Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

حویلی میں شادی کی تیاریاں ہوتے دیکھ جیسے… اسے ہوش ایا تھا یہ سب کیا ہو رہا تھا…
سب ہی خوش تھا جبکہ… وہ عجیب سے کیفیت کا شکار تھا ایسا خواب تو اسنے عابیر کے ساتھ دیکھا تھا…
مگر وہ خواب کس طرح پورا ہو رہا تھا..
وہ مسلسل بے چینی کا شکار تھا.. حویلی میں سب بہت خوش تھے…
یہاں تک کہ معاویہ بھی اسے ہری جھنڈی دیکھا چکا تھا…
اسے اس بات سے بلکل فرق نہیں پڑتا تھا کہ داجی اسے فورس کر رہے تھے…
وہ چاہتا تو داجی کی بات.. نہ مانتا مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ.. داجی عابیر کو یہاں انے نہیں دیں گے اور اگر.. اسے لانا تھا تو شادی کرنی ہی تھی.. مگر دل تھا مٹھی میں جکڑا ہوا تھا…
وہ… بغیر کچھ سوچے سمھجے.. گاڑی کی چابی اٹھا کر.. وہاں سے بڑی بے تابی سے نکلا تھا….
کچھ ہی گھنٹے کی رف ڈرائیو کے بعد وہ.. اسکے گھر کے سامنے تھا….
اسے یاد ایا کچھ مہینوں پہلے یہاں انے کی اسکی تڑپ ہی الگ تھی…
اور اج یہاں انے کی تڑپ الگ تھی اج کچھ کہو جانے چھوٹ جانے کا احساس ہو رہا تھا…
وہ.. اپنے مخصوس سٹائل میں گاڑی سے نکلا.. اج اسنے ڈرنک نہیں کی تھی..
چاہ کر بھی پی نہ سکا.. وہ باہر نکلا اور دروازہ بجایا…
تو کچھ ہی منٹ میں دروازہ کھل گیا… ریہا.. کو سامنے دیکھا…
اور اس سے پہلے وہ سوال کرتا…
اپی… گھر پر نہیں ہیں “
کہاں ہے وہَ” بہرام نے… بے تابی سے پوچھا تو ریہا کو اپنی بہن پر شدید افسوس ہوا…
انھوں نے اپنی جوب ریجوائن کر لی ہے رات لیٹ اتی ہیں صبح جلدی چلی جاتی ہیں”اسنے جواب دیا.. تو بہرام کے جبڑے تن گئے..
کہاں ہے اسکا افس” اسنے پوچھا تو ریہا نے اسے ایڈریس سمھجایا..
بس بہت ہو چکی تھی…
بہرام کو عابیر پر شدید غصہ.. ا رہا تھا…
وہ لڑکی حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی صرف.. اپنی ضد اور جنون میں…
بہرام.. انھیں سوچوں میں گھیرہ.. دوبارہ گاڑی کیطرف بڑھا… اور ریہا کے بتائے گئے پتے کی جانب.چلا گیا….
اونچی عمارت کے سامبے گاڑی روک کر.. اسنے اندر قدم رکھا تو اسے سامنے وہ لڑکا نظر ایا… جو اکثر اسے کنفرنس میں بھی اور دوسرہ عابیر کے ساتھ بھی اکثر نظر اتا تھا.. جبکہ واصف بھی اسے پہچان گیا…
بہرام نے اسکی آنکھوں میں شناسائ دیکھ کر… اسکیطرف ہی قدم بڑھائے..
تو واصف کے اطلاع پر اسکا خون کھول گیا…
کب سے چل رہا ہے یہ سب “اسنے دانت بھینچ کر پوچھا..
چار پانچ دن سے….” وہ.. بتا کر افسوس سے اسکیطرف دیکھنے لگا.. جبکہ بہرام پلٹ گیا..
چینل کے اونر… کے بیٹے کے ساتھ ابھی کچھ ہی دنوں سے عابیر کے ماراسم بڑھ رہے تھے..
اور یہ ہی بات واصف نے.. اسکو بتائ اور یہ بھی کہ وہ ابھی بھی.. اسکے ساتھ لنچ پر گئ ہوئ ہے…
بہرام.. کو.. محسوس ہو رہا تھا.. یہ لڑکی جلد ہی اسکے دماغ کو مفلوج کر دے گی.. وہاں حویلی میں جہاں اسکی.. شادی کی تیاریاں ہو رہیں تھیں.. کل اسکا نکاح تھا…
ارمیش کے ساتھ اور وہ صرف ایک اس کے تحت کے شاید کچھ.. تو عابیر کا دل اسکی جانب سے نرم ہوا ہو.. اسکیطرف لپکا تھا.. جبکہ.. وہاں تو.. اور بھی برے حالات ہو چکے تھے.. وہ ریسٹورنٹ میں ایا.. تو سامنے ٹیبل پر ہی وہ کسی لڑکے کے ساتھ مسکراتی.. ہنستی نظر ائ…
اسکے ماتھے پر بلوں میں شدید اضافہ ہوا…
لاکھ چااہت.. کے باوھود کبھی وہ اسکے پاس ہنسی تک نہیں اور یہاں.. وہ کتنی خوش لگ رہء تھی.. اسکے اندر کا عاشق جیسے دم توڑ رہا تھا… وہ لڑکا. اسے کچھ دیکھا رہا تھا شاید.. تبھی.. وہ.. اشارہ کرتی اور بھی ہنسنے لگی..
