Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
Episode 1❤️🎊🎊🎊🎊
دستار حیدر خانم کے سر پر سجے گی…..
سمھجا دو.. اسے.. ورنہ ہم سے برا کوئ نہیں ہو گا “وہ تنفر سے کہتے…. کھڑے ہوئے.. وہاں سب خاموشی سے بیٹھے تھے…..
جبکہ ان سب میں حیدر موجود نہیں تھا….
مراد شاہ لٹھے کے سفید کڑ کڑاتے سوٹ میں اپنی مغرور شخصیت سے بے نیاز ابھی اپنے کمرے کیطرف بڑھتے… کہ باہر سے اندر مردان خانے کیطرف آتا…
بہرام انکی آنکھوں کا نور چشم نظر… اپنے گالوں کے ڈیمپل کی نمائش کرتا.. اندر داخل ہوا.. وہ جانتے تھے وہ کہاں سے آیا ہے… اور ابھی کچھ دیر میں کہاں جاے گا اور… رات اسکی کہاں گزرے گی….
آو او…. خان…. بولو کام ہو گیا”وہ انکے سینے میں سمایا…. یہ لاڈ بھی صرف بہرام خان کے وہ اٹھاتے تھے.. جبکہ آج تک انھوں نے اپنے بیٹوں کو بھی سینے سے نہیں لگایا تھا….
وادی کالام کے سردار تھے آخر کو.. ضدی خود پسند…. 5 بیٹوں اور.. انکے بچوں سے بھی جس شخص کی نہ بنی…. وہ اپنے سب سے چھوٹے.. پوتے… کے دیوانے تھے.. ایک تو یہ.. پوری وادی کالام میں اسکے جیسا… حسین خوبصورت بہادر…. نیڈر… مرد کوئ نہیں تھا…..
انکے بقول… ایک خانزادے کو صرف بہرام خانم جیسا ہونا چاہیے.. ورنہ وہ خانزادہ ہی نہیں اسکی عادات….. اسکا نخرہ اسکی بدتمیزی.. کیا نہیں تھا.. جس پر مراد شاہ فدا تھے…
اور اگر اسکے برعکس دیکھا جائے…
جتنی محبت وہ بہرام خان سے کرتے تھے.. اتنی.. ہی چیڑ… اور ٹاکرہ انکا حیدر خان.. جو انکا سب سے بڑا پوتا تھا … اور دستار جس کے سر سجائ جانی تھی… …
جتنی وہ حیدر خان سے چیڑ کھاتے تھے.. ان سے کئ گناہ زیادہ حیدر ان سے نفرت کرتا تھا..
بوجہ انکی… روایات…
جس کا پاس سب کرتے تھے سواے حیدر کے…
ایک بار… صرف وہ اپنی مورے کے ہاتھوں مجبور ہوا تھا.. اور اس مجبوری کا ساتھ نبھاتے آج اسے دو سال ہو چکے تھے.. اور اگر کوئ یہ کہتا کہ حیدر.. خان نے.. اس مظلوم.. جان پر ان دو سالوں میں بے پناہ ستم توڑے ہیں تو یہ کہنا غلط نہیں تھا…..
بہروم کو سینے سے لگا.. کر انکا.. دل… جیسے…. ٹھنڈا ہو گیا….
سینا فخر سے چوڑا ہو گیا….
کام ہو گیا.. داجی… بس…. کل سارے ثبوت آپکے پاس.. وہ سالہ خود لے کر آئے گا “وہ معمولی سے انداز میں بولا.. سب خاموشی سے.. دادا پوتے کے لاڈ دیکھ رہے تھے…
یہ تو حقیقت تھی جو.. بھی مراد خان کے…. ناجائز کاموں کے درمیان آیا.. یہ تو انھوں نے اسے خرید لیا..
یہ پھر مروا دیا….
اور یہ بے نیازی تو سرداروں کی شان تھی….
جیتے رہو… ہمارے خان نے کو کوئ دقت تو نہیں ہوئ نہ… “وہ
. بولے تو.. لہجے میں اسکے لیے بے پناہ فکر محبت چاہت تھی…
بلکل نہیں داجی… بھلہ مجھے کیا دقت ہونی ہے… ہمیشہ دشمن کی دکھتی رگ.. پکڑتا ہوں میں یعنی بیٹی…” وہ قہقہ.. لگا کر ہنسا.. جبکہ انکا بھی قہقہ.. اٹھا…
دستار کا اصل حقدار… تو.. میرا لاڈالا ہے… بس دستور کا پاس نہ ہوتا.. تو اس ننجہار کو… کبھی منہ نہ لگاتے ” وہ منہ بگاڑ کر بولے…. اور بہرام… ہنس دیا…
داجی یہ.. دستار گدی… ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑنا ابھی مجھے… ” وہ بولا.. وہ دونوں سب سے اس طرح غافل تھے جیسے وہاں اور کوئی موجود ہی نہیں….
