Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
صبح کافی چمکدار تھی… اسکی انکھ کھلی تو وہ اس سے کافی فاصلے پر تھی جبکہ.. بیچ میں گاو تکیہ حائل تھا.. اسکے لیٹے لیٹے ہی ماتھے پر بل ڈلے….
اور گھڑی کی جانب دیکھا.. جو صبح.. یہ شاید.. دوپہر کے 12 بجا رہی تھی… مگر یہ اسکے نزدیک کافی صبح تھی…
جبکہ وہ بھی سوئ ہوئ تھی.. اسکے کمبل سے علیحدہ کمبل میں تھی جبکہ اے سی.. کی فل ڈھنڈک میں وہ کافی پرسکون دیکھائ دے رہی تھی…
مگر بھلہ جس کے ساتھ بہرام خان ہو وہ سکون سے کیسے رہ سکتا تھا..
اسنے وہ گاو تکیہ بیچ سے ہٹا کر لات مار کر زمین پر گیرایا…
اور اسکا بلنکیٹ بھی اسپر سے کھینچ دیا وہ کافی گھیری نیند میں تھی ہلکی سی بھی جنبش نہ کی..
بہرام نے داد دی.. یعنی اس سے زیادہ ڈھیٹ نیند بھی کسی کی تھی…
اسنے.. بالوں میں ہاتھ پھیرہ…
اور.. اسکی پشت کی ہوئ کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسے اپنی جانب کھینچ کر وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا…
ارمیش کی پشت بہرام کے سینے سے لگی تھی.. جبکہ اسکے لمبے بالوں کی چوٹیا.. اب ان دونوں کے بیچ تھی.. اسنے وہ چوٹیا ہاتھ میں لی وہ کوئ ناگین ہی لگی اسے..
اف “اسنے فورا پھینک دی….
اور پھر اسکا چہرہ دیکھا.. جو.. بے داغ چمکتا ہوا تھا.. جبکہ اسنے ایک اور چیز بھی اسکے چہرے پر دیکھی.. جو اسے کافی انوکھی لگی یہ اج وہ اسے.. تفصیل سے دیکھ رہا تھا.. یہ وہ چند لمہوں کے لیے یہ بھلا بیٹھا تھا.. کہ عابیر بھی تھی…
اسکی ناک میں معمولی سا سونے کا نگ تھا مگر وہ چمک نہیں رہا تھا.. اج تک جتنی لڑکیوں سے وہ ملا کسی کے چہرے پر اسنے ایسا نگ نہیں دیکھا… تھا..
اسے وہ کافی اچھا لگا.. کبھی. لاشعوری طور پر.. اسکی انگلی اس نگ تک پہنچی.. اور اسکی ناک پر سطر کھینچنے لگی…
ارمیش نے معمولی سا احتجاج کیا اور اور کچھ دور کھسک گئ..
بہرام نے آنکھیں گھمائ…
اور دوبارہ اسکے نزدیک ہو کر وہ اب اسکے گالوں پر سطر کھینچ رہا تھا.. کافی عرصے بعد اسکے گالوں کے گڈھے دیکھائ دیے تھے…
ارمیش جھنجھلائ…
بہرام کو لگا وہ اٹھ جائے گی… مگر وہ اسکی جانب کروٹ لے چکی تھی جبکہ چہرے پر بازو رکھ لیا…
اسکی جانب کروٹ بدلنے سے… اسکی گردن… اسکا شکار بنی… اور جب…. وہ اپنی لمٹ سے باہر نکلا… تو ارمیش جھٹکا کہا کر اٹھی… وہ اچانک اسکو پانے اتنے قریب پا کر.. وہ اپنی دل کو نہ سمبھال سکی جو.. بے تابی سے دھڑک رہا تھا…
اپ اپ.. کیا کر رہے تھے”وہ.. حیرانگی اور کچھ غصے سے بولی.. بہرام نے اسکے معمولی سے غصے پر تالی بجائ..
واو.. مطلب خود میرے قریب ا رہی ہو.. اور پوچھ رہی ہو میں کیا کر رہا تھا” وہ بھی اٹھ کر بیٹھا… اور بیک کراون سے ٹیک لگا دی…
ک.. کیا مطلب میں قریب ائ… یہاں پر تو “اسنے ارد گرد دیکھا.. جہاں تکیہ موجود ہوانا چاہیے تھے مگر وہ زمین پر پڑا تھا.. وہیں اسکا دوپٹہ اور بلنکیٹ بھی تھا…
وہ ہڑبڑا کر دوپٹے کیطرف بڑھتی بہرام نے اسکی کلائ تھام لی..
