Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
فون کی مسلسل بجتی بیل سے اسکا دماع بھنایا اور اسنے ناگواری سے.. انکھ کھولی…
رات کے نرم لمہوں میں.. وہ ایسا سویا… کہ اسے کچھ ہوش نہیں رہا.. کسی اور وجود کا خیال اتے ہی اسنے ارد گرد دیکھا.. تو وہ کہیں نہیں تھی…
وہ مدھم سا مسکرایا اور ابھی ایک بار پھر…
وہ انکھ بند کرتا.. تبھی فون پھر سے بجنا شروع ہو گیا…
سالہ… گالی “وہ غصے سے اٹھ بیٹھا مگر فون کرنے والا کافی ڈھیٹ واقع ہوا تھا…
تبھی.. فون بند نہیں کیا.. بہرام نے کال پیک کی..
بہرام سپیکینگ… ” اسنے کڑے تیوروں میں کہا…
جانتا ہوں.. تم سے ہی بات کرنی ہے “وہ اواز پہچان نہیں سکا کون بات کر رہا ہے.. اور ایک اجنبی اس سے کتنے سکون سے بات کر رہا تھا…
کون “اسنے سوال کیا…
معاذ” اگے سے جواب سن کر
. اسکے تمام تاثرات سرد پڑ گئے..
کیوں فون کیا”بے لچک لہجے میں پوچھا…
ملنا ہے تم سے “
کیوں”
ضروری ہے… “
دیکھو میرا.. ایسا کوئ کام نہیں جو تمھارے ساتھ ضروری ہو.. تو.. میں تم سے نہیں مل سکتا”اسنے… کہا. اور اس سے پہلے بہرام.. فون رکھتا.. معاذ.. کی غصے بھری اواز ابھری..
ایک طلاق دے کر کیوں لٹکا لیا… تم نے اسے طلاق کیوں نہیں دیتے “
بہرام نے مٹھیاں بھینچی…
یہ تمھارا مسلہ نہیں ہے.. سمھجے “وہ زراسخت ہوا…
مسلہ نہیں ہے… مسلہ تم نے بنا رکھا ہے بہرام خان.. یہ تو اسے ازاد کرو…. نہیں تو… بیوی کی حثیت دو “معاذ.. کافی غصے سے بول رہا تھا..
بہرام نے دانت بھینچے..
اوو رئیلی…. تو اب تم مجھے بتاو گے کیا کرنا ہے مجھے “
نہیں…. مگر… کیا تم یہ نہیں چاہتے اسکی زندگی میں سکون ہو… تم وہ دن یاد کرو.. جب سے تم اسکی زندگی میں ائے ہو.. کیا اسے سکون میسر ہے…
کیا. وہ ویسی عابیر رہی….
پہلے تم نے اسکی عزت نفس پر.. ضرب لگائ..
کیا کسی لڑکی کے لیے یہ بات برداشت کے قابل ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں میں بچپن سے رہی.. جو اپنے کردار کو سینچ سینچ کر چلتی رہی.. اسی کے کردار پر لوگ کیچڑ اچھالیں…. “معاذ نے اسے آئینہ دیکھایا…
یہ تمھارا مسلہ نہیں” اسکی اواز جیسے کمزور ہوئ..
مطلب کوئ تھا جو اسے بھی حقیقت کا آئینہ دیکھا رہا تھا…
یہی تو بات ہے کہ ہر بات دوسرے کا مسلہ نہیں.. معملات کو سلجھانے کے بجائے تم اسے اپنی انا کا مسلہ بنا رہے ہو
تم اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہو” وہ ایکدم غصے سے چلایا…
اس لڑکی کو میں نے سب کچھ دیا ہے… اور تم کس لیے اچھل رہے ہو.. یہ تمھاری اج شادی ہے… نہ تو اپنی شادی پر ہی توجہ دو مجھے بھول جاو” بہرام نے سختی سے کہا تو مقابل اچانک ہی غصے سے دھاڑا تھا…
اپنی شادی پر ہی توجہ دے رہا ہوں….