ہاں ہاں ابھی تو تمھارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں.. “وہ.. پیار سے بولے.. اور مسکراے..
مگر خانم…. ہماری ایک خواہش تو تمھیں ابھی پوری کرنی ہے.. “اسکے.. خوبصورت صبیح چہرے پر گہیر آنے والے بالوں کو.. انھوں نے اپنے ہاتھ کی مدد سے پیچھے کیا…
داجی کا حکم سر آنکھوں پر… مگر.. میری بات کی اہمیت پوری پوری ہو گی” وہ انگلی اٹھا کر جیسے انھیں وارن کر رہا تھا.. اور یہ ہی بات تو.. انکا دل جیت لیتی تھی…
لحاظ وہ انکا بھی نہیں کرتا تھا….
ہمارے خان.. پر داجی قربان….” وہ اسکی پیشانی چومتے.. اردگرد دیکھنے لگے..
سب خاموشی سے.. یہ ملن دیکھ چکے تھے…
میڈیا…. اور پریس کو بھی بلاو… یاور خانم… ہمارے.. خان…. سیاست میں اییں گے….” انھوں نے اسکا شانہ تھپتھپا یا…
اسے کوئی غرض نہیں تھی سیاست میں آنا نہ آنا… اسے ان چیزوں سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا.. اگر داجی ایسا چاہتے تھے.. تو.. وہ سیاست میں آ جاتا…
اسنے شانے اچکائے….
میں فریش ہوں گا..” اسنے انکی طرف دیکھا..
ہاں ہاں کیوں نہیں… جاو.. کسی خاص چیز کی طلب تو نہیں” وہ معنی خیزی سے بولے.. تو… وہ.. بے اختیار ہنس دیا….
بہرام خان اپنے انتظام کر لیتا ہے خود ہی… “اسنے… کہا… اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا.. جبکہ وہ پیچھے… اب اسکے قصیدے.. کر رہے تھے.. کہ وہ کتنا نیڈر ہے.. اور آج تک کیا کیا کر چکا ہے.. جو سب پہلے سے ہی جانتے تھے…
………………….
حیدر… خان.. مردان خانے.. میں داخل ہوا تو چارو اطراف میں سناٹا تھا.. اور شکر ہی تھا کم از کم.. اسے کسی کی شکل تو نہیں دیکھنی پڑے گی….
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا… سیاہ لباس میں اس وقت اس سیاہ رات کا ہی حصہ لگ رہا تھا….
مزاج ہمیشہ کیطرح بگڑا ہوا تھا.. چہرے پر خرکتی تو.. اب جیسے ہر وقت رہنے لگی.. تھی.. پر کشش خوبصورت نقوش…. کھڑے تھے…
مغرور نقوشوں میں جیسے اپنے لیے بھی رعایت نہیں تھی….
وہ اپنے کمرے… کی جانب آیا…
اور.. دروازہ کھولنا چاہا…
مگر.. اسکا ہاتھ وہیں رک گیا جب دروازے کا اندر سے تالا پایا…
وہ جانتا تھا اندر کون ہو سکتا ہے….
اسکے جبڑے تنے…..
دماغ میں غصے کا گراف… نہ جانے کہاں پہنچا….
اسنے… نفرت سے ایک نظر.. جیسے… اس دروازے پر ڈالی.. گویا اسنے ارمیش خان کو گھورا ہو… اس سے نفرت.. وہ ہر پل ہر سانس کے ساتھ کر سکتا.. تھا…
دروازہ کھٹکھٹانا اسکی غیرت کو غوارہ نہیں تھا.. بھلہ حیدر.. خان… وادی کالام کا ہونے والا نیا سردار اپنے کمرے میں دروازہ بجا کر داخل ہو…
اس سے پہلے وہ وہاں سے پلٹتا…
ٹک کی آواز سے دروازہ کھلا … کسی کا کانپتا.. وجود.. اندھیرے میں اسے کھڑا پا کر… مزید کانپ اٹھا… حالت ایسی بری ہو گئ.. کہ… اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا.. اب تک کا مشکل ترین کام لگا….