محرم ہوں تمھارا” ارمیش کو اسکی اواز میں کافی سختی محسوس ہوئ.. تبھی.. وہ یوں ہی دھڑکتے دل اور شرم و حیا سے پانی پانی ہوتی بیٹھی رہی…
ہاں تو تم میرے قریب سوئ رات وہ بھی اسطرح
. واہ یار بولڈ ہو کافی” اسنے جان بوجھ کر.. اس سے پنگا لیا.. اور وہ بھی ایسا کے اسکی کمر پر دھپ سے.. تھپڑ مارا…
ارمیش کا منہ کھل گیا…
وہ تو ایسے بات کر رہا تھا
. جیسے وہ دونوں بچپن کے بچھڑے ہوئے جگری یار ہوں…
ج… جھوٹ” ارمیش نے نفی کی..
میں نے تو یہاں تکیہ رکھا.. تھا “وہ روہانسی ہوئ تکیہ ہٹا کیسے تھا..
اوووو اچھا… اور دوپٹہ
. اور کمبل بھی.. ہے نہ “وہ بے یقینی سے کہنے لگا.. ارمیش کو تو رونا ہی ا گیا…
اسنے ایسا بلکل نہیں کیا تھا…
بہرام… کو ہنسی ائ اسکی رونی صورت دیکھ کر…
چھوٹی دنیا….
عقل.. کیا حویلی کے کسی طے خانے میں رکھ کر ائ ہو…
انسان کی شکل ہی بتا دے وہ کیا بول رہا ہے..
اور اف” اسنے.. اسنے شانے اچکائے… اور بستر سے اٹھا…
ارمیش کو.. شرم سی ائ تبھی وہ نہ محسوس انداز میں دوپٹہ اٹھا چکی تھی…
بہرام نے دیکھ تو لیا تھا.. مگر وہ کچھ بولا نہیں…
سنو… تم نہ جلدی سے
دس منٹ میں تیار ہو… یہ تمھارے بال کتنے لمبے اور موٹے ہیں… مجھے تو ڈر لگ گیا اج”وہ کافی نارملی… اپنی وارڈ روپ سے کپڑے کھینچتا.. کہنے لگا…
ارمیش کو شرمندگی ہوئ.. اور دوسرا وہ اپنا ڈریس خود نکال رہا تھا. وہ.. دریس نکالنے اسکے پاس ائ..
میں نکال دیتی ہوں” اسنے کہا کیونکہ حیدر کبھی وارڈروپ میں خود نہیں بڑتا تھا…
کیوں میرے ہاتھ پاوں کرائے پر گئے ہیں” بہرام نے الٹا ہی جواب دیا اسے مزید شرمندگی ہوئی…
تم مجھ پر دھیان دینے کے بجائے خود پر دو… اور دس منٹ میں ریڈی ہو… پھر چلنا ہے کہیں اسنے کہا.. اور.. معمول کی طرح اسکا گال.. دو چٹکیوں میں بھر کر واشروم چلا گیا..
جبکہ پیچھے.. وہ یہ بات بھلائے کی اسکی نظر اسکے بالوں پر ا چکی تھی.. وہ.. ایک بار پھر بہرام اور حیدر.. کے بیچ مقابلہ کرنے لگی تھی…
حیدر ہمیشہ… یہ بات اسے کہتا تھا.. کہ وہ اسکا مسلہ ہے.. اور وہ اسپر دھیان دے.. اس بیچ اسکی زات کہاں تھی اسے پرواہ نہیں تھی..
مگر.. اج وہ شخص خود پر سے اسکی توجہ ہٹوا کر.. اسپر کرنے کو بول گیا تھا…
وہ کافی الگ تھا….
زرا…. موڈی سا….
