Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

وہ کمرے میں ایا تو حور کہیں نہیں دیکھی اسے حیرت ہوئ اتنی رات کو اسے اپنی جگہ پر ہونا چاہیے تھا پھر وہ کہاں تھی..
اسے نہیں لگتا تھا اسکے بازو میں ہمت نہیں کہ وہ کما نہیں سکتا.. مگر دنیا تو جیسے اسے توڑ دینا چاہتی تھی..
اسنے اپنی اوقات سے کافی گیر کر.. نوکری تلاش کرنا چاہی مگر وہی. کہیں اسکی تعلیم بہت زیادہ تھی.. تو کہیں… ویکنسی نہیں تھی.. جاب ڈھنڈنا اسے اسوقت دنیا کا بہت مشکل کام لگا…
اس کڑے وقت میں جہاں وہ چاہتا تھا کہ حور اسکو سمیٹے اسکی دل جوئ کرے وہیں وہ لڑکی غائب تھی…
جب اسے دل جوئ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی تب بھی ارمیش اسکے لیے حاضر ہوتی تھی…
اسے بس خیال ایا… جس میں وہ اچھا خاصا محو ہو گیا…
اور کچھ دیر بعد جب احساس ہوا تو… اسے اندازا ہوا.. اسکے دل نے.. دو لفظ بولے..
جن پر وہ اپنے دل کو شدت سے ڈپٹ گیا..
حور تو اسکی محبت تھی….
حور ہی تو سب تھی اسنے اسے پا لیا..
شاید وہ بس غصے میں ہے. وہ اسے منا لے گا.. اسنے سوچا.. اور اداس دل کو.. فریش کرنا چاہا.. مگر حور کو پورے گھر میں ڈھنڈنے کے باوجود وہ اسے کہیں نہ ملی..
اب اسے پریشانی ہونے لگی..
تبھی وہ دوبارہ کمرے میں ایا… تو سائیڈ ٹیبل پر اسکا…
موبائل دیکھا.. اسنے موبائل کی جانب دیکھا..
اپنا موبائل بھی چھوڑ گئ تو گئ کہاں..
اسکے ماتھے پر بل دلے اور اسنے.. موبائل کے نیچے پڑے… پیپر پر نظر ڈالی…
وہ حور کی تحریر تھی جسے پڑھ کر.. حیدر کے جبڑے تنے اور اسنے اپنا سر تھام لیا..
اسقدر باغی تھی وہ لڑکی.. اسکا دل کیا.. اج حور کو اچھے سے.. بتا دے کہ… وہ ہے کیا.. مگر وہ ہوتی تو بتاتا..
میں حویلی جا رہی ہوں… کیونکہ مجھے.. غربت منظور نہیں.. تم سے شادی کر کے بھلے میں نے غلطی کر لی ہو.. مگر اسکو سدھارنا مجھے خوب اتا ہے.. “یہ لائنیں اسنے کئ بار پڑھیں.. اور… گاڑی کی چابی لے کر وہ.. فورن وہاں سے کالام کے لیے نکلا تھا یہ تو شکر تھا وہ لڑکی گاڑی نہیں لے گئ تھی اب وہ کس کے ساتھ گئتھی وہ نہیں جانتا تھامگر حور کے دماغ ٹھکانے وہ اج اچھے سے لگانے والا تھا…
…………
.. حویلی کی چمک دھمک دیکھ کر اسکی آنکھیں پھیلیں تھیں…
دروازہ کھلا ہی تھا جبکہ پوری حویلی جیسے دولہن کیطرح سجی تھی ملازم.. سامان سمیٹ رہے تھے لگ رہا تھا جیسے یہاں کوئ فنکشن ہوا ہو..
یہاں کیا ہوا ہے”اسنے ایک ملازم سے پوچھا
جی… بہرام سائیں معاویہ سائیں اور احمر سائیں کی جی اج شادی تھی اپ کافی دیر سے آئیں” اسنے کہا.. تو حور نے… سر ہلایا…
ہممم انسان ہے یہ.. گدھا.. اتنا سب چھوڑ کر صرف ایہ محبت کے لیے اس… ڈبیا سے فلیٹ پر پڑا ہے… “اسنے سوچا اور اندر کی جانب چل دی….