م…. معافی چاہتی… ہوں… س… سائیں… “وہ رو دینے کو تھی.. معافی بروقت مانگ لی کہ شاید وہ معاف ہی کر دے…
وہ اندر آ گیا…
اور… بس پھر… ارمیش کی عین تواقع کے مطابق.. اسکے… دوپٹے میں چھپے بالوں کو جھپٹ کر ایسے بری طرح جھنجھوڑا… کہ… اسکا سر چکرا کر رہ گیا…
ارمیش خانم.. تمھاری اتنی اوقات کہ…. ہمارے کمرے کا تالا لگاو… “وہ پھنکارہ…
معاف کر دیں سائیں….” وہ.. سسک اٹھی دھان پان سی.. وہ اسکے وجود کے سامنے تو جیسے ننھی سی ڈری سہمی گڑیا معلوم ہوئ جو دو سال سے یہ ستم سہہ رہی تھی…
معافی….. ٓ
دوبارہ کہو زرا.. سن نہ سکے ہم…. “وہ.. اسکو ایک جھٹکے سے اپنے نزدیک کرتا.. پوچھنے لگا…
ارمیش… کا کانپتا وجود… اسکی قربت پر مزید کانپ اٹھا.. وہ جانتی تھی اگر.. وہ کچھ نہ بولی تو وہ اسے مارنا شروع کر دے گا…
اسکے کلون.. اور سگریٹ کے ساتھ ساتھ.. شراب کی مہک.. اسکو… عجیب… حالت سے دوچار کر گئ….
سائیں… آئندہ ایسا نہیں ہو گا…. میں.. مجھے معاف کر دیں… میں قسم کھاتی ہوں با خدا.. آئندہ ایسا نہیں ہو گا…. “وہ سسکتی ہوئ.. اسکے قدموں میں بیٹھ گئ.. اور.. اسکی ٹانگ کو اپنے کانپتے ہاتھوں سے تھام کر گڑگڑانے لگی…
ہمممم” اسنے اپنی ٹانگ جھٹکی… وہ دور ہوئ….
اور وہ.. تنفر سے چلتا.. اپنے بستر.. پر بیٹھا…
اور ارمیش کو دیکھنے لگا….
وہ آنسو پونچتی اٹھی… اور اسکے قدموں میں بیٹھ گئ…
اسکے کانپتے ہاتھ.. اسکا جوتا اتار رہے تھے…..
جبکہ… حیدر… بستر پر پیچھے گیر گیا…
اسنے چونک کر… حیدر کی جانب دیکھا….
نہ جانے اسے کیا ہوا.. تھا.. وہ پریشان ہو اٹھی تھی…
مگر.. اسکو چھونے کی اجازت.. اسکی اجازت کے بغیر نہیں تھی..
وہ جوتا اتار کر.. سائیڈ پر کرتی.. خوف سے لرزتی… اسکے پاس.. بیٹھی.. اور.. ابھی وہ.. اسکے… بازو کو چھوتی… حیدر نے.. اسکا وہی ہاتھ تھام کر موڑ دیا….
کیوں… “وہ… اسکی کلائ توڑ دینے کا رادہ رکھتا تھا….
ارمیش کو بہت تکلیف ہوئ… مگر ہر روز ہوتی تھی….
سائیں… کھا…. کھانا لاو..” وہ بے بسی سے.. اپنی کلائ میں اسکی انگلیاں گڑتی دیکھ رہی… تھی…
صرف تم دفع ہو جاو… “وہ سرد لہجے میں بولا… ارمیش.. کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا…. اور.. دوبارہ آنکھیں بند کر لیں…
وہ کتنا خوبصورت تھا…
کتنا مکمل….. مگر اسکا نہیں تھا…. یہ شاید اس حویلی کا کوئ بھی مرد… اپنی عورت کا نہیں تھا…
وہ اٹھی… اور خاموشی سے باہر نکل آئ..
سیاہ رات میں مردان خانے میں اگر اسے کوئ یوں ہی چلتا ہوا.. دیکھ لیتا.. تو شاید…
اسکا آخری دن ہوتا.. آج دنیا میں….
وہ.. پلو سے خود کو چھپاتی… زنان خانے میں جانے لگی… کہ…. سامنے کافی کا کپ تھامے کھڑے…
احمر خان کو دیکھا… جو نہ جانے کیوں مسکرا رہا.. تھا..
