Garoor By Taniya Tahir Readelle50242 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ارمیش کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں تھی.. اسنے مورے کیطرف دیکھا جو… بی جان اور بباقی سب کے ساتھ لے کر یہ خبر آئیں تھیں…
کیا مجھے جینے دیا جائے گا”اسنے سپاٹ انداز میں پوچھا…
سب نے دکھ سے اسکیطرف دیکھا… حیدر کی جانب سے پیپر انے کے بعد بھی.. وہ ویسی ہی رہی… تھی…
ان سب کا ہی اسکی ایسی حالت دیکھ کر دل کٹ رہا تھا…
خانم….”
بی جان….. مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی.. اگر اس حویلی میں میری کوئ اہمیت یہ اپ سب لوگوں کے دلوں میں میری کوئ عزت ہے.. تو
اور اگر اپ لوگ مجھے… کوئ جانور سمھجتے ہیں.. جو احساسات.. سے عاری ہے.. تو پھر ایک بار زبردستی کر کے شادی کرا دی میں کر لوں گی.. ایک اور ایسے شخص سے… جو…
اپنی ناکام محبت کا.. گم مجھے..پھر توڑ توڑ کے بنائے گا.. “
اسنے کہا… اور ان سب سے روخ موڑ لیا..
سفید لباس میں پور نور چہرے کے ساتھ وہ.. بے حد پیاری تو لگ رہی تھی مگر کب تک اسے اس طرح دیکھا جاتا.. دن اپنی رفتار چل رہے تھے.. ایک کے بعد ایل دن… ا رہا تھا.. اسکی عدت ختم ہونے کو تھی…
مگر اسکی زبان کی چپ.. لاکھ سب کے بولنے کے باوجود نہیں ٹوٹی تھی..
اور اج جب یہ بات کہی گئ تو سنجیدگی سے یہ کہہ کر وہ.. ان سب سے رخ موڑ گئ..
وہ زندگی سے دور جا رہی تھی خوشیوں کو خود پر حرام کر رہی.. تھی کسی سے بھی اسکی یہ خاموش تکلیف نہیں دیکھی جا رہی تھی.. اور اس بار اسکا احساس صرف زنان خانے میں نہیں.. بلکہ مردان خانے.. میں بھی بہت تھا…
ٹھیک ہے کوئ تم پر زبرددتی نہیں کرے گا… “بی جان نے.. اسکے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرہ
. اسنے انکی جانب دیکھا.. یہ لمس… بہت عرصے بعد اسے میسر ایا تھا…
ماں اولاد سے کیسی محبت کرتی.. تب بھی جب وہ اسکے سامنے ہو.. اور تب بھی جب وہ اسکے وجود کا حصہ ہو..
اولاد کو.. کتنی ہی دوسری محبتیں گھیر لیں مگر.. ماں کی محبت کے لیے.. اسک اوجد ہمیشہ ترستا ہے…
ارمءش کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی..
وہ تو بہت نرم دل… سی لڑکی تھی…
بی جان کی ممتا ک المس… اسکے اندر ایک تڑپ بھر گیا…
بی جان.. کی بھی آنکھوں میں انسو انے لگے…
اور.. انھوں نے اسے کھینچ کر.. اپنے سینے سے جو جکڑا.. تو.. وہ سب کو رولا گئ…..
اسکی.. سسکیاں… اسکی ہچکیاں…..
اسکا بآواز بلند رونا….
سب کے دل منہ کو ا رہے تھے…
بی جان کے پاس کوئ لفظ نہیں تھا… وہ اسے کیسے تسلی دیتیں…
میں کسی کو معاف نہیں کروں گی “وہ… بری طرح رو رہی تھی..
قاتل ہے… حیدر… ” اسنے چیخ کر کہا…
بی جان بے بسی سے سب کو دیکھ رہیں تھیں جو.. خود رو رہیں تھی
ارمیش.. چندہ بس.. کرو”انھوں نے کہا.. تو اسنے نفی میں سر ہلایا.. خوبصورت چہرہ سرخ ہو چکا تھا… جبکہ… گالوں پر انسوں کی لڑیں تھیں…
بی جان اس شخص نے مجھے بہت تکلیف دی ہے…. بے حد.. تکلیف… اسکی… اسکی حور.. جس… کی وجہ سے دو سال میں نے عزیت میں گزر دیے.. تب بھی مجھے صلہ نہ ملا.. میں صرف ارمیش رہی جبکہ حور پھر بھی اسکی تھی…
ان دونوں نے میرے بچے کو مارا ہے… دونوں نے… “وہ جنونی سی ہو رہی تھی….