جی اپ کون.. خان لوگ سو رہے ہیں “داخلی دروازے کے باہر ایک کھڑے گارڈ نے اسے روکا…
حیدر خان کی بیوی ہوں میں… “حور نے برے تفخر سے کہا.. اسے احساس ہوا… کہ… حیدر کا نام اسکے ساتھ جڑنے کے بعد اسکی ریپوٹیشن کتنی بڑھ گئ تھی..
میڈیم… حیدر سائیں کو حویلی سے نکال دیا تھا داجی.. نے تو انکو یہاں انے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انکی بیوی کو. تو چلتی پھیرتی نظر او بی بی..” وہ پٹھان کافی سختی سے بولا.. حور کا تو منہ ہی کھل گیا..
تمھیں معلوم ہے.. تم کس سے بات کر رہے ہو” -حور غصے سے بولی..
بی بی سر مت کھاو پہلے ہی دماغ گھوما ہوا ہے… جاو یہاں سے نکلو ہم نہیں جاتا کون حیدر ہے… جب تک بڑے خان کا حکم نہیں ہوتا”وہ ٹکا سا جواب دے کر اسے دھکا دے گیا.. حور پیچھے ہوئ.. جبکہ خفت کا حساس شدید تھا..
ت.. تو بتاو.. اپنے بڑے خان کو حور ائ ہے َ” وہ کچھ ہکلائ…
اہ.. تمھیں سمھجہ نہیں اتا اب کسی بھی ایری گیری کے لیے ہم بڑے خان کو اٹھائے گا… تمھارا دماغ وماغ تو نہیں ہلا ہوا” وہ چیخا تو.. وہ اس سے دور ہو گئ.. وہ ڈر گئ تھی مطلب کالام کی سردی میں وہ رات کہاں گزارے گی.. کہاں جائے گی.. اسے سمھجہ نہیں ا رہی تھی..
دیکھو تم… ” ابھی وہ بات پوری کرتی کے کریڈائل بجنے لگا…
کون ہے سمندر خان “داجی نے پوچھا.. وہ جاگ رہے تھے جبکہ کھڑکی سے وہ.. سمندر جان کو کسی سے بحث کرتے بھی دیکھ چکے تھے..
جی خان وہ حیدر سائیں کی بیوی ہے “سمندر خان نے کہا.. تو.. داجی کے لب مسکرائے..
جب تک حیدر سائیں خود نہ ا جائیں تب تک یوں ہی کھڑا رکھو “انھوں نے کہا.. تو سمندر خا. نے سر ہلایا…
جبکہ فون بھی رکھ دیا..
ہاں بی بی وہاں جا کر بیٹھ جاو.. حیدر سائیں کے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں “اسنے کہا تو.. حور… نے دانت پیس کر اسکو دیکھا اج سے پہلے اسکی کبھی اتنی بے عزتی نہیں ہوئ تھی…
مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی فون بھی نہیں لائ تھی.. تبھی لون کے سٹیپ پر بیٹھ کر وہ حیدر کے انے کی دعا کرنے لگی….
تقریبا ایک گھنٹے وہ باہر سلگتی رہی…
جبکہ گھنٹے بعد اسکی دعا قبول ہوئ.. اور حیدر کی پراڈو اندر داخل ہوئ تو حور کو جیسے سکون سا ہوا…
وہ دوڑ کر اس تک پینچی ھیدر گاڑی سے نکلا.. اور حور.. کے منہ پر ابھی وہ رکھتا ہی کہ اسے وہ دن یاد ا گیا.. ہاں یقیناً وہ ارمیش نہیں تھی کہ برداشت کر لیتی….
اسنے اپنے ہاتھ کو قابو کر کے سختی سے اسکا ہاتھ جکڑا..
کیوں ائ ہو یہاں “وہ غصے سے بولا…
بس کرو حیدر… ہمارا حق ہے. یہاں انا” وہ بھی غصے سے بولی…
چلو اندر “اسنےا سکا ہاتھ پکر کر کھینچا…
کبھی نہیں چلو گھر اپنے یہاں ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہے” اسنے کہا تو حور.. کا تو دماع گھوم گیا.. اتنے قریب ا کر وہ اس دولت شہرت سے دور ہو جائے کبھی نہیں…
حیدر… میری بات سنو میں یہاں سے کہیں نہیں جاو گی اور اگر تم نے زبدستی کی تو.. میں وہ کرو گی کہ تم یاد رکھو گے” وہ چیخی.. تبھی.. حیدر اسکو جواب دیتا کہ داجی.. کو اتا دیکھ کر اسنے روخ موڑ لیا.
