Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

یہ کیا کیا ہے تم نے خان “داجی نے اسکا ہاتھ غصے سے ہٹایا..
ہماری محبت کا یہ صلہ دیا اتنی غداری” انکا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا جبکہ بہرام.. صوفے پر.. بیٹھ کر.. سامنے ٹیبل پر ٹانگیں پھیلا گیا…
وہ کب.. سے انھیں قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر.. وہ تو کچھ سمھجہ ہی نہیں رہے تھے.. جبکہ اسکی نازک مزاجی پر اب سب چیز گراں گزر رہی تھی…
کسی کا بھی ایک لفظ بھی زہر کیطرح لگ رہا تھا.. اور وہ اب.. جان چھڑانا چاہتا تھا.. مگر اپنی پوزیشن بھی حویلی میں ہلنے نہیں دے سکتا تھا… تبھی داجی کا. پٹ جانا زیادہ ضروری تھا..
یہ میں کیا سن رہا ہوں “ابھی وہ داجی سے کچھ کہتا ہی کہ.. حیدر دھاڑ سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا..
حیدر سائیں تمیز تہزیب بھلا دی ہے” داجی کو شدید ناگواری ہوئ اسکے بغیر اجازت طلب کیے انے پر ..
تمیز تہزیب اور اپکے… کمال اصولوں کی دھجیاں تو یہ اپکا شہزادہ اڑا چکا ہے.. اور اپکو.. ہمارے پیچھے پڑنے کی پڑی ہے” وہ غصے سے دھاڑا..
ایک اور”بہرام نے… جھنجھلا کر.. حیدر کو دیکھا..
حویلی میں کوئی غیر عورت نہیں ائے گی”حیدر نے جیسے حکم دیا.. بہرام نے.. آنکھیں گھمائ…
اچھا اور حویلی کے باہر… اپارٹمنٹ دلائے جا رہے ہیں…. کمال ہے.. لالا… حویلی والوں کی حلال کی کمائ.. اس شادی شدہ.. پر لٹائ جا رہی ہے” وہ بھی بہرام تھا.. وہاں وار کیا.. حیدر ایک پل کو سن کھڑا رہ گیا..
وہ تمھارا مسلہ نہیں” وہ.. تیور بگاڑ کر بولا…
یہ اپکا مسلہ نہیں “بہرام دوبادو سنجیدگی سے بولا….
داجی نے دونوں کیطرف دیکھا. اور بہرام کی بات کا مفہوم سمھجتے انھیں مزید غصہ چڑھنے لگا..
کمال… بہت خوب…. یہ سب کرتے پھیر رہے ہو.. سارے.. نامعقول….. بہت خوب… کوئ کالام کے باہر اج کے بعد قدم نہیں رکھے گا… دیکھ لیں گے ہم… کتنا اپنی من مانی کر لو گے تم لوگ ” وہ غصے سے… چلائے… بہرام مسکرا دیا.. اب شہر جا کر اسنے اچار تو نہیں ڈالنا تھا.. جبکہ حیدر کی تلملاہٹ دیکھنے لائق تھی..
اس نے جو حرکت کی اسکو دیکھنے کے بجائے.. اپ پھیر ہمارے پیچھے.. لگ چکے ہیں.. مگر اپ یہ بات اج سن لیں حویلی میں.. کوئ.. بھی غیر لڑکی نہیں رہے گی “وہ.. ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
داجی تو خود یہ ہی چاہتے تھے… انکے خاموش ہوتے ہی بہرام کا میٹر شاٹ ہونے لگا..
کیا بکواس ہے… حویلی بہرام خان کی ہے… کوئ یہ بات.. بھول رہا ہے تو.. خود جا کر رہے فلیٹوں میں… یہ سب میرے نام ہے.. اور میں جسے چاہو… اسے لاو گا…. یہاں کسی میں اتنا دم ہے کہ بہرام کو روکے “وہ ایکدم اٹھتے دھاڑا تھا….
