Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے…
مگر بہرام کی زندگی میرں کوئ تبدیلی نہیں ائ تھی عابیر نے بدتمیزانہ رویہ اب سب کے ساتھ شروع کر دیا تھا.. وہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی حتئ کہ خود بہرام کو بھی…
اسے روم میں نہ انے دینا سب کے سامنے اسکی انسلٹ کرنا…
سب پر ٹونٹ کرنا…
اسنے مسلسل جاری رکھا ہوا تھا…
باقی سب صرف اس لڑکی کو بہرام کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے مگر اس سب سے.. ایک بات ضرور ہوئ تھی کہ حویلی والے ایک دوسرے کا احساس کرنے لگے تھے.. جو مرد
وہاں رہنے والی عورتوں کو.. حقیر فقیر سمھجتے تھے.. اب عابیر کے اس رویے پر سب…
اپنے سے جڑے رشتے کی قدر کرنے لگے تھے…
حویلی میں اسے رویے سے تبدیلی اچھی ائ تھی مگر یہ سب اتنے نہ محسوس انداز میں ہوا تھا کہ.. کسی نے یہ فیل نہیں کیا خاص طور مرد حضرات نے مگر خواتین اس تبدیلی پر پھولے نہیں سما رہیں تھیں…
اخر کو انکے صبر کا پھل تھا…
جبکہ بہرام ویسے ہی لٹکا ہوا تھا.. اسکی شوخی مدعوم ہو گئ تھی…
وہ عابیر کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگا… جس طرح وہ چاہتی وہ ہر چیز کو اسی رنگ میں ڈھال دیتا.. مگر عابیر تو یہ محسوس ہی نہیں کر رہی تھی.. جہاں پوری حویلی اسکی دشمن بنی ہوئ تھی
. وہاں بہرام اگر اسکے سامنے کھڑا نہ ہوتا تو کوئ بھی اسے نہ چھوڑتا …
داجی کو بہرام پر شدید غصہ تھا.. جبکہ
حیدر کی گمشودگی تو انھیں کھلا رہی تھی کہ اخر وہ کہاں چلا گیا ہے…
اکبر صاحب کا علاج بھی وہ پورا کرا چکا تھا.. اور وہ اب کافی صحت یاب ہو گئے تھے..
بہرام کے اس انداز پر وہ.. اچھے خاصے اس سے متاثر ہو گئے تھے
دل میں جو ایک خلش تھی وہ جاتی رہی تھی.. اور اسکی سب سے بڑی وجہ اپنوں کا رویہ ہے.. جہاں انھیں اپنے علاج کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی وہیں سب ان سے دور بھاگ گئے مگر معاذ اب بھی انکے ساتھ تھا.. اور وہ ریہا کی شادی اس سے کرنے کے خواہش مند تھے کیونکہ بہرام ایک اچھا انسان وقع ہوا.. تھا اور عابیر کی فکر کم ہونے لگی تھی…
ابھی کچھ دیر پہلے بہرام نے انھیں سے بات کی تھی اور انھیں حویلی انے کی دعوت بھی دی تھی..
کہ وہ تھک چکا تھا.. چار ماہ ہونے کو ائے تھے.. وہ سب برداشت کر رہا تھا…
مگر عابیر ان چار ماہ میں ایک انچ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی.. الٹا.. اج کل وہ عجیب رویہ رکھ رہی تھی..
اسنے بہرام سے موبائل مانگا.. تو اسنے سب سے مہنگا موبائل اسے لے دیا جبکہ وہ خوش بھی تھا کہ اسنےا س سے کچھ مانگا…
مگر.. جب سے موبائل ایا تھا.. وہ ہر وقت فون پر بات کرتی رہتی تھی یہاں تک کے بہرام کے سامنے بھی نہیں ٹلتی تھی.. بات چیت کے انداز سے صاف دیکھتا تھا کہ وہ کوئ لڑکا ہے..
پہلے تو وہ اپنا وہم سمھجنے لگا.. مگر جب.. اسے.. اس بات کی تصدیق ہوئ…
تو اسنے دل کو یہ کہہ کر سمھجایا کہ وہ یہ سب صرف اسے عزیت دینے کے لیے کر رہی ہے…
مگر پھڑکیاں بھی لگی ہوئ تھیں.. وہ بدل گیا تھا.. جب سے اس سے ملا تھا اپنے شوق ترق کر چکا تھا ماسوائے شراب پینے کے الٹا عابیر کا رویہ.. اسکی بتمیزی اسکی بداخلاقی…
اس جتنا توڑتی وہ اتنا پینے لگا تھا
..