سر پر پلو مزید کھینچ لیا….
اور بغیر بولے… وہاں سے گزرنے لگی…
احمر کی بھی نگاہ اسپر اٹھی تو.. وہ گڑبڑایا..
وہ معافی چاہتا ہوں.. “وہ اس سے پہلے کچھ بولتا.. ارمیش نے.. نفی میں سر ہلایا..
کچھ نہیں ہوتا لالہ” پھوپھو سائیں کا بیٹا احمر.. ہی صرف حویلی کا وہ مرد تھا… جو.. ہر عورت کی عزت کرنا جانتا تھا…
ارمیش کا نم لہجہ دیکھ کر.. احمر نے تاسف سے.. حیدر کے بارے میں سوچا. کتنا ہلکان کر چکا تھا.. وہ ارمیش کو….
وہ بغیر کچھ بولے وہاں سے چلی گئ… جبکہ احمر بھی وہاں سے ہٹا..
حویلی میں پردے کا خاصا احتمام کیا جاتا تھا….
مگر صرف تب.. جب داجی.. یا بی جان… ہال کمروں میں ہوتے… اسکے علاوہ سب اپنی من مرضی کرتے خاص کر بہرام… خان…
ارمیش نے پلٹ کر دیکھا…. احمر وہاں سے جا چکا تھا….
وہ.. ہال کمرے میں صوفے پر سکڑ کر بیٹھ گئ….
اور.. گٹھنوں میں منہ دے کر.. اسے گزشتہ دو سال پہلے کی وہ گھڑی یاد آئ.. جس میں وہ… حیدر خان کے نکاح میں دے دی گئ تھی…
اسنے آنکھیں موند لیں…
داجی.. آپ ہمیں ہماری مرضی کرنے دیں.. “اسکی دھاڑ سنتے ہی سب.. اکھٹے ہو گئے.
مردان خانے.. کی جالیوں پر عورتیں کان لگا چکیں تھیں….
اپنے سرداروں کی لڑکیاں مر گئں ہیں جو.. باہر. سے اٹھا کر لے آئیں بہتر جانتے ہو ہمارے خاندان.. میں غیر ذات کی کوئ عورت نہیں آ سکتی” انکی کڑک آواز میں رتی بھی گنجائش نہیں تھی..
ہمیں نہیں فرق پڑتا ان رسموں رواجوں سے… ہمیں شادی کرنی یے اپنی مرضی اپنی پسند سے” وہ بھی دوبادو ہوا…
یاور خانم سمھجاو. عقل کے ناخن دو اسکو… ورنہ انجام جانتے ہو”انھوں نے اپنے بڑے بیٹے کو گھورا.. اور بہرام… جو.. وہیں آیا تھا اسے اپنے پہلو میں بیٹھا لیا….
میں بھی دیکھتا ہوں.. کون یہاں ہم پر اپنی مرضی تھوپتا ہے “حیدر کو تو پتنگے ہی لگ گئے تھے…
وہ وہاں سے نکلتا.. کہ.. داجی کی آواز گونجی..
ہم مروا دیں گے حیدر خانم ہماری لیے مشکل نہیں…. اس بدزات لڑکی… کے باعث ہمارے منہ کو آ رہے ہو” وہ چلائے
ہاں آ رہا ہوں کیونکہ تھک چکے ہیں ہم ان.. سو کولڈ روایتوں سے… “وہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا… تو… وہ اسکو گھورنے لگے..
حیدر “یاور خان کو ہی احساس ہوا.. اس سے پہلے داجی کوئ بڑا قدم اٹھاتے..
ہوتے کون ہیں یہ ہم پر پابندیاں لگانے والے… “وہ تنک کر چینخا.. سب خواتین نے… حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا…..
کہ آج تک کوئ بھی داجی سے اس انداز میں نہیں بولا تھا…
بس کرو… بابا سائیں کے ساتھ اس انداز میں مخاطب ہونے والے تم بھی کوئ نہیں ہو….” انھوں نے ڈپٹا…
تو مراد خان.. اب.. دونوں باپ بیٹوں کو سہولت سے دیکھنے لگے…
بتا چکے ہیں ہم.. حور سے شادی کریں گے.. اور یہاں اسے لے کر بھی نہیں اے گے… بھول جائیں ہمیں اور چھوڑ دیں ہماری جان” وہ.. بولا.. اور باہر نکلنے لگا….
یاور خانم “دادجی للکارے….