جبکہ مسلسل رو بھی رہی تھی..
ارمیش خانم… بس میرا بچہ.. اللہ صبر کا پھل دے گا تمھیں” انھوں نے اسکی پیشانی چومی…
کب بی جان… دو سال سے اپ کہے جا رہی ہیں.. کب اخر. کب ملے گا مجھے صبر کا پھل… میرے لیے کانٹے کیوں ہیں.. “وہ ہونٹ نکال کر روتی… اپنے ساتھ ساتھ سب کو تکلیف دے رہی تھی…
بی جان تو وہاں سے اٹھ گئیں.. ان سے مزید نہیں دیکھی جا رہی تھی یہ تکلیف.. اخر وہ چپ رہ کر کرتیں بھی کیا… .
جبکہ بی جان کی جگہ اب.. مورے نے.. لے لی تھی…
ارمیش میری بچی.. “انھوں نے.. اسکو.. پکڑا تو وہ ماں کے لمس پر نئے سرے سے بکھرتی تڑپ رہی تھی…
………………..
داجی تک یہ پیغام پہنچ گیا.. تھا کہ ارمیش نے انکار کر دیا ہے.. انھیں امید تھی کہ یہ ہی ہو گا..
ابھی کچھ دیر پہلے.. بہرام بھی ایا تھا باہر سے…
وہ انکے سامنے ہی بیٹھا تھا جب بی جان کی جانب سے پیغام ایا.. اسکے جبڑے تنے.. داجی نے اسکی جانب دیکھا…
مگر بولے کچھ نہیں جبکہ وہ جیسے ایا تھا ویسے ہی چلا گیا…..
معاویہ داجی کے اگلے حکم کے لیے کھڑا تھا وہ خود چاہتا تھا کہ ارمیش اور بہرام کی شادی ہو جائے تبھی بہرام کے پیچھے نہیں گیا تھا..
کیا لگتا ہے… معاویہ خان”انھوں نے معاویہ کیطرف دیکھا تو معاویہ کو اس شخص میں جو غرور اور تنتنا تھا… بکھرتا محسوس ہوا.. یہ وہ شخص تجھا.. جو اپنی بات کا مشورہ کیا.. کسی کو بتانا ضروری نہیں سمھجتا تھا.. اور اج..
داجی… یہ ہو جائے تو بہت بہتر ہو گا” اسنے کہا…
مگر”وہ کچھ الجھے ہوے سے لگے..
داجی ارمیش خانم کبھی اپکی بات نہیں ٹالیں گی “اسنے جیسے انھیں… ایک اور قدم اٹھانے کیطرف راغب کیا.. تو وہ اسکی شکل دیکھنے لگے…
چلو پھر” وہ ااچانک ہی اٹھے…
میں بھی”معاویہ نے حیرت سے کہا… تو انھوں نے بس سر ہلا دیا..
اور معاویہ داجی کے ساتھ زنان خانے کیطرف بڑھا… تو.. زنان خانے کے ہال میں کوئ بھی نہیں تھا…
داجی اوپر.. ارمیش کے کمرے کیطرف بڑھنے لگے معاویہ وہیں ٹھر گیا…
کیونکہ… ایک انچل سا اسے دوسری طرف جاتا دیکھا تھا…
اس سیریس ماحول میں بھی اسکو شرارت سوجی تھی…
وہ بھی داجی سے انکھ بچاتا پیچھے ہو لیا…
اے روکو” اسنے مسکرا کر پیچھے سے اواز دی یہ لڑکی چند ہی دنوں میں.. اسکے دل میں بس چکی تھی..
