Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
موبائیل مسلسل بج رہا تھا کمرے کی فضا.. میں انگلش…. مدھم سونگ کی اواز ایک تسلسل سے اٹھ رہی تھی….
جبکہ.. بیڈ پر دیکھا جائے تو بہرام خان.. تکیوں میں منہ دیے.. اندھا مدہوش لیٹا تھا.. بیڈ کے اردگرد.. شراب کی بوتلیں پڑیں تھیں جبکہ سگریٹ… کی ڈبیاں الگ پڑیں تھیں….
فون کرنے والا بھی.. مسلسل فون کیے جا رہا تھا….
اسکی کشدہ پیشانی پر بل ڈلے.. اور وہ ایکدم.. تکیے ہٹاتا اٹھ بیٹھا.. آنکھوں میں.. کم نیند کی سرخیاں تھیں….
فون اٹھایا… اور بغیر دیکھے اٹینڈ کیا…
گالی… کون سی تکلیف ہوئ ہے”پورے کمرے میں اسکی للکار تھی…
سائیں.. سائیں… جی میں رشید” دوسری طرف سے. زرا گھگھیایا.. کر بتایا گیا…
کون رشید.. “وہ پھر دھاڑا نیند سے دماغ سن تھا…
جی.. وہ.. سائیں…
یہاں بی بی سائیں کے گھر پر جی بڑی ہلچل ہے” رشید اصل بات پر ایا…
بہرام کو اب بھی کچھ سمھجہ نہیں ا رہا تھا…
اس سے پہلے وہ.. اسکو گالیاں دیتا اسکے دماغ میں زرا سا کلیک ہوا…
ادھا لٹکا کمبل.. اوپر سے ہٹایا…
کیسی ہلچل” رشید نے.. سکھ کا سانس لیا. کہ شکر ہے اسکی یاداشت ا چکی تھی…
سائیں کچھ… ٹھیک نہیں لگ رہا .. بہت سارے لوگ ا رہے ہیں. وہ لڑکا.. بھی ہے جس کا فوٹو اپ نے دیکھایا تھا…. اور بھی کافی لوگ ہیں جی.. کچھ گڑبڑ سی لگ رہی ہے” رشید نے اسے ساری بات بتائ.. تو.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر اٹھا….
اگر… جیسا تم بتا رہے ہو…. ویسا نہ ہوا تو یاد رکھنا… میں تمھارا وہ حشر کرو گا… کہ دوبارہ.. سانس لینے قابل بھی نہیں رہو گے” وہ اسے وارن کرتا.. فون بند کر کے.. اٹھا.. اور.. اسی نائٹ ڈریس.. جو.. کہ.. ٹراوزر.. شرٹ پر مشتمل تھی… شرٹ کے بٹن بند کرتا.. چپل.. سفید پاوں میں پہنتا وہ تقریبا باہر کی جانب بھاگا تھا… اور سیدھا معاویہ کے کمرے کے اگے رکا….
دروازہ… کھول کر.. اسنے.. معاویہ کو نیندوں میں ہی جھنجھوڑ دیا….
معاویہ نے یڑبڑا کر اسے دیکھا..
کیا”
چلو میرے ساتھ..” وہ بہرام کا سنجیدہ چہرہ دیکھ جر.. اسکے ساتھ ہو لیا… اور دنوں اسی حولیے میں.. ایک جھپکے کیطرح حویلی سے نکلے تھے…
مردان خانے کے ہال میں سب نے ہی انھیں یوں گزرتے دیکھا.. تو… سب.. انھیں روکتے رہ گئے مگر بہرام.. نے نہ روکنا تھا نہ ہی وہ روکا….
