Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
بال بال بچے ہو آج تم.. اگر داجی کو اس بات کی بھنک بھی پڑی تو
بیٹے تم تو گئے کام سے “معاویہ نے اسکی جانب دیکھا.. جس کا قہقہ گاڑی.. میں گونجا…
ہونٹوں میں سگریٹ دباے ناک کی چونچ پر بلیک گاگلز رکھے… بہرام نے معاویہ کیطرف دیکھ کر آنکھ دبائ….
یہ بال بال بچنا کیا ہوتا.. ہے… معاویہ صاحب.. ہم تو ہر بار بچ نکلتے ہیں.. کوٹھے کے مورچوں پر ہمارے بندے بیٹھے ہیں پولیس ہماری جیب میں ہے.. اور کیا چاہیے… کیا چاہیے جینے کے لیے… “وہ دلکشی سے ہنسا… معاویہ بھی ہنس دیا….
مگر افسوس” معاویہ نے دکھ سے اسکیطرف دیکھا…
کس بات پر”مستعدی سے ڈرائیو کرتے ہوئے… اسنے.. گاگلز کی آڑ میں سے.. اسکیطرف آنکھیں گھمائیں..
.. اب کیا ہو گا یار خان. کچھ کرو کچھ کرو… ہماری راتیں… ” اسنے اسکا مظبوط شانہ جھنجھوڑا.. تو بہرام پھر ہنسا….
معاویہ خانم.. صبر بھی کوئی شے ہے….
ابھی کچھ دن تو… نہ چاہتے ہوئے بھی صبر کرنا ہو گا… کیونکہ… ریڈ پڑ چکی ہے.. مشکل ہی ہے وہ جگہ دوبارہ کھلے…
برحال.. کالام زندہ بعد” وہ تفصیلی سمجھاتے ہوئے اینڈ میں جوش سے بولا.. اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا.. دی.. جبکہ معاویہ… نے بھی پرجوش ہو کر نعرہ لگایا.. تھا…
جیو خان..”
……
عابیر… بیٹا.. کھانا کھا لو “مما نے اسکیطرف دیکھا جو ابھی سو کر اٹھی تھی…
میرا سیل کہاں ہے” اسنے اٹھتے ساتھ ہی.. موبائل کی تلاش میں نگاہ گھمائ…
عابیر… کھانا تو کھا لو.. بس.. اٹھتے ساتھ ہی موبائل چاہیے” وہ غصے سے بولیں.. اور کمرے سے نکل کر چھوٹے سے صحن میں آ گئیں جہاں بابا ابھی کام سے آئے تھے.. وہ سرکاری کلارک تھے
متوسط گھرانے کے یہ لوگ اپنی زندگی سکون اور خوشی سے جی رہے تھے…
کام ایسا ہے مما کیوں خفا ہوتی ہیں… ” اسنے کہا.. اور.. اپنے باپ کے پاس بیٹھ گئ..
اسکی سفید رنگت میں گلابی رنگ جیسے گھل مل رہا تھا… بالوں کا رفلی جوڑا بناے.. وہ بادامی.. آنکھوں کو سیل پر جماے.. بیٹھی تھی..
میں تو کہتی ہوں.. اکبر صاحب.. اسکی شادی ہونے والی ہے.. اس گندی نوکری پر سے ہٹا لیں” انھوں نے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے.. کہا تو.. عابیر اچھل پڑی…
جبکہ نیھا کی کھی کھی.. سننے لائق تھی.. وہ دو ہی بہنیں تھیں.. بیٹا انکا کوئی نہیں تھا…
پیسے کی بھی کوئ ریل پیل تو نہ تھی مگر زندگی پھر بھی خوش اور مطمئین تھی..
مما شادی کا جھنجھٹ تو سال بعد تھا یار… ابھی.. کچھ ماہ ہوئے ہیں مجھے فیلڈ میں آئے.. اور… معاذ سے تو میں بات کر بھی چکیں ہوں سال ڈیڈ سے پہلے نو شادی “اسنے.. ماں کیطرف دیکھا.. جنھوں نے گھورا..