انوشے کے قدم تھمے…
مگر وہ مڑی نہیں…
بہت مسلہ ہو جائے گا اگے تو اگر تم یوں ہی بھری رہی” اسنے.. ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا.. انوشے نے ایکدم اپنا ہاتھ چھڑایا جھٹکا دے کر…
معاویہ نے چونک کر اسکیطرف دیکھا…
اپ مجھے کیوں روکتے ہیں…
کس لیے.. کن باتوں کے لیے کیا بات ہے ہمارے پاس کیا موضوع ہے… جب ہمارے پاس کوئ بات نہیں.. جب ہمارا ایک دوسرے سے کوئ تعلق نہیں تو.. کیوں روکتے ہیں مجھے…
ہمارے درمیان کوئ گفتگو نہیں ہے.. یہ ہاں میں یہ پوچھو ک9 عابیر اپ کے کمرے سے کیوں نکلی…. اسنے چیخے کیوں ماری…
یہ پوچھو اور اپ جواب دیں گے.. اپ کیسے مرد ہیں.. جو.. “وہ.. ناگواریت سے بولتی روکی.. کہ اچانک ہی معاویہ نے. غصے سے اسکا منہ جکڑ لیا…
اپنے کسی بھی عمل کا میں کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں…. سمھجی تم.. اور تم مجھ پر اتنا گھٹیا… الزام جو لگا رہی ہو ب~یر ثبوت کے اس کو بھگتو گی… ” اسنے اسکو جھٹکا…
میں نے الزام نہیں لگایا” اسکی بھیگی آنکھوں میں… تکلیف تھی..
اچھا کیا ثبوت ہے تمھارے پاس کے عابیر.. کے ساتھ میں نے کچھ کیا تھا… تم نے اپنی انکھ سے دیکھا تھا”وہ دھاڑا….
جبکہ وہ سہم گئ..
میں نے سنا تھا.. بہرام لالا نے اپکو مارا بھی” وہ. رو دینے کو ہوئ.. خود کو کمزور بھی محسوس کیا کہ.. اسے لگ رہا تھا اب کہ اسنے غلط کر دیا ہے…
بہرام.. نے مجھے مارا تو اسکا مطلب میں گناہگار ہوں.. “معاویہ غضب سے اسکو دیکھ رہا تھا..
نہ جانے کیوں تم اس دل میں اتر گئ… اگر.. تمھارے لیے.. جزبے نہ ہوتے تو.. تمھیں اس الزام پر ابھی بتا دیتا… ” وہ غصے سے مٹھی بھینچ کر بولا…
میں “انوشے.. کا دل کہہ رہا تھا کہ اسنے واقعی الزام لگا دیا ہے..
بس…… مجھ سے کچھ پوچھے بغیر الزام لگا کر.. تم نے مجھے ہرٹ کیا ہے”وہ انوشے کو توجہ سے دیکھتا اب.. غصہ بھلائے.. ڈرامے بازی پر اتر ایا… اسے برا ضرور لگا تھا کہ.. انوشے نے اسپر یقین نہیں کیا مگر.. وہ یقین کرتی بھی کیسے. وہ کوئ پرسا نہیں تھا.. اور ایک وقت تھا اسکا یہ وتیرہ رہ اتھا.. مگر…
وہ اس سے ناراض نہیں ہوانا چاہتا تھا تبھی اسکی ڈری سہمی شکل کو انجوائے کرنے لگا…
میں ایسا نہیں چاہتی تھی”انوشے.. نے روتے ہوئے کہا..
مگر تم نے ایسا ہی کیا ہے… تم مجھ سے سوال کر سکتی تھی مگر تم نے تو لزام لگایا وہ بھی. عابیر کی وجہ سے جبکہ تم جانتی ہو.. وہ ایک خودسر لڑکی ہے.. جو اپنی ضد میں.. سب کر جاتی ہے.” اسنے اسکی جانب دیکھا… مگر… اسکے جھکی جھکی پلکیں بہت پیاری لگیں جبکہ ہاتھ اسکے کانپ رہے تھے..
بہت برا کیا ہے تم نے انوشے ڈارلنگ اسکو مزید ڈراتا اسکے قریب ہوا..
انوشے.. کا دم نکلا…
کہ وہ اسکے بہت قریب ا گیا تھا..
کہ اسکے کلون کی مہک انوشے کے ذہن پر سوار ہونے لگی..
اور تم سے سارے حساب کتاب اب بس اپنے کمرے میں لوں گا… جبکہ تم صرف بس میرے بس میں ہو گی…..
کوئ بچانے والا… نہیں “وہ.. اسکے کے گلابی گالوں پر.. اپنی انگلی سے.. ایک سطر کھینچتا.. انوشے کو بے ہوش کرنے کے قریب تھا…
انوشے حونک اسکی جانب دیکھ رہی تھی..
