Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

نین.. املی چن چن کر.. کھا رہی تھی.. جبکہ کچن میں کوئی دوسرا بھی نہیں تھا..
آپ ہمیشہ بھول جاتیں ہیں یہ آپکو نقصان دے گی “احمر اندر داخل ہوا تو.. نین ساکت رہ گئ.. سر پر دوپٹہ جمایا.. اور ہلکا سا نقاب کی اوٹ میں کر کے وہ بڑی بڑی آنکھوں میں.. کجل سجائے اسے گاہل تو کر رہی تھی ساتھ گھور بھی رہی تھی…
چھوٹے… جب بھی میں املی کھاتی ہوں تمھارا پکڑنا فرض ہے” وہ بولی تو غصہ ملا جھلا تھا..
صرف چھ ماہ چھوٹے کو آپ.. بقائدہ چھوٹے نہیں بولا سکتیں..” احمر کو برا لگا…
ہاں تو چھوٹے تو ہو نہ”وہ لاپرواہی سے پھر املی کھانے لگی…
چھ ماہ” اسنے دوبارہ یاد دلایا.. اور کافی بنانے لگا…
نین کچھ بھی نہ بولی…
آپ جانتی ہیں.. آپکی اور میری یہاں موجودگی.. زنان خانے میں ادھم لے آئے گی”
احمر نے اسے.. احساس دلایا.. اب وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے املی سے دور نہیں کر سکتا تھا تبھی چاہتا تھا وہ چلی جائے حالانکہ دل اسے دیکھتے بھرتا نہ تھا…
دیکھو.. خان صاحب.. زیادہ پکھما نہ بنو مجھ پر.. سب پلین بنا کر کچن میں آئ تھی اور تم ٹپک پڑے…. تف ہے تم پر بھی… دشمن کہیں کے”وہ ہاتھ جھاڑتی غصے سے بولی احمر.. نے مسکراہٹ روکی اور کافی.. پینے لگا جو کہ بن چکی تھی..
کیسے انتظام” وہ کچھ ریلکس ہوا…. کیونکہ وہ املی چھوڑ چکی تھی..
مطلب یہ کہ.. بی جان… مورے.. صفینہ پھوپھو… فرح تائ.. “سب ایک کمرے میں بند ہیں.. کوئ اہم مسلہ ہے شاید.. اور باقی.. سب بھی اپنے اپنے کمروں میں آرام فرما رہے ہیں…
اور. بس ارمیش خانم ہیں جو جانتی ہیں ہم یہاں ہیں.. اور اب تم بھی” وہ.. بہت خوبصورت بولتی تھی.. بات بات پر غصہ بھی کر جاتی تھی…
احمر نے.. کبھی اسکی آنکھوں کے سوا.. مکمل چہرہ نہیں دیکھا تھا.. بال بھی دوپٹے کے نیچے سے ہی دیکھے تھے.. مگر وہ اتنے میں ہی اسکے حسن کا دیوانہ.. تھا…
آپ.. اور.. آپکے بھائ بہرام لہ لہ.. پلینینگ کافی کامیاب کرتے ہیں “وہ ہلکا سا ہنسا..
چھوٹے زیادہ باتیں نہ بھنگارو… جا رہے ہیں ہم” وہ شانے بے نیازی سے بولتی جانے لگی…
میرا نام احمر ہے “احمر چیڑا..
تو میں نے کب.. سمندر خان رکھا ہے..” وہ دوبادو ہوئ.. سمندر خان حویلی کا پرانا ملازم تھا.. احمر بل کھا کر رہ گیا…
……………
حویلی کا لون… میڈیا پریس.. بڑے بڑے سیاست دان.. دوست احباب.. اور.. علاقے کے خاص لوگ.. دوسرے علاقے کے سردار.. غرض کون نہیں تھا… اس دعوت میں.. جس میں.. حیدر خان کی دستار.. کی اطلاع سب کو کی گئ تھی تو دوسری طرف.. بہرام خان.. کا سیاست میں آنا… سب کو بتایا گیا تھا کہ وہ داجی کی جگہ سیاست میں سمبھال رہا تھا.. داجی کی خوشی کو کوئ ٹھکانہ نہیں.. تھا جبکہ خلاف توقع. حیدر بھی سب سے مسکرا کر مل رہا تھا… ….