سردر ہونے کی حثیت سے… تم اس گستاخی… کی وجہ سے سزا کے مستحق ہو.. جانتے ہو نہ.. کہ کالام کا سردار کون ہے..” حیدر… نے اسکی آنکھوں میں دیکھا..
ہاں جانتا ہوں ایک بزدل شخص ہے.. جو… خود تو.. اپنی محبت پا نہیں سکا.. اج تک… ایک عورت پر اپنی مردانگی دیکھا رہا ہے… اور مجھے سزا دے گا” اس سے پہلے وہ ایک دوسرے کا.. گریبان پکڑتے داجی نے.. دونوں کے بیچ ا کر… دونوں کو ہی.. حدیں پار کرنے سے روکا….
جاو حیدر خان.. سمبھال لیں گے ہم اس معاملے کو” داجی نے حیدر کو نکالا..
اس سے کہیں طلاق دے… اسے.. اور فارغ کرے “حیدر نے نخوت سے کہا جبکہ بہرام نے واس اٹھا کر دیوار پر دے مارا..
اگر دوبارہ یہ بات کہی تو.. گدی سے زبان کھینچ لوں گا “وہ دھاڑا تھا.. داجی نے.. اسکو تھامہ ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا حیدر پر چڑھ دوڑے….
جاو تم.. اور شہر جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت “داجی نے جیسے وارن کیا..
کون روکے گا مجھے”حیدر.. نے لاپرواہی سے کہا..
روکیں گے نہیں… اس وجہ کو ضرور مروا دیں گے یاد رکھنا “وہ آنکھیں نکال کر بولے…
دیکھ لوں گا”حیدر سر ہلاتا… نکلا…
جبکہ داجی نے بہرام کی جانب دیکھا…
دادا کی جان… کیوں “وہ جیسے.. اسکے اگے ہارے تھے….
بہرام نے.. غصے سے انھیں دیکھا..
میری اہمیت ہے.. یہ.. اپکی.. رسموں کی” بہرام نے.. غصے سے پوچھا..
جان دادا صرف اپکی..” مسکرا کر.. اسکی پیشانی… چومی.. تو بہرام کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ ایا… یہ ایکدم کیا ہوا تھا.. وہ. حیرانگی اور خوشی کے ملے جھلے تاثر لیے انھیں دیکھنے لگا….
سچ “وہ بے یقین ہوا…
سو فیصد” انھوں نے اسکے بکھرے بال.. مزید بگاڑے…
شیر لگتا ہے… میرا جب غصے میں ہوتا ہے.. “وہ ہنسے بہرام.. بھی ہنس دیا…
لو یو داجی” وہ جوش میں انکے سینے سے لگ گیا.. جبکہ… داجی.. کی نظریں ٹوٹے ہوئے واس کے کانچ کے ٹکڑوں پر تھیں…..
لو یو ٹو… شہزادے” سنجیدگی سے کہا…
بہرام جیسے ہلکا ہو گیا.. اور ان سے الگ ہو کر.. وہ. اب اپنے روم میں جا کر لمبی تان کر سوتا تو.. رات… جاگتا.. جو اسکے بقول اسکی زندگی کی سب سے حسین رات ہونے والی تھی کیونکہ اس رات میں عابیر اسکے پاس اسکے ساتھ ہوتی…
وہ داجی کے روم سے نکل گیا…
کبھی کبھی درست راہ پر انے کے لیے….شہزادے یہ سمھجہ لو.. لانے کے لیے توڑنا پڑتا ہے… حیدر کو… ہم نے توڑا تھا… سب کے سامنے تمھیں سب کے سامنے نہیں توڑ سکتے…..
افسوس…. ہے ہمیں
مگر تم ہمیں ہر شے سے عزیز ہو….
ٹوٹ کر جوڑوں گے تو صرف ہمارے ہو گے….
چار دن کے شوق پر.. ہم… تمھیں کچھ نہیں کہہ رہے… “
بستر پر بیٹھتے.. وہ جیسے.. خیالوں میں اس سے مخاتب ہوئے تھے
…………….
