Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

Epi 27
کاشان یہ فائل”وہ کہتے کہتے ایکدم رکا…
سامنے عابیر… اور وہ کسی بات پر ہنس رہے تھے.. مگر اسکو دیکھتے ہی ایکدم سنجیدہ ہو گئے…
کیا میں جان سکتا ہوں مس عابیر اپکا یہاں کیا کام ہے…
اسوقت اپکو.. ایک لائیو کانفرنس کوریج کے لیے جانا تھا.. اور رات… ایک سیاسی پارٹی کی کوریج… کام تو اپ کے پاس حد سے زیادہ ہے اسکے باوجود اپ یہاں پائ جا رہیں ہیں حیرت ہے مجھے”وہ کافی غصے میں لگا…
عابیر.. ایکدم الرٹ ہوئ…
اور اسے شرمندگی بھی ہوئ کچھ کچھ اسکے علاوہ واصف پر غصہ الگ ہی ایا.. کہ وہ بتا سکتا تھا بلا سکتا تھا.. اس سب میں اپنی غلطی اسے کہیں نظر نہیں ائ…
بھائ عابیر.. یاسر صاحب ہی فائل دینے ائ تھیں… ” کاشان خود ہی بولا… تو ارہم نے سر ہلایا..
گڈ تو باہر
. جو ںوید.. صاحب کھڑے ہیں انکو چوکیداری کے پیسے تو بلاوجہ دیے جا رہے ہیں میرے خیال سے جبکہ مس عابیر اچھے سے یہ کام کر رہیں..
شیٹ اپ” اس سے اپنے غصے پر قابو نہ ہوا…
تبھی بہت غصے سے چلائ…
جاننتے بھی ہو کس سے بات کر رہے ہو” وہ انگلی اٹھا کر بولی..
ارہم نے گھور کر اسکی جانب دیکھا.. کاشان نے سر تھام لیا..
بلاوجہ وہ اس ادمی سے بیڑھ کر اپنے گلے میں پڑ وا رہی تھی اسے…
میں اپنے افس کے ایک معمولی سے ایمپلوئیر سے بات کر رہا ہوں.. اور اس سے اگے اگر.. اپ.. کسی بادشاہ کی بیٹی ہیں. مجھے فرق نہیں پڑتا.. بات صرف اتنی ہے اپ اپنے کام سے کام رکھیں…
اسکے علاوہ ادھر ادھر اج کے بعد مجھے نظر مت ایے گا.. اور رات ہونے والی کانفرنس میں میں خود مدعو ہوں تو بہتر ہے. کے اپ اپنے کام پر دھیان دیں ورنہ مجھے ناکارہ لوگوں کی ضرورت نہیں”وہ اسے اچھا خاصا لتاڑاتا.. وہاں سےا بھی نکلتا کہ روکا
.. اور ہاں”
اج کے بعد نیچی اواز میں اور تمیز سے بات کیجیے گا.. یہ یاد رکھتے ہوئے کہ.. اپ کس سے بات کر رہی ہیں “اسنے سختی سے کہا اور کاشان کع اپنے روم میں انے کا کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا…
اف یار.. اب تمھاری وجہ سے میری کھینچائ بھی ہو گی..”کاشان جھنجھالایا ہوا سا لگا.. اور وہ بھی وہاں سے نکل گیا جبکہ وہ پیچھے اکیلی کھڑی تھی.. اج اسکے اندر ایک ععجیب سا احساس جاگا تھا.. ایسا احساس کہ اس لڑکی کی.. آنکھیں بھیگ گئیں تھیں.. وہ کبھی اتنی سختیوں کی عادی نہیں تھی اور ندیم صاحب اسکو.. بہت اچھے سے رکھتے تھے.. تبھی اسے یہ سب بہت. رجیب سا لگ رہا تھا.. ایسا لگا کہ یہ اسکا افس ہے ہی نہیں.. جہاں وہ کتنے ارام سے کام کرتی تھی بغیر روک ٹوک کر…
دل جیسے اس جگہ سے.. جھنجھلا ہی گیا…
مگر.. اپنے دل کو مارتی وہ کوریج کرنے کے لیے واصف کے پاس ا گئ..