بہرام…. نے مٹھیاں بھینچی… اور… بنا لحاظ کے وہ پل میں اس لڑکے پر ایسا.. پڑا.. کہ… وہ.. ریسٹورنٹ میں ابھرنے والی… آوازوں پر بھی توجہ نہ دے سکا.. وہ بری طرح اس لڑکے کو پیٹ رہا تھا. جبکہ عابیر کے.. ہاتھ کے.. مکے اسے اپنی کمر پر محسوس ہوا. اور کسی جلاد کی طرح اسکو دھکا دے گیا…
تم اس قابل تھی ہی نہیں.. “وہ دھاڑا جبکہ پھر اس لڑکے کو پنچ مارا…
پلیز سر… میرے ہوٹل کی ریپوٹیشن خراب ہو رہی ہے.. پلیز” منیجر نے.. بہران کو ققابو کرنا چاہا مگر وہ.. اسے جھٹک گیا…
میرے نکاح میں ہو تم ازاد نہیں کیا میں نے تمھیں جو تم… یوں پھیرو گی سب کے ساتھ”وہ.. عابیر کو جھنجھوڑ کر چیخا…
جبکہ عابیر.. کا دماغ اسقدر گھوما.. کہ. وہ بہرام کے منہ پر وہاں بھرے مجمے میں تھپڑ لگا گئ..
جب میں تمھارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو کیوں.. کتوں کی طرح پیچھے پڑ چکے ہو میرے” وہ.. زور سے چینخی…
سمھجتے کیا ہو اپنے اپ کو… تم جو مرضی کرتے پھیرو.. اچانک اتنے نیک ہو گئے.. کہ..
شیٹ اپ
. شیٹ اپ” عابیر کو لگا کہ اسکا جبڑا اج ٹوٹ جائے گا…
چلو “وہ.. اسکا ہاتھ.. اپنی گرفت میں جکڑتا.. وہاں سے لے کر نکلا جبکہ عابیر.. نے اسسے خود کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کی جو.. ناکام ہی رہی.. بہرام.. اسے ایک بار پھر اسکی مرضی کے بغیر اپنے ساتھ لے جا رہا تھا..
چھوڑو مجھے.. چھڑو بہرام..” عابیر گاڑی میں بیٹھنے کے لیے بلکل تیار نہیں تھی…
جبکہ وہ اسے زبردستی گاڑی میں اسے دھکیل رہا تھا..
اگر تم نے مجھ سے ک ھی محبت بھی کی ہے تو تمھیں اس محبت کی قسم… چھوڑ دو مجھے جینے دو مجھے” اسنے جیسے ایک پیترا پھینکا.. اور بہرام کے ہاتھ کی گرفت اسکے ہاتھ پر چھٹتی چلی گئ….
عابیر… نے اسے پیچھے دھکا دیا.. اور خود گاڑی سے نکلی….
دونوں کے سانس بری طرح پھول رہے تھے…
تم.. میری نفرت.. کے لائق ہو صرف. ” عابءر نے اسکا گریبان جکڑا…
اس حویلی اس قید خانے میں دوبارہ میں کبھی نہیں جاو گی اور تم سے بھی جلد ازاد ہو جاو گی… یاد رکھنا.. تم نے ایک غلط انتخاب کیا تھا… عابیر غریب خاندان کی ضرور تھی مگر عام تام نہیں تھی جس.. کو تم رسوا کر دءتے اور وہ.. تمھارے ساتھ زندگی گزتے. تمھاری اس دو ٹکے کی محبت کی قید میں ماے فٹ…” وہ نفرت سے پھنکاری اور اسے عہاں چھوڑ کر. دوبارہ ہوٹل کیطرف دوڑی جہاں.. اب ایمبولینس بایر ا کھڑی ہوئ تھی..
شہر کی تپتی دھوپ نے.. بہرام کو اچھے سے جھلسا دیا تھا..
