Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

وہ اپنے گھر آ گئی تھی… اور کسی حد تک مطمئین تھی.. اسنے سنا تھا کالام بے انتہا خوبصورت وادی ہے.. مگر.. پیچھلے ایک دن میں اسے وہ بلکل پسند نہیں ائ…
کیونکہ وہ جھوٹا مکار…. دھوکے باز…. گھمنڈی انسان.. وہاں کا سردار تھا بھلہ عابیر کو وہ جگہ پھر پسند آ بھی سکتی تھی…
اسنے.. اس جگہ پر اور اسکے سردار ہر دو حرف بول دیے تھے.. اسنے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی.. جس میں صاف صاف درج تھا…
بہرام خان.. ایک عیاش…. انسان ہے.. جو عورتوں سے صرف کھیلنا جانتا ہے… .. وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو صرف بیوقوف بنا رہا ہے….
اور عوام جو حد سے زیادہ یہ تو معصوم ہے یا کم عقل….
ہر بار.. غلط سے درست کی امید لگا لیتی ہے….
اس شخص کی عیاشی اسکی گندی گرے آنکھوں سے جھلکتی ہے… اور عابیر.. کو اس سے سخت نفرت ہے….
اسنے قلم ٹیبل پر پھینکا.. اور غصے سے سیٹ پر ٹیک لگا دی.. ایک بار پھر اپنی تیار کردہ رپورٹ پڑھی… اسکی.. چمکتی آنکھیں اس رپورٹ کو گھورتیں رہیں…. کیا لاجواب رپورٹ تیار کی تھی اسنے.. کس قدر.. پرسنل نوعیت کی تھی.. یہ رپورٹ اڈیٹر دیکھ کر باغ باغ ہو جاتا… اور وہ کھلکھلا دی.. اپنی رپورٹ کے انداز پر… ہنستے ہنستے اسنے سر ٹیبل پر دھر دیا.. وہ تھک گئ تھی بھوک بھی لگی تھی…
جبکہ… رات کا وقت تھا سب سو رہے تھے.. .. اسکی بے وقت بھوک اسے کچن کی جانب کھنچ رہی تھی.. وہ… مما کی نظروں سے بچتی.. کچن تک پہنچی.. اور… فریج کھول کر بڑی ساری چاکلیٹ نکال کر اب وہ مزے سے کھاتی.. دوبارہ.. اپنے روم کیطرف چل دی جہاں اسکا سیل وائبریٹ ہو رہا تھا معاذ کا نمبر دیکھ کر اسنے اٹینڈ کیا…
کیسی ہو”سوال ہوا…
ٹھیک ہوں” وہ ریلکس سی بولی..
کیا کر رہی تھیں “اسنے پھر پوچھا..
ریپوٹ تیار کر رہی تھی اب بس سونے لگی ہوں”
کس کی رپورٹ میڈیم کون معصوم.. تمھارا شکار ہوا ہے “وہ ہنس کر بولا..
معصوم ہمم” اسنے منہ بنایا…
اچھا اچھا.. اتناغصہ کیوں.. رپورٹ کیسی تیار کی ہے.. 9 بجے کے بلیٹن میں آ جائے گی “اسنے.. پھر سوال کیا..
ارے”وہ ہنس دی.. رپورٹ کو پھر پڑھنے لگی..
یہ پرسنل نوعیت پر اترتی ریپوٹ ہے.. اڈیٹر.. نے پڑھ لی.. تو… پریشان ہو جائے گا” وہ کھلکھلا رہی تھی.. معصوم سی ہنسی.. رات کے اس پھیر معاز کو بہت بھلی لگی…
کیا لکھا ہے ایسا بھی” اسنے مسرمائز ہوتے پوچھا…
کہ عابیر اکبر کو بہرام خان کی گندی.. گرے آنکھوں سے نفرت ہے “
اسنے سامنے لکھی لائن دھورائ.. معاذ خاموش ہو گیا…
کون ہے وہ جس پر اتنا پرسنل ہو گئ تم”اسکی آواز اب سنجیدہ تھی عابیر ہنس دی…
اب تم.. فضول سوچے مت پالنا.. وہ ایک کرپٹ سیاستدانوں کا سردار ہے.. اور ہماری بساعت سے.. بہت دور.. سمھجو چاند… اور زمین “اسنے اسکو تسلی دی..
