Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
شاید… اسے دیوار پھلانگنے میں کچھ تردد ہوا.. کہ ایسا کام نہیں کیا تھا کبھی مگر وہ چھت پر پہنچ ہی گیا… یہ دو منزلہ چھوٹا سا گھر تھا.. وہ بآسانی چڑھا تھا…
چھت پر چڑھ کر.. اسنے نیچے جھنکا.. اور تفخر سے معاویہ کو دیکھا.. جو داد دیتا.. واپس گاڑی کی طرف جا رہا تھا.. بہرام بھی پلٹا.. اور.. اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھول کر.. اسنے کالر کھڑے کیے جس سے.. کچھ اسکا چہرہ چھپ گیا….
اور وہ آب چھت پر بنے.. دروازے کیطرف بڑھنے لگا… دروازہ کھلا ہی تھا…
بےوقوف لوگ”وہ شانے اچکا تا… نیچے اترا تو گھر میں اندھیرہ تھا.. اسے اپنا آپ چور ہی لگا… وہ.. ہنستا ہوا… دوسری منزل کی سیڑھیاں اترنے لگا.. کیونکہ اوپری منزل میں تو شاید بس سٹور.. تھا.. نیچے چھوٹا سا صحن براندہ تھا.. اور دو کمرے تھے…
جن کی لائٹس آف تھیں…
جبکہ صحن میں ایک بلب جل رہا تھا..
گھر ہے یہ صابن دانی “وہ چیڑا… اور.. ایک کمرے میں جھانکا.. اور مایوسی ہوئ… پھر دوسرے کمرے میں جھانکا تو دو الگ الگ بیڈز تھے اسے انداز ہو گیا.. کہ یہ.. ہی وہ کمرہ ہو گا..
کیونکہ.. پہلے والے کمرے میں سنگل بیڈ تھا….
وہ.. آرام سے کمرے میں داخل ہوا… پنکھے کی خشک ہوا.. اسکی نازک مزاجی پر گراہ گزری.. اور پل میں اسکے سفید رنگ میں… سرخی گھل گئ..
وہ.. دائیں جانب والے بیڈ کیطرف بڑھا .. کوئ سر تک تانے چادر پڑا تھا.. اسنے چادر معمولی سی کھینچی…
مگر مایوسی ہوئ.. وہ چند پل اس چہرے کو بھی دیکھتا رہا..
نوٹ بیڈ”کمنٹ پاس کرتا.. وہ آب اطمینان سے دوسرے بید کیطرف بڑھا.. اور.. سہولت سے چادر کھینچ دی…
تو وہ صبیح چہرہ.. جو اسے چند دنوں میں تڑپا گیا تھا.. اسکے سامنے تھا.. وہ مبہووت سا اسے دیکھے گیا.. وہ تو اسکے لیے بنی تھی.. ایسا لگتا.. یہ بات تو لکھ دی گئ ہے.. وہ.. کمال بہادری سے.. اسکے پاس بیٹھ گیا.. کمرے کی خشک ہوا بھی.. اب معمولی سی لگی…
وہ عابیر کے چہرے کو.. چاہت سے دیکھ رہا تھا.. دل و دماغ.. میں کمال سکون اتر چکا تھا…
اسنے ہاتھ بڑھا کر.. اسکے چہرے.. پر.. انگلی چلائ….
ہلکے سے پسینے کی بوندیں محسوس ہوئیں…
بہرام… دیوانہ سا ہو گیا.. خود پر قابو دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا….
اسنے ضبط سے.. مٹھی بھینچ.. لی…
اور پھر.. اسکے نازک لبوں… پر نگاہ ٹھر گئ.. ایسی جمی کے ہٹنے کا نام نہ لیا..
جبکہ.. عابیر.. کی نیند کچی ہونے لگی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا.. مگر وہ بے حس و حرکت اسکے.. لبوں کے کنارے پر
. موجود نگ کی مانند تل پر… مدہوش سا.. انگوٹھا چلا رہا تھا..
عابیر کی اچانک ہی پٹ سے آنکھ کھولی…
پہلے تو وہ کچھ سمھجہ نہ سکی اور جب سمھجہ کو کچھ لگا.. تو… اسکے منہ سے اس سے پہلے چینخ نکلتی…
بہرام… اسپر جھک گیا…..