اخری کوشش… بھی.. اسکی دم توڑ گئ.. تھی…
اور محبت جو پہلے ہی آہیں بھر رہی تھی.. وہ نہیں جانتا تھا.. وہ مر گئ… یہ… ابھی بھی سسک رہی ہے… وہ.. یوں ہی سامنے ہوٹل کیطرف دیکھتا رہا…
اس لڑکے کو.. سٹریچر پر ڈال کر.. باہر لایا گیا…
تو عابیر اسکے ساتھ تھی.. جبکہ کان پر فون لگا تھا وہ کس سے بات کر رہی تھی اسے پتہ نہیں تھا…
مگر… وہ اس انجان لڑکے کے ساتھ.. تھی..
جبکہ.. وہ تنہا کھڑا تھا…
اسکو ہوش ہی نہیں تھی.. سامنے سے ایمبولینس جا چکی تھی لوگ ایک بار پھر.. اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو گیے تو یہ ہوتی ہے زندگی..
وہ.. بھی پلٹا.. اور گاڑی میں بیٹھ کر.. شاید ان راستوں سے پمیسہ کے لیے دور نکل گیا…
……………… .
تو تم نے قسم کھا لی کہ.. تم حویلی دوبارہ نہیں جاو گے “وہ ایک بار پھر اسکے سر پر سوار تھی جبکہ.. حیدر حور کے رویوں سے.. کافی دکھی تھا.. مگر ٹابت نہیں کرنا چاہتا تھا.. وہ اخبار دیکھ رہا تھا.. جبکہ اسکے تمام دوست اسکا ساتھ چھوڑ چکے تھے کوئ اسے اپنی کمپنی یہ کام میں بھی حصہ دار نہیں بنانا چاہتا.. تھا…
وہ لوگوں کے اسقدر بدل جانے سے.. زیادہ حور کے بدلنے پر بکھرا تھا..
حور ہم مصروف ہیں.. “اسنے کہا.
حیدر صاحب…کنگلے ہیں اپ… یہ ہم ہم.. سیٹھوں پر جچتا ہے…
جو کسی کام کے نہیں ان پر یہ سب نہیں جچتا”
وہ اسکے.. بازو کو.. سختی سے پکر کر طنز کرتی بولی..
حور تمیز سے رہو تم “” حیدر کو غصہ ایا…
تمیز… ہاہا… تمھارے جیسے.. مرد بس.. اپنی گزری ہوئ… دولت.. کی عادتیں نہی بھولتے.
اور تم کس قدر بیوقوف ہو.. کس قدر.
اچھی بھلی دولت جائیداد چھوڑ کر اس.. فلیٹ پر پڑے ہو… “وہ دانت کچکاتی بولی…
حیدر مدھم سا مسکرایا..
مطلب پیسے کی جیت ہے..”
لو… اتنے بڑے ہونے کے بعد بھی تمھیں پتا نہیں لگا… “
وہ پھر سے طنز کرنے لگی…
عقل مندی یہ ہی ہے کہ.. تم.. دوبارہ حویلی جاو.. اور پاوں واو پکڑو سب کے”
اسنے پھر سے مشورہ دیا..
ہم نہیں جائیں گے” اسنے پھر سے کہا اور اٹھنے لگا..
مجھے لگ رہا ہے محتشم سے.. ڈائیورس لے کر میں نے غلط ہی کیا.. کم از کم وہ تمھاری طرح کنگلا نہیں تھا”وہ چیخی..
تم ایک سائیکو لڑکی ہو.. مجھے سمھجہ نہیں ا رہا ہمیں یہ احساس اتنی دیر سے کیوں ہوا… “حیدر پلٹ کر اسے گھورتا ہوا بولا..
اووو تو محبت وحبت سب ختم تمھارے اندر سے ہاں… اب میں سائیکو ہو گئوہ غصے سے اٹھی..
ہم تم سے بات نہیں کرنا چاہتے “اسنے ناگواریت سے کہا.. تو حور.. نے اسکے گزرتے ہی واس اٹھا کر.. مارا…
میں بتا رہی ہوں.. اگر تم نہ گئے تو میں چلی جاو گی حویلی.. بیٹھے رہو یہیں” اسنے چیخ کر کہا.. جبکہ ھیدر نے اندر سر تھاما تھا… اپنا..
وہ تو کبھی اس قسم کی زہنی اذیت کا عادی نہیں رہا تھا…
ایسا کیوں ہو رہا تھا…
اور پھر کسی کی سسکیاں… اسکے کانوں میں گونجی اسکے دل نے پہلی بار خوف محسوس کیا.. اور وہ جھٹک گیا..
نہیں.. ایسا کچھ نہیں ہے”اسنے دل کی اواز کو دبایا…
……………. …….