دیکھ رہیں ہیں کینچی کی طرح چلتی ہے زبان اسکی.. ہر بات کا.. جیسے جواب پٹ تیار ہے.. اسکے پاس…
اور یہ معاذ کیا ہوتا ہے.. بھلے وہ تمھارا کزن ہے مگر منگیتر بھی ہے.. تمیز سے نام لیا کرو”
ہاں وضو کر کے لوں گی آئندہ.. “وہ منمنائ…. تو اکبر صاحب کھل کر ہنسے..
نیھا بھی ہنس دی..
آپکی شے کا نتیجہ ہے ورنہ اس لڑکی میں لڑکیوں والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے.. “وہ غصے میں تھیں..
توبہ توبہ” عابیر نے کانوں کو ہاتھ لگایا…
جبکہ اسکا سیل بجا…
آہ واصف کی کال ہے” اسنے کال اٹینڈ کی…
ہاں واصف.. بولو” مما کی گھورتی نظروں سے آنکھ بچا کر.. وہ.. اٹھ کر اندر ائ..
یار.. کہاں فوت ہو چکی ہو… کمال کرتی ہو میں گدھا ہوں یہاں پر کب سے انتظار کر رہا ہوں.. وہ غصے سے بھڑکا..
یار آہستہ بول لو.. سو گئ تھی.. اب اس میں خود کو گدھا کہہ کر.. تو.. دوسروں کے منہ میں اپنی کمزوری دینے والی بات ہوگی یہ تو “وہ بولی تو واصف نے ماتھا پیٹا..
میری غلطیاں نہ نکالو… اور اپنی تشریف کا ٹکرا اٹھا کر.. باہر نکلو.. میں یہاں کیفے کے باہر ویٹ کر رہا ہوں.. ہمیں کالام کے لیے نکلنا ہے..”
واصف نے جیسے اسے یاد دلایا.. تو.. وہ… اپنے… اتنے شدید.. زبردست بلکھڑ زہن.. کو ایک پل کی خاموشی.. دان کر کے.. جیسے ہوش میں ائ..
واصف.. بابا کا یہ معاذ کا مسلہ نہیں.. ہے.. ماما کو منانا” اسنے کمرے سے باہر جھنکا.. اسکی ماں اسکے باپ کے کان میں جھکی.. یقیناً اسی کے بارے میں باتیں کر رہی تھی..
شاباش لڑکی.. تمھیں کل سے یہ بات پتہ ہے اب تک.. منہ ہلا نہ سکی تم” واصف بھڑکا..
اچھا.. بس کرو… ڈانٹ.. نہیں سنیں… .. تم ایسا کرو یہیں آ جاو… جب تم بات کرو گے یقیناً مما مان جائیں گی” اسنے کہا تو واصف نے فون کو گھورا..
میرا استعمال.. کرتی ہو شادی کسی اور سے کرتی ہو… “وہ غصے سے بولا.. تو عابیر کھلکھلائ…
آتا ہوں.. “واصف بھی ہنس دیا…
عابیر.. سکون سے باہر آ گئ ہاں وہ بھول گئی تھی… اس کوٹھے کو تو وہ بند کرا چکی تھی.. جبکہ.. کل سارا دن وہ.. اس پختون لہجے.. اور اپنے گرد بھندی سخت گرفت میں الجھتی رہی…
اسے شدید افسوس تھا وہ شخص وہیں تھا مگر اس تک پہنچ نہیں پائ وہ.. اور اب وہ اسی کے علاقے میں جا رہی تھی…
اور اسکا بینڈ بھی بجا دینا چاہتی تھی….
اسے ایک طرف سے تو سکون تھا.. واصف.. مما کو منا لے گا.. مگر معاذ کو بھی اطلاع دینا ضروری تھی….