کبھی کبھی چاند زمین کے لیے.. خود زمین پر اجاتے ہیں “وہ اب بھی سنجیدہ تھا..
میں نے تو کبھی نہیں دیکھا… کہ.. کبھی چاند بھی زمین پر آیا ہو”وہ بھی سنجیدہ ہوئ.. دوسری طرف خاموشی چھا گئ…
تمھاری زندگی میں.. صرف میں ہوں” اسنے سوال کیا.. عابیر کے ماتھے پر بل پڑ گئے…
میری زندگی میں تم بھی نہیں ہو.. کیونکہ شادی سے پہلے میرے پاس تمھارے لیے کوئ جزبہ نہیں.. تو.. کسی اور کا تو سوال ہی کیا ہے…. وہ بھی ہماری پہنچ سے اسقدر دور. کہ چاہ کر بھی ہاتھ نہیں بڑھا سکتے.. اور چاہنے کی بھی بات بکواس ہے.. زہر.. لگتا ہے وہ شخص.. خیر وہ ہمارا ٹوپک نہیں.. تمھارا شکی ہونا مجھے کبھی پسند نہیں آیا تم میرے کام کو جانتے ہو… برحال.. تمھیں اپنی عادت کو بدلنا ہو گا “وہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھی.. معاذ ہنس دیا…
ارے مزاق کر رہا ہوں..” عابیر کے تیور چڑھے..
جانتا ہوں بھئ تمھارے کام کو.. اور تمھارے اڑیل دماغ کو بھی… چلو شاباش سو جاو.. ریلکس ہو کر.. “اسنے مسکرا کر کہا تو.. عابیر نے بھی سکھ کی سانس لی..
اوکے گڈ نائٹ” اسنے فون بند کیا ایک نظر پھر.. رپورٹ پر درج بہرام خان کے نام پر ڈالی.. اور آٹھ.. کر بیڈ پر.. آ کر لیٹ گئ..
جبکہ وہ یہ بھول گئ تھی کہ اس ورک پر.. بہرام کے نام کے ساتھ اسکا نام بھی درج تھا…
…………..
وہ بری طرح… ساجد کو پیٹ رہا تھا اسطرح کے ساجد کی آہیں.. حویلی کو ہلا رہیں تھیں..
حرام خور.. تجھے کہا تھا.. بس اڈا نہ کھلے کم از کم تب تک جب تک میں نہ کہو پھر کس کی اجازت سے بس اڈا کھلا “اسنے.. ڈنڈا ایک طرف پھینکا.. اور اب ساجد.. پر مکے برسانے لگا.. معاویہ ایک طرف کھڑا.. یہ منظر حیرر سے دیکھ رہا تھا.. جبکہ باقی سب بھی.. تھے مگر.. شاید اس کے باپ میں بھی اتنی جرت نہیں تھی کہ وہ اسے روک سکتے.. جبکہ ساجد.. کی دھلائ دیکھ سب ملازم سہم چکے تھے..
بول منہ سے بھونک سالے… “وہ.. اسے اپنے جوتے سے پیٹنے لگا..
معاف کر دیں سائیں.. خدا قسم.. مجھے کسی نے نہیں کہا تھا.. اگر کوئی کہتا تو.. ایسا کبھی نہ ہوتا..” ساجد بلکتے ہوئے.. اسکے پاوں پکڑ رہا تھا جو… اسکی عمر.. کا بھی لحاظ بلاطاق رکھ چکا تھا..
معاویہ کو وہ کہہ چکا تھا بس اڈے رکوا دو.. عابیر کالام سے جانی نہیں چاہیے..
