Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Last updated: 16 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Garoor
By Taniya Tahir
کیا میں تم سے بات کر سکتیں ہوں" ارمیش نے عابیر سے کہا… عابیر جو اب بھی پرندے کو دیکھ رہی تھی اسنے ارمیش کی جانب دیکھا… معاذ بھی اسی کیطرف دیکھ رہا تھا.. ارمیش کنفیوز لگ رہی تھی… کیا میں اپکو جانتی ہوں" عابیر کا لہجہ سرد تھا…. ارمیش نے اسکی جانب دیکھا… معاذ نے… عابیر کا ہاتھ دبایا… جبکہ.. عابیر نے اسکیطرف دیکھا.. کر لو بات میں اس طرف ہوں" وہ مدھم اواز میں کہہ کر وہاں سے نکل گیا جبکہ… عابیر.. نے ایک گھیرہ سانس کھینچا اور اسکیطرف دیکھا.. جی فرمائیے" میں… میں معافی چاہتی ہوں…. اس دن.. میں نے تم پر ہاتھ.. ہاتھ اٹھایا…. اور پھر.. وہ شادی……. داجی نے.. پہلی بار مجھ سے کچھ مانگا…. انھوں نے کہا… انکے خان کو سمبھال لوں…. انھوں نے کہا….. وہ اپنے خان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتے…. انھوں نے کہا وہ بھیک مانگتے ہیں اپنے خان کی خوشیوں کے لیے… میں انکار نہیں کر سکی… وہ… وہ شخص… جو کبھی پوتیوں کے ہونے پر خوش نہیں ہوا… وہ بہرام خان… کی وجہ سے.. اتنا ٹوٹا کہ.. وہ.. ایک عام سی لڑکی کہ اگے ہاتھ جوڑنے لگا… میں نے انکار نہیں کیا.. حامی بھر لی.. دل خوف ذدہ تھا…. کیونکہ.. وہ بھی ایک ہارا ہوا انسان تھا… بلکل حیدر کیطرح…. لگتا تھا.. تم سے جدائ کے بدلے وہ مجھ سے لے گا… مگر تم جانتی ہو.. جس ادمی کو سمبھالنے کے لیے. میں اسکی زندگی میں شامل ہوئ… وہ مجھے سمبھال رہا ہے…. وہ مجھ سے چھپ گیا ہے.. اسکے اندر کیا چلتا ہے میں نہیں جانتی..پھر میں سوچتی ہوں میں.. زرا خود غرض ہو گئ ہوں… کیونکہ اسنے مان ہی ایسا بخشا…. وہ شخص بہت… الگ سا ہے… کچھ ضدی کچھ جزباتی… اور ایک پہیلی… میں اس پہیلی کو سلجھانا نہیں چاہتی… کیونکہ.. میرا دل… اسکے ساتھ بندھ رہا ہے.. اگر میں نے سلجھایا تو میں جانتی ہوں.. اسکے اندر سے کیا نکلے گا…. " وہ خاموش ہوئ.. عابیر اب بھی اسکیطرف دیکھ رہی تھی…. ارمیش نے… اسکا ہاتھ تھاما… تم مجھے معاف کر دو… میں تمھاری خوشیوں…" ایک منٹ… میری خوشیاں جس کے ساتھ جوڑیں تھیں میں اسکے ساتھ ہوں.. وہ تمھارا نصیب تھا…. میرا نہیں….. "اسنے… سکون سے کہا.. تو ارمیش.. مدھم سا مسکرائ.. مطلب میں سمھجو تم نے مجھے معاف کر دیا "عابیر اسکی بات پر ہلکا سا ہنس دی… معافی کی کیا بات ہے… ہمارے بیچ ایساکچھ نہیں… "اسنے کہا.. اور ادھر ادھر دیکھنے لگی… معاذ.. کچھ فاصلے پر کھڑا اسی کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا… جبکہ اسکے.. بلکل سامنے بہرام آنکھوں کوگاگلز سے ڈھانپے کھڑا تھا.. عابیر نے دیکھا… ہاں وہ شخص بلاشبہ اس جگہ پر… اپنی شخصیت کا تاثر… چھوڑ رہا تھا.. ہاں وہ اتنا ہینڈسم تھا… مگر…. اسے معاذ سے زیادہ نہ لگا…. تو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں "ارمیش نے نرمی سے سوال کیا.. شیور…." عابیر نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھام لیا… وہ دونوں.. ہنس دیں… اور… ان دونوں کیطرف بڑھنے لگیں.. بہرام نے ارمیش کی جانب دیکھا.. اور اسکیطرف انے لگا.. جبکہ… معاذ وہیں کھڑا.. عابیر کو اپنی طرف اتا دیکھ رہا تھا… کہ اچانک عابیر کا پاوں پھیسلا.. اور اس سے پہلے.. وہ نیچے گیرتی.. دو بازوں نے اسے.. اپنے بازوں کا سہارا دیا… وہ دونوں ہی.. سٹپٹا کر ایک دوسرے سے الگ.. ہوئے.. جبکہ معاذ اور ارمیش سمیت.. احمر ننین انوشے معاویہ سب یہ منظر دیکھ چکے تھے… عابیر نے اسکا ہاتھ جھٹکا.. اسکا شوہر سامنے کھڑا تھا.. اور وہ اتنی کمزور نہیں تھی کہ اس شخص.. کے بازوں کا ہار بنی رہے… س.. سوری سائیں "بہرام نے ..