حویلی بہت خوبصورت تھی.. عابیر زنان خانے میں داخل ہوئ تو بی جان.. اور سب نے اسے دیکھا.. جبکہ منیب یہ اطلاع دے گیا کہ یہ بہرام سائیں کی بیوی ہیں
سب شاکڈ تھے جبکہ عابیر کو سب کا گھورنا اکورڈ لگا…
واہ…. “یہ نین تھی…
عابیر نے سر سے پاوں تک… اس لڑکی کو دیکھا.. جو کافی.. خوبصورت تھی بلکہ سب ہی یہاں خوبصورت تھے.. مگر اسکی خوبصورتی.. اور پھر.. اندز بے نیازی کا جوڑ نہیں تھا…
مان لیا نین خانم کا بھائ تھا” وہ بولی تو لہجے میں داد ہی دادا تھی…
نین”مورے نے اسے ٹوکا….
کون ہو لڑکی تم “بی جان نے. اب عابیر سے ڈائرکٹ سوال کیا…
مجھے لگتا تھا.. صرف ایک وہ ہی سر پھیرہ ہے مگر یہاں سب ہی ہیں مگر اس میں مقدار زرا زیادہ ہے” عابیر بغیر جھجکے تجزیہ کرنے لگی..
تو سب کے منہ کھل گئے وہ اپنے شوہر کا زکر کس طرح کر رہی تھی…
کیا مراد ہے.. کس انداز میں بہرام سائیں کو پکار رہی ہو” بی جان کو برا لگا بلکہ باقی سب و2 بھی جبکہ نین کے دانت باہر نکل اے..
جیو شیرنی.. ہماری خوب بنے گی “عابیر نے اس لڑکی کی خوشی دیکھی… معمولی سی حیرت ہوئ… مگر چہرے کی سنجیدگی نہ گئ…
اگر اپ لوگ اجازت دیں مجھے ارام کرنا ہے “وہ.. تمیز کے دائرے میں ان سب سے بولی..
ہاں کیوں نہیں بہرام.. سائیں کا… کمرہ ہی اپکا کمرہ ہے جائیں مردان خانے.. میں اوپر والا.. سرا پورشن بہرام سائیں کا ہی ہے” نین.. نے مزے سے کہا جبکہ بی جان اسے گھورنے لگی..
لڑکی رات سے پہلے مردان خانے میں نہیں جا سکتی تم…
ہماری رسموں کے خلاف ہے” بی جان نے لگے ہاتھ بتا دیا..
تو میں تو ان رسموں کا حصہ نہیں ہوں.. وہ زرا معصومیت سے بولی.. نین.. نے بمشکل اپنی ہنسی روکی..
ہم نہیں جانتے.. بہرام سائیں.. نے کیا کہنا ہے سردار جی کو…
مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں وہ اپنی بات سے نہیں ہٹیں گے جب تم نے رہنا ادھر ہی ہے تو رسمیں تم پر بھی لاگو ہوتی ہیں “بی جان نے.. اسکو.. گھورا… جو.. انکی نین سے بھی دو ہاتھ اگے لگ رہی تھی…
عابیر کا سر درد کرنے لگا.. ویسے بھی بہرام کے کمرے میں جا کر اسے کوئ فائدہ ہوتا.. اسکی شکل دیکھ کر خود پر بیتا ہر.. لمہ یاد اتا تبھی.. اسنے سیلینڈر کیا..
اوکے مگر میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں اپکی رسموں میں ارام کی اجازت ہے “عابیر نے… پوچھا.. تو… بی جان.. سمیت سب گھور کر رہ گئے..
جا جھلی… تیری ہی ہم جھولی لگ رہی ہے.. اپنے ہی کمرے میں لے جا” نین کے ہنستے چہرے کو.. بی جان نے دیکھا.. اور زرا غصے سے کہا..
جو حکم بی جان”وہ.. عابیر کا ہاتھ تھامتی.. انوشے اور ارمیش کو پیچھے انے کا کہتی.. وہاں سے اگے چل دی.. جبکہ پیچھےسب میں چیماگویاں شروع تھیں…
……………
ارمیش خانم کہاں ہے”ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی حیدر دندناتا ہوا زنان خانے داخل ہوا…
سب ہی بڑے تھے تبھی کسی نے پردہ نہ کیا..