عابیر.. تڑپ اٹھی جبکہ بہرام…. کی مدہوشی….
جان لیوا.. تھی….
عابیر نے
. اسکے شانے پعر مکے مارے
.. مگر وہ اپنی منشہ سے دور ہوا….
اور…. پھر اسکے لبوں کے کنارے.. میں موجود.. تل کو دیکھنے لگا..
عابیر… کو کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا… وہ ہونک.. .. ایک پل اسے دیکھتی رہی…
اور پھر
. ہاتھ گھما.. کر.. اسکے.. منہ پر تھپڑ جڑ دیا…..
تب بھی…. اسکو سکون نہ ملا.. ایک جھٹکے سے آٹھ کر بیٹھتے.. اسنے بہرام کا منہ نوچ لیا…
کمینے انسان…. “وہ دھاڑی…
بہرام
. جیسے نیند سے جاگا تھا…
مگر مسکراہٹ نے.. L.. اسکے لبوں کا ساتھ نہ چھوڑا….
سائیں آپکو کیسے پتہ میں کمینا انسان ہوں” وہ معصومیت سے بولا…
عابیر شاکڈ تھی…
وہ یہاں اسکے پاس کیوں آیا تھا…
اور پھر اسے.. وہ پل یاد آ گئے…. یعنی وہ اسے بھی کوٹھے پر بیٹھی کوئ لڑکی سمھجہ رہا تھا.. اسکا دماغ بھنایا….
اسنے ارد گرد دیکھا.. آج وہ اس شخص کا سر پھاڑ دیتی
اسکو دھکا دے کر.. وہ تیر کی تیزی سے اٹھی… بہرام بھی مسکراتا ہوا آٹھ گیا….
سرکار شور کریں گی.. تو عزت اور اعتماد دونوں جائیں گے.. چند پل.. تمیز کے دے دیں.. ساری زندگی پڑی.. ہے.. سر بھی پہاڑ لیجیے گا… روکا کس کافر نے ہے.. “وہ.. مزے سے بولا.. تو عابیر.. جو اب الٹے قدم.. لینے والی تھی کہ.. جا کر بابا کو اٹھائے یا.. کم از کم.. معاذ کو فون کرے.. وہیں تھم گئ….
یہ انسان.. اسکی سوچ سے زیادہ نیچ تھا.. مگر اسکی بات مان لینا.. مطلب شے دے دینا تھا.. کہ وہ آگے بھی اسکے گھر آ جائے.. وہ اس کھیل تماشے کو سمھجہ نہیں پا رہی تھی.. شاید وہ کوئ بدلہ لے رہا تھا..
تم یہاں سے دفع ہو جاو.. تمھارے لیے بہتر ہے…. “انگلی اٹھا کر.. غصے سے بولنے پر… اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا..
بہرام دل پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا….
کوئ اتنا پیارا.. کیسے ہو سکتا ہے…..
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے….”وہ گھمبیر لہجے میں بولتا.. اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے.. اسکے نزدیک ہوا.. تو.. عابیر.. بدک کر دور ہوئ.. اور… بس.. وہ دوسرے کمرے میں اس سے پہلے دوڑتی…
بہرام نے اسکی کلائ پکڑ لی… عابیرکو جیسے کرنٹ لگا تھا.. وہ کلائ چھڑوانے کی تگ و دو کرنے لگی… مگر مقابل.. اسے.. نائٹ..ڈریس میں سر سےپاوں تک.. گھورے جا رہا تھا… عابیر کے لیے یہ لمہے کسی عزاب سے کم نہ تھے….
مکھن آپکی بہن بھی ملائ جیسی ہے…. ویسے میں جانتا ہوں میں.. کمینا ہوں مگر.. نیچ نہیں ہوں… اپ نے اب میری مرضی کے خلاف جانے کی کوشش کی.. تو.. یقین مانیے….
ہم تو بدنام زمانہ ہیں ہی ہیں… اپکی.چھوٹی سی بہن کا کیا ہو گا.. ویسے بھی… اس عمر کی لڑکیوں.. کو.. ایسے شوق ہو جاتے ہیں… پھر الزام مت دیجیے گا “وہ اپنے گھٹیا پن… کے بارے میں بڑی سہولت سے اسے آگاہ کر رہا تھا.. جبکہ… ریہا کے بارے میں سوچ کر عابیر… کا دل پہلی بار اس انسان.. کی سفاکیت سے کانپا تھا….
