Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
برات کا فنکشن حویلی کے لون میں ہی ہوا تھا.. جبکہ.. وہ کون سا شخص… تھا…. جو اس فنکشن میں موجود نہیں تھا….
جلسہ اسکا بہت کامیاب گیا تھا.. جبکہ اس علاقے سے وہ جیت چکے تھے.. اب.. اسمبلی میں انکی سیٹ پکی تھی.. ایک جشن تھا… جو روز منایا جا رہا تھا.. اسی سوچ کے تحت اس فنکشن پر.. داجی نے کوئ کثر نہیں چھوڑی تھی دعوت ایسی تھی.. کہ.. کبھی.. کسی نے نہ کھائ ہو….
بہرام… بلیک علاقائ سوٹ میں… جیسے محفل کی جان بنا ہو ا تھا… ہفتہ ہونے کو ایا تھا.. وہ عابیر سے نہیں ملا تھا تبھی اکھڑا اکھڑا سا تھا اور یہ سب داجی کی وجہ سے ہوا تھا وہ کبھی کسی کام میں پھنسا دیتے کبھی کسی..
میں ضروری نہیں تھا کہ..وہ انکی مانتا.. بس.. مراوت کے ہاتھوں مجبور تھا…
سارا فنکشن بے کار گزرا تھا….
اور پھر رخصتی کا شور اٹھنے لگا…
حالانکہ.. زنان خانے سے مردان خانے میں.. نیہا نے انا تھا مگر خواتین پھر بھی.. رونے کا شغل لگا رہیں تھیں…
یہاں سب بے چین تھے….
احمر نین کو دیکھنے کے لیے جبکہ معاویہ انوشے کو.. اور بہرام یہاں سے بھاگنے کے لیے…..
جبکہ حیدر.. خود شہر جانے کے لیے بے چین تھا…..
بلآخر رخصتی ہوئ…. اور مردان خانے میں تھوڑی دیر بعد ہی نیہا کو… اسکے روم میں بیٹھا دیا گیا.. اب جیسے سارے ہنگامے بیٹھ گئے تھے.. مگر نہ احمر نین کو دیکھ سکا تھا نہ معاویہ انوشے کو..
بہرام.. اس جھنجھٹ کے ختم ہوتے.. ہی.. گاڑی کی چابی لے کر نکلنے لگا.. کہ داجی کے پکارنے پر روکا.. اسنے.. جھنجھلا کر پاوں زمین پر مارا اور پھر ضبط کرتا.. انکی طرف بڑھا سب مہمان جا چکے تھے.. بس کچھ ہی تھے… اور وہ بھی نکل رہے تھے..
خان ان سے ملو… یہ mpa صفدر ہیں… اور یہ انکی بیٹی…
وردہ “داجی نے… اسکا تعارف کرایا جبکہ وہ دونوں باپ بیٹی مسکرا دیے.. اور بہرام یہاں مراوت میں بھی مسکرا نہ سکا…
وردہ.. اس شہزادے کو غور سے دیکھ رہی تھی..
داجی.. مجھے ضروری کام ہے.. میں.. پھر ملو گا” وہ.. کہتا.. وہاں سے ہٹا… داجی نے کافی خفت محسوس کی.. وردہ انھیں بہرام کے لیے.. بہت بھائ تھی…
ٹھیک ہے مراد شاہ ہم بھی چلتے ہیں.. اب اسمبلی میں ہی ملاقات ہو گی” صفدر نے کہا.. تو لہجہ سنیجدہ تھا..
ارے…. کہاں چلے.. پہلی بار ہمارے علاقے میں ائے ہو.. ایک رات تو روکو” داجی نے.. کہا. تو.. باقی سب نے بھی تائید کی.. داجی کے پانچوں بیٹے.. وہاں کھڑے تھے…
بہرام ان سے کچھ فاصلے پر جا چکا تھا… معاویہ بھی اسکے پیچھے تھا…
نہیں انکل… اب چاہیں تو اپنے فرینڈ کو روک لیں مگر مجھے جانا ہے پلیز ” وردہ نے معمولی سی مسکراہٹ سے کہا.. تو.. سب مسکرا دیے.. معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کو بے حجاب دیکھنے پر قتل و غارت پر اتر اتے ہیں…
کیوں نہیں بیٹی.. ہمارے خان تمھیں…. چھوڑیں گے وہ بھی شہر ہی جا رہے ہیں” داجی نے کہتے ساتھ ایک بار پھر اسے پکارہ… جس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا.. اور وہ ایسا برا پھٹتا.. کہ یہ سب یاد رکھتے .. وہ لہو رنگ آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگا…
خان.. وردہ بیٹی کو انکے.. گھر چھوڑ دینا” وہ داجی کی سب چلاکی سمھجہ رہا تھا….
