہ چلایا…
پھنس گئے ہو خان
بلکل بری طرح”انھوں نے کہا.. تو وہ انکی سنجیدگی پر.. یہ بات سن کر رہ گیا…
محبت ہے داجی “
جو محبت رسوا کرے دامن بچا لو اس سے” انھوں نے پھر کہا…
پھر.. تو.. مجھے رسوائ ملنی ہی چاہہے اور وہ مجھ سے دامن ٹھیک ہی تو بچا رہی ہے میری محبت نے اسے رسوائ دی”
خان بدل رہے ہو “داجی.. کو برا لگا..
داجی وہ حکم کرے… میں رات کو دن بھی کہنے کو تیار ہوں مگر.. وہ..” اسنے سر انکی گود میں رکھا..
نہیں خان” داجی تو غصے سے دھاڑے..
میری پرورش نے تمھیں کمزور ہونا نہیں سکھایا”اسکی ٹوٹ پھوٹ انھیں تڑپا گئ..
اپکی پرورش نے مجھے زور زبردستی سکھائ ہے”
اسنے انکی طرف دیکھا وہ نظریں چرا گئے…
تبھی معاویہ کمرے میں ایا..
ارے واہ صلہ ہو گئ” وہ ہنسا…
بھلہ شہزادے سے دور رہتا میں” داجی نے پیار سے اسکے بال سہلائے..
اسی خوشی میں اج داجی بھی پیے گئے” معاویہ نے کہا تو.. بہرام بھی ہنسا…
کبھی نہیں.. ہمیں پسند نہیں” داجی نے کہا..
بس رہنے دیں… “بہرام نے. منہ بنایا..
خان. اسکے علاوہ کچھ بھی..” داجی نے.. اسکو مسکرا کر دیکھا.. وہ اور معاویہ ایک دوسرے کو دیکھتے .. مسکرا کر داجی کے کان پر جھکے وہ.. انکی سننے کے لیے بے چین ہی تھے..
پھر کوٹھے پر چلتے ہیں. اف. ف. ف کیا چیز ہے مینا”یہ بہرام تھا..
نہیں داجی… شبنم شاندار ہے” موایہ نء لے بھی کیا
بے غیرتوں” داجی کی دھاڑ پر وہ دونوں اچھلے..
رک جاو یہیں” انھوں نے اپنی سوٹی اٹھائ…
داجی کتنے ہی کرپٹ تھے مگر ایسے کاموں میں ہاتھ کبھی نہیں ڈالا تھا
داجی اج برسوں بعد.. پرانے داجی لگے…
وہ دونوں اگے اگے بھاگ رہے تھے جبکہ داجی کی چھڑی نے معاویہ کو سینکھ دیا تھا.. جبکہ بہرام کو تو وہ خود ہی نہیں مار رہے تھے
. حویلی میں ایک شور وغل.. اٹھ گیا..
خواتین بھی زنان خانے کی جالی سے یہ نظارا دیکھ رہیں تھیں سب کے لبوں پر مسکراہٹ تھی..
عابیر بھی یہ شور سن کر باہر… ائ.. اور ان سب کو ہنستا مسکراتا دیکھ اسے ایک بار پھر اپنے یاد ائے تھے…
اور دل میں ان سب کو برباد کر دینے کا عزم مزید بڑھ گیا.. وہ زنان خانے کے کچن کیطرف چلی گئ…
……………….
بہرام “احمر نے اسکو پکارہ.. جو.. ڈائیننگ کیطرف جا رہا تھا.. اج سب.. اکھٹے کھانا کھانے والے تھے..
ہاں بولو” احمر کیطرف بہرام مڑا…
نین میری بیوی ہے….
بھلے تمھاری بہن سہی مگر.. میرا رشتہ جو ہے اس سے وہ یہ بات بلکل برداشت نہیں کرے گا میری بیوی.. کو لے کر یہ اسکے حلیے پر کوی بات کہے.. بلکے زنان خانے کی خواتین کو بھی کوئ اپنے بدلے کی اگ میں رگڑے…
تو بہتر ہو گا…. تم خود سب چیزوں کو قابو میں کر لو”چند لفظ کہہ کر.. وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ بہرام… کی مٹھیاں بھینچ گئیں…
یہ ادمی کبھی اسکے سامنے بولا نہیں تھا اور اج کیسے سنا گیا.. تھا… اسکا بس نہیں چلا سب میں گھس کر پھٹ جائے..
برحال غصے کو قابو کرتا.. وہ.. ڈائینگ پر ایا. رات کا کھانا سرو ہو رہا تھا.. سب باتیں کر رہے تھے اچھا ماحول تھا…
وہ بھی داجی کے ساتھ بیٹھ گیا..
تبھی.. وہاں .. مرد ملازموں کے سامنے.. عابیر ہاتھ میں ڈش تھامے.. چلی ائ..
کچن میں جب وہ گئ.. تو.. درخنے نے سب کی چوائس کا بتایا.. بہرام سپائس نہیں کھاتا تھا.. بس پھر کیا…
اسنے وہ ڈش اسکے سامنے رکھی..
بہرام ساکت رہ گیا…
وہ کیوں ائ تھی.. سب ایکدم خاموش ہوئے..
جان.. اپکے لیے خاص طور پر بنایا ہے”اسنے اسکی پلیٹ میں مسکرا کر سرو کیا.. اور.. بہرام کے سرخ پڑتے چہرے.. کو دیکھ کر دل میں قہقہے لگاتی وہ وہاں سے چل دی.. سب ہی دانت کچکا گئے تھے..
جبکہ بہرام مسلسل.. شرمندگی کا سامنا کر رہا تھا.. اسنے سر جھکا لہا…
اور عابیر کا سرو کیا کھانا کھانے لگا
. باقی سب بھی کھانا کھانے لگے مگر سب اسے کھانے کے ساتھ جیسے تماشے کیطرح دیکھ رہے تھے…
ملازم کی بھی نظریں اسی پر تھی…
وہ کھانا کھائے جا رہا تھا.. مسلسل.. مسلسل… سب کا کھانا رک گیا.. وہ بہرام کو دیکھ رہے تھے جس لال چہرہ.. سرخ انار کی مانند تھا.. جبکہ. پسینہ شدت سے پھوٹ رہا تھا…
داجی نے.. اسکا جنونی انداز دیکھا اور اس کھانے کی ایک چمچ.. بھر… منہ میں ڈالی تو انھیں لگا. جیسے اگ منہ میں رکھ لی ہو.. اس قدر مرچی..
خان”داجی نے پلیٹ اٹھا کر دیوار میں دے ماری جبکہ اسے جھنجھوڑ دیا..
بہرام.. نے انکا ہاتھ ہٹایا.. اور وہاں سے نکل گیا…
داجی.. نے ایک عزیت سے آنکھیں میچی تھیں..
مجھے تو سمھجہ نہیں ا رہا یہ سب برداشت کیوں ہو رہا ہے” یاور خان پہلی بار داجی.. کے اوپر داھاڑے تھے کھانا برباد ہو گیا تھا.. معاویہ تو اسکے پیچھے بھاگا تھا جبکہ سب ہی اٹھ گئے..
…………..
جاری ہے