بہرام.. کی مسکراہٹ گھیری ہوئ.. تیر نشانے پر ٹکا تھا.. اسنے ہاتھ چھڑانے کی تگ و دو ختم جو کر دی تھی… بہرام نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑ دیا…
سائیں آپکے ساتھ… چاند دیکھنا چاہتا ہوں….. زرا چاند…کو بھی دیدار خاص کرا دیں.. بس پھر آپ سکون سے سویے گا.. “وہ.. اپنی ہی ہانکتا.. اسکا بازو پکڑ.. کر.. اسے سیڑھیوں کے راستے چھت پر لے آیا… عابیر .. کا وجود اب بھی خوف سے کانپ رہا تھا.. صرف میٹرک کلاس کی سٹوڈنٹ تھی اسکی بہن.. اور یہ شخص.. اس سے توقع بھی کیا کی جا سکتی تھی.. جو اسکے گھر آ کر.. اپنی گیری ہوئ حرکت سے باز نہ آیا.. نہ جانے وہ اسکی بہن کے ساتھ کیا کرے.. بے بسی سے.. اسکی آنکھیں سرخ.. ہو گئیں… بہرام کی بھی نظر.. اسپر اتھی….
اور وہیں… اٹک کر رہ گئ… بادامی آنکھیں سرخی لیے… کمال نظارہ پیش کر رہیں تھیں….
سرکار.. اب تو دل کر رہا.. ہے.. تمھیں اور رولاو….
ایسا نظارہ.. باخدا پہلے کہاں دیکھنے کو ملا تھا… “وہ اسکی پلکوں کو چھوتا .. چاہت سے بولا…
عابیر.. نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا…
یہ جو تم حرکتیں کر رہے ہو.. اب تم دیکھنا.. میں میڈیا.. میں تمھارے ساتھ کرتی کیا ہوں…..” وہ آنکھیں نکالتی… غرائ.. تو وہ بے باک قہقہ لگا اٹھا…
میٹھی… سردار تو چاہتے ہی یہ ہی ہیں… بلکے یہ جو.. تم نے مجھے دھمکایا ہے نہ….
اس کا اثر… یہ بھی ہو سکتا ہے.. کہ صبح کی پہلی نیوز… یہ بن جائے…
کالام کے سردار… ایک معمولی سی لڑکی… سوسوری ریپورٹر کے گھر کی چھت پر… اسکے ساتھ… چاند دیکھتے پائے گے.. کیا اس لڑکی کے.. ساتھ.. بہرام… مراد خان کا افئیر چل رہا ہے… یہ……… ؟؟؟؟؟ “وہ روکا… معنی خیز لہجہ تھا
… انکے بیچ.. کوئ… ناجائز تعلق ہے…” وہ مزے سے اسکے کان میں جھک کر بولا… عابیر… کی آنکھوں کے آگے.. حقیقی معنوں میں… تارے چمک اٹھے… اس سے کوئ بھی امید کی جا سکتی تھی….
چاہتے کیا ہو تم…. “وہ جھنجھلا کر چلائ… تو.. بہرام نے اسکے لبوں پر اپنی ہتھیلی جما… کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا….
آب اسکا چہرہ سنجیدہ دکھ رہا تھا جبکہ کلون کے ساتھ ساتھ کسی اور چیز کی مہک.. سے عابیر… کی سانسیں اٹک گئیں.
. میرے ساتھ ابھی کالام بھاگ چلو …. دو بول.. دور ہو بس مجھ سے….. ان دو بولوں کا فاصلہ مختصر کر دو…. اج سے پہلے.. میں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا.. کہ.. وجود میں دل بھی.. کوئ شے ہے…. مجھے لگتا تھا یہ بس بے حس لوتھڑا ہے…
مگر جب سے.. تمھیں دیکھا ہے عابیر مجھے لگتا ہے… یہیہ… سانس لینے لگا ہے.. اسکی دھڑکنیں کانوں میں گونجتی ہیں.. مجھے نشہ.. سا چڑھ جاتا.. ہے… سب سے مہنگی شراب پیتا ہے.. تمھارا یہ مرید…. مگ… اب ایسا لگتا ہے… جب میرے پاس.. تم ہو… تو.. یہ سب وقتی چیزیں.. بے وقتی ہو گئیں ہیں.. سمھج رہی ہو نہ….. “وہ دھیرے دھیرے اسے سمجھاتا…
کافی پیارا لگ رہا تھا.. مگر عابیر… پر.. آج ہی سارے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے تھے… اسکا اپنے بال سنوارا ہاتھ.. اسنے جھٹکا دیا.. اور اس سے دور کھڑی ہو گئ….