معاذ.. اسکے مامو کا بیٹا تھا…. اور ابھی ایک ماہ پہلے دونوں کی منگنی ہوئی تھی… اور چونکہ وہ پہلے بھی ایک دوسرے سے کافی فرینک تھے…
منگنی کے بعد بھی فرینکنیس… قائم ہی رہی…
معاذ کو اسکی جاب سے شادی سے پہلے کوئی مسلہ نہیں تھا ہاں البتہ شادی کے بعد… اس کی اجازت نہیں تھی…
………………..
حیدر.. کو کل دستار باندھی جانیں تھی جس میں سب کی شراکت بہت ضروری تھی.. مگر حیدر خان.. نے کمرے سے باہر نکلنا بھی ضروری نہیں سمھجا…
وہ یوں ہی کمرے میں لیٹا ایل ای ڈی.. سرچنگ کر رہا تھا.. جبکہ پورا دن ہو گیا تھا ارمیش بھی کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی.. جب وہ ہوتا… وہ اسکو ہلنے تک نہیں دیتا تھا.. اپنے کاموں میں اسکو جیسے.. گھول دیا تھا.. ابھی بھی وہ حیدر کے کپڑے واشروم میں دھو… رہی تھی.. حالانکہ حویلی میں یہ کام ملازمین کے ہوتے تھے مگر.. اس شخص نے… ارمیش پر اپنے سارے کام تھوپے ہوئے تھے.. اس سے بھی اسکو کوی مسلہ نہیں تھا اگر حیدر اسے عزت کے چند بول سے نواز دے..
کپڑے دھوتے ہوئے.. اسے کل رات ہوئے.. اپنے ساتھ حیدر کے واحشانہ سلوک پر… جی بھر کر رونا آیا…
اسکی کلائ پر بھی جا بجا زخم تھے جن پر سرف لگنے سے… جلن کا احساس بہت بڑھ رہا تھا..
اسکا قصور کیا تھا.. اسے ایسی سزا کیوں مل رہی تھی….
سرخ آنکھوں کو صاف کر کے.. ارمیش نے باہر کیطرف دیکھا…
اگر اسے زیادہ دیر لگ جاتی تو یقیناً وہ شخص نیا ہنگامہ شروع کر دیتا….
اسنے اسکی آخری شرٹ بھی دھوئ…
اور سپین کر کے.. اسنے.. ٹوکری میں کپڑے رکھ دیے.. ایک بار دھوپ بھی لگانا ضروری تھی…
تو کل وہ ملازم سے چھت پر.. کپڑوں کو دھوپ لگوا دیتی ابھی تو خیر رات تھی.. اور کالام کا موسم… سدھا بہار.. ٹھنڈا خوشگوار تھا…
اسکا بلکل بھی باہر جانے کو دل نہیں تھا…
مگر نکلنا تو تھا.. انھیں گیلے کپڑوں سے وہ باہر آئ…
مقصد.. کپڑے تبدیل کرنا تھا.. مگر.. وارڈروب تو باہر تھی..
اسکے باہر نکلتے ہی.. حیدر نے اسکو ترچھی نظروں سے دیکھا… ارمیش نے اسکی جانب نہیں دیکھا تھا….
اسکے چہرے پر جا بجا نیلے نشان.. تھے…
حیدر… نے ایک.. پل کے لیے.. خود… پر ملامت.. کا سوچا مگر اگلے ہی لمہے.. اسنے وہ خیال جھٹک دیا…
اسکا بھی کوئی قصور نہیں تھا…
ارمیش.. کپڑے لے کر.. کپڑے.. تبدیل کر.. کے.. صوفے پر آ کر بیٹھی.. اسکا.. دل اپنی مورے سے ملنے کے لیے مچل رہا تھا… وہی تو تھیں… جو.. اسکے زخموں پرمرہم رکھتیں تھیں…
وہ انگلیاں چٹخانے لگی… تو حیدر نے زیچ ہو کر اسکیطرف دیکھا…
کیا چاہتی ہو “اسنے خود ہی پوچھا.. مگر لہجہ بلا کا کڑک تھا…
ارمیش نے پورے ایک دن بعد اسپر نگاہ ڈالی…
نائٹ گاون میں وہ کس قدر خوبصورت لگ رہا تھا…
اگر اسکی محبت وفا.. ارمیش کے نام ہوتی تو یقیناً وہ دنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہوتی…
حیدر.. نے ای برو اچکائ….