وہ حویلی پہنچا.. تو حویلی کو باہر سے دیکھنے لگا…
لائٹوں اور پھولوں سے سجی یہ حویلی بہت.. پیاری لگ رہی تھی.. وہ.. ا ندر ایا. اور پورچ میں گاڑی روکی تو.. سامنے اسے وہ ملازم نظر ایا… جسے اسنے عابیر کے لیے کتنا پیٹا تھا…
اسے لگا یہ اس شخص کی ہی بدعائیں تھی شاید..
وہ ملازم اسکو دیکھ کر وہاں سے ایکدم غائب ہو گیا.. جبکہ بہرام اندر ا گیا..
اسکا دل و دماغ سن ہو چکا تھا…
وہ اپنے کمرے کیطرف جانے لگا کہ.. داجی نے روک لیا..
خان. بات سنو یار… یہ دیکھو.. ہم چاہتے ہیں ارمیش کا لہنگا تم خود پسند کرو… اس لڑکے کو دیکھو ہمرای چھوٹ کا کتنا فائدہ اٹھا رہا ہے…انوشے خانم کے لیے کیسے چیزیں پسبد کر رہا ہے”وہ خوشگواریت سے طولے تو معاویہ ہنسنے لگا..
اور یقین مانو خان احمر سائیں تو کسی نوخیز دولہن کی طرح شرما رہے ہیں جبکہ انکی بیگم محترم نے حویلی سر پر اٹھائ ہوئ ہے…
کہ وہ ہر چیز اپنی پسند کی لے گی… “
داجی نے اپنی نام نہاد پابندیاں ہٹا دیں تھیں جبکہ جلد ہی شادی کے بعد زنان خانے کی جالیاں بھی ہٹا دی جاتیں…
داجی نے جب یہ کہا تو زنان خانے کی خواتین نے انکار کر دیا کہ وہ یہ نہیں چاہتی اور داجی اس بات سے کافی خوش تھے ..
بہرام نے دونوں کیطرف دیکھا…
اور.. اس کاپی کیطرف دیکھا جس میں کافی سارے ڈیزائنر لہنگے تھے…
ارمیش خانم سے پسند کروایں”اسنے.. کہا.. تو داجی.. اور معاویہ دونوں اسکی طرف دیکھنے لگے…
ٹھیک یے برو تیری شیروانی پسند کرائیں گے اس سے” معاویہ نے ماحول کی کثافت کم کرنا چاہی..
بہرام کچھ نہیں بولا…
ٹھیک ہے “داجی نے کہا.. اور اسکے پاس سے ہٹ گئے…
جبکہ… بہرام اندر اپنے روم کیطرف چلا گیا..
اسک ادل کیا.. دھاڑے مار مار کے رو دے مگر رونے سے خود کو بعض ہی رکھا.. وہ کمزور نہیں تھا..
اسنے چند لمہے سوچا اور.. بوتل نکال کر اپنا شغل جارہ کر دیا…
جبکہ کمرے میں بیت تیز اواز میں میوزک چل رہا تھا…
اسے گھبراہٹ ہوئ تو بلکونی میں ا گیا…
میوزک کی اوزا.. حالانکہ اسکے سر میں بج رہی تھی مگر وہ اندر کے شور سے بچنا چاہتا تھا…
تبھی اسنے.. اواز کم نہیں کی کچھ دیر اسمان کی جانب دیکھتا رہا…
اور… پھر اسکی نظر حویلی کے پیچھے بنے باغ پر گئ.. جس کا بس تھوڑا سا حصہ ہی نظر اتا.. تھا…. وہاں سفید چادر میں کھڑی.. لڑکی کو وہ پہچان چکا تھا.. اسے شکل تو نظر نہیں ا رہی تھی مگر وہ جس طرح اسمان کو دیکھ رہی تھی اسے معلوم ہو گیا وہ ارمیش ہی ہے..
ارمیش…. بہرام. “اسنے لبوں سے دنوں کا نام لیا…
دماغ جیسے.. پاگل ہونے کے قریب تھا..
وہ ا0نی برداشت پر حیران تھا..
وہ بلکونی سے ہٹ گیا…
کمرے میر ایا تو ساری لائٹس بھجا کر. اسنے بوتل لبوں سے لاگائ.. اور صوفے پر اڑھا تیچھا لیٹ گیا….
……………
سرخ لباس پہن کر وہ واشروم سے باہر ائ تو وہاں بیٹھی دو اور دلہنیں بھی اسکے روپ سے جیسے.. حیران رہ گئیں…
جب وہ پہلے دلہن بنی تھی تو خوف زدہ تھی.. اور اسکے ارمان.. اس خوف.. نے ایسے جکڑے تھے. کہ وہ ساری رات.. بس پیٹتی رہی…
اور اج دلہن بنی تو.. اسے.. لگ رہا تھا. وہ سوچنے سمھجنے کی صلاحیت نہیں رکھتی..