سر آپکے اور بھی پوتے ہیں.. صرف بہرام خان ہی کیوں سیاست میں آے “میڈیا.. نے سوال داگا… تو داجی مسکرا دیے…
کیونکہ بہرام خانم.. کی صلاحیتوں کے.. ہم خود… گواہ ہیں….
اور ہمارے خان… اپنے ملک کی خدمت.. کریں اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا..” پوتے کے لیے عشق تو جیسے.. انکی.. ہر ادا سے جھلک رہا تھا.. بہرام انکے اس قدر فراڈ باتوں پر.. اپنے قہقے دبا کر بس مسکرا دیا.. اور پھر اسکی.. نظر.. دور مائک کو جھلاتی اسی حسینہ پر پڑی.. جو… اسکی راتیں تو غارت کر رہی تھی مگر بہرام کچھ سمھجنا نہیں چاہتا تھا…
روز رات کو وہ اسکے خواب میں.. غصے سے بھناتی نہ جانے کیوں آتی تھی.. اور دن میں وہ ہزار ہا بار.. شاید.. معاویہ خانم سے اسکاذکر کرتا تھا.. اور. اس مختصر ملاقات کو سوچتا..
کالام کی فضا میں جیسے نور اتر آیا تھا..
وہ اسی کو دیکھ رہی تھی جبکہ بہرام.. بھی انھیں آنکھوں کو دیکھ رہا تھا.. جو شاید سمندر سی گھیری تھیں…
بہرام.. “داجی نے شانہ ہلایا تو وہ.. جیسے دنیا میں لوٹا.. اور.. دوبارہ اسکیطرف دیکھا.. جو اب نزدیک آ رہی تھی.. وہ اسکے سوال کا منتظر دیکھائ دینے لگا…
آپکے نزدیک عورت کی کیا ولیو ہے” عابیر نے اسکے آگے مائک کیا وہ مبہم سے مسکرایا.. کیا جان لیوا مسکراہٹ تھی…
سفید سوٹ پر.. گیرے چادر ڈالے وہ آج اپنے علاقائی لباس میں… وہاں محفل کی جان معلوم ہو رہا تھا…
اور اوپر سے.. ستم یہ کہ وہ ڈرنک تھا.. مگر اس بات کا احساس تو اسے خود کو بھی نہیں تھا…
ماں.. بہن”وہ… بہت مودب ہو کر بولا…
داجی کا سینہ فخر سے پھولا….
عابیر تو تپ ہی گئ..
ڈپلومیسی کی کوئ انتھا نہیں تھی .. اسکے کان میں اسکے الفاظ گونجے… جو.. اسنے کہے.. تھے.. عابیر کا بس نہیں چلا وہ اس شخص کو شوٹ کر دے کس قدر جھوٹا تھا وہ…
اوو ریلی مگر آپ کے عمر کے نوجوان اس نوعیت کو نہیں سمجھتے مسٹر بہرام…. اور کہیں کہیں.. آپکی کم عمری.. کی جھلک یہ واضح کر رہی ہے کہ آپ پڑھا ہوا.. سبق.. اچھے سے یاد کیے ہوئے ہیں… “وہ بولی تو بہرام.. کے چہرے پر ایک تاثر پل بھر کے لیے ابھرا…
عابیر” واصف نے غصے سے اسکو جھنجھوڑا.. داجی کے چہرے پرخرکتگی.. تھی جبکہ وہاں سب.. ہی… اس لڑکی کو کڑوی نظروں سے دیکھنے لگاے تھے..
حد تو یہ تھی ان کڑوی نظروں میں… حیدر کی بھی نظریں شامل تھیں…
دیکھیں… آپ کسی کو.. کتنا پڑھا سکتے ہیں… جب تک سیکھنے.. والا دلچسپی نہ لے…اسکے علاوہ سائیں.. کوئ سبق پڑھایا اسے جا ہی نہیں سکتا… جو خود اس سبق کو پڑھنا نہیں چاہتا اور.. 26 سال.. کے بہرام خان… جن کی ڈگری.. ہی.. سیاسیات.. کی ہے ہمیں لگتا نہیں.. انھیں کسی کے پڑھائے ہوئے درس کی ضرورت ہے…
ملک سنوارنے.. والے کم ہوتے ہیں…. ملک بگاڑنے والے زیادہ..