حیدر سائیں یہ.. بات اچھی نہیں” بی جان نے زرا ناگواری سے کہا..
اسنے جواب نہیں دیا..
درخنے.. ارمیش کو بھیجو جلدی”وہ.. غصے سے بولا.. جبکہ درخنے. نین کے کمرے کیطرف بھاگی. اور وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں ا گیا..
کچھ ہی دیر میں ارمیش بھی ا گئ..
سامان باندھو اپنا ساتھ لے جائیں گے تمھیں ” حیدر نے کہا تو ارمیش نے اسکو دیکھا….
مجھے کہیں نہیں جانا”ارمیش نے نفی کی.. حیدر نے مٹھیاں بھینچی..
پوچھا ہے ہم نے”وہ دھاڑا.. ارمیش اپنی جگہ اچھل کر رہ گئ…
بتایا ہے میں نے” اسنے کہا…
ارمیش ہمارا ہاتھ اٹھ جائے گا”حیدر نے وارن کیا…
کب نہیں اٹھتا جب ملتے ہیں نیا زخم دے جاتے ہیں جسے اپکے انے تک.. ٹھیک کرتی ہوں.. پھر ا کر.. کوئ تکلیف دینے لگتے ہیں” وہ رونے لگی.. حیدر.. نے اسکا منہ جکڑا…
زبان تمھاری جلا دیتے ہیں بہت ہی منحوس بولتی ہو”وہ اپنی ٹون پر اترا…
ارمیش خوف سے اسے دیکھنے لگی.. ایک منٹ میں چلو.. ہمارے ساتھ.. دو دن میں چھوڑ جائیں گے واپس”حیدر نے جیسے اخری حکم جاری کیا
ارمیش مانتی نہ تو اور کیا کرتی..
کچھ بھی باندھے بغیر یوں ہی بیٹھی انسو بھاتی رہی.. حیدر نے اسکا ہاتھ تھاما اور خاموشی سے حویلی سے نکل گیا…
……………..
اس اپارٹمنٹ کووہ بڑی توجہ سے دیکھ رہی تھی وہ کافی خوبصورت تھا مگر وہ یہاں کیوں ائے تھے سمھجہ نہیں آیا اور پھر.. حور بڑی شان سے.. ائ.. سامنے سے. اور حیدر کے گلے لگ گئ.. جبکہ.. ارمیش کے ہاتھ سے… چادر کا نوکڑ چھوٹ گیا جو اسنے نروس ہو کر تھام لیا تھا..
حور.. ارمیش کی جھکی پلکیں اور چمکتی رنگت.. ناگواری سے دیکھتی رہی..
اندر او”اسنے کہا.. تو…. وہ زرا ڈرتی.. اندر داخل ہوئ.. حیدر پہلے ہی صوفے پر.. شان سے بیٹھ گیا…
ارمیش.. سامنے جبکہ حور بلکل حیدر کی بغل میں جم کر بیٹھ گئ..
حیدر کی آنکھیں بند تھیں جبکہ سر.. صوفے کی پشت پر… اسکو اپنی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی..
ارمیش کو وہ مسلسل گھورے جا رہی تھی…
جبکہ ارمیش. کی جان حلق میں ائ ہوئ تھی…
کیسا ہے.. بیبی”حور نے سوال کیا.. ارمیش نے کوئ جواب نہ دیا…
حور نے. خفت سے.. اسے دیکھا.. نہ جانے کیوں اسکے اندر کا کمپپلکس بار بار اسے یہ بات کہتا تھا کہ ارمیش صرف اسکا مزاق بناتی ہے کہ وہ ماں نہیں بن سکتی.. اور یہ ہی بات.. اسکو… تپا دیتی تھی…
حیدر… شاپنگ پر چلتے ہیں “اچانک حور کو شوشہ چھوٹا..
