Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 21
No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
اسے شدید غصہ ا رہا تھا.. اتنا سب کرنے کے باوجود بھی.. وہ شخص اپنی جگہ سے ہلنے کے لیے تیار نہیں تھا.. اخر کس مٹی سے بنا تھا.. مگر ایک بات طے تھی کہ.. وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی..
وہ اسکے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتی تھی.. کیونکہ وہ شخص…
اسکو ذلیل اور رسوا کر چکا تھا….
وہ مزید اسکے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی…
تبھی اسے روم میں اتا دیکھنے لگی..
بہرام نے بھی اسکیطرف دیکھا..
اسکی خاموشی پر مسکرا دیا…
اج بادل باہر گرجے ہیں تو اندر کی گرج کم پڑ گئ.. مزے کی بات ہے یہ تو”وہ… ہنسا.. عابیر کو لگا. وہ.. اسپر ہنسا ہو..
وہ کچھ نہ بولی.. کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ. اسے مزید برا لگنے لگا تھا…
وہ اسکی خاموشی پر خود بھی خاموش ہو گیا…
ارمیش کیسی ہے” اسنے بس ایسے ہی پوچھ لیا…
عابیر.. نے ائ برو اٹھای…
بڑی فکر ہے… “اسنے طنز کیا..
اپکی ہی مہرابانی ہے سائیں.. ایک اپ نے پوری حویلی کے حالات بدل ڈالے”وہ.. اچھے موڈ میں تھا. اور کل کی بات بھلا چکا تھا..
عابیر کا سکون جیسے غارت ہونے لگا..
میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مجھے طلاق دو”اسنے سیدھے لفظوں میں کہا کہ کسی بھی سٹیپ سے پہلے وہ اس سے سیدھی طرح بات کر لے..
میں تمھیں طلاق نہیں دوں گا عابیر… “وہ.. بولا.. لہجہ مظبوط تھا…
مگر میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی”وہ.. گھور کر بولی..
کچھ نہیں ہوتا.. میں تو رہنا چاہتا ہوں نہ” وہ.. بہت تسلی سے بولا..
میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی… ” وہ اپنی جگہ سے اٹھی..
میں تم سے معافی مانگتا ہوں اپنے ہر عمل کی…
خدارا تھوڑی سی جگہ دے دو بس” وہ کہیں سے بہرام نہیں لگ رہا تھا.. جو خود کو بہت غرور سے کالام کا سردار کہتا تھا.
نہیں… کبھی نہیں… تم معافی کے لائق نہیں… “عابیر دو ٹوک لہجے میں بولی.. بہرام نے.. گھیرہ سانس بھرہ..
جو بھی ہے طلاق کا تصور نکال دو “وہ جانتا تھا وہ ضد پر ہے.
کبھی تو وہ اپنی ضد سے ہٹے گی…
وہ یہ ہی سوچ کر خاموش ہوا…
نہیں تمھیں خود دینی پڑے گی میں تمھارے لیے ایسے حالات بنا دوں گی”وہ.. جیسے اسے وارن کر رہی تھی..
میں بدلا ہوں ڈالنگ… مگر میری ضد نہیں… جو کر سکتی ہو کر لو”قریب ا کر وہ.. اسکے گال کو چھو… کر.. مسکرایا.. عابیر نے اسے جھٹک دیا…
اب تم دیکھو میں کرتی کیا کیا ہوں تمھارے ساتھ… “وہ
.. غصے سے اسکی پشت دیکھ رہی تھی…
…………………..
دن بے کیف گزر رہے تھے کوئ رونک نہیں تھی…
داجی کی طبعیت بلکل ٹھیک نہیں تھی.. تبھی ابھی تک حیدر کے بارے میں کوئ فیصلہ نہیں لیا گیا تھا…
جبکہ حیدر… اس رات انے کے بعد… ایک بار پھر جا چکا تھا…
جبکہ حور نے… ہر حال میں اس راز کو.. چھپا لیا تھا… کہ.. اسکے بچے کو کس نے مارا پہلے وہ ڈری ضرور تھی کہ ارمیش سب کو بتا دے گی مگر اسکی خاموشی اور صدمہ کافی فائدہ پہنچا رہا تھا…
وہ اسے لے کر دوبارہ چلا گیا تھا…
جبکہ باقی سب… ارمیش کے لیے حد سے زیادہ حساس ہو رہے تھے..