ہزار بار سب نے اس سے پوچھا کہ داجی نے اسے ایسا کیا کہا ہے…
مگر وہ کیس کو بھی نہیں بتانا چاہتی تجی اور نہ ہی بتایا..
ارمیش بہت خوبصورت لگ رہی ہو…
جی اپی اپ بہت پیاری لگ رہیں ہیں..
اپ تو. ابھی سے بہت پیاری لگ رہی ہیں ایسا لگ رہا کہ میکپ کی ضرورت ہی نہیں…
بہت ساری باتیں اسے اپنے کانوں میں سسنائ دے رہیں تھیں….
وہ ائینے کے سامنے بیٹھ گئ…
ایک بار پھر قسمت.. اسے.. ایک.. ادھورے شخص سے جوڑ رہی تھی اور اسے یقین تھا وہ حیدر سے زیادہ.. شدت پسند انسان ہے..
وہ خود کو… کوسوں. اور.. مار پیٹ کے لیے زہنی طور پر تیار کر رہی تھی
. مگر.. دل ہمیشہ سے جیسے.. اس مار پیٹ سے در جاتا تھا…
مگر چہرہ بغیر تاثر رکھے.. وہ… چپ چاپ رہی.. انوشے اور نین.. دنوں ہی.. اس سے باتیں کر رہیں تھیں جبکہ وہ کوئ جواب نہیں دے رہی تھی.. کیا یہ اپکے لیے مشکل نہیں ہوتا.. کہ اپ یہ تصور کریں اپ دوسری بار دولہن بنے گے وہ بھی کسی اور شخص کے لیے….
وہ بس اسی تکلیف کا شکار تھی مگر ایسا نہیں تھا.. اسے حیدر کا خیال بھی ایا.. تھا.. اس شخص سے جتنی نفرت کرتی کم کرتی….
وہ اور اسکی بیوی اسکے بچے کے قاتل تھے….
چند گھنٹوں میں وہ تینوں تیار ہو گئیں ج کہ تینوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھیں مگر ارمیش.. پر جو روپ تھا.. اسکی کوی جوڑ نہیں تھی…
انوشے تو کافی ڈری ہوئ تھی.. نا جانے معاویہ.. کیسا ہوا…
جبکہ نین… کا تو میٹر گھوم رہا تھا.. ہان پہلے وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی.. مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ.. اسے.. اچھا لگنے لگا تھا…. اور جہاں معاویہ. انوشے کے لیے سب خرید رہا تھا.. وہاں وہ پتہ نہیں کہاں تھا…
چھپ کر بیٹھا تھا ساری شاپینگ اسے خود کرنی پڑی تھی اور.. ہمیشہ کیطرح اسے اسپر کافی سے زیادہ غصہ تھا…
جبکہ ارمیش.. کچھ نہیں سوچ رہی تھی چارو ططرف صرف سناٹا تھا..
اور انے والے وقت کا خوف….
ارمیش تم ہم دونوں سے زیادہ پیاری لگ رہی ہو”نین نے جان بوجھ کر اسکو چھیڑہ.. اسنے.. کچھ نہیں کہا. تو انوشے.. کو ہنسی ائ..
تمگارے اندر کبھی شکر نہیں اتا اب جو تمھاری شکل یے ویسی ہی دیکھو گی نہ تم… “
اسنے کہا. تو نین نے منہ بنایا..
اگر اس.. بے بی ڈول احمر نے میرء تعارف نہ کی تو “وہ سوچ میں پڑی جبکہ انوشے کو خوب ہنسی ائ..
اف کیسا نام رکھا ہے تم نے احمر بھائ کا.. “
اب وہ ایسا ہی ہے.. میں کیا کرو” نین نے.. شانے اچکائے.. اور دونوں ہی ہنس پڑی…
ارمیش کی سنجیدگی دیکھ کر.. وہ دونوں ایکدم خاموش ہوئ تھیں..
ارمیش” نین نے اسکا شانا تھامہ..
نین میں کوئ بات نہیں کرنا چاہتی..” اسنے کہا.. ابھی وہ کچھ کہتی ہی کہ.. بی جان سمیت سب خواتین اندر ا گئیں…
اور ایک اور بار پھر وہ سب سے اپنی تعریفیں سننے لگی..
بی جان یہ کوئ بات نہیں تھی”نین نے آنکھیں گھمائ..
ارے میرا خانم اج تو.. بڑی ہی پیاری لگ رہی ہے بس اپنی چونچ بند رکھنا “بی جان کی بات پر جہاں اسنے منہ بنایا وہاں سب ہنس دیے سوائے ارمیش کے..
………………
اہ شیٹ.. اج اسکی شادی ہے… “معاویہ نے بلاخر منیب کے ساتھ مل کر اسکا کمرہ کھول ہی لیا.. کمرے میں شراب کی خوشبو سے اسکو ابکائ ائ…
اور… اسنے بلکنی.. کھول دی وہ صوفے پر الٹا پڑا تھا..