عابیر کے اس وقت ہاتھ پاوں بری طرح کانپ رہے تھے…. ایسا نہیں تھا وہ اس سے ڈر گئ تھی.. بس اس وقت.. اس سے اپنا آپ سمبھل نہیں رہا تھا…..
بہرام ڈھٹائ سے مسکرایا….
معلوم نہیں تھا.. ملاقات اتنی خوبصورت ہو گی… “وہ… چند لمہے پہلے کی جانے والی اپنی حرکت کو باور کرا رہا تھا… عابیر.. نے نفرت سے.. اسکو دیکھا….
جبکہ.. اسکا قہقہ اٹھا…
آف یہ ادائیں…… ڈاکا ڈل گیا…. سرکار… ڈاکا…” کہتے ساتھ ہی.. اسنے… بالوں میں ہاتھ پھیرہ.. اور اس پائپ کو دیکھا.. جہاں سے وہ چڑھا تھا..
چلتا.. ہوں سائیں دل تو نہیں کر رہا ویسے.. مگر کل او.. گا… ابھی ایک ضروری.. کام بھی ہے…
مجھے یاد کرتی رہنا مجھے اچھا لگے گا” وہ اسکا گال تھپتھپا کر… دوبارہ اس راستے … اتارنے لگا جبکہ عابیر.. وہیں بیٹھتی چلی گئ..
یہ سب کیا تھا …
کیا اسنے ایک خوفناک خواب دیکھا تھا…
شاید.. ابھی اسکی جھٹکے سے آنکھ کھلے.. اور وہ اپنے بستر پر ہو…
شاید یہ خواب ہو.. مگر ایساکچھ نہیں تھا.. کچھ دیر بعد گاڑی کی آواز آئ.. اور پھر وہ گاڑی دور جاتی محسوس ہوئ جبکہ عابیر کا دل سچ میں حلق میں آ گیا تھا…
………………. ے
حیدر کے ساتھ شہر آتے ہوئے.. اسے اپنا آپ مردہ محسوس ہو رہا تھا…
کیا خوشیوں کی مدت اتنی قلیل ہوتی ہے…. کیا اسے اتنی ہی محدود مدت کے لیے خوشیاں ملنی تھی….
ہوسپیٹل… میں داخل.. ہوتے ہوئے.. حیدر نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا.. اسکا ہاتھ برف کی مانند سرد تھا….
گھر پر کسی کو بتانے کی اسنے زحمت نہ کی تھی اور دو دن سے ارمیش کو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلنے دیا تھا اول تو اسے کسی کا خوف نہیں تھا.. مگر جتنی سہولت سے یہ کام ہو جاتا اتنا بہتر تھا…
ارمیش کے آنسو جھرنے کی طرح متواتر بہہ رہے تھے…
وہ بے بسی کی آخری انتہا کو چھو رہی تھی.. کہیں دل میں اگر اسکے لیے.. محبت کی رمک باقی تھی.. تو وہ شاید آج دم توڑ جاتی.. اور اسکے بعد ان دونوں کے درمیان صرف نفرت کا رشتہ رہ جاتا….
وہ اسے ایک روم میں لے آیا تھا.. یہ ہوسپیٹل بہت خوبصورت تھا.. اگر.. وہ اس غم کو اپنے ساتھ لے کر نہ آتی تو ضرور یہاں کی خوبصورتی.. سے چکا چوند رہ جاتی.. مگر.. اسکی اولاد چند گھنٹوں بعد اسکے وجود کا حصہ نہ رہتی.. اس سے برا… دکھ اور کیا ہو سکتا تھا…
اور قاتل بھی باپ…..