یہ شاید جیسا دیکھتا تھا ویسا نہیں تھا…
وہ بیقوقت حساس بھی تھا.. سنجیدہ بھی.. اور کچھ کچھ فنی بھی…
کیا ایک مرد کو یہ سب باتیں مکمل کرتیں ہیں…
یہ عورت کے لیے.. مرد تبھی مکمل ہوتا ہے.. جب وہ… اسکا بس خیال رکھے.. اسکا احساس کرے…
شاید ان ہی دو باتوں میں.. ایک عورت کی دنیا بسی ہے.
……………………….
اسے اگر زرا سا بھی اندازا ہوتا کہ وہ شخص اسکے ساتھ اتنا برا سلوک کرے گا تو وہ ضرور مر جانا پسند کرتی نہ کے اسپر.. بلاوجہ اعتبار کر کے منہ اٹھا کر اسکے ساتھ کہیں بھی چل پڑتی…
شیشے میں موٹی موٹء سرخ آنکھوں نے ایک بار پھر.. اپنے لئیر میں کٹے بالوں کو دیکھا.. اور پھر دھواں دار رو دی.. جبکہ بیوٹیشن.. بمشکل ہنسی روک پا رہی تھی.. اور بہرام…
وہ تنقیدی نظروں سے.. ا سکی کمر پر بکھرے بالوں کو دیکھنے لگا…
میم پلیز روے مت”بلاخر جب اسکے شوہر کو زرا بھی پرواہ نہ ہوئ تو بیوٹیشن خود ہی بولی…
میرے بال” وہ بچوں کیطرح ہونٹ نکالتی.. بیو[یشن کو کافی کیوٹ لگی.. وہ بے چاری خود غمزفہ ہوئ اور.. اسکی ادھی کٹی چوٹیا.. جو بہرام نے خود کاٹی تھی کیونکہ وہ بیوٹیشن سے کٹوا نہیں رہی تھی زمین سے اٹھا کر بڑے افسوس سے اسکے ہاتھ پر رکھ دی…
جبکہ ارمیش تو اسے سینے سے لگائے بری طرح رونے لگی..
کتنے بڑے تھے اسکے بال کتنی محبت تھی ان سے انھیں…
اسے رونے کے ساتھ اب بہرام پر غصہ بھی انے لگا.. تبھی چھوٹی سے ناک صاف کرتے وہ میرر میں تفصیل سے.. اسے گھورنے لگی…
انکو.. مزید کٹ کرو.. ابھی کچھ مزہ نہیں دے رہے “وہ بولا.. اور آنکھیں اسکے بالوں کی لنتھ پر تھیں… بیوٹیشن نے یس سر کہہ کر… مزید… سٹیپ ڈالنے کے لیے… کینچی اٹھائ.. تو.. ارمیش نے غصے سے… اسکا ہاتھ تھام لیا..
اگر اپ نے اب میرے بالوں کو چھوا بھی تو میں گنج کر دوں گی” وہ غصے سے تمتما رہی تھی.. اگر اس ڈھیٹ انسان پر اسکا بس نہیں چل رہا تھا تو.. وہ کسی اور پر تو چلا سکتی تھی..
بیوٹیشن نے بہرام کیطرف دیکھا.. جبکہ وہ.. اگے کو ایا…
چہرے پر سنجیدگی تھی تقریبا حال.. میں
سب ہی خواتین ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں.. وہ سب کے سامنے.. اسکے کان پر بڑی بے باکی سے جھکا..
ڈارلنگ سیریسلی.. اگر اب تم نے اپنے ان نازک ہونٹوں کو زرا سی بھی جنبیش دی.. تو میں انھیں بخشوں گا نہیں…. یہیں سب کا لحاظ کیے بغیر.. اپنے شوہر کی پاور سے تو تم واقف ہی ہو….
جب وہ لیڈیز پرلر میں ا سکتا ہے.. تو.. تمھارے لبوں پر سب کے سامنے ستم بھی ڈھا سکتا ہے.. تو مائے… لیڈی… بی کوائیٹ. “
وہ دور ہوا.. ارمیش تو سن رہ گئ…
وہ بولتے ہوئے مسلسل اسکے کان کی لو کو.. چھڑ رہا تھا… اور ارمیش کا اتنے میں ہی دم نکل گیا اور پھر اسکی دھمکی… وہ.. تو سر جھکا گی..