داجی ماتھے پر بل ڈالے…. دیکھنے لگے…
احمر خان “
جی داجی” وہ ایکدم انکی طرف متوجہ ہوا…
اس وجہ کا پتہ لگواو… جس کی بنا پر خان نے اپنی نیند کی پروا نہیں کی “سب ہی جانتے تھے.. وہ دن میں کبھی حویلی میں نہیں دیکھتا جبکہ رات.. کو ہی. اسکے. رخ روشن کا دیدار ہوتا تھا…
جی داجی” احمر نے کہا تو.. وہ سر ہلا گئے
…………………
حیدر اگر تم نہ ہوتے تو میں ان حالات میں پاگل ہو جاتی “حور نے بھیگی نظروں سے اسے دیکھا… جو… بڑی شان سے صوفے پر بازو پھیلائے بیٹھا تھا… وہ دو دن سے.. حور کے پاس تھا…
تم نے ہمیں اتنی دیر سے کیوں یاد کیا…
یہ گھر تمھارا ہے.. تم سکون سے رہو.. بس.. ایک کام ہے حور.. وہ بھی جلد ہو جائے تو ہم شادی کر لیں” حءدر نے ابھی.. ان دو دنوں میں حور کو ایک اپارٹمنٹ خرید کر دیا تھا…
حور.. اس کام کو جانتی تھی… تبھی خاموش ہو گئ.. جب سے حیدر اسے ملا تھا تب سے ہی.. وہ… مہتشم سے.. خلا لینے کی رٹ لگائے ہوئے تھا….
حور نے اسکی جانب دیکھا. وہ کام بھی ہو جائے گا.. مگر میری ساس… محتشم کو پتہ چلا تو.. وہ یہاں آ جائے گا “حور نے کسی خدشے کے تحت کہا..
تو اس سے ڈرتا کون ہے” حیدر نے.. غور سے حور کو دیکھا..
ڈرنے کی بات نہیں ہے حیدر میں کچھ پل سکونو کے تمھارے ساتھ گزارانا چاہتی ہوں جس میں بس میں اور تم ہوں نہ کوئ.. اور وجود ہو.. مگر میری ساس لازمی کچھ غلط جر دے گی”وہ اب بھی ڈری ہوئ تھی..
اوکے.. میں دیکھتا ہوں… اسکو بھی تم پریشان مت ہو” ھیدر نے اسکا ہاتھ تھامہ تو حور مسکرا دی…..
کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی قائم رہی جبکہ حور نے کچھ توقف کے بعد حیدر کو دیکھا..
اس دن تم کیا اہم کام کر رہے تھے”حور نے. ماتھے پر بل ڈالے.. گھر کے چکر میں وہ یہ بات بھول گئ تھی..
حیدر کھل کر ہنسا.. جبکہ حور… نے… غصے سے دیکھا…
حیدر نے اسکی چھوٹی سی ناک کو دو انگلیوں کے درمیان پیار سے بھینچ ڈالا….
ایسے سوال کرتی ہوئ بہت اچھی لگ رہی ہو.. کہاں لے جائیں ہم اپنا دل” حور کو.. اسکی.. چاہت بھری نظروں سے صاف محسوس ہوا.. تھا کہ وہ بات گھما گیا ہے.. اسنے رخ پھیر لیا…
حیدر نے اسکے شانے پر بازو پھیلایا…
ڈئیر ڈارلنگ…. زرا سبق سیکھانا.. تھا بس” وہ بدلنخواستہ چھپے ہوئے لفظوں میں بتا ہی گیا..
مجھ سے ملنے کے بعد بھی اسکے قریب جاتے ہو” حور کا غصہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا….
اہو.. تمھیں جیلس ہونے کی کوئ ضرورت نہیں.. محبت اور بیوی میں فرق ہوتا ہے بہت”حءدر نے. اسکو پیار سے.. سمھجایا..
ہوں میں جیلس…. تم صرف میرے ہو حیدر”وہ بھیگی پلکوں سے اسے دیکھنے لگی..
ہم نے کب کہا ہم تمھارے نہیں… ہم بھی بس تمھارے ہی ہیں.. اب.. خلا کا نوٹس بھیجوا کر… تم بھی پوری طرح ہماری ہو جاو “
حیدر نے.. پھر وہی ذکر چھیڑا…
تم مجھے سکھ کا سانس نہ لینے دینا.. “حور چیڑی.. جبکہ حیدر پھر ہنس دیا…
پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئ..
تم اسے.. شہر بلوا لو “حور نے کچھ سوچتے ہوئے کہا…
کیوں” حیدر بلکل نہیں سمھجا….
حیدر مجھے بچہ بلکل صحت مند اور بہت پیارا چاہیے…. تبھی میں اسے نہ چاہتے ہوئے اپنے سامنے رکھنا چاہتی ہوں “وی شانے بے نیازی سے بولی.