حتیٰ کہ.. مرد حضرات بھی ارمیش کے لیے کافی کنسرن رکھ رہے تھے
.
حویلی میں چند ماہ میں بہت کچھ بدلا تھا.. حویلی والوں کا تنتنا ٹوٹا تھا…
معاویہ سکون سے شہر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ… اچانک دروازہ کھلا..
اور اسنے بس عابیر کو اندر اتے دیکھا تھا….
کیا مسلہ ہے کیوں ائ ہو “
معاویہ غصے سے بولا…
میں نے سوچا اپنے شوہر کے ملازم سے مل لوں” عابیر نے اسکی جان سلگائ اخر کو.. وہ بھی شامل تھا…
بکواس اپنی اپنے اندر رکھو.. سمھجی”معاویہ غصے سے کھولنے لگا..
لو کیا غلط کہہ دیا.. تمھاری حویلی میں نہایت بری پوزیشن ہے… اور ہر وقت ہر وقت اسکا دم چھلہ بنے رہتے ہو.. سکون نہیں کیا تمھیں “وہ اسے زیچ کر رہی تھی.. معاویہ نے دانت پیسے…
باہر نکلو.. دفع ہو… “معاویہ نے غصے سے اسکا بازو پکڑ کر اس سے پہلے وہ اسے باہر دھکیلتا…
عابیر نے ایک نظر اسکو دیکھا.. اور.. زور زور سے چیخنے لگی..
جبکہ.. معاویہ نے حیران ہو کر
. اسکا ہاتھ چھوڑنا چاہا مگر.. اسنے اسکا ہاتھ نہ چھوڑا…
اور زور زور سے چیخنے چلانے لگی اسکی چیخیں حویلی کو ہلا گئ تھیں…
ایک پل میں سب وہاں جمع ہوئے تھے…
ملازم تو.. صورتحال سمھجہ کر دانتوں میں انگلیاں دے گئے..
یہ کیا حرکت ہے عابیر کیوں تماشہ لگا رہی ہو “وہ اسے جھٹک کر چلایا…
جبکہ عابیر دور جا گیری.
بہرام کے قدموں میں.. بہرام… آنکھوں میں بے یقینی لیے.. معاویہ کو دیکھ رہا تھا..
اسکی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا…
جھوٹ.. جھوٹی ہے یہ” اسکا لہجہ ہکلا گیا… اسکی آنکھوں کی بے یقینی دیکھ کر…
عابیر… یہ.. یہ خود ائ تھی” معاویہ.. بولا… جبکہ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے.. بہرام نے… معاویہ کے منہ پر پنچ دے مارا…
معاویہ کا ہونٹ پھٹا تھا.. جبکہ.. بہرام کے ہاتھ پر بھی بہت زور سے لگی تھی.. داجی خاموشی سے دیکھ رہے تھے..
حویلی میں یہ سب تو اب روز کا تماشہ تھا…
وہ چپ چاپ اندر چلے گئے جبکہ.. خواتین سمیت.. انوشے.. کا تودم نکلا تھا..
معاویہ نے بہرام کو ایک لفظ نہ کہا…
جبکہ بہرام عابیر کو سختی سے پکڑ کر اندر گھسیٹتا ہوا لے گیا…
اپنے روم میں اتے ہی…
اسنے اسے بیڈ پر دھکا دیا… اور کھینچ کر دروازہ بند کیا..
عابیر کو محسوس ہوا… اسے اسکی حرکت کا اندازا ہو گیا ہے..
کیوں وہ اسکے پاس پہنچتے ہی دھاڑا..
کیوں گیرا رہی ہو اپنا معیار کیوں.. اس حد تک اس حد تک. عابیر”وہ بے بسی شدید بے بسی محسوس کر رہا تھا…
جبکہ عابیر.. نے سکون سے پہلو
. بدلا..
طلاق دے دو” اسنے.. اسی سنجیدگی سے کہا.. بہرام نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا…
ان آنکھوں میں نمی تھی مگر عابیر کو… بلکل.. اسپر رحم نہ ایا.. وہ ایسی نہیں تھی اسے ایسا بنایا گیا تھا…
اور فیصلہ تو وہ کر چکی تھی…
بہرام… کے لیے اج کل جیسے سانس بھی مشکل ہو گیا تھا…
اسکو وہیں چھوڑ کر… وہ وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ.. اب. کہ اسنے تالا کمرے کو باہر سے لگا دیا تھا..