بیوٹیشن بھی اس… کمال پر اپنی ہنسی دباتی.. اپنے کام پر لگ گئ…
سر کلر… کون سا… چوز کریں گے… “اسنے کارڈ بہرام کے اگے کیا تو.. اسنے ریڈیش براون کلر چوز کیا…
اور ارمیش نے چور نظروں سے بہرام کیطرف دیکھا..
ڈارک مہرون کلر کی شرٹ اور جینز میں.. وہ بہت ڈیشینگ لگ رہا تھا.. اسکی بیوی ہی کیا سب ہی اسے چور نظروں سے دیکھ رہے تھے.. اسنے کہہ کر پھر سے.. ائینے کی جانب دیکھا اور تبھی ارمیش کی چوری پکڑی گئ.. وہ سٹپٹا کر.. نگاہ پھیرتی کے وہ اسکی جانب ایا.. اور اپنے کان سے.. ایک ائیر پوٹ نکال کر اسکے کان میں لگایا..
اور دوبارہ.. پیچھے.. صوفے پر بیٹھ گیا..
ارمیش.. بار بار اسپر ہاتھ مار کر دیکھتی کہ وہ کیا لگا کر گیا ہے..
اور پھر اچنک انے والے میوزک کی اوزا پر بری طرح اچھلی..
میم پلیز سیٹ ڈاون “بیوٹیشن اب کہ زرا غصے سے بولی..
بہرام نے بھی ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا.. اور سیل سے.. اواز ہلکی کی.. تو شاءد وہ اب کچھ کچھ سمھجہ گئ تھی..
اسے جی بھر کر اس بیوقوف لڑکی پر ہنسی ائ…
تقریبا چار پانچ گھنٹوں بعد… وہاں سے نکلنے والی بہرام کے ساتھ لڑک8 ارمیش بلکل نہیں تھی..
ریڈءش براون لیر شولڈرز سے کچھ نیچے.. سلکی بال… اور چہرے پر کیجول سا میکپ.. وہ تو جیسے سرے سے ہی بدل چکی تھی مگر.. حد سے زیادہ کنفیوز تھی کیونکہ اسنے چادر نہیں لی تھی.. تبھی وہ بہرام کے پیچھے چھپ رہی تھی..
بہرام نے پرکینگ میں گاڑی کو چیک کیا.. اور.. اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا.. خود دھوپ پڑنے کی بنا پر.. اسکے چہرے کے تصورات سیرے سے ہی بدل گئے تھے…
ارمیش اسے دیکھتی ہوئ بیٹھ گئ..
کتنے ہی لوگ ستائشی نظروں سے.. اس شاندار کپل کو دیکھ رہے تھے…..
… وہ گاڑی کو پرکینگ سے نکال کر.. اب ریلکس سا ڈرائیو کرتا اسے بھی دیکھنے لگا..
ڈونٹ بی کنفیوز… بہت خوبصورت لگ رہی ہو تم… ویسے مجھے پتہ نہیں وہ کیسے بنتا ہے.. بٹ اکثر.. میں نے لڑکیوں کو بال اوپر کے کر کے رفلی جوڑے میں دیکھا ہے..
تو.. وہ چیز مجھے کافی اٹرکٹ کرتی تھی.. “وہ زبان دباتا بات بدل گیا.. اب کیا بتاتا اس جوڑے کے علاوہ.. لڑکیوں کی لمبی گردن اسے کتنی اچھی لگتی تھی..
ارمیش نے نگاہ اٹھا کر دیکھا..
اپ اتنی توجہ سے دیکھتے تھے سب کو” بہرام ہنس دیا…
وہ بس زرا… “
جی.. ا گئ ہے سمھجہ..” اسنے کہہ کر.. گاڑی سے باہر دیکھنا شروع کر دیا..
بہرام دھیرے سے مسکرایا. تھا.. وہ بدل رہی تھی..
کافی.. حد تک.. وہ اسے.. حیدر کے فیز سے باہر نکال لایا تھا…
وہ چاہتا تھا اب وہ حوویلی جائے تو حیدر کی ٹھکرائ ہوئ ارمیش نہ کھلائے.. بلکہ وہ سر سے پاوں تک صرف مسز بہرام خان ہو…
یہ نیلز.. بھی بڑھاو اپنے… لڑکیوں کے اتنے سٹائلش نیلز ہوتے ہیں تمھارے کھال سے چیپکے ہوئے ہیں.. “اسنے ایک اور شوشہ چھوڑا ا..