اوو بھائ تیری شادی تھی اج..” معاویہ نے اسکو.. جھنجھوڑا.. جبکہ منیب جلدی جلدی کمرہ صاف کر رہا تھا
باہر مہمان بھر رہے ہیں …
اور یہ نواب نیندیں پوری کر رہا ہے” معاویہ کو غصی ایا.. تبھی اسکو ایک کک لگائ تو بہرام صوفے سے نیچے گیرہ.. اور ہڑبڑا کر اٹھا…
کیا منحوست ہے “وہ دھاڑا…
سالے منحوس تیری شادی تھی اج.. “اسنے کہااور ہاتھ کی مدد سے اسے اٹھایا…
بہرام نے ہاتھ جھٹکا..
لنگڑا نہیں ہوں” اسنے ناگواریت سے کہا..
تو دولہے میاں.. جا کر لباس بھی بدل لیں” معاویہ نے اسے شیروانی دی..
یہ نہیں پہنی مجھے “اسنے.. انہار کیا. اور اپنی الماری کیطرف بڑھا اسکو سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا…
تبھی قدم بھی لڑکھڑا رہے تھے.. اپنی وارڈروپ سے.. کالا لباس نکال کر وہ. واشروم میں بند ہو گیا. اور یوں ہی کپڑوں سمیت شاور ک6 نیچے جا کھڑا ہوا..
اپنے اندر کی اگ کو بجھاتا تبھی وہ.. کچھ سوچنے سمھجنے قابل ہوتا.. ورنہ… اسے خود بھی اپنی حرکتوں کا نادازا نہیں تھا…
معاویہ نے شیرونی کو اور پھر اسکے سیاہ جوڑے کو دیکھا.. تو عابیر کا خو. جرنے کا دل کیا..
ایک ہنستے کھیلتے انسان کو ختم کر دیا تم نے “اسنے سوچا…
اور باہر نکل گیا.. جبکہ منیب.. کو اردر دے چکا تھا.. کہ اسکے باہر جاتے ہی کمرے کو.. سجا دیا جائے..
…………..
نکاح نامے پر دستک کرتے دو دل تھے.. جن کی کوئ دھڑکن نہیں تھی جبکہ… چار دل تھے جو بڑی مسرور لہر پر دھڑکے تھے…
دعوت ایسی تھی کہ…. لوگوں کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں تھیں.. داجی کے قہقے.. یاور خان عظیم خان.. جواد خان… سمیت باقی سب بھی اسطرح خوش تھے جیسے کوئ جنگ جیت لی گئ ہو..
معاویہ احمر اور بہرام.. الگ الگ صوفوں پر بیٹجے تھے.. معاویہ اور احمر.. بھی بات بات پر ہنس رہے تھے جبکہ بہرام اج سے پہلے اتنا سنجیدہ کبھی دیکھائ نہیں دیا..
خوشی ہوئ بیٹا.. اپلی شادی پر”
صفدر صاحب.. نے کہا. تو اسنے انکے بڑھے ہاتھ کو تھام لیا..
ہونی تو نہیں چاہیے تھی جبکہ اپ اپنی بیٹی.. کی شادی بھی مجھ سے کرانا چاہتے تھے”
تڑاخ دے کر انکے منہ ہر بات مار کر وہ پھر سے سنجیدہ ہو کر بیٹھ گیا جبکہ صفدر صاحب بل کہا کر رہ گئے…
معاویہ نے بمشکل اپنا قہقہ دبایا تھا.. جبکہ احمر اپنی جگہ سے اٹھ کر صفدر صاحب کو پروٹوکول دینے لگا…
سالے… اس بلاوجہ کے پنگے کی وجہ” معاویہ نے.. پوچھا تو.. بہرام نے اسکیطرف دیکھا..
میں پوچھو بلواجہ ہنسنے کی وجہ..” اسنے سنجیدگی سے پوچھا..
بھئ میں اپنی شادی سے بے حد خوش ہوں جتنا ہنسو اتنا کم”اسنے بڑے فخر سے کہا تو.. بہرام نے روخ موڑ… لیا…
میں جا رہا ہوں… داجی کو بتا دینا” اسنے اٹھتے ہوئے کہا..
بہرام مگر” معاویہ نے روکنا چاہا تو وہ.. ہاتھ ہلاتا وہاں سے نکل گیا… جبکہ معاویہ نے منہ بھر کر گالی دی تھی اسے.. اسنے داجی کو جا کر بتایا… تو داجی نے سر ہلا دیا.. اب تو وہ.. ہو گیا تھا جو وہ چاہتے تھے…
……………..