ایسے دیکھو گی تو.. ابھی بدلے لینا شروع کر دوں گا” وہ… اسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا.. انوشے کو جیسے ہوش ایا..
یہ کیا. اسنے.. معاویہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کیا.. معاویہ. اس سے دور ہو گیا…
اور چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا….
جبکہ انوشے.. ایک قدم.. دور ہوئ پھر دوسرا اور پھر جیسے وہ سر پٹ ایسی دوڑی کہ معاویہ کا قہقہ ابھرا…
بدتمیز “انوشے کے لب بھی مسکرائے یہ احساس ہی بہت مزے دار تھا کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا…
………………
حور نے اس سے معافی مانگنے کی زحمت نہیں کی تھی.. اسے غصہ بہت شدید ایا.. وہ چار دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہا تھا اور اسے تو کوئ فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا…
اور اج صبح جب اسے گھر سے جاتے دیکھا تو خقد ہی اسے بولنا پڑا..
کہاں جا رہی ہو”وہ غصے سے بولا…
جب شوہر ہٹ دھر ہو کر گھر میں پڑا ہو.. تو بیوی کو کچھ نہ کچھ کر لینا چاہیے یہ ہی عقل مندی ہے نہ کہ… اسکے.. اس پر پڑی رہے”
کیا بکواس ہے”حیدر غصے سے بولا.. بھلہ وہ.. کیا تھا اور وہ یہ لہجہ برداشت کرتا.. ارمیش نے کبھی اسے دو بادو جواب نہیں دیا تھا.. اسنے حور کو اپنی طرف کیا…
تو حور.. خود کو چھڑا کر دور ہو گئ..
خبردار… جو تم نے مجھے چھوا بھی… “وہ تو آنکھوں میں ائ…
اس کا مطلب تمھیں صرف ہمارے پیسے سے محبت ہے” حیدر نے بڑے دکھ سے کہا…
تو حور ہنسی…
نہیں حیدر.. مجھے تم سے محبت ہے… مگر میں سسک سسک کر زندگی نہیں گزارو گی تمھارے سب اکاونٹس بند ہیں….
کیا کھاو گے…. ہاں.. کہہ رہی ہوں حویلی چلو… معافی مانگو سب سے” اسنے.. زرا نرمی سے کہا تو حیدر…. اسکی صورت بس تک کر رہ گیا…
حور… بدل گئ تھی یہ ایسی ہی تھی.. وہ سمھجہ نہیں سکا.. .
حور ہ. حویلی نہیں جاے گے” وہ اٹل لہجے میں بولی..
تو پڑے رہو.. اس گھر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے”حور غصے سے. بولی…
تمیز سے بات کرو” حیدر نے اسپر.. ہاتھ اٹھایا… تو اگلا لمہہ اسے شاکڈ کر گیا.. حور نے بھی اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا..
ارمیش نہیں ہوں میں..” وہ دھاڑی..
نہ تمھارے باپ کی غلام… جب تک تم تمیز سے نہیں رہو گے میں بھی تمیز سے بات نہیں کروں گی”وہ وارن جرتی.. وہاں سے چلی گئ..
اور حیدر… سامنے لگے ائینے میں اپنا.. منہ دیکھتا رہ گیا.. اسے لگا اسکا عکس اس پر ہنس رہا تھا…
منہ چیڑہ رہا تھا…
………………………..
یہ عمل عابیر کو نقصان کی اتھا گہرائیوں میں اتار چکا تھا. مگر اسے یہ سب بس لوگوں کی بے وقوفی ہی لگی.. اسنے صرف بدلہ لیا تھا.. بھلہ اس میں کیا برائ تھی…
وہ اب خوش تھی سکون میں تھی دنیا کے سامنے.. اسکو ایکسپوز کر کے. جہاں اسپر.. کیچڑ اچھالی جا رہی تھی وہیں.. دوسری طرف اسکی ساک ہل چکی تھی..
اور اسکی بلہ سے بھاڑ میں جائے…
وہ دوبارہ سے اپنی زندگی میں خوش رہنا چاہتی تھی..