ارمیش… نے سرد سانس کھینچ کر اسکیطرف دیکھا..
میں نہیں بڑھاو گی یہ مکرو ہے” اسنے کہا..
مطلب ہر بات میں.. خانم اپکو باجی بننے کا شوق ہو جاتا ہے “وہ جھنجھلا گیا..
اپ کتنی غلط بات کر رہیں ہیں… ” ارمیش تو احتجاج کرنے لگی..
بہرام.. نے.. ائ برو اچکا کر اسکی جانب دیکھا..
چونٹی کے پر نکل ائے ہیں” اسنے دل میں سوچا…
مگر کہا کچھ نہیں..
دیکھو لڑکی… جو کہا ہے وہ کرو” بہرام نے.. زرا رعب سے کہا..
میں.. نہیں” اسنے ہونٹ نکالے…
یہ حرکت لاشعوری طور پر اس سے سردزد ہوتی تھی.. اسکا نچلا ہونٹ نللتے ہی بہرام نے فورا کھینچ دیا…
اب نکالوں تم اسے” اسنے.. زرا گھور کر دیکھا..
جبکہ.. ارمیش.. پھر سے سرخ ہونے لگی..
بہرام.. نے نفی میں سر ہلایا اور سپیڈ بڑھا. دی..
…………………
شاید اج سے پہلے اسنے اتنا بڑا مال نہیں دیکھا تھا. وہ خود بھی کرن کے ساتھ گئ تھی مگر وہ ایسا نہیں تھا.. اسے لگا وہ یہاں گم ہو جائے گی…
تبھی اچانک ہی بہرام کا ہاتھ سختی سے پکڑ کر وہ چیپک کر اس سے چل رہی تھی..
سائیں گود میں اٹھا کر چل لیتا ہوں سارا وزن مجھ پر ڈالا ہوا ہے”بولا تو ارمیش.. خفت ذدہ سی.. دور ہوئ.. اور.. بہرام نے.. اسکا ہاتھ تھام کر…
ایک شاپ میں چلا گیا…
وہاں سارے ہی کپرے جینز شرٹ.. سے نیچے نہیں تھے.. اسے لگا شاید وہ اپنے لیے لے رہا ہے تبھی سب دیکھنے لگی..
مگر جیسے جیاے وہ اسکے ساتھ لگاتا.. ارمیش.. تو.. فق ہی رہ گئ..
میں میں یہ نہیں پہنو گی “اسنے.. بے چینی سے کہا..
کبھی وہ پے مینٹ ہی نہ دے دے…
دیکھو خانم ملے جھلے کپڑے پہنے چاہیے.. جب میں تمھارے یہ بے سرے بوسیدہ کپڑے برداشت کرتا ہوں تو تمھیں بھی.. میرے سٹائل اپنانا ہو گا… ” اسنے کہا تو وہ خاموش رہ گئ..
کیا کہتی وہ سن رہا تھا…
اپنی مرضی سے.. بہت کچھ لے کر.. وہ اب بوتیک کیطرف ایا.. اور اسے کھلا چھوڑ دیا..
جاو جو لینا ہے لے لو” اسنے سکون سے کہا..
میں میں “وہ ہچکچائ..
اپنے کپڑے کبھی خود لیے ہی نہیں تھے..
اور بہرام نے اسے کبھی کچھ نہیں لا کر دیا تھا..
بہرام.. نے دانت پیس کر اسکو دیکھا.. تو وہ آنکھیں جھپکنے لگی….
اور پھر.. وہ جو صوفے پر بیتھ رہا تھا اٹھ گیا..
اسکے لیے دریس پسند کرنے لگا.. یہاں بھی اپنی من مانی کر کے.. وہ لڈیز شاپ میں.. مزے سے داجل ہوا.. جبکہ پانے پیچھے دیکھا تو.. وہ غائب تھی..
وہ باہر ایا
. تو.. وہ سائیڈ ہر پیٹھ موڑے لاحول پرھ رہی تھی..