یہ.. کیسا ستم تھا….
وہ.. ہوسپیٹل.. کے روم… میں.. سرخ.. چہرے… اور سوجی ہوئ.. آنکھوں سے.. سامنے.. کھڑے حیدر کو دیکھ رہی تھی.. جو ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا..
مگر مجھے نہیں لگتا سر آپکی وائف اس چیز کے لیے تیار ہیں… “ڈاکٹر نے ارمیش کو دیکھتے ہوئے کہا..
دیکھیے آپ سے مشورہ نہیں مانگا ہم نے… آپ کے علاوہ بھی بہت ڈاکٹر.. مل جائیں گے ہمیں .. تو بہتر.. یہ ہی ہے.. آپ.. چپ چاپ اپنا کام کریں” وہ اپنے مخصوص اڑیل لہجے میں بولتا.. ارمیش.. کے دل کو کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا…
اسنے ہار مان لی. دل ہی دل میں… اپنے بچے کے آگے ہاتھ جوڑ.. کر.. معافیاں مانگیں کے وہ بے بس تھی….
اسنے بے دردی سے… اپنے آنسو صاف کیے یہ آخری بار تھا بس… اور پھر نرس نے… اسے بیڈ پر لیٹایا…
جبکہ حیدر ایک نظر… دیکھ کر باہر نکل گیا…
ڈاکٹر نے اسے اپنے روم میں آنے کو کہا….
تو وہ.. بےزار سا.. اسکے روم میں چلا گیا….
آئیں حیدر صاحب پلیز بیٹھیں “ڈاکٹر نے اسے.. کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا..
میڈیم آپ کیا چاہتی ہیں” حیدر کو اب غصہ آنے لگا…
سر پلیز… میں آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتی ہوں… اگر.. آپ کو ٹھیک لگے.. تو
بات کریں جلدی”حیدر نے اسکی بات کاٹ دی…
دیکھیں سر.. آپکو یہ بیبی نہیں چاہیے… بٹ سچویشن ایسی ہے.. کہ اگر میں نے.. یہ کام کیا تو آپکی بیوی… پوری عمر کے لیے شاید دوبارہ ماں نہ بنے” ڈاکٹر نے تحمل سے اسے سمجھایا..
حیدر ایک پل کے لیے چونکہ… کچھ ہی سیکینڈز میں اسکی چہرے پر.. معمولی سا پسینہ ایا…
اور پھر بس چند لمہوں بعد وہ نارمل ہو گیا…
یہ آپکا مسلہ نہیں.. اپکو کس خوشی میں ہمدردی ہو رہی ہے” وہ غصے سے بولا.. تو ڈاکٹر تاسف سے اسے دیکھنے لگی..
اگر آپکو یہ بچہ نہیں چاہیے تو آپ.. کسی اور کو یہ بچہ دے سکتے ہیں.. جیسے ہی آپکی وائف کے نو ماہ پورے ہوں گے فل سیکیورٹی کے ساتھ… ہم یہ کام کر لیں گے” … ڈاکٹر اصل بات پر ائ
آپ چاہتی کیا ہیں میں کسی دوسرے ہسپتال چلا جاو گا….
آپ سے صرف یہ کہا ہے مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے… پھر مقصد فضول گوئ کا” وہ ہتھے سے اکھڑا.. تبھی دروازہ ایکدم کھل کر کوئ اندر آیا… تھا… اور اسکے قدموں میں بیٹھ گیا… وہ کوئ لڑکی تھی…
پرانی سی چادر میں… وہ حولیے سے کافی.. بے بس لگ رہی تھی حیدر.. ایکدم اٹھا.. ڈاکٹر.. کی آنکھ نم ہوئ..
درحقیقت… اس لڑکی کی ساس نے… اس کو دھکا دے کر.. اسکے.. چار ماہ کا بچہ مار دیا.. جبکہ اس لڑکی کا شوہر… بھی بیرون ملک تھا…
اور اب دو ماہ گزر چکے تھے جبکہ وہ لڑکی دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھی.. تبھی وہ پیچھلے دو ماہ سے… ہسپتال کی دہلیز سے چمٹ کر رہ گئ تھی..