ڈالنگ. وہ ہمرا بچہ ہے.. اسکی خوبصورتی کو اپ چیلینج نہیں کر سکتیں اور دوسری بات.. ارمیش.. بھی بہت خو صورت ہے.. تو یہ فخر.. نہیں بنتی”
کیا مطلب ہے”حور تو اس بات پر چڑھ دوڑی حیدر نے زبان دانتوں تلے دبا لی…
ہمارا مطلب… یہ تھا” وہ ہنسی روکتے ہوئے بولنے کی کوشش کر رہا تھا..
تمگاری اس سو کولڈ بیوی سے زیادہ خوبصورت ہوں میں سمھجے” وہ غصے سے بولی..
نوڈاوٹ”حیدر نے ہار مان لی
تم.. چار دنوں کے لیے اسے یہاں لے او.. تاکہ میں اچھے سے.. بیبی کی گروتھ وغیرہ… کی معلومات خود اپنی پسند کے ڈاکٹر سے کروں “حور نے ھکم دیا.. جبکہ وہ سر جھکا گیا.. لگ ہی نہیں رہا تھا یہ وہی حیدر ہے….
……………
گھر کے سامنے گاڑی روک.. کر.. وہ گن.. ہاتھ میں تھامے… دروازہ.. لات مار کے کھول کر اندر داخل ہوا…. تو.. صحن میں کوئ نہیں تھا… اسنے.. رشید. کے وجود میں گولیاں اتارنے کا.. سوچ لیا تھا..
مگر جب وہ یہاں تک پہنچ گیا تھا…
تو.. سرکار سے ملے بغیر کیسے جاتا.. تبھی وہ اندر.. ایا.. معاویہ بھی پیچھے ہی تھا…
اور سامنے کا منظر دیکھ کر. وہ جیسے پتھر کا ہو گیا…
سرخ لباس میں.. وہ.. بے انتھا.. حسین لگ رہی تھی بدامی آنکھوں پر ہلکا ہلکا میکپ.. آنکھوں کے سجے پاپوٹے.. اور.. پلکیں سجدہ ریز.. لبوں پر سرخ کندھاری لیپسٹک.. اور ہلکی سی جیولری کے ساتھ.. وہ بہرام.. کا دل دھڑکا گئ.. مگر اسکے مقابل بیٹھے معاز کو دیکھ کر وہ ہوش میں ایا.. جبکہ پیچھے معاویہ بھی منہ کھولے کھڑا تھا…
نکاح جاری تھا.. اور اس سے پہلے عابیر قبول ہے.. کہتی.. بہرام.. کی بندوق سے گولی نکلی.. اور معاز کا بازو چیر گئ…
وہاں ایکدم ہڑبڑی میچ گئ…
جبکہ… معاز.. اپنا بازو تھامے.. درد سے کراہ رہا تھا..
عابیر جانتی تھی.. وہ ا گیا ہے.. اسنے انکھ اٹھا کر نہیں دیکھا….
اسکے دل میں موجود ساری نفرتوں کا اکیلا وارث تھا وہ..
اور نہ جانے کیوں اسے یقین تھا وہ ضرور ائے گا…
وہ یوں ہی بیٹھی رہی جبکہ.. بہرام
. اب سب کو مزے سے دیکھ رہا تھا…
تقریبا لوگ ڈر چکے تھے.. جبکہ معاز کے والدین… اسکے بہتے خون پر.. انسو بہا رہے تھا..
یہ لڑکی ہی منحوس ہے.. نہیں کرنی مجھے اپنے بیٹے کی شادی اس سے.. ارے عاشق پال ہی لیا.. تھا تو.. یہ پرسائ کا ڈہکوسلا کیوں کر رہی ہے… “معاز کی ماں اونچی اواز میں اسکو کوسنے لگی.. جو سر جھکائے بیٹھی تھی….
بہرام مسکرایا… اور اسکے.. بلکل سامنے جا کر بیٹھ گیا.. ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ.. معاز کی بے بسی دیکھ رہا تھا….