بہرام.. کو ہنسی تو جوب ائ مگر آنکھیں دیکھاتا.. اسے اندر کھینچ کر لے ایا.. اور وہاں بھی.. سب اپنی مرضی کر کے. اسنے اسے بیگز.. ہیل شوز…. دیلایے اور پھر.. جیولری شاپ سے بھی کافی کچھ دلوا کر.. اسنے… اسے ایک خوبصورت سے گھری دلوائ جبکہ ارمیش تو چوڑیوں کو دیکھ رہی تھی..
ی.. یہ نہیں وہ لینی ہیں “اسنے اہستہ سے کہا.. اور اتنے کہنے میں بھی اسے کافی شرم ائ.. بہرام نے چوڑیوں کو دیکھا اور.. اسکو گھورا..
گھڑی.. سٹائلش ہوتی ہے.. نہ کی چوڑیاں” اسنے کہا.. تو.. ارمیش نے.. افسوس سے دیکھا…
مگر مجھے چوڑیاں پسند ہیں “اسنے کہا…
فالتو پینڈو.. لگتی ہیں..” بہرام نے جراہ کی..
مگر مجھے پسند ہیں” وہ روہانسی ہو گئ.. وہ اسکی تو کوئی بات نہیں مان رہا تھا…
اور اس سے پہلے .. وہ رو دیتی.. بہرام نے نا چاہتے ہوئے بھی. اسکے دل کی بات کہہ ہی دی..
اچھا دلا دوں گا چوڑیاں…
رونے مت بیٹھ جانا.. “وہ بےزار سا کہتا.. اگے بڑھا.. ارمءش پہلی چیز پر خوش ہوئ تھی..
وہاں سے سامان لے کر.. وہ ابھی باہر نکلتے کہ ارمیش… نے اسکے بازو کو زرا سا جھٹکا.. پہلے ہی وہ سامان اٹھا کر.. غصے میں لگ رہا تھا…
وہ لینا ہے” اسنے بھالو نما ہیرن کیطرف اشارہ کیا..
تم کاکی ہو” بہرام کو غصہ ایا.. بھلہ کبھی اتنے شاپر اٹھائے تھے..
اسنے.. جبکہ دوسری طرف تو فرمائشی پروگرام کھلنے والا تھا..
نہیں مگر وہ اچھی ہے “اسنے پھر سے کہا جبکہ ایک قدم بھی نہ ہلی….
بہرام.. کا منہ دیکھنے لائق تھا..
چلو چلو.. بچپن جوانی بھڑاپے کی ساری حسرتیں اج نکال دینا” اسنے کہا.. تو اسکی بات پر پاس کھڑی لڑکیاں بھی ہنس دی جبکہ.. وہ شدت سے گھورتا.. اندرگیا اور اسکے لیے ہرن خرید کر اسکو دی.. ارمیش.. زندگی میں پہلی بار اتنا خوش ہوئ تھی….
………………..
کام سے فارغ ہو کر وہ گھر ائ…
تو مما.. کی طبعیت اسے کچھ خراب لگی..
خود کو سنوارنے میں وہ شاید سب کو بھلا چکی تھی…
مما “وہ بھاگ کر ان تک پہنچی…
انھوں نے اسکو دیکھا تبھی ریہا ا گئ..
مما اپ اندر چلیں” ریہا اسکا ہاتھ ہٹا کر مما کو اندر لے گئ…
عابیر کو ریہا پر کافی غصہ ایا..
تم سمھجہ کیا رہی ہو خود کو.. اور اتنے دن گزر گئے ہیں بدتمیزی کیے جا رہی ہو.. “عابیر.. غصے سے چلائ.. ڈرایینگ روم میں پلنگ پر ایک طرف اکبر صاحب جبکہ صوفے پر مما لیٹی تھیں..
کل میری بارات ہے.. اپ جانتیں ہیں” ریہا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا.
اپی اپ اپنی زندگی جی رہیں ہیں… صرف اپنی.. باقی کسی. کی زندگی میں کیا ہو اپکو پتہ کیا ہے..
مما کو شوگر ہو گئ ہے.. معلوم ہے اپکو….
اپکی پارٹی والی نائٹ پر… بابا کو.. مایینر ہارٹ اٹیک ہوا.. اپ جانتی ہیں… میں کیا. اپ سے کہوں… کہ اپ بہرام خان کے بارے میں کچھ جانتیں ہیں.. اپ تو اپنوں سے اسقدر دور ہو گییں ہیں کہ ہمیں ڈھونڈنا پڑ رہا ہے.. “ریہا نے نم آنکھوں سے اسکیطرف دیکھا..