آپ لوگ بگاڑنے… والوں… کی اتنی.. حوصلہ شکنی نہیں کرتے جتنے طنز کے تیر آپ نئی آنے والے زہن پر کرتے ہیں کہ وہ اپنے حصلے پست کر دے…. اور چھوڑ دے.. سب کچھ…
ملک ایک سے نہیں بنتا.. میڈیم…. اس ملک کو.. ضرورت ہے.. نوجوان بہادر.. زہین لوگوں کی اور ویسے بھی ہم لمبے چوڑے وعدے نہیں باندھ رہے.. صرف ایک وعدہ کرتے ہیں ہم اپنی عوام سے “شاطر چلاکی.. گھمنڈ… نظروں میں چبھتے تیر.. لہجے میں کڑواہٹ.. اور اس کڑواہٹ میں ملی.. نرمی.. عابیر..کو بہت کچھ.. سنگین سا اسکے لہجے میں محسوس ہوا..
ہمارا ہماری عوام سے احساس کا وعدہ ہے.. اور اس وعدے کو ہم مرتے دم تک نبھائیں گے… آپ لوگ.. بھی دیکھ لیجیے گا.. آپ مہمان ہیں.. کھانا کھا کر جائیے گا “
وہ.. کہا.. کر.. وہاں سے.. گزر گیا… داجی سمیت سب کے لب… فتحانہ مسکراے.. جبکہ عابیر… وہاں سے ہٹی.. وہ آدمی حقیقتاً… کوئ بہت اونچی چیز تھا…
خان.. کمال کر دیا یارررر” معاویہ.. نے.. چپکے سے بئیر اسے تھمائ…
یار خانم یہ لڑکی کالام سے نکلنی نہیں چاہیے” بئیر کے سیپ بھرتے اسنے.. کہا.. تو.. معاویہ نے اسکی صورت دیکھی.. پیچھلے.. دس دن سے کہہ رہا ہوں.. کہ.. سب تیار ہے چلو چلو.. تب تو… عجیب بوکھس بھانے بنا رہے تھے اور اب.. ریپوٹر چاہیے.. برحال…. ٹھیک ہے” معاویہ نے لاپرواہی سے شانے اچکا دیے…
بہرام.. اس لڑکے کے ساتھ کھڑی عابیر کو تکتا گیا.. اسکی آنکھوں میں تپش تھی کہ عابیر اسے دیکھنے پر مجبور ہوئ.. مگر عابیر کی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا…
بہرام. چیڑ سا گیا..
داجی کہتے.. تھے.. وہ.. کالام.. کا حسن ہے… تو وہ لڑکی.. ایک عام سی لڑکی.. اسکو نفرت بھری نظر سے کیوں دیکھ رہی تھی..
…..
…………….
حیدر تھکا تھکا سا کمرے میں آیا… تو ارمیش کو دیکھ کر چند پل روکا….
آنکھوں میں حیرت اتر گئ… سرخ لباس میں… چھوٹے سے فراق کی ڈوریووں کو پشت پر باندھنے میں وہ اتنی انھمک تھی کہ حیدر کی موجودگی کو محسوس نہ کر سکی جبکہ سندھر چہرہ سرخ لیپسٹک سے سجا تھا.. حیدر کا دماغ جیسے.. سٹاک ہو گیا…
پہلی بار دو سالوں میں اسنے اسے اس طرح دیکھا تھا.. شاید وہ جھنجھلا گئ تھی ڈوری بند نہیں ہو رہی تھی تبھی وہ چوڑیاں چڑھانے لگی… گلے میں نیکلس سجا کر.. وہ ڈوری نین سے بندھوانے کا ارادہ کرتی پلٹی.. .. درحقیقت نین کی دوست کی شادی تھی جس پر جانے کے لیے.. بہت منت سماجت سے.. وہ… اور نین جا رہے تھے جبکہ انوشے بھی ساتھ ہی تھی… اور. سمندر خان کو داجی نے.. انکو.. لے جانے کا اور پھر وہاں روک کر گھنٹے بعد لے آنے کا کہا.. وہ تو اسی بات پر خوش تھیں تینوں کے اجازت مل گئ تھی…
وہ اپنی جگہ پر.. کھڑی کی کھڑی رہ گئ.. حیدر سٹیل کھڑا تھا.. بغیر حرکت کے…
ارمیش کے حلق میں گٹھلی سی پھنس گئ…
سلام سائیں”اسنے دوپٹے کا پلو سر پر سجاتے.. سلام کیا.. لہجہ کانپ رہا تھا….