معاویہ سائیں.. چھوڑ دیں گے” اسنے وہیں سے جواب دیا.. وردہ کا چہرہ سنجیدہ ہوا.. جبکہ یہ ہی حال صفدر کا تھا…
باقی سب.. بہرام کی حرکت پر بس… خون پی کر رہ گئے…
خان.. ہم نے کہا اپ چھوڑیں گے “داجی نے.. جیسے وارنیگ دی. وہ اسکے قریب ا گئے تھے.. اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے … دباو دینے لگے…
دیکھ لو گا اپکو میں..” بہرام.. نے بھی انھیں گھورا…. داجی مسکرائے…
اچھے سے دیکھنا دادا کی جان.. “وہ.. خوشی سے بولے… اور بہرام.. باہر نکل گیا…
. جائیں .. بیٹا… “وردہ کو انھوں نے کہا تو.. وہ.. سر ہلاتی چل دی.. جبکہ باقی سب وہ.. ہنستے ہوے مردان خانے کیطرف بڑھے…
معاویہ.. وہیں کھڑا تھا.
جبکہ بہرام اپنی جیپ.. میں.. رات کی تاریکی میں بھی گاگلز لگائے.. اتنا لاجواب لگ رہا تھا.. کہ وردہ… اس پر فدا ہونے لگی..
معاویہ سائیں مہمان کو اسکے ٹھکانے پر پہنچا دو “بہرام نے کہا.. تو معاویہ… نے سر ہلایا..
مگر اپکے داجی نے کہا.. کہ اپ. چھوڑیں گے” وردہ.. نے ایک نظر معاویہ کو دیکھا. اور اسکی جیپ میں بیٹھ گئ…
بہرام کے لیے یہ سب بڑا ضبط.. ازما کام تھے…
معاویہ سمھجہ رہا تھا… وہ… غصے سے پھٹ ہی نہ جایے.. تبھی. وہ بھی جیپ میں سوار ہوا.. اور جیپ…. انچے نیچے راستو پر دوڑنے لگی وہ سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا.. سر پر دھن سوار تھی کہ.. عابیر سے ملنا ہے…
اور سب.. مل کر.. اس سے اسکو دور رکھ رہے تھے…
اہستہ چلائیں خان…. “وردہ کو حقیقت میں خوف محسوس ہوا.. یہ راستے کس قدر خطرناک تھے…..
بہرام نے اچانک ہی.. گاڑی روکی…
معاویہ کے لب مسکرائے…..
معاویہ سائیں اگر شرم ورم کا کوئ سین ہے تو باہر جا سکتے ہو” وہ سنجیدگی سے سٹرینگ پر ہاتھ جمائے… بولا… وردہ کا منہ کھلا علاقہ سن سان تھا…
سائیں کیسی شرم…..” معاویہ.. نے.. سکون.. سے… کہا…
مگر ہماری بھی باری ائے گی… بھلنا مت”وہ…. مزے سے بول رہا تھا.. وردہ کا سانس حلق میں ہی اٹک گیا..
کیا.. کیا مطلب ہے اس سب بکواس کا “وہ حمت کرتی بولی…
بلبل… یہ زبان تو.. لڑکیوں کو بڑی جلدی سمھجہ ا جاتی ہے” بہرام.. اپنی مخصوس ٹون میں اترا…
اور گاگلز اترے…. اب وہ کفلنکس اتار رہا تھا.. جبکہ.. قمیض کے اوپری دو بٹن.. کھولے…
وردہ… کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے. وہ بولڈ تھی مگر. کبھی اس حد تک نہیں گئ. تھی. وہ چینخ مارتی… گاڑی سے باہر نکلی…. سانس بری طرح پھولے.. جبکہ… وہ بے اوسان بنا.. پیچھے دیکھے…. دوڑنے لگی…
معاویہ کا قہقہ… گاڑی میں گونجا.. اور وہ.. اچھل کر. فرنٹ سیٹ پر بیٹھا…
باسٹرڈ”بہرام.. نے.. غصے سے… کفلنلس.. ڈش بورڈ پر پھینکے.. اور گاڑی.. بھڑا دی…
جبکہ معاویہ نے جھک.. کر… واین کی بوتلیں نکالیں .. ایک اسکے ہاتھ میں تھمائ جبکہ. ایک.. خود کھول لی..