پاگل ہوگئ ہو.. خانم.. آ جاو ادھر.. دماغ درست کر دیتا ہوں “
. اسنے… شنیل کی شیٹ.. ہٹائ…
ارمیش کا دل بیٹھ گیا…
نہیں… وہ ایسا نہیں چاہتی تھی… وہ.. اس سے دور جانا چاہتی تھی…
اسکے گلے میں آنسو پھنسنے لگے.. مگر اسکی اتنی جرت نہیں تھی کہ جب.. حیدر… خان نے اسے خود بلا لیا تھا.. تو وہ.. وہاں سے بھاگ جاتی… کاش وہ ایسا کر سکتی..
کاش.. اسکی زندگی پر اسکا حق ہوتا….
کاش وہ نین کیطرح بہادر ہوتی….
وہ اٹھی.. آنکھوں کے گوشے.. سرخ ہو گئے.. آنسووں نے بے پناہ جلن کر دی.. قدم من من بھاری ہو گئے… اور وہ.. اسکے پاس بستر پر آ گئ….
حیدر نے اسکی کلائ.. پر پھر چہرے پر لگے زخموں…. کو دیکھا….
نہ جانے کس طرح.. اسکا ہاتھ اسکی انگلیاں اسکے کلائ کے زخموں کو سہلانے لگیں ارمیش کو مزید تکلیف ہونے لگی…
ارمیش خانم… یہ چکر کیا ہے…. جب… آتی ہو ایسے روتی ہو جیسے.. پہلی عورت ہو دنیا کی جس کا.. مرد…. “وہ روکا… اسکیطرف دیکھا….
نہیں… سائیں.. ایسا تو کچھ نہیں.. اسنے اپنے آنسو کو بے دردی سے رگڑ ڈالا..” اور سر جھکا گئ… حیدر نے سختی سے بندھے اسکے.. دوپٹے کو.. اس سے جدا کر
. دیا…
ارمیش.. کا چڑیا سا دل.. اچھل کر جیسے حلق کو آیا…
مگر ہمیں دال میں کچھ کالا لگتا ہے کیوں خانم… بہت مرد ہیں یہاں.. کہیں کسی پر دل ول تو نہیں پھینک بیٹھی” بستر میں سرکتے ہوئے… اسکو.. اپنے ساتھ.. لیٹاتے.. وہ.. اپنے لفظوں سے اسکی روح… کو.. کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر رہا تھا…
باخدا سائیں آپکے سوا کوئی نہیں” ارمیش… نے اپنے انسووں سے جھنجھلا کر.. آنکھیں رگڑیں حیدر نے اسکی گیرے آنکھوں میں سرخ.. ڈورے دیکھے….
اسکی آنکھیں خوبصورت تھی….
اسکا چہرہ.. میدے کی سی رنگت لیے.. چھوٹے چھوٹے.. تیکھے معصوم نقوش…. وہ کسی بھی… شخص کے دل کی دھڑکن بن سکتی تھی…. مگر حیدر کی حور کے ارمانوں کا خون.. تھی..
حیدر نے اسکے ہنائ ہاتھوں.. کو اپنے چہرے پر رکھ لیا…
جبکہ.. ہاتھ… اسکی.. گردن.. پر حرکت کرنے لگا.. ارمیش.. سانس روکے.. آنکھیں بند کر گئ غصہ نہیں تھا.. اسکے لمس میں.. مگر….
حیدر نے رفتا رفتا.. اسکی گردن دبانا شروع کر دی.. یہاں تک کے ارمیش کا سانس اکھڑنے لگا.. بیڈ پر ہاتھ مارتی.. وہ.. بلکنے لگی…
خانم…. ہمارے پہلو میں رہ کر کسی اور کا خیال… بھی لائیں.. تو اگلی سانس کو بھی اتنی تکلیف دیں.. گے.. کہ… یاد رکھو گی… “حیدر… پھنکارہ…
سائیں” وہ سسکی…. اور.. اپنے کانپتے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے….