نہ جانے کیوں اسے ریہا کی شادی معاذ سے ہوتی بلکل اچھی نہ لگی وہ شخص اسکا دیوانہ تھا. اور اسکے راستے سے ہٹتے ہی اسکی بہن سے کر تہا ہے شادی..
یہاں تو سب ہی منافق ہیں اسنے سوچا… اور.. اہنے پرانے حولیے میں ائ..
جینز کرتے میں.. اس نے سکون کا سانس لیا…
اور بیگ اٹھا کر باہر ائ.. گاڑی اسی کے پاس تھی اسنے.. جوب کے لیے دوبارہ جانے کا سوچا…
کہاں جا رہی ہو”مما نے نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ لیا…
جوب پر” اسنے سکون سے جواب دیا..
عابیر تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے “مما کو تو غصہ ہی ا گیا…
کیا مطلب” وہ حیران ہونے لگی..
کسی کی بیوی ہو تم… اور اسے نہیں پتہ.. کے تم پھر سے اس گندی جاب پر جا رہی ہو”
بیوی.. ہممم” وہ ہنسی…
میں کسی کی بیوی نہیں ہوں.. اور وہ عجیب سا ادمی میرے لائق تھا ہی نہیں یہ عشق عشقی اور معشقی مجھے نہیں پسند… اور اپنی مرضی کے خلاف عابیر نہیں چلتی “وہ بڑے تفخر سے کہہ کر وہاں سے باہر نکل گئ….
مما نے اسکے اسقدر بدتمیزانہ رویے.. پر انکھ میں ائ نمی صاف کی.. ریہا نے انکی جانب دیکھا…
اور دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا گئیں…
جبکہ عابیر گاڑی میں ابھی بیٹھتی ہی.. کہ… محلے کے لوگوں نے باتیں بنانا شروع کر دیں.. اسے تپ تو بہت ائ.. مگر وہ کان بند کرتی گاڑی میں سوار ہو گئ..
………………..
دن گزر گئے تھے.. اسکی عدت پوری ہو گئ تھی…
جبکہ.. حویلی کا ماحول بھی خاصا بدل گیا تھا…
اج معاویہ کے سر پر.. دستار بندھنی تھی…
سب ہی بہت خوش تھے…
داجی کا فیصلہ تھا کہ معاویہ دستار سمبھالے گا..
جبکہ باقی کسی نے انکے خلاف جانے کی کوشش نہیں کی..
سب بدل رہا تھا سواے.. ارمیش اور بہرام کے..
وہ اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گی اتھا.. ہر وقت شراب…
ہر وقت شراب.. جب سیاسی معملے بھی داجی نے کافی مشکل سے.. نمٹائے تھے.. جبکہ بہرام شراب سے نکلنے کو تیار نہیں تھا…
اور دوسری طرف ارمیش.. اور داجی کی ملاقات کے بعد ایک بار پھر ارمیش.. نے خاموشی کا لبادہ ایسا اڑھا.. کہ.. سب تھک گئے مگر اسکی قفل نہ ٹوٹی..
ہم چاہتے ہیں.. معاویہ کے سر پر دستار سجنے کے بعد ان تینوں کی شادی کر دیں “داجی نے کیا.. وہاں سب موجود تھے سواے بہرام کے..
بہت خوب بابا سائیں” یاور خان نے کہا تو داجی مسکرائے..
مگر داجی بہرام کو کون ہینڈل کرے گا “معاویہ نے پوچھا..
ہم کر لیں گے” انھوں نے جواب دیا…
اور اپنی جگہ سے اٹھ گئے معاویہ نے بھی ساتھ چلنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے روک گئے…
معاویہ وہیں ٹھر گیا.. اور.. داجی بہرام کے کمرے کیطرف بڑھ گئے..
کمرے کا دروازہ کھولا.. تو… وہ.. بیڈ پر اندھا پڑا تھا جبکہ شراب کی بوتلیں زمین پر پڑیں تھیں.. انھیں پہلی بار اسپر شدید غصے ایا..
خان”وہ.. اسکی شرٹ لیس… کمر پر.. ہاتھ مار کر اٹھانے لگے.. اسنے آنکھیں کھولین اور سیدھا ہوا..
خان بولا لیتے کیوں ائے” اسنے. اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا…
اطلاع دینی تھی تبھی خود ا گئے”وہ اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسکو اٹھنے کا اشارہ کرنے لگے..