ویسے خان… اگر… وہ ریپورٹر.. نہ ملی ہوتی… تب بھی.. سائیں ایسے جانے دیتے لڑکی کو” معاویہ نے انکھ دبای… بہرام نے. بوتل لبوں سے ہٹائ.. اور اسکو دیکھا…
بھابھی…” اسنے تنبھی نظروں سے اسے دیکھا.
جی حضور بھابھی اب تو بتاو “اسنے فورا اسکی بات مانی..
تمھیں کیا لگتا ہے خان” بہرام مدھم سا مسکرایا….
جبکہ.. دونوں کا قہقہ…. گاڑی.. اور سن سان رستوں کو جگمگا گیا…
………………
حور… کے مسلسل میسیجیز ا رہے تھے جبکہ وہ والٹ.. اور کیز لینے کے لیے روم میں ایا تو.. ارمیش کو بیڈ پر لیٹا پایا….
وہ.. اسکو اگنور کرتا…. اپنا سامان اٹھانے کے لیے بڑھا… کہ.. اسکی مدھم سی سسکی سنائ دی….
حیدر نے. کچھ چونک کر دیکھا….
ارمیش ابھی بھی.. سرخ لباس میں تھی جبکہ… آنکھوں پر ایک ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ…. کو.. بلنکیٹ میں چھپایا ہوا تھا….
اسنے پھر سے اگنور کیا…. اور.. سامان اٹھا کر باہر کو جاتا… کہ.. اسکی سسکی نے پھر اسکے پاوں پر قفل ڈالے.. وہ جھنجھلا کر پلٹا… اور.. اس تک پہنچ کر.. اسکی آنکھوں پر سے ہاتھ جھٹکا….
بکھرے بکھرے میکپ.. میں… وہ جان لیوا.. لگی…
مگر.. اسنے خود کو ڈپٹا.. کہ حور کے پاس پہنچنا زیادہ ضروری تھا…
مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ.. ہر وقت کی منحوست تنگ نہیں اتی.. خانم “وہ.. غصے سے بولا.. ارمیش.. نے اسکی جانب دیکھنا گوارا نہ کیا.. اور انسو پوچھ کر.. وہ اٹھ بیٹھی.. اس دن کے بعد سے وہ.. اس سے ایک لفظ نہیں بولتی تھی..
حیدر کو.. یہ بات اہنی انا پر گراں گزری…
اسنے سامان.. بیڈ پر پٹخا.. اور ارمیش کے بال جکڑ لیے.. ارمیش کی پلکیں اب بھی جھکیں تھیں..
نام لو ہمارا”وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش پر.. اپنی تپتی نظریں گاڑتا بولا…
ارمیش خاموش رہی…
حیدر نے مزید اسکے بال کھینچے تو ارمیش کا چہرہ.. اوپر اٹھ گیا….
حیدر.. اسکی پھیلی سرخ لیپسٹک.. کو دیکھنے لگا..
کہو حیدر” اسکی اواز مدھم تھی.. جیسے وہ ان ہونٹوں کے سحر میں جکڑا جا چکا تھا.. اب.. میسیج کی بولتی ٹون یہ.. حور.. فلحال اسکے دماغ سے غائب ہو گئ..
ارمیش.. نے.. دونوں.. ہاتھوں سے.. اسکے سینے پر دباو ڈالا… اور اسے پیچھے جھٹکا.. وہ اتنا کمزور نہیں تھا.. مگر ایک قدم خود سے پیچھے ہو کر وہ اسکی جرتیں دیکھ رہا تھا…
دور رہیں….. مجھ سے “وہ سرخ آنکھوں اور بھیگے لہجے میں.. بولی…
اووو اچھا…. ویسے تم خانم خاموش جب رہتی ہو تو کم منحوس لگتی ہو”… اسنے اپنے شانے پر سے چادر.. اتاری.. اور دور صوفے پر اچھال دی…
ارمیش.. نے… روخ موڑ لیا..