جلد ہی سب دلہنوں کو انکے کمروں میں بیٹھایا گیا تو.. اب کہ دل کی دھڑکنوں کی گونج.. اتنی شدید تھی کہ وہ چارو سہم ہی گئے کہیں کوئ اور نہ سن لے…
معاویہ کے دانت تو اج جیسے.. باہر کا پتہ لے کر ائے تھےا ندر جانے کا نام نہیں لے تہے تھے..
اج وہ اسکے کمرے میں تھی وہ.. جو بہت کم عرصے میں اسکے دل میں سما گئ تھی…
اپنے کمرے میں اسکی موجودگی پر وہ.. مسرور سا تھا…
جبکہ اج معاویی جے اور بہرام کے بھی دستوں نے اسے جکڑ لیا تھا.. اسنے بیرام کو رج رج کر گالیاں دءں ہاں شاید وہ اچھے وقت پر بچ کر نکل گیا تھا.. جبکہ وہ… پھنس کر رہ گیا تھا..
یار داجی بچاو مجھے… سردار ہوں اب میں اور میری کوئ عزت نہیں ہے”معاویہ کی دھوائ پر.. قہقہوں کی گونھ دیکھنے والی.. تھی..
لڑکوں اس بے تاب کو چھوڑنا مت” داجی نے کہا تو اسکا تو منہ کھل گیا…
اسنے… باپ کی طرف دیکھا تو انھوں نے ہی کچھ مدد کی تو وہ اڑتا ہوا اب اپنے کمرے کیطرف ایا.. ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر.. اسنے. اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی.. اخر تنگ کیے بغیر سکون کہاں ملنا تھا.. سنجیدگی سے.. وہ اندر داخل ہوا.. تو انشے.. سامنے دولہناپے کے روپ میں اسکے کمرے کو چار چند لگا رہی تھی..
دل میں ماشاءاللہ کہہ کر.. وہ.. اپنی محویت.. پر خود کو ٹوکتا… اگے بڑھا.. اور.. اسکی جانب دیکھنے لگا.. وہ حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی..
لڑکی شرم ورم بھلا دی ہے تم نے”وہ سخت لہجے میں بولا.. تو انوشے نے.. اپنی.. قاتل. نگاہوں سے اسکیطرف دیکھا.. معاویہ کے فل نے ایک بیٹ مس کی..
سلام کون کرے گا.. تمھارے شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ. ہم کالام. کے سرادر بھی ہیں.. اور.. اس بد تمیزی پر کافی سخت سزا دے سکتے ہیں تمھیں” وہ… اسکے سرخ دوپٹے کی جانب دیکھتے ہوئے بول جو پینوں میں جکڑا ہوا تھا….
انوشے کے ہاتھ بری طرح کانپنے لگے…
وہ میں.. اسلام و علیکم..”
اسنے اٹکتے ہوئے کہا.. تو معاویہ نے.. ہلکا سا جھک کر.. اسکے گال پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری…
وسلام… زندگی… “
انوشے کی کپکپاہٹ.. اسکے وجود کو مسرور کر گئ.. وہ اسکے سامنے بیٹھ.. کر اسکی مخروطی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے گیا…
کچھ بولو گی نہیں “اسکی خاموشی کو محسوس کر کے اسنے کہا تو انوشے جو شرم سے دھوری ہو رہی تھی کچھ بھی بول نہ سکی…
معاویہ نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا..
اسکا دل بری طرح بہکنے لگا..
میری زندگی میں تمھارے انے کے بعد کوئ نہیں” اسنے.. اسکے چہرے کے قریب ہوتے ہوئے بتایا…
انوشے.. کی جھکی پلکیں بند ہو گئیں…
جبکہ معاویہ نے اسکی نتھ کو.. پیار کیا…
انوشے کا چہرہ سرخ ہو گیا…
اور وہ عابیر والا معملہ…”
اپ اس بارے میں مجھے صفائ مت دیں مجھے اپ پر یقین ہے”اسنے اسے بیچ میں ہی ٹوک کر.. مدھم اواز میں کہا تو وہ مسکرا دیا…
اسکا ہاتھ تھام لیا….
جبکہ دونوں ہنائ ہتھیلیوں کو کھول کر اسپر پیار کیا..