یہ کیا کیا ہے تم نے”عابیر اندر سے دھاڑی…
بہرام… نے کوئ جواب نہیں دیا…
…………………
وہ دوڑ کر الٹے قدموں معاویہ کے پاس پہنچا تھا….
معاویہ اپنے.. ہونٹ پر لگے خون کو.. صاف کر رہا تھا..
بہرام کو دیکھ کر کوئ ایکشن نہ دیا…
کس گناہ کی سزا ہے یہ” وہ.. ہارا ہوا سا بولا…
لہجہ بھیگا ہوا تھا.. جبکہ معاویہ کا دل کٹ گیا…
اے بہرام.. خان.. ادھر دیکھ.. مرد روتے نہیں…. رونا نہیں….
اگر وہ چاہتی ہے… تو اسے چھوڑ دے… اسے قید کر کے.. خود کو اور اسکو.. نہ دے تکلیف.. مگر رو کر یہ ثابت نہ کر.. کہ… تو.. ایک ہارا ہوا مرد ہے “معاویہ.. تو اسپر چڑھ دوڑا..
بہرام نے.. اسے دھکا دیا…
کیوں کیوں مرد کیوں نہیں روتے…
عورت… صرف عورت ہی مرد کو رولا سکتی ہے…
اور مجھے یہ عورت رولا رہی ہے.. اج….
مرد انسان نہیں ہوتے
.. جو مرد نہیں رو سکتے.. کب تک.. یہ کھوکھلا کھول مردوں پر لگا رہے گا کہ وہ رو نہیں سکتے….
عورت مرد کو رولا دیتی ہے معاویہ سائیں.. عورت.. کی نفرت.. مرد کو ختم کر دیتی ہے….
اس سے کہو
.. مجھ سے نہ کرے نفرت… میں مانتا ہوں نہ اپنے سارے گناہ “وہ… عجیب کفیت کا شکار… دھاڑ رہا تھا.. جبکہ آنکھوں میں نمی.. کافی تکلیف دہ تھی….
داجی… نے.. اسکو… ہارتے ہوئے دیکھا..
انھیں سب یاد ایا… کیسے.. کس طرح.. اسکی انھوں نے پرورش کی تھی…
ضد… بے حسی
. اسکے اندر.. غرور اسکی بے انتھا حسن کا…
وہ سب ملیامیٹ کر دیا تھا… اج..
اسکے ہارنے پر وہ بھی ٹوٹ گئے تھے…
حویلی کے لوگ بکھر رہے تھے…
مسلسل.. بے بسی سے…
مگر وقت فیصلوں کا تھا…..
اگر وہ بھی.. ہار جاتے تو.. کہیں کوئ فیصلہ نہ ہو پاتا…
سب سے پہلا خیال انکے دماغ میں حیدر کا ایا تھا.. اور اسکے بعد وہ بہرام.. کا مسلہ حل کر کے حویلی میں سکون کے خواہش مند تھے..
اسکی سرداری.. کے تمام معاملات داجی خد سمبھال رہے تھے.. اب سرداری کس کے سر سجنی تھی.. یہ بھی وہ ایک لمہے میں طے کر چکے تھے…
……………………..
حیدر کو حور مل چکی تھی اور کیا چاہیے تھا..
انسانیت کے نام کا احساس بھی اسکے اندر سے مٹ چکا تھا..
اسنے پلٹ کر ارمیش.. کے بارے میں نہ سوچا ….
حور نے.. اس کے تمام عصابوں.. پر قابو پا لیا تھا…
جبکہ ان دونوں کے بقول زندگی بھی خوبصورت گزر رہی تھی..
کہ… وہ… حویلی چھوڑنے کے .. ہفتہ گزرنے کے بعد…
کی شام تھی…
جب… دروازے کی اواز بجنے پر.. وہ حیدر کے پہلو سے اٹھی..
نائٹ ڈریس کی ڈوریاں بند کیں.. اور دروازے کیطرف بڑھنے لگی…
کریر تھا…
اسنے سگنیچر کر کے لفافہ لیا.. اور اسکو ابھی کھولتی کہ حیدر بھی باہر ا گیا…
حور نے اسکو مسکرا کر دیکھا..