ایسا کچھ نہیں ہو گا…. یہ ادمی بھلے مجھے مار دے مگر میں عابیر کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا”معاز. غصے سے بولا.. تکلیف تو اسے بہت ہو رہی تھی تبھی ہلکی سی اواز کانہ گی…
بہرام اور معاویہ نے تعایدی اندز میں اسکو دیکھا…
خان دوسرا بازو بھی ضایع کر ڈال” معاویہ نے.. کہا تو بہرام.. نے.. سر ہلایا..
جو حکم سرکار”اور وہ اب دوسرے بازو پر گن تاننے لگا کہ.. معاز کا باپ سامنے ا گیا…
بیٹا ہمیں معاف کر دو یہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے… “وہ گڑگڑایا… تو.. بہرام نے گن نیچے کر لی….
تو اس اکلوتے میں اتنی گرمی… ہاہا.. جچی نہیں.. خیر.. یہ سب کیا ڈرامہ ہے”وہ اب سنجیدگی سے.. اکبر کو دیکھ رہا تھا.. جو اپنی بیٹی کی حفاظت کرتے کرتے ہار گیا تھا….
چلے جاو یہاں سے کیوں ہمارے پیچھے پر گئے ہو “اس سے پہلے اکبر صاحب کچھ بولتے انکی بیگم چلائ… تو.. ریہا نے انکا بازو تھام لیا….
بہرام نے بس ایک نظر اسپر ڈال کر عابیر کو دیکھا..
نہ جانے کیوں اسے.. لگا. جیسے وہ اسکی منتظر ہو.. اپنی مرضی سے سوچ کر اسکا دل باغ باغ ہوا….
وہ مسکرایا… معاویہ کی جانب بندوق اچھالی. جو اسنے فورا کیچ کی…
کیا خیال ہے سرکار…. اج ہی اپنا بنا لیں اپکو “وہ عابیر کے پاس ا کر.. بے باکی سے.. اسکے.. چہرے کو تکنے لگا…
معاز…. کی غیوت.. نے جیسے جوش مارا تھا.. اور.. اسبے ایکدم اٹھتے.. بہرام.. کا گریبان.. پکڑ لیا..
تیرا میں وہ حشر کرو گا.. کہ یاد رکھے گا… سالے” وہ غصے سے.. بولا..
بہرام نے ایک نظر اسکے ہاتھوں کو دیکھا.. اور ایک کھینچ کر مکہ. اسکے جبڑے پر دے مارا…
وہاں.. چیخیں سننے لائق تھی..
میرے گریبان پر ہاتھ ڈالے گا.. مجھے گالی دے گا” وہ بے اوسان.. معاز کا کچومبر بنا رہا تھا.. لاتوں مکووں کی بارش کر دی تھی…
معاز کی منٹ میں نھڈال ہو کر.. ایک طرف گیرہ.. جبکہ.. بہرام نے. اسے اٹھا کر صحن میں پٹخ دیا…
معاویہ سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا یہ تو ہونا ہی تھا….
جبکہ.. سب.. بہرام کو روکنا چاہ رہے تھے.. جس کے اپنے ہاتھ زخمے ہو گئے تھے جب اسنے معاز کو جالیوں پر دے مارا….
معاز بے ہوش ہونے کے قریب تھا…
کہ.. معاز کی ماں نے…. عابیر.. کو جھنجھوڑ دیا.. جو سن سب رہی تھی.. مگر.. ایک فلک بھی نہیں اٹھا رہی تھی…
بدزات. میرا بیٹا مار دے گا تیرا عاشق کیسے سکون سے بیٹھی ہے منحوس. کہیں کی… “عابیر. نے.. انکیطرف دیکھا.. اسکی آنکھوں.. میں نمی.. تھی سرخ.. لائن تھی مگر اسنے آنسوں کو چھلکنے نہ دیا….
عابیر مار دے گا وہ اسے…. تم نے ہی بلایا ہے اسے یہاں” یہ مما تھیں… جو.. نفرت سے اسکی طرف دیکھ رہیں تھیں..
عابیر بیٹے میرے بیٹے کو بچا لو “یہ ماموں تھے اسکے اگے گڑگڑائے…
معاویہ یہ سب دیکھ رہا تھا ایک پل کو.. اسے عابیر پر بہت ترس ایا.. وہ بےقصور لڑکی… کس قدر برے برے الزامات کا شکار ہو گئ تھی….