کیسی اطلاع وہ کھڑا ہوا..
دو دن بعد ارمیش خانم سے نکاح ہے تمھارا”
انھوں نے مظبوط لہجے میں کہا.. تو بہرام دھپ سے بیڈ پر گیرہ
پھر وہی” وہ عاجز ایا…
بلا چوں چراں”
یار داجی مجھے نہیں کرنی شادی کسی سے بھی نہیں” اسنے اکتا کر کہا.. تو… داجی کا ہاتھ گھوما.. اور ایک کرارا تھپڑ بہرام کے جیسے.. طوطے اڑا گیا…
ہوش میں رہو.. بہرام خان…
بلکل ہوش میں… یہ شے.. اور یہ مدہوشی وہ بھی اس لڑکی کے لیے ہمیں گوارا نہیں.. ہم اس حویلی کے ایک ایک فرد کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ماضی کی ہر غلطی کو درست کرنا چاہتے ہیں.. “
وہ غصے سے چلایے.. وہ ویسے ہی انکی صورت تکنے لگا.. داجی نے پہلی بار اسے مارا تھا…
ارمیش خانم کے ساتھ کوئ زیادتی نہیں چلے گی… ” انھوں نے ووارن کیا…
بہرام انکو گھورنے لگا.. داجی کو اسکی ڈھٹائ پر غصہ ایا…
کہ وہ پھر سے نارمل دیکھائ دے رہا تھا..
شرط ہے میری” اسنے کسی سوچ کے تحت کہا…
اور میں کوئ شرط نہیں مان رہا.. کیو کہ کوئ رشتہ.. شرطوں پر نہیں بنتا”داجی.. نے.. نفی کی.. تو.. وہ… ایکدم اٹھا..
مجھ سے تھپڑ برداشت بڑی مشکل سے ہوا ہے کہ میری جگہ اپ کسی اور کو نہیں دے سکتے.. بھلے وہ ارمیش خانم کیوں نہ ہو…
بہرام بہرام ہے… اور.. وہی اپکی جان ہے. اور اسی کے لیے اپ سب کریں گے اور میری شرط بھی مانے گے” وہ تو ارمیش کے لیے پڑنے والے تھپر پر اچھا خاصا تلملایا…
داجی مسکراہٹ چھپا کر بولے…
کیسی شرط” لہجہ اطب بھی اکڑا ہوا تھا..
وہ انکی طرف ایک لمہے دیکھ کر.. جھکا.. انکے چہرے کیطرف..
عابیر… اس حویلی میں دوبارہ ائے گی”
اسنے سکون سے کہا…
اور اپ.. مجھے نہیں روکیں گے”وہ سپاٹ انداز میں بولا…
ایسا کبھی نہیں ہو گا…” داجی کو.. مزید غصہ ایا..
میری یہ ہی شرط ہے”… وہ کہہ کر پھر بیٹھ گیا…
داجی نے دانت بھینچے…
اگر تمھارے دماغ میں یہ سوچ ہے کہ تم. عابیر کو چیڑانے کے لیے شادی کر رہے ہو ارمیش سے تو.. ہماری خانم گیرہی پڑی نہیں ہیں “داجی دھاڑے تو. وہ.. انکو دیکھنے لگا..
ایساکچھ نہیں کہا میں نے.. “اسنے نفی کی..
پھر کیا وجہ اس کو یہاں لانے کی”وہ گھورنے لگے..
کوئ وجہ نہیں… اب کوئ وجہ نہیں… مگر وہ یہیں رہے گی.. بس یہ ضد ہے” اسنے.. شانے اچکا کر کہا.. تو داجی کا دل کیا اسکے بال نوچ دیں..
اتنا سرد کیوں ہو جاتا تھا وہ..
ٹھیک ہے مگر پہلے شادی ہو گی… “وہ.. کہہ کر وہاں سے نکل گئے.. جبکہ.. بہرام.. نے بغیر کچھ بھی سوچے.. شراب کی بوتل اٹھائ.. اور مسکرا کر دیکھا..
میری محبت”اسنے بوتل کو چوما… اور.. کھولنے لگا…
اسے عابیر یہ ارمیش سے فل حال کوئ کنسرن نہیں تھا…
…………………….
جاری ہے