ہم بہت لمبی ڈرائیو کر کے اے ہیں ” حیدر نے… نقاہت سے کہا..
جب تمھیں میں کہہ رہی ہوں چلنا ہے. تو چلنا ہے”حور نے.. ضدی لہجے میں کہا.. حیدر مدھم سا مسکرایا..
بس ایک گھنٹے میں چلتے ہیں” اسنے
کہا.. ارمیش سر جھکائے سب سن رہی تھی.. یہ اسکا گھر نہیں تھا کہ وہ اٹھ کر چلی جاتی…
تبھی بندھی ہوئ بیٹھی تھی..
اوکے.. جاو تم ریسٹ کرو… میں بھی. ریسٹ کرتیں ہوں تب تک.. “حور نے کہا. اور وہ دونوں اسکو چھوڑتے.. وہاں.. سے اٹھ گئے….
ارمیش.. نم پلکوں سے ارد گرد دیکھنے لگی..
کیا اذیت تھی.. مگر وہ انسان سمھجتا کب تھا.. وہ تلخی سے مسکرائ..
شکر تھا وہ دونوں الگ الگ کمروں میں گئے.. کچھ دیر تو ارمیش یوں ہی بیٹھی رہی.. جبکہ.. پھر.. وہ اٹھی.. اور جس روم میں حیدر گیا تھا.. وہ اس روم میں.. ابھی داخل ہوتی کہ… حور ساتھ والے کمرے سے نکل ائ…
کہاں جا رہی ہو”حور نے غصے سے پوچھا ارمیش ایک پل کو کانپی جیسے وہ کوئ چوری کر رہی تھی…
نہ جانے حور سے اسے ڈر سا لگتا تھا اب بھی اسکی او از سے وہ سہمی.. اور پھر بغیر جواب دیے ایک پل میں وہ روم کا دروازہ کھولتی اندر گھس گئ…
حور نے دانت پیس کر اسکو دیکھا اسکے بقول وہ اسے اپنا اختیار دیکھا کر گئ تھی حیدر پر.. اور اسکی بات کا جواب نہ دے کر وہ خود کو سمھجہ کیا رہی تھی..
حور اپنے اپ ہی اس سے شدید نفرت.. محسوس کرنے لگی….
………………..
حیدر جو بیڈ پر کمبل میں لیٹا تھا… تیزی سے دروازہ کھلنے پر… ناگواری سے.. اسنے سامنے دیکھا… ارمیش دروازے سے.. ٹیک لگائے.. تیزی سے سانس لے رہی تھی…
اسنے… نہ جانے کیسے ہاتھ ارمیش کیطرف بڑھایا.. اور جیسے.. کسی ڈرے سہمے بچے کو کوئ بڑا اپنے پاس بلائے.. ویسے اشارہ کیا..
ارمیش کے پاس اس وقت اسکے سوا کوئ نہیں تھا.. وہ ایک پل میں.. اسکی بانہوں کا حصہ بنی…
حیدر نے.. اسپر اچھے سے بلنکٹ ڈال کر.. پوری طرح.. اپنے سینے میں جکڑ لیا…
اسکے نہنہے سے دل کی رفتار کافی تیز تھی…
کیا مسلہ ہے خانم”حیدر… نے.. اسکا.. دوپٹہ.. الگ کیا.. اور اسکے بالوں کو نرمی سے سہلانے لگا…
ڈر. ڈر لگ رہا ہے” ارمیش کی اواز بھیگی ہوئ تھی..
ہم ہیں یہاں مرے نہیں ہیں جو ڈر رہی ہو”اسکی کنسرن میں بھی ارمیش کے لیے کافی تلخی تھی..
اللہ نہ کرے” اسنے سر اٹھا کر… اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا…
حیدر اسکو توجہ سے دیکھنے لگا..
وہ کافی معصوم.. تھی.. اور اسوقت حور اور حیدر سے چھوٹی.. ڈرنا اسکا بنتا تھا…
انجانے خدشے ارمیش کو جکڑ رہے تھے..