عابیر… بچاو بچاو معاز کو” بابا.. نے اسکا ہاتھ تھام کر کھڑا کیا..
اسنے صحن کی جانب دیکھا جہاں وہ بھپرا شیر بنا… معاز کو مار ہی دینا چاہتا تھا….
معاز خونم خون بے جان پڑا تھا..
عابیر.. کی انکھ سے.. نہ چاہتے ہوئے بھی انسو نکل ائے…
وہ.. لہنگا سمبھالتی… صحن میں ائ سب جیسے سانس روکے دیکھ رہے تھے.. وہ.. بہرام کی قریب جانے لگی..
اس قدر نازک حالت میں معاویہ کو شغل سوجھ رہا تھا….
اسنے اپنا موبائل.. نکال لیا…
عابیر.. اسکے قریب بڑھنے لگی….
اور.. بہرام کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا…..
بہرام… کو ایس الگا.. جیسے.. تپتے سہرا میں بارش سی برس گئ ہو.. اسنے… اپنا پسینہ ایک ہاتھ سے صاف کیا. اور پلٹ کر عبیر کو دیکھا.. اور اسی وقت معاویہ نے.. یہ منظر قید کر لیا….
تمھیں میں چاہیے ہوں….. “عابیر.. مدھم اواز میں اس سے پوچھ رہی تھی.. اور جیسے اسے اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی…
بہرام نے معصومیت سے سر ہلا دیا جبکہ معاویہ اب اس منظر کی وڈیو بنا رہا تھا..
تیری معصومیت خان” اسکی ہنسی رعکنا مشکل تھی..
باقی سب نفرت سے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے…
چلو میرے ساتھ” عابیر نے اسکا ہاتھ تھامہ… بہرام اسکے ساتھ کھنچتا چلا گیا… سب معاز کیطرف بڑھ گئے.. اب عابیر سے انکا کوئ واسطہ تعلق نہیں تھا….
طس ریہا تھی جو اپنی بہن کی بے بسی پر خون کے انسو رو رہی تھی باہر معاز کو ہسپتال لے کر جایا جا رہا تھا.. جبکہ اندر ایک ڈرا سہما مولوی.. بہرام خان معاویہ… اور ریہا.. سمیت عابیر کے علوہ کوئ نہیں تھا…
مولوی صاحب نکاح شروع کریں “وہ.. بے لچک لہجے میں بولی.. بہرام نے.. نفی کی.
نہیں.. سائیں ایسے نہیں.. ہماری شادی اتنی روخی پھیکی کبھی نہیں..” وہ بولا.. تو عابیر… نے اسکی بات کا نوٹس نہیں لیا…
بہرام.. ہونٹوں پر انگلی رکھے.. اس لڑکی کے ٹشن دیکھ رہا تھا.. مزاہ بھی خوب ایا.. واہ کیا نکاح تھا…
پھر سب.. پس پشت ڈال کر.. اسنے عابیر کے لیے قبول ہے. کہہ دیا.. جبکہ عابیر نے بھی… قبول ہے کہہ کر.. خود کو بہرام کے سپرد کیا.. اب یہ کوئ نہیں جانتا تھا.. کہ..
بہرام کی زندگی میں سکون انا تھا.. یہ…
اس کی زندگی ایک عزیت سے دو چار ہونے والی تھی…
……………….
وہ ایسے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر مسرور تھا…
بے حد بے انتھا خوشی تھی.. جو اسکو چین نہیں لینے دی رہی تھی اسے سمھجہ نہیں ا رہا تھا اخر اتنی جلدی.. وہ اسکی ہو کیسے گئ.. اب وہ ایک شاندار ولیما دینے والا تھا..
خان داجی.. جان لے لیں گے “معاویہ گاری کو مستعدی سے ڈرائیو کرتا بولا…
ہم دے دیں گے جان” عابیر.. کو خود کے قریب کرتا.. وہ نہایت چاہت سے بولا.. جبکہ عابیر.. ابھی کچھ پل پہلے ہونے والے قصے میں محو. تھی..