نہ تم اسکے قابل ہو.. اور نہ.. وہ تمھارے ساتھ رہنا چاہتی…”
بہرام.. کو اب بات سمھجہ ا رہی تھی.. اسکا بس نہیں چلا کہ.. ریہا سے شادی کا.. ڈرامہ پھر وہ کیوں رچا رہا تھا
اور اوپر سے عابیر کے ساتھ…
بہرام.. تمھاری اپنی زندگی ہے.. تم نے نئ زندگی شروع کر لی ہے.. تم اس لڑکی کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہو.. اور عابیر کے ساتھ بھی… خود سوچو بہرام….. “
معاذ کا لہجہ جیسے ہارا ہوا سا لگا…
پیار کرتے ہو اس سے” بہرام کی سرد اواز ابھری…
تمھارے جیسا نہیں “اسنے جواب دیا تو… بہرام نے.. آنکھیں بند کر کے فون بند کر دیا…
دماغ پر جیسے.. ہتھوڑے سے برسنے لگے تھے….
جبکہ… اسنے اپنے بالوں کو مٹھی میں جکڑ لیا…
اپ یہ پی لیں بہتر محسوس کریں گے”ارمیش کی اواز پر ایکدم اسنے سر اٹھایا….
اسکے چہرے پر کوئ بات نہیں تھی….
کیا اسنے سب سنا تھا… یہ نہیں…
مگر اسے اسکے چہرے پر کوئی شرم کوئی جھجھک نہ محسوس ہوئ…
وہ پلٹی تو بہرام نے اسکا ہاتھ تھام لیا…
کہاں جا رہی ہو” اسنے پوچھا جبکہ ارمیش.. نے اسکی جانب دیکھا…
بی جان کے پاس” اسنے نارمل سا جواب دیا…
بہرام نے ہاتھ چھوڑ دیا….
جبکہ وہ وہاں سے نکل گئ تھی…
ایسا نہیں تھا کہ اسے ارمیش سے کوئی دھواں دار عشق ہو گیا تھا…
مگر.. اسکی جانب دیکھ کر.. اسکو محسوس کر کے.. اسے جو سکون میسر تھا.. وہ اسے کسی چیز میں محسوس نہیں ہوا.. تھا..
اور پہلی بار.. ہی تو ایس اہوا تھا… کہ.. اسنے دو دن سے شراب کو نہیں چھوا تھا..
یہ اس لڑکی کے قدم ہی تھے اسکی زندگی میں….
جو اسکے لیے.. راحت اور سکون کا باعث تھے…
اور عابیر… کیا وہ اسکے ساتھ زیادتی کر رہا تھا..
کیا اسکا دل.. اس بات پر امدہ ہو گیا تھا.. کہ وہ اسے چھوڑ دے اور وہ کسی اور… کی ہو جائے…
کیا وہ اب ضد نہیں باندھ رہا تھا…
یہ سب سوچیں… اسکا دماغ ہلا گئیں تھیں.. مگر فیصلہ جو.. بنتا تھا.. جو اسے لینا چاہیے تھا.. وہ اسکے لیے نہایت مشکل تھا….
یہ وہ بس اس وقت محسوس کر رہا تھا… اگے جا کر اس فیصلے کا کیا اثر ہونا.. تھا… وہ نہیں جانتا تھا..
………………..
بی جان کے سونے کے کڑے… جو انکے تخت پر رکھے تھے…. اور وضو کی وجہ سے.. انھوں نے وہ وہیں رکھ دیے.. حور کی نظروں میں ا گئے..
اس وقت حال میں کوئ نہیں تھا مگر.. سب اردگرد تھے وہ جانتی تھی.. کڑے.. بہت خو صورت تھے..
اسنے ہاتھ میں لے کر… کڑوں کو محسوس کیا…
تو وہ اسے کافی بھری لگے.. اسنے محسوس کیا تھا کہ یہاں سب عورتوں کے ہاتھوں میں کافی بھاری بھاری جیولری ہوتی تھی…
جبکہ اسکے ہاتھ سونیں تھے اور حیدر جو اپنی عاشقی… سب بھول بھال گیا تھا.. اسکی طرف ایک نظر نہیں دیکھتا تھا کجا کہ وہ… اسے کوئ چیز لا کر دے.. وہ تو نہ جانے کس غم میں تھا جبکہ ارمیش کے ہاتھوں میں سونے کی چڑیاں بھی بہت پیاریں تھیں.. اسے ارمیش سے شدید حسد ہوئ کاش.. وہ پہلے بہرام سے مل جاتی.. اسے افسوس ہوا…
مگر اس وقت تو ان کڑوں کو دیکھ کر اسکے اندر کے لالچ نے اسے یہ کام کرنے پر اکسایا.. جو شاید وہ پہلی ہی بار کر رہی تھی..