انوشے… شرما سی گئ…
معاویہ.. کھڑا ہوا اور گھوم کر اسکے.. برابر… لیٹ گیا… اور فرست سے اسکو دیکھنے لگا.. جبکہ وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی اور کافی کنفیوز بھی تھی…
اب “اسنے اسکے بازو کو کھینچ کر.. اپنے قریب کیا…
انوشے کسی موم کی گڑیا کی مانند لگ رہی تھی…
اہو ایک منٹ… یہ معاویہ کی نائٹ ہے.. یہ شرمانا مسکرانا نہیں چلے گا” وہ ایکدم اٹھتا بے باکی سے بولا… انوشے.. تو پریشان ہی ہو گئ…
اممم کچھ میوزک اور ڈینس ہونا چاہیے” اسنے سوچتے ہوئے کہا…
معاویہ اپ یہ کیا کہہ رہے ہیں “انوشے روہانسی ہی ہو گئ… اسے تو.. بلکل اندازا نہیں تھا وہ کیا کر رہا تھا…
لو اس میں کیا بڑی بات ہے دیکھو انوشے مجھے.. ڈانس پارٹیز منی سیکرٹس..
معاویہ”انوشے.. چیخے کے وہ دل کھول کر ہنسا.. اور اسکو بانہوں میں جکڑ.. لیا…
اسکے نرم لمس پر انوشے اسکے ساتھ سراھ بہک رہی تھی جبکہ معاویہ.. انوشے پر اپنی محبت کی بارشیں برسا رہا تھا…
کمرے میں محبت بھری خاموشی.. ان دونوں کے ملن کی نشانی تھی…. ….
……………
وہ کمرے میں ایا… تو.. نین آئینے کے سامنے کھڑی تھی..
اہ احمر… تیرا کیا ہو گا یار”
احمر نے کہا اور دروازہ بند کیا..
نہ شرمانا نہ مسکرانا… ” اسنے سوچا… اور.. اگے بڑھ کر.. اسکے سامنے ایا جو شیشے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی…
اسلام و علیکم “اسنے خود ہی کہا اس سے امید بھی نہیں تھی..
بات مت کرو مجھ سے اگر میں تم سے شادی کر کے تم پر احسان کر ہی رہی تھی تو تم.. اپنے.. حجرے سے باہر نکل کر میری خواہشیں پوری نہیں کر سکتے تھے” وہ اسکو دھکا دیتی بولی…
نین اپ جانتی ہیں.. میں “احمر نے صفائ دینا چاہیے..
ہاں میں جانتی ہوں.. سب تم چوہے ہو”وہ غصے سے بولی..
احمر نے منہ بنایا…
اب اسی بھی بات نہیں.. میں معاویہ کیطرح نہیں ہوں شاید” اسنے کہا.. تو… نین نے کمر پر ہاتھ رکھا.. سرخ لہنگے میں وہ باکمال لگ رہی تھی…
میں میں… مجھ سے بات مت کرو جا رہی ہوں میں “وہ بے بس ہوتی باہر نکلنے لگی کہ احمر نے ایکدم اسکا ہاتھ پکڑا…
اج اپ کہیں نہیں بھاگ سکتیں..
دوسروں کے سامنے نہ سہی.. اس چار دیوری میں. میں ضرور اپکی زبان کو بریکیں لگا سکتا ہوں” وہ مسکرا کر اسکے ہاتھ کو جھٹکا دیتا.. اپنے نزدیک کر گیا کہ.. نین کی پشت اسکے سینے سے لگی.. دونوں کے دل دھڑک اٹھے..
نین اپ مجھ سے نفرت کرتی ہیں” احمر نے گزشتہ باتوں کو یاد کرتے ادکے کان کے اویزے کو چھوتے ہوئے پوچھا.. نین تو اس لمس پر..
ذہنی طور پر بلکل جیسے مفلوج ہو گئ تھی.. کچھ بولا ہی نہیں گیا..
بتائ مجھے میں اپکی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرو گا”
ن… نہیں” اسکے لب پھڑپھڑائے…
احمر.. کے دل جیسے پہلی بار بے حد خوش ہوا…
میں اپکو کبھی.. دوسروں پر نہیں چھوڑو گا… اپنے بازو پر کمایا اپکو کھلاو گا “اسنے.. اسکارخ اپنی جانب کیا…
نین کے اندر کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئ…
مگر یہاں بولنا ضروری تھا…
اگر مجھے یہ پتا نہ ہوتا تو تم سے کبھی شادی نہ کرتی” اسنے.. کہا تو.. احمر مسکرایا…
میری زندگی.. میں انے کا شکریا.. “اسنے اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر.. اسکے گال پر لب رکھے.. نین کی آنکھیں پوری کھل گئیں..
ہیلو میری منہ دیکھائ”اسے اچانک یاد ایا..
صبح لینا” احمر نے اسکا دوپٹہ اتارا..
مگر”اسنے احتجاج کرنا چاہا.. مگر احمر نے.. اسکے.. لبوں پر قفل لگا دیا..
نین جیسے پل میں اسکے وش میں ائ تھی.. جبکہ احمرا ج اسپر اپنی محبت کی تمام حدیں ثابت کر دینا چاہتاتھا……
…………………..
جاری ہے