حیدر.. اپنے بھاری.. بھاری.. قدموں سے.. اس حسن کی دیوی… کے.. قریب آنے لگا….
ارمیش خوف سے اسکے قدموں کو دیکھنے لگی کاش کے وہ آتی ہی نہ یہاں… وہیں نین کے کمرے میں تیار ہو جاتی.. حالات کچھ ٹھیک اسے محسوس نہیں ہو رہے تھے…
عورت اپنے مرد.. کو.. کس طرح ڈھیر کرتی ہے.. کیا خانم.. سیکھ کر آئ ہو دو دن میں “اسکے گالوں ہر اپنی انگلیاں چلاتے… وہ.. مدھم مگر نرم گرم لہجے میں.. اسکی سانسی روک گیا.. حیدر کی آنکھوں کی تھکاوٹ.. اور خمار بتا رہا تھا.. ارمیش.. کی جان بخشیی آج ممکن نہیں…
س… سائیں… نین… کے س.. ساتھ جانا ہے… ” وہ ہمت باندھتی اسکی بڑھتی منہ زور جسارتوں سے ہلکان ہوتی… اٹک اٹک کر بولی….
خانم.. سردار سے پوچھنے کی زہمت بھی نہ… کی… “
ارمیش کو… اسکی انگلیاں اپنی ڈوری سے کھیلتی محسوس ہوئیں.. اسکی آنکھیں بھیگ گئیں نین.. کے غصے کے گراف سے.. بھی وہ ڈرتی تھی مگر.. اس وقت.. وہ پیٹنا نہیں چاہتی تھی.. تبھی حیدر خان.. کے منہ زور جزبوں.. کے آگے خود کو بہنے دیا…
حیدر.. اسے.. بیڈ تک لے آیا…
اور ارمیش.. نے… آنکھیں موند لیں.. ایسا نہیں تھا.. حیدر خان… سے اسے نفرت تھی… بلکے اسکے اتنے ستم سہنے کے بعد بھی وہ حیدر خان کی ہی تھی مگر حیدر خان… کی طلب… اور اسکی تکلیف دے.. قربت.. ارمیش… کو.. اپنی اوقات اور اسکی زندگی میں اپنی ولیوں یاد دلا دیتی تھی… جب.. وہ… ان… نازک لمہوں میں اسکے وجود میں اپنی حور کو ڈھنڈتا تھا.. اور اس وقت بھی ارمیش کی انکھ کا ایک ایکا آنسو.. اور اسکی دبی دبی سسکیاں… یہ بتا رہیں تھیں حیدر خان ایک بار.. پھر.. اپنی ناکام عاشقی کے بدلے پر اتر آیا ہے…..
…………………………
اس ایک رات میں ہی.. اس دم گھٹنے والے ماحول سے بھاگ جانا چاہتی تھی .. مگر بیقوقت بارش اور بس سٹوپ کے روک جانے .. نے سب ستیاناس کر دیا تھا… اور وہ ایک عام سے ہوٹل میں واصف کے ساتھ تھی…
اسے.. اس سچویشن سے خوف بھی آ رہا تھا کہ آج سے پہلے وہ راتوں میں گھر سے باہر نہ رہی تھی….
واصف اچھا لڑکا تھا
مگر لڑکا تھا… وہ.. سوے ہوئے واصف.. کو وہیں چھوڑ کر اس ہوٹل.. کے باہر آ گئ.. جہاں اندھیرہ تھا.. اور بارش جل تھل دیکھا رہی تھی..
اسے دور دور تک کوئ شخص نہ دیکھا… تو.. وہ ہاتھ بڑھا کر بارش… کو محسوس کر رہی تھی…
بارش کا ہر ٹھنڈا قطرہ جیسے.. اسکو زندگی… کا احساس بخش رہا تھا….