اور جب حیدر کی بات.. غلطی سے ڈاکٹر نے اسکے سامنے رکھی.. تو.. وہ.. اس شخص کے پاوں پڑنے کو بھی تیار تھی.. اسکا شوہر بھی خاصا دکھی تھا اپنے بچے کے لیے جبکہ.. اسکی ساس نیم پاگل سی تھی….
اور وہ دونوں ہی بچہ اڈوپٹ کرنا چاہتے تھےتبھی ڈاکٹر نے حیدر کے سامنے یہ بات رکھی تھی..
خدا کے لیے…. مجھ پر رحم کھاو… میں ماں نہیں بن سکتی.. اللہ تمھیں بہت دے گا….
مجھ سے یہ دکھ نہہ سمبھالا جا رہا..
وہ بچہ تمھیں نہیں چاہیے… قتل مت کرو اسکا….
مجھے دے دو… یقین مانو… سگی اولاد سے بڑھ کر چاہو گی…
بس مجھے دے دو… “
حور”
حیدر کے قدموں تلے زمین کھسک چکی تھی… یہ آواز… جس کے لیے.. دو سال سے وہ ترس رہا تھا….
وہ اپنے ہی قدموں پر لڑکھڑایا تھا…
لڑکی نے سر اٹھایا…. اسکی آنکھیں بری طرح سوجی ہوئیں تھیں… جبکہ.. چہرہ برسوں کا بیمار لگتا تھا… حور کے ہاتھ بھی جیسے وہیں تھم گئے…
وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے تک رہے تھے.. جیسے.. پیاسا کنوایں کو…
ڈاکٹر.. بھی نا سمھجی سے دیکھ رہی تھی دونوں کی ہی آنکھوں میں شناسائی کی رمک
تھی….
حیدر “حور کے لب بے آواز پھڑپھڑائے… تھے
……………….
حویلی میں دوپہر اتر چکی تھی…
کالام کی فضا ویسی ہی تھی جب کے سب.. کام ویسے ہی چل رہے تھے.. ارمیش دو دن سے.. زنان خانے میں نہیں آئ تھی اگر تیسرے دن بھی نہ آتی تو.. تب بھی.. چاہ کر بھی کوئ نہیں پوچھتا….
نین اپنے کمرے میں ہی تھی…
جبکہ انوشے… اور نیہا.. اپنے روم میں… باقی سب بھی کھانے کے بعد اپنے اپنے رومز میں تھے…
نین کو جب محسوس ہوا کہ باہر کوئ نہیں.. تو.. وہ دروازہ کھول کر باہر آئ.. اور سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تیزی سے مردان خانے کیطرف بڑھی تھی… خوشقسمت ہی تھی کہ.. وہاں پر بھی کوئ نہیں تھا…
وہ… احمر کے کمرے کیطرف بڑھی آج پھر اسنے بنا سوچے سمھجے ایک اور بڑا قدم اٹھایا تھا… جس کا معلوم نہیں کیا انجام ہونے والا تھا….
وہ احمر کے کمرے میں آئ تو.. وہ خالی تھا.. اسنے کوفت سے سر جھٹکا خوف بھی محسوس ہوا زیادہ دیر وہ یہاں رک کر اپنے لیے عزاب نہیں کرنا چاہتی تھی.. تقریباً.. بیس منٹ بعد دروازہ کھلا… اور احمر مصروف سا کچھ ڈاکومنٹس دیکھتا اندر داخل ہوا.. اور بیڈ پر… اپنا چہرہ نقاب میں چھپائے نین کو دیکھ کر
. اسے بری طرح جھٹکا لگا.. دو دن بعد انکی رخصتی تھی… اور.. اب…
اسنے.. دروازہ لوک کیا… کیونکہ باہر اب سب آ چکے تھے.. اور ہال روم میں بیٹھ کر ہی.. سب… اب.. داجی سے گفتگو کرتے….
آپ اتنی جزباتی کیوں ہیں “وہ اپنا غصہ دباتا… بولا…
سنو چھوٹے….” وہ بغیر لحاظ کے اٹھی…
احمر “احمر نے ناگواری سے ٹوکا…
چھوٹے” وہ پھر دوبادو ہوی… احمر کلس ہی گیا… مگر اب کچھ نہ بولا….