کیا وہ بے بس ہو گیا تھا کہ ایک لڑکی کو نہیں سمبھال پا رہا تھا…
کیسے ہو برخردار” داجی کا لہجہ اسے مزاق اڑاتا ہوا لگا…
مگر اسنے کوئ جواب نہیں دیا…
جی ہم ٹھیک ہیں “حور نے.. حیدر کی لاتعلقی پر دانت پیسے اور مسکرا کر جواب دیا..
داجی بھی مسکرائے مگر انکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا طنز حیدر سمھجہ سکتا تھا اگر حور سمھجتی اور اسے اسکی ذلت کی فکر نہ ہوتی تو کبھی وہ یہ قدم نہ اٹھاتی حیدر کو شدید ذلت کا احساس ہو رہا تھا.. اج ایسا احساس تو کبھی بھی نہیں ہوا تھا…
کیسے انا ہوا… “داجی کی نظر… حیدر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی…
جبکہ ھیدر کو یہ نظریں اب چبھنے لگیں تو وہ پلٹا…
چلو حور” اسنے حور کا ہاتھ تھامہ داجی کچھ نہیں بولے
..ہیں.. حیدر دماغ درست کرو اپنا… تمھارے بڑے ہیں معافی مانگو”حور نے تو اچانک ہی.. کہا حیدر…. کا چہرہ سرخ ہو گیا… اسے لگا.. وہ زمین میں گڑھ رہا ہو.. جبکہ داجی.. مسکرا رہے تھے
اج اسے.. اندازا ہو جانا چاہیے تھا.. اپنے پراے کا…
مگر اب کیا فرق پڑتا تھا.. کچھ بھی نہیں..
حور.. چپ چاپ چلو یہاں سے” اسنے… بھینچے بھینچے لہجے میں کہا….
جبکہ حور تو.. اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی… اگر یہ ادمی عقل سے پیدل ہو گیا ہے.. تو… اسے تو عقل دیکھانی چاہیے..
وہ.. دادا جی.. میں اس کی طرف سے اپ سے معافی مانگتی ہوں… ہم تو چھوٹے ہیں غلطی کر دی ہم نے.. اپ تو بڑے ہیں اپکا ظرف بھی برا ہے ہم. دونوں کو معاف کر کے.. ہمیں اپنی شفقت میں لے لیں “اسنے تسلی سے کہا.. داجی حیدر کو دیکھ رہے تھے جس کا چہرہ جون چھلکانے کو تھا…
ہمارا خون ہے.. غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہے.. جانتے ہیں ہبھی نہیں جھکے گا.. مگر جھکنا.. تو پڑے گا… ” داجی نے اسکو دیکھتے سوچا….
اور حور کیطرف دیکھا.. جو چاپلوسی میں لگی تھی..
معاف کیا” انھوں نے بس اتنا کہا…
مگر ہم نے معافی نہیں… مانگی”وہ بولا نہیں چلایا تھا…
مگر ہم نے معاف کر دیا… کیونکہ جب دل ٹھنڈا ہو جائے تو… معاف کرنا یہ نہ کرنا…. کہاں اہمیت رکھتا ہے “وہ سکون سے بول رہے تھے… حیدر نے نا جانے جود کو کیسے قابو رکھا…
حور چلو” اسنے پھر کہا.. اب وہ اسے یہاں چھوڑ جاتا تو یقیناً اسکا مزید تماشہ اور بے عزتی ہوتی..
اف حیدر تم کتنے بے عقل ہو وہ ہمیں معاف کر چکیں ہیں.. چلو اندر”حور نے اسے جھڑا تو داجی مسکرا دیے اور اندر چلے گئے جبکہ ھیدر تو سن ہو گیا…
اگر اج کوئ یہ کہتا زمین کھلے اور وہ اس میں سما جائے تو اسے منظور ہوتا…
……………………….
صبح کا سورج نکل تو ایا تھا.. مگر وہ مزے سے سو رہا تھا….
جبکہ اسے بھی جکڑا ہوا تھا..
معاویہ ہٹیں پلیز”انوشے تو شرمندگی سے ہلکان ہو گی..
یار.. کیا مسلہ ہے.. یہ بھی کوئ وقت ہے رات تک اٹھیں گے سو جاو” اسنے پھر سے اسکو کھینچ لیا..