جائیں جہاں جا رہے تھے “وہ بال سمیٹتی.. اٹھتی.. حیدر نے اسے اٹھنے نہ دیا وہ اسکے بلکل سامنے کھڑا تھا….
خانم ہماری بات.. مانی نہیں اپ نے”اسنے.. ارمیش کا چہرہ.. دبوچا…. ارمیش کو تکلیف ہوئ.. اور اپنا ہاتھ.. حیدر کے ہاتھ پر رکھ کر.. وہ ہاتھ ہٹانے لگی.. حیدر کی نظر اسکے صاف شفاف ہاتھ کی… جلد پر گئ.. جو جگہ جگہ سے سرخ.. ہو گئ تھی.. اور اسپر چھالے بنے تھے..
ارمیش کی بھی نظر اسکی نظر سے ٹکرائ.. اسنے ہاتھ ہٹایا…
کیسے لگی یہ “حیدر ر.. نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا..
اپکو کیا ہے اس سے زیادہ.. اپ مار کر دے دیتے ہیں” ارمیش.. کو دوبارہ سے تکلیف ہونے لگی… تبھی.. وہ.. بولی….
حیدر نے.. دانت بھینچ کر اسکو دیکھا….
میں تمھیں مارو تمھارے جسم کے ایک ایک حصے کو کاٹ کے پھینک دوں مجھے افسوس نہیں… مگر کوئ.. اور یہ کرے.. وہ زندہ نہیں بچے گا.. بتاو مجھے کیسے ہوا یہ” وہ بولا.. تو ارمیش… کی آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں…
درخنے سے چائے گیر گئ” وہ.. نا جانے کیسے اسے بتا گئ.. جبکہ… وہ تو اب اس شخص سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی…
اندھی ہے کیا وہ “حیدر دھاڑا.. اور ایکدم اٹھا…
روک جائیں سائیں…. اپکو میرے لیے.. یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں…. “ارمیش سرد لہجے میں بولی.. تو حیدر بل کھا کر پلٹا..
تم نہ اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے تمیز سے بات کی جائے”وہ.. غصے سے اسے دیکھنے لگا….
ہممم تمیز” ارمیش.. نے مدھم اواز میں کہا.. حیدر کے لیے یہ بات ہضم کرنا ہی دشوار تھی کہ وہ لڑکی جسے دو سالوں سے… وہ ایسے ٹریٹ کرتا… تھا.. جیسے وہ کوی ملازمہ ہو اور وہ ایک لفظ نہیں بولتی تھی جبکہ اب.. اسکی اتنی زبان کیسے لگ گئ تھی..
اسنے ارمیش کی بربڑاہٹ پر.. کھینچ کر تھپڑ .. دے مارا.. جبکہ. گردن بھی دبا.. دی. ارمیش.. تکیے.. پر پڑی تڑپنے لگی…
اسکے ہاتھ میں بلا کی سختی تھی.. ارمیش کا سانس.. رک رہا تھا….
س… سائیں.. “اسنے خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کی.. مگر.. حیدر.. نے. دوسرے ہاتھ سے.. اسکا منہ بھی دبا دیا…
اسے محسوس ہوا.. اب.. اسکا دم نکل جائے گا….
اور اس سے پہلے سانسیں جسم کا ساتھ چھوڑتیں. وہ دور ہوا.. اور.. ایک جھٹکے سے.. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسکو نزدیک کیا…
ارمیش…. بری طرح.. رونے لگی.. کہ اسکی مدھم مدھم چیخیں.. حیدر کے سینے میں دم توڑ رہیں تھیں..
خانم. انسان کو اپنی اوقات.. اور شناخت نہیں بھولنی چاہیے.. “وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا… مدھم مسکراہٹ کے ساتھ… جیسے اسے سمھجا رہا تھا…
ارمیش کا وجود اسکے ہاتھوں میں بری طرح کانپ رہا تھا…….