حیدر.. اسکے تھر تھر کانپتے وجود سے دور ہوا…
کھڑی ہو.. دفع ہو یہاں سے “.. وہ نفرت سے.. بولا… تو.. ارمیش… گھٹ گھٹ کر رو دی.. یہ اسکی عزت تھی کہ وہ پل میں.. اسے نکل جانے کو کہہ دیتا تھا.. ورنہ سارا سارا دن.. خود کے پاس قید…. بامشقت میں رکھتا تھا..
مگر اس وقت ارمیش کو.. یہ زلت… اپنے آرام اور سکون کا سبب لگی.. وہ.. اپنا دوپٹہ اٹھاتی.. وہاں.. سے… پل میں غائب ہو جانا چاہتی تھی
.
حیدر نے تمسخر سے اسکی حرکت اسکی عجلت کو دیکھا…
ارے خانم صبر بھی کوئ شے ہے.. جان من”… وہ گاون کی ڈوریاں باندھتا…. اسکے پیچھے ہی اٹھا.. ارمیش نے مڑ کر دیکھا….
میخانا سجا دو.. پھر جہاں مرضی غارت ہونا… مگر سجانا… مردان خانے کے ہال میں”.. وہ اسکی لٹوں…. کو اسکے.. سرخ.. پڑتے چہرے سے.. ہٹاتا.. نفرت کی انتھا پر تھا….
وہ جانتی تھی اب وہ.. داجی… کو نیچا دیکھانے کے لیے اس.. حولیے میں.. جو.. یقیناً… کمرے سے باہر.. اچھا.. یہ مناسب نہ لگتا…
اور.. وہ بھی شراب نوشی کرنے والا تھا… جو.. کہ حویلی میں.. کرنا…. داجی کے غصے کو ہوا دینا تھا…
جس نے یہ شغل پورا کرنا ہوتا تھا.. وہ عموما… حویلی کے باہر کرتا.. اور.. سب سے زیادہ.. بہرام کی یہ عادت تھی جبکہ باقی.. سب… تو کبھی کبھار.. ہی.. بلکے زیادہ تر کرتے ہی نہیں تھے.. اور.. یہ وہ واحد شے تھی.. جو داجی خود نہیں کرتے تھے..
ارمیش.. اپنے کمرے میں دوبارہ آئ… ایک الماری کھول کر.. کانپتے ہاتھوں سے.. وہ مشروب نکالا…. خدا سے معافی مانگتی.. وہ… ابھی… باہر جاتی.. کہ.. حیدر جو.. دیوار سے ٹیک لگائے اسکے ہلتے لبوں .. اور آنکھوں سے مسلسل بہتے اشک کو.. ناگواری سے دیکھ رہا تھا…
اسکو ٹوک گیا….
سامنے.. بستر. پر جاو.. اور.. پانچ منٹ میں سو جاو.. ورنہ چھٹا منٹ.. تمھیں ہم سے نہیں بچا سکتا “وہ شانے اچکا کر لاپرواہی سے بولا….
تو ارمیش جو اپنی مورے سے ملنے کے لیے بے تاب تھی اس حکم پر.. گھیرہ سانس لیتی.. آنسو پونچتی.. بستر پر لیٹ کر.. کروٹ موڑ گئ…
ہاں وہ سو جانا چاہتی تھی
اگر اسے کوئی ایک رات.. سکون کی میسر آ ہی گئ تھی….
اور پھر وہ واقعی ہی پانچ منٹ میں سو گئ.. جبکہ حیدر.. ایک نظر.. بوتل پر ڈال کر.. ٹیرس ہر نکل آیا..
کل دستار اسکے سر پر سج جاتی…
اور اسکے بعد وہ داجی کو… بتاتا… کہ.. فیصلے ہوتے کیا ہیں…
اسنے… سوچا… اور تادیر وہاں کھڑا پرانی یادوں.. کو سوچتا رہا..