جس کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہوا ہوا تھا…
مما” وہ اپنی ماں کے پاس ائ تو باپ کو دیکھا.. جو یوں ہی اسکو دیکھ رہے تھے…
اسکا دل ٹوٹ پھوٹ گیا..
ہاں سب نے اسکے ساتھ غلط کیا تھا..
اسے سب پر غصہ تھا اپنے گھر والوں پر بھی نہ باپ نے مانی نہ ماں نے سنی…
کیا وہ اسکا وقت کیا وہ وقت اسے یاد نہیں اتا تھا…
کیا اسکا دل نہیں تھا.. سب وہ بات بھلائے.. نارمل ہونا چاہتے تھے جبکہ وہ…
وہ شاید ایسی لڑکی تھی جو اپنی بے عزتی.. کو. اب تک.. برداشت نہیں کر پا رہی تھی..
مگر بدلا لینے میں کیا وہ.. سب کو بھول جائے گی..
ماں باپ تو اپنے ہیں اسکے…
اسکی آنکھیں بھیگ گئیں دل گفتہ سی وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے روم میں ا گئ..
اج ارہن سر کے بدلے بدلے رویے پر بھی ھیران تھی وہ.. جبکہ گھر ا کر.. اسے مزید رونا ایا…
جبکہ بہرام خان پر اسکا.. خون مزید کھول رہا تھا…
……………………
بڑی مشکل سے اس فلیٹ کا پتہ لیا تھا اسنے.. اور فلیٹ کا دروازہ بجایا…
تو.. کچھ ہی دیر بعد ایک بلا کی خوبصورت کے اسے اپنا اپ اس لڑکی کے.. سامنے.. کافی.. دھندلا سا لگا.. کھلے سے پجامے شرت میں بالوں کا جوڑا بنائے وہ لڑکی حونک کھڑی تھی جبکہ.. عابیر. اس لرکی کو پہچانے بغیر.. کچھ اور سمھجتی.. اندر داخل ہوئ..
مطلب سب بدل سکتا ہے مگر بہرام خان کی.. فطرت جو ایک زہریلی فطرت ہے وہ بدل نہیں سکتی.. “وہ با اواز چلائ..
ع.. عابیر” ارمیش کا دم خشک سا ہو گیا..
جی کیا زمین میں گرھ جائے..
میرے بارے میں بھی جانتی ہو ہاہا.. کافی پکا عاشق نکلا بھی.. یہ تو.. ایک طوائف کو… اپنی محبوبہ کے بارے میں بھی بتا دیا.. “اسنے تالی بجائ..
جبکہ سامنے بہرام خان اسکو.. دیکھ کر شاکڈ تھا.. ارمیش کو بولے گیے لفظ.. بھی نہ سن سکا.. جبکہ ارمیش.. نے.. سرخ آنکھوں سے اسکی جانب دیکھا..
تمھیں میں طوایف دیکھ رہیں ہوں” ارمیش کو سب برداشت تھا مگر یہ گالی نہیں….
تبھی عابیر کا ہاتھ جھٹکتی.. غصے سے بولی….
عابیر نے توجہ سے اسکی جانب دیکھا.. تو اسے.. اس میں ارمیش کی جھلک نظر ائ اور یہا عابیر پر جیسے پہاڑ ٹوٹا تھا…
تم تم اس کے ساتھ…. ایسے..
تم” وہ کچھ اور سمھجہ رہی تھی جبکہ… شاکڈ اسقدر تھی.. کہ اسکا منہ کھلا رہ گیا تھا…
ارمیش.. نے سر جھکا لیا.. اسے شرمندگی ہوئی.. تھی بہت..
واہ.. حویلی والوں کا پردہ.. واہ واہ” عابیر تو حیران ہی رہ گی.
مطلب.. طلاق کے بعد.. کسی بھی مرد کے پاس منہ اتھا کر رہو گی.. اتنی نیچ ہو… ” اس سے پہلت وہ بات پوری کرتی.. ارم8ش کا ہاتھ اسپر اٹھ چکا تھا…
جبکہ.. اسکی انکھ سے انسو متواتر گیر رہے تھے…
بیوی ہے میری “بہرام کے سنجیدہ اواز پر.. عابیر نے اسکے جانب دیکھا….