وہ کچھ نہ بولی… حیدر.. اسکا سسکنا.. رونا.. سنتا رہا…
اچھی لگ رہی ہو” کچھ دیر بعد حیدر نے ہی.. اسکا چہرہ اوپر کیا..
ارمیش.. بے بس.. اسے دیکھنے لگی..
اسے اندازا ہو گیا تھا.. وہ.. اسکے سامنے کچھ نہیں… وہ بولے.. تب بھی.. وہ نہ بولے تب بھی. وہ شخص.. اس سے اپنی غلامی ہی کرائے گا…
حیدر.. نے.. جھک کر.. اسکی لیپسٹک کو.. مزید.. برباد کر دیا.. جبکہ اسکے ہاتھ اپنی گردن میں حائل کر کے.. وہ پوری طرح. اس میں گم ہو گیا….
چند.. عزیت ناک.. پل گزرنے کے بعد… وہ.. فون کی بیل پر جھٹکا کھا کر.. اٹھا….
ارمیش… خود کو.. سمبھالنے لگی.. جبکہ وہ.. بھی خود کو سمبھالتا… فون اٹھا گیا…
حیدر میں پیچھلے ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہیں ہوں”حور غصے سے بولی.. تو. وہ مسکرا دیا..
بس ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا.. اب نکلتا ہوں نہ اڑ کر پھنچ جاو گا تمھارے پاس” وہ.. ارمیش کی غیر.. ہوی حالت. کو.. مزے سے دیکھتا.. اٹھا… اور… ڈریسنگ کے سامنے چلا گیا…
کیسا کام”حور کے لہجے میں خدشے تھے… سمھجہ تو وہ گئ تھی
وہ اتنا اہم ہی نہیں کہ.. اپ اسکو سوچ کر وقت برباد کرو.. چلو بند کرو اور گھڑی دیکھو.. پندرہ منٹ میں اتے ہیں “اسنے کہا.. تو وہ ہنکارہ بھر کر فون بند کر گئ…
ارمیش ایک بار پھر رونے لگی تھی.. حیدر گنگنا رہا تھا…
اب اسے اسکے سسکنے یہ رونے کی فکر نہیں تھی.. کیونکہ یہ تکلیف.. اسنے اسے دی تھی.. وہ. پھر سے.. تیار ہو کر.. اسکے پاس ایا.. اور دراز میں سے.. برنول نکال کر. اسنے اسکے ہاتھ پر احتیاط سے لگایا.. اور اسکے ماتھے پر بوسہ دے.. کر. وہ اپنا سامان اٹھا کر.. نکل گیا… پیچھے ارمیش کی چیخیں.. اور. کمرے کی تنہائی تھی… وہ اسے پاگل کر رہا تھا….
……………….
احمر نے دروازہ کھولا تو سامنے نین کو دیکھ.. اسکی آنکھیں پھٹ گئیں…
نین یہ سب کیا ہے “وہ.. ہڑبڑایا… کتنا ہنگامہ ہوا تھا… پہلے بھی اور پھر وہ.. ا گی تھی..
میں یہ سوچ رہی ہوں چھوٹے..
احمر” وہ غصے سے بولا..
اچھا کچھ بھی… “نین نے ناک پر سے مکھی اڑائ…
کہ حویلی کے باہر کا نظارہ کیسا ہو گا” اسنے. سوچا.. اور اسکیطرف دیکھا…
یہ سارے افلاطونی کام اپ نے مجھ سے ہی کرانے ہوتے ہیں.. داجی زندہ نہیں چھوڑیں گے جائیں یہاں سے” وہ. اسکو بیڈ پر بیٹھا دیکھتے ہوئے بولا.. جبکہ اس سے خود کافی فاصلے پر تھا…
ہاں نہ میں چاہتی ہوں داجی تمھیں سولی پر چڑھا دیں”نین نے خونی نظروں سے اسے دیکھا..
احمر افسوس کے سوا کچھ نہ کر سکا…
باہر لے کر چلو مجھے”اسنے دو ٹوک لہجے میں کہا.. جبکہ نقاب سے چہرہ چھپایا ہوا تھا..
ناممکن “احمر نے جھٹ کہا..
ٹھیک ہے.. ابھی ابھی.. نکلتی ہوں تمھارے کمرے سے.. اور… پکا کوئ نہ کوی دیکھے گا… پھر.. بچانے مت انا “نین نے باغی لہجے میں کہا… جبکہ احمر کا صبر جواب دے گیا..