……………..
نین ہاتھ کتنے پھیکے لگ رہے ہیں.. جاو.. میرا بچہ.. مہندی لگاو”بی جان… نے اسکے سر کی مالش کرتے ہوئے کہا… جبکہ نظر سامنے سے آتی ارمیش پر گئ.. تو وہ دونوں ہی جلدی سے اٹھیں.. ارمیش نے بی جان کو ڈبڈبائ.. آنکھوں سے دیکھا…
نین پارہ ہائ.. کیے.. دونوں ہاتھ کمر ہر رکھے… ارمیش کو دیکھ رہی تھی… حیدر… کا پاگل پن.. اسکے چہرے پر عیاں تھا..
ارمیش ایک پل کو روکی.. اور پھر اگلے پل دوڑ کر وہ بی جان کی گود میں.. سر رکھ کر بری طرح بلک اٹھی…
کیوں بی جان “وہ سسکی نین کی بھی آنکھیں بھیگی.. جبکہ… دور.. کھڑی… انوشے تو.. اس سب سے بری طرح خوف زدہ تھی…
تبھی وہ اپنے کمرے سے بھی کم ہی نکلتی…
صبر کرو خانم… حیدر خان… ہو جائیں گے ٹھیک” بی جان نے کیا سے کیا کریں گے”اسکے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرتے کہا…
کیسے بی جان.. کب… دو سال… دو سال… دو صدیاں معلوم ہو رہی ہیں…. .. دم گھٹتا.. ہے.. بی جان.. کوئ شخص کیسے… اتنا ظالم ہو سکتا ہے” وہ.. بری طرح رو رہی تھی..
سب غلطی ارمیش بی بی تمھاری ہے”نین… غصے سے بولی…
نین تمھارا ہر بات میں بولنا ضروری ہے”مورے نے جھڑکا تو… وہ منہ بنانے لگی…
آپ ہر بار مجھے چپ کراتیں ہیں… کیوں سہتی ہے یہ انکے ستم… اپنی ناکام عشقی کے بدلے نکال رہیں ہیں… خدا جانے سردار بنے گے تو کیا کریں گے”… وہ غصے سے بولی جا رہی تھی…
ارمیش نے سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا…
اور چپ رہ گئ… اب مزید اسکا رونے کا بلکل دل نہیں تھا…
دستار… آج حیدر کے سر پر باندھنی تھی….
اور سب مرد حضرات… وہیں گئے تھے جبکہ حویلی میں چند ملازم اور صرف خواتین تھیں..
ب.. بی جان. مجھے شادی نہیں کرنیں “انوشے نے… انکی طرف دیکھتے ہوئے… کہا.. اسکا لہجہ سہما سہما تھا….
بی جان نے گھیرہ سانس بھرہ حیدر نے سب.. کو ہی.. اس طرح خوف ذدہ کر دیا تھا کہ لگتا ہی نہیں تھا.. حویلی میں کوئی کھل کر سانس بھی لے رہا ہے یہ نہیں…
انوشے بچپن سے ہی معاویہ کی منگ تھی… اور یہ بات وہ بخوبی جانتی تھی بلکے سب ہی…
جبکہ اسکی بڑی بہن ریہا کی شادی… باسط خان… حیدر خان کے بھائ.. سے طے پائ… تھی.. انوشے.. اور ریہا.. جواد خان سے چھوٹے…. سکندر خان کی بیٹیاں تھیں جبکہ.. انکا دو ہی بھائ.. تھے.. وصی خان… اور شمروز خان…. دونوں.. ہی ابھی چھوٹے…. تھے…
اچھا جاو…. اب… ارمیش خانم ہمارے پاس ہیں.. تم اور نین.. جاو کچن میں.. درخنے کو بولوں. کھانے کا انتظام اچھا ہونا چاہیے….