مگر چڑھتی ہی نہیں تھی.. وہ چاہتا تھا اس شراب کا نشہ ایسا چڑھے کے وہ.. برسو سوے.. مگر.. کیا تکلیف.. کا مزہ تھا.. کہ اس
. لڑکے کو.. جو پورے پورے دن سوتا تھا چین کی نیند..
اب نیند ہی نہیں اتی تھی
. ساری ساری رت اور دن وہ آنکھوں میں کاٹ دیتا…
وہ ایسا نہیں تھا.. مگر وہ خود کو بے حد کمزور محسوس کرتا تھا.. خاص طور پر اس لڑکی کے سامنے..
چار ماہ سے وہ اپنے کمرے میں نہیں گیا تھا…
جبکہ معاویہ اور داجی تو… عبیر کے پکے دشمن بنے بیٹھے تھے…
اکبر صاحب نے اسکی دعوت قبول کر لی تھی…
وہ خوش ہوا.. اب یقیناً سب ٹھیک ہو جائے گا…
کیوں مسکرایا جا رہا ہے”معاویہ نے پوچھا تو.. اسنے اسے ساری بات بتا دی..
معاویہ چڑا…
مجھ سے اس عورت کی بات مت کیا کر” معاویہ نے سختی سے کہا.. تو بہرام نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا..
تو جانتا ہے… نہ انوشے کے لیے میری فیلنگز.. یار میں اب تک حیران ہوں اس عورت نے ہماری آنکھوں کے سامنے .. اسکے ہاتھوں پر چائے پھینک دی
.. اسے تجھ سے تکلیف ہے. وہ تجھ سے بدلے لے.. یہ سب کر کے وہ اپنا مقام گیرا چکی ہے.. اور میری نظر میں اب اسکی کوئ ولیو نہیں… بھلے تو مجھے مار ڈال”جب سے انوشے کے ہاتھ جلے تھے معاویہ تو.. عابیر کو مار دینا چاہتا تھا..
ہاں ان دونوں کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا.. مگر انکی نظریں ایک دوسرے پر شاید ایک بار ہی اٹھیں تھیں وہ چیخ چیخ کر کہتی تھیں کہ انکے دل بندھ گئے ہیں…
اور معاویہ اب بقائدہ اظہار کرنے لگا تھا…
جبکہ کل ہونے والے واقعے پر.. اگر بہرام عابیر کے اگے نہ اتا.. تو شاید حویلی میں پہلی بار معاویہ کا اعتاب دیکھا جاتا..
مگر بہرام اسکے.. لیے ایسا ہو جاتا.. کہ.. جیسے اگلے انسان کے بدن میں ایک قطرہ نہیں چھوڑے گا…
بہرام خاموش ہو گیا. وہ کون سا یہ چاہتا تھا سب اس سے محبت کریں. بس وہ اسکی محبت مان لے باقی سب ٹھیک ہو جائے گا..
بس.. کچھ ہی دیر میں عابیر کی فیملی نے انا تھا.. وہ داجی اور باقی سب کو.. نارمل کرنا چاہتا تھا.. تا کہ.. سب ٹھیک ہو.. تبھی.. معاویہ کو اچھی طرح تنبھی کی جو اسنے مشکل ہی سہی.. اسکے کہنے پر مان لی..
اب وہ داجی کے پاس گیا تھا جبکہ معاویہ سوچ رہا تھا کیا یہ وہی بہرام ہے….
…………………..
کرن.. اج ہم شاپینگ پر چلیں گے”ارمیش نے پرجوش ہو کر کہا…
کرن منیب کی بہن.. جو اج سے چار ماہ پہلے اسکے پاس ائ تھی اور اسی کے پاس رہتی تھی..
سر تھام گئ..
خانم جب سے خان نے اپکو… باہر نکلنے کی اجازت دی ہے تب سے اپ تو ہر وقت شاپینگ کا ہی سوچتی ہیں” کرن.. اسکے سامنے بیٹھتی کہنے لگی..
کتنی بدتمیز ہو تم.. بیبی کی شاپینگ کرنے چلیں گے نا.. لالا نے بہت سارے پیسے دیے تھے مجھے” وہ یاد کرتی بولی جب بہرام.. اج سے ایک ماہ پہلے ایا تھا اور پیسے دے گیا تھا جبکہ اسے ہر چیز کی کھلی اجازت دے گیا تھا…
مگر خانم.. ابھی تو.. گئے تھے.. ہم لینے” کرن زیچ ہوئ..