معاویہ… انوشے… کو رونا انے لگا.. معاویہ نے آنکھیں کھولیں…
بلاوجہ تم کل رات سے روے جا رہی ہو. “اسنے گھور کر دیکھا…
خوب سمھجہ لو بیگم سردار صاحب کا دماع گھوم تو… اپکے ساتھ اچھا نہیں ہو گا”اسنے وارن کیا..
کل سے کون سا اچھا ہو رہا ہے.. “وہ اپنی جگہ سے مدھم اواز میں کہتی اٹھی..
ادھر ادھر ہی روکے بہت کینچی بن رہی ہو بتاتا ہوں تمھیں” وہ گاون کی ڈوریاں… بند کرتا اٹھتا کہ وہ واشروم میں دوڑی…
اپ کتنے خطرناک ہیں معاویہ” اسنے.. کانپتے دل سے.. مدھم اواز میں کہا..
بیبی ٹریلر پر اتنا.. پریشان ہو”وہ دروازے کو بجاتا بولا..
انوشے کا چہرہ سرخ وہ گیا…
اچھا دروازہ کھولو” اسنے کہا…
انوشے کی آنکھیں پھیلیں… مگر جواب کوئ نہ دیا..
بچو دیکھ لوں گا سرداع سے پنگے کا انجام.. تمھاری موت ہے لڑی موت “وہ اسے درانے لگا.. جبکہ اسکی مدھم سی ہنسی. سنائ دے کر.. وہ.. مزے سے گنگنانے لگا….
زندگی کا اصل مزہ.. تو.. یہاں تھا… وہ نہ جانے کیوں… غلط راہ پر رہا…
اسنے سوچا.. اور خدا.. کا شکر ادا کیا..
……………………..
نین اٹھ جائیں بی جان وغیرہ کوئ ا گیا تو کتنی شرمندگی کی بات ہے… “احمر نے اسکے منہ پر ٹاول پھینکا تو وہ پھر کسمسا کر سو گئ…
نین” وہ زیچ ہوا….
اور اسکو جھنجھوڑ دیا..
احمر میرا دل کر رہا ہے تمھارا سر پھاڑ دوں”وہ چلائ..
اف اپنا والیم تو کم کر لیں پوری دنیا کو بتانا ہے کیا کہ اپ نواب جاگ چکیں ہیں” اسنے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا..
دور رہو مجھ سے” اسنے اسکے ہاتھ جھٹکے..
ایک نمبر کے اچھے لفنگے ہو تم اوین سب تمھیں شریف سمھجتے ہیں” وہ غصے سے بولی.. احمر ہنس دیا..
چلو کہیں تو بدمعاشی دیکھائ میں نے” وہ آئینے میں اپنا اور اسکا مکمل عکس دیکھتا مسکرایا..
دیکھو زرا تمیز سے رہو… ” اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا…
اور نہ رہو تو” احمر نے نین کی انگلی تھامی…
نین جزبز ہوئ…
وہ تم.. تم جاو یہاں سے” وہ.. اسکی آنکھوں سے گھبرا گی جبکہ احمر نے اگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوم لیا..
اپ میرے دل میں تب سے ہیں جب سے مجھے اپنا معلوم ہوا…
میری سانسوں کا اداراک ہوا.. میرا اور اپکا ساتھ کافی پرانا ہے نین” اسنے.. اسکے ہاتھ تھام کر جزب سے کہا.. نین.. مدھم سا مسکرای.. احمر.. کی مھبت کا اندازا اسے جوب ہو چکا تھا..
چلیں اب شرمانا بند کریں مجھے لرتی بھیڑتی نین پسند ہے.. اور جلدی ریدی ہون سنا ہے اج.. بہت برا ناشتہ ہونے والا ہے.. داجی کا پیغام تھا.. ناشتہ سب کا.. زنان جا ے میں ہو گا “
اسنے اسے اطلاع دی..
مرد اور عورتوں دونوں کا” نین کو ھیرت ہوئ…
احمر ہنس دیا..
ہاں دونوں کا.. کیا جانتی نہیں اپ.. بہرام جان کی شادی تھی یہ.. تو وہ وہ بھی ہو گا جو کسی کے تصور میں نہ ہو “اسنے شانے اچکائے.. تو.. نین نے سر ہلایا..