اسے لگا سننے میں غلطی ہوئ ہو… وہ ارمیش کا تھپر بھلایے بہرام کی صورت دیکھ رہی تھی..
ہاں اسے وہ انسان پسند نہیں تھا.. وہ اسکے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی اب بھی وہ اس سے طلاق کا مطالبہ کرنے ائ تھی کہ وہ جانتی تھی وہ اج کل شہر میں ٹھرا ہوا ہے…
مگر وہ نہیں جانتی تھی یہ بات سن کر.. وہ.. حیران حونک کیوں تھی…
عابیر.. صوفے پر گیری…
اسکی آنکھیں ایک جگہ پر ٹھر چکیں.. تھیں..
جبکہ دوسری طرف ارمیش…
اپنے لیے.. ایسے الفاظ سن… کر… شدید دل برداشتہ.. سی.. زمین پر بیٹھتی چلی گئ..
حال میں اسکی سسکیوں کی اواز تھی.. بہرام. ان دونوں.. کو دیکھ رہا تھا…
کہنے کو… ایک جانب.. اسکی آہیں بھرتی دم توڑتی محبت.. اور دوسری جانب…
اس تکلیف دہ لمہوں میں میسر.. سکون تھا….
تینوں نفوس… خاموشی سے.. نا معلوم نقطے کو گھور رہے تھے…
طلاق دو مجھے ابھی “اچانک اس خاموشی میں عابیر کی اواز ابھری..
بہرام اور ارمیش نے جھٹکا کہا کر اسکیطرف دیکھا.. تھا..
میری بات سنو” بہرام کو لگا اسکی اواز جیسے گھیرے کنوایں سے سنای دے رہی ہو جبکہ ارمیش کو داجی کی بات مان کر اج شدید افسوس ہوا…
کیا سنو.. دو بیویاں رکھو گے.. “وہ تو تلملائ..
کیوں تکلیف ہو رہی ہے تمھیں کب رہنا چاہتی ہو میرے ساتھ “بہرام بھی آنکھیں نکالتا اسکا بازو تھام جھنجھوڑ گیا جبکہ عابیر شدید بھپری.. اور… اسکو پیچھے دھکا دیا…
طلاق… ورنہ خلا.. لوں گی تم سے.. اچھی بات ہے بہت اچھا کیا تم نے.. مجھے بھی ازاد کرو” وہ.. غصے سے.. اسکو.. کہتی.. باہر نکلتی کہ.. ارمیش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
کیوں کر رہی ہو اسطرح.. وہ پیار کرتے ہیں تم سے” اسنے مدھم اواز میں کہا.. جبکہ عابیر اسے بھی دھکا دے کر وہاں سے نکل گئ…
اس وقت اسے کچھ سمھجہ نہی ا رہا تھا.. جبکہ بہرام نے ارمیش کی جانب دیکھا.. اسے لگا.. وہ.. لازمی اسکو مار دے گا.. کیونکہ اسنے عابیر پر ہاتھ اٹھایا.. تھا…
وہ مسلسل ارمیش کو گھورتا رہا..
میں “اسنے صفائ دینا چاہی..
خانم.. سائیں کو تھپر مارا..” اسنے اسکو آنکھیں دیکھائ..
جبکہ ارمیش کے ہونٹ نکل ائے تھے…
اپ.. اپ نے کہا تھا… مار دینا پھر میں دیکھ لوں گا “وہ.. ڈری سہمی سی بولی..
تب تک وہ اسکے نزدیک ا گیا تھا…
بہرام مدھم سا مسکرا دیا..
اسپر پر حملے کا نہیں کہا تھا.. لڑکی…
برحال.. سائیں… تم نے اپنا ڈیفنس کیا مجھے اچھا لگا.. گڈ گرل” وہ اسی طرح اسکے گال کو چھوتا.. روم کی جانب چلا گیا.. جبکہ ارمیش.. اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی..
وہ کیا محسوس کر رہا تھا.. اسکے اندر کیا چل رہا تھا وہ سب چھپا گیا تھا…
اسے اندازا ہو گیا تھا…
وہ اپنی محبت سے دستبردار نہیں ہو سکتا.. دل میں کچھ ہوا تھا…
…………………..
جاری ہے