کیا ہوا”اسکا اترا ہوا سا چہرہ دیکھ کر پوچھا…
کچھ نہیں” عابیر نے کہا.. تو واصف نے اسکی جانب دیکھا..
مجھے لگ رہا ہے تمھیں تمھارے عاشق کی یاد ا گئ”وہ ہنسا جبکہ عابیر نے خونخوار نظروں سے واصف کو دیکھا.
واصف اپنی زبان سنبھالو مجھے مزاق میں بھی یہ بات نہیں پسند” وہ سنجیدگی سے بولی..
ہار وہ تمھارا شوہر ہے میں نے صرف مزاق کیا ہے”واصف نے کہا تو وہ خاموش ہو گی..
مگر ایک پل کو اسنے بہرام کے بارے میں سوچا.. کبھی اسنے.. اس طرح بات نہیں کی تھی اس سے جیسے ارہم نے دو منٹ میں اسکی عزت کر دی تھی..
مگر وہ بھول گئ تھی.. وہ خود اسکے ساتھ یہ ہی کرتی رہی تھی.. مگر کچھ ہی دیر میں اسنے یہ خیال جھٹک کر کام پر توجہ دینا ضروری سمھجا…
………….
انکی شادی کو.. ہفتے سے زیادہ ہونے کو ایا.. تھا.. اور.. ارمیش.. جو پہلے بہرام کے رویے کو صرف.. ڈارامے سمھجہ رہی تھی اب حیران ہوتی تھی ایک ہی خون.. اور اتنے مختلف مزاج مگر اسکی جھجھک
. کم نہیں ہوتی تھی…..
اور شاید اتنی جلدی اسکے اندر کا خوف اور جھجھک اسکی جان نہیں چھوڑنے والا تھا…
وہ اسی طرح سو رہا تھا جبکہ. وہ.. خاموشی سے اسکی جانب دیکھنے لگی..
سفید چہہرے پر کھڑی ناک… بہت خوبصورت تھی..
جبکہ اسنے محسوس کیا.. اسکی لاشیز.. کچھ زیادہ ہی.. بڑی خم دار اور گھنی ہیں….
جبکہ انکھ کے نیچے عجیب سی سرخی تھی.. پہلے تو ان دونوں نے ایک دوسرے کو کبھی دیکھا نہیں تھا.. تبھی اسے پہلے کا نہیں پتا تھا.. مگر اب.. جب سے وہ ایک ساتھ تھے وہ یہ سرخی اسکی انکھ کے نیچے دیکھ رہی.. تھی…
لب اسکے سیاہی مائل تھا.. جو اسے اندازا تھا… شراب نوشی.. کی وجہ سے.. ہیں ا2ر شاید وہ سیگریٹ بھی کافی پیتا تھا…
حیدر شراب سیگریٹ.. اتنی نہیں پیتا تھا.. شاید سیگریٹ تو کبھی نہیں جبکہ شراب بس ایک بار اسنے اٹھوائ تھی مگر پی تھی یہ نہیں… وہ نہیں جانتی تھی..
اچنک وہ چونک اٹھی وہ اسکے بارے میں کیوں سوچ رہی تھی
.
وہ شخص یہ اس سے اب اسکا کوئ تعلق نہیں تھا.. پھر کس طرح وہ اسے سوچ سکتی تھی…
اسنے حیدر کی جانب سے اپنا خیال جھٹکا
. اور کلاک کیطرف دیکھا…
اسکا کمرہ کافی خوبصورت تھا… جگہ جگہ اسکی تصویریں لگیں تھیں.. جبکہ کمرے میں حد سے زیادہ روشنیوں کا عمبار تھا..
اسکے علاوہ اس کمرے کا
. لائٹ ڈارک بلو کے ساتھ وائٹ کا کمبینیشن.. بہت.. برائیٹ سا لگتا تھا..