مگر معاویہ اپنی عیاشی میں اتنا مگن تھا کہ وہ اسکا کام نہیں کر سکا.. اور اب یہ زلزلہ.. ساجد.. کی بوڑھی ہڈیاں سہہ رہیں تھیں
انوشے خوف سے.. جبکہ نین افسوس.. اور ارمیش آنسو بھری آنکھوں سے.. چھت پر سے یہ منظر دیکھ رہے تھے.. جبکہ نیہا.. انھیں وہاں سے ہٹنے کو مسلسل کہہ رہی تھی.. ساجد کی چینخوں نے انھیں.. چھت پر آنے پر مجبور کیا تھا.. جو کہ وہ کبھی ائیں نہیں تھیں….
بہرام کے سانس پھلنے لگے تھے مگر.. اسکا جنون کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا….
تبھی حیدر داجی… جواد خان.. یاور خان.. جو کسی فیصلے میں گئے تھے حویلی میں داخل ہوے تو.. یہ منظر دیکھ کر وہ بھی اپنی جگہ رک گئے..
ساجد.. درد سے.. چلا رہا تھا جبکہ وہ اسکے.. ہاتھ پر.. بوٹ رکھے.. انگلیاں بالوں میں پھنسائے…
وحشت زدہ سا لگ رہا تھا.. ملگجا سا حولیہ.. وہ.. انکا بہرام نہیں لگ رہا تھا…
بہرام”حیدر غصے سے چلایا.. جبکہ دوسری طرف نگاہ اٹھا کر بھی… اسنے دیکھنا ضروری نہیں سمھجا…
ہم نے کہا ہٹ جاو.. ورنہ اچھا نہیں ہو گا” وہ پھنکارہ… تو.. بہرام نے.. ایک ٹھوکر.. اسکے ماری.. اور دور ہوا…
ساجد… زمین پر بےہوش ہو گیا… جبکہ یاور خان کے اشارے پر… اسے.. وہاں سے ملازم … دکھ بھری نظروں سے دیکھ کر لے گئے..
امیر کی طاقت تھی غریب کی کیا اوقات بھلہ…..
داجی کی جان” داجی.. اسکی طرف بازو پھیلا کر… بڑھے….
مگر… وہ وہاں سے ہٹا.. اور اب معاویہ کا گریبان پکڑ لیا…
کیوں.. معاویہ.. خانم جان پیاری نہیں تھی کیا اپنی” وہ دھاڑ اٹھا…
بہرام.. میں “معاویہ اس سے پہلے بولتا.. بہرام نے.. اسکے کھینچ کر تھپڑ مارا….
ہماری دوستی کا یہ تکازہ نہیں تھا سائیں.. کہ تمھاری عیاشی… بہرام.. کا سکون چھین لے “وہ.. شیر کیطرح غرایا…
سب اسکے عجب انداز دیکھ رہے تھے.. وہ بارہا.. غصہ کرتا تھا… چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک دیتا تھا…
کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا…
کھانا پینا بند کر دیتا تھا….
ہزار ہزار داجی سے.. عظیم خان سے.. یہاں تک کے حیدر سے بھی… نکھرے اٹھوتا تھا مگر.. آج تک کسی نے اسکو اتنا جنونی نہیں دیکھا تھا وہ بھی بس اڈا کیوں کھلا اس بات پر کیا راز تھا.. جس کو وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا.. کیا تکلیف تھی.. کیسی بے چینی بدسکونی.. تھی….
کیوں تھی… َ”وہ جھنجھلا تا… ہوا… وہاں.. سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا…
کاش.. وہ رگوں میں مچلتی اس بے قراری.. جو دل تک پھنچ رہی تھی.. کو سمھجہ پاتا….
…………………….
ارمیش کو سمھجہ نہیں آیا.. کہ وہ اتنا خوش کیوں ہے.. حالانکہ اسکی وجہ سے.. نین اور انوشے بھی شادی میں نہیں جا سکیں تھیں اور اس سے سخت خفا تھیں… جنھیں وہ منا منا تھک چکی تھی.. مگر مجال ہے نین میڈیم کا ٹیسا اترا ہو….