اسنے وہ کڑے… اپنے دوپتے کی اوٹ میں کیے.. اور.. ابھی وہ باہر پلٹتی کہ اپنے پیچھے بہرام کو پا کر وہ.. زبردست اچھلی…
مجھے لگا تم کسی بڑی چیز پر ہاتھ مارو گی جبکہ یہ تو بہت مختصر سی چیز چوری کرنے کا سوچا تم نے “وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے… سکون سے بولا.. جبکہ.. حور کے ہاتھ بری طرح کانپنے کے بعث وہ خود کو سمبھال نہ سکی.. اور کڑے.. اسکے دوپٹے کی اوٹ سے.. نیچے گیرے…
اور یہ واضح منظر… حیدر نے… اپنی آنکھوں سے دیکھا.. تھا.. جبکہ رفتہ رفتہ سب وہیں جمع ہونے لگے..
غل.. غلط.. جھوٹ.. میرا مطلب”اس سے کوئ بات.. نہ بن پڑی…
غلط جھوٹ تمھارا مطلب
. ویسے.. ہے کیا یہ بتا دو…” اسنے پوچھا… اور بی جان کے کڑے اٹھا لیے…
پہلے قاتل اور اب چور… تمھارے حصے میں تو بڑے…. حساب نکل رہیں ہیں… کیوں اج چکا لوں ان سب حسابوں کو… “
وہ.. سختی سے بولا… جبکہ حیدر.. سے مزید برداشت نہ ہوا…
تمیز سے بات کرو بہرام “اسنے کہا تو حور اسکی حمایت پاتے ہی رونے لگی..
اچھا…. مطلب میں نے اہنی زندگی میں تم سے بڑا کمینا شخص نہیں دیکھا”وہ طنزیہ ہنسا حیدر کے تو سر پر بھجی…
بکواس کر رہے ہو ہمارے ساتھ”..
وہ اسکی جانب بڑھا جبکہ بہرام ایک قدم بھی دور نہ ہوا…
تبھی وہاں داجی ا گئے…
یہ سب کیا ہو رہا ہے خان” انھوں نے بہرام کا شانا تھاما….
کچھ نہیں بس.. حور بی جان کے کرے چورا رہی تھی میں نے تو وہی دیکھا… اور جب.. سوال کیا تو ان کے..
غیرت مرے شوہر.. اٹھ کر ا گئے…” وہ اطمینان سے بولا…
ارمیش ایک پل کو اسکو دیکھ کر رہ گئ.. وہ کافی پرسکون دیکھتا تھا…
داجی نے… بہرم کے ہاتھ میں بی جان کے کڑے دیکھے.. اور حیدر کو دیکھا….
حیدر کو لگا.. وہ زمین میں گڑھ جائے گا….
جبکہ حور… نے غصے سے حیدر کو دیکھا…
یہ جھوٹ بول رہا ہے الزام لگا رہا ہے مجھے کیا پڑی ہے کڑے چرانے کی…
کسی اور نے دیکھا ہے کیا… میرے ہاتھ میرے ان کڑوں کو “حور اچانک بولی.. کیونکہ صرف حیدر نے ہی تو اسکے ہاتھ سے گیرتے دیکھے تھے.. اور تو اس وقت کوئ نہیں تھا.. تو وہ کیوں بدنام ہوتی…
اچھا چلو ایک الزام تم پر میں نے لگایا.. کیا یہ بھی الزام ہے.. کہ تم نے.. داجی کے پوتے کو مارا تھا” وہ.. صوفے پر بیتھ کر پاوں جھلاتا… سب کو… شاکڈ کر گیا.. جبکہ ارمیش… کی آنکھیں پھیلیں تھیں.. اسنے کبھی یہ بات نہیں بتائ تھی تو.. اسے کیسے پتا چلی…
کیا بکواس ہے ہم چپ ہیں تو تم.. کچھ بھی بولو گے.. اس لرکی.. نے تم سے شادی کے لیے میرے بچے کو مارا تھا
. سمھجے تم…. ورنہ طلاق تو ہماری نہیں… “بکواس بند حیدر خان.. ورنہ بہرام. خان
. بہت غیرت مند ہے یہ یاد رکھنا…
وہ لڑکی.. وہ لڑکی نہیں.. عزت دے نام لو میری بیوی ہے وہ.. سمھجے” وہ دھاڑا تو.. معاویہ نے اسکو دور کیا..