خدا خیر کرے.. دستار.. سج گئ ہو گی.. ہمارے بچے کے “بی جان نے.. پیار سے کہا.. تو نین نے منہ کھول کر اسکو دیکھا…
توبہ یہ محبت وہ بھی جنگلی سے” وہ ناک سیکیڑنے لگی…. تو بی جان ہنس دیں..
دیکھ رہی ہو ارمیش خانم…. کیسے چپڑ چپڑ بولتی ہی یہ لڑکی.. “بی جان.. نے.. اسکے سندھر مکھڑے کو دیکھ کر.. مسکرا کر کہا.. تو.. وہ بھی ہنس دی….
یہ بات.. دیکھ لیں بی جان… حیدر.. سڑو خان کی برائ.. ارمیش کو اچھی لگی ہے.. اور یقین مانیں پہلی بار اچھی لگی ہے یہ مجھے” وہ کھلکھلائ…
تو… بی جان… تو سر تھام گئ….
جبکہ مورے گھورے بغیر نہ رہ سکیں…
بہرام کی بہن تھی.. آخر کو بہرام جیسی ہی تھی….
بہرام.. اور نین دو ہی… بہن بھائ… مراد خان کے سب سے چھوٹے بیٹے…. عظیم خان کے بچے.. تھے…. اور دونوں ہی ایک جیسے… منہ زور سے تھے….
اب ایسا بھی نہیں ہے… کہ تم انھیں کھلم کھلا برا کھو “ارمیش نے.. اسکو گھورا.. نین… تو غش کھا گئ…
بڑی تیز ہو بھئ…” اسنے اسکو چٹکی کاٹی… کافی دنوں بعد.. حویلی کے زنان خانے میں جیسے چہچہاہٹ تھی…
نین… پیٹو گی “ارمیش.. اسکو مارنے کے لیے دوڑی جو… کہ اپنا.. گرارا.. دونوں ہاتھوں میں اٹھا.. کر.. اوپر اپنے کمرے کو دوڑی…
نین… رونق ہے… ارمیش کو کیسے.. خوش کر دیا “فرح خان.. نے اپنی بیٹی کو.. جیسے مشکلوں سے ہنستے دیکھا تھا
بی جان نے اثبات میں سر ہلایا…. اور خود کچن کی جانب چل دیں.. کہ وہ چارو.. تو.. اب ایک کمرے میں بند ہو چکیں تھیں…
……………..
دستار سر پر سجائے.. وہ.. مردان خانے میں داخل ہوا.. تو.. سب کے چہرے.. کھلے ہوئے تھے.. داجی بھی مسکرا رہے تھے….
مگر حیدر کو انکی مسکراہٹ کچھ جچی نہیں…
ان سب کے علاوہ باقی.. علاقے کے لوگ بھی تھے آج.. دعوت.. تھی حیدر کا صدقہ کیا جا رہا تھا.. جبکہ وہ.. سفید.. لٹھے کے سوٹ.. میں… خاموش بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا….
لوگ اس سے مل رہے تھے…
اپنے نئے سردار… کی خوشامد کر رہے تھے اسے رتی بھی ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا.. اور ہوا بھی پھر کچھ یوں ہی کہ… کچھ دیر تو.. وہ یہ سب برداشت کرتا رہا.. اور جب داجی بڑے گھمنڈ میں اسکے ساتھ آ کر بیٹھے تو وہ ایکدم اٹھ گیا… یاور خان نے اسے تنبھی نظروں سے گھورا.. مگر وہ.. اگنور کر گیا.. دستار سر پر سے اتاری..اور داجی کے برابر میں رکھ کر.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا.. اپنے روم کیطرف بڑھ گیا….
مزید یہ ڈرامے بازی ہم سے برداشت نہیں ہوتی”اسکی بڑبڑاہٹ واضح تھی..