اور پھر ساجد.. کی آہیں سن کر وہ بری طرح کا نپی… اسے دو سال پہلے کی وہ بھیانک.. رات یاد آ گئ…
جس میں.. اسنے شاید… دنیا جہان کی تکلیف سہی تھی…
مگر بہرام.. خان ساجد پر.. بلکل بھی رحم نہیں کھا رہا تھا بلکل اسی طرح جس طرح.. وہ رحم کی بھیک مانگ مانگ کر بے ہوش ہو گئ تھی…..
اسکی آنکھیں جھلملا اٹھیں درد سے دل پھٹنے لگا…
تبھی وہ آ گیا… وہ وہاں آ گیا.. اور اسکی ایک دھاڑ سے… بہرام.. پیچھے ہٹ گیا…
حالانکہ وہ جانتی تھی… کہ.. بہرام کسی کو گھاس نہیں ڈالتا.. مگر شاید وہ ہانپ چکا تھا تبھی اپنی مرضی سے ہٹ گیا…
مگر… ارمیش کو تو یوں ہی لگا کہو2ہ حیدر کے للکارنے پر ہٹا تھا..
اسکی آنکھیں چمک گئیں…
دل.. دھڑک اٹھا… اس میں رحم تھا….
کہیں کسی کے لیے تو…
وہ یہ ہی سوچے جا رہی تھی.. بی جان کی گود میں سر رکھے کہ نین آ دھمکی
ہٹو یہاں سے.. جاو چلی جاو اپنے میاں راج کمار کے پاس.. اور اب نظر مت آنا ہمیں “وہ… پنک کرتی.. شرارے میں.. ہاتھوں کو ہمیشہ سے.. ہنا… سے سجائے.. بال کھولے… آج.. بے پناہ حسین لگ رہی تھی..
ارمیش منہ بسور تی آٹھ گئ جبکہ وہ بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئ.. بی جان مسکرا کر.. اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگیں…
نین سوری نہ” ارمیش عاجز آئ…
بی جان کون ہے یہ..” وہ تو آنکھیں ہی پھیر گئ..
انوشے بھی وہیں آ گئ…
وہ… پیازی.. سے رنگ کے.. وہی کرتی گرارے.. میں بے پناہ معصوم سی… لگ رہی تھی…
وہ.. سامنے چئیر پر بیٹھ کر اب نین کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی
نین “ابھی ارمیش کچھ بولتی کے بی جان نے ٹوکا…
اچھا بس کرو… نیہا… کے کپڑے.. لینے جانا ہے.. ایک ماہ رہ گیا شادی میں.. یہاں انکے لڑائ جھگڑے نہیں مکتے…
میں کرتیں ہو خان جی سے بات” انھوں نے سب کو ڈپٹا.. مگر نین کی زبان پر شدید کھجلی ہوئ..
آوے.. ہوئے….. خان جی…. ای. ی. ی… ہماری بی جان.. کے خان جی” وہ کھلکھلائ.. بی جان آنکھیں کھولے سرخ سی ہونے لگیں…
اللہ توبہ… شرم کر لڑکی “وہ کان پیٹنے لگی..
بھلہ میری عمر ہے تیرے مزاق کی” وہ اسکے کان کھینچنے لگی تو وہ اٹھ بیٹھی.. باقی سب بھی آ گئے تھے.. جبکہ پھوپھو تو اسپر واری صدقے تھیں اپنے احمر کے لیے وہ اسے ہمیشہ سے پسند تھی..
تو.. اور.. ابھی تو آپ.. جوان ہیں بھئ”وہ.. انکے.. دوپٹے میں چھپے چہرے کو تکنے لگی… بی جان تو.. شرم سے سرخ پڑ گئیں…
تبھی وہاں.. داجی آ گئے.. سب ایکدم الرٹ ہو گئے.. وہ نین کی باتیں سن چکے تھے.. نین شرمندہ ہونے کے بجائے.. بی جان کی شرم جھجھک سے محظوظ ہو رہی تھی.. جبکہ داجی… مہم سا مسکراے.. حالانکہ وہ.. کبھی.. زنان خانے میں موجود خواتین کی کسی بات پر مسکراتے نہیں تھے. کسی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے تھے کجا کہ مسکرانا….