وہ.. ایک سیکنڈ میں اسکے نزدیک ہوا…..
اور. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا..
نین کے حقیقی معنی میں چھکے چھوٹ گئے تھے.. وہ آنکھیں پھاڑے.. اسکو دیکھ رہی تھی. جس کے لب مدھم سی مسکراہٹ میں.. ڈھلے تھے…
اور وہ.. اہستگی سے اسکا نقاب.. اتار رہا تھا.. نین کا پورا وجود کانپ گیا اسے احمر سے یہ توقع نہیں تھی..
ماشاءاللہ “نین کا چہرہ دیکھ کر احمر نے پیار سے کہا…
نین کو اس سے گھن انے لگی..
زلیل انسان” وہ چنگھاڑی….
اور اسے دھکا. دے کر.. دروازے کیطرف دوڑی…
نین اپ غلط سمھجہ رہیں ہیں “اسکا کوئ غلط ارادہ نہیں تھا مگر.. نین نہ جانے کیا.. سمھجہ رہی تھی…
سمھجہ گئ ہوں میں تم بھی باقیوں کیطرح حوس پرست ہو بس. “وہ بلند اواز میں دھاڑی..
پلیز اواز اہستہ رکھیں…” احمر نے اس طوفان کو روکنا چاہا…
دیکھتے جاو… میں تمھارے ساتھ کرتی کیا ہوں” وہ وارن کرتی باہر بھاگی…
تو احمر. بھی پیچھے نکلا.. قسمت ہی تھی ہال میں کوئ نہیں تھا..
ایک اور بیر ڈال لیا تھا. اب احمر نے نین سے.. نہ جانے اب وہ کیا کرتی
وہ مسکرا دیا….
بس اسکو دیکھنے کی خواہش.. پوری ہو گئ تھی..
…………………..
اس صابن دانی میں.. کبھی نہ.. او میں.. اگر.. ہمارا سرکار.. یہاں نہ ہو “بہرام.. شراب کی بوتل پیتا… جھنجھلا کر بولا..
یار انوشے یاد ا رہی ہے” معاویہ اپنے ہی گم میں… تھا…
چل…. چلیں “اسنے… کہا.. تو معاویہ نے روکا…
خان اج.. کوٹھے پر چلتے ہیں…”
سرکار کے ساتھ بےایمانی نہیں چلے گی.. سائیں.. پہلے ہی.. ہماری میٹھی.. اکھڑی اکھڑی.. رہتی ہے. معلوم ہو گیا. تو کھا جائے گی..” وہ.. مزے سے ہنسا..
ابے.. کس نے بتانا.. بھابھی کو” معاویہ جھنجھلایا….
ملے بغیر کہیں بھی نہیں” بہرام قطعی لہجے میں بولا…
اور ملنے کے بعد” وہ پرجوش ہوا…
سوچیں گے”بہرام نے کہا. اور دنوں گاڑی سے نکالے..
چھت سے جانے کی اب ضرورت نہیں تھی تبھی دونوں نے. انکا دروازہ بجایا….
دروازہ نہ کھلنے پر. دونوں نے لاتیں مارنی شروع کر دیں…
تو.. جھٹ دروازہ کھلا..
رات زیادہ تھی تبھی. ارد گرد کوئ نہیں تھا….
اکبر صاحب کو دیکھ کر دونوں نشے میں جھومتے سلام جھاڑنے لگے.. اکبر صاحب…
چاہ کر بھی انھیں… نکال نہ سکے کے انکے ہاتھ میں بندوقیں تھیں…
دلبر….. “بہرام… صحن میں پڑی.. کرسی.. پر بیٹتھتا.. بندوق.. سائڈ پر پڑی.. چھوٹی سی.. میز پر رکھتا.. اونچی اواز میں.. چلایا..
عابیر… جس کی نیندیں تو اڑ چکیں تھیں اسکی اواز پر… ایکدم اٹھی مگر باہر نہ نکلی..