وہ شاید اج اس کمرے.. کو… اور اسکے مالک کو توجہ سے دیکھ رہی تھی…
اسکے بازو مظبوط تھے…
صحت مند… جیسے کافی کسرت کرتا ہو…
ڈھیلی سی شرٹ اسکے.. بازوں کے اوپری حصے میں پھنسی ہوئ.. تھی گیرے بلیک شرٹ میں
وہ.. بلیک بالوں کو بکھیرے.. خود سے بھی بیگانہ پڑا تھا… جبکہ گیرے ہی ٹروازر پہنا تھا.. وہ بہت سوتا تھا…
جبکہ ارمیش کو اس حرکت سے.. اب کافی الجھن ہوتی تھی.. اب وہ اس سے پوچھ تو نہیں رہی تھی کہ وہ باہر جائے یہ نہیں…
مگر… جب.. وہ اب.. باہر سے… کمرے میں ائ تو.. وہ اب بھی صبح کی نیند کے مزے لے رہا تھا.. جبکہ
.. رات کے.. نو بجنے والے تھے…
وہ رات بھر کیا کرتا تھا.. وہ جانتی تھی…
مگر یہ بھی کوئ زندگی ہوئ..
فجر کی نماز اپنے کانوں سے سنو.. اور پھر بھی.. یوں ہی کین کی کرسی.. سے سر ٹیکائے… حرام پیتے رہو….
صبح کے سورج کی کرنوں کو.. خوشامدید کہہ کر وہ بستر پر اندھا لیٹتا…
اور پھر ایسا سوتا کہ.. مغرب میں اٹھتا.. جبکہ اج تو.. اسنے نو بجا دیے تھے…
وہ لاشعوری طور پر اسکے بارے میں سوچے جا رہی تھی…
کالام کا موسم ویسا ہی تھا.. جیسا ہمیشہ سے ہوتا تھا…
اسمان پر سیاہ رات.. بسیرہ کیے ہوئے تھی جبکہ وہ شخص بے ہوش تھا…
اسنے ایک نظر پلٹ کر دیکھا.. وہ اندھا کیوں سوتا تھا.. کتنی گندی عادت تھی یہ..
اوپر سے… کمبل.. بھی سارا پھیلا دیتا تھا…
اسکی عادات میں ٹھیراو نہیں تھا….
اسنے.. ایک پل کے لیے سوچا اور پھر باہر دیکھنے لگی..
بلکونی.. میں ہلکی پھلکی سی ٹھنڈک بہت اچھی لگ رہی تھی..
تبھی اسے احساس ہوا.. اسے کوئ دیکھ رہا ہے..
اسنے چہرے کا رخ پلٹا.. تو.. ایک لمہے کو ڈر گئ…
حیدر تھا… کافی غصے سے.. گھور رہا تھا..
اسے یاد ایا.. حیدر کبھی اسے بلکونی تک پہنچنے نہیں دیتا تھا…
اسکی آنکھوں میں خوف اترنے لگا.. حیدر چلتا ہوا… اگے ایا…
اسکے کھلے بالوں کو.. غور سے دیکھا.. ارمیش کا دل بری طرح… ڈرا تھا.. جبکہ اس سے پہلے وہ نکلتی…
وہاں سے حءدر نے اسکا نام پکارہ…
ارمیش کے ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے…
بات سنو میری… “حیدر کی اواز مدھم تھی بہرام کی اس عادت کو کہ وہ پورے پورے دن سوتا ہے.. کون نہیں جانتا تھا
تبھی وہ اس سے مخاطب ہوا تھا…
ارمیش.. کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا..
وہ شخص ہمیشہ صرف اسکو ذلیل کرتا تھا.. اور اس وقت بھی وہ صرف اسے رسوا ہی تو کر رہا تھا کہ وہ جانتا تھا کہ وہ کسی اور کی بیوی ہے..
اور وہ. اس شخص کی موجودگی میں اسے بلا رہا تھا.. وہ بھی چوری چھپے…
ہم نے چھوڑا… تو بہرام سے کر لی.. کیا یہ کہیں پہلے سے تو چکر نہیں تھا “اسنے اپنی زبان کی تلخی نکال ہی دی…
ارمیش کا دل ڈوب کر ابھرا…
وہ کچھ نہیں بولی.. ایسے ہی پشت کیے ہوئے تھی
ویسے بڑے نخرے نہیں ا گئے تم میں میرا بچے سے بھی جان چھوٹی.. اور.. ایک پریمی بھی مل گیا” وہ اپنی بھڑاس نکال رہا تھا.. ارمیش کی ہچکی بندھ گئ…
……………..