حیدر بھی مسکرایا…
اور.. حور نے اسکے ہاتھ میں لفافہ تھما دیا
.
میں فریش ہونے جاتی ہوں یہ تمھارے نام ہی ایا ہے”اسنے کہا.. اور.. گزرنے لگی کہ حیدر نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکو بازوں میں بھر لیا.. جبکہ دوسرے ہاتھ کی مدد سے. لفافہ کھولنے لگا… اب حور اور حیدر دونوں کی نظریں لفافے پر تھیں…
حیدر نے. لفافہ کھولا تو اندر سے قانونی کاغز نکلا…
جس میں صاف درج تھا کہ قانونی لحاظ سے.. اسے.. حویلی.. حویلی کی وراثت.. اور تمام.. کاروبار سے.. اک کر دیا گیا ہے.. جبکہ اسکا بینک بیلنس
. بھی.. ضبط کر لیا گیا ہے..
حیدر آنکھیں پھاڑے سب پڑھ رہا تھا جبکہ یہی حال حور کا بھی تھا..
یہ سب کیا بکواس ہے حیدر”حور اس سے الگ ہوتی.. چلائ اسکے تو وجود میں پتنگے لگ گئے
یہ کیا..
حیدر کی محبت کے ساتھ ساتھ اسکی شہورت… اسکی امارت.. جس کی وہ خواہش مند تھی…
وہ سب اسے چاہیے تھی…
اور جب ملی تو ایک ہفتے میں ہی سب.. ایک بار پھر اس سے… چھین گیا
..یہ سب داجی نے کیا ہے” حیدر نے دانت پیسے…
کیا مراد ہے اب تمھارے پاس کچھ نہیں” حور کا تو دل بیٹھنے لگا…
حیدر نے اسکی جانب دیکھا.. اور وہ پیپر پھینک کر.. سر تھام لیا..
داجی ایسا نہیں کر سکتے.. سردار ہیں ہم کالام کے “وہ حیران پریشان… تھا… کچھ سمھجہ نہیں. ارہی تھی..
ہاں یہیں بات ہے.. سب ابھی بھی تمھارے پاس ہے نہ.. “حور تو… حد سے زیادہ خوف ذدہ ہوئ..
پیدا ہوتے ہی غربت دیکھی شادی کے بعد غربت دیکھی.. اور اب.. جب خوشیاں ملیں تھیں تو دوبارہ. غربت کا منہ نہیں کبھی نہیں…
معلوم نہیں.. جب وہ اک کر چکے ہیں تو سرداری بھی کسی اور کو ملے گی…” حقیقتاً اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کا.. داجی اسکے ساتھ ایسا کریں گے…
کیا مطلب ہے حیدر تم کنگلے ہو گئے ہو” وہ تو.. اسکا بازو.. ہٹاتی.. اس سے دور ہوتی.. منہ کھولے پوچھ رہی تھی..
حیدر نے اسکیطرف دیکھا…
تم فکر نہ کرو… تمھیں خوش رکھو گا “اسنے.. حور کے عجیب و غریب رویے پر حیرت کا اظہار ترق کر کے… اسکو تسلی دی..
بھاڑ میں گیا سب.. ٹھیک ٹھیک کھاک ٹھیک ہو گا.. جیب میں تمھارے روپیہ بھی نہیں رہا اور سب ٹھیک ہونے کے داوے کر رہے ہو” وہ غصے سے چلائ..
یہ کس قسم کا رویہ ہے حور”حیدر نے.. بھی اب غصہ کیا.. پہلے ہی.. اسے کچھ سمھجہ نہیں. ارہا تھا.. اوپر سے.. یہ سب..
رویہ رویہ.. اف
. اف… “حور نے پاوں پٹخے..
تم.
حویلی جا رہے ہو.. بھلے معافی مانگو پاوں پڑو…
ہم تمھارے جائیداد تمھاری وراثت سے دستبردار نہیں ہو سکتے بلکل نہیں “وہ ہزیانی انداز میں بول رہی تھی جبکہ حیدر نے اسکا بازو جکڑا..