تم چل رہی ہو یہ میں جاو “اسنے غصے سے پوچھا.. چار ماہ میں وہ کافی خوش رہنے لگی تھی…
اچھا اچھا ہم چلتے ہیں “کرن اٹھی…
اور پھر دونوں باہر نکل ائ.. باہر ڈرائیور بھی تھا مگر اسے رکشے میں جانے کا نیا شوق ہوا…
اور ارمیش نے کرن اور.. اسکے شوہر.. کے ساتھ خوب بحث کی جبکہ اسکا شوہر انھیں ایسے.. جانے نہیں دینا چاہتا تھا..
ٹھیک ہے میں.. سائیں سے بات کر لیتا ہوں” اسنے کہا… اور بہرام کو کال ملانے لگا…
ارمیش کی سانس رکی..
بہرام ضرور اسے شوٹ کر دینے کا حکم دے دے گا…
وہ اسے روکنا چاہتی تھی اپنا فیصلہ بدل. رہی تھی.. مگر تب تک.. روحیل فون ملا چکا تھا..
جی خان معافی چاہتا ہوں جی بی بی خانم باہر جانا چاہتی ہیں”
نہیں خان مسلہ تو کوئ نہیں جی وہ رکشے پر جانا چاہتی ہیں” روحیل نے زرا ڈرتے ہوئے کہا…
ارمیش دم سادھے.. سن رہی تھی وہ کیا کہہ رہے تھے پتہ تو نہیں چل رہا تھا.. مگر روحیل کے ایکسپریشن کوئ.. حوصلہ افضا نہ تھے…
جی جی خان.. ہو جائے گا.. جی. میں.. دیکھ لوں گا.. سمبھال لوں گا” اسنے بات کر کے فون بند کر دیا جبکہ ارمیش افسردہ ہو گئ..
حویلی کے مرد ایسے ہی تھے…
ضدی.. خود سر…
اسے دکھ کے ساتھ غصہ انے لگا..
اپ جا سکتی ہیں بی بی خانم.. خان کہہ رہے ہیں جو وہ چاہتی ہیں ویسا ہی کرو” روحیل نے.. بتایا تو گویا اسے اپنے کانوں پر یقین نہ ایا.. وہ پلٹی…
کیا…” روحیل نے.. اس چادر میں چھپی لڑکی کی خوشی حیرت سے دیکھی تھی.. ہنسی بھی ای تھی. جبکہ کرن بھی کھی کھی کر رہی تھی کیونکہ وہ ایکسائٹیڈ اتنا ہی تھی.. ارمیش نے دونوں کو گھورا.. اور.. روحیل کو رکشہ لانے کا حکم دیا وہ کبھی نہیں بیٹھی تھی رکشے پر. اور اج اسے بہت مزاہ انے والا تھا..
بہرام کو بہت ساری دعائیں دے کر.. وہ… رکشے کا انتظار کرنے لگی…
اسے تو یقین ہی نہیں. ارہا تھا کہ. کوئ اسکے ساتھ اتنی بھلائ بھی کر سکتا ہے.. زندگی نے جیسے اسے نئے رخ سے روشناس کرایا تھا جس میں وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جمع کر رہی تھی….
انے والے وقت سے انجان…
کہ اسے ان خوشیوں کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں تھی…
رکشہ ا گیا. وہ پرجوش سی بیٹھ کر… کرن کا ہاتھ تھام گئ.. کرن اپنی چھوٹی سی بی بی خانم کی حرکتیں دیکھ کر قہقہے روکنا چاہ رہی تھی…
رکشہ اپنی منزل کیطرف چل رہا تھا جبکہ روحیل پیچھے گاڑی میں.. انکے ساتھ ہی تھا.. اور ایک بڑے سارے مول کے اگے رکشہ رکا.. ارمیش پہلے بس.. کالونی کی چھوٹی دوکانوں پر ہی جایا کرتی تھی وہ تو اتنے بڑے مول میں گم ہو جاتی اسنے.. واپس رکشے میں بیٹھنا چاہا مگر کرن اسکا ہاتھ تھام کر اندر چلنے لگی جبکہ روحیل بھی ساتھ ہی.. تھا…
کرن… کیا ہے… “ارمیش نے اسے چٹکی کاٹیی
خانم اب ا ہی گئیں ہیں تو کچھ لے لیں” اسنے کہا اور وہ ایک شاپ میں چلے گئے ارمیش.. جب اس شاپ میں ائ تو بلکل ہی بچوں کی چیزوں میں گم ہو گئ….