بہرام کے کانوں میں سسکی کی اواز پڑی تو… وہ زرا جھنجھلا کر اٹھا.. شاید اسکی نیند بھی پوری ہو گئ تھی.. اسنے اٹھتے ہی بالوں میں ہاتھ پھیرہ…
اور کمرے میں نگاہ گھمائ تو.. وہ سامنے بلکونی میں نظر ائ.. اسکی آنکھیں بند تھیں جبکہ.. چہرہ آنسوں سے تر اور سر جھکا ہوا تھا.. وہ… اکتایا….
اور پاوں میں چپل اڑیس کر.. وہ. اسکی جانب چلنے لگا اور پیچھے حیدر کو دیکھ کر اسے معملہ سمھجہ ا گیا جبکہ… اسکے لہو میں شرارے دوڑ گئے…
ارمیش کو گھور کر… اسنے بلکونی میں قدم رکھا تو…
حیدر ایکدم پیچھے ہوا…
اور اس سے پہلے وہ اسپر.. جھپٹتا یہ کوئ ایکشن لیتا وہ وہاں سے فرار ہو گیا..
اسے حءدر کی یہ حرکت نہایت چیپ لگی جبکہ ارمیش پر بھی جی بھر کر غصہ ایا…
اسنےا سکا ہاتھ تھاما.. اور اندر روم میں لا کر.. اسنے بلکونی کا دروازہ بند کر دیا…
میں نے کچھ نہیں کیا”بہرام کا جارہانہ انداز دیکھ کر.. اسنے نفی کی اسے لگا وہ اسے مارے گا..
میں نے کہا ہے کہ تم نے کچھ کیا ہے… تمھیں رونے سے فرست ملے تو.. تم کچھ کرو گی…” وہ ایکدم غصے سے بولا تو ارمیش کو مزید رعنا ایا..
شیٹ شئٹ اپ”وہ.. دھاڑا…
تو.. وہ ایکدم چپ ہوئ..
اس.. ادمی کی بات سننے بھی تم کیوں روکی…
ایک بات میری سن لو.. اج کے بعد یہ تمھیں روکے یہ بات کرنے کی کوشش کرے تو.. ایک کھینچ کر لگا دینا.. اسکے بعد میں خود دیکھ لوں گا..” وہ اسکے دونوں بازو جھنجھوڑتا اسے باور کرا رہا تھا…
ارمیش کو مزید رونا.. ایا..
ارمیش میرا میٹر مت گھوماو… چیڑ ہو رہی یے مجھے تمھاری بزدلی سے” وہ غصے سے اسے جھٹک کر وہاں سے چلا گیا جبکہ حیدر کو تو وہ اب اچھے سے دیکھ لے گا وہ سوچ چکا تھا..
وہ شخص اسکے رونے سے سکون محسوس کرتا تھا جبکہ اس کو اسکے رونے سے چیڑ تھی…
ارمیش وہیں زمین پر بیٹھ کر رو دی….
………………..
اج ایک پارٹی میں اسے جانا تھا…
تبھی وہ.. تیار ہو کر باہر نکل ایا.. ارمیش کمرے میں نہیں تھی…
اچھا ہی تھا وہ چلی گئ تھی ورنہ اسکا بلاوجہ رونا ضرور بہرام.. کو کسی غلط قدم پر اکساتا…
ہونٹوں میں سگریٹ دبا کر وہ داجی کے پاس ایا.. وہاں سب بیٹھے تھے اور معاویہ.. ایک پنچیت کا فیصلہ کر کے ایا تھا جسے سب ہی ڈسکس کر رہے تھے.. وہ وہاں ایا اور داجی سے پیار لے کر اسنے حیدر کو دیکھا…
وہ بھی ان میں بیٹاھ تھا اور ڈھٹائ سے.. اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا..