حالانکہ کہ.. یہ حور سے ہوتے ہوئے عمل جچتا نہیں. تھا.. مگر شاید.. اسے ارمیش کی قربت کی عادت تھی…
تبھی… وہ… اسکا خوف… اپنے منہ زور جزبوں سے کم کرنے لگا…
شاید اپنی تھکاوٹ بھی اتار رہا تھا..
جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ…
حور باہر سلگ سلگ کر.. ہلکان ہو رہی تھی…
………………..
معاویہ کافی غصے میں تھا.. جب سے.. عابیر کی باتیں سنی تھیں.. بہرام سے بھی بات نہیں ہوئ تھی..
نہ جانے اسے کیا سوجی.. رات ڈھلتے ہی… وہ.. زنان خانے میں آ یا.. اور پیچھلے لون کی جانب بڑھ گیا اسکی توقع کے عین مطابق وہ وہیں تھی…
معاویہ کو اپنی جانب آتے دیکھ.. انوشے کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا.. گھبراہٹ سے.. ہاتھوں میں پسینے پھوٹ پڑے کانپتے ہاتھوں سے.. نقاب کیا.. معاویہ نے غصے سے وہ نقاب کھینچ دیا…
سمھجتی کیا ہو.. خود کو.. چور ہوں میں.. جو… مجھ سے پردہ کر رہی ہو “وہ الٹا ہی ہانکنے لگا..
انوشے.. دم سادے اسے دیکھنے لگی…
اب بولتی کیوں نہیں” اسنے انوشے کو جھنجھوڑا..
انوشے… کی آنکھیں بھیگ گئیں..
اور وہ دن بھی یاد ایا.. جب نیہا کی مہندی تھی.. اسنے معاویہ سے رخ پھیر لیا..
جب وہ اسکے دل میں سما ہی گیا تھا…
تو… ٹھیک ہے… وہ بھی.. پورا بدلہ لینے والی تھی…
کیا مطلب ہے اس سب کا” معاویہ غصے سے بولا..
آہستہ بولیں کوئ آ جائے گا” وہ پہلی بار اس سے اس طرح بولی.. معاویہ… ایک منٹ کو اسکو سننے لگا…
میں کسی سے ڈرتا ہوں “وہ. سر میں ہاتھ پھیرتا بولا..
میں ڈرتی ہوں” انوشے.. نے سر جھکا لیا..
معاویہ کو.. یہ دھوپ چھاو سی لڑکی بڑی پیاری لگی غصہ بھی جانے لگا..
کس سے..” وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا..
آپ سے” انوشے.. کو مہندی کی رات یاد آ گئ.. تبھی.. ٹکا سا جواب دے کر… وہ وہاں سے جانے لگی…
تو معاویہ نے… اسکا ہاتھ تھام لیا..
انوشے وہیں تھم گئ….
وہ اسے رفتا رفتا اپنی جانب کھینچ رہا تھا…
انوشے کے دل بری طرح دھڑکنے لگا..
اپنی محبت سے بھی کوئ ڈرتا ہے” اسکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر وہ کافی خوش تھا..
انوشے.. نے بمشکل اپنے حواس قائم کیے..
سائیں” وہ مدھم لہجے میں بولی..
حکم سائیں “معاویہ.. اسکی.. کان کی لو کو تک رہا تھا جس میں.. چھوٹی سی بالی تھی.. یہ پہلی لڑکی تھی.. جس کو.. وہ ایک حد میں رہ کر بات کررہا تھا..
اگر محبت سے ڈرنا نہیں چاہیے.. تو محبت کو.. ذلیل بھی نہیں کرنا چاہیے”وہ بولی.. مگر معاویہ سمھجا نہیں
کیا مطلب “اسنے اسکا رخ اپنی جانب کیا…
محبت کا وجود ہے.. تو غیر عورتوں… کی خوبصورتی… متاثر نہیں کرتی “
وہ بھیگے لہجے میں بولی..
معاویہ کچھ کچھ سمھجنے لگا..