اور وقت کا اسے بلکل احساس نہ ہوا…
جبکہ اسی دوران کرن اسے.. کہ گئ تھی کہ وہ روحیل کے ساتھ ساتھ والی شاپ میں ہے.. جبکہ ارمیش کا بس نہیں چل رہا تھا سارا سامان خرید لے..
وہ سب.. لے کر باہر ائ.. تو اسے ڈر سا لگا…
سامان بہت بھاری تھاجو اس سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا جبکہ وہ دونوں کہاں تھے پتہ نہیں.. وہ سامنے چلنے لگی…
اب وہ لوگوں سے کرن کا کیسے پوچھتی. اسنے بے بسی سے ارد گرد دیکھا.. تو نیچے فلور پر جیسے نگاہ جم گئ…
ہاں وہ وہی تھا چار ماہ بعد اسے دیکھا تھا…
وہ بلکل ویسا ہی تھا…
مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو اسکے ساتھ رہتے ہوئے کبھی نہیں ہوتی تھی..
ارمیش اسکے ساتھ حور کو دیکھنے لگی..
آنکھوں سے انسو نکلنے لگے.. دل
. بری طرح گھبرایا تھا…
ان کی اسکیطرف کوئ توجہ نہیں تھی.. جبکہ وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ.. حور اسکو دیکھ چکی ہے
حور اسکو وہاں دیکھ کر حیران تو ہوئ مگر اب جبکہ وہ محتشم سے خلا لے چکی تھی.. اور.. انکی اج رات شادی تھی تو..
اب ارمیش دوبارہ اسکی زندگی میں ائے اسے کسی طور گوارا نہیں تھا…
حیدر اس شاپ میں چلو میں اتی ہوں “اسنے حیدر کا رخ ہی پھیر دیا…
کیوں تمھیں کہاں جانا ہے” حیدر نے پوچھا…
تو حور اسے ٹال کر.. دوکان میں کرتی خود ارمیش کیطرف انے لگی.. جو انکے چڑھ جانے کے باوجود اب بھی سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھی..
حور.. اسکو دیکھتی رہی جس کا وجود معمولی سا فریبی ہوا تھا…
اسکے اندر کی حسد ایک بار پھر ارمیش کو دیکھ کر… جاگ اٹھی تھی…
اور پھر نہ جانے کیسے.. اسنے.. ارمیش کو.. ان سیڑھیوں سے نیچے دھکا دے دیا…
وہ پورے سامان سمیت منہ کے بل.. نیچے سیڑھیوں پر لڑھکتی لڑھکتی… جا رہی تھی… جبکہ اسکی چینخیں بھی… تھیں لوگ اسکی طرف دوڑے.. جبکہ اسنے بے ہوش ہونے سے پہلے.. حور کو مسکراتے دیکھا تھا…
………………
عابیر اکبر صاحب اور اپنی فیملی کو دیکھ کر… کافی دل برداشتہ یوئ تھی… کتنی بے عزتی کر کے اسے نکالا گیا تھا.. اور اج پھر وہی لوگ اسے اسی عزت سے ملنے ائے تھے اسکی خوشی کو کوئ ٹھکانہ نہ رہا..
مما اور.. ریہا کو زنان خانے میں لے جایا گیا.. جبکہ معاذ… اور اکبر صاحب کو مردان خانے میں.. بہرام نے معاذ کے ساتھ رنجش ختم کر دی تھی کیونکہ.. ریہا اور اسکی جلد شادی ہونے والی تھی.. مگر معاذ حد سے زیادہ سنجیدہ دیکھائ دیتا تھا.. نہ وہ بہرام سے بولتا تھا.. نہ ہی بہرام اس سے بولنا پسند کرتا تھا..
مگر عابیر کے نام سے جڑا فطور ختم ہو چکا تھا…
اب تو عابیر نے ہی اسے الو بنا رکھا تھا…
مما اور ریہا بی جان. اور باقی خواتین کے ساتھ بیٹھیں تھیں.. انھیں وہ لوگ کچھ الگ.. سے کافی اچھے لگے.. اور.. اج دل میں کافی خوشی بھی ہوئ تھی بیٹی کو اتنے بڑے گھر میں دیکھ کر.. انکا دل تو کر رہا تھا.. خاندان بھر کو.. عابیر کے ٹھاٹ باٹ دیکھائیں…
مما… اپ میرے روم میں ا جائیں یہاں کب تک بیٹھیں گی”بی جان ابھی مما سے بات کر ہی رہیں تھیں کہ وہ.. بیچ میں اکتا کر بولی.. نین کا تو دل کیا اس حد سے زیادہ بدتمیز لڑکی کا منہ توڑ دے اور اسکی ماں سے پوچھے.. ایسی تربیت کی تھی.. اولاد کی…
بی جان.. خاموش ہو گئیں جبکہ مما کو بھی بہت برا لگا.. کافی غیر اخلاقی سا تھا اسکالب و لہجہ جس میں صرف حقارت تھی..