بہرام نے ہونٹوں میں سے سگریٹ نکالی…
داجی… “اسنے پکارہ تو سب نے اسکی جانب دیکھا…
جی دادا کی جان” داجی تو نہال ہوئے..
اس وحیلی میں نئے انے والوں کو سمھجا دیں کہ اپنی اوقات میں رہیں.. انکے لیے یہ ہی بہتر ہو گا.. ورنہ بہرام خان.. سب اپنی مردانگی عورت پر ہی نہیں دیکھاتا”اسنے حیدر کی انکھ میں انکھ ڈال کر.. گھورتے ہوئے کہا.. وہاں سب سمھجہ چکے تھے جبکہ سناٹا بھی چھا گیا…
کچھ دیر یوں ہی خاموشی رہی… جبکہ داجی نے… ہی بہرام کا ہاتھ تھاما…
جان دادا…. ہمیں پتا.. ہے.. اپ وخد کی اور جود سے جڑے رشتوں کی حفاظت کر سکتے ہو…” وہ مان سے بولے جبکہ ھیدر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا…
کہاں جا رہے ہو” اسکے جاتے ہی داجی مسکراے…
پارٹی ہے ایک.. اپکے. پی ایے نے ہی اطلاع دی ہے… “اسنے کہا…
تو داجی نے سر ہلایا…
بہرام بھی وہاں سے نکلتا کہ.. ایک دم رکا..
وہ ساری رات نہیں ائے گا.. وہ جانتا تھا..
جبکہ ارمیش.. اس کمرے میں اکیلی ہو گی.. اور.. بلکونی کے جڑی بلکونی.. میں حیدر..
اسے کچھ اچھا احساس نہیں ہوا….
تو وہ الٹے قدم پمتا
.
کیا ہوا “سب نے اسکی طرف دیکھا..
کچھ نہیں..” اسنے کہا اور زنان خانے کیطرف ایا…
جہاں انوشے اور نین کسی بات پر بھس کر رہیں تھیں.. جبکہ ارمیش بی جان کے پاس.. بیٹھی تھی..
جبکہ انکی گود میں سر رکھا ہوا تھا.. اور وہ اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہیں تھیں اسے دیکھ جر سب.. رک گئے جبکہ ارمیش اٹھ کر بیٹھی..
اٹھو تمھیں میرے ساتھ چلنا ہے”اسنے.. اسکی جانب دیکھتے ہوئے کہا.. ارمیش کا منہ کھل گیا…
م… میں” وہ حیران ہوئ..
یہاں تمھارے علاوہ میری کوئ بیوی نہیں “بہرام نے زرا زیچ ہو کر کہا.. اسے ارمیش کی عادت بلکل اچھی نہیں لگ رہیں تھیں…
جاو بیٹے وہ بلا رہا ہے” بی جان نے ہی کہا تو وہ مرے مرے قدموں سے اٹھی…
بہرام نے اسکا ہاتھ تھاما… اور تیز تیز.. چلتا اسے لے کر وہاں سے اندھی طوفان کیطرح نکلا.. جبکہ اسطرح اسک الے جانا.. داجی ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے.. مگر وہ.. روکتا تو کوئ اس سے سوال کرتا.. وہ تیز ہوا کی مانند اسے وہاں سے لے کر نکل گیا…
……………………
پورے راستے ارمیش شدید کمفیوز تھی..
چیڑ ہے مجھے تم جیسی لڑکیوں سے “بہرام کی غصے بھری اواز پر اسکی انکھ نم ہونے سے پہلے ہی اسنے.. اسے اپنی جانب کھینچا جبکہ.. گاڑی کے سٹیرینگ چھوڑ.. کر… اسنے سپیڈ تیز کی..
بہرام کے ہاتھ کے نیچے ارمیش کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا…
وہ آنکھیں کھولے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جبکہ بہرام بھی اسی کیطرف دیکھ رہا تھا…
کیسی دو لڑکیوں سے اسکا پالا پڑا تھا..
ایک… زمین تھی تو دوسری اسمان…
ارمیش سائیں…. اج کے بعد مت رونا….