مکھن کہاں ہوں” وہ پھر بولا…
بیٹا کیوں کر رہے ہو ایسا ہماری عزت برباد ہو گئ…. مت کرو ایسا” اکبر صاحب کے پاس اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے کے سوا کوئ چارا نہیں تھا.. بہرام انھیں سرخ نظروں سے دیکھنے لگا.. عابیر.. ریہا.. اور مما بھی دیکھ رہیں تھیں. عابیر تو تڑپ ہی اٹھی…
وہ اچانک ہی دوڑتی ہوی.. باہر نکلی
..بابا اپ اس نیچ کے سامنے ہاتھ جوڑیں گے…”
عابیر”اکبر صاحب دھاڑے…
سرکار خوشآمدید”بہرام.. ہنستا. ہوا… اسکو دیکھ کر بولا… دل.. میں چین سکون اتر گیا…
اکبر صاحب…کو عابیر پر اسقدر غصہ تھا کہ وہ اسپر ہاتھ اٹھاتے کہ بہرام نے فائر کھول دیا . عابیر..
سمیت سب کی چینخ نکل گئ.. مگر گولی.. اکبر کو نہیں لگی تھی.. پاس سے گزر گئ…
ایک ہاتھ بھی لگایا.. تو تن سے الگ کر دوں گا… “بہرام سنجیدگی سے بولا…
عابیر…. بھیگتی آنکھوں سے باپ کو دیکھنے لگی..
اکبر صاحب.. اسے.. وہیں چھوڑ کر… اندر چلے گئے..
بابا” عابیر.. کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا… اسنے تو.. سب ثابت کر دیا…
سائیں تھوڑی دیر تو روکو”بہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا جبکہ وہ.. باپ کے جانے پر اور پھر دروازہ بند کر دینے پر.. مچل اٹھی..
سمھجدار ہے”معاویہ.. ہنس پڑا… جبکہ.. خود بھی باہر چلا گیا.. صحن میں بس وہ دونوں رہ گئے…
عابیر اپنا ہاتھ چھوڑانے.. کی کوشش کرتی.. زمین پر بیٹھ کر.. رونے لگی.. بہرام نے اسے کھینچ کر اپنی چئیر کے نزدیک کر لیا….
اور اسکا چہرہ دیکھنے لگا….
اس چہرے پر.. بہرام قربان جائے..”ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ قابو کیے جبکہ دوسرے سے.. اسکے چہرے پر ہاتھ.. چلاتا.. وہ مدہوشی میں تھا…
عابیر نے اسکا ہاتھ جھٹکا…
اور.. ایک ہاتھ سے اسکاگریبان نوچ ڈالا
سسسسی” بہرام کے سینے پر اسکے نخون چبھے تھے…
مگر وہ پھر بھی مسکرا دیا…
اور.. عابیر کو مزید کھینچ کر.. وہ جھک کر.. اسکے چہرے پر جھکنے لگا.. کہ.. عابیر نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا… بہرام نے. وہ ہاتھ بھی تھام لیا…
اور.. اسکی انگلیوں کو دیکھنے لگا…
عابیر کا دل خوف سے لرزا…
بہرام نے. ان نازک انگلیوں کو لبوں سے لگایا اور پھر دانتوں میں دبا لیا.. اتنی زور سے.. کہ. عابیر کی چینخ.. سن کر.. اکبر صاحب. جو اس سے نفرت کا اظہار کر کے جا چکے تھے تڑپ کر باہر نکلے..
انکی بیٹی تڑپ رہی تھی.. جبکہ وہ دانتوں میں اسکی انگلیاں لیے مسکرا رہا تھا…
وہ بھاگ کر اس تک پہنچے.. اور اپنی بیٹی کو چھڑوایا….
عابیر انکے سینے سے لگی… رونے لگی.. جبکہ بہرام.. بندوق لے کر اٹھا..
چلتا ہوں.. سرکار… ہرملاقات.. میں…. اپنے کھٹے سے باندھ لیتیں ہیں… کبھی تفصیلی.. ملیں گے.. پھر.. اپکو سسکا نہ دیا.. تو نام بدل دینا.. “وہ بے باکی سے کہتا.. انگلش دھن گنگناتا.. وہاں سے نکلا…
عابیر سمیت اج اکبر صاحب بھی رو رہے تھے جبکہ اندر ریہا.. اور مما بھی روئے جا رہیں تھیں..
ہنستا بستا گھر.. اجڑ کر رہ گیا تھا…
……………… …
جاری ہے