بکواس ہے انھوں نے نکال دیا اور ہم پلٹ کر جائیں کبھی نہیں بس اپنا بچہ… لینے جائے گے… ” وہ.. سرخ چہرے سے دو ٹوک لہجے میں بولا…
بچہ.. بچہ.. حیدر… جب پیسہ نہیں ہو گا تو بچے کو کیا کھلاو گے”
حور نے.. بچے کے مارنے کی بات چھپاتے ہوئے اسے سمھجانا چاہا..
نہیں حور ہم دونوں ساتھ ہوں گے تو کچھ بھی نہیں ہو گا غلط تم فکر نہ کرو.. اور. ہم کرتے ہیں .. بابا سائیں سے بات…. ایسے کیسے اک کر سکتے ہیں وہ ہمیں” وہ.. کنپٹی دباتا بولا اور کمرے میں چلا گیا.. جبکہ حور.. اسے دیکھ کر روخ موڑ گئ…
اسنے مٹھیاں بھینچی…
اب کیا ہو گا… پیسہ یہ عیش ارام…
اف اسکا سر پھٹنے لگا تھا..
پھر سے غربت کا منہ تو وہ کبھی نہیں دیکھے گی..
اسنے سوچا.. اور.. پاس پڑے کشن.. اٹھا اٹھا کر.. زمین پر مارنے لگی ..
زہنی طور پر وہ کافی.. ڈسٹرب محسوس کر رہی تھی..
……………………….
اج اسکی کانفرنس… تھی.. اسکا دورانیہ کافی کامیاب جا رہا تھا.. پہلے جو کرپشن.. داجی نے کروائ بھی تھی اب وہ سب ختم کر کے.. وہ.. ٹھیک کام کرنے لگا تھا…
وہ روم میں ایا تو.. عابیر کے سامنے کھانا رکھا..
عابیر نے ایک پل میں کھانا اٹھا کر.. دیوار پر دے مارا.. بہرام نے ایک سیکنڈ کو دیکھا.. اور پھر.. فریش ہونے چلا گیا.. وہ باہر ایا تو.. عابیر نے پورا کمرہ تھس نہس کر رکھا تھا…
بہرام نے کچھ نہیں کہا..
زیادہ اچھے مت بنو تم.. “عابیر نے اسکا بازو جھٹک کر کہا…
عابیر.. سائیں ہم بعد میں بات کریں گے” وہ سہلوت سے بولا
ازاد کیوں نہیں کرتے مجھے”جبکہ وہ چلائ
اور اسکے منہ کو اپنے ناخنوں سے نوچ ڈالا.. وہ پاگل ہو چکی تھی نہ جانے کیا چاہتی تھی…
بہرام نے غصے سے.. اسکے ہاتھ ہٹائے.. اور اسے دور دھکا دیا..
پاگل ہو گئ ہو “
ہاں ہو گئ ہوں.. طلاق دو مجھے.. ازاد کرو مجھے”وہ.. اسپر چیزیں مارنے لگی..
تمھارا دماغ.. تو اج ا کر اچھے سے درست کروں گا بہت مہلت دے دی تمھیں تم نے… جینا حرام کر دیا… “
وہ زیچ ہوتا ہوا بولا…
اور باہر نکلا…
عابیر… نے اسکا ہاتھ تھامہ..
شہر جا رہے ہو “اسنے سنجیدگی سے پوچھا..
ہاں” اسنے.. جواب دیا مگر لہجے میں سختی تھی..
مجھے بھی جانا ہے” اسنے کہا..
بہرام نے چند پل اسے دیکھا..
اپنا دماغ سیٹ رکھو.. عابیر… “وہ.. اسے.. سمھجانے لگا..
بس زیادہ نہ بولوں جو کہا ہے وہ کرو”وہ سختی سے بولی..
ڈرائیور چھوڑ ائے گا”
اسنے کہا اور باہر نکل گیا..
جبکہ عبیر کی گاڑی بھی اسکی گاڑی کے پیچھے ھویلی سے نکلی تھی..
شاید ہمیشہ کے لیے پشتاوں کو ساتھ لے کر…
یہ شاید.. اب.. اسکے پلٹنے کی باری تھی مگر وقت تو ہاتھ سے بھربھری ریت کی مانند نکل رہا تھا…
……………….. یا نکل گیا تھا..
کوئ نہیں جانتا تھا..
جاری ہےP