حکم بابا سائیں.. یاور خان کو بھی بیٹے کی ضد اچھی نہ لگی…
اگر.. حیدر خانم اس حویلی کی دہلیز.. اس بدبخت.. لڑکی کے لیے پار کرے.. تو…
سکینہ کو طلاق دے کر اس کے ساتھ روانہ کر دو…. آخر کو.. اس منحوس کو جنم دینے والی ہے….” وہ بولے… لہجے میں چٹانوں کی سختی تھی حیدر کے پاوں.. جیسے زمین نے جکڑے….
وہ ایڑیوں کے بل پلٹا..
داجی مہم سے مسکراے…
وہ اپنی ماں سے.. بہت.. انکے نزدیک ضرورت سے زیادہ… اٹیچ تھا تبھی انھوں نے یہ کارا وار کیا جبکہ.. زانان خانے میں کھڑیں وہ.. سسک اٹھیں اس عمر میں طلاق کا داگ…
حیدر کچھ نہ بولا…. بس.. انھیں گھورتا رہا….
بتاو سائیں.. کیا فیصلہ ہے.. “داجی.. بولے.. بہرام ان سب سے اکتایا ہوا دیکھ رہا تھا….
حیدر.. مارے غصے.. کے اپنی پھولی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا.. کہ نہیف سی آواز ابھری..
حیدر سائیں..” پر نم آواز… اسکی ماں کی ہی تھی.. اسنے زور سے آنکھیں میچ لیں…
ہمارے سفید بالوں کی لاج رکھ لو” وہ بولیں نہیں سسکی تھیں…
حیدر کا بس نہیں چلا.. داجی… کو قتل ہی کر دے.. مگر نہ وہ ایسا کر سکتا تھا..
نہ اپنی محبت سے دستبردار ہو سکتا تھا.. وہ کچھ سوچتا ہوا.. تن فن کرتا.. وہاں سے چلا گیا…
جبکہ پیچھے… داجی.. نے.. زنان خانے سے… دیکھتی سکینہ.. کے سر پر پہلی بار ہاتھ رکھا.. شاید وہ پہلی خاتون تھیں…. جن کے سر پر داجی نے ہاتھ رکھا
تم ہمیں عزیزز ہو. “وہ بس اتنا ہی بولے… تو سکینہ نے سر ہلایا…
اور یوں.. ارمیش نے…. حیدر کے پاوں میں پڑنے والی بیڑیاں دیکھیں… اور وہ خود بھی ہٹ گئ…
……………..
اگلے روز ہی.. وہ حویلی سے.. نکل چکا تھا.. وہ سوچ چکا تھا.. حور سے شادی کر کے.. اسے شہر میں گھر لے کر رکھے گا…
حور.. کے آفس کے باہر گاڑی روک کر.. وہ نکلا.. اور اندر.. دندناتا ہوا.. گیا.. حور کی نوکری اسے بلکل پسند نہیں تھی.. آخر کو سرداروں کا؛. خون تھا.. مگر یہیں اسنے پہلی بار.. اس چنچل لڑکی کو دیکھا تھا جو اسکے دل کو ایسی بھائ. کے اسکے بعد.. کوئ جچا نہیں…
حور اپنے کام میں مگن تھی.. حیدر نے اسکی کلائ پکڑی اور اسے.. کھینچ کر باہر لے آیا..
حیدر یہ کیا حرکت ہے “وہ غصے سے بولی..
اگر میں بھی یہ ہی پوچھوں یہ کیا حرکت ہے کہہ چکا ہوں چھوڑو اس نوکری کو پھر بھی” وہ گاڑی میں اسے پٹختا…. بولا.. تو حور نے.. مزید غصے سے اسے دیکھا..
میں بھی تمھیں کہہ چکیں ہوں. حیدر جس دن میرے گھر تمھارے گھر والے رشتہ لے آئیں گے.. میں یہ نوکری چھوڑ دو گی.
پلیز.. حیدر کچھ کرو… سب میرے رشتے کے پیچھے پڑے ہیں” وہ نم آواز میں بولی.. تو حیدر اسے آہستہ آہستہ تمام حالات بتاتا گیا جسے حور.. ڈبڈبائ آنکھوں سے سنتی گئ..
حیدر کو اسکی آنکھوں میں آنسو بلکل اچھے نہ لگے.. اور داجی سے مزید نفرت بڑھ گئ..
مطلب ہم ایک نہیں ہو سکتے” حور پھینکا سا ہنسی.. دل کرچی کرچی ہوا تھا..