سرکار….. بارش اس نا چیز کو بھی بہت پسند ہے… مگر موسلادھار… نہیں.. رم جھم “اسکی بات ذو معنی تھی.. وہ ایک جھٹکے سے پلٹی…
اسکی بات میں… اسکے سوال کا جیسے اثر تھا…
جینز شرٹ میں… ہڈی لیے.. وہ.. کچھ دیر پہلے سے بلکل الگ سا.. لگ رہا تھا…یا وہی.. زلیل لگ رہاتھا شاید….
عابیر نے اسکو جواب نہیں دیا.. اور گزرنے لگی..
بہرام نے جلدی سے اسکاہاتھ تھام لیا….اور نہ جانے کیسے عابیر کا ہاتھ اٹھا.. اور کھینچ کر تھپڑ.. اسکے منہ پر.. پڑا…
تم ایک آوارہ غنڈے موالی.. گھٹیا… انسان ہو….
اور یہ بات بھلے عوام… جان پائے یہ نہیں مگر میں اچھے سے جانتی ہوں….
اور…. اپنے کام سے کام رکھو “وہ چلائ….
جبکہ بہرام.. تو آپے سے بایر ہوتا.. اسکے.. کومل لبوں.. پر اپنے ہاتھ… کی سخت گرفت رکھ گیا.. کہ وہ پیلر سے جا لگی.. اور خوف سے اسکو تکنے لگی…
سائیں.. اتنی اکڑ..
. نہیں جان من.. لڑکی.. کو.. اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے…
اور… اس مجال پر تو…. خان… کی جان قربان….
کیوں.. اب میری مجال دیکھے گا.. ہمارا سرکار “
.
وہ اسپر چھانے لگا….
جبکہ عابیر کو.. اپنے پیٹ پر… اسکی سرسراتی انگلیاں محسوس ہوئیں.. وہ تڑپ اٹھی آنکھیں… بھیگنے لگی.. بہرام اسکی بے بسی کو انجوائے کرنے لگا…
لگتا تھا… شیرنی ہے….
مگر.. یہ تو ہرن نکلی.. خوبصورت ہرن..” اب وہ اسکے بالوں کو چھیڑنے لگا..
عابیر جھٹپٹائ…
مگر بہرام کی گرفت… بہت سخت تھی…
اسکی آنکھوں میں بے بسی.. باہر کی برسات.. کی شکل اختیار کر گئ..
بہرام حولے سے ہنس دیا…
سائیں…. بس دو بول معافی….. کے… بندہ نا چیز پلکوں ہر بیٹھا لے گا” اسکے منہ پر سے ہاتھ ہٹا کر… اب اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. وہ اسے خود کے بے حد نزدیک کر گیا… عابیر کو گویا.. سانپ کاٹ گیا…
چھوڑو مجھے” وہ چلائ…
سرکار گلہ خراب ہو جائے گا “وہ سکون سے بولا.. نہ جانے اسکے چلانے پر بھی.. کوئ کیوں نہیں آیا تھا…
تم ایک نیچ انسان ہو…. “وہ اس سے الگ ہونے کی تگ و دو میں تھی
… معافی” وہ آنکھیں نکال کر.. غرایا
میری جوتی مانگے گی “وہ بھی اکڑ کر بولی..
ٹھیک ہے.. تو.. آپکی جوتی اور جوتی کی مالکن.. کو اٹھالیتے ہیں…” وہ… سنگین لہجے میں بولا…. عابیر کی جان ہوا ہونے لگی…
وہ.. غصے سے… اسکی صورت دیکھ کر.. لٹھ مار انداز میں بولی..
سوری”
ارے.. مکھن سنا ہی نہیں زرا اونچا سنتے ہیں ہم” وہ اسکے لبوں کے قریب اپنا کان لے گیا
عابیر جل ہی گئ..
سوری میں نے کہا.. سوری… ” بہرام کا قہقہ ابھرا….
اسنے.. اسے چھوڑ کر سر کو خم کیا… لبوں پر جان لیوا مسکراہٹ تھی…
عابیر.. اسپر دو حرف بول کر.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ.. وہ فضا میں اسکی خوشبو.. محسوس کرنے لگا..