مزاہ ایے گا ھویلی کی روایت ٹوٹے گی “نین کو سوچ کر ہی مزاہ ا رہا تھا…
مگر یہ صرف اج اج کی بات ہے جان دل… کل سے وہی پردہ وہی ہردے داری”وہ… اسکے گال کو چھوتا بولا..
مگر. میرے خیال سے اب کیا فائدہ” نین نے سوچتے ہوئے کہا..
مگر میرے خیال سے اب اپ کو اٹھ جانا چاہیے” اسنے اسے ہوش دلایا تو.. وہ.. سر ہلاتی اتھی جبکہ احمر باہر نکل گیا…
………………
باہر تو سما ہی نرالہ تھا.. داجی.. خود ساری سیٹینگ کرا رہے تھے.. زنان خانے کی خواتین سے بات چیت کر رہے تھے….
ملازم وہاں ہان البتہ کوئ نہیں تھا.. جب ملازموں نے ٹیبل لگای.. تب سب خواتین نے پردہ کر لیا جبکہ باقی گھر والوں کے سامنے وہ سلیقے سے دوپٹہ لیے ہوئے تھیں….
او او اھمر خان”داجی اسے دیکھ کر خوش ہوئے جبکہ احمر.. کو کچھ جھجھک سی محسوس ہوئ…
جبکہ دوسری طرف معاویہ صاحب منہ اٹھائے… مسکرتے ہوئے.. ائے.. اور داجی کی بانہوں کا ہار بنے…
واہ داجی.. اج تو.. مزاہ ہی ا جائے گا” اسنے کہا تو.. وہ ہنس دیے..
جبکہ انوشے کا تو وہاں کھڑا ہونا مشکل تھا تبھی وہ نین کے اتے ہی.. وہاں سے بھاگ گی.. جبکہ باقی سب بھی کچھ دیر کے لیے وہان سے ہٹیں..
چلو بھی لڑکوں ہمارے جان کے اٹھنے سے پہلے یہاں سب کچھ ریڈی ہونا چاہیے.. اوکے” انھوں نے تنبھی کی..
داجی.. نیا نویلہ نوخیز دولہا… ہوں میں ایک اپکا.. خان ہی ولہو نہیں بنا تھا کل” اسنے دوہائ دی..
تو.. وہ.. ہاتھ کے اشارے سے بات رفا دفع کرتے.. اگے بڑھ گئے… انکی خوشی دیکھنے لائق تھی..
………………
ارمیش نے… اس کی جانب دیکھا.. جو بید پر الٹا پڑا.. تھا… جبکہ وہ باہر جانے کے لیے تیار تھی تیار بھی کیا…
ہلکے اسمانی سادے سے لباس.. میں بالوں کی چوٹیا بنایے بنا میکپ کے وہ.. کہیں سے بھی نئئ دولہن نہیں لگ رہی تھی…
ارمیش خود میں اسے اتھانے کی ہمت نہیں رکھتی تھی تبھی.. وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گی.. اور اسکے اٹھنے کا ناظار کرنے لگی تقریبا ادھا گھنٹہ گزرا تھا.. اور وہ انگڑای لیتا اٹھا..
اسے امءد نہیں تھی وہ اتنہ جلدی اتھ جایے گا..
بہرام نے کچھ دیر کسمسانے کے بعد اسنے صوفے پر دیکھا… تو. وہ آنکھیں جھکایے سکڑی سیمتی بیٹھی تھی..
بہرام نے. بوتل کو ڈھونڈنا چاہا…
مگر بوتلیں خالی تھیں…
اور بید کے نیچے ناچ رہیں تھیں.. اسکے ماتھے پر بل سےائے.. اور وہ اپنی جگہ سے اٹھا…
اور پاوں زمین پر رکھنا چاہا… تو اسکا پاوں زمین پر رکھنے کے بجائے بوتل پر پڑا… اور وہ اس سے پہلے مکمل کھڑا ہوتا…
بوتل پر پاوں کی وجہ سے دوبارہ سے دھڑام گیرہ…
جبکہ بوتل ناچتی ہوی جھومتی جھامتی دور جا پڑی..
ارمیش.. ساکت اسکو دیکھنے لگی.. جبکہ بہرام کو خوامخواہ شرمندگی ہوئ..