میں یہاں ایک پل نہیں رہنا چاہتی…
تم مجھے آج رات ہی.. یہاں سے لے کر جا رہے ہو.. سمھجے “وہ… اسکو خاموش دیکھ کر.. تڑی… دینے لگی..
احمر تو غش کھا گیا….
آپکا دماغ ٹھکانے پر نہیں.. حویلی کے علاوہ.. کہاں جائیں گے” وہ… کچھ نارمل سا ہوا.. اور.. ڈر بھی لگا کہ کوئ آ نہ جائے… اور اس سر پھری لڑکی پر غصہ الگ آ رہا تھا..
میرا دماغ اب ٹھکانے پر آ چکا ہے….
مجھے یہاں نہیں رہنا.. کس قدر بے زمیرے ہو تم.. ساری زندگی نانکے کے ٹکڑوں پر پلتے رہے اب.. مجھے بھی یوں ہی رولنے کا ارادہ ہے تو سوچ ہے تمھاری “وہ چلائ… احمر اسے.. دیکھ کر رہ گیا…
وہ کسی کے دل کے ٹوٹنے کا احساس کیوں نہیں کرتی تھی…
نہیں میں آپکو ایسی زندگی نہیں دو گا.. مگر جلد بازی… غلط قدم ہے” احمر اب بھی پرسکون تھا جبکہ نین کو اسکا سکون زہر لگا…
تم اگر مجھے یہاں سے نہ لے کر گئے تو.. میں بھاگ جاو گی. مگر داجی کو خوش ہونے نہیں دے سکتی.. انھوں نے حویلی کی لڑکیوں کو گاجر مولی سمھجہ لیا ہے کہ.. انکے حکم پر سر جھکا لیں.. ایسی چوٹ دے کر جاو گی کہ.. یاد رکھیں گے “
وہ غصے سے سرخ ہوتی…. اس وقت اپنے آپے میں نہیں لگ رہی تھی
نین آپ ہوش میں تو ہیں..” احمر اسکے ارادے جان کر پریشان ہو اٹھا… اچانک ہی اسنے نین کو دونوں شانوں سے تھام کر جھنجھوڑا… تو نین کا حجاب کھل گیا… احمر وہیں تھم گیا.. نین بھی جزبز ہوئ اور فورا اس سے دور ہوی
بیہودہ انسان..” وہ غصے سے… تپ اٹھی.. احمر. دور ہوا..
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی” احمر نے کہا تو.. نین نے گھورا…
تم مجھے نہیں روک سکتے.. یہ تو اب میں کروں گی.. اور دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ہے “وہ باہر نکلنے لگی..
نین کیا ہو گیا ہے آپکو…
اپکی یہ حرکتیں جانتیں ہیں آپکو کس مصیبت میں ڈال دیں گی “وہ… اسکا ہاتھ تھام گیا….
تمھیں میرے سر ڈال کر مصیبت تو ڈال دی.. اب.. جو میرا دل کرے گا میں وہ کروں گی.. میرا سکون برباد کر کے تم اور داجی سکھ سے جی لو گے تو.. یہ تمھارا وہم ہے…….” وہ سنجیدگی سے کہتی.. اپنا ہاتھ چڑھا گئ…
اتنا بھی برا نہیں ہوں میں نین”احمر… کے دل کو کچھ ہوا تھا.. دکھ الگ تھا.. کہ اس لڑکی کے پاس اسکے لیے گنجائش نہیں….
بےزمیر ضرور ہو… اور یہی بات تم سے نفرت دلاتی ہے… “وہ کہہ کر.. اسکا ہاتھ جھٹک کر.. وہاں سے نکلی… احمر ساکت تھا….
اتنی نفرت… وہ تو.. اتنی محبت کرتا تھا اس سے.. کہ.. اسکی آنکھیں چیخ چیخ کر اسکے عشق کی گواہی دیں.. اور.. اسکے دل تک اسکی پکار پہنچ ہی نہیں رہی تھی…. اسنے… اپنے جزبات کو پرے دھکیل کر سب سے پہلے باہر دیکھا…. شکر تھا کہ ہال میں کوئ نہیں تھا.. مگر اسکو اپنے قدم من من بھاری لگے
………………
معاویہ داجی کے کہنے پر سامان.. لے آیا تھا.. اور وہی دینے.. وہ.. زنان خانے میں آیا.. تو… وہاں… تو کوی نہیں تھا اسے غصہ الگ آیا… تبھی وہاں سے نین گزری…
ایک فولادی نظر معاویہ پر ڈال کر… وہ.. وہاں سے طوفان کیطرح گزر گی.. معاویہ.. تو.. اس ادا پر محظوظ بھی نہ ہو سکا کہ.. اب.. وہ صرف لڑکی نہیں تھی احمر کی بیوی تھی…
اسنے.. سامان وہیں پٹخا.. ساری رات داجی کی جان.. بہرام نے برباد کی.. اور صبح ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی.. داجی کے اڈرز آ گئے..