اج کے بعد تمھارا ہمارا کوئ تعلق نہیں مر گئ تم ہمارے لیے بدنام کر دیا پوری دنیا میں ہمیں.. ایسی اولاد سے بہتر تھا اللہ ہمیں اولاد نہ دیتا..” مما نے.. اسکو تھپڑ مارتے ہوئے.. غصے سے کہا.. جبکہ وہ خود بھی رو رہیں تھیں.. بہرام اس سے پہلے.. انھیں کچھ کہتا.. عابیر نے اسکا ہاتھ تھام لیا… اسنے بابا کو دیکھا جبکہ اکبر اسکا.. تھاما ہاتھ دیکھ رہے تھے…
اگر یہ ہاتھ تھامنے کی تمھاری اپنی خواہش تھی تو ایک بار کہہ دیتی… عزت سے رخصت کر دیتا “انھوں نے.. بس اتنا کہا.. جبکہ عابیر نے فورا وہ ہاتھ چھوڑا…
اور انکے سینے سے لگ گئ.. جبکہ اکبر صاحب یوں ہی کھڑے تھے….
انھوں نے اسکو پیار نہیں کیا جبکہ خود ہی خود سے جدا کر دیا.. اور اندر چلے گئے.. سارا خاندان انپر تھو تھو کر کے چلا گیا تھا.. عزت غیرت کی دھجیاں اڑ چکیں تھیں….
اسنے ریہا کو دیکھا. تو وہ انکے سینے میں سما گئ.. ا
اپکی اپنا خیال رکھنا “اسنے روتے ہوئے کہا.. بہرام اکتا کر یہ سب دیکھتا رہا…
اسبے ریہا کو پیار کیا.. اور.. گھر کی دہلیز پار کر گئ…..
ماں باپ کا مان….
معاشرے میں عزت سب گنوا کر.. وہ نکل ائ تھی..
بہرام.. مسرور سا.. اسے.. خود سے لگایے.. کالام کے حسن راستو کو دیکھ رہا تھا.. جو.. دن میں اور بھی حسین لگ رہے تھے.. معاویہ.. ڈرائیو کر رہا تھا…
عابیر.. نے بہرام کے سینے پر سر رکھ دیا….
بہرام نے چونک کر اسکو دیکھا…. جس کی آنکھیں بند تھیں…
دل جیسے خوشی سے پھٹنے کے قریب تھا… سب ٹھیک ہو رہا تھا…
سائیں…. ابھی راستہ باقی ہے.. کیوں بھکا رہیں ہیں “اسنے.. پیار سے اسکے. خوبصورت چہرے… پر. اپنا ہاتھ رکھا.. عابیر نے. سرخ سجئیں آنکھوں کو کھول کر اسکو دیکھا….
بہرام اسکی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا…..
عابیر کی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا… بہرام.. نے.. ہلکے سے.. ماتھے پر بل ڈالے… آنکھیں پھیر لیں….
اسے اسکی آنکھوں کی نفرت ناگوار گزری تھی عابیر مسکرا دی….
اور پوری طرح اسکی بانہوں میں مقید ہو گئ
کیا ہوا.. بہرام… ان آنکھوں میں اپنا عکس نہیں دیکھا کیا “وہ اسکے سینے.. میں موجود دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کو.. سنتی… بولی… بہرام نے اسکو دیکھا..
معاویہ خان ہیں گاڑی میں تھوڑا دور ہو جاو..” بہرام نے سنجیدگی سے کہا.. عابیر حیرت کا اظہار کرتی اس سے دور ہوئ…
ہم ہیسبینڈ وائف کے بیچ میں… پھر اس شخص کو رکھا کیوں ہے.. بہرام خان.. تم نے.. ویسے. یہ تھمارا نوکر ہے کیا.. جو تمھاری ہر وقت دم بنا رہتا ہے” گاڑی میں خاموشی چھا گئ….
بہرام حیران تھا جبکہ معاویہ سرخ چہرہ. لیے گاڑی روک گیا…
میٹھی وہ میرا دوست ہے.. وہ میرا یار ہے اور اپ اسکے بارے میں ایسے بات نہیں کر سکتی” بہرام زرا سختی سے بولا..
اوہ اچھا… “عابیر.. خود پر سے جیولری کھنچتہی طنزیہ ہنسی….