داجی یہ حقیقت ہے.. حور نے… ہی اس بچے کو مارا ہے “معاویہ نے بھی کہا.. تو حور کے فق چہرے پر کسی کی نظر نہ اٹھی سوائے.. حیدر کے…
جبکہ ہال میں ارمیش.. کی مدھم سی سسکیاں تھیں.. بہرام کو اسپر شدید غصہ ایا…
بلواجہ اس لڑکی کو رونے کی بیماری تھی.. خیر ارمیش کو.. بعد پر ڈال کر… اسنے معاویہ کو اشارہ کیا…
یہ فوٹیج ہے.. اس مال کی جہاں ارمیش شاپینگ کرنے گئ تھی.. اور خو نہیں گیری تھی اس عورت نے اپنی حسد میں اسے گیرایا.. تھا کیونکہ یہ ماں نہیں بن سکتی “معاویہ نے سب کھول کر داجی کے سامنے رکھ دیا…
داجی.. سمیت.. سب نے تقریباً رفتہ رفتہ ساری فوٹیج دیکھی… اور جب وہ فوٹیج حیدر کے پاس ائ… تو… اسے لگا.. جیسے اسکے پاوں سے زمین کھینچ لی گئ ہو.. اور سر سے اسمان..
حیدر یہ…” حور نے کچھ کہنا چاہا… کہ حیدر نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا….
اور اسکے بال جکڑ لیے…
یہ بچہ تم لینا چاہتی تھی…” وہ چلایا… جبکہ حور سے یہ سب کب برداشت ہونا.. تھا اسنے.. حیدر سے خود کو چھڑوایا…
اور.. اسکا بس نہی چلا اس تزلیل پر وہ حیدر کا قتل کر دے…
تم کون سا اس بچے کو رکھنا چاہتے تھے…
ہاں تم بھی تو مروانا چاہتے تھے اس بچے کو….
پھر جب میں نے تمھارا کام اسان کر دیا تو.. کیوں تکلیف ہو رہی ہے تمھیں اور.. اور تم نے مجھے تھپڑ مارا…
کیس کروں گی میں تم پر.. سمھجے تمھیں کیا لگا رہا ہے میں.. یہ ممحوس میری خوشیوں کی حاسد.. ارمیش ہوں.. جو تمھارے ان تھپیڑوں کو.. سہہ لے… تم دیکھو.. دیکھو میں تم اور تمھارے اس خاندان کو زلیل کیسے کرتی ہوں.. اور تم “وہ بہرام کیطرف پلٹی….
مرو گے.. مرو گے تم” وہ اسے کوسنے لگی.. سب حال میں.. ساکت کھڑے تھے…
جبکہ وہ تن فن کرتی وہاں سے نکلی….
چھوڑو گی نہیں حیدر میں تمھیں “وہ چیخ رہی تھی جبکہ حال میں اسکی چیخو پکار سنائی دے رہی تھی…
کسی کو سمھجہ نہیں ایا… کون کیا کرے کیا ایکشن لے کیا ریایکشن.. ہاں.. بہرام جسے اسکی بدعاوں سے اتنا بھی فرق نہی پڑتا تھا روتی ہوئی ارمیش کے پاس ایا….
اور اسکا بازو جکر کر اسے زنان خانے کیطرف لے کر.. جانے لگا… کہ ہال میں ملازم بھکلاتا ہوا داخل ہوا..
وہ جی.. سائیں.. وہ.. حیدر.. سائیں کی.. بیوی… وہ جی.. سمندر خان کی گاڑی کے نیچے ا گیا… سڑک پر “وہ.. بولا… تو سب سے پہلے معاویہ اور احمر نے ایکشن لیا…
جبکہ اسکے پیچھے صفدر.. خان بھی نکلا تھا…
بہرام نے بھی ارمیش کا ہاتھ ایک پل کو چھوڑا اور باہر نکل گیا.. دوسری طرف حیدر تھا.. جو ساکت کھرا رہ گیا تھا
…………………….
تین ماہ بعد….
حیدر….. حیدر” کانپتی اواز میں…. اسنے پکارہ.. جبکہ حیدر صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا…
حیدر…” وہ پھر پکارنے لگی ایس الگا.. اسکے کانوں میں جیسے…. روئ ڈل گئ ہو….
اب حور رونے لگی تھی….
جب ہم اسے مارت تھے.. تو کبھی اس تکلیف کو محسوس نہیں کرتے تھے کہ.. ہمارا اتنا بھاری ہاتھ.. اسکے وجود پر.. یہ اسکے منہ پر پڑے گا.. تو.. اسے کیا محسوس ہو گا”
تب ہم ایک زعم میں ہوتے تھے… خوشی محسوس کرتے تھے…
کہ ہم طاقت ور ہیں…” وہ حور کی جانب دیکھنے لگا… جو دونوں پاوں میں اٹھتی تکلیف پر بری طرح رو رہی تھی….