بی جان تو مزید شرمندہ ہو گئیں.. جبکہ داجی.. انھیں ہی دیکھ رہے تھے.. پھر نین کو دیکھا.. جو شرارت بھری نظریں گاڑے ہوئ تھی..
وہ چاہتے تھے.. بہرام.. انکا پوتا اکلوتا ہو.. مگر نین ہو گئ تھی.. تبھی نین سے انکی کوئ خاص. لگاوٹ نہ تھی.. خیر انکی تو کسی. پوتی سے نہ تھی.. ہاں پوتوں کے لیے وہ مرنے مارنے پر اتر آتے تھے.. جبکہ بہرام تو انکی جان تھا…
کل.. سب.. شہر چلیں جانا.. سمندر خان کے علاوہ.. احمر… اور معایہ بھی ہو گئے.. ساتھ “انھوں نے کہا.. تو سب نے.. سر ہلایا..
داجی… ایک بات کرنی ہے.. آپ سے” یہ پھوپھو تھیں جو جھجھکتی ہوئ بولیں…
انھوں نے ایک نظر دیکھا..
ہمارے کمرے میں آ جاو “
انھوں نے کہا.. تو بی جان اور پھپھو کمرے میں چل دیں جبکہ سب حیران تھے ایسی کیا بات ہونے ولی ہے جس سے وہ لاعلم. ہیں.
.. …….
کمرے میں ملگجا سا اندھیرہ اس بات کا گواہ تھا کہ باہر… اتری رات کی سیاہی.. کمرے.. کے مکین پر بھی اتر چکی ہے…
جبکہ… کمرے کا مکین.. بیڈ کے پاس
.. ایک ٹانگ فولڈ کیے دوسری ٹانگ پھیلائے… کارپٹ پر بیٹھا.. سر بیڈ.. پر رکھے.. آنکھیں موندے.. وہ بے بسی.. یاد کر رہا تھا.. جس سے.. آج شاید اسے عشق ہو گیا تھا…
ہاں.. ان آنکھوں کی بے بسی… لہجے کا لڑکھڑا جانا… پر.. غصے.. سے بولنا.. اور پھر بے بس ہو جانا.. اسکے دل پر.. وہ سب مناظر وار کر رہے تھے جبکہ وہ صرف ایک ملاقات تھی..
صرف ایک ملاقات.. جس کو گزرے.. آج.. نہ جانے کتنے دن گزر گئے تھے مگر… وہ آنکھیں وہ چہرہ… اڑتے بالوں کی آوارہ لٹیں.. کچھ بھی تو نہیں جا رہا تھا اس کے زہن سے.. کہ وہ…
چاہ کر بھی معاویہ کے ساتھ.. اس دن کے بعد نہ جا سکا…
جس دن اسنے.. اس لڑکی کو دیکھا.. تھا.. نہ جانے کیسے.. اسکے بعد… وہ.. دوبارہ.. ان جگہوں پر جا نہ سکا…
کوئ جھنجھلاہٹ کوئ بات کچھ نہیں تھا.. مگر.. ایک سرور تھا ایک نشہ تھا جو شراب سے زیادہ.. پراسرار… مزے دار تھا.. کہ.. وہ بے چینی بھی.. اسکو.. سرور بخش رہی تھی….
وہ حولے سے مسکرا دیا…
داجی کی بات یاد آئ.. وہ ان سے بھی نہیں ملا تھا…
کالام کا شیر…
کالام کا حسن “وہ ہنسا..
داجی.. بھی بس.. اسکو.. اٹھانے میں کثر نہ چھوڑتے تھے.. مگر اسکی نشیب.. کہاں گیری.. جس کا اسے نام تک پتہ نہیں تھا..
گلاس میں.. بوتل.. الٹ کر.. اسنے… گلاس لبوں سے لگایا…
اور ایک سانس میں پی گیا…
مگر بے چین.. آنکھیں بے بس ہوتا لہجہ… اسکے زہن.. کو گدگدا رہا تھا.. اور وہ بہکتا.. پوری بوتل ہونٹوں سے لگا گیا….
اب وہ جھوم رہا تھا…
وہ حسین دلکش چہرہ…
اسے.. دیوانہ بنا رہا تھا…
جاری ہے