رونا ہر مسلے اور ہر بات کا حل نہیں…. “اسنے… اہستہ اہستہ اپنے پاوں سے سپیڈ کم کرتے ہوئے… اسکے چہرے پر ایے بالوں کی لٹ پیچھے کی…
اور اسکی ٹھوڑی کو پکڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانکا..
بتاو اب کسی بات پر رو گی.. اور اگر تم ہاں میں جواب دو گی تو.. یہ گاڑی تم سمیت اس کھائ میں پھینک کر ہاتھ جھاڑ دوں گا.. کیونکہ تمھارے جیسے خود ترسی کے مارے ہوئے لوگ.. سمبھلتے نہیں تو.. موت.. ہی بہتر ہے انکے لیے “وہ بڑی نرمی سے… اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھتا.. اسے ڈرا گیا…
ارمیش تو پہلے ہی اسکی قربت پر دم نکل رہا تھا.. اور اسکی باتیں…
بتاو.. شاباش.. کھو. اب نہیں رو گی” اسنے.. اسکے چہرے کو.. مزید نزدیک کیا. اسکے جسم کی کپکپاہٹ تو اسے محسوس ہو رہی تھی ارمیش کے رنگ اڑ رہے تھے.. تبھی وہ جلدی سے بولی..
اب.. اب نہیں رو گی… چ.. چھوڑ دیں پلیز” اسنے آنکھیں تیز تیز.. جھپکتے ہوئے کہا.. تو بہرام مدھم سا مسکرایا…
کیوٹ… “اسنے اسکے گال پر چٹکی کاٹی اور اسکو چھور دیا.. ارمیش.. کو ڈر تھا وہ اسکی دھک دھک نہ سن لے جبکہ بہرام.. بلکل نارمل تھا.. کیسے..
کیا وہ بہت گھیرہ تھا…
کیا.. وہ اپنے جزبات چھپا لیتا تھا…
کس طرح… وہ خاموش ہو گئ جبکہ جانتی نہیں تھی کہ گاڑی کہاں جا رہی ہے….
خاموش گاڑی میں کچھ لمہوں بعدد… موبائل کی ٹون بجنے لگی…
بہرام نے.. موبائل کی سکرین دیکھی..
اٹھاو فون “اسنے.. حکم جاری کیا.. تو وہ.. لاشعوری طور پر ھیرت سے اپنی جانب انگلی کرنے لگی تو.. وہ ائ برو اچکا گیا..
کیا یہاں کوئی اور بھی ہے” اسنے سرد سے لہجے میں پوچھا تو وہ.. سٹپٹا کر.. فون اٹھا گئ..
مگر چلتا کیسے تھا اسے معلوم نہیں تھا.. اول تو حویلی میں کسی کے پاس موبائل نہیں تھا.. اور دوسرا…
حیدر اسے موبایل کی شکل بھی نہیں کبھی دیکھاتا تھا…
اسنے کانپتے ہاتھوں سے شدید اناڑی انداز میں موبائل تھام کر.. معصومءت سے اسکی جانب دیکھا…
تو بہرام نے.. گاری کو اٹومیٹک مود پر ڈالا.. اور.. اسکی انگلی سے موبائل کو ریسیو کیا.. ارمءش کے چہرے پر انوکھی سی خوشی چھائ…
بہرام.. نے موبائل کو سپیکر پر ڈالا…
ارمیش کے چہرے پر عجیب سی خوشی تھی…
رام.. ڈارلنگ مائے بوائے… کہاں ہو.. اہ اٹس ٹو مچ ٹائم ڈارلنگ ملو نہ پلیز”بڑی دلکش سی اواز تھی وہ فوراً پہچان چکا تھا پہلی بار ہاں شاید پہلی بار بہرام کے رنگ فق ہوئے تھے…
اسنے ارمیش کی طرف دیکھا…
وہ… موبائل سائیڈ پر رکھ چکی تھی…
بہرام کا دل کیا.. اس لڑکی کا سر پھاڑ دے…
وہ پہلی بار کنفیوز ہوا تھا…
………………..
جاری ہے