وہ اپاہج ہو گئ تھی.. اس ایکسیڈنٹ میں.. اسنے اپنی دونوں ٹانگیں گوا دیں تھیں…
جبکہ حیدر حویلی سے نکل ایا تھا….
حالنکہ اسکا علاج ہو سکتا تھا…
مگر حیدر کے پاس کچھ نہیں تھا….
کچھ بھی نہیں….
حیدر… “وہ پھر بولی…
اسکو بہت تکلیف دی میں نے… کیوں کیوں انسان بھول جاتا ہے…
کہ ہم… اپنے رشتوں کو نہیں خداکی مخلوق کو تکلہف دیتے ہیں کیوں بھول جاتے ہیں ہم….” وہ اٹھ کر اسکی جانب ایا…
اسکی آنکھیں بھیگی ہوئ تھیں..
کاش حور ہمارا.. منہ پڑتا اور ہم حویلی جا پاتے….
وہ لڑکی
معاف نہ کرتی… مگر ہم اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر پاتے… کاش” وہ.. اسکے انسو صاف کرتا بولا…
غرور…. موت ہے….
جیتی جاگتی موت
اور جب وہ ٹوٹتا ہے….. تو انسان… صرف مٹی رہ جاتا ہے..” وہ خودکلامی سا کرتا… اٹھ گیا.. جبکہ.. حور حیدر حیدر کرتی رہ گئ…
……………………..
اٹس گڈ نیوز فور یو.. سر یور وایف سے پریگنینٹ “ڈاکٹر نے مدکرا کر کہا… جبکہ ارمیش.. کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا..
رئیلی… “بہرام… نے دل سے خوشی محسوس کی… اور ارمیش کیطرف دیکھا….
جو شرمو حیا سے پانی ہو رہی تھی…
ڈاکٹر سر ہلا کر… اس پرائیویٹ روم سے باہر نکل گئ…
جبکہ بہرام نے… اسکی جانب دیکھا…
ہمم.. تو یہ سب کیا ہے خانم….. شراکت دار لا رہیں ہیں” اسنے آنکھیں گھمائ…
جبکہ اریش منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہسنی روکنے لگی…..
کیا.. کیا ہنسے جا رہی ہو…. ہنسنے کے علاوہ بھی کچھ اتا ہے کیا….” وہ زرا رعب سے بولا… تو.. ارمیش.. نے نفی میں سر ایا.. اور پھر کھلکھلا دی..
بتات ہوں.. تمھیں “اسنے اسکی کھلکھلاہٹ کو ہی جکڑ لیا…
اور… ایسے جکڑا کے ارمیش کو مزاہمت بھی نہ کر سکی…
تھینکیو “بہرام مسکرا دیا…. جبکہ.. اسکی نیک بون پر پیار کر کے.. اسکو مزید سرخ کر دیا….
اپ سچی میں خوش ہیں نہ “اسنے… پوچھا تو بہرام نے اثبات میں سر ایا…
ہاں میں خوش ہوں…. “اسنے اسکے بال سنوارے….
ارمیش کو لگ رہا تھا.. وہ اس سے ہمیشہ جیسے کچھ چھپا لیتا ہے… دو ماہ پہلے…. وہ.. ایک رات… کافی ٹوٹا بکھرا سا… اسکے پاس ایا.. تھا… اور…
وہ سمھجہ نہیں سکی.. کہ اسے کیا ہوا تھا..
لاکھ پوچھنے پر بھی اسنے.. اسے نہیں بتایا.. کہ وہ کیا کر کہ ایا ہے.. اج اپنے وجود سے اپنے نام سے اسے ازاد کر کے ایا تھا….
ارمیشکو یہ اس وقت تو معلوم نہی ہوا تھا… مگر اسنے.. اسے سمیٹا تھا… جتنا وہ سمیٹ سکتی تھی…
اور اگلی صبح… جب معاویہ سے سب کو پتہ چلا… تو وہ شاکڈ رہ گئ تھی..
شاید کسی کو ایسا نہیں لگتا تھا کہ بہرام خان….
جس کی.. ابتدا عابیر سے عشق تھی..
وہ انتھا کر کے.. اسے ازاد کر ایا ہے.. ہمیشہ کے لیے…
جاری ہے