بیٹا تمھارے ہی گھر میں ہوں “مما نے مسکرا کر کہا..
نو یہ میرا گھر نہیں خیر اپ ان لوگوں سے میلنے نہیں آئیں.. چلیں اٹھیں…” اسنے ماں کا ہاتھ تھاما… اور وہاں سے لے گئ.. پیچھے سب.. ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور وہاں کھڑی ریہا کو.. تو نین کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی..
جاو تم بھی اپنی بہن کے حجرے میں” وہ غصے سے بولی تو بی جان نے اسکی جانب دیکھا..
نین”انھوں نے کافی غصے سے.. جیسے تنبیھی کی تو وہ چپ ہو گئ جبکہ ریہا.. شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی.. کتنی عجیب حرکت کی تھی اسکی بہن نے..
میں معافی چاہتی ہوں “اسنے کہا… اور اس راستے پر چلنے لگی جہاں سے عابیر گزری تھی…
………………..
اکبر صاحب کو امید نہیں تھی کہ وہ لوگ انکے ساتھ اتنا اچھا رویہ رکھیں گے… وہ کافی خوش دیکھائ دے رہے تھے
. بدلنخواستہ ہی سہی سب بہرام کے لیے. ساری تلخی بھلائے.. بہت خوش اخلاقی سے مل رہے تھے جس میں داجی بھی شامل تھے…
بہرام
. سب ٹھیک ہونے کی اس لیے.. خود بھی بہت خوش تھا…
وہ سب ہی.. بہرام کے سیاست میں انے کے بعد.. اسکے.. اپنے حلقے میں کام.. کرکاردگی… اور لوگوں میں اسکی مقبولیت کا ذکر کر رہے تھے.
تبھی ان لوگوں میں.. عابیر ا گئ..
ایک بار پھر اسنے… وہ کام کیا تھا.. جو.. داجی سمیت وہاں سب کو انگارے لگا دے گیا جبکہ اکبر صاحب کو.. بھی خود اسکا اسطرح انا اچھا نہ لگا.. حالانکہ وہ اور انکے گھر کا موحول.. یوں پردے کا قائل نہی تھا مگر ماحول ایساتھا کہ وہ لڑکی وہاں اکیلے اتی.. کافی بری لگی تھی..
عابیر سائیں. ” بہرام.. نے دانت پیس کر اسکیطرف دیکھا..
اپ اندر جائیں” مگر پھر بھی وہ سمبھل کر بولا کہ اج تو اس عزیت سے چھٹکارے کا دن تھا.. اج وہ کوئ جھگڑا نہیں چاہتا تھا..
میں نے تم سے بات نہیں کی… بابا اپ مجھ سے ملنے ائیں ہیں کب تک یہیں رہے گے”وہ بے دھڑک بولی بہرام کا چہرہ.. سرخ ہو گیا… خفت اور بے عزتی کا احساس شدید ہوا.. معاذ سمیت اکرم صاحب بھی عابیر کو دیکھ رہی تھی..
یہ کیا… وہ اسقدر بدتمیز… کیسے ہوئ…
یہ شاید وہ تھی…
یہ… ؟؟؟؟؟ وہ حونک تھے دونوں
داجی.. نے جتاتی نظروں سے بہرام کو دیکھا.. اور وہاں سے اٹھ گئے
باقی سب بھی وہاں سے چلے گئے جبکہ.. بہرام نے.. بھی عابیر کو.. وہاں سے جاتے دیکھا تھا..
لعنت دوں تجھے… یہ… یہ کہوں کہ تجھے گلکوس کی بوتل لگنی چاہیے.. کہ طاقت ائے “معاویہ.. شدید غصے سے بولا..
بہرام نے اسے پیچھے دھکیلا اور وہاں سے.. چلا گیا…
عابیر بیٹے یہ کیا حرکت تھی” اکبر صاحب نے کہا.. تو.. عابیر نے انکی طرف دیکھا…
کچھ نہیں بس یہ سب اسی قابل ہیں “اسنے شانے اچکائے.. اور پھر ان سب سے باتیں کرنے لگی…
………………………..