داجی کا خون کھول اٹھا جبکہ چارو طرف سناٹا چھا گیا…
جواد خان.. انھوں نے اپنے بیٹے کو پکارہ.. ایک للکار تھی انکی آواز میں.. حیدر.. اپنے کمرے کے دروازے پر رک کر پلٹا.. انکی للکار… پر.. وہ مہم سا مسکرا دیا…
بھرے مجمے میں وہ انکو بے عزت کر چکا تھا.. ٹھنڈک ہی ٹھنڈک تھی سینے میں… وہ.. اپنے روم میں چلا گیا.. جبکہ داجی سرخ ہو رہے تھے انکا چہرہ جیسے خون چھلکا رہا تھا….
ان سب کو… کھانا.. حویلی کے باغ میں کھلا کر.. فارغ کرو “داجی کہہ کر… آپنی جگہ سے اٹھے
کام ڈاون داجی” بہرام نے آگے بڑھ کر.. انکی طرف دیکھا… جبکہ اسکیطرف دیکھ کر داجی کے لبوں پر کھل آنے والی مسکراہٹ سے سب نے سکھ کا سانس لیا…
ہمارا خان.. کالام کی جان… داجی کا مان.. “وہ اسکی پیشانی چوم گئے جبکہ وہ
. اس توڑ جوڑ پر جی بھر کر ہنسا….
کیا بات ہے داجی… سن رہے ہو معاویہ خانم.. داجی کی شاعری” وہ.. ہلکے پھلکے انداز میں صوفے پر دھپ سے بیٹھا.. علاقے والے.. وہاں سے جا چکے تھے اب.. صرف.. حویلی کے مرد تھے… جو صوفے پر بیٹھے.. داجی.. بھی مسکرا دیے….
خان… ہم اپنے زمانے کے شاعر رہے ہیں” داجی بھی اسکے برابر بیٹھتے ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو.. وہ. دادا دینے لگا…
داجی… رات.. میڈیا… حویلی پر انوائٹیڈ ہے” احمر نے.. انھیں جیسے یاد دلایا.. تو وہ سر ہلا گئے..
کیوں خان”انھوں نے… بہرام کیطرف دیکھا..
آل ٹائم ریڈی سائیں” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا.. تو داجی کا سیرو خون بڑھا….
……………..
نین کیوں جھانک رہی ہو” مورے نے اسے کھینچ کر… ایک طرف کیا جو مرادن خانے میں جھانک رہی تھی…
مورے.. یہ آپکی نظر مجھ پر ہی کیوں ہوتی ہے.. ویسے.. حیدر.. لالا.. نہایت.. ڈیش ہیں داجی.. کو منہ کی مار..”
چپ کرو کم بخت کیا بولے جا رہی ہو “مورے کو تو غصہ ہی آیا کوئی سن لیتا تو…
نین.. شانہ سہلا کر رہ گئ..
بھاگ جاو یہاں سے “وہ بولیں اور ابھی نین ہٹتی ہی.. کہ احمر.. اندر داخل ہوا.. اور سلام کیا..
سلام مامی جان” اسنے سلام کیا.. تو نین پردہ کرتی وہاں سے ہٹی.. جبکہ احمر نے اسکی پشت پر ناچتی بل کھاتی چوٹیا کو… دیکھا
جبکہ اسکے ہاتھوں ہر سجی ہنا… وہ.. بس دم ساد کر رہ گیا….
خیریت بیٹے…. صفینا خانم کو کہیں ان سے بات کریں گے” انھوں نے اسکی والدہ کا ذکر کیا…
نہیں مامی جان.. بس یہ کہنا تھا.. داجی کا حکم ہے میڈیا… کی آمد پہ ر تمام خواتین… اپنے اپنے کمروں میں رہیں اور درخنے.. سے شاندار دعوت کے انتظام کا حکم ہے” اسنے… تفصیلی کہا تو.. وہ سر ہلا گئیں
بہتر”انھوں نے کہا.. اور بی جان کو بتانے کے لیے.. چلیں گئیں جبکہ احمر… کچن کی جانب آ گیا.. کہ کافی کی طلب تھی.. مگر اسے بلکل انداز نہیں تھا.. وہ پری وہاں ملی.. گی..
جاری ہے