معاویہ نے بہرام کی جانب دیکھا..
تم خود ڈرائیو کرو میں جا رہا ہوں “اس سے عابیر کا حتق آمیز لہجہ بلکل برداشت نہ ہوا…. اور وہ گاڑی سے نکل گیا.. کہ ابھی بہرام کچھ کہتا ہی..
غیرت بھی ہے “” عابیر مدھم سا ہنسی.. اور جیولری کو لاپرواہی سے.. سیٹ پر پھینک دیا…
بہرام… نے.. ماتھے پر ایا پسینہ صاف کیا…
اور ڈرائیونگ سیٹ پر ا گیا…
دلبر اگے ا جائیں “وہ مسکرا کر بولا…
عابیر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا..
موڈ نہیں” وہ کہہ کر… سیت کی پشت سے ٹیک لگا گئ..
بہرام ہنس دیا..
جان.. بہرا.. ہم اپ کے غلام.. مگر. کچھ لوگ ہیں جنھیں.. بہرام خان.. بہت عزیز رکھتا ہے..
انھیں ایسے مت کہیں “وہ گاڑی چلاتا اسے سمھجانے لگا…
عابیر نے جواب نہ دیا.. بہرام نے مڑ کر اسکو دیکھا.. وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھی…
اسنے سپید بھڑا دی مگر معاویہ.. اب بھی دماغ سے نہیں نکلا تھا..
………………
حیدر… حویلی پہنچا. تو سب ہی ہال میں تھے وہ بغیر کسی کو دیکھے.. اپنے کمرے میں بڑھ گیا…
یہ حیدر سائیں.. کیا کرتے پھیر رہیں ہیں. اج کل اتنے شہر کے چکر کیوں لگ رہے ہیں “داجی نے.. یاور کیطرف دیکھا.
معلوم کرتا ہوں داجی” انھوں نے فورا کہا تو وہ سر ہلا گئے….
تبھی.. ہال میں بہرام.. خان داخل ہوا…
کالام کی جان… شہزادے.. اتنی دیر سے کہاں تھے.. خان”داجی اپنی جگہ سے اٹھے تو وہ تھکا تھکا سا.. انکے بازوں میں سمایا.. جبکہ اسکے پیچھے کھڑی سرخ جوڑے میں لڑکی دیکھ کر داجی کی مسکراہٹ اور جوش دم توڑ گیا…
کون ہے یہ” وہ اس سے الگ ہوتے بولے…
بیوی ہے ہماری.. اور اپکی بہو”وہ پیار سے اسے دیکھتا بولا…
داجی… سمیت وہاں سب پر حیرت کا طوفان ٹوت پڑا….
یہ کیا کہہ رہے ہو خان “وہ دھاڑے… بہرام نے چونک کر انکو دیکھا..
کیوں کیا ہو گیا… ” وہ.. سکون سے بولا…
خان.. اب نیچ ذات.. ہمارے خاندان کی بہو بنے گی کبھی نہیں” وہ چلائے غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا.. اس سے پہلے بہرام کچھ کہتا..
ایکسکیوز می…. کیا مطلب ہے نیچ ذات کا…
اپ لوگوں کی بڑی اونچی زات ہے تربیت تک تو ہے نہیں اپکی اولاد کو “وہ غصے سے دوبادو بولی… بہرام.. کے لب مدھم سے مسکرائے
داجی شیر کے ساتھ شیرنی جچتی ہے… ” وہ انکے شانے پر ہتاھ رکھتا.. انکو دیکھنے لگا..
اپ میرے ساتھ چلیں.. میں سب سمجھاتا ہوں “
اسنے کہا اور منیب کو دیکھا..
بی بی کو زنان خانے میں لے جاو… “
جی صاحب… منیب عابیر کے پیچھے جا کھڑا ہوا.. جبکہ … عابیر وہاں سب کو گھورتی وہی چل دی جبکہ بہرام اسکو… انکھ بھر کر دیکھتا رہا..
اسے اتنا تو سمھجہ ا ہی گیا تھا..
کہ وہ اسے اچھا خاصا ٹف ٹائم دینے والی ہے.. کتنا یہ ابھی اسکی سوچ نہیں تھی
جاری ہے