وہ ابھی پلٹتا.. کہ کوی گنگناتا.. ہوا… پیچھلے لون میں سے گزرا… معاویہ کو.. وہ گنگناہٹ.. بہت بھلی لگی مگر اگنور کرتا ابھی وہ آگے بڑھتا.. کہ.. وہ جو بھی تھی ہال میں آ گی….
اور اچانک معاویہ کو دیکھ کر.. اسکی چیخ نکل گئ…
معاویہ کے تیور بگڑے….
ایک تو نیند بہت آ رہی تھی.. اوپر سے وہ کوئ بھوت تھا جو اسکو دیکھ کر چیخ ماری جاتی..
اس سے پہلے وہ.. پری وہاں سے بھاگ اٹھتی.. معاویہ کی آواز نے اسکے قدم پکڑ لیے…
نام کیا ہے تمھارا “وہ سنجیدہ سا بولا…
انوشے… کا دم نکلنے لگا.. اسنے اچھی طرح خود کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا…
کچھ پوچھا ہے میں نے زبان کرایے پر دی ہے” وہ پھر بولا.. مگر انوشے کے الفاظ حلق میں ہی دم توڑ رہے تھے جبکہ.. خوف الگ تھا.. ویسے ہی وہ حویلی کے مردوں سے خوب ڈرتی تھی…
بولتی ہو.. یہ…. تمھارا سر پھوڑوں” اسنے واس اٹھا کر.. انوشے پر جیسے ہی تانا….
بڑی بڑی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں جبکہ.. ان میں موٹے موٹے آنسو… ہاتھ کانپ اٹھے اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ نے… اسکے ہاتھ سے.. نقاب چھڑوا دیا… معاویہ اس نو عمر کلی کو غور سے دیکھنے لگا….
جس کے چہرے کا ہر نقش اپنی مثال آپ تھا…
ماشاءاللہ “اچانک اسکے منہ سے نکلا…
اور واس سائیڈ پر رکھ دیا… لبوں پر مسکراہٹ.. آ گئ…
نام بتاو” مصنوعی بل ڈالے پوچھا.. خود سے خوف کھاتی وہ لڑکی اسے بہت اچھی لگی.. اندازاا تو ہو گیا تھا کہ وہ انوشے ہے.. کیونکہ.. نین سے چھوٹی.. وہی تھی.. اور.. حویلی کی سب سے چھوٹی.. لڑکی تھی.. اور اسکا چہرہ معصومیت چیخ چیخ کر یہ بات کہہ رہی تھی کہ وہ وہی ہے..
ان… نو شے”بمشکل بولی…
اٹک کیوں رہی ہو” وہ غصہ کرتا اسکے نزدیک ہوا… انوشے نے قدم پیچھے لیے… رونا الگ آ رہا تھا…
وہ بچوں کیطرح ہونٹ نکال کر سسکنے لگی..
یہ عادت اس میں اور ارمیش میں ہی تھی…
معاویہ “معاویہ نے اپنا تعارف کرایا.. انوشے نے چونک کر اسکو دیکھا..
معاویہ محظوظ ہوا….
اور پھر.. اسنے ارد گرد دیکھا.. اور.. اوپر دوڑ لگا دی جبکہ.. معاویہ ابھی اسے اپنی نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا…
مگر وہ جا چکی تھی..
یہ بھی ٹھیک ہے.. بغل.. میں حسن پڑا تھا.. ہم شہر کے چکر لگایے نہیں تھکتے “وہ… بڑبڑا کر سر پر ہاتھ مارتا ہوا.. مردان خانے کی جانب چلا گیا..
…………….
جاری ہے