میں نے یہ کب کہا.. ہم نکاح کریں گے اور میں تمھیں…
بلکل نہیں حیدر” اسنے اسکی بات کاٹی…
میں وہ لڑکی نہیں ہوں.. جو چھپ چھپا کر نکاح کر لے.. اور بھلے ہم تمھارے جتنے امیر نہیں مگر حیدر خان.. عزت ہے.. خاندان میں معاشرے میں…. بھاگی ہوئ لڑکی کھلوانا چاہتے ہو مجھے” وہ.. رونے لگی.
حور.. تم جانتی ہو نہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے.. سمھجنے کی کوشش کرو داجی بلکل… ضد پر آڑے ہیں” وہ اسکو سمھجا نے کی کوشش کرنے لگا.. مگر حور نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال لیا…
میں بھی تمھیں پہلے روز ہی بتا چکی ہوں.. حیدر….
میں پوری عزت سے تمھاری زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہوں..”
اسنے.. پھر کہا..
داجی نہیں مانیں گے… “وہ بے بس ہوا..
تو پھر ایک دوسرے کو بھول جانے میں بہتری ہے”وہ ڈبڈبائ نظروں سے بولی.. تو.. حیدر بے چین ہوا..
مجھے جانا ہے” حور باہر نکلنے لگی.. حیدر کا ازلی غصہ عود کر آنے لگا.
کوئ مشکل نہیں ہے تمھارے لیے مجھ سے نکاح کرنا” وہ اسکی کلائ جکڑ کر بولا..
ہاتھ چھوڑو حیدر مجھے تکلیف ہو رہی ہے” حور کے گال پر آنسو پھیسلا…
ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تمھاری اس بے رخی سے” حیدر کی آنکھیں التجا کر رہی تھیں…
میں انتظار کروں گی.. تمھارا..” حور.. سسک کر.. گاڑی سے نکلی…
تو حیدر.. ہاتھ مار کر رہ گیا.. …
…………….
وہ کون سا انداز نہیں تھا جس سے حیدر خان نے داجی کو یا یاور خان.. کو منانے کی کوشش نہ کی تھی.. مگر وہ.. ایک بات.. غیر برادری کی لڑکی.. کی رٹ لگائے ہوے تھے…
حیدر.. ان کچھ دنوں میں بلکل کملا کر رہ گیا تھا.. اور حویلی کا کون سا شخص نہیں تھا جو اسکی حالت سے واقف نہ ہو…
داجی اپنی ضد پر آڑے تھے.. اور حیدر اپنی.. اور اسی طرح… جہاں وہ… حور سے روز ملتا تھا.. اب.. پانچ ماہ گزر چکے تھے.. وہ حور کے پاس نہ گیا.. مقصد داجی کو ماننے کا تھا….
پھر ایک روز داجی نے.. اسکی شادی کا شوشہ چھوڑ دیا…
اور وہ بھی ارمیش سے.. وہ حیدر.. سے.. پانچ سال چھوٹی تھی…
اور یاور خان سے چھوٹے بھائ.. جواد خان کی اکلوتی بیٹی تھی….
حیدر تو.. اس افتاد پر ہتھے سے اکھڑا… مگر داجی نے.. اسکی ماں کو موہراہ بنا کر….
اسکو ایسے شکنجے میں جکڑا کہ وہ پھڑپھڑا بھی نہ سکا…
اور زبردستی کی بنیاد پر… ارمیش خان کو حیدر خان کے نکاح میں دے دیا گیا….کسی نے بھی ارمیش سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے.. بس اسے حکم ہوا.. اور اسپر حکم ماننا فرض تھا
حیدر نکاح ہوتے ہی.. حویلی سے غائب ہو گیا.. یہ نکاح جلد بازی میں کیا گیا.. اور داجی نے.. صرف ولیمے کا علان کیا….
حیدر.. حویلی سے سیدھا… حور کے پاس پہنچا….
مگر.. جو خبر.. اسکو وہاں جا کر ملی.. وہ اسکے قدموں تلے زمین کھینچ گئ تھی..
حور کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہو چکی تھی….
اور وہ دن تھا.. حیدر خان سرے سے بدل گیا…..
ارمیش کے ساتھ ہوئ زیادتیوں کو وہ سوچ میں بھی تصور نہیں کرنا چاہتی تھی….
اور.. پھر اسنے ایک اور رات… وہاں حویلی کے ہال میں گزار دی…
…………..
جاری ہے