وہ سب جا چکے تھے…. عابیر تو ضد لگا کر بیٹھ گئ کہ اسے اس قید میں نہیں رہنا.. جبکہ اسی کے ساتھ وہ کافی ہنگامہ بھی کر چکی تھی
. بہرام کولگا اسکے ماتھے کی نسیں پھٹ جائیں گی.. وہ تو اب بھی ویسی ہی تھی.. کیوں وہ سب تو اسنے کر دیا جو وہ چاہتی تھی پھر بھی کیوں…
اسکا دماغ چکرانے لگا تھا.. یہ تو اکبر صاحب خود اسے چھوڑ گئے ورنہ وہ ایک پل کو روکنے کو تیار نہیں تھی.. جبکہ بہرام نے معاذ کے بھی الفاظ سنے..
شاید تم حد سے زیادہ خود میں تبدیلیاں لے ائ ہو”
اسکا دماغ ماوف ہو رہا تھا
.. عابیر تھی کہ قابو میں نہیں. ارہی تھی اور جب بات حد سے بڑھی اسنے.. ایسی گرفت سے اسکی کلائ پکڑی کے.. عابیر ایک پل کو ساکت ہوئ.. اور پیچھے کھینچ لیا.. جبکہ اکبر صاحب سمیت سب شاکڈ تھے.. عابیر کو لے کر وہ سب بھی چلے گئے.. عابیر نے بہرام کی ااس حرکت پر.. اسکے منہ پر ہاتھ اٹھا.. دیا..اور پھر شاید وہ نہیں جانتا تھا.. وہ کیا کر رہا ہے.. اسنے.. عابیر کے منہ پر اتنے تھپڑ دے مارے کے..
اسکے ہاتھ کے اندر کا گوشت.. نیلا پڑ گیا.. عابیر کا منہ تو گویا سوج ہی گیا…
ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تم نے میری محبت کا”وہ چنگھاڑا…
داجی سمیت سب نے ہی اسکو اور عابیر کو لون میں دیکھا تھا مگر کوئ کچھ نہ بولا..
عابیر روئ نہیں وہ.. لون میں یوں ہی بیٹھی تھی جبکہ بہرام.. کا فون بجنے لگا…
اسنے… کھولتے زہن کے ساتھ.. فون اٹھایا.. اور جو خبر اسکو ملی.. اسکے قدموں سے زمین سرکی تھی جیسے…
اور وہ عابیر.. کو وہیں چھوڑ کر باہر بھاگا. تھا…
…………………..
میرا بچہ.. “ہسپیٹل کے روم میں قدم رکھتے ہی اس کے کانوں نے اس چیخ کو سنا تھا…
جبکہ ارمیش کو بیڈ پر تڑپتا ہوا پایا..
اسنے روحیل سمیت کرن کو… ایسے دیکھا.. جیسے انھیں چیر پھاڑ کر دے گا… وہ دونوں سہمے..
کیسے ہوا یہ” اسنے پوچھا.. بھیچی بھیچی اواز میں… بے انتہا سرد پن تھا.. اور پھر.. روحیل نے اسے سب بتایا.. تو… بہرام نے ایک کھینچ کر تھپڑ دے مارا.. تھپڑ میں اتنی شدت تھی…
کہ وہ دیوار سے بجا…
فائر ہو تم اور تمھاری بیوی” اسنے کہا… تو… روحیل سمیت کرن کے بھی اوسان خطا ہوئے. مگر بہرام کے پاس کوئ لچک نہیں تھی..
ارمیش.. دل ہار ہار کر چیخ رہی تھی جبکہ وہ باہر نکل ایا.. اسے سمھجہ نہ ایا.. کیا کرے.. حویلی والوں کو بلائے..
کیونکہ یہ سب وہ خود .. ہینڈیل نہیں کر سکتا تھا…
اور اسکی بیوی کوئ اتنی اچھی نہیں تھی جسے اعتماد میں لیا جاتا…
وہ محبوبہ.. جس کے ناموں نے ریڈرز کو ایمپریس کیا تھا وہ صرف بیوی رہ گی تھی…
اسنے موبائل اٹھایا.. اور داجی کو کال کی… اب حیدر.. پاتال میں سے بھی نکل کے ا جاتا… کیونکہ.. داجی کا پوتا… ختم ہوا تھا
…………
جاری ہے