مدھم لہجے میں کہا… اسکی اواز میں ایسی بات تھی کہ.. عابیر… کو پہلی بار… اس سے معمولی سی ہمدردی ہوئ… ایکسکیوز می" اور اگلے لمہے سرد اندز میں کہہ کر وہ اسکے پاس سے گزر گئ… وہ گزر چکی تھی… ماضی بن کر.. جبکہ حال . اسکے سامنے معصومیت سے… آنکھیں… جھپکائے کھڑا تھا… اسنے…. اہنے اندر.. اپنا ہر احساس… قید کر لیا….. میں اسے بھول نہیں سکتا…. کیونکہ میں اسے بھولنا چاہتا ہی نہیں…. میری ہر بیوقوفی… ہر نہ دانی کے باوجود.. وہ میری محبت ہے… اور رہے گی… بھلے وہ… محبت…. جو…. میرا پچھتاوا ہے.. میری بیوقفیوں اور.. غرور میں… اپنے ہاتھوں سے میں نے گنوائ… اس محبت کو.. میں ایک سزا کے طور پر اپنی دل کی سلاخوں میں قید کر لوں…. میں اپنی اخری سانس.. تک اسکو چاہو گا…. اور.. میں جانتا ہوں.. اب کہ اخری سانس تک میں اسے دیکھ نہیں سکتا…. اور اگر میں نے کوشش کی… تو.. میں.. ایک معصوم دل توڑ دوں گا… اور کسی کا دل توڑ کر پہلے ہی میں نے کھسارا اٹھایا.. ہے.. دوبارہ یہ جرم نہیں کروں… گا….. میرا غرور… میرے وجود میں ہی پاش پاش ہو گیا…. اور کسی کو خبر نہ ہوئ…. وہ میرے سامنے کھڑی ہے اس بھری آنکھوں سے مجھے ہی دیکھ رہی ہے…. میں بس یہ جانتا ہوں. میرا سکون… مجھے بنانے والے نے اس میں رکھ. دیا ہے….. اسکے بغیر…. میں… نہیں رہ سکتا… وہ مسکرایا… زخمی سی مسکراہٹ.. اور اسکی جانب بڑھنے لگا…. ارمیش اسی کیطرف دیکھ رہی تھی…. وہ چلتا ہوا اسکے نزدیک ا گیا… اور اسکو بانہوں میں بھر لیا.. ارمیش حونک ہوئ…. لوگ.. تھے.. اپنے تھے.. پرائے تھے…. ایک دنیا تھی جو ارد گرد تھی…. اسے پروا نہیں تھی دنیا کی…. اسنے.. اسکے گالوں کو… ہاتھوں میں بھر لیا…. اور اپنے ہونٹ اسکے گالوں پر رکھ دیے… I want peace ... You know Armish Khanum ... you are calm ... اسنے… کہا.. اور… اسکی.. نرم سانسوں کو…. اپنی سانسو سے جوڑ لیا….. لوگوں کی تلیوں اور سیٹی… پر… وہ ہنستا ہوا اس سے دور ہوا.. جبکہ.. ارمیش.. کو اگر وہ دوبارہ نہ تھامتا تو وہ تیورا کر.. زمین بوس ہوتی… معاویی.. نے کھانستے ہوئے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…. .. چلیں خان باکی کا کمرے میں جا کر کرنا "وہ ہنسا… جبکہ ارمیش فورا.. اسکے پیچھے چھوپی.. اور اور ان تینوں کے قہقہے… اٹھے.. وہ تینوں اپنی اپنی زندگیوں کے.. ساتھ.. کشمیر کے… راستوں پر چل دیے… … اس روڈ سے نکلتے ہوئے.. اسنے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا… وہ معاذ کی کسی بات پر کھلکھلائ تھی… اسنے آنکھوں کو میچا… اور ہمیشہ کے لیے… اس راہ سے دور نکل گیا…. تو بس یہاں تک تھی بہرام خان کی الجھی بکھری سی محبت… جسے وہ اپنے اندر ہی اندر یہ تو ایک دن.. دفن کر دیتا …یہ شاید ساری زندگی… اپنے اندر پالتا…