اسکے سامنے.. ارمیش اٹھی اور. اسکے پاوں کے پاس دوسری بوتل کو.. اٹھانے لگی.. کہ.. کہیں وہ دوبارہ نہیں… گیر جائے…
اے ے ے یہ کیا کر رہی ہو”بہرام نے ایکدم اسے ٹوکا تو وہ در کر دور ہوئ.. اور بری بڑی حونک آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی..
خبردار جو کبھی.. میرے قدموں میں جھکی.
میری کھپڑی بہت الٹی ہے… سیدھی ہی رہنے دو.. اور اس ناپاک چیز کو کبھی ہاتھ مت لگانا…
میں اچھا انسان نہیں… کوی تو اچھا رہے پھر اس کمرے میں…
خانم.. کبھی وہ عمل نہ کرنا.. جو تمھیں جھکائے… سر جھکا کر نہیں.. اونچا کر کے رہو… بہرام جان کی بیوی ہو… “اسنے… کچھ ڈپٹتے ہوئے.. کہا…
ارمیش خاموش ہو گی…
اسکی آنکھوں میں انسو کی تعداد کتنی تھی کوی نہیں جانتا تھا…
سب جیسے کسی فلم کی طرح اسکی آنکھوں میں گھوم رہا تھا…
حیدر کا اسے اپنے قدموں میں جھکانا…
اس سے شراب کی بوتلوں کو ہاتھ لگوانا…
اسے مارنا پیٹنا.. کیا کیا نہیں یاد ایا… دل جیسے. پھٹنے کے قریب ہوا…
آنکھوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی انسو باہر نکل ائے…
خانم… تمھیں رونے سے منع کیا ہے میں نے “بہرام کو وہ ل|کی بلکل سمھجہ نہیں ائ… تبھی وہ بھناتا ہوا اٹھا…
ارمیش نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا.. اور پل میں انسو صاف کر لیے…
تیار ہو جاو اتا ہوں میں” اسنے اسکی خاموشی سے زیچ ہو کر.. کہا…
تو ارمیش کچھ حیران رہ گی…
وہ تو تیار تھی “اسنے اپنی نمی کو صاف کیا… اور
پھر سے صوفے پر بیٹھ گی…
بیس مبٹ میں وہ اپنے بال تولیہ سے رگڑتا باہر نکلا…
تو وہ ویسے ہی بیٹھی تھی…
تم تیار نہیں ہوئ”اسنے پوچھا…
وہ.. میں.. وہ.. تیار ہوں میں تو”ارمیش نے اٹکتے ہوئے جھجھکتے ہوئے بتایا…
صدقے….” اسنے ای برو اچکای….
کھری ہو جاو” وہ ریڈ ہوا…
ارمیش اپنی جگہ سے اٹھی…
تولیہ کو نکال کر غصے سے اسکے ہاتھ میں پٹخ کر وہ. اسکی وارڈروپ کیطرف بڑھا.. تو وہاں سارے ہی پھیکے رنگ تھے…
اور بس ایک سرخ جوڑا تھا…
جو شاید کسی خاتون نے رکھ دیا تھا.. بہرام نے وہ ڈریس نکالا…
پکڑو اسے پہن کر ڈھنگ کا میکپ کرو “اسنے اسکے ہاتھ میں تھاما کر ارڈر کیا…
اسے یاد ایا.. کبھی حیدر نے اس سے فرمائش نہیں کی تھی….
وہ بس اس سے اپنا مطلب پورا کرتا تھا.. بھلے جیسے بھی…
ایک ہی چھت تلے ایک ہی.. خاندان کے لوگ.. کتنا تزاد تھا…
وہ… کپرے ہاتھ میں تھامے… واشروم میں چلی گی..
اسکے جاتے ہی بہرام نے گھیرہ سانس کھینچا…
کیا وہ نارمل ہو سکتا تھا….
کیا وہ نارمل ہو جاتا…
یہ جانتے ہویے بھی کہ اسکا دل.. اب دھڑک نہیں رہا…
پہلے کیطرح.. جیسے.. بے جان ہو گیا ہو….
اور بے جان دل کیا دھڑک اٹھتے ہیں.. شاید معجزہ ہی ہوتا ہے…
وہ اپنے عکس کو دیکھتا… گزشتہ باتوں کو یاد کرنے لگا..