اگر محبت ہوتی.. تو.. اس رات.. اس لڑکی.. کے ساتھ نازیبا حرکتیں.. نہ ہوتیں.. محبت عورت پر فرض نہیں…
مرد پر فرض… اور عورت کا حق ہے…
مجھے آپ سے محبت نہیں….
تو.. محبت کو. بیچ میں لانے کی بھی ضرورت نہیں.. معافی چاہتی ہوں.. حویلی کی عورتوں کو اتنا بولنے کی اجازت نہیں… “وہ.. اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی… اسکا کھلا منہ یوں ہی چھوڑ کر.. اگے بڑھ گئ.. جبک معاوہہ.. یوں ہی کھڑا تھا…
……………..
اسکو کوئ اٹھا رہا تھا.. شدید ناگوار لگا مگر.. سب یاد ا گیا کہ وہ اپنے گھر پر نہیں تھی….
اسنے تھوڑی سی انکھ کھولی .. اور اٹھ کر بیٹھ گئ..
خوبصورت ترشیدہ بال ادھر ادھر بکھر گئے..
سامنے نین تھی.. وہ بہت بولتی تھی اور نہ جانے اسے دیکھ کر.. ایکسائٹیڈ کیوں ہو جاتی تھی…
عابیر نے اسکو دیکھا…
بہرام سائیں کا حکم ایا ہے.. تمھیں بلا رہے ہیں “نین نے سکون سے کہا.. وہ اسکے گرارا شرٹ میں کافی دلکش لگ رہی تھی…
کہاں پایا جاتا ہے وہ” عابیر نے سارے بال ایک شانے پر ڈالے.. اور اسکو دیکھا.. کمرے میں ایک اور لڑکی بھی تھی… وہ خاموش ہی تھی جب سے.. وہ ائ تھی..
نین کھل کر ہنسی…
مردان خانے میں پایا جاتا ہے” اسنے بتایا… تو عابیر نے سر ہلایا.. اور اٹھنے لگی..
ویسے تم اتنی تابیدار لگتی نہیں جتنی اسوقت دیکھ رہی ہو” نین نے.. اسے چھیڑہ..
عابیر طنزیہ مسکرائ….
تم اچھی ہو…
مگر ائ تھینک.. اس چھوٹی سی لڑکی کو میں پسند نہیں ائ “اسنے سنجیدگی سے… انوشے کو دیکھا…
ایسا… نہیں ہے بھابھی سائیں ” انوشے ایکدم بولی..
ارے پلیز یہ سائیں میرے نام کے ساتھ نہ لگاو.. میں عابیر ہوں اوکے “وہ اٹھ کر.. نرمی سے بولی اور باہر نکل ائ وہ دونوں بھی باہر ا گئیں….
جب اندھیرہ ہو جائے مردان خانے میں تب جانا.. “نین نے اسکے کان میں گھس کر کہا..
کیوں” عابیر نے حیرت کا اظہار کیا..
بھئ حویلی کے اصول ہیں…
اسوقت تو سب ہوں گے.. تم جاو گی تو ایک ادھم اٹھا لیں گے”نین نے اسے سمھجایا… تو عابیر… نخوت سے چہرہ موڑ گئ…
نین اور انوشے وہاں بیٹھی خواتین کے پاس رک گییں جبکہ اسنے دوبارہ سلام کیا اب مزاج زرا سب کو اسکے درست لگے…
بیٹھ جاو” بی جان نے بھی نرمی سے کہا..
کیوں “وہ.. انکاری ہوئ..
بہرام نے بلایا ہے… اور میں بھی تو دیکھو کہاں رہتا ہے “
وہ بے باکی سے بولی تو سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں رہ گییں…
لڑکی خان کہو… یہ کیا منہ اٹھا کر شروع ہو جاتی ہو” بی جان نے غصے سے کہا تو.. عابیر شانے اچکا گئ…
اور مردان خانے کی طرف بڑھ گئ…
نین نے داد دینے والے انداز میں تالی بجائ.. بی جان نے چپل اٹھا لی.. جبکہ وہ.. ایک لمحے میں غائب ہوئ تھی.
………………
جاری ہے