تم کتنے بدصورت ہو.. “یہ بازگشت شاید… وہ مر بھی جاتا تب بھی نہ.. اسکے دماع سے نکلتی…
انھیں سوچو میں وہ واشروم سے نکل ای..
بہرام نے اسکو اوپر سے نیچے تک دیکھا…
بلاشبہ ہو بے حد خوبصورت تھی…
بہرام نے رخ موڑ لیا کیونکہ وہ حد سے زیادہ کنفیوز تھی…
ارمیش وہیں کھری رہی جبکہ بہرام کو خود ہی وہان سے ہٹنا پرا..
وہان سے ہت کر وہ بید پر بیتھ کر جوگز پہنے لگا.. جبکہ ارمیش نے سرخ لیپسٹک اٹھای..
ہونٹوں کو سجانے لگی…
شاید دو سالوں میں پہلی بار. اسنے سرج لباس پہنا تھا.. اور اس شخص نے تب بھی صرف اپنی طلب پوری کی تھی..
اسنے ان سوچو کو خود سے دور جھٹکا…
اور بال کھول کر وہ… اپنے حسن کو مزید نکھارتی.. اسکے سامنےا ی..
بہرام نے اسکیطرف دیکھا..
وہ سر جھکائے کھڑی تھی.. جبکہ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے…
اسنے.. اسکے وہی کانپتے ہاتھ تھامے…
اور اسپر گفت مظبوط کر کے.. وہ باہر کی جانب چل دیا…
مردان جانے میں کوئ نہیں تھا.. اسے ھیرت ہوئ.. ارمیش نے سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا…
بہرام نے زنان خانے میں جانے سے پہلے وہ دوپٹہ اسکے سر سے اتار دیا…
میرے ساتھ محفوظ ہو تم…. “اسکے کان میں جھک کر وہ بولا… ارمیش کی آنکھیں تیزی سے بھیگی…
اور وہ اسکی ہمراہی میں زنان خانے میں داخل ہوئ…
تو وہاں تو سما ہی اور تھا…
ویلکم ویلکم” یہ معاویہ تھا..
جیتے رہو ماشاءاللہ “داجی کی پرجوش اواز اور ایسی کئ آوازوں نے انکا استقبال کیا..
وہ دونوں حیران رہ گئے.. شاید پہلی بار انھوں نے سب کو اکھٹے دیکھا تھا…
مگر… ایکطرف جیسے ہی انکی نگاہ اٹھی.. سب ساکت رہ گئے..
حیدر… وہ یہاں “سب کے منہ پر یہ سوال تھا سوائے داجی کے..
نگاہ میں نفرت ہی نفرت تھی…
بہرام نے کوئ نوٹس نہیں لیا مگر اسے محسوس ہوا ہاتھ میں موجود نازک ہاتھ.. شدت سے کانپنے لگا تھا…
چلیں سب ناشتے کی میز پر” داجی نے کہا…
اور سب ٹیبل پر اکھٹے ہونے لگے…
سب دوبارہ مسکرانے لگے اب حیدر کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا تھا مگر.. مورے کی انکھ بھر ای تھی دل خوش بھی تھا مگر بیتے سے ناراضگی بھی تھی…
حور کے کھینچنے پر حیدر بھی اپنی جگہ سے ہلتا.. اس ٹیبل پر ایا..
ارمیش کو بہرام کے ساتھ دیکھ کر جیسے اسکے پاوں زمین نے جکڑے تھے…
وہ اتفاقاً انکے سامنے بیٹھا…
بہرام نے ارمیش کے لیے… چئیر کھینچی وہ بہرام کی جانب دیکھتی.. اس چییر پر بیٹھی…
خانم.. سکون سے بیٹھو “ارمیش کی بے چینی پر.. بہرام نے اسکی ٹانگ کو پکڑا… ٹیبل کے نیچے تو.. ارمیش.. سن ہو گئ…
جبکہ بس ہلکی پھولکی باتوں میں کھا رہے تھے..
ارمیش کا دم نکل رہا تھا.. بہرام کی انگلیاں مسلسل حرکت کر رہیں تھیں شاید اس شخص نے سامنے بیٹھے ادمی پر سے اسکی توجہ اسطرح ہٹائ تھی…
کھانا تو کھاو.. “اسنے سکی پلیٹ کیطرف اشارہ کیا.. ارمیش سے کانٹا اٹھانا… اس دنیا کا مشکل ترین کام لگا.
…………
جاری ہے